خیالات کا ماہنامچہ | ستمبر ۲۰۲۰

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:ستمبر ۲۰۲۰ء

اللہ کا نہایت فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے عبادت گزاروں میں شامل فرما کر سنتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیرو بنایا۔ اللہ پاک ہمیں تا دمِ آخریں اس دین کا پیرو کار بنائے رکھے، جس پر چلنے والوں کے لیے اس نے اپنی رضا و خوشی کا اعلان کر دیا ہے، آمین یا ربّ العالمین!

مسئلہ القاعدہ کے فنا یا بقا کا نہیں!


امریکی، بھارتی اور پاکستانی حکومت، انٹیلی جنس اور فوج شاید یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ کو دنیا سے فنا کر کے ان کے لیے کچھ سامانِ راحت و چین ہو جائے گا اور القاعدہ کی بقا ان کے لیے خوف و موت کا سبب ہے۔ یہ خیال باطل ہے، بلکہ یہ امریکی اور ان کے باقی دم چھلے اگر غور کریں تو وہ خود بھی اس حقیقت کو جانتے ہیں۔

یہود کا خیال تھا کہ وہ انبیا کو قتل کرکے من مانی موت و حیات اور عیش و آرام حاصل کر لیں گے۔ چودہ صدیاں پیش تر کچھ اہلِ کفر و نفاق نے رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے بنائے۔ صحابہؓ کی نسلِ بہترین اس دنیا نے دیکھی، لیکن صحابہ کے بعد بھی یہ دین قائم رہا اور اہلِ کفر و نفاق کے گلے میں ’جہاد‘ کی ہڈی پھنسی رہی۔ تابعین آئے، تبع تابعین آئے، امویوں نے جہاد کیا، عباسیوں نے جہاد کیا، عثمانیوں نے نصف یورپ تک علمِ اسلام گاڑ دیا، مرابطین نے صحرائے اعظم کو اپنے سجدوں سے عزت بخشی، بر صغیر میں غزنویوں، غوریوں، مغلوں، غلاموں وغیرہ نے جہاد کیا۔ سید احمد شہیدؒ کی تحریک یہاں اٹھی اور بظاہر ختم ہوئی۔

پچھلی چودہ صدیوں بلکہ اس دنیا کے قائم ہونے کے روز سے آج تک کے صرف ایام گنے جائیں تو دن کم ہیں اور مجاہدین زیادہ پیدا ہوئے ہیں۔

آج مجاہدین کے ایک گروہ کا نام القاعدہ ہے۔ یہ رہے یا نہ رہے۔ اسلام باقی رہا ہے اور رہے گا۔ امریکی القاعدہ کو ختم کرنے کی سوچتے رہیں، کل کوئی اور کسی اور نئے نام و عنوان سے ہو گا، لیکن امریکہ اور اس کے دم چھلوں کا مستقل وجود تو ہے ہی نا ممکن، عارضی وجود تک نہ ہو گا!

امریکی ’جمہوروں‘ کی منافقت


کہنے کو امریکہ میں کئی سیاسی پارٹیاں ہیں لیکن اصل میں دو پارٹیاں ہی مستقل اقتدار میں رہتی ہیں، کبھی ہم کبھی تم۔ امریکہ میں الیکشن سر پر پہنچ چکے ہیں۔ رپبلکن پارٹی کا سر چڑھا بدمعاش ٹرمپ ملکی سطح اور امریکہ میں لوکل سطح پر بہت سی مشکلات کا شکار ہے اور امریکی روایت یا اصول کے تحت دوسری باری کے لیے رپبلکن کی طرف سے صدارت کا امیدوار ہے۔ اس کے مقابلے میں ہے ’جو بائیڈن‘، جو کہ ڈیموکریٹ ہے اور اوبامہ کے زمانے میں نائب صدر رہ چکا ہے۔

