دن ہفتوں میں بدلنے لگے، اور ہفتے مہینے میں بدل گئے۔ ایک ماہ تک عبادہ کا کچھ پتا نہ لگا۔ ابوبکر نے پاکستان میں اپنا قیام مزید لمبا کرلیا۔ سب گھر والے ہی پریشان تھے۔ آخر ایک ماہ بعد اچانک کوئی شخص اس کا خط لے کر آیا۔ اس نے بتایا تھا کہ وہ وہاں خیریت سے ہے اور بہت خوش اور مطمئن ہے۔ اس نے وہاں اپنے مستقل رہنے کے حوالے سے بھی لکھا تھا اور یہ کہ وہ اپنی تمام زندگی اسی راستے پر گزارنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔اور اس نے اپنے خط میں دو تین ماہ بعد اپنے والدین سے ملنے آنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔
اس کا خط پڑھ کر دونوں گھروں میں کہرام مچ گیا۔ ’یہ عبادہ نے کیا کیا‘؟ ’اتنے شاندار مستقبل کی امید کو لات مار کر کیوں چٹیل پہاڑوں کو اپنا مسکن بنانے کا فیصلہ کرلیا‘؟ ’کیوں ایسی عمر میں اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر چلا گیا جب وہ ان کا سہارا بننے کے قابل ہوگیا تھا‘؟ ’کیوں اس نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کردیا‘؟ ……۔
احمد صاحب نے مرتضیٰ صاحب سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر لڑکا ’سدھر‘ جاتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ نور کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے پر تیار نہیں۔ سب گھر والے ہی ان کی بات سے پریشان تھے۔ امینہ خالہ اور خالو جان نے اس کو خط لکھ کر سمجھایا اور حالات کی نزاکت اور مصلحت کے تقاضے بھی سمجھانے کی کوشش کی مگر اس کی جانب سے ابھی تک جوابی خط موصول نہ ہوا تھا۔ سب کو ہی اب اس کے خط کا انتظار تھا۔
گاڑی سنگلاخ پہاڑوں سے گزر رہی تھی۔ کسی کسی جگہ سبزہ بھی نظر آجاتا اور کھیتوں میں کام کرتے مقامی افراد بھی۔ عبادہ یہاں آکر بہت خوش تھا اور اپنے آپ کو دین سے بہت قریب محسوس کرنے لگا تھا۔
گاڑی ایک کھیت کے سامنے رکی۔ عبادہ گاڑی سے نیچے اترا۔ چہرے پر داڑھی کی سنت سجائے، سر پر کالی پگڑی پہنے، کندھے پر کلاشنکوف لٹکائے، وہ اپنے حلیے ہی سے پہچانا جارہا تھا۔اس کو دیکھ کر دو مقامی افراد لپک کر اس کی جانب آئے اور بڑی گرم جوشی سے ملے۔
بھائی! ہمارے ساتھ کچھ خواتین بھی ہیں۔ سفر میں ہیں، کیا رات ادھر رک سکتے ہیں؟ عبادہ نے ٹوٹی پھوٹی مقامی زبان میں بولنا چاہا۔ مقامی زبان سیکھنے اور اسی زبان میں گفتگو کرنے کی کوشش کرنا بھی اس کی تربیت کا حصہ تھا۔
ان دونوں افراد نے ان سب کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اپنے بچوں کے ذریعے خواتین کو زنان خانے میں بھجوا دیا اور عبادہ اور اس کے ساتھ موجود ساتھی کو اپنے ساتھ بیٹھک میں لے آئے۔ چائے پلائی، کھانا پیش کیا اور کھانا کھلانے کے بعد آرام کے لیے بستر بچھا دیے۔ عبادہ انجان علاقے ، انجان لوگوں کی ایسی مہمان نوازے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
’’عثمان بھائی! کیا یہاں تمام مقامی افراد ایسے ہی ہوتے ہیں‘‘؟
’’جی بھیا! یہاں کی اکثر مقامی آبادی ایسی ہی ہے‘‘۔ عثمان بھائی نے مسکرا کر جواب دیا۔ ’’کسی بھی وقت آپ کسی بھی مقامی کے گھر اتر جائیں تو آپ کو ایسی ہی یا اس سے بھی بڑھ کر مہمان نوازی نصیب ہوگی، ان شاء اللہ‘‘۔
