’’پتہ ہے میرے تین بابا جنت میں ہیں۔‘‘
’’اور میرے ایک بابا جنت میں ہیں۔‘‘
’’چاچو! آپ کے کتنے بابا جنت میں ہیں؟‘‘
اُن دونوں بچیوں نے مجھ سے ایسی معصومیت سے سوال کیا تھا کہ اس بات کا جواب میں جھینپ کر ہی دے سکا ،کچھ یوں کہ :’’بیٹا!میرے ایک ہی بابا ہیں اور وہ ابھی دنیامیں ہی ہیں‘‘ (اس کے ساتھ دھیرے سے میں نے الحمدللہ کہا)۔یہ سن کر ارضِ جہاد پر پلنے والی وہ مہاجر بچیاں اور بچے مجھے حیرت سے تکنے لگے،گویا کہہ رہے ہوں ’’اتنے بڑے ہو کر بھی چاچو کے ایک ہی بابا ہیں اور وہ شہید بھی نہیں ہوئے‘‘؟
آج، اس اکیسویں صدی میں ایسے مناظر دیکھ کر میں کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ وہ نسلیں ہیں جن کی رگ و خون میں یہ نظریہ دوڑتا ہے کہ ’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘۔جن کو معلوم ہے شہادتیں دیے بغیر…… جیلوں میں جائے بغیر…… اپنے جسموں کے ٹکڑےکروائے بغیر … …قربانی دیے بغیر نہ تو ہماری قوم آزاد ہو سکتی ہے اور نہ ہی اللہ کا دین غالب آسکتا ہے۔
آس پاس اگر گولہ باری اور گولیوں کی آوازیں آتی ہیں تو ان کی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے اور یہ ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں کہ ’’یا اللہ! مجاہدین جیت جائیں‘‘۔اور پھر خود بھی یہ لکڑی کی بندوقیں بنا کر ’’کافروں‘‘ پر حملہ شروع کردیتے ہیں۔کھیل ہی کھیل میں کوئی شہید ہوتا ہے، کوئی زخمی اور کوئی غازی بن کر لوٹتا ہے!
میں کبھی پاکستان کے حالاتِ حاضرہ پر مبنی ڈیٹا دیکھ رہا ہوتا ہوں اور کوئی مہاجربچہ میرے کمپیوٹر کی سکرین پر آن ٹپکتا ہے تو انتہائی دُکھ سےیہ سوال کرتا ہےکہ’ چاچو! یہ لوگ کب جہاد کریں گے؟‘ ۔ کشمیر کے مناظر دیکھ کر یہ خوشی سے جھوم جاتے ہیں کہ ’کشمیری نہتے ہو کر بھی اسلحے سے لیس ہندو فوجیوں سے ٹکرا جاتے ہیں‘۔فلسطین اور شام کے مناظر دیکھ کر ان کو ایک گونہ تسلی رہتی ہے کہ اتنی بمباریاں سہنے کے باوجود بھی فلسطینی اور شامی مسلمان جھکتے نہیں ہیں۔ برما کے مناظر دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ بہنا شروع ہوجاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ برما کو کون سا را راستہ جاتا ہے؟ وہ دن کب آئے گا جب ہم برما میں جاکر جہاد کر پائیں گے؟جنت کا تذکرہ سن کر ان کے چہرے خوشی سے دمک اٹھتے ہیں، جہنم کےعذاب کا سن کر ان کو ڈر لگنا شروع ہو جاتا ہے۔
ایک دن سب بچے قریبی نہر پر نہا رہے تھے ، پانی کے چھپاکوں میں سے بچوں کی شرارتوں کی آوازیں چھنچھناتی ہوئی آرہی تھیں۔ ایک آٹھ سالہ بچہ پانی میں الگ تھلگ کھڑا کسی گہری سوچ میں تھا …… غم اس کے چہرے سے عیاں تھا، سارا دن وہ پریشان رہا ۔ بالآخر جب اس سے پوچھا گیا کہ بیٹا آپ کو کیا پریشانی ہے ؟ کسی نے مارا ہے……؟ ڈانٹا ہے ؟ کہیں درد ہورہا ہے ؟ لیکن ان سب باتوں کا جواب نفی میں تھا۔ کافی دیر بعد بچے نے روہانسا ہو کر لب کشائی کی کہ ’’میں ہندوستان میں (ظلم سہتے )مسلمانوں کے بارے میں سوچ رہا تھا‘‘۔ سبحان اللہ و الحمد للہ و ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ!