ٹرمپ بہت سے امور میں امریکہ میں اندرونی طور پر بھی ناکام رہا اور کئی امور میں انتہا پسندانہ سوچ رکھتا ہے۔ انہی میں سے ایک مسئلہ سفید فام نسل پرستی، جو ٹرمپ کے زمانے میں امریکہ کی جدید تاریخ میں عروج پر پہنچی اور ’Black Lives Matter‘ یعنی سیاہ فاموں کو بھی جینے کا حق ہے کی تحریک ہے۔ دوسرا امر ہے ٹرمپ کی ’اینٹی مسلم پالیسی‘، یہ پالیسی یوں تو پوری دنیا میں وجود رکھتی ہے، لیکن امریکہ میں اس کا ایک مظہر مسلمان پناہ گزینوں پر اور مسلمان شہریوں پر مختلف قسم کی پابندیاں ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے اقتدار سے پہلے اور بعد میں انڈیا کی بہت طرف داری کی؛ انتخاب سے پہلے ٹرمپ کے امریکی ہندوستانیوں کو اپنی جانب مائل کرتے نعرے ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ سے لے کر مودی کے لیے امریکہ میں ’ہاؤڈی مودی‘ اور ٹرمپ کے لیے انڈیا میں ’نمستے ٹرمپ‘ بھی ایک سیاسی چال ہے۔

جو بائیڈن نے سیاسی پتہ کھیلتے ہوئے اپنی نیابت کے لیے ایک سیاہ فام امریکی عورت ’کمالا ہیرس (Kamala Harris)‘ کو منتخب کیا جو کہ ایک جمائکن (افریقی ملک) کالے امریکی باپ اور ایک ہندوستانی امریکی (براؤن یا بھوری رنگت والی) ماں کی بیٹی ہے۔ کمالا ہیرس کے انتخاب سے ’Black Lives Matter‘ کی تحریک کی بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور ٹرمپ کے انڈین حربے کا توڑ بھی۔ حالانکہ کمالا ہیرس وہ امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر ہے جو ماضی قریب میں جو بائیڈن کی شدید ترین مخالف رہی ہے۔ لیکن جو بائیڈن کو امریکی صدر بننا ہے اور کمالا کو نائب صدر اس لیے یہاں ’سب چلتا ہے‘!

جو بائیڈن نے منافقت کی انتہا تو یہ کی کہ مسلمانوں کو اپنی جانب مبذول کروانے کے لیے ایک عجیب چال چلی۔ بائیڈن کی ایک ویڈیو ہے جس میں وہ کہتا ہے(قاتلہ اللہ):

’’جیسا کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہدایت کی ہے، ’تم میں سے جو بھی برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے روکے؍ تبدیل کرے، اگر استطاعت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کو برا کہے، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو اپنے دل سے اس کو برا جانے‘۔ اگر مجھے آپ کا صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تو میں ’مسلم بین‘ (مسلمانوں پر پابندی)کو کو اقتدار کے پہلے دن ہی ختم کر دوں گا!‘‘

سبحان اللہ، رُویبضہ، یعنی وہ جاہل لوگ جو عوام کے مسائل پر گفتگو کریں، نام نہاد مسلمان ہو کر تو ایک طرف، اب تو قیامت کی وہ نشانیاں پوری ہو رہی ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا دشمن جو بائیڈن اب آپؐ ہی کا فرمان نقل کر رہا ہے، ٹرمپ پر غلبہ پانے کے لیے!

جہاد کا ’اعلان‘


جہاد کا ’اعلان‘ یا ’نفیر‘ یقیناً ایک شرعی امر ہے لیکن فقہائے عظام نے واضح لکھا ہے کہ ’اعلانِ‘ جہاد وہ واحد امر نہیں ہے جس سے جہاد فرض ہوتا ہے، بلکہ فرضیتِ جہاد کی بہت سی صورتوں میں سے ایک ہے۔

کسی کے گھر پر ڈاکو حملہ آور ہو جائیں اور گھر کے افراد ایک مظاہرہ کریں اور سربراہِ خانہ سے مطالبہ کریں کہ وہ ڈاکوؤں کے خلاف مقابلے (یا جہاد) کا اعلان کرے تا کہ ہم ڈاکوؤں کے خلاف لڑ کر سکیں، کیسی احمقانہ بات ہے؟! کسی تھوڑے سے فہم و فکر والے سے بھی پوچھیں بلکہ حیوانات بھی اگر نطق رکھتے ہوں تو وہ بتائیں کہ صاب! ایسے وقت میں حکم وُکم نہیں پوچھا جاتا، دفاع کیا جاتا ہے!

