چراغِ ’شریعت یا شہادت‘ کو قلم کی روشنائی اور جگر کے خون کی ضرورت ہے!

نمرود کی طاقت کے سامنے وہ ایک شخص کچھ بھی نہ تھا ۔ فرعون کی طاقت کے سامنے بھی اس ایک شخص کی کچھ مادی حیثیت نہ تھی۔ جالوت کی طاقت کے سامنے طالوت کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا ۔ لیکن ایک شخص ہی نے نمرود کی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تھا اور ایک شخص ہی نے فرعون کی جھوٹی ربوبیت کا انکار کیا تھا اورطالوت ہی جالوت پر فتح مند ہوا تھا۔

عرب سے اٹھنے والے صحرا نشینوں کے معمولی لشکروں نے فارس اور روم کی طاقتوں سے خوف زدہ ہونے سے انکار کیا ۔ یرموک اور قادسیہ میں اسلام کے (سروسامان اور تعداد کے لحاظ سے) معمولی لشکروں نے آخری لمحہ تک جنگ جاری رکھی یہاں تک کہ ان کے مخالف دشمن کےاعلیٰ سطحی لشکر مٹ گئے ۔

دور حاضر میں بھی دو ایسی مثالیں ہیں جو کہ تاریخ کے لکھنے والوں کے لیے نشانِ راہ بنی رہیں گی کہ دنیا میں خدائی کا دعویٰ کرنے والے، ایک بعد دوسرے، دو ایسے ممالک جن کا زمین، ہوا، پانی اور خلا پر اختیار و غلبہ تھا، کیسے انہوں نے اس دور کے سب سے معمولی لشکروں سے شکست کھائی ۔

آتش نمرود کا گل و گلزار بننا، فرعون اور اس کے لشکر کا غرق آب ہونا، جالوت کا قتل، قادسیہ میں فارسی ہاتھیوں کے لشکر کی شکست، یرموک میں روم کی فوج کی ذلت اور دور حاضر میں پہلے سوویت یونین اور اب امریکہ کی یہ عظیم شکست اور بے مثال ذلت ہمارے سامنے صرف ایک ہی نتیجے کی عکاسی کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے اور اللہ تعالیٰ ہی زمینوں اور آسمانوں کا بادشاہ ہے ، وہی پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، وہی فتح اور شکست کا فیصلہ کرنے والا ہے،وہی آزمائش میں ڈالنے والا ہے اور وہی آزمائش میں آسانی عطا کرنے والا ہے۔

انسان کی عقل کا ایک دائرہ ہے کہ جس سے باہر اس کی سوچ اور سمجھ رک جاتی ہے۔ اس دائرے کے اندر ایک ایسی دنیا کا بھرم بظاہر قائم ہے جس میں فتح کی بنیاد طاقت ہے اور طاقت کی بنیاد سپاہیوں کی تعداد اور ان کے اسلحے کی مقدار ہے۔ اس بھرم نے ہی دور جدید کی ’مسلمان‘ افواج کو کفار کا زرخرید غلام بنادیا ہے ۔ یہی وہ بھرم ہے جس کی وجہ سے حجاز کی مقدس سرزمین پر کفر کے لشکروں کو آنے کی اجازت دی گئی اور یہی وہ بھرم ہے جس کی وجہ سے ایٹمی طاقت پاکستان صرف ایک فون کال پر امریکہ کی سربراہی میں صلیبی جنگ کا صف اول کا سپاہی بن گیا اور یہی وہ بھرم ہے جس کی وجہ سے امت مسلمہ اندھیریوں میں ڈوبی ہوئی ہے ۔

یہی وہ بھرم ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی بے شمار تعداد نے یہ جنگ لڑے بغیر ہی ہار مان لی ہے اور غلامی کی ایک ایسی دلدل میں دھنس گئے ہیں جس میں پھنس کر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ آزاد فضا کا مطلب کیا ہوتا ہے اور اسلام کے لیے جینے اور اسلام ہی کے لیے مرنے کا مطلب کیا ہے ؟!

