سوادِ اعظم کیا ہے؟ | حصۂ رابع (آخری)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ایک فرمان کو بنیاد بناتے ہوئے ’’…… تم سوادِ اعظم کا ساتھ دو……الخ‘ ‘، یہ خیال راسخ و عام ہورہا ہے کہ شرعی معیارات سے قطعِ نظر، جس طرف زیادہ لوگ ہیں، وہی ’’جماعتِ حق‘‘ ہے۔ اسی خیالِ فاسد کی اصلاح کے لیے فقہِ حدیث کی مایۂ ناز کتاب ’’اعلاء السنن‘‘ کے مؤلف المحدث ، الفقیہ، علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب تھانوی (نوّر اللہ مرقدہٗ) کی تحریر پیشِ خدمت ہے، تاکہ معلوم ہوجائے کہ اہل حق گو قلیل ہی کیوں نہ ہوں، ان کا ساتھ درحقیقت سوادِ اعظم (جماعت) کا ساتھ ہے، اور اہل باطل خواہ کثیر ہی کیوں نہ ہوں، ان کا ساتھ دراصل جماعت سے افتراق اور ناحق کی اتباع ہے۔ یہاں اس بات کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہاں علما و اہلِ دین کی جماعتِ کثیرہ کی ہر معاملے میں اتباع یا ساتھ کی بات کی جارہی ہے نہ کہ اس وقت رائج دنیا کے معروف و مشہور نظام ’جمہوریت‘کی جس میں جہلا اور بے دین لوگوں کی اکثریت بھی واجبِ اتباع سمجھی جاتی ہے۔ پھر یہ بات بھی درجِ ذیل تحریر کے مطالعے سے واضح ہو جائے گی کہ شرعی معیارات کی قید لگائے بغیر محض علما و اہلِ دین کی کثیر تعداد کی اتباع ’سوادِ اعظم‘ یا ’دنیوی و اخروی‘ فلاح نہیں ہے تو جمہوری نظام میں نیک و بد اور عالم وجاہل کی قید کے بغیر کثرت کی پیروی کیسے فلاح کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔یہ تحریر ’فقہ و فتاویٰ‘ کی مشہور کتاب ’امداد الاحکام‘ سے اخذ کردہ ہے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی (قدس سرہٗ) کی زیرِ نگرانی تالیف و ترتیب دی گئی ہے۔ ترتیبِ نو کرتے ہوئے ہمارے ساتھی مولانا ابو مثنیٰ عبد الکبیر (حفظہ اللہ) نے پرانے حوالہ جات کو برقرار رکھتے ہوئے نئی تخریجات بھی درج کر دی ہیں۔ اللہ پاک اپنے دین کے مبادی و مفاہیم اہلِ ایمان میں عام فرمائیں اور ہمیں بخش دیں، آمین یا ربّ العالمین! (ادارہ)


ففي تھذیب التھذیب: في ترجمتہ قال أبو حاتم: منکر الحدیث لیس بالقوی۔الیٰ ان قال۔ ونقل ابن الجوزي عن ابن معین أنہ قال فی الاعمی الراوي عن أنس کذاب وجزم الدارقطني في الأفراد بأن اسم أبي خلف الراوي عن أنس حازم بن عطاء وأنہ تفرد بالحدیث الذي أخرجہ ابن ماجۃ۔1 اھ ج۱۲، ص۸۸، ۷۸

مشکوٰۃ میں اس حدیث کو ابن عمر کی طرف منسوب کرکے دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے، لیکن کسی کتاب کا حوالہ نہیں لکھا، بلکہ بیاض چھوڑ دی ہے۔ میرک شاہ نے اس میں رواہ ابن ماجہ عن انس ملحق کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث بروایت ابن عمر ان کو نہیں ملی اور حدیث انس کا ضعیف ہونا معلوم ہوچکا ہے، لہٰذا یہ بھی کچھ مفید نہ ہوئی۔ لیکن مقاصد حسنہ میں حدیث لا یجمع امتي علی ضلالۃ کے طرق جمع کرتے ہوئے حافظ سخاوی نے فرمایا ہے:

وأبو نعیم فی الحلیۃ والحاکم في مستدرکہ وأعلہ واللالکائي في السنۃ وابن مندہ ومن طریقۃ الضیاء فی المختارۃ عن ابن عمر رفعہ: إن اللہ لا یجمع ھذہ الأمۃ علی ضلالۃ أبداً وإن ید اللہ مع الجماعۃ فاتبعوا السواد الأعظم فإنہ من شذ شذ فی النار، وھکذا ھو عد الترمذي لکن بلفظ: ھذہ الأمۃ، أو قال: أمتي،2 اھ، ص۲۱۵

اس سے معلوم ہوا کہ ابن عمر سے اس حدیث کو ضیاء مقدسی نے بھی مختارہ میں نقل کیا ہے اور اس کے الفاظ قریب قریب مشکوٰۃ ہی کے الفاظ ہیں، لیکن اس پر کلام یہ ہے کہ ترمذی نے ابن عمر سے جس سند کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے اس میں ایک راوی سلیمان بن سفیان متفق علیہ ضعیف و منکر الحدیث ہے۔ تہذیب میں کسی سے بھی اس کی توثیق نقل نہیں کی۔ إلی ان قال و ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال کان یخطی۔ اور عبداللہ بن دینار سے تو اس کی روایت خصوصیت کے ساتھ منکر ہے۔

