ووٹ کیا ہے؟
ووٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک رائے،شہادت اور مشورہ ہے…… اولاً ہمیں یہ رائے تسلیم کرنے میں تامل ہے ،ووٹ نہ رائے ہے،نہ شہادت اور نہ مشورہ…… ثانیاًاگر یہ سب مان بھی لیا جائے تو پچھلی تفصیل کو تسلیم کرنے کے بعد ووٹ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ووٹ دینے والا اپنی طرف سے نمائندہ بھیج رہا ہے جو کفر مطلق جمہوری نظام میں شرکت کرے، پارلیمنٹ کا ممبر بن کر شرک ،بغاوت ِ الٰہی اور ظلم و تعدی کا مرتکب ہو۔کیا اسلام میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ کوئی شخص مذکورہ منکرات کے ارتکاب کے لیے رائے اور گواہی دے اور کیا ایسی گواہی اور مشورہ جائز امر کے ضمن میں آئے گا؟……ظاہر ہے شریعت اسلامیہ میں ایسی کسی گواہی اور مشورے کی گنجائش نہیں ……ایسی رائے ،گواہی اور مشورہ سب باطل ہیں……اس کا ارتکاب کرنے والا عنداللہ مجرم ہے۔
دوسری بات یہ کہ اگر کہا جائے کہ اہل اور دیانت دار شخص کو ووٹ دیا جائے تو بھی وہ دیانت دار شخص جائے گا تو اسی کافرانہ جمہوری نظام میں!……اس کی مثال یوں سمجھیے کہ اگر بالفرض ہمارے ہاں ہندومت غالب آجائے اور مندر کو پارلیمنٹ کی حیثیت دے دی جائے اور اعلان کیا جائے کہ مندر ہی آئندہ تمام سیاسی و معاشرتی سرگرمیوں کو مرکز ہوگا اور مسلمان بھی اس مندر کے ممبر بننے لگیں ،اپنی عبادات کے علاوہ پوجا پاٹی نظام کو قبول کرلیں اور پروہت بننے میں فخر محسوس کریں تو جس طرح اسلام میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں،اسی طرح پارلیمنٹ کا ممبر بننے کی بھی گنجائش نہیں۔مندر میں بتوں کی پوجا کی جاتی ہے جبکہ پارلیمنٹ میں انسان اپنی بندگی کرتا ہے یا سرمایے کی بندگی۔جیسے مندر ہندو مت کے عملی اظہار کی جگہ ہے ،اسی طرح پارلیمنٹ مذہب سرمایہ داری (جو کفرِ مطلق ہے)کے اظہار کی جگہ ہے۔تو جس طرح پنڈت پروہت بننے کی اسلام میں قطعی گنجائش نہیں اسی طرح پارلیمنٹ کا ممبر بننے کی گنجائش کیوں کر نکالی جا سکتی ہے؟
ووٹ مشورہ ہے نہ شہادت
ہماری نظر میں ووٹ نہ مشورے کی حیثیت رکھتا ہے اور نہ گواہی کی بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں جس طرح انسان اپنی آزادی کا اظہار سرمایے کے ذریعے کرتا ہے اسی طرح وہ اپنی آزادی کا اظہار ووٹ کے ذریعے بھی کرتا ہے۔ووٹ کے بارے میں وہ اپنے سرچشمۂ قوت ،منبع اقتدار واختیار ہونے یعنی اپنے خدا ہونے کا خوداعلان کرتا ہے۔
پھر اگر ووٹ کو بالفرض مشورہ تسلیم کر بھی لیا جائے تو کیا مشورہ سے متعلق جتنی بھی اسلامی تعلیمات ہیں وہ یہاں پائی جاتی ہیں؟ووٹنگ میں بلا قیدِ جنس و مذہب ہر شخص حصہ لے سکتا ہے …… کیا اسلامی نکتۂ نگاہ سے مشورہ و رائے ہر شخص سے لیا جاسکتا ہے؟مثلاًکہیں اسلامی ریاست میں کسی جگہ قاضی مقرر کرنا ہوتو کیا اس کام کے لیے صرف علما و صلحااور اتقیاسے مشورہ لیا جائے گایا ان کے ساتھ بھنگی ،چرسی،زانی ،شرابی ،ڈاکو کو بھی مشورے میں شامل کیا جائے گا؟ …… یا مثلاًکہیں بیماریوں کی آفت آگئی ہے اور وہاں ماہر ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے تو اس کے لیے ماہر ڈاکٹروں سے ہی مشورہ لیا جائے گایا قصائیوں،نائیوں اور طبلہ سارنگی بجانے والوں کو بھی مشورے میں شامل کیا جائے گا؟
