161۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ خَافَ اَدْلَجَ وَمَنْ اَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ اَلَا اِنَّ سِلْعَۃَ اللہِ غَالِیَۃٌ اَلَا اِنَّ سِلْعَۃَ اللہِ الْجَنَّۃُ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو شخص ( آخر شب میں دشمن کی غارت گری سے ) خوف رکھتا ہے اوّل رات ہی میں بھاگتا ہے ( تاکہ دشمن سے نجات پائے ) اور جو شخص اوّل رات میں بھاگتا ہے منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔ خبردار ! اللہ تعالیٰ کی متاع بہت مہنگی ہے، خبردار! اللہ تعالیٰ کی متاع جنّت ہے۔
تشریح:یہ مثال بیان فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کی راہ چلنے والوں کی کہ شیطان ہر سالک کے پیچھے لگارہتا ہے اورنفس اور خواہشاتِ باطلہ ایمان و دین پرڈاکہ ڈالنے والے ہیں پس جس نے ہوشیاری سے راستہ طے کیا اور اپنی نیت کو خالص رکھا وہ شیطان سے امن میں ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار! خدائی سودا بڑا مہنگا ہے یعنی آخرت کی راہ بہت مشکل ہے تھوڑی سعی سے نہیں حاصل ہوتی یعنی خوب محنت کرو آخرت کے لیےاور جنت اللہ تعالیٰ کی متاع ہے جس کی قیمت نیک اعمال ہیں۔
162۔ وَعَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَقُوْلُ اللہُ جَلَّ ذِکْرُہٗ اَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَ کَرَنِیْ یَوْمًا اَوْ خَافَنِیْ فِیْ مَقَامٍ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَالْبَیْھَقِیُّ فِیْ کِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) فرمائے گا ( ان فرشتوں سے جو دوزخ پر متعین ہیں) آگ میں سے اس شخص کو نکال دو جس نے مجھ کو ایک دن بھی یاد کیا ہے یا کسی مقام پر مجھ سے ڈرا ہے۔
تشریح:ذکر سے مراد اخلاص ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کو ایک جاننا خالص دل سے اور سچی نیت سے ۔ دلیل اس مفہوم پر یہ حدیث ہے کہ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ خَالِصًا مِّنْ قَلْبِہٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہْ کہا خالص دل سے وہ جنّت میں داخل ہوگیااور مراد خوف سے یہاں اپنے اعضا کو گناہوں سے محفوظ رکھنا ہے اور اپنے اعضا کو اطاعت وعبادت میں مشغول رکھنا ہےاور دلیل اس کی یہ حدیث ہے اَللّٰھُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا تَحُوْلُ بِہٖ بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَعَاصِیْکَ اے اللہ! مجھے اپنے خوف کا وہ حصہ عطا فرما جو میرے اور تیرے معاصی کے درمیان حائل ہوجاوے۔ پس خوفِ خدا اسی کا نام ہے جو گناہ سے دور رکھے، اور گناہوں میں ملوث آدمی کا خوفِ خدا پر دعویٰ غلط اور جھوٹ ہے۔
اسی سبب سے حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی تجھ سے کہے کہ کیا تو اللہ سے ڈرتا ہے تو خاموشی اختیار کرلے، کیوں کہ اگر کہتا ہے کہ نہیں ڈرتا ہوں تو کافر ہوتا ہے اور اگر تو کہتا ہے کہ ڈرتا ہوں تو تیرا دعویٰ جھوٹ ہے کیوں کہ گناہوں سے تو محفوظ نہیں ہے۔
163۔وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ: وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ، اَھُمُ الَّذِیْنَ یَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ وَیَسْرِقُوْنَ؟ قَالَ لَا، یَاابْنَۃَ الصِّدِّیْقِ وَلٰکِنَّھُمُ الَّذِیْنَ یَصُوْمُوْنَ وَیُصَلُّوْنَ وَیَتَصَدَّقُوْنَ وَھُمْ یَخَافُوْنَ اَنْ لَّا یُقْبَلَ مِنْھُمْ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ
ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےاس آیت کا مطلب دریافت کیا: وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ( یعنی وہ لوگ دیتے ہیں جو کچھ کہ دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل ترساں ولرزاں ہیں ) کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے صدیق ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کی بیٹی ! نہیں، بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں،نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں اور اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کہ ان کے ان اعمال کو ( شاید ) قبول نہ کیا جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔
تشریح: یعنی نہایت رغبت کرتے ہیں طاعات میں اور دوڑتے ہیں اعمال ِ صالحہ کی طرف لیکن ڈرتے ہیں اس خوف سے کہ عبادات میں حق تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا حق ادا نہ ہوسکا اس لیے استغفار کرتے ہیں۔ پس عام لوگ تو صرف سیئات سے استغفار کرتے ہیں اور خواصِّ اُمت حسنات کے بعد بھی استغفار کرتے ہیں کہ جو کوتاہیاں ادائیگئ حسنات میں ہوئی ہوں وہ معاف ہوجائیں۔ اور ’’دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مالی اور بدنی جو عبادتیں کرتے ہیں ساتھ ساتھ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں کہ قبول ہوئیں یا نہیں۔ احقر مؤلف کتابِ ہٰذا عرض کرتا ہے کہ ہمارے شیخ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کرتا رہے اور ڈرتا رہے، یعنی نیک اعمال کرکے بے ڈر نہ ہو اور ناز نہ ہو، اور نہ اتنا ڈر مطلوب ہے کہ خوف سے اعمال ہی چھوڑ بیٹھے ۔ یہ اس لیے کہ حق تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بھی فرمادیا کہ یہ ڈرنے والےبندے وہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرنے والے ہیں۔
164۔ وَعَنْ اُبَیِّ ابْنِ کَعْبٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا ذَھَبَ ثُلُثَا اللَّیْلِ قَامَ فَقَالَ یٰاَیُّھَا النَّاسُ اذْکُرُوا اللہَ، اُذْکُرُو االلہَ جَاءَتِ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت اُبی ابنِ کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے ( نمازِ تہجد کے لیے ) اور فرماتے: اے لوگو! اللہ تعالیٰ کو یاد کرو، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو، زلزلہ آیا اور اس کے پیچھے آتا ہے پیچھے آنے والا۔ موت آپہنچی مع ان احوال کے جو اس میں ہیں، موت آپہنچی مع ان احوال کے جو اس میں ہیں۔
تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے والوں اور غافلوں کو اس حدیث میں تہجد کی تاکید فرمائی ہے، اور زلزلہ آنے کا مطلب قیامت کے قرب کا بتانا ہے اور اس میں اشارہ ہے کہ سونا مشابہ موت ہے جو علامت نفخہ ٔاولیٰ ہے اور جاگنا نفخۂ ثانیہ ہے اور یہ دونوں نشانیٔ قیامت ہیں جو سونے اور جاگنے میں موجود ہیں پس ہر رات عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ نیند (یعنی سونے کا عمل )موت کا بھائی ہے۔ پھر جاگنے کے بعد کی دعا جو وارد ہے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں زندگی دی بعد موت دینے کے اور اسی کی طرف حشر ونشر کے لیے جانا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ سونے اور جاگنے میں حشر ونشر کی علامات موجود ہیں۔
165۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَلٰوۃٍ فَرَأَی النَّاسَ کَاَنَّھُمْ یَکْتَشِرُوْنَ، قَالَ: اَمَا اِنَّکُمْ لَوْ اَکْثَرْتُمْ ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَکُمْ عَمَّا اَرَی الْمَوْتِ فَاَکْثِرُوْا ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ فَاِنَّہٗ لَمْ یَاْتِ عَلَی الْقَبْرِ یَوْمٌ اِلَّا تَکَلَّمَ فَیَقُوْلُ اَنَا بَیْتُ الْغُرْبَۃِ وَاَنَا بَیْتُ الْوَحْدَۃِ وَاَنَا بَیْتُ التُّرَابِ وَاَنَا بَیْتُ الدُّوْدِ وَاِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَہُ الْقَبْرُ مَرْحَبًا وَّاَھْلًا اَمَا اِنْ کُنْتَ لَاَحَبَّ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِیْ اِلَیَّ فَاِذْ وُلِّیْتُکَ الْیَوْمَ وَصِرْتَ اِلَیَّ فَسَتَرٰی صَنِیْعِیْ بِکَ قَالَ فَیَتَّسِعُ لَہٗ مَدَّ بَصَرِہٖ وَیُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ اِلَی الْجَنَّۃِ۔ وَاِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ اَوِالْکَافِرُ قَالَ لَہُ الْقَبْرُ لَا مَرْحَبًا وَّلَا اَھْلًا اَمَا اِنْ کُنْتَ لَاَبْغَضَ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِیْ اِلَیَّ فَاِذْ وُلِّیْتُکَ الْیَوْمَ وَصِرْتَ اِلَیَّ فَسَتَرٰی صَنِیْعِیْ بِکَ قَالَ فَیَلْتَئِمُ عَلَیْہِ حَتّٰی تَخْتَلِفَ اَضْلَاعُہٗ۔ قَالَ وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاَصَابِعِہٖ فَاَدْخَلَ بَعْضَھَا فِیْ جَوْفِ بَعْضٍ قَالَ وَیُقَیَّضُ لَہٗ سَبْعُوْنَ تِنِّیْنًا لَوْ اَنَّ وَاحِدًا مِّنْھَا نَفَخَ فِی الْاَرْضِ مَا اَنْبَتَتْ شَیْئًا مَّا بَقِیَتِ الدُّنْیَا فَیَنْھَشْنَہٗ وَیَخْدِشْنَہٗ حَتّٰی یُفْضٰی بِہٖ اِلَی الْحِسَابِ۔ قَالَ وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے، دیکھا کہ لوگ گویا ہنس رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لذتوں کو فنا کردینے والی چیز کا اکثر ذکر کرتے رہو تو وہ تم کو اس سے باز رکھے جس کو میں دیکھ رہا ہوں ( یعنی ہنسنے سے اور غفلت سے ) اور وہ ( یعنی لذتوں کو فنا کردینے والی چیز ) موت ہے۔ پس تم لذتوں کو فنا کردینے والی موت کو اکثر یاد رکھو، اور واقعہ یہ ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں قبر یہ نہ کہتی ہو کہ میں غربت کا گھر ہوں،میں تنہائی کا گھر ہوں،میں مٹی کا گھر ہوں،میں کیڑوں کا گھر ہوں۔ اور جب قبر میں مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے:تیرا آنا مبارک ہو تو کشادہ مکان میں آیا ہے، تو میرے نزدیک بہت محبوب تھا ان لوگوں میں سے جو مجھ پر چلتے ہیں، آج کے دن میں تجھ پر حاکم وقادر بنائی گئی ہوں اور تو مجبور ہو کر میری طرف آیا ہے پس تو عن قریب میرے اس نیک سلوک کو دیکھے گا جو میں تیرے لیے کروں گی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس مومن بندے کے لیے حدِّ نظر تک قبر کشادہ ہوجاتی ہے اور جنّت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے (جس سے وہ جنّت میں اپنی جگہ دیکھتا ہے اور اس میں سے ٹھنڈی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور حور وقصور اور جنّت کی نہریں اور میوے اور درخت دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں)اور جب فاجر یا کافر بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے: نہ تو تیرا ا ٓنا مبارک اور نہ قبر تیرے لیے کشادہ مکان ہے، تو میرے نزدیک ان تمام لوگوں میں سے جو مجھ پر چلتے ہیں نہایت مبغوض اور بُرا تھا، اور آج کے دن کہ میں تجھ پر حاکم وقادر کی گئی ہوں اور تو مجبور ومقہور ہو کر میری طرف آیا ہےتو تُو دیکھے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا بُرا سلوک کرتی ہوں۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر اس کو دباتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر کی اُدھر نکل جاتی ہیں۔حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں (یہ دکھانے کے لیے کہ قبر کے دبانے سے کافر کی پسلیاں اس طرح ایک دوسرے کے اندر گھس جاتی ہیں) پھر فرمایا: اس کافر پر ستّر اژدہے مقرر کیے جاتے ہیں ( ایسے اژدہے کہ ) اگر ایک ان میں سے زمین پر پُھنکار مارے تو قیامت تک زمین سبزہ نہ اگائے۔ یہ اژدہے اس کو کاٹتے اور نوچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس بندے کو حساب کے لیے لے جایا جائے، راوی ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک آگ کا گڑھا ہے۔