قال ابو زرعۃ منکر الحدیث روی عن عبداللہ بن دینار ثلثۃ احادیث کلھا یعني مناکیر اھ (ج۴، ص۱۹۴) ترمذی نے حدیث بیان کرکے کہا ہے کہ ھذا حدیث غریب من ھذا الوجہ وسلیمان المدینی ھو عند سلیمان بن سفیان اھ (ج۲، ص۳۹)3

پس اگر ضیاء مقدسی نے بھی مختارہ میں اسی سند سے حدیث کو روایت کیا ہے تب تو وہ ہرگز قابل احتجاج نہیں اور اگر دوسری سند سے نقل کیا ہے تو یہ معلوم نہیں کہ ضیاء مقدسی کے الفاظ کیا ہیں کیونکہ اصحاب اطراف و جامعین طرق کی عادت ہے کہ وہ فی الجملہ مشارکۃ معنی سے ایک حدیث کو متعدد مخرجین کی طرف منسوب کردیتے ہیں حالانکہ الفاظ ہر ایک کے جدا جدا ہوتے ہیں۔

چنانچہ اسی جگہ حافظ سخاوی نے اس حدیث کو ترمذی کی طرف منسوب کیا ہے۔ حالانکہ ترمذی میں فاتبعوا السواد الأعظم کا لفظ نہیں ہے۔ مگر چونکہ حافظ کو لا یجمع أمتي علی ضلالۃ کے طریق کا بیان کرنا مقصود ہے اور یہ مضمون ترمذی میں تھا، اس لیے اس حدیث کو ترمذی کی طرف منسوب کردیا تو ممکن ہے کہ اسی طرح ضیاء فی المختارہ نے بھی لا یجمع أمتي علی ضلالۃ کے مضمون کو بدون لفظ فاتبعوا السواد الأعظم کے روایت کیا ہو، اس لیے ضیاء مقدسی کے مختارہ کی طرف اسی حدیث کا منسوب ہونا بلفظ مذکور اس کی صحت کی دلیل نہیں ہوسکتی۔

اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ حافظ سخاوی نے حدیثِ ابن عمر کو جن الفاظ سے نقل کیا ہے ضیاء مختارہ کے بھی الفاظ ہیں تب بھی یہ حدیث سائل کو مفید نہیں، کیونکہ اس میں اختلاف کا ذکر نہیں جس سے یہ مضمون مستنبط کیا جائے کہ اختلاف علما کے وقت سواد اعظم کا اتباع واجب بلکہ اس سے سواد اعظم کا وجوب بطریق اطلاق ثابت ہوتا ہے جو ہمارے نزدیک حالت اتفاق پر محمول ہے، یعنی جب سواد اعظم یعنی جمیع علما امت کسی مسئلہ پر اتفاق کرلیں تو اس کا اتباع واجب ہے اور اس سے اجماع کی حجیت ثابت ہوتی ہے نہ کہ اختلاف علما کے وقت قول جمہور کی حجیت!

اختلاف کے وقت سواد اعظم کا اتباع ہونا صرف ابن ماجہ کی حدیث سے معلوم ہورہا ہے جس کا ضعیف ہونا اوپر معلوم ہوچکا ہے۔ اور حافظ سخاوی نے ابن ماجہ کے ساتھ مسند عبد کی طرف بھی ان الفاظ کو منسوب کیا ہے۔ مگر مسند عبد کی سند معلوم نہیں لیکن اتنا معلوم ہے کہ مسند عبد میں بھی یہ حدیث بروایت انس ہے جس سے ظاہر یہ ہے کہ اس میں بھی ابو خلف اعمی موجود ہے۔ کیونکہ دارقطنی نے حدیث انس مذکور فی ابن ماجہ کو افراد ابی خلف سے بتایا ہے۔ لہٰذا بایں الفاظ یہ حدیث حجت نہیں ہوسکتی، اور بعد تسلیم کے ہم یہ کہتے ہیں کہ حدیث ابن ماجہ سے بھی سائل کا مدعی حاصل نہیں کیونکہ اس میں بھی یہ تصریح نہیں کہ جب علما میں اختلاف ہو تو علما کی جماعت کثیرہ کا اتباع لازم ہے بلکہ اس کا مضمون اس قدر ہے کہ میری امت ضلالت پر مجتمع نہیں ہوسکتی پس جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم کا اتباع کرو۔

ہمارے نزدیک سواد اعظم سے صرف علما مراد ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ جب جہلائے امت علما سے اختلاف کریں تو علما کا اتباع واجب ہے۔ یہ مطلب اس سے نہیں نکلتا کہ علما میں اختلاف ہو تو ان کی جماعت کثیرہ کا اتباع لازم ہے، بلکہ علما میں سے ہر واحد کا اتباع جائز ہے خواہ وہ واحد ہو یا جماعت کثیرہ۔ کیونکہ ہم اس سے پہلے زاد المعاد کی عبارت نقل کرچکے ہیں کہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے وقت سے اس وقت تک مخالفت جمہور کے جواز پر اجماع ہوچکا ہے اور کسی نے کسی امام کا قول یہ کہہ کر رد نہیں کیا کہ یہ قول جمہور کے خلاف ہے اس لیے رد ہے۔