آج یہ سوال کرنا لازم ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دور جدید کی سب سے عظیم طاقتیں جن کی نظر پوری دنیا پر تھی اور جن کے سامراج کے سامنے سب سر جھک جاتے تھے، ان کی طاقت کا اختتام ایسی جگہ پر ہوا جو دنیا کے معیار سے کچھ بھی نہیں تھی؟ اگر امت مسلمہ کو اس سوال کا جواب مل گیا تو اس بات کا یقین کیجیے کہ یہ امت پھر ایک بار درست سمت چل نکلے گی اور اس امت کو اپنے دردوں اور دکھوں کی دوا مل جائے گی۔

اس سوال کا جواب عقل کے دائرے میں نہیں مل سکتا ہے۔ یہ وہی راز ہے جس کوجان کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ آتشِ نمرود میں کود پڑے اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے بنی اسرائیل کو لے کر سمندر کی موجوں پر قدم رکھا۔ اس سوال کا جواب اس عشق کی تلاش میں ہے کہ جس نے صحرا سے نکلے لشکروں کو فارس اور روم کے محلات تک پہنچا دیا ۔

؏حدِ ادارک سے باہر ہیں باتیں عشق و مستی کی

عقل تو یقیناً اس بات پر محو تماشا ہے کہ کیسے پہلے سوویت یونین کا سامراج اور اب امریکہ کا سامراج ایسے اللہ والوں کے ہاتھوں مٹ گیا کہ جن کے پاس صرف ان کا ایمان تھا ۔

اس زمانہ کے نمرود اور فرعون کا اس طرح خاک میں ملنا اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے اور یہی اس ذات باری کی اعلیٰ صفات پر ایمان مضبوط کرتا ہے کہ وہی رحیم ہے، وہی رحمٰن ہے اور وہی مہیمن ہے، وہی عزیز ہے، وہی جبار ہے اور وہی متکبر ہے ۔ اور یہ تمام امت مسلمہ کے لیے ایک ایسا سبق ہے کہ ہم پر ہو رہے ظلم کا خاتمہ کفر کو خوش کرنے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر یقین کر کے جہاد کرنے میں ہے ۔

ہمارے سامنے پچھلے ایک سو سال کی تاریخ ہے کہ اس امت کے ساتھ رہبروں کی شکل میں رہزنوں نے کتنے دھوکے کیے ہیں ۔ اس عظیم امت کے جوانوں کو کبھی طاغوتی اقوام متحدہ کی خوشی کی خاطر لادینیت کے راستوں پر چلانے کی سازشیں کی گئیں اور کبھی حصولِ اقتدار کی خاطر انھیں شریعت کا مخالف بنایا گیا ۔ پچھلےایک سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ امت کو اگر عزت ملی ہے تو صرف اسلام کے راستہ پر خون پسینہ بہا کر ہی ملی جبکہ باقی تمام تجربوں نے اس امت کو ظلمتوں اور اندھیروں سے بھری ایسی خوفناک کھائی میں پھینک دیا جہاں پر ہماری ماؤں، بچوں اور بزرگوں نے صرف دکھ اور ستم اور نا انصافی کی زندگی جی ہے ۔

فلسطین سے لے کر کشمیر تک اور شیشان سے کاشغر تک اور صومالیہ سے پاکستان اور ہندوستان تک اس امت پر ہوا ظلم ایک ہے۔ جو دھوکہ اور ستم فلسطین کے ساتھ ہوا وہی دھوکہ اور وہی ستم کشمیر کے ساتھ ہوا ۔ محسن ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہی اقتدار کی محبت میں قاتل بن گئے اور جس طرح فلسطین کو مصر اور اردن کی حکومتوں نے قید خانہ بنا ڈالا اسی طرح سے کشمیر کی قسمیں کھانے والوں نے ہندو حکومت کے ساتھ اتفاق کرکے اس وادی کو قید خانہ بنا دیا ۔

کشمیر کے اندر اگر آج ہندو فوج کا قبضہ ہے تو اس کی مغربی سرحد پر پاکستانی فوج کے جرنیلوں نے گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور کشمیری مجاہدین کے لیے آنے والی مدد کو روکے ہوئے ہیں ۔ کشمیر کے اس عظیم جہاد کے ساتھ یہ سب سے بڑا دھوکہ ہے کہ اس جہاد کی سپلائی لائن کو پاکستانی فوج نے اپنے مفاد کے لیے غلام بنا رکھا ہے ۔ افسوس تو یہ ہے کہ آج کشمیر کا اسلام پسند جوان کافر ہندو کے خلاف محاذ آرا تو ہے ہی لیکن پاکستانی جرنیلوں کی گوـسلو ؍ Go Slow (آہستہ آہستہ چلو) پالیسی کی وجہ سے اس کے ہاتھ میں ہتھیار کے نام پر محض ایک پستول ہوتی ہے ۔ 1

