عقوبت خانوں سے براہِ راست | پہلی قسط

سورۃ الملک کی تلاوت سے فارغ ہو کر بچوں سمیت مولانا بجلی گھرؒ کی تقریر سن رہا تھا کہ اس دوران دروازہ بڑی شدت سے کوئی کھٹکھٹانے لگا اور گاڑیوں کے آنے کی آواز سنائی دی۔ اگلے لمحے پاک فوج کے اہلکار ہمارے گھر کی دیواریں پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گئے۔ بچوں کی چیخ و پکار نے آسمان سر پر اٹھا رکھاتھا۔ میری جوان بیٹیاں فوجی اہلکاروں کو چیخ چیخ کر بد دعائیں دے رہی تھیں۔ یونیورسٹیوں سے فارغ میرے جوان بیٹے میرے پاس کھڑےتھے،لیکن کیا کرتے۔ ہمارے آباؤاجدادحاجی صاحب ترنگزئی ؒ کی مبارک اور شرعی تحریک جہاد ومزاحمت کی بجائے خان عبدالغفارخان کے عدمِ تشدد کے فلسفے کے قائل رہے تھے۔انگریزوں کے خلاف ’بابا‘ کی قیادت میں انہوں نےجدوجہد بھی کی تھی مگر ’پرامن ‘۔

امت کے دشمنوں کی منشا کے عین مطابق ہم کئی دِہائیوں سے اپنے اسلحے سے غافل تھے (وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ…… کافر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے غافل ہوجاؤ تو وہ ایک دم تم پر ٹوٹ پڑیں)۔اس لیے آج دیسی انگریزوں نے اپنے شکار کو بڑی آسانی سے اپنے حصار میں لیا تھا۔فوجی افسر نے مجھ سے شناختی کارڈ مانگا اور موبائل فون کا مطالبہ کیا ۔ موبائل میں مولانا فضل اللہ ؒ کی تقاریر تھیں اس لیے میرے بیٹے نے موبائل دیتے ہوئے میموری کارڈ کو توڑ دیا۔ اوپر نیچے گھر کی تلاشی لی اورمجھے اس حالت میں اپنے ساتھ لے جانے لگے کہ میرے پاؤں میں جوتے بھی نہیں تھے۔ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر منہ پر کالے کپڑے کا تھیلا چڑھایا اور فوجی گاڑی میں ٹھونسا گیا۔ اپنی بیٹیوں کی چیخ وپکارسن کرحضرت لوط علیہ السلام کی مظلومانہ پکار’’قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ…… لو ط نے کہا : کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا‘‘میرے رگ وپے کی آواز بن گئی تھی ۔ گاڑی روانہ ہوئی تو میں ’’یاحي یا قیوم برحمتك استغیث‘‘ کا ورد کر نے لگا۔دورانِ سفر تنخواہ، مراعات اورفنڈو پنشن کے پجاری مختلف سوالات پوچھتے اور دھکے دیتے رہے۔

طویل سفر طے کرنے کے بعد ایک خفیہ جیل پہنچے۔کھسر پھسر کے بعدحکم ملا کہ دوسرے جیل لے جاؤ۔ دوسرے جیل پہنچے تو رات کے کوئی تین بج رہے تھے۔مجھے ایک سیل میں ڈال دیا گیا۔ پانچ گھنٹے بعد میری ٹوپی پٹی کھولی گئی۔یہ سیل ایک گندہ سا تنگ وتاریک کمرہ تھا۔درمیان میں بڑی خندق اور خندق کے ارد گرد بیٹھنے ، لیٹنے اور نماز پڑھنے کے لیے ایک تنگ سی پٹی تھی۔ یہاں مجھے تقریباً دو مہینے تک رکھا گیا۔ پہلی رات تو آدھی سے زیادہ سفرمیں گزری تھی ۔صبح تک یہ چند گھنٹے بھی جاگ کر گزرے۔اگلے دن صبح سے شام تک تماشا بنا رہا۔ایک ایک دودو فوجی آتے اوراز راہ طنز ومزاح پوچھتے ’’کہاں کے ہو؟‘‘، ’’کیا کیا ہے؟‘‘، ’’کس کے ساتھی ہو؟‘‘ وغیرہ ……پورا دن یاس اورناامیدی کے مہیب سائے میرے ارد گردمنڈ لا تے رہے لیکن کوئی باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں ہوئی ۔بس اللہ کا ذکر اور جو کچھ تھوڑی بہت قرآن پاک کی مختصر سورتیں ازبر تھیں ان کی تلاوت کرتارہا۔ آخر کاررات کا اندھیرا پھیلنے لگا۔

