ہم سبھی تجھ ؐپر فدا ہوں!

۲۹ جولائی ۲۰۲۰ء کو چشم ِ فلک نے ایک بار پھر وہ ایمانی منظر دیکھا کہ جب غیرتِ ایمانی اور عشقِ رسالت میں ڈوبے ایک نوجوان نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر ،جرأت و بہادری کے ساتھ کمرۂ عدالت کے اندر نبوت کے ایک جھوٹے و مکار دعوے دار کو قتل کر ڈالا۔غازی خالد کے اس کارنامے نے پوری امتِ مسلمہ کا اور بالخصوص مسلمانانِ پاکستان کا سر فخرسے بلند کردیا ہے اور حضور اکرم ﷺ کے اور آپ کے دین کے ہر دشمن کو یہ سبق دیا ہے کہ امتِ مسلمہ ابھی بھی ایک زندہ امت ہے ،اپنے نبی کی حرمت پر کٹ مرنے والی اور ان کی ناموس پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے والی امت ہے۔

برصغیر میں بسنے والے میرے محبوب مسلمان بھائیو!ایک مسلمان کی سب سے قیمتی متاع اس کی اپنے نبی ﷺ سے والہانہ محبت و عشق ہے ۔اپنے عظیم نبی ﷺ سے عشق و وفا اوراپنی جان سمیت دنیا کی ہر چیز پر آقا مدنی ﷺ کی ذات کوترجیح دینا ہی حقیقی ایمان ہے اور اس کے بغیر تو ایمان کا کوئی تصور ہی نہیں ہوسکتا ۔

سرور کائنات ﷺ کا ارشادگرامی ہے کہ:

’’لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِين.‘‘

آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد ،ماں باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔

رسولِ عربی ﷺ سے محبت و عشق ایمان کی کسوٹی اور جنت کی کنجی ہے ۔اس کے بغیر کسی کا بھی دعوائے ایمان معتبر نہیں ہوسکتا۔ محبت کی بڑی اور نمایاں علامت محبوب کی ہر ممکن مدد و نصرت کرنا ہوتی ہے ،اپنے محبوب کو ہر تکلیف سے بچانا ،ہر اذیت سے محفوظ رکھنااور ہر دشمن کے مقابلے میں اس کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ہمارے نبی ِ پاک ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اتنی اجلی اور اتنی عظیم ہے کہ ان کی شان میں گستاخی کرنے سے آپ کی اعلیٰ شان میں تو کوئی کمی نہیں آسکتی مگر یہ عمل مسلمانوں کے لیے ایک امتحان بن جاتا ہے کہ کون ہو جو کہ اٹھے اور اس گستاخ کی پلید زبان کو کاٹ ڈالےاور اس ملعون کے وجود سے اس ارض کو پاک کردے اور پھر اس اعزاز کے ساتھ کل روزِ قیامت اپنے محبوب ﷺ کی قدم بوسی کرے کہ وہ ان کے دفاع کی خاطر خطرات میں کودا تھا۔

الغرض اس دفعہ یہ قرعہ ہمارے بھائی غازی خالد خان کے نام نکلا اور اس نے طاہر نسیم نامی ایک ایسے گستاخ کا کام تمام کر ڈالا کہ جو کہ ناصرف یہ کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا دشمن تھا بلکہ شیطانی خیالات کا اسیر ہو کر نبوت کا جھوٹا دعوے دار بھی تھا۔

غازی خالد کے واقعے نے یہ ثابت کردیا کہ بے دینی کو ترویج دینے کے لیے عالمی قوتوں اور ان کے مقامی آلۂ کاروں کی پالیسیوں کے باوجود مسلمانانِ پاکستان کی دینی و ملی حمیت زندہ ہے۔یہ دشمنان ِ دین کفرو کافری کے جتنے بھی منصوبے بناتے رہیں اہلِ پاکستان اسلام اور دین کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتے۔ایک عام مسلمان کی محبت و عشق کا محور ڈالر یا دنیاوی چکاچوند نہیں بلکہ آقا مدنی ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے ۔ہر مسلمان ِ پاکستان گنبدِ خضراء سے اٹھنے والی اس صدا کو دل کے کانوں سے سنتا ہے اور اس پر لبیک کہتا ہے کہ من لی بھذا الخبیث؟ کہ کون ہے کہ جو مجھے اس خبیث تکلیف پہچانے والے سے نجات دلائے گا ؟! دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دین دشمنی کے تمام حربے یہ نظام آزما چکاہے مگر پھر بھی دین کے لیے ،اپنے نبی ﷺ کے لیے اپنی جان فدا کرنے کے جذبے کو اہلِ ایمان کے دلوں سے نہیں نکال سکا۔

غازی خالد نے گستاخ کو قتل کرکے کیا خوب کہا کہ یہ شخص نبی ﷺ کا دشمن تھا، یہ پاکستان کا دشمن تھا۔جی ہاں پاکستان کا دشمن تھا ۔اس پاکستان کی بنیاد میں اسلام کی محبت ، سرورِ کائنات کی محبت شامل ہے ۔پس جو کوئی بھی پاکستانی معاشرے سے اسلام کو مٹانا چاہے ،بے دینی کو ترویج دینا چاہے،رواداری کے نام پر حضور ﷺ کی ذات پاک کی تنقیص کرنے کی اجازت دینا چاہے پس وہ دراصل نبی پاک ﷺ کا دشمن ہے ،پاکستان کا دشمن ہے، اس مملکت کی بنیاد کا دشمن ہے،چاہے وہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے ۔

پس میرے محبوب مسلمان بھائیو !

رسول اللہﷺ کی یہ محبت ہم اپنے دلوں میں بسائیں ، اسے قوی سے قوی تر رکھیں اور اس کی خاطر کٹ مرنے کے لیے ہر لمحہ تیار رہیں ۔کسی گستاخ کو ،کسی نام نہاد دانشور یا مفکر کو کسی سیاسی یا عسکری شخصیت کو کبھی یہ جرأت نہ ہونے پائے کہ وہ محسنِ انسانیت ﷺ کی ذات ِمبارکہ کی طرف کسی میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ پھر محترم بھائیو!اس محبت کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم شعوری طور پر سرورِ کائنات ﷺ کی غلامی قبول کریں، زندگی کے ہر ہر گوشے اور ہرہر عمل میں سیرت ِ رسول ﷺ کو ہی اپنے لیے نمونۂ عمل بنائیں، اس کی اتباع کریں اورجس طرح آپ ﷺ نے اس دین کو غالب کرنے کے لیے اپنا سب کچھ لٹایا، باطل کے خلاف ہرہر میدان میں کھڑے رہے ، اسی طرح ہم بھی دینِ محمدی ﷺ کی نصرت کے لیے کمر بستہ ہوجائیں اور چہار سو باطل کا یہ غلبہ کسی بھی حال میں برداشت نہ کریں۔ایسا ہم نے کیا تو یہی کامیابی ہے اور یہی دنیا و آخرت کی سرخروئی ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

وصلی اللہ تعالی علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم

Exit mobile version