تشریح:’’موت کو کثرت سے یاد کرو کہ یہ لذت کو کاٹنے والی ہے‘‘۔ یہ نہایت نصیحت ہے غافلوں کے لیے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرنا غافل کے دل کو زندہ کرتا ہے۔ چناں چہ عارف باللہ مولانا نور الدین علی متقی ایک تھیلی بنا کر رکھتے تھے جس پر موت لکھا ہوتا تھا جب کوئی ان سے مرید ہوتا اس مرید کی گردن میں یہ تھیلی لٹکادیتے تا کہ وہ جانتا رہے کہ موت قریب ہے نہ کہ دور ہے تاکہ آرزو دنیا کی کم کرے اور اعمال ِ نیک زیادہ کرے۔بعض نیک سلاطین کا دستور تھا کہ ایک شخص کو مقرر کرتے کہ وہ ان کے پیچھے کھڑا رہے اور الموت الموت کہتا رہے تا کہ غفلت نہ پیدا ہو آخرت سے۔ قبر کے اندر مردہ کے جسم کی بدبو سے کیڑے پیدا ہوتے ہیں پھر وہ جسم کو کھا جاتے ہیں پھر کیڑے ایک دوسرے کو کھاتے ہیں حتیٰ کہ ایک کیڑا رہ جاتا ہے پھر وہ بھوک سے مرجاتا ہے، اور انبیا اور شہدا اور اولیائے کرام کے اجسام اس سے مستثنیٰ ہیں یعنی ان کے بدن کو نہیں کھاسکتے کیڑے اور نہ زمین۔ کیوں کہ انبیا علیہم السلام کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِتحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا زمین پر کہ کھائے وہ پیغمبروں کے بدن کو اور شہیدوں کے بارے میں حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مقتول ہوئے ان کو مردہ گمان مت کرو، وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس اور علما کی شان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علما جس روشنائی سے تصنیف کرتے ہیں وہ شہیدوں کے خون سے افضل ہے۔ اس سے اولیائے کرام کے اجسام کی حفاظت ثابت ہوتی ہے۔ اور علما سے مراد علمائے باعمل ہیں۔
166۔وَعَنْ اَبِیْ جُحَیْفَۃَ قَالَ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللہِ قَدْ شِبْتَ قَالَ شَیَّبَتْنِیْ سُوْرَۃُ ھُوْدٍ وَّاَخَوَاتُھَا۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ بوڑھے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو سورۂ ھود اور اس جیسی اور سورتوں نے ( جن میں قیامت اور عذابِ الٰہی کا ذکر ہے ) بوڑھا کردیا۔
167۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ یَّا رَسُوْلَ اللہِ! قَدْ شِبْتَ، قَالَ شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَّالْوَاقِعَۃُ وَالْمُرْسَلٰتُ وَعَمَّ یَتَسَاءَلُوْنَ وَ اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ بوڑھے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ کو سورۂ ھود ، سورۂ واقعہ ، سورۂ مرسلٰت، سورۂ عم یتساءلون اور سورۂ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کردیا۔
تشریح: یعنی ان سورتوں میں جو عذاب بیان فرمایا گیا ہے مجھے اپنی اُمت کا غم ہوتا ہے کہ نجانے ان کا کیا حال ہو پس یہ غم مجھے بوڑھا کیے دیتا ہے۔
فصلِ سوم
168۔ عَنْ اَنَسٍ قَالَ اِنَّکُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا ھِیَ اَدَقُّ فِیْ اَعْیُنِکُمْ مِّنَ الشَّعْرِ کُنَّا نَعُدُّھَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ یَعْنِی الْمُھْلِکَاتِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں ( یعنی تمہارے نزدیک بہت معمولی اور حقیر ہیں اور تم ان کو کرنے سے نہیں ڈرتے) لیکن ہم ان کاموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہلاک کرنے والے کاموں میں شمار کرتے تھے۔
