علامات قیامت ۸

نزولِ عیسیٰ علیہ السلام

قیامت سے پہلے کچھ حالات و معاملات ایسے برپا ہونے ہیں جن سے اہلِ ایمان کی جنت و جہنم وابستہ ہے۔ مخبرِ صادق ، نبیٔ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبار ک کا مفہوم ہے کہ ’آخری زمانے میں دنیا دو خیموں میں بٹ جائے گی، ایک خیمہ اہلِ ایمان کا ہوگا جس میں نفاق نہ ہو گا اور ایک خیمہ اہلِ نفاق کا ہو گا جس میں ایمان نہ ہو گا‘۔ مولانا مسعود کوثر صاحب مدّ ظلّہٗ کے یہ دروس اسی کامیابی یا ناکامی سے متعلق ہیں اور ان میں اہلِ ایمان کو لائحۂ فکر و عمل فراہم کرنے کا سامان ہے۔ مولانا موصوف نے یہ دروس ایک عوامی مجلس میں ارشاد فرمائے تھے، جہاں برادرِ عزیز حافظ شہزاد (محب اللہ)شہید رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے، برادر حافظ شہزاد شہید نے ہی بڑے اہتمام سے ان دروس کو ریکارڈ کیا تھا۔ بحمد اللہ، یہ دروس قسط وار، مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں نشر کیے جا رہے ہیں۔(ادارہ)


نزولِ عیسیٰ علیہ السلام

نحمده و نصلى علیٰ رسوله الكريم اما بعد

فأعوذ باالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمٰن الرحيم

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس عالم میں کہ مسلمان بہت زیادہ پریشان ہوں گےاور حضرت امام مہدی مسلمانوں کو لے کر ملک شام کے شہر دمشق کی الغوطہ بستی میں پناہ لیے ہوئے ہوں گے اور دجال پوری دنیا سے گھوم پھر کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے شام کے علاقے کے قریب ہوگا۔مسلمان بہت پریشان ہوں گے اور انتظار میں ہوں گے…… یہاں تک کہ صبح کے وقت فجر کی اذان ہوچکی ہوگی، تکبیر (اقامت)ہو چکی ہوگی اور نماز کھڑی ہونے کے قریب ہوگی کہ آسمان سے سیدنا عیسیٰ ﷤ دو فرشتوں کا سہارا لیے ، دو زرد رنگ کے کپڑوں میں آسمان سے زمین کی طرف نزول فرمائیں گے ۔