ایک تو یہ صورت تھی، دوسری صورت اور بھی عجیب ہے کہ سربراہِ خانہ خود ہی دو نمبر آدمی ہو اور ڈاکوؤں سے ساز باز رکھتا ہو اور ڈاکوؤں کے حملے اور قبضے کو عین ’قانونی‘ بتاتا ہو اور ایسے سربراہِ خانہ سے توقع کی جائے کہ وہ ان ڈاکوؤں کے خلاف ’اعلانِ ‘جہاد کرے۔

پچھلے ماہ جب پاکستان بھر میں ’یومِ استحصالِ کشمیر‘ ملکی سطح پر ’منایا‘ جا رہا تھا تو بعض حضرات نے حکومتِ وقت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر آزاد کروانے کے لیے ’اعلانِ‘ جہاد کرے۔ کسی اللہ والے کا قول یاد آ رہا ہے کہ ’ان سے مطالبۂ اعلانِ جہاد ہو رہا ہے جن کےخلاف جہاد بجائے خود فرض ہے!‘۔

متحدہ عرب امارات – اسرائیل معاہدہ


کسی نے ڈیڑھ دہائی قبل لکھا تھا کہ امتِ مسلمہ کے لیے مسئلہ ایک اسرائیل کا نہیں بلکہ ان ’ستّاون‘ اسرائیلوں کا ہے جو ’اسلامی ممالک‘ کہلاتے ہیں1۔

انہی اسرائیلوں میں سے ایک، متحدہ عرب امارات بھی ہے۔ امارات کے اسرائیل سے بڑھتے تعلقات پچھلی ایک دہائی میں سب کے سامنے ہیں اور پچھلے چھ ماہ میں اس ضمن میں جتنی ’ترقی‘ ہوئی ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے۔ یوں تو اماراتی پالیسی شروع دن سے ’سب سے بڑا رُپیہ‘ رہی ہے اور کوئی بھی سرمایہ کاری کر کے امارات کو خرید سکتا ہے، لیکن اماراتی پالیسی کی ’محبت‘ امریکہ و اسرائیل کی جانب ہمیشہ ہر کسی سے زیادہ متوجہ رہی ہے۔

آخر کار امارات نے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا ہے۔ مختصراً اس معاہدے کے نتائج میں سفارت کاری کا آغاز، تجارت اور دیگر تعلقات ہوں گے، باقی سیاحت اور ہوائی آمد و رفت تو ابھی سے شروع ہو گئی ہے۔ آئندہ دفاعی معاہدات بھی ہوں گے جو اب تک خفیہ حیثیت رکھتے تھے۔

اس معاہدے کا اعلان ڈانلڈ ٹرمپ نے کیا اور اماراتی ’شِکرے‘ محمد بن زاید اور اسرائیلی ’لومڑ-بھیڑیے‘ نیتن یاہو نے اس کی تصدیق۔

ساری دنیا کے تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدے میں کوئی حیرت کی بات نہیں یہ ہونا ہی تھا اور ہمیں بھی اس سے صد فیصد اتفاق ہے۔ کوئی کشتی اگر سمندر کے بیچ ٹوٹ جائے اور پھر بھنور میں پھنس جائے تو اس کے ڈوبنے اور اس کے سواروں کے ڈوب مرنے کی خبر سن کر کسی کو تعجب نہیں ہوتا۔

لیکن افسوس ان پست ذہنوں پر ہے جو یہ خوشیاں منا رہے ہیں کہ اب اماراتی ہوائی جہاز ابو ظہبی سے اڑ کر ’لِد‘ ائیر پورٹ (اسرائیل) پر اتریں گے اور وہاں سے حرمِ ثالث یعنی مسجدِ اقصیٰ کی زیارت کے لیے جایا جا سکے گا اور وہاں نماز پڑھی جا سکے گی ؛ جہاں ایک نماز کا اجر پچیس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔

؏کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر!

