دِل کاچین

­­­ہر شخص غریب ہو یا امیر ، بادشاہ ہو یا فقیر، دل کا چین چاہتا ہے ۔ چین کو عربی میں اطمینان کہتے ہیں۔ زمین دار سمجھتا ہے کہ زمین کے زیادہ سے زیادہ رقبہ پر قبضہ جمانے میں دل کا چین ہے ، بزاز سمجھتا ہے کہ اپنی دکان میں زیادہ سے زیادہ ملکیت کا کپڑا جمع کرنے میں چین ہے ، ملازم پیشہ گریڈ بڑھانے کو چین کا ذریعہ خیال کرتا ہے، شادی شدہ لوگ شادی کے بعد اولاد کے ذریعے دل کا چین تلاش کرتے ہیں؛ یہ سب راستے غلط ہیں۔

جتنے قدم چین حاصل کرنے کے لیے بڑھائے اتنا ہی راہ راست سے دور ہوتے گئے او ربے چینی بڑھتی گئی ۔ مثلاً ایک زمین دار، جس کے پاس زمین کے چارمربع ہیں ،وہ پانچواں مربع لینا چاہتا ہے، اس کے لیے اس کو پٹواری سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک کے پا س جانا پڑے گا۔ خوشامد کے باعث اور عزت کی خاطر روپیہ ضائع کرنا پڑے گا ۔ پٹواری کی خوشامد اور اس کو سلام بھی کرے گا، اگرچہ دل میں سمجھتا ہے کہ یہ ٹکے کا نوکر ہے، میرے مقابلے میں اس کی کیا ہستی ہے کہ فرعون بنا بیٹھا ہے۔ ایک بڑے سے بڑے افسر کا کہنا ہے کہ ہمیں بھی پٹواری کو رشوت دینی پڑتی ہے۔

فرض کیجیے کہ اس کو پانچواں مربع زمین کا مل گیا، اس کے بعد اس کو اس مربع کے لیے پانی حاصل کرنے کے لیے پھر خوشامد کی پٹی پڑھنی پڑے گی۔ اس کے بعد مزارعین کی ضرورت ہو گی۔ ایک مزارع آتا ہے او رکہتا ہے کہ میرے پاس ایک بیل ہے، دوسرا دے دیجیے تومیں کاشت شروع کر سکتا ہوں۔ اس کو اس زمین دار نے دو سو روپیہ دے دیے ، دوسرا مزارع کہتا ہے کہ میرے پاس دو بیل ہیں، دو اور لے دیجیے تو دو جوڑی سے کاشت جلدی ہو جائے ۔ دیکھا آپ نے چین حاصل کرنے کے لیے کس طرح بے چینی کے سامان اپنے ہاتھ سے پیدا کیے جارہے ہیں۔

بزاز نے دو لاکھ روپے کا کپڑا منگوایا ہے، اس کو ہر دم یہ خطرہ لگا رہے گا کہ کپڑے کی قیمت نہ گر جائے او رایک لاکھ کا ساٹھ ہزار کا نہ رہ جائے، صراف نے اگر ساٹھ ہزار کا سونا منگوایا ہے تو اسے ہر وقت یہی ڈر رہتا ہے کہ کہیں بھاؤ گر نہ جائے ۔ غرض کہ ہر وقت بے چینی ہی بے چینی ہے ۔ ایک سیٹھ کی جتنی ہی دکانیں ہوں گی اتنے ہی اس کے دل کے ٹکڑے ہوں گے۔ اگر اس کی کلکتہ، بمبئی، دہلی اور کراچی میں دکانیں ہیں تو اس کو ہر وقت یہی ڈر رہے گا کہ کہیں کسی دکان کو آگ نہ لگ جائے ۔

ان سب کے مقابلے میں ایک مزدور خوش ہے؛ وہ دن کو مزدوری کرتا ہے او رشام کو چند روپے نفع کما لیتا ہے۔ اس کی پونجی بھی بچ گئی اور روٹی بھی مل گئی۔ نہ اسے آگ کا ڈر ہے اور نہ پٹواری، قانون گو، تحصیل دار یا نائب تحصیل دار کی خوشامد کرنی پڑی۔

انسان چین چاہتا ہے۔ چین صرف نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی دامن گیری میں مل سکتا ہے، باقی کسی کو چین نہیں ۔ بادشاہ کو بھی چین نہیں ہو سکتا ۔ جس بادشاہ کا ایک جہاز مع فوج دشمن نے غرق کر دیا، خیال کیجیے اس کو کتنی بے چینی ہوگی!!۱۹۱۴ء کی لڑائی (پہلی جنگِ عظیم) میں جرمنوں نے برطانیہ کے بے شمار جہاز غرق کیے۔ جرمنوں کی آب دوز ایسمڈن ہر جگہ تباہی مچاتی پھرتی تھی؛کیا اس وقت شاہ برطانیہ کو چین ہو سکتا تھا جب کہ اس کے جہاز پر جہاز غرق ہو رہے تھے؟لوگ سمجھتے ہیں کہ بادشاہی حاصل کرکے چین پائیں گے، حالانکہ حقیقت میں بادشاہ تو سب سے زیادہ متفکر ہوتے ہیں ۔

؏ایں خیال است ومحال است وجنوں

قرآن کریم میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ چین ذکر الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ؀ (سورۃ الرعد: ۲۸)