اسلام نے تو مشورے کے بارے میں خاص تعلیمات دی ہیں،حدیث شریف میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس میں قرآن نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کا کوئی حکم ہمیں نہیں ملاتو ہم کس طرح عمل کریں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اجمعوا لہ عبدین من امتی وجعلوہ بینکم شوریٰ ولا تقضوا برأی واحد.‘‘ (روح المعانی)
’’اس کے لیے میری امت کے عبادت گزاروں کو جمع کرلو اور آپس میں مشورہ طے کر لو اور کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔‘‘
اس روایت کے بعض الفاظ میں فقہا وعابدین کا لفظ آیا ہے ،جس سے معلوم ہوا ہے کہ مشورہ ان لوگوں سے لینا چاہیے جو فقہا یعنی دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں اور عبادت گزارہوں۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ جو مشورہ اس طریق پر نہیں ہے بلکہ بے علم ،بے دین (یعنی فساق و فجار)لوگوں میں دائر ہوگااس کا فساد اس کی صلاح پر غالب ہوگا۔
اگر ووٹ کو گواہی تسلیم کیا جائے تو کیا یہاں گواہی کی شرائط اور حدود و قیود موجود ہیں؟ مثلاً گواہ عادل ہو،بالغ ہو،شریف ہو،بایں معنی کہ پنج وقتہ نمازی ہو،حلال و حرام کو جانتا ہو،یہاں اکثریت ایسی ہے جو طہارت و نماز کے بنیادی مسائل سے بھی واقف نہیں۔فقہا نے درج ذیل اشخاص کی گواہی ناقابل قبول قرار دی ہے:
-
نماز روزے کا عمداًتارک ہو۔
-
یتیم کا مال کھانے والا۔
-
زانی او رزانیہ۔
-
لواطت کا مرتکب۔
-
جس پر حد قذف لگ چکی ہو۔
-
چور،ڈاکو ۔
-
ماں باپ کی حق تلفی کرنے والا۔
-
خائن اور خائنہ۔
اگر کہا جائے کہ ووٹ ایک امانت ہے ……سوال ہوگا کہ یہ امانت بندوں کو کس نے تفویض کی؟آیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض ہوئی یا جمہوریت نے تفویض کی؟یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں کہا گیا کہ جب تمہیں امیر مقرر کرنا ہو تو سب لوگ مل کر ووٹ ڈالا کرو، نہ ہی سنت سے اور تعامل امت سے اس عمل کی کوئی توثیق ملتی ہے۔ہاں!جمہوریت کی تفویض کردہ امانت ہوسکتی ہے مگر باطل امانت ہے،یہ ایسی ہی امانت ہے کہ جیسے کوئی شخص شراب کی بوتل آپ کے پاس بطورِ امانت رکھنے آئے تو کیا آپ اس بوتل کو دیکھتے ہی توڑنے کے درپے ہوں گے یا حفاظت سے رکھنے کی کوشش کریں گے؟
بعض لوگ بہت دور کی کوڑی لاتے ہیں اورووٹ کو بیعت کا قائم مقام قرار دیتے ہیں۔ووٹ بھلا بیعت کے قائم مقام کیسے ہوسکتا ہے؟بیعت سمع و طاعت کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہاں تسلیم کرنے کے سوا دوسرا راستہ نہیں جبکہ ووٹ آزادی کے اظہار کا ذریعہ ہے،یہاں آپ آزاد ہیں کہ چاہیں تو مسلم لیگ کو ووٹ دیں چاہیں تو پی پی پی کو چاہیں تو کسی دیانت دار شخص کو ووٹ دے دیں۔
ووٹ کے حوالے سے چند دیگر عملی مسائل بھی ہیں……مثلاً ووٹروں کی اکثریت اپنے ضمیر کی آزادی کے مطابق ووٹ نہیں دے پاتی۔وہ اگر کسی امیدوار کوغلط اور نااہل سمجھتا ہے تو اپنی پارٹی کی رائے ،قبیلے کے فیصلے یا برادری کی حمایت کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے کہ اُسی نااہل شخص کو ووٹ دے(یہ جبر سرمایہ دارانہ نظام کا اندرونی تضاد ہے)۔