لہٰذا اس حدیث ضعیف کو اسی معنی پر محمول کرنا واجب ہے جو ہم نے بیان کیے ہیں، تاکہ اجماع کی مخالفت لازم نہ آئے فافھم۔ اور علما کا ہی اختلاف مراد ہو تو اس میں اختلاف فی الفروع مراد نہیں بلکہ اختلاف فی الأصول والاعتقادیات مراد ہے جیسا کہ مرقاۃ سے یہی تفصیل ہم پہلے نقل کرچکے ہیں۔ مرقاۃ میں اس کے بعد سواد اعظم کے چند معنی اور لکھے ہیں:

وقیل المراد جمع المسلمین الذین ھم في طاعۃ الإمام وھو السلطان الأعظم اھ۔

اس صورت میں اختلاف مذکور فی الحدیث سے امور انتظامیہ میں اختلاف مراد ہوگا نہ کہ مسائل شرعیہ میں۔ اس کے بعد لکھا ہے:

وقیل کل عالم عامل بالکتاب والسنۃ فی الأزھار اتبعوا السواد الأعظم یدل علی أن أعاظم الناس العلماء وإن قل عددھم ولم یقل الأکثر لأن العوام والجھال أکثر عددا4 اھ ج۱، ص۲۰۶

اس سے یہ معلوم ہوا کہ سواد اعظم سے ہر وہ عالم مراد ہے جو کتاب و سنت پر عامل ہو نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ کثرت قائلین معتبر نہیں کیونکہ کثرت تو جہال ہی کی ہے۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سواد اعظم فرمایا، سواد اکثر نہیں فرمایا۔ اور بعض علما نے سواد اعظم کی تفسیر کو صحابہ کے ساتھ خاص کیاہے۔ لہٰذا اتنے احتمالات کے ہوتے ہوئے یہ حدیث جس کی صحت پر بھی کلام ہے کسی طرح سائل کو مفید نہیں ہوسکتی۔

رہی تیسری حدیث جو سائل نے ترمذی سے نقل کی ہے؛ علیکم بالجماعۃ وإیّاکم والفرقۃ اس سے اجماع علی الامام مراد ہے۔ یعنی جب ایک جماعت مسلمانوں کی کسی شخص کو امام تسلیم کرلے تو ان سے اختلاف مت کرو۔ اس سے بھی امور انتظامیہ میں اتباع جماعت کا امر معلوم ہوا بشرط یہ کہ مسلمانوں کا کوئی امام بھی ہواور دلیل اس مراد کی بخاری کی یہ حدیث ہے:

من رأی من أمیرہ شیئاً یکرھہ فلیصبر علیہ فإنّہ من فارق الجماعۃ شبراً فمات إلّا مات میتۃً جاھلیۃ5 اھ۔ ج۱۳، ص۵ فتح الباري

اس حدیث میں مفارقت عن الجماعۃ کی وعید کو صبر علی الامام پر مرتب فرمانا صاف بتلا رہا ہے کہ جس مفارقت جماعت کی ممانعت ہے وہ امام سے مفارقت ہے۔ پس علیکم بالجماعۃ وإیّاکم والفرقۃ کا مطلب بھی واضح ہوگیا کہ موافقت امام کا امر ہے اور اس کی مخالفت اور مفارقت سے ممانعت ہے۔

ہم پہلے فتح الباری کے حوالہ سے بیان کرچکے ہیں کہ طبری نے علیکم بالجماعۃ کی اس تفسیر کو صواب قرار دیا ہے۔ اور بعض علما نے جماعت سے خاص جماعت صحابہ کو مراد لیا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث بھی اس مضمون پر کسی طرح دلالت نہیں کرتی کہ اختلاف علما کے وقت جماعت کثیرہ کا اتباع واجب ہے اور جماعت قلیلہ یا عالم واحد کا اتباع جائز نہیں۔

اب میں چند واقعات پر اس بحث کو ختم کرنا چاہتا ہوں؛ جن سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ مسائل شرعیہ میں کثرت کی رائے پر حقانیت کا مدار نہیں رکھا گیا، بلکہ ہمیشہ قوت دلیل پر مدار رکھا گیا ہے۔ گو وہ شخص واحد کا قول ہو یا جماعت قلیلہ کا۔

۱۔ اُساریٰ بدر کے واقعہ میں حضرت عمرو سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی رائے تمام صحابہ کے خلاف تھی اور سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے مبارک بھی عام آرا کے ساتھ تھی مگر وحی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق فیصلہ ہوا، کثرت رائے پر فیصلہ کا مدار نہیں کیا گیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کبھی مفضول کی رائے فاضل کی رائے سے اصوب ہوسکتی ہے، گو اس کو بھی فاضل کا فعل شمار کیا جائے۔ حدیث پر نظر رکھنے والے ا س واقعہ کو خوب جانتے ہیں۔