عبادہ خاموشی سے بستر پر لیٹ گیا اور لاشعوری طور پر یہاں کا موازنہ اپنی شہری زندگی سے کرنے لگا۔ شاید اللہ تعالیٰ کو یہاں کے لوگوں کی سادگی، ہمدردی، مہمان نوازی، دین سے محبت اور مادیت کے فتنے سے دور جیسے اخلاق ہی پسند آئے تھے ، جس کی وجہ سے ان سے مجاہدین کی نصرت کا اتنا بڑا کام لیا۔
عبادہ کچھ عرصہ قبل ہی ابتدائی تدریب (ٹریننگ) سے فارغ ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس کی ناز و نعم سے بگڑی عادتیں کافی حد تک سنور گئی تھیں۔پھر اسے دورۂ شرعیہ کرایا گیا اور اب وہ امیر صاحب کے پاس جارہا تھا تاکہ وہ اس کو کسی شعبے سے منسلک کردیں۔
بریک کی گھنٹی بجی اور نور اپنی کتابیں سمیٹ کر کلاس روم سے باہر نکلی۔ اس کی سہیلیوں کا گروپ آج کلاس روم کے آخر میں بیٹھا تھا لہٰذا وہ پچھلے دروازے سے پہلے ہی باہر نکل چکی تھیں۔ نور کاریڈور سے گزر کر کالج گراؤنڈ میں آئی تو قریب ہی اس کا گروپ اپنے مخصوص مقام پر، برگد کے درخت کے نیچے بیٹھا خوب زور و شور سے کسی موضوع پر بحث کرتا نظر آیا۔ نور بھی ان کے قریب ہی درخت کے سائے میں بیٹھ گئی۔
’’یار! لیکن اس صورت میں ہم پاکستان سے تو ہاتھ دھو بیٹھتے!‘‘ فارعہ اونچی آواز سے بولی۔
’’فارعہ! کیا یہ انسانیت ہے کہ آپ کے مسلمان پڑوسی کے گھر ڈاکو گھس آئیں اور آپ بجائے ان کی مدد کرنے کے، الٹا اپنا ہی گھر ڈاکوؤں کو پناہ گاہ کے طور پر فراہم کردیں تاکہ وہ آپ کے پڑوسی کی جان مال اور عزت سے کھل کر کھیلے، عورتوں کو قید کرے، مردوں کو قتل کرے، بچوں کو یتیم کرے اور وہاں سے جو بھی بھاگ کر آپ کی پناہ حاصل کرنے آپ کے گھر کی طرف آئے کہ یہ میرا مسلمان بھائی ہے، یہ میری مدد ضرور کرے گا، تو اسے پیسوں کے عوض ڈاکوؤں کے حوالے کردیا جائے……!! کیا اس سے بڑھ کر غداری ہوسکتی ہے؟ کیا اسے ہی انسانیت کہتے ہیں؟‘‘ فاطمہ غصے سے بولی۔ ’’ کیا پاکستان کو بچانا اتنا ہی اہم تھا؟ اور پھر اصل سوال یہ کہ کیا یوں پاکستان بچ گیا‘‘؟؟؟
’’اف! کس بات پر اتنی گرما گرم بحث ہورہی ہے؟‘‘ نور نے ہنستے ہوئے دریافت کیا۔
’’اس بات پر کہ افغانستان پر امریکی حملے کے وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے تھا‘‘، فارعہ نے بھی ہنس کر جواب دیا۔
’’ بقول فاطمہ، اس وقت ہمیں سب سے پہلے پاکستان کی بجائے سب سے پہلے اسلام کا نعرہ لگانا چاہیے تھا، یعنی اپنے اسلامی بھائی چارے کے اصول کے تحت ہمیں افغانستان کی مدد کرنی چاہیے تھی‘‘۔ ناعمہ نے منہ بنا کر ساری بات گوش گزار کی۔
مگر وہ تو دہشت گرد ہیں!…… آئی مِین (میرا مطلب ہے) اسلام تو امن و سلامتی کا مذہب ہے جبکہ طالبان نے تو اقتدار کے حصول کے لیے ہر جگہ جنگ کی ہے، ان کی وجہ سے اسلام ہر جگہ بدنام ہوا ہے۔ میرا تو ذاتی خیال ہے کہ طالبان بھی عام سیاسی جماعتوں کی طرح اقتدار کی جنگ ہی کررہے ہیں، تو پھر ہم دوسرے ملک کے معاملات میں ٹانگ کیوں اَڑاتے؟‘‘ نور نے نہ سمجھتے ہوئے کہا۔
