نبیلہ بے قراری سے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ کمرے کے ایک کونے میں بچھے چھوٹے سے قالین پر نور، جویریہ اور فاطمہ بیٹھی اسے بے چینی سے کمرے میں مارچ پاسٹ کرتے دیکھ رہی تھیں۔ ان کے قریب ہی کرسی پر ہادیہ، اپنی گود میں ایک موٹا رجسٹر اور ہاتھ میں قلم اور کیلکولیٹر پکڑے بیٹھی تھی۔
’تم لوگ میری بات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے……!‘، آخر نبیلہ ان چاروں کے سامنے آ کر رکتے ہوئے الزامی انداز میں شروع ہوئی۔ ’آخر کیوں تم سب کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہمیں اپنے مستقبل کو آزاد، روشن اور محفوظ بنانے کے لیے آج سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نسرین آپا کا حال تم سب کے سامنے ہے اس کے باوجود تم لوگ ہو کہ ہوش میں ہی نہیں آ رہیں……ضرورت تو اس چیز کی ہے کہ اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیں مگر اپنے کاز کو کامیاب بنائیں……‘، وہ ایک بار پھر پر جوش انداز میں ان کے سامنے تقریر کر رہی تھی۔
’آپی…… ہم سمجھتے ہیں یہ سب…… مگر ابھی ہم کیا کر سکتے ہیں؟ میری تو جتنی سیوِنگز(بچت) تھیں، میں نے ساری دے دی ہیں……‘، ہادیہ بے چارگی سے بولی۔
’مگر اس کے باوجود ہم سب کے کل ملا کر بھی پیسے دس بارہ ہزار سے آگے نہیں بڑھ رہے…… اتنے تھوڑے پیسوں سے تو کچھ نہیں بنے گا……!‘، نبیلہ مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے بولی۔ پھر ہادیہ کی گود سے رجسٹر اٹھا کر اس کے مندرجات پر ایک بار پھر غور و خوض کرنے لگی۔ ’نور…! تم نے محض ۵۰۰ روپے ڈونیٹ کیے ہیں، کیا تمہارے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے……؟‘، اس نے اپنی ناک پر نیچے کو پھسلتا چشمہ پیچھے دھکیلتے ہوئے نور کی جانب دیکھا۔
اس بلا واسطہ سوال پر نور کے چہرے پر شرمندگی کی ایک لہر دوڑ گئی۔’آپی وہ…… میں دراصل…… کچھ کتابوں کے لیے پیسے جمع کر رہی تھی، اس لیے ابھی فوری تو میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں……آپ کہتی ہیں تو ابّو سے لے کر دے دوں گی……‘۔
’کیا……؟ دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ ہمارا بنیادی ترین نظریہ ہی یہ ہے کہ کسی مرد پر ڈپینڈ نہیں کرنا، کسی سے مدد نہیں مانگنی ، اور تم ہو کہ کمپین کے لیے چاچو سے پیسے مانگنے کی بات کر رہی ہو……؟!‘، نبیلہ کو تو جیسے بچھو نے ڈنک مار دیا تھا۔
’نہیں…… آپی……میں تو ابّو کی بات کر رہی ہوں……‘، نور اس کے غصّے پر بوکھلا گئی تھی۔
’کیوں تمہارے ابّو مردوں کی کیٹگری میں شامل نہیں ہیں کیا……؟‘، نبیلہ طنز سے بولی۔ اسے حقیقتاً نور پر شدید غصّہ آ رہا تھا۔ اتنی محنت، اتنی ذہن سازی، اتنی تقریروں کے باوجود وہ کند ذہن وہیں کی وہیں تھی۔’اصل میں سچی بات تو یہ ہے کہ عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ عورت ہی اپنے جیسی دوسری عورت کو ہرانے کے لیے مرد کی حلیف بن جاتی ہے۔ ورنہ کسی مرد کی کیا مجال کہ کسی عورت کی حق تلفی کر سکے، اس کے ساتھ زیادتی کر سکے۔ اب نسرین آپا کو ہی دیکھ لو، اگر ان کا واسطہ رخشندہ آنٹی جیسی عورت سے نہ پڑتا تو کبھی ان کی زندگی یوں خراب نہ ہوتی۔ اور اب ہم مل کر ان کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں تو تمہارے جیسے لوگ ساتھ نہ دے کر اپنی خود غرضی کا اظہار کرتے ہیں۔ تمہیں اپنی کتابوں کی پڑی ہے اور آپا کی کوئی فکر نہیں……بتاؤ ذرا تم میں اور رخشندہ آنٹی میں پھر کیا فرق رہ جاتا ہے……؟‘ ، اس نے بری طرح اسے رگید ڈالا تھا۔