۲۔ جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس آدمیوں کو ایک مورچہ کی حفاظت کے لیے متعین فرمایا اور ان سے یہ فرمایا تھا کہ تم کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا خواہ ہم پر کچھ بھی حالت گزر جائے۔ جب مسلمانوں کا لشکر کفار پر غالب آگیا اور اہل مکہ بے تحاشا بھاگنے لگے تو ان پچاس آدمیوں میں اختلاف ہوا۔ اکثر کی رائے یہ ہوئی کہ اب مورچہ پر رہنے کی کوئی ضرورت نہیں، دشمن مغلوب ہوچکا ہے ہم کو بھی غنیمت کا مال لوٹنا چاہیےاور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا بطور مبالغہ و تاکید کے تھا اور مقصد یہ تھا کہ وقتِ ضرورت تک یہاں سے نہ ہٹنا ، اب ضرورت نہیں رہی! بعض کی رائے یہ ہوئی کہ نہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ممانعت کے بعد ہمیں یہاں سے نہ ہٹنا چاہیے۔ اس اختلاف کے بعد چالیس آدمیوں نے مورچہ چھوڑ دیا اور دس آدمی وہیں جمے رہے۔ وحی سے ان دس آدمیوں کی رائے صائب (درست) قرار دی گئی اور چالیس کی رائے کو معصیت میں داخل کیا گیا۔

معلوم ہوا کہ اختلاف علما کے وقت جماعت قلیلہ کی رائے بھی حق ہوسکتی ہے۔ بخاری و فتح الباری سے معلوم ہوتا ہے کہ بجز عبد اللہ بن جبیر کے، جو ان پچاس تیر اندازوں کے افسر تھے اور سب کی بھی رائے ہوئی کہ ہم کو لشکر میں شامل ہوکر غنیمت لوٹنی چاہیے۔

۳۔ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اور دفن کے بعد سب سے پہلا کام حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ اول نے یہ کیا کہ لشکر اسامہ کو شام کی طرف بھیجنا چاہا، جس میں مہاجرین اولین و اجل صحابہ شامل تھے۔ تقریباً تمام صحابہ نے ان کی اس رائے کی مخالفت کی اور عرض یہ کیا کہ اس وقت قبائل عرب میں اختلاف و ارتداد کے آثار ظاہر ہوگئے ہیں، آپ کو اس لشکر کے مدینہ میں رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ مگر حضرت صدیق اکبر نے یہ کہہ کر ان کی رائے کو رد کردیا:

واللہ! لا أحل رایۃ عقدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم6

’’بخدا میں اس جھنڈے کو کبھی نہ کھولوں گا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے باندھا ہے۔‘‘

اور ابن اثیر نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

والذي نفسي بیدہ لو ظننت أن السباع تختطفني لأنفذت جیش أسامۃ کما أمر النبي صلی اللہ علیہ وسلم7 اھ ج۲، ص۱۶۱

’’قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر مجھ کو اس کا بھی یقین ہوجائے کہ اس لشکر کے بھیجنے کے بعد مجھ کو درندے پھاڑ ڈالیں گے، تب بھی میں جیشِ اسامہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے موافق بھیج کر رہوں گا۔ ‘‘

چنانچہ لشکر روانہ ہوا اور کسی صحابی نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ کہنے کی جرأت نہ کی کہ یہ مسئلہ اختلافی ہوگیا ہے اس میں آپ کو تنہا اپنی رائے پر نہ اَڑنا چاہیے، جماعت کے مشورہ پر عمل کرنا چاہیے۔ بلکہ بعد میں سب کو اقرار کرنا پڑا کہ جیش اسامہ کے بھیجنے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رائے صحیح تھی۔ دیکھو کامل ابن اثیر ج۲، ص۱۶۲

۴۔ اسی طرح حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے وصال نبوی کے بعد یہ ہوئی کہ جن قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے ان پر جہاد کیا جائے۔ اس میں بھی تمام صحابہ کی رائے ان کے خلاف تھی کہ جب وہ لوگ کلمۂ توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں تو ان سے چند اونٹوں اور بکریوں کے لیے کیونکر جہاد کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رائے سے مخالفت کی اور یہ کہا کہ آپ کو اس معاملہ میں نرمی اور تالیفِ قلوب سے کام لینا چاہیے۔ جس کا جواب نہایت سختی کے ساتھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان لفظوں میں دیا:

أجبار فی الجاھلیۃ وخوار فی الإسلام؟ إنہ قد انقطع الوحي وتم الدین أینقص وأنا حي؟ رواہ رزین مشکوٰۃ ج۱، ص۲۷۵

’’اے عمر! یہ کیا کہ تم جاہلیت میں تو ایسے زبردست تھے اور اسلام میں اتنے بودے! وحی منقطع ہوچکی ہے اور دین مکمل ہوچکا، تو کیا میری زندگی ہی میں اس میں نقصان آجائے گا؟‘‘

