مسلمانوں کی نصرت و کامیابی کے عوامل[۲]
حضرت زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’عدل کرنے والے حاکم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف نور کے منبروں پر بیٹھے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے دونوں اطراف دائیں ہیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی حکومت میں، اپنے اہل و عیال اور رعیت کے معاملے میں عدل سے کام لیا ۔‘‘
قاضی عیاض رحمہ اللہ اس حدیث کے ذیل میں بیان کرتے ہیں:
یعنی وہ لوگ جن کے ذمے ان کے اہل و عیال اور وہ افراد ہوں جن پر اس کو مسئول بنادیا گیا ہو، ان کے ساتھ عدل کرے تو یہ حدیث اس کے اس عمل پر دلالت کرتی ہے کہ اس کی افضلیت اور رتبہ ہر اس بندے کے لیے ہے جو ہر اس عمل میں عدل قائم کرے جو اس کے ذمے لگادیا گیا ہو چاہے وہ خلافت ہو یا امارت، ولایت ہو یا یتیم کا مال و صدقات۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت چیزیں جو اس پر لازم ہیں یعنی اس کے اہل و عیال کے حقوق اور اس کے علاوہ وہ چیزیں جو اس کےاختیار میں دی گئی ہوں۔
’’على منابر من نور‘‘ سے مراد حقیقی منابر یا وہ اونچی جگہ جس کاحدیث میں بھی تذکرہ ہوا ہے۔ ’’يجىء يوم القيامة على…… يمين الرحمن‘‘ الله تعالیٰ کے دائیں طرف سے مراد یہ ہے کہ وہ اچھی حالت میں ہوں گےاور اعلیٰ مرتبے سے نوازے جائیں گے، ابن عرفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، جب کوئی شخص اچھی جگہ سے ہوکر آجائے ، تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اچھی جگہ سے ہو کر آگیا، عرب ہر اس چیز کو دایاں کہتے ہیں، جو کامیاب و فائدہ مند ہو۔ یمین یُمن سے نکلا ہے جو مبارک کو کہا جاتا ہے۔
معین الحکام میں آیا ہے کہ عبداللہ ابن مسعودؓ نے فرمایا: میں جب کسی دن قضا یعنی فیصلہ کرتا ہوں تو یہ میرے لیے ستّر سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس سے مراد ہر قسم کی قضا نہیں بلکہ وہ قضا ہے جو حق پر مبنی ہو۔
اسی طرح لوگوں کے درمیان عدل کرنا بھی بڑی نیکیوں میں سے ہے جس کے عوض اللہ تعالیٰ اس کو بڑے درجات سے نوازیں گے،جیسا کہ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (سورۃ المائدہ:۴۲)
’’اور اگر فیصلہ کرنا ہو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔پس اللہ تعالیٰ کے ہاں کون سا عمل لائقِ محبت ہے؟
کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ امیر بننے کا مطالبہ کرے یا اپنے دل میں اس کی خواہش رکھے کہ کاش میں امیر بن جاؤں، کیونکہ اس خواہش کی شریعت میں ممانعت ہے، لیکن اگر کوئی شخص امارت اس لیے چاہتا ہے کہ لوگوں کی اصلاح کرے یا عدل قائم کرے، تو پھر جائز ہے۔ لیکن اس دور میں یوسف علیہ السلام کی مانند کسی کا پیدا ہوناشاذونادر ہی ہوگا، لہٰذا اس طرح کی خواہش سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ یوسف علیہ السلام نے جب اپنی خواہش پر امارت کا مطالبہ کیا تھا تو وہ جانتے تھے کہ یہ مسئولیت احسن طریقے سے میرے علاوہ کوئی ادا نہیں کرسکتا، وہ لوگوں کی اصلاح کرنا اور عدل کو قائم کرنا جانتے تھے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:اے عبدالرحمٰن! امارت کی خواہش نہ کرو، کیونکہ جو امارت تمہارے مطالبے پر دی جائے گی تو تم اس امارت کے سپرد ہو جاؤگے اور اگر بغیر مطالبے کے تم کو امارت دی جائے تو اس کے کرنے میں اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔
اسی طرح حضرت ابو بکر صدیقؓ فرماتے ہیں: مجھے اپنے رب کی قسم میں ایک رات یا ایک دن کے لیے بھی امیر بننے (کہ مسئول بن جاؤں)كی حرص نہیں رکھتا، اور نہ ہی اس کے ساتھ محبت کرتا ہوں، نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے خفیہ یا پوشیدہ حالت میں اس کی طلب کی، لیکن اس امارت کو صرف فتنے کے خوف کی وجہ سے قبول کیا۔ مجھے امیر بننے اور امارت میں کسی بھی قسم کی راحت و آسانی نہیں، لیکن ایک ایسے بڑے کام پر مقرر ہوا ہوں جس پر میرا قبضۂ قدرت اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں، اسی طرح کی ایک روایت حضرت عمرؓ سے منقول ہے۔
البدایہ والنہایہ میں ہے:جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓخلیفہ بنے تو حفاظتی افواج کا افسر ان کے پاس آگیا اور وہ یہ چاہ رہاتھا کہ ان کو بھی ایک حفاظتی دستہ دے دیا جائے جیسا کہ باقی خلفا کو دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کو کہا میرا اس کام سے کیالینا؟ مجھ سے دور ہوجاؤ! میں بھی مسلمانوں میں سے ایک فرد ہوں! پھر آپ مسجد کی طرف چل پڑے، منبر پر بیٹھ گئے، لوگ آپ کے گرد جمع ہوئے اور آپؒ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا:
اے لوگو! مجھ پر یہ ابتلا ایسی حالت میں ڈالی گئی ہے جس پر مجھ سے رائے نہیں لی گئی، نہ میں نے اس ابتلا کا مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی اس معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ مشورہ ہوا ہے، لہٰذاتم سب کی گردنوں میں جو میری بیعت ہے اس سے تم سب آزاد ہو ، جس کسی کو بھی خلیفہ منتخب کرنا ہے وہ تم لوگ اپنی خواہش سے منتخب کرو۔ سب مسلمانوں نے ایک آواز میں کہا: ہم نے خلافت کے لیے آپ کو منتخب کیا ہے اور ہم سب کو آپ کی خلافت پسند ہے۔
جب لوگوں کے نعرے ختم ہوگئے تو آپؒ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اے لوگو! میں تمہیں تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں۔ تقویٰ ہر چیز کا متبادل ہے، لیکن کوئی چیز تقویٰ کا متبادل نہیں۔ موت کو زیادہ یاد رکھا کرو، کیونکہ موت کی یاد لذتوں کو بھلا دیتی ہے۔ اس سے پہلے کہ موت آگھیرے اس کی تیاری کرو۔ یہ امت نہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں اختلاف کرتی ہے، نہ پیغمبرکے بارے میں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں، بلکہ یہ امت جس چیز میں اختلاف کا شکار ہے وہ درہم و دینار ہیں۔
مجھےاپنے رب کی قسم، نہ میں کسی کو ناجائز حق دوں گا اور نہ ہی حق دار سے اس کا حق روکوں گا۔ پھر آپؒ نے اونچی آواز میں فرمایا: اے لوگو!جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے تو اس کی بات ماننا واجب ہے، لہٰذا جب تک میں اللہ رب العزت کی اطاعت کرتا ہوں اس وقت تک تم بھی میری اطاعت کیا کرو اور جب میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کی خلاف ورزی کروں تو اس وقت تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)