تاریخ کے اوراق، سینہ در سینہ چلتی روایات اور چشم دید گواہان کے بیان کردہ قصے ہمارے سامنے ہیں۔ آج سے تہتّر برس پہلے، لگ بھگ دس لاکھ جانیں رائفلوں کی گولیوں، نیزوں کی انیوں، برچھیوں، کرپانوں، تلواروں اور کلہاڑوں کی نذر ہو گئیں۔ خدیجہؓ و فاطمہؓ کی کتنی ہی بیٹیاں، اندھے کنوؤں ، مٹی کے تیل سے بھڑکتے محبس خانوں اور بیاس و ستلج و راوی کے پانیوں میں دھکیل دی گئیں۔ کتنی ہماری بہنیں، بہوئیں اور بیٹیاں، ’عائشہ‘ سے ’آشا‘ ہو کر، نجس ہندوؤں اور سکھوں کی ہَوَس کا نشانہ بن کر، ان ’ہنومان‘ اور ’گرو‘ کے پجاریوں کی اولادوں کا بوجھ گھسیٹتی گھسیٹتی شمشان گھاٹوں میں جلتی چِتائیں بن گئیں۔ لاکھوں یتیم ہوئے، لاکھوں سہاگ اجڑے۔ شاید اصحاب الاخدود پر بیتنے والے ظلم سے بڑھ کر ظلم، برِّ صغیر کی تقسیم کے وقت چشمِ فلک نے دیکھا۔ بغداد کے دریاؤں کے بعد پنجاب و سندھ کے دریاؤں کا رنگ بھی لہو رنگ ہو گیا۔ یو پی، بِہار، دِلّی، راجستھان، پنجاب، دکّن، گجرات، بنگال……ہندوستان کا کوئی کونا ایسا نہیں جہاں سے کوئی لٹا اور کٹا قافلہ خونی لکیر پار کر کے نہ پہنچا ہو۔
دل دہلاتا اور رونگٹے کھڑے کرتا یہ تذکرہ آسان ہو جاتا ہے، جب راوی یہ بتاتے ہیں کہ بہن بیٹیوں نے عزتیں، بوڑھی ماؤں ، باپوں اور کڑیل جوانوں نے جانیں اور بچوں نے بیسویں صدی کے کربلا میں پیاس سے جانیں اس وطن کے لیے واری تھیں جس کی اساس ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ اور جس کا قانون شریعتِ ’محمد رسول اللّٰہ‘ ہونا تھا!(علیٰ صاحبہا ألف صلاۃ وسلام)
کہتے ہیں کہ تقسیمِ ہند سے قبل، بانیٔ پاکستان لکھنؤ میں کسی مقام پر ایک جلسے میں موجود تھے۔ وہاں ایک لکھنوی نعرے لگانے لگا ’پاکستان زندہ باد‘، یہ سن کر بانیٔ پاکستان نے اس لکھنوی نوجوان سے پوچھا کہ ’تم کیوں بڑھ چڑھ کر پاکستان کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہو۔ تمہارا علاقہ تو پاکستان میں شامل نہیں ہونا؟‘۔ سوال سنتے ہی اس نوجوان نے معاً جواب دیا ’اس لیے کہ پاکستان کا وجود میرے (مسلمانوں کے )تحفظ کا ضامن ہے!‘۔
لیکن قلم یہ لکھتے ہوئے لرزتا ہے اور آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں کہ جس پاکستان کو مدینۂ ثانی بن کر برِّ صغیر ہی کے نہیں بلکہ ’نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر‘مسلمانوں کی بھی داد رسی کرنا تھی وہ خود ’پاکستان‘ نہ بن سکا۔کسی نے کہا تھا:
’’قیامت کے دن سب مسلمان اللّٰہ کے سامنے پیش ہوں گے اور اپنی اپنی پیشی بھگتائیں گے۔ لیکن پاکستانی مسلمان ان دس لاکھ شہیدوں کے سامنے بھی پیش ہوں گے جنہوں نے اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے جانوں کی قربانیاں دی تھیں۔ وہ دس لاکھ شہید ، پاکستانی مسلمانوں کا گریبان پکڑیں گے اور پوچھیں گے کہ ’غیر اللّٰہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے یہ ملک بنایا تھا؟‘۔ وہ کٹنے والی مائیں پوچھیں گی کہ ’ ہماری بیٹیوں کے جسم عریاں آنکھوں کے سامنے، رات کی تاریکیوں میں تھرکتے رہیں، کیا اس لیے ہم نے عزتیں اور جانیں گنوا کر یہ ملک بنایا تھا؟‘۔ سوال کیا جائے گا کہ ’سینما گھروں اور تھیٹروں، تفریح گاہوں، جم خانوں کی سہولت تو ہندوستان میں زیادہ میسر تھی، کیوں یہ ملک بنایا تھا؟‘۔ جو تاجر و زمیندار لاکھوں کروڑوں کے کاروبار اور سونا اگلتی زمینیں چھوڑ کر آئے تھے پوچھیں گے کہ ’سودی معیشت پروان چڑھانے کے لیے پاکستان بنایا تھا؟‘۔ سوچو، سوچو…… کیا جواب دو گے؟ سوچو! یہ مسلمان تمہیں میدانِ حشر سے جواب حاصل کیے بغیر پار نہ ہونے دیں گے!‘‘
نجانے یہ ہر سال منایا جانے والا یومِ آزادی لائقِ جشن ہے یا لائقِ ماتم؟ پاکستان نہ تو کسی بے وردی حکمران کی جائے حکمرانی کے طور پر بنا تھا اور نہ ہی کسی وردی والے کے تشریح کردہ ’قومی مفاد‘ کی خاطر۔ یہ ملک انگریز کی غلامی سے نکل کر کالے انگریزوں کی سرپرستی میں چلنے والے، گورے انگریزوں کے وضع کردہ کالے نظامِ جمہوریت و سرمایہ داری کے لیے نہیں بنا تھا۔ یہ پاکستان تو اس ’عظیم تر پاکستان‘ کی ابتدا ہونا تھی جس کا صحیح نام و عنوان ’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘ ہے۔
اس بار آنے والے یومِ آزادی کو جشن منائیے، لیکن اپنے عزم کا جشن۔ یہ عزم کہ اس پاکستان کو ہم صحیح معنوں میں پاکستان بنائیں گے۔ وہ پاکستان جہاں کوئی ظلم نہ دیکھے، کوئی عزت نہ لٹے، کوئی جان ناحق نہ جائے اور سب سے بڑا ظلم اللّٰہ کے ساتھ شرک ہے؛ اس کی زمین پر اس کی شریعت نافذ نہ کرنا ہے، اور عزت؛ العزۃ للّٰہ ولرسولہ و للمؤمنین، اور جان وہ قیمتی ہے؛ جو لا الٰہ الا اللّٰہ پڑھتی اور اس کلمۂ طیبہ پر جان وارتی ہے۔ اس پاکستان کو بنانے کا عزم کیجیے جو سچ میں مدینۂ ثانی ہو، کبھی امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی اور کبھی بھارت کو Most Favourite Nation قرار نہ دیتا ہو۔ وہ پاکستان جہاں سے غزوۂ ہند کو لڑنے اور ہند کے برہمنوں، راجوں اور مہاراجوں کو زنجیروں میں کسنے کے لیے لشکر روانہ ہوں۔ وہ پاکستان جہاں سےکشمیر و برما اور اندلس و اقصیٰ کی جانب قافلے نکلیں۔
تلاشنا ہے اسی وطن کو اساس تھی لا الٰہ جس کی
حصول تھا جس کا دِیں کی خاطر، تھی انتہا لا الٰہ جس کی
اگر ہم نے اس وطن کو تلاش لیا اور اس پاکستان کو سچا پاکستان بنا لیا تو دنیا کی عزت اور آخرت کی کامرانی ہمارا مقدر ہو گی اور ہم قیامت کے دن ان دس لاکھ مسلمانوں کے سامنے بھی سر اٹھانے کے قابل ہوں گے جن کی لٹی عصمتیں اور کٹی گردنیں ہمارے خلاف عدالتِ ایزدی میں عارضہ کیے ہوئے ہیں!
أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!