کشمیر کے ساتھ اس دھوکے کو سیاسی داؤ پیچ اور عالمی برادری کو خوش کرنے کے نام پراپنے مفادات کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے اور ان منافقتوں نے اس جہاد کو بےانتہا نقصان پہنچایا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے اس امت کی تاریخ میں کئی دیگر محاذ کمزور بنادیے گئے ہیں ، جن میں سرِ فہرست فلسطین ہے۔

اس امت کے ہر ایک شخص کے لیے اس بات کا جاننا اور سمجھنا ضروری ہے کہ مسجد اقصیٰ سے لے کر کشمیر کی جامع مسجد اور ہندوستان کی بابری مسجد تک یہ ایک ہی جنگ ہے ۔ اس جنگ کی بنیاد ایک ہے اور اس جنگ کا نتیجہ سب کے لیے ایک ہے ۔ سرحدوں کی تقسیم کی سازش نے اس امت کو ٹکڑوں میں بکھیر تو دیا ہے لیکن اس امت کی تقدیر میں کلمۂ توحید کی بنیاد پر ایک ہو کر فتح مند ہونا لکھا ہے ۔ اس امت کا غم ایک ہے ۔ اس امت کے دشمن ایک ہیں۔ اس امت کا درد ایک ہے ۔ اس امت پر ہورہا ظلم ایک ہے اور اس امت پر ہورہے ظلم کو روکنے کا طریقِ کار بھی ایک ہے کہ ایک کلمہ اور ایک نعرہ اور ایک مقصد کے تحت اس جنگ کو لڑا جائے ۔

کشمیر کے محاذ پر اپنے خون سے گواہی دینے والے ہر ایک شخص کے لیے یہ ایک ایسے امتحان کا وقت ہے جو اس محاذ کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا ۔ ہمارے سامنے دو ایسے راستے ہیں جن میں سے ایک آزمائشوں اور مشکلات سے بھرا پڑا ہے اور دوسرا راستہ وہی ہے جس پر چل کر آج تک ہم نے صرف دھوکہ کھایا ہے ۔ ایک منہج فی سبیل اللہ اور صرف فی سبیل اللہ کا ہے جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مشکلات کے طوفان کا سامنا کرنا ہے ۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر کئی عظیم مجاہدین کئی کئی دن تک فاقہ کشی کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے ۔

یہ وہ راستہ ہے جس پر جما دینی والی سردیوں میں مجاہدین کے سروں پر چھت نہیں ہوتی تھی اور زمین میں کھودی سرنگوں میں برف کا پگھلا پانی انہیں سونے نہیں دیتا تھا ۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں کہ زمین کے سینے پر مجاہدینِ اسلام کی ایک دوسرے کے سوا ہمت افزائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا اور سنسان راستوں اور بیابانوں میں اکیلے سفر پر بھی اللہ تعالیٰ کی حمد زبان پر جاری ہوتی تھی ۔ یہ عبادت کا راستہ ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے رزاق اور رحیم ہونے کی گواہی کا راستہ ہے ۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر معرکہ آرا ہونے کا راستہ ہے ۔ یہ جہاد کو سازشوں سے بچانے کا راستہ ہے ۔ یہ امت کو آگاہ کرنے کا راستہ ہے ۔ یہ اپنی ہستی کو شریعت یا شہادت کی خاطر مٹانے کا راستہ ہے ۔

کشمیر میں کمر بستہ ہر ایک مجاہد کو اس بات کا عزم کرنا ہوگا کہ اس کے جہاد کا مقصد مشرک ہندوؤں کو شکست دے کر کشمیر میں اللہ کے عطا کردہ نظام کو قائم کرنا ہے ۔ ہر ایک مجاہد اور ہر ایک فرد کو یہ عزم کرنا ہوگا کہ وہ اس جنگ میں اللہ والوں کو اپنا دوست بنانا چاہتا ہے اور ان کو اپنا دشمن جانتا ہے جنہوں نے عافیہ صدیقی کو بیچ ڈالا اور جو لال مسجد پر حملہ آور ہوئے اور جنہوں نے جامعہ حفصہ میں معصوم خون کو کفار کی خاطر نیلام کردیا ۔