کچھ ذکر عرب امارات پر قابض خائن و غدار ٹولے کے جھوٹ کا۔ محمد بن زاید نے کہا تھا کہ ہمارا اسرائیل سے معاہدہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل مغربی کنارے کی عرب آبادیوں پر مزید قبضہ نہیں کرے گا یعنی یہودی آبادی کی توسیع نہیں کرے گا۔

بعداً معلوم ہوا کہ یہ صرف منہ کا جھاگ تھا۔ اصلی روپ دکھاتے ہوئے اماراتی معاون وزیر برائے امورِ خارجہ، ثقافت اور عوامی سفارت کاری ’عمر غباش‘ نے برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ بھی پتھر پر لکیر کے مترادف نہیں‘۔ مزید کہا کہ اس معاہدے کے ساتھ کچھ بھی مشروط نہیں بلکہ یہ معاہدہ کچھ ’افہام و تفہیم‘ کا نتیجہ تھا۔ جب عمر غباش سے پوچھا گیا کہ بعض فلسطینیوں اور فلسطینی تنظیموں نے اس معاہدے کو رد کر دیا ہے اور اس کو فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مساوی قرار دیا ہے تو عمر غباش اور امارات کا اصلی چہرہ مزید ’نکھر‘ کر سامنے آیا اور اس نے کہا ’ متحدہ عرب امارات ایک خودمختار ریاست ہے، فلسطینیوں کے لیے کوئی ’’تحفہ‘‘ نہیں ہے کہ فلسطینی ہمیں بتائیں کہ ہمیں اسرائیل سے کس قسم کے تعلقات رکھنے چاہیں اور کس قسم کے نہیں ‘۔

اماراتی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے کے لیے win-win کی صورتِ حال ہے اور یہ معاہدہ ایک ’امید کی کرن‘ ہے۔

موٹروے ریپ کیس


اس قسم کے واقعات کے متعلق راقم نے سوچ رکھا ہے کہ ان کے متعلق لکھنے سے گریز کرے گا کہ ان پر لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن موٹروے ریپ کیس اتنا مشہور ہو چکا ہے اور اس پر اتنی حکومتی مشینری حرکت میں ہے کہ اس پر تبصرہ کرنا لازم ہو گیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ لاہور کی ایک عورت اپنے بچوں سمیت رات گئے بارہ بجے سے کچھ قبل عازمِ سفر ہوئی۔ گاڑی چلاتے ہوئے لاہور میں رنگ روڈ سے اتر کر موٹر وے سے متصل جنگل کے قریب رات کو ساڑھے بارہ بجے اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا، رات تین بجے وہیں پر دو بد باطن آئے اور انہوں نے گاڑی کے شیشے توڑے، دروازہ کھولا اور پھر اس عورت کو نکال کر جنگل میں لے گئے اور اس کے بچوں کے سامنے ان غنڈوں نے اس عورت کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

یقیناً یہ غنڈے قابلِ سزا ہیں، بلکہ اگر اسلامی شریعت نافذ ہو تو ان غنڈوں کو فساد فی الارض مچانے پر قتل کیا جا سکتا ہے، ورنہ اگر شادی شدہ زانی ہوں گے تو کم از کم بھی سنگسار کیے جائیں گے ۔