دمشق شام کا علاقہ ہے اور اس کی جامع مسجد اموی، وہاں حضرت مہدی موجود ہوں گے۔ عیسیٰ﷤کہاں نازل ہوں گے اس کی مختلف روایات ہیں اور عموماً یہ مشہور ہے کہ جامع مسجد اموی کے مشرقی مینار پر وہ نازل ہوں گے۔ ایسا جو ہے وہ ثابت نہیں ہے۔ حالانکہ یہ مشہور بات ہے لیکن ایسا ہے نہیں۔ کسی بھی حدیث میں مسجد کے مینار کا نام نہیں ہے، ہاں یہ آیا ہے کہ دمشق کی بستی کے مشرقی مینار پر، تو مسجد کا مشرقی مینار جوہے وہ الگ ہے اور دمشق کی بستی کا مینار جو ہے وہ اور ہے ۔ دمشق کی مسجد کا مشرقی مینار جو ہے وہاں عیسیٰ ﷤ نے نازل نہیں ہونا اور بالکل بستی کے قریب ہی ایک اکیلا مینار ہے جس کو نورالدین زنگی نے مسلم مجاہدین کی یاد میں تعمیر کر وایا تھا وہ آج بھی اسی حالت میں قائم ہے، اس مینار پر عیسی ؑ نزول فرمائیں گے۔ حدیث میں جہاں بھی الفاظ آئے ہیں وہ دمشق کی بستی کے مشرقی مینار کے آئے ہیں کہیں بھی مسجد کا نام نہیں آیا، یہ غلط جو ہے وہ ہمارے ہاں مشہور ہے ۔اور اس بات کی تحقیق ہمارے ہاں علما کے فتاوی کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔مفتی رفیع عثمانی صاحب اس کو خود جاکر دیکھ کر آئے ہیں اور آکر انہوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ وہ مسجد کا مینار نہیں بلکہ دمشق بستی کا مشرقی مینار ہے اور وہاں کے علما بھی یہی کہتے ہیں ۔تو عیسیٰ﷤ وہاں نازل ہوں گے اور کنٹرول سنبھال لیں گے اور اسی دن مسلمانوں کی اور یہودیوں کی بڑی جنگ ہو گی جو تاریخ کی آخری جنگ ہے اور اس جنگ میں بھی کوئی خاص اسلحہ استعمال نہیں ہوگا، تھوڑا تھوڑا اسلحہ استعمال ہوگا۔جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’عیسیٰ﷤ دجال کا پیچھا کریں گے اور اس کا تعاقب کرتے ہوئے لُد بستی میں جاکر اس کو پا لیں گے‘‘۔حضور ﷺ تو اس علاقے میں آئے ہی نہیں کبھی اور لد بستی تو دنیا میں تھی ہی نہیں ۔یہ لد بستی کب بنی ہے اس کی بڑی جستجو اور تحقیق کے بعد یہاں تک پہنچے کہ اس کا نام لَیدا تھا اور ۱۹۴۸ء میں اس کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے ساتھ ایک ایئر پورٹ بنایا گیا جو کہ اسرائیل کی فضائیہ کا بڑا ایئر پورٹ ہے، لد کے مقام پر ۔رسول اقدسﷺ نے چودہ سو سال پہلے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ﷤ دجال کو لد کے مقام پر قتل کریں گے ، صحیح مسلم ،ابو داؤد،مشکوۃ شریف میں یہ حدیث موجود ہے ۔لد جو ہے وہ ایک بڑا شہر ہے اور تل ابیب سے، جو ان کا دار الحکومت ہے، اس سے آٹھ یا دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں اس بستی کی ایک تو خصوصیت ہے ہی کہ دجال یہاں قتل ہوگادوسری بات یہ ہے کہ یہ اسرائیلی لوگ لد کی حفاظت بہت زیادہ کرتے ہیں ۔اور اس پورے لد شہر میں یہ جو سٹریٹ لائٹیں ہوتی ہیں اس کے نیچے انہوں نے تبرک کے لیے ڈیوڈ اسٹار لگائے ہوئے ہیں جو اس بات کی نشانی ہے کہ یہ ہمارے مسیحا کا شہر ہے کہ وہ یہاں آئے گا، یہ اس کے مقامات ہیں اور یہ اس کے طیارے ہیں ،یہ ہے اور فلاں ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ وہی اس کے قتل ہونے کی جگہ بھی ہے۔ حدیث شریف میں واضح الفاظ کے ساتھ اور اسی نام کے ساتھ کہ باب اللد کے نام کے ساتھ اور اس کی چند شناختی چیزیں اس میں واضح ہیں حدیث کی کتاب میں ۔

اس میں رسول اکرم ﷺ کا ایک فرمان ہے کہ اس جنگ میں جو یہود کے ساتھ ہوگی اس میں ہر درخت اور ہر پتھر پکارے گا کہ ’’اے مسلمان! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہے آؤ اور اس کو قتل کرو ‘‘سوائے ایک جھاڑی ہوتی ہے ’’غرقد‘‘ کہ جس میں ایک انسان چھپ سکتا ہے یہ ایک جھاڑی نما ہے کہ ایک انسان اس میں چھپ سکتا ہے ۔ اسرائیل ایک ریگستانی علاقے میں آباد ہوا اور ریگستان تقریباً ختم ہو گیا تو ان کو فکر ہوئی کہ یہ جھاڑی تو ختم ہو جائے گی۔ مسلمانوں کو علم نہیں لیکن یہودی اس پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے انڈیا سے ۲۰۰۸ء سے لے کر ۲۰۱۲ء تک تقریباً چار سال میں بارہ ارب ڈالر کی کاشت کاری کروائی اسرائیل میں اور وہاں اس کی شجر کاری کی۔ جس طرح ہم درخت لگاتے ہیں اس طرح انہوں نے پورے اسرائیل میں غرقد لگائے کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ ہمیں بچا سکتا ہے کیونکہ محمد ﷺ نے کہا ہے ۔یہ جو غرقد کی شجر کاری ہے کہ جو اس کو لگائے گا اور اس کی شجر کاری میں حصہ لے گااس کو انعام دیا جائے گا، جس طرح ہمارے ہاں شجر کاری کی مہم عموماً کی جاتی ہے، بارہ ارب ڈالر کی شجرکاری کی انہوں نے انڈیا سے۔ اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہ اپنے تیاری کے کس مرحلے میں ہیں ۔

نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال کے فتنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ ایمان (کے ساتھ)۔ اور یہ وہم کہ ہم بڑے ایما ن والے ہیں!! نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ دجال کا سامنا نہیں کرنا ہے، تو کیا کرنا چاہیے؟ رسول اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ ممکنہ طور پر کوئی مکہ میں رہائش اختیار کر لے یا مدینہ میں رہائش اختیار کر لے تو بچ جائے گا یا اس زمانے میں زندہ ہے تو وہ وہاں چلا جائے شام میں جہاں حضرت مہدی موجود ہوں گے‘‘۔ رسول اقدسﷺ نے فرمایا جو سورہ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کر لے گا تو وہ دجال کے فتنے سے محفوظ ہو جائے گا دجال اس پر کوئی اپنا وار نہیں کر سکتا ۔اس کے ساتھ ساتھ ذکر ہے علما کی صحبت کا، علما کے ساتھ تعلق کا، ان کی مجلسوں میں شریک ہونا اور علم الفتن کا علم رکھنا اتنا ضروری ہے کہ جتنا ہر مسلمان کو علم ہونا چاہیے کہ کل ہمارے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے، رسول اکرم ﷺ کی احادیث کی صورت میں ۔

اس میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال کو عیسیٰ ﷤ لد کے مقام پر قتل کر دیں گے۔ مسلمان جنگ جیت جائیں گے اور یہود کا قتل عام ہوگا۔ یعنی اسلام کا کلی طور پر غلبہ ہے کہ کوئی کافر بھی باقی نہیں رہے گا۔ عیسیٰ ﷤ کے نازل ہوتے ہی سارے عیسائی جو ہیں یعنی اہل کتاب جو ہیں وہ ایمان لے آئیں گے ،یہودی جو رہ جائیں گے وہ عیسیٰ ﷤اور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو جائیں گے اور اسلام کو کلی غلبہ حاصل ہو جائے گا اور غلبہ اس صورت میں ہے کہ اسلام کے علاوہ نہ کوئی مذہب ہے اور نہ مسلمانوں کے علاوہ اور کوئی شخص جو ہے وہ دنیا میں پا یا جاتا ہے اور انتہائی امن انتہائی انصاف وہی جو حضرت مہدی نے کچھ سال پہلے قائم کیا تھا وہ دوبارہ اسی طرح قائم ہو جائے گا بلکہ اس سے بھی بہتر قائم ہو جائے گا اور اس کے مدمقابل کوئی کافر نہیں ہوگا۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ ﷤دنیا میں رہیں گے، قبیلہ جذام میں ان کی شادی ہو گی، اس سے پہلے ان کی شادی نہیں ہوئی تھی جب وہ دنیا سے اٹھا لیے گئے تھے، تو ان کی شادی ہو گی اور ان کی اولاد ہو گی اور وہ دنیا میں رہیں گے، ان کا انتقال ہوگا اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روضۂ رسول میں ان کو دفن کیا جائے گا ۔حضور ﷺ کے ایک طرف کے پاؤں میں ابو بکرؓ و عمر ؓہیں اور ان کے پاؤں کی دوسری طرف کی جگہ ایک قبر کی ابھی باقی ہے جس میں سیدنا عیسیٰ ﷤ دفن ہوں گے، جس کا ہم نے یہ نقشہ بتایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک، حضرت ابو بکرؓ کی قبر مبارک کے کندھے میں ہے اور حضرت ابوبکرؓ کے کندھے کے برابر حضرت عمرؓ کی قبر ہے اور یہ ایک چوتھی قبر کی جگہ جو ہے وہ باقی ہے ،خالی ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے: ’’ایک قبر کی جگہ باقی ہے جس میں عیسیٰ ﷤دفن ہوں گے ‘‘۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے ساتھ حضرت عیسیٰ ﷤کی معیت میں اپنی قبر سے اٹھایا جاؤں گا ‘‘۔یہاں قبر سے مراد جو ہے وہ مقبرہ ہے یعنی ایک مقبرے سے ایک حجرے سے ہم چاروں اٹھائے جائیں گے ۔