رات کی تاریکی بڑھنے لگی تو مجھے ایک بار پھر ٹوپی پٹی پہنا کر اعلی ٰحکام (ادنی ٰ امریکی غلاموں ) کے پاس تفتیش کے لیے لے جایا گیا۔ پوچھا :شیخ اسامہ ؒ کو جانتے ہو؟، شیخ ایمن کو جانتے ہو؟سب پر ہاں کر دیا۔ پھر کہا ان سے کیا تعلق ہے؟ میں نے طنزاً کہا ان سب سے تو میرا بچپن کا ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا: ہمیں سب پتہ ہے۔ تمہارا نام اورکام اور اپنے بڑوں سے تمہارے روابط کے بارے میں ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ تمہارےنائبین کا بھی ہمیں علم ہے۔اور جن کو تم نے کچھ عسکری امور حوالے کیے تھے،وہ سب گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ میں نے انکار کیا تو مجھے الٹا لٹاکر بے تحاشا مارنے لگے۔ میں مسلسل انکار کرتا رہا تو تھک گئے اور مجھے دو فوجیوں کے حوالے کیا۔ وہ مجھے تفتیش کے کمرے میں لے گئے اور مجھ سے مختلف سوالات پوچھنے لگے۔ ان ظالموں نے مجھے ہر قسم کی سیکڑوں گالیاں دیں اور مجھے پچاس بار اٹھنے بیٹھنے کا حکم دیتے رہے۔ عمر کی زیادتی کے سبب میری بڑی توند اور نازک بدن اس سزا کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ ا س لیے بعض اوقات کوتاہی ہو جاتی تو بے تحاشا مارنے لگتے ۔الحمد للہ کوئی خاص بات اگلوانے میں کامیاب نہ ہوسکے تودوبارہ افسروں کے پاس لےجایا گیا ۔اللہ کا شکرہے ان کے پاس مزید وقت نہیں تھاتو مجھے رات کے ایک بجے اپنے سیل (کال کوٹھڑی) میں لے گئے۔وہاں حکم ملا کہ ہاتھ اٹھا کر کھڑے رہو۔تین دن اور تین راتیں اسی طرح ہاتھ اٹھا کر کھڑا رہا۔پاؤں سوج گئے۔ تین دن رات میں صرف ایک گھنٹہ سونے دیا۔لیکن پھر کہا تم کیوں سو گئے تھے، تو میں نے جواب دیا کہ ڈیوٹی پر موجود فوجی کی اجازت سے سو گیا تھا۔وہ اجازت والا فوجی آیا تو سیل کا دروازہ کھول کر مجھے بے تحاشا مارنے لگا۔ اور چیخ چیخ کر کہنے لگا کہ تم میری نوکری برباد کرنے پر تلے ہوئے ہو۔میں نے ترس کھاکر سونے دیا توتم نے میرے افسروں کو بتایا۔ تم میری نوکری کو ختم کرنے کے درپے ہو۔اس دوران کھڑے کھڑے نماز پڑھتا یعنی نہ سجدہ کرنے دیا جاتا اور نہ ہی رکوع ۔ نمازیں بھی تیمم سے پڑھتا۔ پانی کی کمی نہیں تھی اور مجھےدن میں ایک بار باتھ روم بھی لے جایا جاتا لیکن وہاں مجھے وضو نہیں کرنے دیا جاتا۔ پانچ منٹ سے زیادہ باتھ روم میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تین دن رات کھڑا رہنے کی تعذیب سہنے کے بعد اگلی رات مجھے ایک بار پھر تفتیش کے لیے لے جایا گیااور میرے ساتھ کام کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ آپ کے حکم سے کیا کچھ کرتے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ ان کی کسی خفیہ سرگرمی سے میں واقف نہیں ہوں۔ایک افسر جسے وہ دوسرا افسر ’’صاحب ‘‘ کہہ کر پکارتا تھا، نے مجھے کمپیوٹر پر ٹائپ شدہ ایک صفحہ دکھایا، جس پر میرے ساتھ مجاہدین کی خدمت کرنے والے چند ساتھیوں کی تصاویرتھیں ۔ان کی تصاویر سے میں نےاندازہ لگایا کہ یہ لوگ گرفتار ہوچکے ہیں کیونکہ ان کے معصوم چہروں سے ان کی حالت زار عیاں تھی۔ مجھ سے معلوم کرنا چاہا کہ ان میں سےتم کس کس کو جانتے ہو؟ میں نے صاف انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تم سب جانتے ہو۔ اور پھر کہنے لگا کہ تم بتاؤ یا نہ بتاؤ، انہوں نے ہمیں سب کچھ بتایا ہے۔اور پھر سب نے ہنستے ہوئے کہا کہ چلو آج ان کو سوچنے دیں،کل دیکھیں گے۔ پھر پندرہ بیس دن تک مجھے اسی طرح پڑا رہنے دیا۔ کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔ پہلے سونے کے لیے کوئی بستر نہیں تھا۔ خندق کے ارد گرد جو فرش بنا تھا اسی پر سوتا۔ پھر ٹاٹ کے دو کمبل مل گئے۔ یہ کمبل بھی گرد و غبار سے اٹے پڑے تھے لیکن اس غربت میں یہ بھی غنیمت تھے۔ تین دن تک مار پیٹ اور مسلسل کھڑا رکھنے کے بعد مجھے آدھا دن اور آدھی رات کےلیے کھڑا کر دیا جاتا ۔کبھی کبھی کوئی اللہ کا دشمن اپنا دل بہلانے کی خاطر سیل کے اندر آتا رعب دبدبہ جماتا۔ مار پیٹ اور گالم گلوچ کی تو ان کو ویسے بھی کھلی چھوٹ تھی۔ گالیوں سے تواضع تو ہر فوجی کا روزکا معمول تھا اور اس فعل قبیح کے لیے تو سیل کھولنے کی زحمت بھی نہ اٹھانا پڑتی۔ اس پوری مدت میں گرفتاری کے وقت سے پہنے کپڑ ے ہی میرے تن پر تھے ۔ نہانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے میرے تن بدن سے بدبواور سڑاند اٹھنے لگی۔یہ بو سیل کے باہر تک جاتی ۔سیل کے سامنے سے کوئی بدبخت گزرتا تو مجھے طعنہ دے کر کہتا کہ سچ نہیں بولوگے تو اسی طرح گل سڑ کر مروگے۔اللہ کے کرم سے ایک دن مجھے نہانے اور کپڑے دھونے کی اجازت مل گئی ۔ایک صابن دیا گیا جس سے میں نے اپنے کپڑے دھوئے۔انہوں نے ایک شلوار بھی دی تھی جو میں نے کپڑے دھوتے ہوئے پہنی ۔ جب کپڑے سوکھ گئے تو میں نے اپنے کپڑے پہن کر شلوار ان کو واپس کر دی۔ اس دوران میری صحت بہت خراب تھی۔ لیٹ کر نماز پڑھتا تھا اور نماز پڑھتے ہوئے کبھی بے اختیار سونے لگتااور کبھی بے ہوش ہو جاتا۔