لیکن صورت حال کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان ظالموں فاجروں کے علاوہ یہ خاتون بھی قصور وار ہے کہ رات کو بارہ بجے یہ گھر سے عازمِ سفر ہوتی ہے اور پھر ویران سڑک پر چند کلومیٹر چلنے کے بعد اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو جاتا ہے اور یہ وہیں انتظار کرتی رہتی ہے اور رات تین بجے یہ زیادتی کا نشانہ بنتی ہے۔ یہ گاڑی کو لاک لگا کر اس جگہ سے اگر پیدل بھی چلتی تو تین بجے تک بہت آرام سے کسی قریبی بستی میں بلکہ شاید اپنے گھر بھی پہنچ جاتی۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق اور بعض ٹی وی چینلوں پر چلائے جانے والے مناظر کے مطابق سڑک کے ایک طرف جنگل تھا جب کہ دوسری طرف ایک گاؤں تھا۔

میری اسی بات سے ملتی جلتی بات سی سی پی او لاہور نے بھی کی، جس پر ساری دنیا میں شور و غوغا مچ گیا کہ عورت کے خلاف بات کر دی۔ واضح رہے کہ مجھے سی سی پی او لاہور سے کوئی ہمدردی نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’لا تسافر المرأۃ إلا مع ذي محرم.‘‘2

’’کوئی بھی عورت کسی محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

یہ فرمانِ رسول اس پاکیزہ معاشرے میں ارشاد فرمایا گیا جہاں برائی کا تصور بھی موجود نہ تھا اور یہاں دیکھیے کہ یہ عورت شہر سے باہر، آج کے معاشرے میں بنا محرم جا رہی تھی۔ مزید یہ کہ فور جی فائیو جی انٹرنیٹ کے زمانے میں اس کا کسی سے رابطہ بھی نہ ہوا یا ایک روایت کے مطابق ’کزن‘ کو فون کیا تو وہ بھی نہ آیا، تین گھنٹے میں تو سست ترین پنجاب پولیس بھی آ جاتی ہے اور اگر جھوٹ ہی بول کر 1122 کو فون کرتی تو وہی آ جاتے، ہاں البتہ موٹر وے پولیس کا رویہ یقیناً قابلِ افسوس ہے کہ وہ اپنے ’پروفیشنل ازم‘ میں اس عورت کو کوئی مدد نہ فراہم کر سکے۔

اس واقعے کے بعد پورے پاکستان کی حکومت و پولیس ایسی مستعد ہو کر ان دو مجرمین کو تلاش کر رہی ہے (یا شاید جب یہ تبصرہ شائع ہو تو تلاش کر چکی ہو )جیسے ملک میں باقی سب اچھا تھا اور ہے، بس یہی ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وزیرِ اعظم کے ہارورڈ کے پروفیسر مشیر شہباز گِل سے لے کر لاہور کے ادنیٰ سپاہی اور پرانے معاشروں کی طرز پر کھوجیوں تک کو اس کام پر لگا دیا گیا ہے۔

یقیناً اسلامی حکومت ہو تو وہ بھی یہی کرے۔ لیکن جو حکومت شریعت کی باغی بلکہ شریعت کی دشمن ہو اور جس حکومت کے نظامِ کفر نافذ کرنے کے سبب اور فحاشی و عریانی کو فروغ دینے کے سبب یہ واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ ایسا کرے تو یقیناً حیرت کی بات ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ ’حقوقِ نسواں‘ اور ’عورت کی آزادی‘ کی علم بردار بڑی بڑی عینکیں لگانے اور موم بتیاں جلانے والی بعض عورتیں، جن کا نہ کوئی خاندان ہے اور نہ کسی قسم کی قدرِ ملی و دینی سے ان کو تعلق ہے، بلکہ جن کی پہچان ’عورت مارچ‘ ہے، ان کو بھی یکایک یاد آ گیا اور انہی میں سے ایک عورت وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ ’کیا کوئی بہو بیٹی اب پاکستان میں باہر بھی نہیں نکل سکتی؟‘۔ ان بے عقل، بلکہ بد عقل عورتوں کو اب یہ بہو بیٹی ہونا یاد آ رہا ہے جب ان کی عزت بالجبر لوٹی گئی ہے، ورنہ ان کے عورت مارچ تو دراصل بالرضا عزت لٹوانے ہی کا مطالبہ ہیں۔ یہ تو وہ عورتیں ہیں جن کا نعرہ ’پدر شاہی‘ کا خاتمہ ہے اور پدرِ شفیق ہو تو کوئی کسی کی بیٹی ہوتی ہے اور کوئی کسی کی بہو۔