آخری بات اس سلسلے کی یہ ہے کہ عیسیٰ ﷤کے بعد بھی اسلام اس دنیا میں غالب رہے گا کافی عرصے تک۔ ان کے بعد ان کا جو نائب مقرر ہوگا رسول اکرم ﷺ نے اس کا نام’’المقعد‘‘ بتایا، ان کے بعد جو ان کا خلیفہ بنے گا اور اس سلطنت کو اس خلافت کو جو باقی رکھے گا یہاں تک کہ مسلمانوں کی حالت پھر سے بگڑنا شروع ہو جائے گی۔ یہ مسلمان جو ان کے ساتھ ہوں گے وہ فوت ہوں گے، ان کی جو نسلیں ہوں گی وہ بگڑیں گی اور وہ کفر اختیار کریں گی اور بہت جلدی جلدی، یہ نہیں کہ اس کے لیے کوئی بہت لمبا عرصہ چاہیے، انہی پر قیامت قائم ہو گی اور انہی پہ قیامت کی بڑی علامات نزول عیسیٰ ﷤کے بعد کی پوری ہوں گی ۔عیسیٰ ﷤کی زندگی میں وہ فتنہ ظاہر ہو جائے گا جس کو فتنۂ’’یاجوج ماجوج‘‘کہتے ہیں ۔اور جس طرح حضرت مہدی نے پوری دنیا کو لے کر مسلمانوں کو لے کر دمشق میں انہوں نے ٹھکانہ بنایا تھا ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ﷤سارے مسلمانوں کو لے کر کوہ طور کے اس پہاڑی سلسلے میں چلے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس پہاڑی سلسلے کو اتنا وسیع کر دےگاکہ مسلمان اس میں پورے آجائیں گے اور کوئی مسلمان یاجوج ماجوج کے فتنے میں مبتلا نہیں کیا جائے گا۔ پھر عیسیٰ﷤ جو ہیں وہ ان کے خلاف بد دعا کریں گے اور وہ پھر ایک الگ تفصیل ہے کہ وہ کیسے قتل کیے جائیں گے۔ تفصیل کا وقت نہیں ہے تو یاجوج ماجوج کا قتل جو ہے وہ حضرت عیسی ؑ کی بد دعا کے نتیجے میں ہوگا۔نبی کریم ﷺ سے ایک صحابی نے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! جہنم میں کتنے لوگ جائیں گے؟ تو رسول اقدسﷺ نے فرمایاکہ ’’تم ایک ہزار جہنم میں جاؤگے اور ایک جنت میں جائے گا‘‘۔تو پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اتنی تعداد میں جہنم میں جائیں گے؟ تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’نہیں! ایک تم میں سے ہوگا اور ننانوے یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے‘‘۔ تو انسانوں کی تعداد یاجوج ماجوج کی نسبت ایک فیصد ہے اور ننانوے فیصد وہ انسانوں سے زیادہ ہیں تعداد کے اعتبار سے ۔بحرِ طبریہ جس کی آپ نے سیٹلائیٹ تصویر دیکھی ہے ان کے سامنے ایک ٹب (tub) کی شکل سے زیادہ نہیں ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ یاجوج ماجوج اس کے پاس سے گزریں گے، یہ ایک دفعہ خشک ہوگا دجال کے ظہور سے پہلے، پھر جب بارشیں ہوں گی عیسی ؑ کے زمانے میں تو خوشحالی آئے گی یہ پھر سے بھر جائے گا۔ تو جب عیسیٰؑ کوہ طور پر چلے جائیں گے تو یہ یہاں سے گزریں گے یاجوج و ماجوج، ان کااگلے والا لشکر اس کو پی کر گزر جائے گا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو ان کے لشکر کا پچھلا والا حصہ ہوگا وہ یہاں آکر کہیں گے کہ یہاں کسی زمانے میں پانی ہوا کرتا تھا کہ وہ اتنی تعداد میں ہوں گے اور اتنا شر و فساد پھیلانے والے ہوں گے۔ یہ حدیث شریف میں موجود ہے ۔