169۔وَعَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَا عَائِشَۃُ اِیَّاکِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوْبِ فَاِنَّ لَھَا مِنَ اللہِ طَالِبًا۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارَمِیُّ وَالْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اپنے آپ کو ان گناہوں سے بچا جن کو حقیر اور معمولی خیال کیا جاتا ہے اس لیے کہ ان گناہوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مطالبہ کرنے والا بھی ہے ۔
تشریح:چھوٹے گناہ سے غافل نہ رہے اور ان کو معمولی نہ سمجھے کہ چھوٹی چنگاری بڑھتے بڑھتے شعلہ والی آگ بن جاتی ہے ۔ نیز یہ کہ جس گناہ کو چھوٹا اور سہل جانا جاتا ہےاس کی تلافی اور اس سے توبہ کی توفیق نہیں ہوتی۔ پس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ ایک قسم کا عذاب ہے کہ گناہ کو چھوٹا اور سہل سمجھ کر غفلت میں مبتلا رہے۔ نیز یہ سمجھنا چاہیے کہ چھوٹے گناہ پر اگر اصرار کیا جائے تو وہ پھر صغیرہ نہیں رہتا بلکہ کبیرہ ہوجاتا ہے۔ اور اسی سبب سے کبھی حق تعالیٰ کبیرہ گناہ معاف فرماتے ہیں اور کبھی صغیرہ گناہ پر عذاب دیتے ہیں۔ اور واضح ہو کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَکْبَرُ اور حق تعالیٰ کا تھوڑا راضی ہونا بھی تمام کائنات ومافیہا سے افضل واکبر ہے۔ پس جس ذات پاک کی تھوڑی رضا نعمت کے اعتبار سے اکبر ہے تمام چیزوں سے اسی طرح اس کی ناراضی تھوڑی بھی نہایت خطرناک ومضر ہے تمام چیزوں سے۔
170۔ وَعَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ ابْنِ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ قَالَ لِیْ عَبْدُ اللہِ ابْنُ عُمَرَ ھَلْ تَدْرِیْ مَا قَالَ اَبِیْ لِاَبِیْکَ؟ قَالَ قُلْتُ لَا۔ قَالَ فَاِنَّ اَبِیْ قَالَ لِاَبِیْکَ یَااَبَا مُوْسٰی! ھَلْ یَسُرُّکَ اَنَّ اِسْلَامَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھِجْرَتَنَا مَعَہٗ وَجِھَادَنَا مَعَہٗ وَعَمَلَنَا کُلَّہٗ مَعَہٗ بَرَدَ لَنَا وَاَنَّ کُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَا بَعْدَہٗ نَجَوْنَا مِنْہُ کَفَافًا رَّاْسًا بِرَاْسٍ؟ فَقَالَ اَبُوْکَ لِاَبِیْ: لَا وَاللہِ! قَدْ جَاھَدْنَا بَعْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَلَّیْنَا وَصُمْنَا وَعَمِلْنَا خَیْرًا کَثِیْرًا وَّاَسْلَمَ عَلٰی اَیْدِیْنَا بَشَرٌ کَثِیْرٌ وَّاِنَّا لَنَرْجُوْا ذٰلِکَ، قَالَ اَبِیْ وَلٰکِنِّیْ اَنَا وَالَّذِیْ نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُّ اَنَّ ذٰلِکَ بَرَدَ لَنَا وَاَنَّ کُلَّ شَیْءٍ عَمِلْنَاہُ بَعْدَہٗ نَجَوْنَا مِنْہُ کَفَافًا رَّاْسًا بِرَاْسٍ، فَقُلْتُ اِنَّ اَبَاکَ وَاللہِ کَانَ خَیْرًامِّنْ اَبِیْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
ترجمہ:حضرت ابو بردہ بن ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے فرمایا:تم جانتے ہو میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا تھا؟ میں نے عرض کیا: مجھ کو معلوم نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: میرے والد نے تمہارے والد سے کہا تھا:اے ابو موسیٰ ! کیا یہ بات تجھ کو خوش کرتی ہے کہ ہمارا اسلام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بعثت ) کے ساتھ تھا اور ہماری ہجرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور ہمارا جہاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہمارے سارے اعمال جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے وہ ہمارے لیے ثابت وبرقرار رہیں اور آپ کی وفات کے بعد جو عمل ہم نے کیے ہیں ان سے اگر ہم برابر سرابر چھوٹ جاویں تو ہمارے لیے کافی ہے ۔ تمہارے والد نے یہ سن کر میرے والد سے کہا: نہیں یوں نہیں ہے، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے نما ز پڑھی اور ہم نے روزے رکھے اور بہت سے نیک اعمال ہم نے کیے اور بہت سے لوگ ہمارے ہاتھوں پر مسلمان ہوئے اور اُمید ہے کہ ہم کو ان اعمال کا ثواب ملے گا۔ میرے والد نے یہ سن کر کہا لیکن میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے! میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ جو اعمال ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیے ہیں وہی ثابت و برقرار رہیں اورجو اعمال ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیے ہیں ان سے ہم برابر سر ابر چھوٹ جائیں۔ میں نے یہ سن کر کہا تمہارے والد اللہ کی قسم! میرے والد سے بہتر تھے۔
تشریح: برابر سرابر کا مطلب ہے کہ نہ ان اعمال سے نفع پہنچے نہ ضرر، اور نہ ثواب ملے ان اعمال کا نہ ان کے سبب عذاب ہو ۔
طاعتِ ناقصِ ما موجبِ غفراں نہ شود
راضییم گر مدد علتِ عصیاں نہ شود
ہماری ناقص عبادت باعثِ مغفرت نہیں ہوتی تو میں راضی ہوں کہ وہ عبادت عفو کردی جائے اور سببِ زیادتی معاصی نہ بنے۔عارفین حضرات نے فرمایا ہے کہ جو گناہ دل میں ندامت وذلت اورشرمساری وحقارت پیدا کرے وہ بہتر ہے اس طاعت وعبادت سے جو دل میں ناز وبڑائی یعنی تکبر اور عجب پیدا کرے
ازیں بر ملائک شرف د اشتند
کہ خود را بہ از سگ نہ پند اشتند
اولیائے کرام اس سبب سے فرشتوں سے بازی لے جاتے ہیں کہ اپنے کو خاتمہ اور انجام کے خوف سے کتوں سے بھی بہتر نہیں سمجھتے۔ اور وہ تواضع جو اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اس پر بلندی کا وعدہ ہے۔
171۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَمَرَنِیْ رَبِّیْ بِتِسْعٍ: خَشْیَۃِ اللہِ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ وَکَلِمَۃِ الْعَدْلِ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدِ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰی وَاَنْ اَصِلَ مَنْ قَطَعَنِیْ وَاُعْطِیَ مَنْ حَرَمَنِیْ وَاَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِیْ وَاَنْ یَّکُوْنَ صَمْتِیْ فِکْرًا وَّنُطْقِیْ ذِکْرًا وَّنَظَرِیْ عِبْرَۃً وَّاٰمُرَ بِالْعُرْفِ وَقِیْلَ بِالْمَعْرُوْفِ۔ رَوَاہُ رَزِیْنٌ
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پروردگار نے مجھ کو نو باتوں کا حکم دیا ہے :
۱) ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا۔۲) سچی اور راست بات کہنا غصہ اور رضا مندی کی حالت میں۔ یعنی جب آدمی کسی سے خوش ہوتا ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے اور اس کا عیب چھپاتا ہے اور جب غصہ آتا ہے تو اس کے برعکس کرتا ہے۔چاہیے کہ دونوں حالتوں میں یکساں رہے۔ ۳) فقر اورغنا میں میانہ روی۔ یعنی فقر اور غنا دونوں حالتوں میں اعتدال پر قائم رہے، حالت ِ فقر میں غصہ اور بے صبری نہ کرے اور غنا میں تکبر اور سرکشی نہ اختیار کرے۔۴) میں اس سے قرابت داری کو قائم وبرقرار رکھوں جو مجھ سے قطع تعلق کرے یعنی جو رشتہ دار مجھ سے قطع رحمی وبدسلوکی کرے میں اس کے ساتھ سلوک واحسان ہی کروں اور یہ غایتِ حلم وتواضع ہے۔۵)میں اس شخص کو دوں جو مجھ کو محروم رکھے۔۶)جو شخص مجھ پر ظلم کرے میں ( باوجود قدرتِ انتقام ) اس کو معاف کردوں۔۷) میری خاموشی غور وفکر ہو۔ یعنی جب خاموش رہوں تو اسماء وصفات اور مصنوعاتِ الہٰیہ میں غور وفکر کروں۔۸) میری گویائی ذکرِ الٰہی ہو۔ یعنی جب بات کروں تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں جیسے تسبیح وتحمید وتکبیر وتلاوت اور وعظ ونصیحت وغیرہ۔ ۹)اور میری نظر عبرت حاصل کرنے کے لیے ہو۔ اور میرے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ میں امر بالمعروف کروں۔