’’یہیں تو تم گڑبڑ کرگئی! یہ اقتدار کی جنگ نہیں ہے بلکہ کفر و اسلام کی جنگ ہے۔ اگر طالبان بھی عام حکومتوں کی طرح صرف اقتدار کے پجاری ہوتے تو ایک عرب مجاہد کی خاطر اپنا پورا ملک داؤ پر نہ لگا دیتے‘‘۔ فاطمہ کے سنجیدگی سے جواب دینے پر نور کی بولتی یکایک بند ہوگئی۔ ’’اور رہی تمہاری دوسری بات کہ ہم دوسروں کے ملک کے معاملات میں کیوں ٹانگ اڑاتے تو اس کا جواب تو بالکل سادہ سی بنیادی بات ہے کہ یہ جو ملکی سرحدیں آج کل بنا دی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو صرف دو سرحدیں ہیں ……ایک اسلام کی اور دوسری کفر کی سرحد؛ اور جب ان دونوں میں کوئی ان بن ہوجائے تو دنیا کے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دے، اور اگر نہیں دے گا تو گناہ گار ہوگا، لیکن اگر اس کی بجائے کافر کا ساتھ دینے اٹھ کھڑا ہوا تو پھر وہ بھی انہی میں شمار کیا جائے گا اور اس کا انجام قیامت کے دن انہی کے ساتھ ہوگا‘‘۔
وہ سب آنکھیں پھاڑے اسی کو دیکھ رہی تھیں۔
’’یہ کیا باتیں کررہی ہو فاطمہ؟ مجھے تو ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا!‘‘ فارعہ نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔ نور کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھی۔اسے مومنہ کی باتیں یاد آنے لگیں، وہ بھی تو کچھ ایسی ہی باتیں کررہی تھی۔
’’ دیکھو! اسلام میں وطنیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بس ایک ہی نام اور ایک ہی پہچان معتبر ہے اور وہ ہے اسلام۔ یہ تو کفار نے سازشیں کرکے ہماری قوت توڑ کر رکھ دی ہے اور سائیکس پیکو معاہدے کے ذریعے ہمیں ملکوں اور سرحدوں کا پابند بنا دیا، ورنہ دراصل ہم مسلمان پوری دنیامیں ایک جسم کی مانند تھے اور ہیں۔تم لوگوں کو وہ واقعہ تو یاد ہی ہوگا کہ جب ایک مہاجر صحابی اور ایک انصاری صحابی کی کنویں کے پانی کے کسی مسئلے پر کچھ اونچ نیچ ہوگئی تو مہاجر صحابی نے اپنی مدد کے لیے گروہ مہاجرین کو پکارا اور انصاری صحابی نے اپنی قوم کے افراد کو پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ فوراً تشریف لائے اور فرمایا، جس کا مفہوم ہے کہ یہ کیاکہ میں تمہارے منہ سے جاہلیت کی بدبودار باتیں سن رہا ہوں‘‘؟ فاطمہ یہ کہہ کر کچھ دیر سانس لینے کو رکی۔ ’’یہ تو جاہلیت کی باتیں ہیں؛ پوری دنیا منقسم ہوسکتی ہے مگر مسلمان تقسیم نہیں ہوسکتے۔ تم یوں سمجھ لو یہ ایک عالمی برادری ہے جس کے افراد جہاں بھی ہوں وہ اسی برادری سے اسی فیملی سے منسلک ہی رہیں گے‘‘۔
نور، ناعمہ اور فارعہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔آج ان کی باتیں معمول سے ہٹ کر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہوگئی تھیں۔ نور نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا۔ بریک ختم ہونے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے تھے۔
’’مگر جہاں سے ہماری بات شروع ہوئی تھی، یعنی طالبان سے، تو ان کی سزاؤں بارے تم کیا کہتی ہو؟ یہ تو تم مانو گی ناں کہ وہ ظالمانہ سزائیں ہیں؟‘‘ اب کی بار فارعہ نے موضوع اٹھایا۔