بالآخر صحابہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کے آگے گردنیں جھکا دیں اور کسی نے جرأت کرکے یہ عرض نہ کیا کہ مسئلہ اختلافی ہوگیا ہے، اس میں آپ کو جماعت کثیرہ کی رائے پر عمل کرنا چاہیے، تنہا اپنی رائے کو نہ چلانا چاہیے۔ بلکہ بعد میں صحابہ نے اس کا اقرار کیا کہ اگر اس وقت ابوبکر نہ ہوتے تو ہم سب ہلاکت میں پڑ چکے تھے۔

قال عبداللہ بن مسعود: لقد قمنا بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، مقاماً کدنا نھلک فیہ لولا أن اللہ منّ علینا بأبي بکر، أجمعنا علی أن لا نقاتل علی ابنۃ مخاض وابنۃ لبون، وأن نأکل قری عربیۃ ونعبد اللہ حتی یأتینا الیقین، فعزم اللہ لأبي بکر علی قتالھم، الخ۔ کامل ابن الاثیر ج۲، ص۱۶۵8

اس واقعہ سے فقہا کے اس قول کی تائید ہوگئی کہ خلاف واحد بھی قادح اجماع ہے کیونکہ اس وقت بجز صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اور تمام صحابہ کی رائے تھی کہ مانعین زکوۃ سے قتال نہ کرنا چاہیے۔ مگر سب کی رائے غلط تھی اور حضرت صدیق ہی کی رائے صواب تھی۔

نیز ان واقعات سے ان لوگوں کو بھی اپنی غلطی کی اصلاح کرنی چاہیے جو یوں کہتے ہیں کہ اسلام نے جمہوری حکومت کی تعلیم دی ہے۔ وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ ارسال جیشِ اسامہ و قتال اہل ردّت کے معاملے میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کس دلیری کے ساتھ اپنی شخصی رائے پر عمل کیا اور تمام صحابہ نے کس اخلاص کے ساتھ ان کی رائے کا اتباع کیا۔

اسلام میں یہ تعلیم ضرور ہے کہ خلیفہ و امام جماعت مسلمین کے مشورہ سے مقرر ہونے چاہییں، بشرط یہ کہ خلیفۂ سابق نے کسی کو اپنی نیابت و خلافت کے لیے نامزد نہ کیا ہو، ورنہ پھر مشورہ کی ضرورت نہیں بلکہ خلیفہ کا مقرر کردہ شخص اگر نااہل نہ ہو تو سب سے مقدم ہوگا۔ بعد خلیفہ مقرر ہوجانے کے تمام نظم و نسق سلطنت کا اس کی ذاتی رائے پر ہوگا۔ البتہ خلیفہ کو اصحاب علم و فہم سے مشورہ کرتے رہنا مستحب ہے، لیکن مشورہ کا قبول کرنا اس کے ذمہ لازم نہیں۔ اگر اس کی رائے مشیرین کی رائے سے موافقت کرجائے تو قبول کرلے ورنہ اپنی رائے پر عمل کرنے کا اسے کامل اختیار ہے، اور مسلمانوں کو اس کا اتباع واجب ہے، بشرط یہ کہ اس میں کوئی معصیت لازم نہ آتی ہو۔

لانہ لا طاعۃَ لِمخلوقٍ في معصیۃِ الخالق ومر ذکرہ سابقاً فتدبر۔9

۵۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان میں تقریباً تمام صحابہ کی رائے تھی کہ صاحبِ حق کی اعانت کرنا چاہیے۔ چنانچہ جس طرح ان کی ایک بڑی جماعت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اسی طرح کثیر جماعت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی تھی۔ لیکن معدودے چند صحابہ کی یہ رائے تھی کہ دونوں سے الگ رہنا چاہیے، جیسے عبداللہ بن عمر، ابو موسیٰ اشعری، ابو مسعود انصاری، ابوبکرہ اور احنف بن قیس (رضی اللہ عنھم اجمعین)۔ مگر کہیں یہ بات ثابت نہیں کہ ان معدودے چند حضرات کو کسی نے مخالفتِ جمہور کی وجہ سے فاسق و فاجر یا بزدل کا خطاب دیا ہو۔

معلوم ہوا کہ مسائل شرعیہ میں جمہور کا قول و فعل حجت ملزمہ نہیں ہے۔ ورنہ یہ معدودے چند صحابہ جمہور کی مخالفت نہ کرتے۔ نیز معلوم ہوا کہ اگر کسی عالم کا قول جمہور کے خلاف ہو تو وہ فاسق وغیرہ نہیں بن جاتا، بلکہ ممکن ہے کہ اسی کی رائے صواب ہو اور جمہور کی رائے غلط ہو۔10

۶۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد بجز عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ وامام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تمام صحابہ و تابعین نے یزید کی بیعت قبول کرلی تھی اور اجلہ صحابہ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید پر خروج کرنے سے بہت زور کے ساتھ منع بھی فرمایا تھا، جبکہ تاریخ دیکھنے والوں سے یہ واقعہ مخفی نہیں۔ پس اگر کثرتِ رائے پر حق و باطل کا مدار کیا جائے اور مشورۂ جماعتِ کثیرہ پر عمل کو واجب کہا جائے تو نعوذ باللہ حضرت امام سبط رسول کا باطل پر ہونا لازم آئے گا اور اس کو ہرگز کوئی مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔ معلوم ہوا کہ قولِ جمہور حجت ملزمہ شرعیہ نہیں بلکہ اس کی مخالفت جائز ہے۔ اور ممکن ہے کہ جمہور کے خلاف جماعتِ قلیلہ یا شخصِ واحد کی رائے صحیح ہو۔