’شرم کرو نور!…… کبھی تو اپنی بہنوں کا ساتھ دیا کرو‘، نور کے ساتھ بیٹھی جویریہ نے اس کی طرف گردن موڑ کر آہستہ سے کہا۔ اس کے لہجے میں دبا دبا غصّہ اور ملامت تھی۔ ہادیہ اور فاطمہ کی بھی ملامت بھری نگاہیں نور کو اپنے چہرے پر جمی محسوس ہو رہی تھیں۔ دکھ، شرمندگی اور خفّت سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔ آنکھوں میں نمی اتر آئی۔وہ نسرین آپا سے بہت محبت کرتی تھی، ان کا دکھ بھی دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتی تھی۔ وہ تو ان کے لیے خوشیاں ہی خوشیاں چاہتی تھی، اور یہاں نبیلہ اسے رخشندہ آنٹی سے ملا رہی تھی۔
’آپی……! میں آپا کی دشمن نہیں ہوں……! میں……میں تو آپا سے بہت پیار کرتی ہوں……‘، وہ کانپتے ہوئے لہجے میں بولی۔
’اچھا……! مگراپنے عمل سے تو تم ان سے صرف اور صرف دشمنی ہی کر رہی ہو‘، نبیلہ نے سخت انداز میں اسے جواب دیا۔ اس سے زیادہ سننے اور برداشت کرنے کی نور میں تاب نہیں تھی۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور بھاگتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی، اسے ڈر تھا کہ ایک سیکنڈ بھی مزید ان سب کے درمیان بیٹھتی تو پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیتی۔
’یہ ہے وہ نان سیریس ایٹی ٹیوڈ(غیر سنجیدہ طرزِ عمل) جس کی میں بات کر رہی ہوں……‘، اس کے جانے کے بعد نبیلہ دروازے کی سمت اشارہ کر کےغصّے سے بولی،’اگر تم میں سے کوئی اور بھی اپنے کاز کے ساتھ سچا نہیں ہے تو برائے مہربانی ، وہ بھی ابھی اٹھ کر چلا جائے۔ ایسے لوگ نفع پہنچانے کے بجائے ہمیشہ نقصان کرتے ہیں۔ اندر سے تحریک کو کمزور کرتے ہیں، دیمک کی طرح بنیادوں کو چاٹ جاتے ہیں……‘۔
’……کان کھول کر سن لو تم سب! اگر تم میں سے کوئی ایک بھی میرا ساتھ نہ دے تو بھی میں اکیلی ہی اپنے کاز کے لیے لڑتی رہوں گی……! یہاں تک کہ اپنے حقوق منوا لوں یا پھر اس مقصد کی خاطر اپنے آپ کو ختم کر ڈالوں…… مگر میں کبھی اپنے نظریہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گی! اب تم میں سے جس نے میرا ساتھ دینا ہے، دے!…… کوئی نہیں دے سکتا تو ابھی بتا دے، اس کے لیے یہ دروازہ کھلا ہے……!‘۔
آستینیں کہنیوں تک موڑے، وہ اپنی جگہ پر مضبوطی سے جمی کھڑی تھی۔ اس کا چشمہ ایک بار پھر پھسل کر ناک کی پھنک کی طرف گامزن تھا ، ایک انگلی سے چشمے کو واپس اس کی جگہ پر دھکیلتے ہوئے وہ دوسرے ہاتھ سے کمرے کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصّے سے بولی۔ اس کا لہجہ اس کے عزم کا غماز تھا، اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اسے کوئی پروا نہ تھی کہ کوئی اس کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں، وہ تنہا ہی جان لڑانے پر آمادہ تھی۔ سامنے بیٹھی تینوں لڑکیاں آنکھوں میں عقیدت و مرعوبیت کے جذبات لیے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ یہ وہ عظمت کا مینار تھا جس نے انہیں ان کے حقوق سے نہ صرف آگہی اور شعور بخشا تھا بلکہ انہیں حاصل کرنے کے لیے قوت و حوصلہ اور رہنمائی بھی عطا کی تھی۔
’میں آپ کے ساتھ ہوں آپی!…… ہر قدم پر……!‘، شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر ہادیہ بے قراری سے بول اٹھی۔