کچھ دن بعد جب صحت بہتر ہونے لگی تو میں نے ان سے کہا کہ مجھےقرآنِ پاک اور میری عینک دیجیے۔ کئی دن کی منت سماجت کے بعد اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی کتاب مل گئی۔ قرآنِ پاک کا ملنا کیا تھا جیسے مجھے بادشاہت مل گئی ہو۔ تلاوت کی برکت سے مجھے اطمینان وسکون کی دولت نصیب ہوئی۔تلاوت کرتے ہوئے بعض اوقات بھول جاتاکہ میں کہاں ہوں۔زندگی بھر قرآن پاک کی آیات میں اتنا غوروفکراور تدبر کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔ایک دن تلاوت کے دوران سورۃ آل عمران کی اس آیت پر ٹھہرا ’’وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ؀‘‘ اس آیت کو باربار پڑھتا اورباربار اپنے آپ سے سوال کرتا ’’کیا میں مومن ہوں؟‘‘۔ میرے پاس ایمان کا سب سے بڑا ثبوت الحمد للہ مجاہدین کی خدمت تھا اس خدمت کو ہمیشہ ایک بڑا اعزازسمجھتا اور اپنے رب کا شکر ادا کرتا۔یہ سوچ کر میرا دل اطمینان سے بھر جاتا۔آل عمران کی اس آیت پر بھی اکثر ٹھہرتا ’’ رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلإِيمَانِ أَنْ آمِنُواْ بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ‘‘اور بے اختیار اللہ کے اس بندے کےلیے رورو کردعائیں مانگنے لگتا جن کی مخلصانہ دعوت جہا دکے نتیجے میں مجھے مجاہدین سے وابستگی کی سعادت نصیب ہوئی اور ان کے اہل وعیال کی چھوٹی موٹی خدمت کاموقع ملا تھا۔ سورۂ انفال کی ’’وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ ‘‘اورآل عمران کی ’’ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي ‘‘پرٹھہرکر غور کرتاتو بے پنا ہ خوشی ہوتی اورکال کوٹھڑی کی سختیاں ہیچ نظر آتیں۔