’’بھئی یہ تمام سزائیں، مثلاً چور کا ہاتھ کاٹنا، زنا کے مرتکبین کو سنگسار کرنا، کوڑے لگانا وغیرہ یہ سب تو حدود کہلاتی ہیں اور یہ تمام کی تمام براہ راست اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مقرر کی گئی ہیں۔ ہاں! البتہ اگر تم اللہ اور اس کو رسول کو ہی……‘‘۔ فاطمہ نے دانستہ ہی اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’توبہ توبہ!‘‘ فارعہ نے فوراً اس کا جملہ اچک لیا، ’’تم نے تو ہمیں کافر ہی بنا دیا!‘‘۔
’’ لیکن فاطمہ! کنفیوژن بہت زیادہ ہے دنیا میں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط‘‘، نور نے کافی عرصہ سے دل میں چھپائی خلش اس کے سامنے رکھی۔
’’نور! میں تو کہتی ہوں کہ اس سے زیادہ واضح کوئی زمانہ ہی نہیں جہاں حق اور باطل اس قدر جدا ہوگئے ہوں۔ بہت سی احادیث ہمارے سامنے حالات کی تصویر واضح کرتی ہیں اور ہمیں حق والوں کی پہچان بتاتی ہیں‘‘، فاطمہ نے ملائمت سے کہا۔
’’اچھا!‘‘ نور کو اچنبھا ہوا، ’’ وہ کون سی؟‘‘
بریک کا وقت کب کا ختم ہوچکا تھا لہٰذا فاطمہ اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’ باقی باتیں پھر کسی دن ان شاء اللہ!‘‘ وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔ ’’ کسی ٹیچر نے یہاں بیٹھے دیکھ لیا تو خیر نہیں‘‘۔ باقی سب بھی اپنے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات دبائے اس کی تقلید میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
شام کا وقت ہورہا تھا۔ مغرب کی اذانوں سے فضا گونج رہی تھی۔ اندھیرا ہر سو پھیل رہا تھا۔ سورج اپنا سفر پورا کرچکا تھا۔ موسم کافی سوگوار تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ اسلام آباد ایئر پورٹ پر ہرطرف گہما گہمی تھی۔ لوگ اپنے عزیز و اقارب سے مل رہے تھے۔ کوئی خوشی سے استقبال کررہا تھا تو کوئی غم سے الوداع ۔
ایک طرف ابوبکر بھی اپنی فیملی سے رخصت ہورہا تھا۔ مصعب کافی دیر اس کے گلے لگا کھڑا رہا۔ پھر نور اس سے مل کر روتی رہی۔ اس کے بعد ابوبکر ہاجر اور سعد سے بوجھل دل سے ملنے لگا۔
فلائٹ میں ابھی دو گھنٹے رہتے تھے۔ باباجانی اور اماں نے ابوبکر کو پیار کیا اور اللہ کے حفظ و امان میں دے کر رخصت کردیا۔ ابوبکر نظروں سے اوجھل ہوا تو وہ سب بھی بوجھل دل لیے واپس ہوئے۔
ابوبکر گیا تو سب کو اداس کرگیا۔
نور کافی دیر سے بستر پر لیٹی کروٹیں بدل رہی تھی۔ کل فاطمہ سے ہونے والی گفتگو آج نجانے کیوں اس کے دماغ میں گھومے جارہی تھی ۔ ہاجر مزے سے گہری نیند سورہی تھی۔ اتنے میں نور کے موبائل کا میسج الرٹ بجا، مومنہ کا میسج تھا۔
’’نور! ابا نے صائم کا رشتہ منظور کرلیا ہے۔‘‘
’’ہائیں! مگر وہ کیسے؟ وہ تو بڑا ماڈرن ہے!‘‘
سب کچھ اس میں پرفیکٹ (مکمل) ہے؛ پڑھائی، خاندان، اسٹیٹس، لائف سٹائل…… ابا تو مر مٹے!‘‘ مومنہ شاید غصے میں تھی۔ نور ہنس دی۔
’’ مگر تمہارا اور اس کا لائف اسٹائل تو بہت فرق ہے!‘‘
’’ ہاں ناں! پتہ نہیں ابا کو کیا ہے؟ شاید چاہ رہے ہیں کہ میں بھی انہی جیسی ہوجاؤں۔‘‘
’’مگر تم تو اتنی اسلامک سوچ رکھتی ہو اور وہ تو ہم سے بھی گیا گزرا ہے! ساری زندگی اتنے بڑے فرق کے ساتھ کیسے گزارا کرو گی؟‘‘ نور اب واقعی پریشان ہوگئی تھی۔ دو منٹ بعد ہی اس کا جواب آگیا۔