_______________________
٭٭٭٭٭
اعلانِ عام
ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اہالیانِ ہاشمی ہاؤس، ارشد احمد ولد احمد ضیاءالدین جو کہ سابق بر ایں؍قبلِ ہذا؍اس سے قبل، ہمارا داماد تھا، سے مکمل اظہارِ لاتعلقی اور برأت کرتے ہیں۔ ارشد احمد ولد احمد ضیاءالدین ایک دغا باز اور جھوٹا شخص ہے اور ہم اعلیٰ حکام سے اس کے جرائم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ نیز ہم اس شخص کے ہر قسم کے افعال و اعمال سے مکمل اظہارِ برأت کرتے ہیں۔آئندہ اس شخص کو کسی بھی اعتبار سے اہالیانِ ہاشمی ہاؤس سے منسوب نہ سمجھا جائے۔
سربراہ،
ہاشمی ہاؤس
٭٭٭٭٭
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے کتنی دیر سے اس اشتہار کو پڑھ رہے تھے۔ ایک بار، دو بار، سہ بار…… انہوں نے اخبار کا وہ صفحہ علیحدہ کیا اور اسے احتیاط سے تہہ لگا کے اپنے بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ لمحہ بھر کو تو پورا کمرا ان کی نظروں کے سامنے گھوم سا گیا۔ انہیں واضح طور پر اپنی ٹانگوں میں کپکپی محسوس ہو رہی تھی۔ اپنی کمزوری پر قابو پاتے ہوئے انہوں نے میز کے ساتھ رکھی اپنی چھڑی اٹھائی اور احتیاط سے قدم اٹھاتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ دروازے کی چولوں کو بہت اچھی طرح تیل لگایا گیا تھا، دروازہ بے آواز کھل گیا۔ سامنے ہی لاؤنج میں صولت بیگم اور سلمیٰ بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ارد گرد اور کوئی بھی نظر نہ آ رہا تھا۔
’ابوبکر……!!……عمیر!!‘، وہ وہیں دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ کر کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز میں بیٹوں کو پکارا، ان میں آگے جانے کی ہمت نہیں تھی۔ ان کی آواز پر صولت بیگم نے چونک کر سر اٹھایا۔
’ابّا جی!…… کیا ہوا؟‘، وہ سرعت سے اٹھ کر ان کے قریب آئیں،’کسی چیز کی ضرورت ہے کیا……؟ آپ مجھے آواز دے دیتے……‘۔
’نہیں…… ابوبکر کو بھیجو میرے پاس……کہاں ہے وہ؟‘، وہ سنجیدگی سے بولے۔ ان کے سنجیدہ لہجے میں کچھ ایسی گھمبیر تا تھی جس نے صولت بیگم کو ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا۔
’میں بلاتی ہوں ان کو، شاید لان میں بیٹھے ہیں……‘، یا اللہ خیر! اب کوئی نیا مسئلہ نہ پیدا ہو گیا ہو، وہ دل ہی دل میں دعائیں کرتی ہوئی مڑ گئیں۔ وہ چند ثانیے وہیں کھڑے رہے پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے واپس اندر چلے گئے۔ ہاتھ میں تھاما ہوا اخبار کا صفحہ انہوں نے اپنی میز پر رکھ دیا، اور پھر کرسی گھسیٹ کر وہیں بیٹھ گئے ۔
_______________________
گاڑی کے پے در پے تین چار ہارن دینے پر گھر کے کسی کونے سے سلطان بھاگتا ہوا آیا اور تیزی سے مین گیٹ کھولنے لگا۔ گیٹ کھلتے ہی جاوید صاحب کی گاڑی اندر داخل ہوئی اور پورچ میں جا رکی۔ وہ اندر آتے ہوئے ابوبکر صاحب کو لان میں بیٹھا دیکھ چکے تھے۔ اور ابوبکر صاحب پر نظر پڑتے ہی انہیں وہ چار مختلف کالز یاد آ گئیں جو مختلف اوقات میں انہیں اور عثمان صاحب کو موصول ہوئی تھیں۔ گاڑی لاک کر کے وہ گھر کے اندرونی حصّے کی جانب جانے کے بجائے سیدھا ابوبکر صاحب کی طرف آ گئے۔
’السلام علیکم ورحمۃ اللہ……آؤ جاوید……بیٹھو……چائے پیو گے؟‘، انہیں آتا دیکھ کر ابوبکر صاحب نے مسکرا کر استقبال کیا۔