مامون الرشید خلیفہ عباسی نے جس وقت خلق قرآن مسئلہ میں علمائے وقت کا امتحان لیا تو بجز احمد رحمۃ اللہ علیہ کے اور سب علما نے طوعاً یا کرھاً یا توریۃً قرآن کو مخلوق کہہ دیا تھا۔ چنانچہ بجز امام کے اور سب رہا کردیے گئے اور حضرت امام احمد بن حنبل کو سالہا سال حبس اور ضرب کی مصیبت جھیلنا پڑی۔ اگر کثرتِ رائے پر حق کا مدار ہو تو امام احمد بن حنبل کا قول غلط ہونا چاہیے، حالانکہ امت مابعد کا اجماع ہے کہ اس مسئلہ میں امام ہی کا قول صحیح ہے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر امام بھی قرآن کو مخلوق کہہ دیتے تو ہمیشہ کے لیے ساری امت اسی غلط مسئلہ کی قائل ہو جاتی۔ معلوم ہوا کہ جمہور کے خلاف قولِ شخصِ واحد صحیح ہوسکتا ہے۔

۸۔ انوار ساطعہ میں عبدالسمیع رام پوری نے جواز مولد نبوی بھئیۃ کذائیہ مبتدعہ و استحسان قیام بوقت ذکر ولادت شریفہ نبویہ علی صاحبہا افضل الصلاۃ والتحیۃ پر علاوہ دیگر دلائل کے ایک دلیل یہ بھی لکھی تھی کہ اس پر جمہور علما حرمین و مصر و عراق و شام و ہند کا اتفاق ہوچکا ہے، لہٰذا اس کی ممانعت اجماع کی ممانعت ہے۔ اس کے جواب میں حضرت قطب عالم مولانا گنگوہی قدس سرہ نے علاوہ دیگر جوابات کے ایک یہ بات بھی لکھی ہے کہ جن علما کے اتفاق کا انوار ساطعہ میں حوالہ دیا گیا ہے، مولانا احمد علی صاحب محدث سہارن پوری ان کے ہم عصر ہیں اور ان کا فتوی اس کے خلاف ہے، لہٰذا یہ اتفاق قابلِ اعتبار نہیں۔ کیونکہ خلاف عالمِ واحد بھی قادح اجماع ہے؛ ملاحظہ ہو براہین قاطعہ! معلوم ہوا کہ جمہور علما کا کسی مسئلہ میں اتفاق کرلینا جب کہ ایک عالم محقق بھی ان کے خلاف ہو، حجت نہیں اور شخصِ واحد کا قول بھی جمہور کے خلاف صحیح ہوسکتا ہے۔

۹۔ روی البخاري عن عبداللہ بن عمرو فسمعتہ یقول: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إنّ اللہ لا ینزع العلم بعد أن أعطاکموہ انتزاعاً ولکن ینتزعہ منھم مع قبض العلماء بعلمھم فیبقی ناسٌ یستفتون فیفتون برأیھم فیضلون ویضلون اھ فتح الباري ج۱۳، ص۲۴۱۔11

قال الحافظ في شرحہ وقد أخرج ابن عبد البرّ في ’’کتاب العلم‘‘ من طریق عبداللہ بن وھب سمعت خلّاد بن سلمان الحضرمي یقول حدّثنا درّاج أبو السّمح یقول: ’’یأتي علی النّاس زمان یسمّن الرّجل راحلتہ حتّی یسیر علیھا فی الأمصار یلتمس من یفتیہ بسنّۃٍ قد عمل بھا، فلا یجد إلّا من یفتیہ بالظّنّ‘‘ فیحمل علی أنّ المراد الأغلب الأکثر في الحالین، (ای في حال وجود المجتھدین المقیدین وبقاء المقلدین الأقربین الی بلوغ درجۃ الاجتھاد المقید کما یفھم من کلامہ سابقاً) وقد وجد ھذا مشاھداً ثمّ یجوز أن یقبض أھل تلک الصّفۃ ولا یبقی إلّا المقلّد الصّرف، وحینئذٍ یتصوّر خلوّ الزّمان عن مجتھد حتّی في بعض الأبواب بل في بعض المسائل، ولکن یبقی من لہ نسبۃ إلی العلم فی الجملۃ، ثمّ یزداد حینئذٍ غلبۃ الجھل وترئیس أھلہ، ج۱۳، ص۲۴۳۔12