ایک رات چھت کے اوپر سے آتی ڈرون کی نہایت نچلی پروازوں کی آوازیں ایک نو سالہ بچے کو سونے نہ دے رہی تھیں۔ ایسے میں وہ اٹھا اور اپنی بڑی آپا کو کہا ’’آپا مجھے کشاف( ٹارچ) دو، ساتھ والے کمرے میں میری (پلاسٹک کی) بندوق پڑی ہے، وہ ساتھ رکھ کر سوؤں گا!‘‘۔ آپا نے کہا ’’بھائی !وہ پلاسٹک کی ہے، گولیاں تو نہیں مارتی‘‘۔ تو مصائب و شدائد کی بھٹیوں سے گزرا ہوا وہ یتیم بچہ پُر عزم انداز میں بولا: اگر اس مرتبہ کافر آئیں گے تو میں اپنی (پلاسٹک کی) کلاشن کے بٹ سے ان سے لڑوں گا! الحمد للہ علیٰ نعمۃ الاسلام والجہاد!
یا رب! ان چھوٹے سے بچوں نے تیری راہ میں کیا کچھ نہ دیکھا ……!ہجرتیں اور دربدریاں سہیں……کسمپرسی کے عالم میں طویل اور پر خطر سفر طے کیے…… مختلف النوع بیماریاں اور غذائی قلتیں دیکھیں ……اتنی چھوٹی سی عمر میں اپنی اتنی ’’مطلوبیت‘‘ دیکھی کہ کفر کے سرغنہ ’’سپر پاور‘‘ کے پانچ پانچ ڈرون طیارے اپنے پیچھے لگے ہوئے تھے۔اپنے باپوں کو شہید……اپنی ماؤں کو زخمی اور گرفتار …… اپنے چھوٹے اور بڑے بھائیوں کو کٹا پھٹا دیکھا!!! تیری ہی خاطر یہ کڑوے اور میٹھے گھونٹ پیے۔اور ہاں یاد آیا انہوں نے یہ مناظر بھی ماضی میں دیکھے کہ جب امریکی اور افغان فوج کے خبیث سپاہی طویل اور سرد راتوں میں…… اے سی ون تھرٹی جنگی جہازوں، ڈرون طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی گھن گرج میں…… ان کے باپ کو شہید کر کے…… ان کی ماؤں کو گھسیٹتےہوئے لے گئے، اور ان نرم و نازک بچوں کو اندھیرے کمروں میں ڈال کر دروازے بند کرکے چلے گئے۔ یا اللہ! اُس وقت ان معصوم جانوں کی چیخ و پکار سننے والا تو ہی تھا۔ تو نے ہی ان کو اور ان کی ماؤں کے دلوں کو تھاما۔ یہ تو ہی ہے جس نے دنیا بھر کے کفر کے پراپیگنڈے کے باوجود لوگوں کے سینوں میں ان کے لیے جگہ پیدا کی……
اک شہرِ بے اماں میں مسکن رہا ہمارا
بے خانماں سہی پر ہم نہ تھے بے سہارا
تو نے ہی ان کو اتنا حوصلہ دیا ہے کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی یہ سینہ تان کر دنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ ہم مجاہد ہیں۔ ہم دین کے سپاہی ہیں!مسجدِاقصیٰ کو ہم ہی آزاد کروائیں گے! ہند کو بھی ہم فتح کریں گے۔ امریکہ، برطانیہ اور روس کے ہم ٹکڑے ٹکڑے کریں گے۔اس پوری دنیا پر صرف اور صرف تیرا علم لہرائیں گے!دنیا کے ہر مظلوم کی مدد کریں گے! ہمِیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی ؓ کے شانہ بشانہ دجال اور اس کے لشکر سے لڑیں گے…… ان شاء اللہ !
یا اللہ ! اس نسلِ ایمانی کی تو حفاظت فرما! اس نسلِ جہادی کی تو مدد فرما!اس کو دنیا کے فتنوں سے بچا لے! ان سے اپنے دین کا کام لے! ان کے دم سے اسلام کا بول بالا ہو! کفر و شرک نیست و نابود ہو جائے! ان کے کارناموں سے میری امت کے سینے ٹھنڈے کردے!ان کو آخرت کی راہ پر چلانا! ان کو شہادت کا راہی بنانا!ان کی دنیا بھی سنوار دے اور آخرت بھی ۔ ان کو جنتوں میں اپنے اور اپنے پیارے حبیب مصطفیٰ ﷺ کے دیدار سے محروم نہ فرمانا، آمین!
و صلی اللہ علی خیر خلقہ محمد و علی آلہ وصحبہ اجمعین.