تشریح: نمبر ۹ میں نہی عن المنکر نہ ذکر کیا وہ اس لیے کہ امر بالمعروف دونوں کو شامل ہے اچھی بات کے کرنے کو اور بُری بات کے نہ کرنے کو۔
172۔وَعَنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُّؤْمِنٍ یَّخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ دُمُوْعٌ وَّاِنْ کَانَ مِثْلَ رَاسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ ثُمَّ یُصِیْبُ شَیْئًا مِّنْ حُرِّ وَجْھِہٖ اِلَّا حَرَّمَہُ اللہُ عَلَی النَّارِ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مومن بندہ ایسا نہیں ہے جس کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے آنسو نکلے اگر چہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی ہو پھر وہ آنسو اس کے چہرے پر پہنچے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ پر حرام کردیتا ہے۔
تشریح: اسی حدیث کے پیشِ نظر ایک صحابی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے نکلے ہوئے آنسوؤں کو اپنے چہرے پر مل کر پھیلالیتے تھے تاکہ دور تک یہ آنسو لگ جائے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ ہوجائے ۔
احقر مؤلف عرض کرتا ہے کہ ہمارے شیخ پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے آنسوؤں کو دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی سے مل کر تمام چہرے پر مل لیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: میں نے اپنے مرشد حضرتِ اقدس حکیم الاُمت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
لوگوں کی حالتوں میں تغیر وتبدل کا بیان
فصلِ اوّل
173۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّمَا النَّاسُ کَالْاِبِلِ الْمِائَۃِ لَا تَکَادُ تَجِدُ فِیْھَا رَاحِلَۃً۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہ
ترجمہ:حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آدمی مانند ان سو اونٹوں کے ہے جن میں سے تُو ایک ہی کو سواری کے قابل پائے گا۔
تشریح: مراد یہ ہے کہ آدمیوں کی تعداد مت دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ کام کے کتنے ہیں۔ کیوں کہ ایک آدمی جو کام کا ہو بہتر ہے ان لاکھ آدمیوں سے جو نااہل ہوں۔ سو کی تعداد سے کثرت مراد ہے یعنی تحدید مراد نہیں بلکہ تکثیر مراد ہے ۔ پس عالم باعمل مخلص کا وجود اُمت کے لیے کیمیا ہے اوریہ مقولہ مشہور ہے کہ یہ زمانہ قحط الرجال کا ہے۔ زمانۂ نزولِ وحی کے وقت جب حق تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُبہت تھوڑے شکر گزار بندے ہیں ، تو اب کیاحال ہوگا۔
174۔وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَّذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوْھُمْ۔ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَلْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ فَمَنْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ
ترجمہ:حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ البتہ ان لوگوں کی تقلید وپیروی کرو گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ ( یعنی ان کی پوری متابعت کرو گے ) یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں بیٹھے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے ۔ (حالاں کہ وہ سوراخ بہت تنگ ہوتا ہے۔) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ( کیا آپ کی مراد ) یہود ونصارٰی سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( وہ نہیں تو پھر ) اور کون ۔
تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس اُمت کے اندر یہود ونصاریٰ کی بیماری پیدا ہوگی۔ چناں چہ آج یہ اُمت بھی ان علما کو جو وارثینِ انبیا ہیں یا تو قتل کرتی ہے یا ان کا مذاق اڑاتی ہے اور اولیا کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ رزق اور اولاد اور دیگر حاجت روائی میں شریک سمجھتی ہے جیسا کہ اہلِ بدعت کررہے ہیں۔
175۔وَعَنْ مِرْدَاسِنِالْاَسْلَمِیِّ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَذْھَبُ الصَّالِحُوْنَ الْاَوَّلُ فَالْاَوَّلُ وَتَبْقٰی حُفَالَۃٌ کَحُفَالَۃِ الشَّعِیْرِ اَوِ التَّمْرِ لَا یُبَالِیْھِمُ اللہُ بَالَۃً۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
ترجمہ:حضرت مردا س اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیک بخت لوگ یکے بعد دیگرے مرتے جاویں گے اور باقی رہیں گے ردی وبے کار ( یعنی بُرے اور بدکار ) مانند جو کی بھوسی یا کھجور کی بھوسی کے جن کی اللہ تعالیٰ کوئی پروا نہیں کرتا۔
فصلِ دوم
176۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا مَشَتْ اُمَّتِی الْمُطَیْطِیَاءَ وَخَدَمَتْھُمْ اَبْنَاءُ الْمُلُوْکِ اَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّوْمِ سَلَّطَ اللہُ شِرَارَھَا عَلٰی خِیَارِھَا۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ
ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری اُمت کے لوگ تکبر سے چلیں گے اور فارس وروم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرے گی تو اللہ تعالیٰ اُمت کے بُرے لوگوں کو بھلے لوگوں پر مسلط کردے گا۔
تشریح: یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے یہ خبر آئندہ کی دی اور پھر اُمت نے اپنی آنکھوں سے یہ وقت دیکھا کہ شہرِ فارس اور روم فتح ہوئے اور ان کے اموال قبضے میں آئے اور ان کی اولاد کو خدمت گزار بنایا گیا پھر حق تعالیٰ نے مسلط کیابنی امیہ کو بنی ہاشم پراور انہوں نے پھر جو کچھ کرنا تھا سب کیا۔
177۔وَعَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلُوْا اِمَامَکُمْ وَتَجْتَلِدُوْا بِاَسْیَافِکُمْ وَیَرِثُ دُنْیَاکُمْ شِرَارُکُمْ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ
ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اپنے امام خلیفہ یا سلطان کو قتل نہ کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کو اپنی تلواروں سے نہ مارو گے اور تمہاری دنیا کے مالک تمہارے شریر وبدکار لوگ نہ ہوجائیں گے یعنی ملک وسلطنت ظالموں کے ہاتھ آئے گی اور نافرمان وفاسق لوگ مخلوق پر حکمرانی کریں گے۔
178۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَکُوْنَ اَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْیَا لُکَعُ ابْنُ لُکَعَ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَالْبَیْھَقِیُّ فِیْ دَلَائِلِ النُّبُوَّۃِ
ترجمہ:حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ دنیا میں سب سے زیادہ نصیبہ ور ( دولت مند اور جاہ ومنصب والا ) وہ شخص نہ بن جائے گا جو لئیم اور احمق ہے اور احمق کا بیٹا ہے ( یعنی بد اصل اور بدسیرت اشخاص دنیاوی جاہ وجلال اور دولت کے مالک ہوجائیں گے)۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)