اب تفتیش نہیں تھی، کھاتا پیتا اور تلاوت کرکے سوجاتا۔ تین دن میں قرآنِ پاک ختم کرتا ۔ حفظ بھی شروع کیا ۔تھوڑے وقت میں کئی آیات اور سورتیں حفظ کر لیں۔اب ایک مسئلہ باقی رہ گیا تھا کہ مجھے وضو کی اجازت نہیں تھی۔دن میں پہلے ایک بار اور بعد میں دوبار بیت الخلا لے جایا جاتالیکن کہتے وضو کی اجازت نہیں۔اس لیے میں نے پورے دو مہینے تک تیمم سے نماز پڑھی ۔

ایک روز جب میں ظہر کی نماز کی آخری سنت سے فارغ ہونے والا تھا کہ دو فوجیوں نے میرا سیل کھول کر ہتھکڑیا ں پہنائیں اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر تفتیش کے کمرے میں لے گئے۔ وہاں بہت ہی بڑا بد بخت افسر نما چپڑاسی میرا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے مجھ سے میرے ساتھیوں کے بارے میں معلوم کرنا چاہا۔ ساتھ ہی ہمارے بعض اساتذہ اور اُن کے اہل وعیال کے بارے میں بھی پوچھتا رہا۔ اس دوران طویل دورانیے تک اپنی تمام مہارتوں سے کام لے کرمجھے ذہنی اورجسمانی اذیتیں دی گئیں، بُری طرح دھمکایا گیا ۔جب تمام حربے ناکام رہے تو میرے پاؤں کے ناخن پر چاقو رکھ کر کہا کہ اگر ’’القاعدہ‘‘ کے ساتھ اپنے تعلق کو نہیں بتاؤگے تو اگلے ہی لمحے تیرے ناخن تیرے انگوٹھے سے جدا ہوں گے۔ مجھے بے تحاشہ گالیاں بھی دی گئیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ڈٹ جانے کی توفیق دی اور انکار کرتا رہا۔واپس سیل بھیجا گیا توعصر کی نماز نکل رہی تھی۔عصر پڑھی اور اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر زاروقطار رونے لگا۔روزانہ دس پارے میرا وظیفہ ہوتا تھالیکن آج کی غیر متوقع تفتیش نے نہ صرف میرا قیمتی وقت برباد کیا تھا بلکہ رات تک اپنا وظیفہ بھی مکمل نہ کرسکا تھا۔تفتیش کی اسی تشویش میں مبتلاتھا کہ رات کوایک فوجی نے بتایا کہ تیرے چند اور ساتھیوں کو بھی گرفتارکیا گیا ہےوہ کہہ رہے ہیں کہ ڈٹے رہو یہ لوگ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ فوجی جوان مجاہدین کا ہمدرد تھا اورہماری سزاؤں پر اس کو بڑا ہی افسوس تھا۔ کبھی کبھی رات کی تاریکی میں میرے لیے پھل لاتا اورتاکید کرتا کہ خدا را میری اس ہمدردی کا کسی سے ذکر نہ کریں کیونکہ یہاں فوجیوں کوایک دوسرے کے خلاف بھی جاسوسی پر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی زبانی ساتھیوں کی گرفتاری کا سن کربہت ہی افسوس ہوا لیکن ان کی طرف سے ڈٹ جانے کی نصیحت سےحوصلہ بڑھااور مزیدڈٹ جانے کا عزم کیا ۔ اللہ پاک اس فوجی کو جزائے خیر دے، جس کا روپ تو فوجیوں والا تھا لیکن دل مومنوں والا، مجاہدوں والا تھا، اللہ پاک مزید فوجیوں کو بھی ایسا ایمان دے کہ وہ فوج میں رہ کر بھی اور اس سے باہر آ کر بھی دینِ اسلام کی سچی خدمت کریں۔

مجھے گرفتار ہوئے آج پچاسواں دن تھا۔صبح تقریباً دس گیارہ بجے ایک ڈاکٹر کو بلا کر میرا طبی معائنہ کرایا گیا اور ظہر کی نماز کے بعد مجھے چند قیدی بھائیوں سمیت دو گھنٹے کی مسافت پر موجود ایک دوسرے جیل منتقل کیا گیا۔