ان دو راستوں اور فیصلوں میں سے ایک ہی راستہ اور ایک ہی فیصلہ فلاح و نصرت کا ہے اور دوسرا لاچارگی اور ذلت کا ہے ۔ ایک راستہ وہ ہے جو خلیل اللہ نے چنا جب وہ آتش نمرود میں کود گئے اور کلیم اللہ نے چنا جب انہوں نے فرعون کے خدا ہونے کے دعوے سے انکار کیا اور دوسرا راستہ اس دور کے کفر اور باطل کے سردار کے سامنے جھکنے کا راستہ ہے ۔ دوسرا راستہ ہزار سال کی غلامی کا ہے ۔ یہ دوسرا راستہ جہاد کے ثمرات کو ضائع کرنے کا ہے ۔ یہ دوسرا راستہ مجاہدین کے خون سے سودا کرنے کا راستہ ہے ۔ یہ دوسرا راستہ ذلت کا راستہ ہے ۔

اس دوسرے راستہ پر چل کر کشمیر کا جہاد کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ہے کیوں کہ اس دوسرے راستہ کی بنیاد اور اس کی منزل محض جرنیلوں کا مفاد ہے ۔ یہ جرنیل اپنے مفاد کی خاطر حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں اور اپنے مفاد کی خاطر کافر کو دوست اور مومن کو دشمن قرار دیتے ہیں۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ کشمیر میں مصروفِ عمل عظیم مجاہدین اس جہاد کی حفاظت کریں اور کشمیر سے باہر مجاہدین اس جہاد کی مدد کریں ۔ اس محاذ کو زبان سے نکلے الفاظ سے لے کر اسلحے تک سب چیزوں کی ضرورت ہے ۔ اس جہاد کو آپ کی جانوں کی اور آپ کے مال کی اور آپ کی زبانوں کی اور آپ کے خون کی اور آپ کے پسینے کی ضرورت ہے ۔

شریعت یا شہادت کے اس چراغ کو بہت مشکلوں سے بچایا گیا ہے ۔ اس چراغ کو بجھانے کے لیے کئی طوفان کھڑے کیے گئے لیکن اس چراغ کی روشنی نے کئی مسافروں کو راستہ دکھایا ہے اور کئی شہدا نے اس چراغ کو اپنے خون سے زندہ رکھا ہے ۔

اس لیے اس چراغ کی حفاظت کرنا کشمیر میں جہاد کی حفاظت کرنا ہے ۔ اس چراغ سے محبت رکھنا اس جہاد سے محبت رکھنے کے مترادف ہے ۔ اس چراغ کی روشنی آنے والے قافلوں کو راستہ دکھائے گی ۔ اس چراغ کو بھجنے نا دیں ورنہ کشمیر کا جہاد پھر ایک بار سازشوں میں گم ہوجائےگا ۔

٭٭٭٭٭


1 گوسلو پالیسی عین جہادی پالیسی بھی ہو سکتی ہے۔ جہاد کا مطلب ہر جگہ سرعت دکھانا، محض قتال کے میدان گرم کرنا، خون بہانا ، نری جذباتیت سے مغلوب ہو کر عقل و ہوش چھوڑ کر جہد کھپانا نہیں ہے۔ یہ جہاد کہیں ’گو سلو‘ کا متقاضی ہوتا ہے اور کہیں ’گوفاسٹ‘ کا۔ جہادِ کشمیر میں ’گوسلو‘ کی جرنیلی پالیسی کا مقصد استحکام و تدبیرِ جہاد نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جہادِ کشمیر کو ایک پراکسی وار بنانا اور امتِ مسلمہ، خاص کر کشمیر میں شریعت یا شہادت کی بنیاد پر بیدار ہونے والی شریعت پر عامل، کشمیری و پاکستانی عوام کی حمایت یافتہ تحریک کو ناکام بنانا ہے۔

Exit mobile version