’وعلیکم السلام بھائی جان…… کوئی پلائے گا تو ضرور پئیں گے…… ‘، وہ بھی جواباً مسکراتے ہوئے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئے۔
’کیوں نہیں پلائیں گے……؟……حسن!……‘، انہوں نے کسی بچے کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے حسن کو آواز دی۔اسی وقت لاؤنج کا باہر کی جانب کھلنے والا دروازہ کھلا اور صولت بیگم نمودار ہوئیں۔
’سنیے……! آپ کو ابّا جی بلا رہے ہیں‘، انہوں نے برآمدے میں کھڑے کھڑے انہیں مطلع کیا۔
’ابّا جی بلا رہے ہیں……‘، ابوبکر صاحب نے ہلکی آواز میں دہرایا، پھر جاوید صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے،’تم آؤ گے اندر……؟‘۔
’نہیں…… میں یہیں آپ کا انتظار کرتا ہوں۔ آپ بات سن آئیں‘، جاوید صاحب کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولے۔ ابوبکر صاحب جانے کے لیے مڑ گئے۔’بھائی جان! میں نے آپ سے ضروری بات کرنی ہے، فارغ ہو کر آئیے گا ضرور…… میں انتظار کر رہا ہوں‘، انہیں جاتا دیکھ کر وہ یاد دہانی کراتے ہوئے بولے۔ ابوبکر صاحب سر ہلاتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گئے۔
_______________________
’آؤ ……آؤ……تشریف لاؤ‘، وہ جیسے ہی ابّا جی کے کمرے میں داخل ہوئے ، ابّا جی نے تیز لہجے میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ان کے انداز پر قدرے حیرت سے ابوبکر صاحب نے پہلے ان کی جانب دیکھا اور پھر اپنے پیچھے پیچھے کمرے میں داخل ہوتی صولت بیگم کی جانب۔
’آؤ……رک کیوں گئے؟…… یہ دیکھو……!‘، ابّا جی نے اپنے سامنے رکھی میز سے اخبار کا ایک پرچہ اٹھا کر ان کی طرف بڑھایا۔ ابوبکر صاحب کو سمجھ تو کچھ نہ آیا مگر انہوں نے آگے بڑھ کر اخبار لے لیا۔ ان کی نظریں تیزی سے اخبار کے مندرجات پر پھسل رہی تھیں۔ یہ اشتہارات والا صفحہ تھا، انہیں اس میں قابلِ توجہ کوئی بھی چیز نظر نہ آ رہی تھی۔ وہ ابّا جی سے پوچھنے ہی والے تھے کہ ایک کونے میں بنے بڑے سے ڈبّے میں ثبت ایک مہر کے نشان اور اس کے نیچے لکھے الفاظ ’سربراہ ہاشمی ہاؤس‘ نے ان کی توجہ کھینچ لی۔ ابّا جی ان کے چہرے پر نظریں گاڑے بیٹھے تھے۔ ان کی نگاہوں سے ان کے چہرے کے بدلتے تاثرات مخفی نہ رہے تھے۔
’اس کا مطلب پوچھ سکتا ہوں میں؟‘، وہ اپنے خاص طنزیہ لہجے میں بولے۔
’جی……؟ ……میں……میں خود نہیں جانتا ابّا جی……!‘، ابوبکر صاحب نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور بھر بے چارگی سے بولے۔
’گویا کہ تمہیں بھی اخبار سے ہی یہ اطلاع ملی ہے؟‘، ابّا جی گویا تصدیق کرا رہے تھے۔
’نہیں…… میں……‘،
’سیاق و سباق سے باخبر ہو؟‘، وہ ابوبکر صاحب کو بولنے کا موقع دیے بغیر سخت لہجے میں بولے۔
’جی…… مگر……‘،
’مگر مجھے بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے……؟‘،
’نہیں ابّا جی……یہ بات نہیں ہے……‘،
’تم نے سوچا ہو گا اخبار سے پتہ چل ہی جائے گا، مجھے کیا ضرورت ہے زحمت کرنے کی۔ گھر کی خبریں جو گھر والوں سے بھی چھپائی جاتی ہیں، ان کا معاشرے میں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ گھر کے بڑوں کو بتانے کے بجائے، کسی قسم کے صلاح مشورے کے بجائے باہر اعلانِ عام کیے جا رہے ہیں…… شاباش ہے بیٹا! اتنی عمر گنوا دی، عقل کی دو باتیں سیکھ نہ سکے۔ میں تو چلو بڈھا ہو گیا ہوں ، مجھ سے کیا مشورہ کرنا، لیکن اخبار میں اشتہار لگوا کر تم نے آبا ؤ اجداد کی عزت اور نیک نامی کو چار چاند لگا دیے ہیں……‘ ،وہ جلال میں آ چکے تھے، اس وقت ان سے کوئی بھی بات کرنا عبث تھا۔ ابوبکر صاحب بے بسی سے گردن جھکائے ان کی سخت سست سن رہے تھے۔ صولت بیگم اپنی جگہ سن کھڑی تھیں۔ شوہر کی ایسی درگت بنتے انہوں نے کب دیکھی تھی۔ خود ابّا جی کو بھی ایسے شدید غصّے اور طیش کے عالم میں وہ ایک عرصے کے بعد دیکھ رہی تھیں۔ ابّا جی مزاجاً غصّے کے تیز تھے، مگر ریٹائرمنٹ کی زندگی میں وہ رفتہ رفتہ ایک بہت پرسکون اور دھیمی طبیعت کے حامل ہو گئے تھے۔ نجانے اخبار میں ایسا کیا تھا جس کے باعث وہ یوں بھڑک اٹھے تھے۔ غصّے سےتیز تیز بولتے ہوئے ان کا سانس پھول گیا تھا، چہرہ سرخ پڑ گیا تھا، سینے میں بھی شاید تکلیف تھی کہ وہ اونچا اونچا بولتے ہوئے بھی اپنا بایاں ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے تھے۔ سانس اس قدر پھول گیا تھا کہ وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کراپنا سینہ مسلنے لگے۔
’ابّا جی……!‘، صولت بیگم نے ان کی حالت دیکھتے ہوئے پریشان ہو کر انہیں پکارا۔ پھر جلدی سے میز پر رکھا گلاس اٹھا کر اس میں پانی انڈیلا اور ابّا جی کے سامنے پیش کر دیا۔ ابّا جی نے کانپتے ہاتھوں سے گلاس پکڑا، مگر ان کے ہاتھوں کی لرزش اتنی زیادہ تھی کہ گلاس بس گرنے ہی والا تھا۔ ابوبکر صاحب نے جلدی سے ان کے قریب آ کر گلاس پکڑ لیا اور ان کے لبوں سے لگا دیا۔ ساتھ ساتھ وہ دوسرے ہاتھ سے ان کی کمر سہلا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ان کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تو ابوبکر صاحب نے انہیں سہارا دے کر کرسی سے اٹھایا اور ان کے بستر پر تکیوں کے سہارے لٹا دیا۔ ابّا جی بھی جیسے اپنی ساری توانائی خرچ کر چکے تھے، وہ خاموشی سے نیم دراز ہو گئے۔ ابوبکر صاحب اب ان کے سرہانے بیٹھے آہستہ آہستہ انہیں شروع سے آخر تک ساری کہانی سنا رہے تھے۔صولت بیگم فکر مندی سے ان دونوں کے قریب ہی بیٹھ گئیں۔
سارا معاملہ ان کے گوش گزار کر کے وہ خاموش ہوئے تو کمرے میں ایک جامد خاموشی چھا گئی۔ ابّا جی سرخ چہرہ لیے بمشکل اپنے اوپر ضبط کیے لیٹے تھے، ابوبکر صاحب اپنی سوچوں میں گم تھے۔ انہیں عمیر کے ساتھ ساتھ اپنے آپ پر بھی غصّہ آ رہا تھا۔ انہوں نے عمیر کو صاف صاف کیوں نہ کہہ دیا تھا کہ نسرین کے معاملے کو وہ خود دیکھ لیں گے۔ کیوں انہوں نے اس پر اور اس کی معاملہ فہمی پر اعتماد کر لیا۔ اور وہ بھی ایسا احمق نکلا کہ اخبار میں اشتہار لگوانے سے پہلے اس نے ان سے پوچھنا تک گوارا نہ کیا۔ انہیں رہ رہ کر اس پر غصّہ آ رہا تھا۔
’بلاؤ اس ناہنجار کو……‘، کافی دیر بعد ابّا جی کی آواز گونجی۔
چند منٹ بعد عمیر اور جاوید صاحب اکٹھے ہی کمرے میں داخل ہوئے۔ جاوید صاحب شاید باہر انتظار کر کر کے تھک چکے تھے کہ اندر ہی آ گئے۔ ان دونوں کے پیچھے پیچھے زوار بھی تھا، ہاتھ میں لیپ ٹاپ اٹھائے وہ خاموشی سے عمیر کے پرسنل سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی عمیر نے اندر موجود تینوں نفوس کے چہروں کے تاثرات اور کمرے کی فضا سے اندازہ لگا لیا تھا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے جس کی جوابدہی کے لیے اسے طلب کیا گیا ہے۔ ایسی طلبی کے لیے وہ تیار تھا، بلکہ ایک حد تک منتظر بھی۔
چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ سجائے اس نے اونچی آواز میں سب کو سلام کیا۔ پھر میز کے قریب رکھی کرسی گھسیٹ کر اس پر براجمان ہو گیا۔’کیا حال ہے ابّا جی؟ آج آپ کو کیسے میری یاد آ گئی؟‘۔