طویل سفر کے بعد ہمیں یہاں پہنچایاگیا تھا۔ دوسرے قیدی بھائی بھی گاڑی میں موجود تھے، میں نے اُن کی باتیں گاڑی میں سنی تھیں۔ گاڑی میں ٹھونسنے سےپہلے کالی پٹی ٹوپی میں منہ آنکھ چھپایا گیا۔ ہاتھ پاؤں ہتھکڑیوں اوربیڑیوں میں بری طرح جکڑے گئے۔راستے میں کئی ساتھی منت سماجت کرتے رہے کہ خدارا ہما ری ہتھکڑیوں کو ذرا ڈھیلا کردو، دم گھٹ رہا ہے ٹوپی ناک سے ذرا سرکادولیکن سب بے سود۔

یہ جیل میرےلیے ایک غنیمت تھا کیونکہ یہ ایک باقاعدہ جیل تھا ۔ایک تنگ تاریک سیل میں دھکیلا گیا تو سیل میں پہلے سے موجود دوسرے قیدی بھائیوں کو دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی کیونکہ گزشتہ جیل میں دو مہینے تک قیدتنہائی نے حضرت انسان کے ساتھ میرے انس ومحبت کو بہت بڑھا دیا تھا۔ یہاں ہر سیل میں دو ، دو تین ،تین قیدی ہوتے تھے ۔ میرے سیل میں پہلے سے موجود میرے ان بھائیوں کی عمریں جو دراصل میرے بچوں جتنے تھے انیس بیس سال کے قریب تھیں ۔وہ اپنی قید کے کئی مہینے یہاں کاٹ چکے تھے۔ہم گپ شپ لگاتے رہے۔ دو مہینے بعد حضرت انسان اور وہ بھی میری طرح مظلوم ۔ اللہ کے ایسے بندوں کے ساتھ میری نشست ہو رہی تھی۔، عصر کی نماز پڑھی توبہت خوش ہوا اور اپنے آپ کو بڑا ہی ریلیکس پایا کیونکہ میرے اندازے کے مطابق ان لوگو ں کو چونکہ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے تھے اس لیے اب مارپیٹ کا دور ختم ہوگیا ہے لیکن اپنا بھرم رکھنے کی خاطر مجھے قید کردیا گیا ہے۔ مگر میرا یہ خیال جلد ہی غلط ثابت ہوا۔ مغرب کے بعد کھانا دیا گیا اور عشا کے بعد وتر ابھی پڑھ رہا تھا کہ آزمائش شروع ہو گئی۔

راہِ وفا میں ہر سُو کانٹے، دھوپ زیادہ سائے کم
لیکن اس پرچلنے والے خوش ہی رہے پچھتائے کم

مجھے تفتیش کے لیے لے جایا گیا۔ یہاں تفتیش کے لیے کمرہ نہیں بلکہ ایک بڑا ہال تھا اور ہال میں تقریباً بیس پچیس فوجی تھے ۔ یہ کتوں کی طرح مجھ پر جھپٹ پڑے۔ ایک افسر نے اس سے پہلے اپنی جھوٹی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ تم ہمارے ساتھ تعاون کرو، ہم کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ہمارا ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ خاصا تعلق ہے۔اور یہ کہ ہم انسانی حقوق کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ چند لمحے بعد پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوا، تو نہ ایمنسٹی تھی اور نہ ہی انسانی حقوق۔ ساتھیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھتے رہے اور مارتے رہے ۔ اس حالت میں کہ میری آنکھیں بند کر دی گئی تھیں اور میرے ہاتھ پاؤں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ میرے مسلسل انکار پر مجھے کئی بار برہنہ بھی کیا گیا(قاتلھم اللہ) اور گالیوں کا تو کچھ نہ پوچھیں۔