ان موضوعات پر ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ اس کا حل صرف اور صرف دین کی طرف ذاتی و اجتماعی زندگی میں لوٹنا ہے اور بس!

ایک عورت کی عزت کا یوں لٹ جانا یقیناً لائقِ مواخذہ ہے، لیکن جو لوگ آج یہ موقف پیش کرتے نظر آ رہے ہیں کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’تحفظ فراہم نہ کرنے کے سبب مجرم ہیں‘ وہ اس حقیقت کا کلیتاً انکار کر رہے ہیں کہ بہر حال عورت کے اپنے اوپر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنی جان اور عزت کو خطرے میں نہ ڈالے ۔

انسانوں کی معاشرت ایک پورا نظام ہے، نظام میں جہاں حقوق ہوتے ہیں وہیں واجبات بھی ہوتے ہیں۔ ایک عادلانہ نظام (جو سوائے اسلام کے کسی اور دین و معاشرے کے پاس نہیں) اگر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ آپ کے ایمان و عزت ، جان و مال اور دیگر حقوق کی حفاظت کی جائے گی تو کچھ امور آپ پر بھی فرض کرتا ہے۔

اللہ نے عورت کو خاص پیمانۂ عقل کے ساتھ خاص جسمانی ساخت دے کر دنیا میں اتارا اور اس کے عقل و جسم کے مطابق ہی اس پر معاشرت کا بوجھ بھی ڈالا۔ اسی واقعے میں دیکھیے کہ وہ عورت جو فطری طور پر اتنی ’غافل‘ ہے کہ جب گاڑی سٹارٹ کرتی ہے تو اس کو یہ خبر نہیں ہو پاتی کہ گاڑی میں ایندھن کم ہے (حالانکہ گاڑی نہایت جدید ماڈل کی تھی اور جدید ماڈل کی گاڑیاں ایندھن ختم ہونے سے کافی پہلے سے ہی انتباہی سائرن بجانے اور بتیاں جلانے لگتی ہیں)۔ جب فہم کا عالَم یہ ہے تو رات گئے سفر کرنا اور وہ بھی بنا کسی محرم کے کتنی نادانی کی بات ہے؟!

باقی کسی کو اجازت نہیں کہ وہ راقم کے درج بالا جملوں سے یہ تاثر حاصل کرے کہ ہم عورتوں کے حقوق کے خلاف ہیں یا خدانخواستہ اس واقعے پر خوش ہیں، بلکہ اللہ گواہ ہے کہ ہم تو ان عورتوں کو بھی ان کا حقِ عصمت و عفت لوٹانا چاہتے ہیں جو عورت مارچ کی منڈیوں میں بہکا کر اور ورغلا کر ہانک لائی گئی ہیں اور ان درندے مردوں کو سولی پر لٹکانا اپنا فرض جانتے ہیں جو ایسے فساد فی الارض کے جرائم کے مرتکب ہیں۔ لیکن اس بات کی وضاحت ایک بار پھر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ انسانیت کی دنیوی و اخروی فلاح پورے نظام کی تبدیلی میں ہے، یعنی نظامِ اسلامی کے قیام میں اور پارلیمنٹ کو مجلسِ شوریٰ، قومی ریاست کو ریاستِ مدینہ اور انگریزی خطوط پر مرتب کیے قانون کو اسلامی آئین کہہ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا!

کراچی کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں!