’’تم وہ پہلا فرد ہو جس نے اس پہلو کی جانب توجہ دی ہے، باقی سب تو کہتے ہیں کہ یہ سرے سے کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں مومنہ! جب ذہنی ہم آہندگی نہ ہو تو گزرا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ نور نے سینڈ کا بٹن دبایا اور موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ نجانے کیوں ماں باپ رشتوں کے معاملے میں عقل و خرد کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کرگزرتے ہیں؟ بے بسی سے سوچتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لیں۔اس کا ذہن واپس فاطمہ کی باتوں کی طرف چلا گیا۔
سوچتے سوچتے اچانک اس کو عبادہ کی دی ہوئی کتاب یاد آگئی جو اس نے اپنی روانگی سے چند روز قبل ہی جویریہ کے ہاتھ بھجوائی تھی۔ شاید یہ کتاب پڑھنے سے ہی کچھ سمجھ میں آجائے۔
اس نے اٹھ کر الماری سے کتاب نکالی، احتیاط سے ٹیبل لیمپ جلایا، مبادا ہاجر کی نیند نہ خراب ہو او رپھر لیمپ کی روشنی میں کتاب پڑھنے لگی، مگر مقدمے پر ہی اٹک گئی۔
لکھا تھا:
جب تک مسلمانوں کی اپنی خلافت قائم رہی، مسلمان قوم کبھی کسی دوسری قوم کی ذہنی غلام نہیں بنی۔ لیکن خلافت کی کڑی ٹوٹنے سے جہاں ایک طرف مسلم علاقوں پر کافر قبضہ کرتے چلے گئے وہیں ان کے ذہن بھی کافروں کی غلامی قبول کرتے گئے۔ اس غلامی کے اثرات اتنے مؤثر اور دیرپا ثابت ہوئے کہ جسمانی آزادی کے حصول کے باوجود بھی مسلمان ذہنی طور پر کافر طاقتوں کے غلام ہی رہے۔
ذہنی غلامی کی سب سے بڑی نحوست یہ ہوتی ہے کہ ذہنی طور پر غلام قوم اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتی ہے۔ ذہنی غلامی کےانہی زہریلے اثرات نے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ اس دور میں خلافت اسلامیہ کی کوئی ضرورت نہیں اور جمہوریت ہی اسلامی خلافت کا ’نعم البدل‘ ہے۔ ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس قدر سلب ہوچکی ہے کہ وہ حالات کا تجزیہ قرآن و حدیث کے مطابق نہیں بلکہ میڈیا کی پڑھائی پٹی کے مطابق کرتے ہیں۔
روس کے خلاف افغان جہاد میں کامیابی کا سہرا مکمل طور پر امریکی امداداور پاکستانی ایجنسیوں کے سر ڈالنے اور مجاہدینِ اسلام کی قربانیوں کو یکسر بھلا دینےوالے اہل مغرب اور کفر کے پیشواؤں سے اس قدر مرعوب ہیں کہ وہ دنیا میں کسی بھی ایسے واقعے کو تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں ہوتے جس سے مغرب کی شکست یا اس کی کمزوری ظاہر ہوتی ہو۔ پھر یہ کہ امریکہ کی عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کو مکمل طور پر اقتصادی جنگ قرار دے کر، حالانکہ عالم کفر خود اس جنگ کو مذہبی جنگ قرار دیتا ہے، اہل اسلام کی دینی غیرت و حمیت کے پنپنے کے راستے بند کردیتے ہیں۔