ابّا جی کا چہرہ غیض و غضب سے مزید سرخ ہو گیا۔ ’تم خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ تمہاری یاد کیسے آئی……‘، وہ اپنے بستر پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ابوبکر صاحب کے ہاتھ سے اخبار لے کر عمیر کی جانب اچھال دیا۔ اخبار کا صفحہ اس کے پاؤں کے قریب جا کر گرا۔’نالائق……! بد بخت……!سمجھ کیا رکھا ہے تم نے خود کو؟……کس سے پوچھ کر تم نے ہماری عزت کا اخبار میں اشتہار لگوایا ؟‘۔
نجانے عمیر اپنی اس خاطر تواضع کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا یا نہیں، لیکن اس وقت اس کا چہرہ بالکل سپاٹ ہو گیا تھا، ہر قسم کے جذبات و احساسات سے یکسر خالی۔ اس نے جھک کر اخبار کا چرمرایا ہوا صفحہ اٹھایا اور اس کی تہیں سیدھی کر کے وہ اشتہار بالکل سامنے لے آیا جو اس پورے تنازعے کی جڑ تھا۔
’……میں کہتا ہوں کس نے تمہیں یہ اختیار دیا کہ تم اس طرح اپنی مرضی سے فیصلے کرتے پھرو؟…… کسی سے پوچھنا، مشورہ کرنا، اطلاع دینا……کسی چیز کی تم نے زحمت نہیں کی……لے کر اخبار میں تماشا لگوا دیا پورے خاندان کا…… ارے اتنی ہی تمہارے اندر عقل ہوتی ، گھر کے فیصلے کرنے کی اہلیت اور قابلیت ہوتی…… تو ہم تمہیں سر آنکھوں پر نہ بٹھاتے……؟……قطعی احمق……گدھے ہو تم……خر دماغ……!‘، غصّے سے بے قابو ہوتے ہوئے ابّا جی کی حالت ایک بار پھر غیر ہو رہی تھی۔
’آپ کا بی پی ہائی ہو رہا ہے ابّا جی……آپ لیٹ جائیں بس آرام سے……‘ ،ابوبکر صاحب نے انہیں کندھوں سے پکڑ کر دوبارہ لٹا دیا۔
’ہٹ جاؤ ابوبکر……چھوڑو مجھے……آرام میرے نصیب میں کہاں ……؟ جن باپوں کی ایسی نالائق اولاد ہو، انہیں کب آرام ملتا ہے…؟‘، ابّا جی اپنا ناتواں وجود ابوبکر صاحب کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولے۔
’آپ لیٹیں ابّا جی…… میں خود بات کرتا ہوں اس سے……آپ بس خود کو ذرا پر سکون رکھیں‘، ابوبکر صاحب نے زبردستی انہیں لٹا دیا اور پھر عمیر کی جانب مڑے۔
’بھائی جان! یہ کیا چکر ہے سارا……؟ میں نہیں سمجھا……‘، جاوید صاحب جو اب تک خاموشی سے دیکھ رہے تھے، آخر کار بول اٹھے۔ ان کے سوال پر عمیر نے متعجب اندا سے ان کی جانب دیکھا اور پھر ہاتھ میں پکڑا اخبار کا صفحہ ان کی جانب بڑھا دیا۔
’لیجیے……آپ بھی دیکھ لیجیے ……کہیں محروم نہ رہ جائیں‘۔
’عمیر……! جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تم نے دعویٰ کیا تھا کہ تم نسرین کے معاملے کو ایسے حل کرو گے جیسے بیٹیوں کے معاملات حل کیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے بجائے کوئی سکھ پہنچانے کی کوشش کرو گے……تم چاہتے تھے کہ میں تم پر اعتماد کروں……! مگر یہ جو کچھ تم نے کیا ہے اس سے نسرین کے مستقبل کو تو جو نقصان پہنچے گا سو پہنچے گا، مگر خاندان کی جو بدنامی ہو گی، وہ بھی کم نہیں ہے۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ کس چیز کا بدلہ لے رہے ہو تم مجھ سے……؟‘، ابوبکر صاحب کا لہجہ ہموار مگر سخت تھا۔
’جی……بتا سکتا ہوں۔ اگر آپ سب مجھے جی بھر کر کوس چکے ہوں اور برا بھلا کہہ کر اپنے سینے ٹھنڈے کر چکے ہوں تو میں بتا سکتا ہوں کہ میں نے کیا کیا ہے اور کیوں کیا ہے……‘، عمیر پر سکون انداز میں بولا۔ اس کی بات پر طیش میں آ کر ایک بار پھر ابّا جی نے اٹھنا چاہا، وہ اسے کوئی سخت سا جواب دینا چاہتے تھے، مگر ابوبکر صاحب نے ایک بار پھر کندھوں سے پکڑ کر انہیں لٹا دیا۔