تو عیسیٰ ﷤کی وفات اور اس کے بعد جو شر قائم ہونا ہے اس میں یاجوج و ماجوج ہیں اور اس میں بڑے بڑے خسف ہیں۔ یعنی قیامت سے پہلے پہلے دنیا میں تین یا چار جگہوں میں بڑے بڑے خسف کے واقعات ہوں گے ۔’’خسف‘‘ کا معنیٰ ہے زمین میں دھنسا دیا جانا ۔پوری کی پوری بستیاں اور پورے کے پورے علاقے خسف ہو جائیں گے ۔ثلاثۃ الخسف یعنی تین بڑے دھنسنے کے واقعے۔ اور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب کفر والے کفر پرپکے ہو جائیں گے ایمان والے کافی پہلے سے دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں گے تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی ایک بڑی نشانی سورج کا مغرب سے نکلنا ہے۔ سورج مشرق سے نکلتا ہے مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ اس دن سورج جو ہے وہ مغرب سے طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ اس دن سے بند کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر کوئی توبہ کرتا بھی ہے تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی ۔اسی زمانے میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ صفا و مروہ پہاڑیاں جوہیں جہاں سعی کی جاتی ہے وہاں سے ایک جانور نکلے گا جس کو اکیسویں پارے میں سورۃ النمل میں اللہ نے بیان کیا ہے أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ؀ 1وہ لوگوں سے گفتگو کرے گا اور وہ آکر نشان لگا دے گا، جو ایمان والے ہوں گے ان کی وفات ہو جائے گی اور سورج کے مغرب سے نکلنے سے پہلے پہلے ایمان والوں کا تعین ہو جائے گا اور کافروں کا تعین ہو جائے گا کہ یہ ایمان والے ہیں یہ کافر ہیں اور اس کے بعد اللہ ایمان والوں کو ایمان پر باقی رکھے گا اور کافروں کو توبہ کی توفیق نہیں دےگا۔

اسی طرح ہے کہ قیامت سے پہلے ایمان اور ایمان کی ہر نشانی کو اٹھا لیا جائے گا ۔رسول اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: مومن کو ،مسجد کو ،قرآن پاک کو اور حجرِ اسود کو اللہ تعالیٰ زمین سے اٹھا لیں گے اور حج جو ہے وہ موقوف ہو جائے گا اور بیت اللہ کو ڈھا دیا جائے گا۔ یہ وہ آخری آخری نشانی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ قیامت جو ہے وہ آج یا کل جو ہے وہ آنے والی ہے۔ بیت اللہ کا گر جانا اور ایمان والوں کا اٹھ جانا یہ آخری نشانی ہے کہ جس کے اگلے دن جو ہے وہ قیامت نے قائم ہو جانا ہے ۔لفظ اللہ کہنے والا جب تک دنیا میں ہے دنیا جو ہے وہ قائم ہے ۔

اور اللہ ارشاد فرماتے ہیں جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ 2۔

کہ جب تک خانہ کعبہ دنیا میں باقی ہے اور کعبہ کو لوگوں کے دنیا میں رہنے کا ذریعہ بنایا کہ یہ نہیں تو لوگ دنیا میں قائم نہیں رہ سکتے ۔اس طرح لوگ جو ہیں وہ میدانِ محشر کی طرف جمع کیے جائیں گے ۔صور ِ اسرافیل سے جو ہے وہ قیامت قائم ہوگی ۔

یہ مختصر احوال جو ہیں آپ کے سامنے وہ عرض کیے ہیں ۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ تمام فتنوں سے امت مسلمہ کو محفوظ کرے ،آمین۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)


1 ’’ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ ‘‘(سورۃ النمل: ۸۲)

2 ’’ اللہ نے مکان محترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا ۔‘‘(سورۃ المائدۃ: ۹۷)

Exit mobile version