مسلمان اگراپنی آنکھوں سے مغربی میڈیا کی باندھی گئی پٹی ہٹا کر قرآن و حدیث کی روشنی میں حالات کا تجزیہ اور آئندہ کا لائحہ عمل طے نہیں کریں گے تو نہ ہی ہم ماضی میں رونما ہوچکے والے واقعات کی حقیقت سے واقف ہوسکیں گے اور نہ ہی مستقبل کی تصویر ہمارے سامنے واضح ہوسکے گی۔نہ ہم یورپ کی نشاۃ ثانیہ کی وجہ سمجھ پائیں گی اور نہ ہی پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی حقیقت کا سراغ لگا پائیں گے اور نہ ہی اس کی وجہ سے خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے نقصانات کا احاطہ کرسکیں گے۔
اس سے آگے نور نہ پڑھ سکی۔ سب کچھ ہی اس کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا۔ اس نے فوراً مومنہ کو کال ملائی۔ کچھ دیر بعد اس کی نیند میں ڈوبی آواز سنائی دی۔
’’السلام علیکم!‘‘
’’وعلیکم السلام! مومنہ! ایک بات تو بتاؤ، یورپ کی نشاۃ ثانیہ کی حقیقت کیا ہے؟‘‘ نور نے بے تابی سے پوچھا۔
’’آں…… نور تھوڑا ٹائم دو، ایک دو کتابوں سے دیکھ کر بتا دوں گی ان شاء اللہ‘‘۔
نور فون بند کرکے کمرے سے باہر آگئی۔ پورے گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا، بس نیچے ٹی وی لاؤنج سے ہلکی ہلکی باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے گئی۔ ٹی وی لاؤنج میں سعد ٹی وی کے سامنے قالین پر نیم دراز کچھ دیکھ رہا تھا اور مصعب اس کے بالمقابل بیٹھا فون پر اپنے کسی دوست سے باتیں کررہا تھا۔
وہ بھی خاموشی سے ان کے برابر میں بیٹھ گئی اور مصعب کی فون کال ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
’’ابھی تک جاگ رہی ہو؟‘‘ مصعب نے فون بند کرکے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’بھائی! جنگ عظیم کیوں ہوئی تھی؟‘‘
’’کیا؟‘‘ مصعب نے حیران ہوکر پوچھا، ’’تمہیں نہیں معلوم ؟‘‘
’’ہاں ناں! تم بتادو!‘‘
’’کیا پوچھنا چاہ رہی ہو تم؟‘‘
’’پتا نہیں!شاید وہ وجہ جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے‘‘نور بے بسی سے سے گویا ہوئی۔
مصعب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’یہ دیکھو! اس کتاب میں کیا لکھا ہے‘‘۔
مصعب نے اس کے ہاتھ سے کتاب لے لی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا:
’’معلوم نہیں! تحقیق کروں گا‘‘۔
’’ابوبکر! کیسی طبیعت ہے؟‘‘ علی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔
’’الحمد للہ!‘‘ اس نے نحیف سی آواز میں جواب دیا۔
آج اس کو امریکہ پہنچے دسواں دن تھا اور اس دوران اسے ڈپریشن کا یہ دوسرا اٹیک ہوا تھا۔
’’بلڈ پریشر کتنا ہے؟‘‘
’’۱۵۰ بائی ۱۰۰‘‘، ابو بکر ہلکا سا منمنایا۔
’’تایا ابو کو فون کروں؟‘‘ علی پریشانی سے بولا، ’’آخر کب تک چھپاؤ گے؟‘‘
’’نہیں!‘‘ وہ بمشکل تکیوں کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے بولا۔ ’’علی! میرا دل یہاں کی گندی اور خودغرض دنیا میں نہیں لگتا۔ میں چاہتا ہوں کہ واپس پاکستان چلا جاؤں…… جہاں اپنوں کی بے لوث محبتیں ہوں، اردگرد مسلمان رہتے ہوں…… مگر! باباجانی نہیں مانیں گے۔ سمجھیں گے کہ میں پڑھائی سے بھاگنے کے لیے بہانے کررہا ہوں‘‘۔ ابوبکر کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔
’’ابوبکر! یار! مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ ڈپریشن بھی تو مایوسی ہی ہے اور مایوسی کفر ہے‘‘، علی اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔
پچھلے دو سال سے ابوبکر کی یہی کیفیت تھی مگر نجانے کس اندیشے کے تحت اپنے گھر والوں سے ابھی تک اپنا حال دل چھپائے ہوئے تھا۔
’’کل میں تمہیں نیوجرسی کے شیخ عثمان رائٹ سے ملواؤں گا۔ وہ کل ہی نیویارک پہنچے ہیں۔ ان سے تم اپنے دل کی بات کرلینا!‘‘ علی نے اس کے کندھے تھپتھپاتے ہوئے کہا تو وہ واپس بستر پر لیٹ گیا اور سوچوں میں گم ہوگیا۔
’’السلام علیکم شیخ! یہ میرا بھائی ہے اور اسے ڈپریشن ہے۔ شروع میں یہاں آکر ٹھیک رہا مگر جیسے جیسے اسے دین کی سمجھ آتی جارہی ہے اس کا ڈپریشن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ گھر سے بھی اداس رہتا ہے‘‘۔ علی نے ادب سے شیخ کے سامنے ابوبکر کی حالت زار بیان کی۔ وہ بغور اس کی بات سنتے رہے اور پھر ابوبکر کو بلا بھیجا۔
ابوبکر ہچکچاتا ہوا ان کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا۔ شیخ عثمان نے سفید چوغہ پہن رکھا تھا جس کی لمبائی ٹخنوں سے ایک ہاتھ اوپر تک تھی۔ وہ خالص امریکی النسل تھی۔ سرخ وسفید چہرے پر گھنی داڑھی ان کے چہرے کے حسن کو بڑھا رہی تھی۔ خوب صورت آنکھوں سے ذہانت اور شفقت ٹپک رہی تھی۔ انہوں نے ابوبکر سے معانقہ کیا جو ان کی شخصیت کے سحر میں کھو کر رہ گیا تھا۔
’’جی بیٹے! آپ کی کیا پرابلم ہے؟‘‘ انھوں نے نرمی سے دریافت کیا۔ ان کا لب و لہجہ مد مقابل کا اعتماد جیت لینے والا تھا۔
’’شیخ! میرا اس گندے ماحول میں دل نہیں لگتا۔ گناہ کے دروازے ہر طرف کھلے ہیں۔ چاہنے کے باوجود گناہ سے بچنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ میرے والد چاہتے ہیں کہ میں مستقل یہیں سیٹل ہوجاؤں مگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سن کر ڈر لگتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کے بیچ سکونت اختیار کرے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں پاگل ہوجاؤں گا‘‘۔ بولتے بولتے ابوبکر کی آواز رندھ گئی اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
’’بیٹے! یہ ندامت کے آنسو ہیں یا ڈپریشن کے؟‘‘ انھوں نے نرمی سے پوچھا۔
’’شیخ! ندامت ہی کی وجہ سے تو ڈپریشن ہوا ہے‘‘۔
’’بیٹا! ندامت تو بہت خوب صورت چیز ہے، لیکن اس کی وجہ سے مایوسی طاری کرلینا غلط ہے۔ ایسی ندامت کا فائدہ ہی کیا جس کی وجہ سے عمل میں بہتری کی بجائے مزید خرابی آئے‘‘؟ وہ اس کو نرم گھمبیر لہجے میں سمجھانے لگے۔ ابوبکر منہ کھولے انھیں تکے گیا۔ ’’ندامت کا فائدہ تب ہے جب اس کی وجہ سے آپ اپنے آئندہ عمل میں بہتری لائیں‘‘۔
’’مگر شیخ! گناہ ہیں کہ ختم ہوکر نہیں دیتے‘‘؟
’’بیٹا! گناہوں کے ختم ہونے کا تو مطالبہ بھی نہیں ہے ناں‘‘، شیخ ہنس دیے۔
’’کیا مطلب؟‘‘ ابوبکر ناسمجھی کی کیفیت میں بولا۔
’’دیکھو بیٹا! اللہ تعالیٰ کو صرف عزمِ مصمم، کوشش اورجدوجہد مطلوب ہے۔ رہ گئے گناہ تو اللہ پاک خود قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ اگر تم گناہ کرنا چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ بھی کرے گی اور توبہ بھی‘‘۔