’تو پھر بولو……ہم سن رہے ہیں……‘۔
’سب سے پہلے تو چند چیزیں …… بلکہ تصورات……ہیں جو آپ لوگوں کو خود اپنے ذہن میں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ واضح نہ ہوں گے، آپ لوگ میری حکمت عملی نہیں سمجھ سکتے‘، وہ ایک لمحے کو رک کر جانچتی ہوئی نگاہ سے ابوبکر صاحب کی طرف دیکھا، پھر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا،’پہلی بات یہ کہ اس سارے معاملے میں زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی ہے…… یعنی نسرین مظلوم ہے اور ارشد ظالم۔ ہمارا مقصد نسرین کے ساتھ کی گئی زیادتی کا ازالہ ہے……‘۔
’ہم جانتے ہیں یہ باتیں……تم مطلب کی بات کرو…‘، جاوید صاحب اس کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔ اشتہار دیکھ کر ان کا بھی پارہ ہائی ہو گیا تھا۔
’……یہ باتیں سمجھنے کی ہیں۔ آپ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ یہ بات سمجھتے ہیں مگر ویسے نہیں سمجھتے جیسا کہ سمجھنے کی ضرورت ہے……‘، عمیر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولا۔
’اچھا……اور اگر ہم یہ باتیں ویسے سمجھنا شروع ہو جائیں جیسے تم سمجھانا چاہتے ہو تو کیا حاصل ہو گا……؟‘، ابوبکر صاحب کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے تھے۔
’تو یہ حاصل ہو گا کہ پھر ہم دنیا کو بھی اپنا نقطۂ نظر سمجھا سکیں گے……آپ سمجھتے ہیں میں نے یہ اشتہار لگوا کر بڑی حماقت کا کام کیا ہے، مگر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے کیا فوائد ہیں۔……زوار‘،اس نے مڑ کر زوار کو کوئی اشارہ کیا۔زوار فوراً آگے بڑھا اور ہاتھ میں تھاما سمارٹ سا لیپ ٹاپ تپائی پر رکھ کے آن کر دیا۔ تپائی اس نے اٹھا کر ابّا جی کے بستر کے سامنے یوں رکھ دی کہ ابّا جی اور ابوبکر صاحب دونوں بآسانی سکرین کو دیکھ سکتے تھے۔’ابھی آپ دیکھیں گے کہ ہم نے اور کیا کچھ کیا ہے……نسرین کامعاملہ سنجیدہ معاملہ ہے اور میں گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل صرف اسی کو اپنی واحد ترجیح بنا کر اس کے حل کی کوششوں میں مصروف ہوں……۔‘
چند کلکس کے بعد لیپ ٹاپ کی سکرین پر ایک ونڈو کھلی تھی۔یہ ہاشمی ہاؤس آفیشیل کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ تھا۔ سامنے ہی ایک نیلے ڈبّے میں تحریر تھا:
’’دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ لیکن بیوی کو دھوکے میں رکھ کر دو دو شادیاں کرنا اور ایک بیوی کو حقوق دینا جبکہ دوسری کو یکسر محروم رکھنا یقیناً ظلم و زیادتی کی انتہا ہے۔ ہم مزید یہ ظلم و زیادتی قطعاً برداشت نہیں کریں گے۔ ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا! ‘‘
#ظالمو جواب دو! ظلم کا حساب دو!
’’کینیڈین سونے کی چڑیا سے شادی کرنے کے باوجود ارشد احمد بے اولاد رہا۔ اپنی محرومی دور کرنے کے لیے اس نے سوچا کیوں نہ پاکستان سے کسی معصوم لڑکی کا شکار کیا جائے۔ یوں پاکستان میں اولاد بھی ہو گی جبکہ کینیڈا میں من پسند زندگی اور بیوی بھی……‘‘
#چپڑی اور دودو!
’’ارشد احمد کو اپنی دھوکا دہی اور فراڈ کے لیے کینیڈا اور پاکستان…… دونوں ملکوں میں جواب دہی کرنا پڑے گی۔ ہم ہر گز اسے یوں آزاد نہیں چھوڑیں گے!‘‘
#ارشد احمد انصاف کے کٹہرے میں!