پاکستان میں اپوزیشن اور حکومت کا ڈرامہ دہائیوں سے چل رہا ہے اور اس نظام کے فنا ہونے تک چلتا رہے گا۔

اسی ڈرامے کا ایک سین آج کل کے کراچی کے خصوصی مسائل ہیں۔ ہمارے خاندان کی ایک بزرگ اور نہایت نیک خاتون کہا کرتی تھیں(اللہ ان کی زندگی میں برکت دے، آمین) کہ ’کراچی کو سوچی سمجھی سازش کے تحت بگاڑا گیا ہے‘اور اس بات میں کوئی شک بھی نہیں۔ کراچی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ جاپان سونامی روکنے کے لیے پہاڑوں سے بڑی دیواریں ساحل پر بنا رہا ہے اور کراچی چند بوند بارش سے ڈوب جاتا ہے۔

حکومت یعنی عمران خاں کی ناکامی تو عیاں ہے ہی، پہلے پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے کون سا تیر مار لیا تھا۔ اس وقت بھی عمران خاں کی نا اہلی پر جب شاہد خاقان عباسی سے پوچھا گیا کہ اگر آج آپ وزیرِ اعظم ہوتے تو کیا کرتے؟

فرمایا ’میں ریونیو جنریٹ کرتا، پیسہ زیادہ بنا کر فنڈز allocate کرتا‘۔

اس میں شک نہیں کہ ’زر بھی ہے قاضی الحاجات‘، لیکن ’زر بھی ہے‘ نہ کہ ’زر ہی ہے‘۔ اصل وجہ تو دین سے دوری ہے کہ اللہ پاک نے کیسا واضح فرما دیا:

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ؀ (سورۃ ہود: ۱۱۷)

’’ اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں پر ظلم کر کے انہیں تباہ کر دے جبکہ ان کے باشندے صحیح روش پر چل رہے ہوں۔ ‘‘

اور فرمایا:

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَلَـكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ؀ (سورۃ الاعراف: ۹۶)

’’ اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، اس لیے ان کی مسلسل بدعملی کی پاداش میں ہم نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا۔ ‘‘

یہ روشِ ظلم و تعدی، یہ انکارِ شریعت، یہ کفر کا نفاذ ہے جس پر پی پی سے نون اور نون سے عمران خاں اور اس کو ’سلیکٹ ‘کرنے والے گامزن ہیں جس کا یہ سب نتیجہ ہے۔ نتیجہ کیا ہے، کہ ان کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ بجلی کی کمی ہے تو حل نہیں، بے روزگاری ہے تو حل نہیں، سیلابوں کا حل نہیں، کرپشن کا حل نہیں، بھوک اور بیماری کا حل نہیں!

سعد الجبری کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟


سعد الجبری سعودی انٹیلی جنس کا نہایت سینئر اہلکار ہے، بلکہ اہلکار تو چھوٹی چیز ہے، یہ قریباً سربراہ لیول کا آدمی تھا۔ بس محمد بن سلمان سے کھٹ پٹ ہوئی اور آج اس کے بچے قید میں ہیں جبکہ وہ خود کینیڈا میں بیٹھا اور اس کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی بالکل اسی طرح جس طرح جمال خاشقجی کو پھنسایا گیا اور مارا گیا، لیکن یہ خود انٹیلی جنس کا آدمی تھا سو دامِ فریب میں پھنسنے سے بچ گیا۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ سعد الجبری، یمن میں مجاہدین کے خلاف اور شریعت کے خلاف جنگ میں ، سابقاً امریکی و سعودی اتحاد کا مہرہ رہا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’جو کسی ظالم کی ظلم میں اعانت کرتا ہے تو بعداً اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس اعانت کرنے والے پر بھی مسلط فرما دیتے ہیں‘۔ بس سعد الجبری کے ساتھ یہی ہو رہا ہے اور وہ اب بھی رجوع الی اللہ کے بجائے رجوع الی امریکہ پر عامل ہے۔ کیسی ناکامی ہے یہ، اعاذنا اللہ منہ!