’’اس لیے جب بھی کوئی گناہ ہوجائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگو اور آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرو۔ کبھی بھی گناہ پر ڈھٹائی کا رویہ اختیار نہ کرنا؛ ان شاءاللہ گناہوں کو چھوڑنے کی توفیق بھی اللہ پاک عطا فرمادیں گے‘‘۔ وہ دھیرے دھیرے سمجھاتے رہے۔
’’اچھا! یہ تو بتاؤ کہ ڈپریشن کی صورت میں دل کس قسم کی چیزوں سے بہلاتے ہو‘‘؟ ان کے اچانک سوال کرنے پر ابوبکر گڑبڑا سا گیا۔
’’کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موویز……‘‘ وہ خفت سے لسٹ گنوانے لگا۔ ’’میوزک سننا چھوڑ دیا ہے…… اسلامک بُکس بھی پڑھتا ہوں‘‘۔
’’واستعینوا بالصّبر والصلوٰۃ (نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو)‘‘ وہ دھیرے سے بولے تو ابوبکر کو سن کر جھٹکا سا لگا۔ ’’بیٹا! جن چیزوں کو تم نے گنوایا ان سے انسان وقتی طور پر تو بہل جاتا ہے مگر ان کے دور رس اثرات بہت برے ہیں، مثلاً ڈپریشن، حسرت، سستی، کاہلی، بلاوجہ تھکاوٹ……وغیرہ‘‘۔
اب بات ابوبکر کی سمجھ میں آنے لگی تھی۔
’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ( آگاہ رہو! دلوں کا اطمینان تو اللہ کے ذکر ہی میں ہے)‘‘۔ شیخ نے اس کی طرف دیکھا،وہ مسلسل اپنے سر کو ہلائے جارہا تھا، شیخ بے ساختہ مسکرا دیے۔
’’آپ کے بھائی نے بتایا کہ جب سے آپ کو دین کی سمجھ آنے لگی ہے آپ ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہی تو شیطان کے ہتھکنڈے ہیں کہ ان طریقوں سے، اللہ کی رحمت سے مایوس کرکے وہ آپ کو عمل سے روکنا چاہتا ہے۔ آپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ آپ نے خود کو مکمل طور پر اسلامی احکامات کے سپرد کرنا ہے، حیلے بہانے کرکے راہ فرار نہیں تلاش کرنی اور مجھ سے مستقل رابطے میں رہنا ہے‘‘۔ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوگئے۔ ابوبکر اور علی نے ان سے مصافحہ کیا اور شیخ سے رخصت ہوئے۔
ابوبکر آج بہت عرصہ بعد اپنی طبیعت میں نشاط محسوس کررہا تھا۔
ابوبکر روز بروزبہتر ہوتا جارہا تھا۔ شیخ سے وہ سکائپ کے ذریعے رابطے میں تھا۔ پاکستان کے بھی بڑے بڑے علما سے اس نے روابط استوار کرلیے تھے۔ اب اس کی زندگی بدل رہی تھی۔ وہ باقاعدگی سے دن کی پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے لگا تھا۔ چہرہ سنت نبوی سے سج گیا تھا۔ تصویریں کھنچوانا، کافر دوستوں سے میل ملاپ…… سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور مسلمانوں کے درس و تدریس کے حلقوں میں وقت گزارنے لگا تھا۔ علی بھی اس کے شانہ بشانہ قدم بڑھا رہا تھا۔ دونوں کے گھر والوں کو ابھی تک تبدیلی کا احساس نہ ہوسکا تھا۔
نور کے حالات کافی ناسازگار تھے۔ عبادہ کا مسئلہ پورے خاندان کا سنگین مسئلہ بن چکا تھا۔ نور سمیت سبھی گھر والوں کے ناچاہنے کے باوجود باباجانی عبادہ سے رشتہ ختم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اماں اور امینہ خالہ دونوں ہی بے حد پریشان تھیں مگر باباجانی کو اپنے فیصلے سے ہٹانا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔
٭٭٭٭٭
(جاری ہے ، ان شاء اللہ)