عمیر تپائی کےقریب اکڑوں بیٹھا، ایک انگلی ٹچ پیڈ پر رکھے نیچے کی جانب سکرول کرتا جا رہا تھا۔ ہر ٹویٹ کے نیچے لوگوں کی ٹویٹس اور جوابی ٹویٹس کی ایک طویل فہرست تھی۔
’میرے خدا!!……اب میں سمجھا کہ امریکہ تک سے خاندان کے افراد کے فون پر فون کیوں چلے آ رہے ہیں……! ‘، جاوید صاحب جو عمیر کے کندھے کے اوپر سے اچک کر دیکھ رہے تھے، اپنا سر پکڑ کر رہ گئے۔ عمیر نے ان کی جانب دیکھا اور پھر یکے بعد دیگرے ابّا جی اور ابوبکر صاحب کی جانب۔ کسی کے چہرے کے تاثرات بھی حوصلہ افزا نہیں تھے۔
’میں آپ لوگوں سے اپنی پوری حکمت عملی سمجھنے اور اس کی کما حقہ قدر پہچاننے کی توقع نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود……اس کے باوجود میں آپ سب کو یہ یاد دلانا چاہوں گاکہ آج سے تقریباً ایک سال پہلے ہم جس آئین پر متفق ہوئے تھے، اس آئین نے اور ۳ ماہ قبل اس گھر کے افراد کے ووٹس نے مجھے یہ حق دیا تھا کہ میں اس معاملے میں اپنی صوابدید اور اختیار استعمال کروں۔ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی، نہ کسی کی حق تلفی کی ہے…… محض اپنا فرض ادا کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے……اور اس کے بدلے میں آپ سے میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے گھر کی جمہوری اور آئینی روایات کے مطابق میرا جو حق بنتا ہے، وہ مجھے دیا جائے۔ مجھے بے جا تنقید اور سب و شتم کا نشانہ نہ بنایا جائے، بلکہ میرے طریقۂ سیاست اور حکمت عملی کو غیر جانبداری سے……تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں……پرکھیں…… اور میرا ساتھ دیں‘، وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا، اس کے لہجے میں خلافِ عادت بہت عاجزی تھی۔
’مگر اس حکمت عملی میں ’’حکمت‘‘ کیا ہے……یہ بھی ذرا واضح کر دو……!‘۔
’بھائی جان! یہ اکیسویں صدی ہے۔ کمپیوٹر ایج ہے۔ پراپیگنڈے کا زمانہ ہے۔ جانتے ہیں جب آپ نے یہ سارا معاملہ مجھے بتایا تو میرا کیا کرنے کو جی چاہا تھا؟ میرا جی چاہا کہ میں یہاں سے پہلی فلائٹ پکڑ کے کینیڈا پہنچوں اور ارشد کو گولی مار دوں۔ مگر پھر میں نے غور کیا…… آج کے زمانے میں غیرت کے نام پر قتل کر کے آدمی ہیرو نہیں بنتا، بلکہ مجرم بن جاتا ہے۔ آج کے زمانے میں بدلہ لینے کے طریقے مختلف ہو گئے ہیں۔ اور میں ارشد سے نسرین کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ یہ نہیں چاہتا کہ وہ چپ چپیتے نسرین کو طلاق دے دے اور نسرین محض اس کے بیٹے کو پالتے پالتے ہی خاموشی سے گھٹ گھٹ کر ساری زندگی گزار دے۔ ایسے میں فائدہ کس کو ہو گا؟ آپ ہی بتائیں……! ارشد کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ تو آرام سے اپنی زندگی جیتا رہے گا، بلکہ یہی تو وہ چاہتا ہے کہ ایسا ہو جائے۔ ہاں نسرین کے نام کے ساتھ مطلقہ کا اضافہ ہو جائے گا……‘۔
’اب جو کچھ میں نے کیا ہے اس کو آپ لوگ خاندان کی بدنامی کا باعث سمجھ رہے ہیں۔ مگر آپ یہ دیکھ ہی نہیں رہے کہ میں یہ معاملہ پوری دنیا کے سامنے لے آیا ہوں۔ میں نے میڈیا کو ارشد اور اس کے گھرانے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ کینیڈا تک اس آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ اس کی کینیڈین بیوی تک بھی یہ خبر پہنچے گی، وہاں بھی اس کی ساکھ متاثر ہو گی۔ میں نے ہیومن رائٹس والوں سے رابطے کیے ہیں، میں نے معاشرے کو ایک فریق بنا کر ارشد اور اس کے گھرانے کو معاشرے سے علیحدہ کر دیا ہے۔آپ دیکھیے گا ……میں ان کو اتنا بد نام کروں گا کہ لوگ ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیں گے۔ اس کے بھائی کو کوئی بیٹی دینے والا نہیں ملے گا۔ لوگ ان سے ملنا جلنا پسند نہیں کریں گے۔ وہ لوگ معاشرے میں دغا باز، فریبی اور فراڈیے کے طور پر جانے جائیں گے، جو کہ وہ ہیں بھی…… یہ اکیسویں صدی ہے بھائی جان، اور اس میں جنگ کے اصول بہت بدل گئے ہیں……‘، وہ پر جوش انداز میں بول رہا تھا۔ باقی سب خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔ نجانے وہ ٹھیک کہہ رہا تھا یا غلط، مگر جو کچھ بھی تھا، اب تو وہ کر چکا تھا۔
(جاری ہے ان شاء اللہ)