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک زمانہ میں علما کم ہوجائیں گے اور جہلا ہی زیادہ رہ جائیں گے، لوگ جہلا کو سردار بنا لیں گے اور ان سے استفتاءکریں گے۔ وہ محض اپنی رائے سے ان کو جواب دیں گے، جس سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے۔ اور حافظ ابن حجر کے قول سے معلوم ہوا کہ یہ حالت اس زمانہ میں ہوگی جب کہ اجتہاد مطلق ختم ہوجائے گا اور اجتہاد مقید باقی رہ جائے گا یا ایسے مقلدین رہ جائیں گے جن میں بعض اجتہاد مقید کے قریب ہوں گے۔ اس زمانہ میں غالب حالت یہی ہوگی جو حدیث ِ مذکور میں ہے۔ گو بعضے سنت کے موافق جواب دینے والے بھی ہوں گے، پھر بھی ممکن ہے کہ یہ حالت بھی رہے۔ اور بعض ابواب بلکہ بعض مسائل میں بھی اجتہاد کرنے والے نہ رہیں گے بلکہ صرف خالص مقلدین رہ جائیں جن میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے جن کو فی الجملہ علم سے نسبت ہوگی۔ اس وقت جہل کا غلبہ زیادہ ہوجائے گا اور لوگ جہلا کو ہی اپنا سردار بناویں گے۔

میں کہتا ہوں کہ صاحبِ بصیرت پر یہ بات مخفی نہیں کہ یہ زمانہ اسی حالت کا مصداق ہے جس کو حافظ رحمہ اللہ نے سب سے آخر میں بیان کیا ہے، کیونکہ اجتہاد مقید کے درجہ پر کوئی نہیں بلکہ اس کے قریب بھی نہیں۔ پس اکثر علما محض مقلد ہیں اور حافظ رحمہ اللہ کے قول کے موافق مشاہدہ ہورہا ہے کہ آج کل جہلا کو زیادہ تر سردار بنایا جارہا ہے۔ جس نے درسیات ختم کرلیں، محض وعظ و تقریر کی مشق کرلی، اس کو مولانا کا خطاب اور مقتدا کا لقب دے دیا گیا۔ خواہ اس کو قرآن و حدیث کی فہم حاصل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ بلکہ افسوس یہ ہے کہ آج کل تو بعض ان لوگوں کو بھی مقتدا بنایا جاتا ہے جس کو متنبّی اور ابو نواس کی طرح عربی لکھنے اور بولنے کی کسی قدر مشق ہوگئی ہو اور ان کا تمام سرمایۂ عمر بجز عربی بولنے اور تاریخ لکھ لینے اور معقول و فلسفہ کی باتیں بیان کردینے کے کچھ نہیں۔

جہلا تو درکنار افسوس ہے کہ اہل علم بھی ان کے تبحر و ہمہ دانی کے معتقد ہیں۔ حالانکہ قرآن و حدیث اور فقہ سے ان کو ذرا بھی مس نہیں اور عمل کا تو پوچھنا ہی کیا۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک حالت یہ ہے کہ بعض لوگ جس کی ساری عمر انگریزی خوانی میں صرف ہوتی ہے، حدیث و فقہ اور تفسیر کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا، لیکن فطری طور پر ان کو بیان اور تقریر پر کسی قدر قدرت حاصل ہے، ان کو بھی آج کل مقتدا اور پیشوا مانا جاتا ہے۔ عوام تو عوام، حیرت یہ ہے کہ بعض اہل علم بھی ان کو فخرِ قوم، مولانا فلاں کے لفظ سے یاد کرتے ہیں اور اپنے قلم سے ان کو مولانا لکھ کر عامۃ المسلمین کو دھوکہ دیتے ہیں، فإلی اللہ المشتکی۔

پس یقیناً یہی وہ زمانہ ہے جس کی نسبت حدیث میں پیش گوئی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ جہلا کو سردار بنائیں گے جو اپنی رائے سے مسائلِ شرعیہ کا جواب دیا کریں گے جس سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ایسے زمانۂ غلبۂ جہل میں کسی طرف علما کی زیادہ تعداد کا ہونا کیونکر حقانیت کی دلیل ہوسکتی ہے؟

قال الحافظ في شرح البخاري تحت حدیث لا تزال طائفۃ من امتي الخ ناقلا عن النووی ولا یلزم أن یکونوا مجتمعین في بلد واحد، بل یجوز اجتماعھم في قطر واحد وافتراقھم في أقطار الأرض، ویجوز أن یجتمعوا فی البلد الواحد وأن یکونوا في بعض منہ دون بعض، ویجوز إخلاء الأرض کلّھا من بعضھم أوّلا فأوّلا إلی أن لا یبقی إلّا فرقۃ واحدۃ ببلدٍ واحد اھ ج۱۳، ص۲۵۱۔ 13

امام نووی کے قول سے معلوم ہوا کہ کسی وقت ایسا ممکن ہے کہ تمام زمین اہل حق سے خالی ہوجائے اور بجز ایک فرقہ کے جو ایک شہر میں ہو، کوئی حق پر نہ رہے۔ اہلِ انصاف غور فرمائیں کہ جب امت میں ایسی حالت کا ظہور بھی ممکن ہے تو اس وقت کسی طرف جماعتِ کثیرہ کا ہونا ان کی حقانیت کی دلیل کیونکر ہوسکتی ہے؟ پس حدیث اتبعوا السواد الاعظم کا اگر وہ مطلب بھی تسلیم کرلیا جاوے جو بعض لوگ بیان کرتے ہیں تو اس کو زمانہ خیر القرون پر محمول کرنا لازم ہے تاکہ دیگر حدیث سے معارضہ لازم نہ آئے۔

بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

فإنّہ لایأتي علیکم زمان إلّا الّذي بعدہ شرٌّ منہ حتّی تلقوا ربّکم سمعتہ من نبیّکم صلّی اللہ علیہ وسلم۔ فتح الباري، ج۱۳، ص۱۷۔14

’’جو زمانہ آتا ہے اس سے اگلا زمانہ اس سے بدتر ہوتا ہے، یہاں تک کہ تم خدا تعالیٰ سے ملاقات کرو۔ میں نے اس کو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‘‘ انتہیٰ فتح، اس سے معلوم ہوا کہ زمانۂ نبوت سے جس قدر بُعد ہوتا جاتا ہے غلبۂ شر ہوتا جاتا ہے۔ پھر ایسی حالت میں جس طرف قائلین کی کثرت ہو اس طرف خیر اور حقانیت ہونے کی کیا دلیل ہے اور جماعتِ قلیلہ یا شخصِ واحد کے قول کو محض مخالفتِ جمہور کی بنا پر غلط کیونکر کہا جاسکتا ہے؟جب تک کوئی دلیل شرعی قطعی یا ظنی اس پر قائم نہ کی جاوے، محض مخالفت جمہور غلطی کی دلیل نہیں شرعاً!

واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم وھذا اخیر ما اردت ایرادہ في ھذہ العجالۃ وصلی اللہ علی سیّدنا محمد خاتم فص الرسالۃ وعلی آلہ وأصحابہ رجال الامانۃ ولیوث الیسالۃ والحمدللہ اولا و آخراً وباطناً وانا العبد المفتقر الی رحمۃ الی الصمد عبد المذنب۔

ظفر احمد وفقہ اللہ لتزود لغد وغفرلہ ولوالدیہ ولمشایخہ واخوانہ واقربائہ واخلائہ یوم لا یجزی والد عن ولدہ ولا یغنی أحد عن أحد فقط

تمت۔ یکم ذی الحجۃ الحرام 1340ھ


1 تھذیب التھذیب۔ الجزء الثاني عشر۔ باب الکنی۔ حرف الخاء

2 المقاصد الحسنۃ للسخاوي۔ حرف لام ألف

3 لیس عن الترمذي قولہ فاتبعوا السواد الاعظم

4 مرقاۃ الفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح۔ کتاب الإیمان۔ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ

5 صحیح البخاري۔ کتاب الفتن۔ باب قول النّبي صلی اللہ علیہ وسلم: سترون بعدي أموراً تنکرونھا

6 امداد الاحکام میں رایۃ کے لفظ کی جگہ لواء مذکور ہے۔ چونکہ البدایۃ والنھایۃ ((سنۃ إحدی عشرۃ من الھجرۃ، باب ذکر عبیدہ علیہ الصلاۃ والسلام وإمائہ وذکر خدمہ وکتابہ وأمنائہ)) میں رایۃ ملا ہے، اس لیے اسے ذکر کیا گیا ہے۔

7 الکامل فی التاریخ لإبن أثیر۔ المجلد الثانی، ذکر أحداث سنۃ إحدی عشرۃ۔ ذکر إنفاذ جیش أسامۃ بن زید

8 الکامل فی التاریخ لإبن أثیر۔ المجلد الثانی، ذکر أحداث سنۃ إحدی عشرۃ۔ ذکر خبر طلیحۃ الأسدي

9 یویدہ قولہ تعالیٰ وشاورھم فی الأمر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ لم یقل فاذا عزمتم فدل علی ان الامام یستبد فی العزم بعد الشوری ولیس للمشیرین فی العزم بنصیب

10 قال القاضي الشوکاني فی النیل قال فی الفتح وقد اجمع الفقھاء علی وجوب طاعۃ السلطان المتغلب والجھاد معہ وان طاعتہ خیر من الخروج علیہ لما في ذلک من حقن الدماء وتسکین الدھماء ولم یستثنوا من ذالک الا اذا وقع من السلطان الکفر الصریح فلا تجوز طاعتہ في ذلک بل تجب مجاھدتہ لمن قدر علیھا کما فی الحدیث اھ ولکنہ لا ینبغی لمسلم ان یحط علی من خرج من السلف الصالح من العترۃ وغیرھم علی ائمۃ الجور فانھم فعلو ذلک باجتھاد منھم وھم اتقی اللہ واطوع لسنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فمن جاء بعدھم من اھل العلم اھ ج۴، ص۸۴

11 صحیح البخاري۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّنّۃ۔ باب ما یذکر من ذمّ الرّأي

12 فتح الباری۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسّنّۃ۔ باب ما یذکر من ذمّ الرّأي

13 فتح الباری۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسّنّۃ۔ باب لا تزال طائفۃ من أمّتي ظاھرین علی الحق

14 صحیح البخاري۔ کتاب الفتن۔ باب لا یأتي زمانٌ إلّا الّذي بعدہ شرٌّ منہ

Exit mobile version