مختلف سیاسی جماعتیں آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کرتی ہیں۔اس صورت میں ووٹر آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے پاس دار ہوتے ہیں۔مثلاًایک مذہبی جماعت نے مسلم لیگ (ق)کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ،ق لیگ بلاشبہ علما خصوصاًلال مسجد کے معصوم طلبہ و طالبات کی قاتل جماعت ہے ۔مگر جہاں اس مذہبی جماعت کے ووٹر موجود ہیں اور ق لیگ کا امیدوار کھڑا ہے تو اس کے ووٹر ق لیگ کے امیدوار کو ووٹ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
ووٹوں کی خریدوفروخت بھی ہوتی ہے،بھاری رقوم خرچ کرکے لوگوں سے ووٹ خریدے جاتے ہیں۔
ووٹوں کے حصول کے لیے بھاری اخراجات کرکے باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے، اس مہم پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو اسراف وتبذیر کے زمرے میں آتے ہیں۔
ووٹوں کے حصول کے لیے مخالفین پربدترین اور شرم ناک الزامات لگائے جاتے ہیں ،اس سلسلے میں تمام اخلاقی قدروں اور معاشرتی تقاضوں کو یکسر پامال کر دیا جاتا ہے۔
الیکشن کے دوران خفیہ اداروں کی مداخلت اب کوئی مخفی بات نہیں ہے۔حکمران ٹولہ آئندہ اپنی مرضی کا سیٹ اپ لانے کے لیے خفیہ اداروں کے ذریعے ایسا جال بچھاتا ہے کہ نتائج میں بس اُنیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے۔
یہ بات بھی اہل نظر سے مخفی نہیں کہ بالادست قوتیں اپنے من پسند امیدواروں کو جتوانے کے لیے دھمکی،دھونس سے کام لینے کے علاوہ خفیہ طور پر بیلٹ باکس میں اضافی ووٹ ڈلوا دیتی ہیں،بہت سے فوت شدہ لوگوں کے شناختی کارڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔
ان تمام امور کے ہوتے ہوئے ووٹ کو شہادت،امانت او رمشورہ قرار دینا بہت بڑی خطا ہے۔ جن علما نے ووٹ کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے اسے مشورہ، امانت اور شہادت ہونے کے فتاویٰ جاری فرمائے ہیں غالباًاُنہوں نے اس پورے نظام کا گہری نگاہ سے مطالعہ نہیں فرمایاورنہ وہ ضرور اس قسم کے فتاویٰ صادر کرنے سے اجتناب کرتے۔
ووٹ استبدادی نظام کی توثیق اور تائید کا ذریعہ ہے
ہماری نظر میں ووٹ دینامشرکانہ نظامِ ریاست و سیاست کے قیام و استحکام کا ذریعہ ہے،یہ شرک کے ارتکاب اور کفر کی تائید کے علاوہ ظلم و استبداد کی حکومت کی حمایت کرناہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ (سورۃ المائدۃ: ۲)
’’ اور گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘‘۔
قرآن مجید میں انہی لوگوں کو ہدایت یافتہ قراردیا گیا ہے جو اپنے ایمان کو شرک اور ظلم سے آلودہ نہیں کرتے۔چنانچہ ارشاد ہے:
الَّذِیْنَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیْمَانَہُم بِظُلْمٍ أُوْلَـئِکَ لَہُمُ الأَمْنُ وَہُم مُّہْتَدُونَ (سورۃ الانعام: ۸۲)
’’جو لوگ ایمان لائے اور اُنہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا،وہی لوگ ہیں جن کے لیے امن اور چین ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
کیا’’اسلامی جمہوریت ‘‘ کوئی چیز ہے؟
اس سوال کا سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ ……’’کیا اسلامی کفر بھی کوئی چیز ہو سکتی ہے؟‘‘……ظاہر ہے کوئی بھی ذی ہوش انسان اس کا قائل نہیں ہوگا۔دراصل غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں کسی اصطلاح کے ساتھ اسلامی لگانے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟اس لیے کہ وہ اپنی اصل میں اسلامی نہیں ہوتی……اکثروبیشتر اصطلاحات جن کے ساتھ اسلامی کا لفظ ہو مشتبہ ہوتی ہیں۔