محمد بن سلمان ، اہلِ اسلام کے خلاف روسیوں کا بھی حامی ہے!


برطانوی اخبار ’گارڈین‘ میں چھپنے والی خبر کے مطابق، امریکیوں کے خاص آلۂ کار اور ٹرمپ و نیتن یاہو کے منظورِ نظر محمد بن سلمان نے اہلِ اسلام کے خلاف جنگ میں روس کو اس بات پر ابھارا کہ وہ شام پر حملے میں حصہ لے۔

ثابت ہوا کہ محمد بن سلمان محض امریکی خوشنودی کے لیے اسلام کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ نفسِ ’اسلام‘ کا دشمن ہے اور اس کے لیے روس تک کو ابھار رہا ہے!

گوگل آپ کے فون کو کیسے استعمال کرے گا اور اس استعمال کا مطلب کیا ہے؟


گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ زلزلے کا پتہ چلانے والاسب سے بڑا نیٹ ورک بنا رہا ہے اور وہ بھی میرے اور آپ کے موبائل فون کے ذریعے۔ اس نظام کو ’دی اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹ سسٹم (The Android Earthquake Alert System)‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ نظام اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے تمام موبائل فونوں کو ’Tremor Detector‘ یعنی لرزش یا تھر تھراہٹ محسوس کرنے والا آلہ بنا دے گا اور زلزلے کے جھٹکے بھانپنے کے ساتھ اور زلزلے کے مرکز کا تعین بھی کرے گا اور میرا اور آپ کا فون بالکل معمول کے مطابق کام کرتا رہے گا۔

اور یہ سب گوگل آپ سے پوچھے بغیر کرے گا ، بلکہ یہ مہربانی کیا کم ہے کہ اس نے آپ کو آپ کا فون خود استعمال کرتے ہوئے اطلاع دے دی ہے کہ ہم آپ کا فون استعمال کر رہے ہیں۔ یہ زلزلے کے مرکزکا تعین یقیناً ہم جانتے ہیں کہ ہماری لوکیشن استعمال کر کے کیا جائے گا۔

چلیں جہاں اتنا کچھ اور این ایس اے اور اس کے ’خادم‘؛ گوگل، فیس بک ، ایپل اور مائیکرو سافٹ کر رہے ہیں اس میں پرائیویسی کو ختم کرتا ایک اضافہ اورسہی!

کشمیر سے سنکیانگ تک ایک ہی مسئلہ ہے!


ایک بین الاقوامی میڈیا ادارے سے وابستہ صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ کو آپ کے مغربی اتحادیوں نے کشمیر کے معاملے میں ساتھ نہ دے کر مایوس نہیں کیا؟

اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اپنے معاشی مفادات کے سبب مغربی ممالک ہمارا کشمیر کے موقف پر ساتھ نہیں دے رہے کہ انڈیا اس وقت ایک بہت بڑی معاشی منڈی ہے اور وہاں معیشت کی بڑھوتری اور تجارت کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

عمران خان کا جواب بالکل ٹھیک ہے اور مغربی ممالک کا رویہ بھی بالکل درست ہے، اس لیے کہ پاکستان بھی تو اپنے سی پیک اور دیگر معاشی فائدوں کے لیے چین کے زیرِ عتاب مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کے ایغور مسلمانوں کا ساتھ نہیں دے رہا (بلکہ ان مظالم کو محض فسانہ قرار دے رہا ہے) اور بیس سال قبل پاکستان نے امارتِ اسلامیہ افغانستان پر نائن الیون کے بعد امریکی فرنٹ لائن اتحادی بن کر ڈالروں ہی کی خاطر تو امریکی حملے کی سہولت کاری کی تھی!

٭٭٭٭٭


1 ستّاون اسرائیلوں سے مراد ان اسلامی ممالک کی مسلمان عوام نہیں، بلکہ ان کے حکمران، ان کی افواج اور ان کی ریاستی پالیسیاں ہیں۔

2 صحیح بخاری

Exit mobile version