پھر مجھے تقریبًا چار پانچ گھنٹے تک مسلسل بجلی کے کرنٹ دیے جاتے رہے۔بجلی کا کرنٹ میرے رگ وپے میں سرایت کرتا اور میری چیخیں آسمان تک پہنچ جاتیں۔مگر الحمد للہ ہوش وحواس بحال تھے،حوصلہ اپنی جگہ قائم تھا۔دل ہی دل میں ’’یاحی یا قیوم برحمتک استغیث ‘‘کا ورد کرتا رہا۔جب مایوس ہو گئے تو ایک لڑکے کو لایا گیا جس کے ہاتھ پاؤں بھی میری طرح بندھے ہوئے تھے۔اُس کی آنکھیں کھولی گئیں اور میری بھی۔ اُس وقت تفتیش کرنے والے بزدل افسر میرے پیچھے چھپ گئے تا کہ میں انہیں نہ دیکھ سکوں۔دو تین فوجی میری پشت پر کھڑے رہے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس لڑکے کے ساتھ بات کرو۔وہ بیس پچیس سال کا متشرع لڑکا تھا۔ اُس نے مجھ سے کہا،’’دیکھو!جو کچھ کیا ہے، مان لو۔ اسی میں تمہاری خیر ہے۔مجھے دیکھو میں وزیرستان میں القاعدہ کا کمانڈر تھا۔ میں نے سب کچھ صاف صاف بتا دیا ہے اس لیے اب مجھے بہت آسانی اور سہولت ہے۔رشتہ دار مجھ سے ملاقات کرنے آتے ہیں اور گھر فون کرنے کی اجازت بھی ملتی ہے‘‘۔ میں نے اُس سے کہا تم تو القاعدہ کے کمانڈر ہو لیکن دیکھو میں تو کچھ بھی نہیں میرا کسی’دہشت گرد‘تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔اس کے بعد ایک بار پھر میری آنکھیں بند کر دی گئیں۔ اور کہا کہ اگر تم اسی طرح ضدپر قائم رہے تو تمہارے ساتھ قومِ لوط والی بد فعلی کی جائے گی۔ میں نے کہا میرےپاس کچھ بھی معلومات نہیں ہیں۔ پھر ایک پلید اور ناپاک فوجی کو لایا گیا۔ تفتیشی افسر نے اس خبیث کا تعارف کراتے ہوئے مجھ سے کہا کہ کافی عرصہ ہوا یہ شخص گھر نہیں گیا ہےاور یہ قومِ لوط والی بد فعلی جیسے کاموں کے لیے بہت بھوکا ہے۔ پھر وہ پلید انسان مجھے بکواس قسم کی باتیں کرنے لگا۔ اور ساتھ ساتھ گندی اور غلیظ گالیاں بھی دیتا رہا۔ میری حالت یہ تھی کہ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں تھیں۔ ’’اللھم استر عوراتنا وآمن روعاتنا‘‘کے مسلسل ورد کی برکت سے اللہ نے مجھے ان کے شر سے بچا لیا۔ اگرچہ یہ محض ایک حربہ تھا لیکن ذہنی اذیت اور بے بسی وبے کسی کے کریہہ احساس کا اس میں بہت کچھ سامان موجود تھا۔ اس کے بعد مجھے جعلی پھانسی دینےکے لیے کرسی پر کھڑا کیا گیا۔ اور اوپر سے رسی لٹکا کر میرے گردن کو باندھ دیا گیا۔ پھر مجھے کلمہ پڑھنے کو کہا گیا۔ میں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ پھندا میری گردن میں ڈالا گیا لیکن موت و حیات تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اس لیے مجھے پھانسی نہیں دی جا سکی اگر چہ یہ بھی ایک حربہ ہی تھا۔

یہ رات کا وقت تھا ۔ اس حالت میں چار پانچ گھنٹےگزر گئے۔ اس کے بعد میری تصویریں لی گئیں اور ڈھیر ساری گالیاں دے کر اپنے سیل واپس بھیج دیا گیا۔ میرا سارا جسم زخمی تھا لیکن اللہ کا اتنا کرم تھا کہ مجھے اس وقت بھی الحمد للہ مجاہدین کی خدمت پر کوئی افسوس نہ تھا۔دوسرے الفاظ میں چار پانچ گھنٹے کی مسلسل مار پیٹ اور بجلی کے کرنٹوں سے اللہ نے میرے ایمان میں اضافہ کردیا تھا، فللّٰہ الحمد والتمجید۔ چند لمحے بعد میرے ہاتھ اوپر باندھ دیے گئے اور اسی حالت میں رات کٹ گئی ۔مجھے یاد ہے اس صبح کی اذان کیسی میٹھی لگی تھی مجھے،میری آزمائش کی ایک رات کٹ گئی تھی خیریت سے۔تقریبًا صبح نو بجے ناشتہ دیا گیا۔ اور پھر اس کے فورًا بعد مجھے کالی ٹوپی پہنا کر تفتیش کی جگہ لے جایا گیا۔ یہاں مجھے بٹھا کر بجلی کے کئی کرنٹ دیے گئے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Exit mobile version