جیسے ’’اسلامی بینک کاری‘‘،’’اسلامی ٹی وی چینلز‘‘……آپ اسلامی بینک کاری کی اصطلاح استعمال کریں اور سمجھیں کہ اب یہ چیز جائز ہوگئی ……یہ ممکن نہیں،اس لیے کہ بینک کاری کا تمام تر نظام سود، سٹے اورجوئے پر مشتمل ہے۔پھر آپ یہ بھی سوچیے کہ کبھی آپ سے کسی نے کہا ’’اسلامی نماز‘‘……’’اسلامی جہاد‘‘……یا ’’اسلامی حج‘‘……یہاں اسلامی کا لفظ لگانے کی اس لیے نہیں کہ یہ اصطلاحات اسلام کے اندر فطری ہیں کبھی کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا ہے کہ ’’حج ‘‘بولا جائے اور اس سے کوئی شخص گنگا کا اشنان سمجھے یا بیساکھی کے میلے کی طرف ذہن جائے !……یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں اس طرح کی اصطلاح نظر آئے لازمی ہے کہ وہاں توقف کیاجائے اور خوب غوروفکر کے بعد اس کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔
’’اسلامی جمہوریت‘‘ بھی ایسی ہی ایک اصطلاح ہے جس کے بارے میں غوروفکر کی ضرورت ہے۔بہت سے دانش وروں کا کہنا ہے کہ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت دومختلف چیزیں ہیں [بعض کا کہنا ہے کہ اسلام اور جمہوریت ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں](نعوذ باللہ من ذالک)]یہ مغالطہ آمیز بات ہے ۔اسلام نے ہمیں خلافت کا عقیدہ دیا ہے(قال انی جاعلٌ فی الارض خلیفۃ)۔ خلافت اور جمہوریت کے اصول وفروع میں زمین آسمان کا فرق ہے،پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خواہی ناخواہی اسلام کے نظام خلافت کو جمہوریت ہی باور کرانے کی کوشش کریں یا جمہوریت کو عین اسلام قرار دینے کا ناٹک رچائیں؟
جمہوریت Democracy کا اردو ترجمہ ہے،ڈیموکریسی کا مولد و منشامغرب ہے۔تاریخی طور پر ثابت ہے کہ ڈیموکریسی جسے جمہوریت کہا جاتا ہے پانچ چھ سوسال قبل از مسیح بھی موجود تھی۔ یونان میں جمہوریت رائج رہی،پھر مغرب میں ایک عرصے بعد ڈیموکریسی کا احیا ہوا۔ ایک بات تاریخی تناظر میں طے ہے کہ جمہوریت کبھی کسی مذہبی معاشرے میں رائج نہیں رہی بلکہ اللہ کے باغی معاشروں میں رائج رہی۔اس نظام کو اِنہی معاشروں نے قبول کیا جو اللہ تعالیٰ اور انبیا علیھم السلام کے منکر معاشرے تھے۔لہٰذا جب ڈیموکریسی کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اورنہ ہی یہ کوئی اسلامی اصطلاح ہے بلکہ کافرانہ اصطلاح ہے تو اس کا استعمال کیوں کر جائز ہوا؟علما نے لکھا ہے کہ وہ لفظ جو اپنے اندر کسی پہلو سے کفر کا معنی رکھتا ہو،اگرچہ فی الاصل مباح ہی ہوتو بھی اس کا استعمال کرنا حرام ہے۔
موجودہ صورت حال میں کیا کیا جائے؟
حدیث شریف میں آتا ہے کہ لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین ’’مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘‘ ……الیکشن ایسا سوراخ ہے کہ پوری قوم بارہا جمہوری سانپ سے ڈسی گئی ہے۔متعدد بار کے تجربات سے واضح ہوچکا ہے کہ اب من حیث الامت ہمیں اس تماشے سے اجتناب برتنا ہوگا،ہمیں اُس طریق کار کی طرف پلٹنا ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین فرمایا،جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور اسلاف امت نے تعامل فرمایا۔یہ راستہ دعوت و تبلیغ اور جہادو انقلاب کا راستہ ہے اور یہی سبیل المؤمنین ہے……
اللّٰھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ
وصل اللّٰھم وسلم وبارک علی محمد نبی الأمی وعلی آلہ واصحبہ اجمعین