’’خبردار! دلوں کا اطمینان الله کے ذکر ہی میں ہے۔‘‘

اس ارشاد بار ی تعالیٰ کی تصدیق اس ذکر کی مجلس سے ہوتی ہے۔ ہم سب کو جتنا اطمینان یہاں نصیب ہے وہ سارے ہفتے سے زیادہ ہے ۔ ملازم پیشہ کو جو یہاں اطمینان ہے وہ اس کو دفتر میں حاصل ہونا ناممکن ہے۔ دکان دار کو جو یہاں چین ہے وہ اس کو دکان میں بیٹھ کر نصیب ہو نہیں سکتا، جو چین ہم سب کو یہاں حاصل ہے کیا وہ وزیراعظم کو حاصل ہے؟

نہیں، ہر گز نہیں ! اس کو تو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں میری پارٹی میرے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ پاس نہ کر دے، وزارت چھن سکتی ہے، مگر الله کا نام کون چھین سکتا ہے ؟

یاد رکھیے کہ اس مجلس میں جو سرور حاصل ہے وہ یہاں سے اٹھنے کے بعد نہ رہے گا، طبیعت میں سرور، عبادت کی قبولیت کی علامت ہے، فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ، تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا۔

الله تعالیٰ مجھے اور آپ کو استقامت عطا فرمائے کسی گناہ کے باعث اپنے دروازے سے نہ ہٹا دے۔ میں نے بعض اہل علم کو دیکھا ہے ، کہتے ہیں کہ شیخ کامل کی صحبت میں بیٹھنے کے باوجود دل چاہتا ہے کہ اٹھ کر بھاگ جائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ ان سے ناراض ہے، ورنہ ان کا دل اچاٹ نہ ہوتا، بلکہ مسرور ہوتا۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم کسی طرح رات کے بارہ بجے تک ذکر الٰہی میں ذاکر وشاغل رہیں۔

الله کا ذکر بھی سیکھنے سے آتا ہے ۔ طالب کی ریاضت ایسی ہے جیسے زمین پودے کی جڑوں کو اپنی چھاتی کے اندر کھینچ کر رکھتی ہے اور شیخ کی توجہ ایسی ہے جیسے مالی پودوں کو پانی دیتا ہے ۔ دونوں چیزیں ہوں تو ترقی ہوتی ہے ۔

اگر کسی سے الله کا نام سیکھا جائے اور پھر کوٹھڑی (خلوت)میں ذکر الٰہی کیا جائے تو وہ لذت آتی ہے جو بادشاہ کو سرپر تاج شاہی رکھوا کر اور لاکھوں فوج ( جو اس کے ابرو کے اشارے پر کٹ مرنے کو تیار ہو ) رکھ کر بھی نصیب نہ ہو گی۔

نفی آسان اوراثبات مشکل ہے ۔ ہر چیز کا چین اس کے جمع کرنے سے ہوتا ہے ، لیکن الله کا ذکر چاہتا ہے کہ کوئی نہ ہو۔ جس کمرے میں بیوی بچے سوئے ہوئے ہوں، وہاں آدھی رات کو اٹھ کر ذکر کرنے میں وہ لطف نہیں آسکتا جو تنہا کمرے میں کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔

اگر کسی شخص کا مکان عالی شان ہے او راس میں صوفہ سیٹ اور ہر قسم کا سامان آسائش وغیرہ بھی موجود ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ان سب چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے اس شخص کو کتنی تگ ودو کرنی پڑی ہو گی ؟

درد سر کے واسطے صندل لگانا چاہیے
اس کا گھسنا اور رگڑنا درد سر یہ بھی تو ہے

ہر ایک کا دل چاہتا ہے کہ کمرہ خوب سجا ہوا ہو،تا کہ چین نصیب ہو،اس کے لیے کم ازکم دو ہزار روپیہ تو چاہیے1۔ روپیہ تب آئے گا جب کمائیں گے ۔ الله تعالیٰ کے نام میں کسی چیز کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے نام کا تقاضا یہ ہے کہ بے سروسامانی میں ہی اس کو یاد کیا جائے ۔ مثلاً ایک ایسا کمرہ جس میں نہ سورج چاند اور ستاروں کی روشنی، حتی کہ فانوس بھی روشن نہ ہو، وہاں ذکر الہٰی میں چین سب سے زیادہ ہو گا۔ معلوم ہوا کہ ذکر الله ماسوا الله سے انقطاع چاہتا ہے۔ اگر کسی کی بچی نے روٹی پکا دی جو آدھی کچی اور آدھی پکی تھی تو وہ شخص کھا تو جائے گا، مگر اس کو وہ مزہ نہ آئے گا جو ایک تجربہ کار عورت کی پکائی ہوئی روٹی میں آئے گا۔ بعض احباب کہتے ہیں کہ پہلے الله الله کرتے تھے، مگر لطف نہ آتا تھا۔ آپ نے جس طرح بتلایا اس طرح کرنے سے اب لطف آنے لگا ہے۔ الله کے پاک نام میں ہر مرد وزن کا حصہ ہے، لیکن اس میں لذت بھی سیکھنے سے آتی ہے۔ اطمینان قلب کے باقی سب نسخے غلط ہیں، صرف الله کا بتلایا ہوا نسخہ ٹھیک ہے۔

٭٭٭٭٭


1 یہ دو ہزار روپے کا ذکر اس زمانے کی بات ہے جب بھینس کی قیمت بیس سے پچیس روپے کی تھی۔(ادارہ)

Exit mobile version