وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا(سورۃ النساء: ۷۵)
’’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔‘‘
۵ اگست ۲۰۱۹ء، جس دن ہندوستان کی کال کو ٹھریاں اور ٹارچر سیل ہزاروں نوجوانانِ کشمیر سے بھر دیے گئے۔ زندانوں کی نذر ہونے والےعزت مآب بزرگ اور عفت مآب خواتین کی تعداد بھی کچھ کم نہیں، نیز باقی کشمیری مسلمانوں کو بھی آزاد نہیں چھوڑا گیا بلکہ جنت نظیر کشمیر کو آر ایس ایس کے غنڈوں اور منحوس و نجس ہندو فوجیوں کے بدترین لاک ڈاؤن نے بدترین قید خانے میں تبدیل کردیا۔ سیکڑوں نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا اٹھا کر جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا اورگزشتہ تیس سالہ جنگ میں بچے کھچے معاشی ذرائع پر،مسلمانوں سے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کی سہولیات چھین کر اور بدترین کرفیو لگا کرکڑا تالا لگا دیا گیا۔ نیز جب پوری دنیا وبا کی لپیٹ میں آئی تو کشمیری مسلمانوں کو طبی سہولیات سے بھی محروم کردیا گیا ۔
اے مسلم نوجوانانِ برِصغیر اور نوجوانان ِ امتِ مسلمہ ! مذکورہ بالا مظالم اُس وقت انتہائی چھوٹے لگتے ہیں جب جموں و کشمیر کی ہماری عزیز بہنوں کی درد بھری اور دلوں کو پارہ پارہ کرڈالنے والی فریاد ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ راشدہ ، سبا ، چودہ اور سولہ سالہ آسیہ اور عشرت، کنن پوش پورہ کی سو سے زیادہ بہنوں کا دل چیر دینے والا واقعہ، بہن نیلوفر اور آصفہ…… کس کس کا نام لیں؟ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میرے بھائیو !یہ پھول ،یہ کلیاں مسل دی گئیں۔ کب تک ہم اپنی بہنوں کو ہندو بنیے کے نرغے میں چھوڑے رکھیں گے؟اور ۵ اگست کے بعد تو حد ہوگئی۔ ہماری ہر ہر عفت مآب بہن کو بھارتی فوج اور آر ایس ایس کے عزت کے لٹیروں کے بُرے عزائم کا سامنا ہےاور کشمیر کی ہر ہر عفت مآب بہن بزبانِ حال یا بزبان قال فریاد کر رہی ہے کہ اے امتِ مسلمہ کے ہمارے بھائیو! کب وہ وقت آئے گا جب آپ ہماری فریاد سنیں گےاور ہماری عزت پر بُری نگاہ ڈالنے والے آر ایس ایس کےغنڈوں اور ہندی فوج سے ہماری عز توں کی حفاظت کریں گے؟ میرے بھائیو! اس بات کا اندازہ آپ غزوۂ ہند کے جون کے شمارے میں چھپنے والے ایک کشمیری بہن کے خط سے لگا سکتے ہیں۔ ہماری ایک کشمیری بہن امرائے جہاد کے نام خط لکھتی ہے کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں ہندی فوجوں پر فدائی حملہ کروں۔ اگر چہ اس خط کا ایک پہلو کشمیری مسلمانوں کے جذبۂ جہاد کا غماز ہے لیکن اس خط میں امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے پیغام بھی ہے کہ بھائیو! ہماری عزتیں خطرے میں ہیں، اب بہت ہوچکا،ہم ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، یہاں تک کہ ہم جان کی پروا بھی نہیں کرتیں، لیکن اپنے دوپٹوں پر سنگینوں کے یہ وار……!!! یہ ہم نہیں سہہ سکتیں۔ میرے بھائیو! اگر آپ تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں،اگر آپ کو دنیا کی رنگینیاں ہماری طرف نگاہ اٹھانے سے روکتی ہیں،اگر آپ اپنی تاریخ بھول چکے ہیں، اگر آپ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اور نبی رحمت ﷺ کی سنت بھول گئے ہیں، اورمیرے بھائیو اگرآپ ہماری عزتیں لٹنے کی صورت میں دنیا کی رسوائی پر اور آخرت میں اللہ ذوالجلال کے سامنے رسوائی اٹھانےکے لیے تیار ہوچکے ہیں تو پھر اس دنیا کی دھوکے باز رنگینیوں میں ہی لگے رہیں ۔رہی عزت کے لٹیروں کے نرغے میں پھنسی آپ کی بہنیں تو انہیں رہنے دیں وہ خود ہی چاقو چھری سے اپنا دفاع کریں گی یا اگر میسرہوا تو اپنے جسموں پر بارود باندھیں گی لیکن آپ کی بہنیں اس رسوائی کو اپنے قریب نہ آنے دیں گی۔
خط لکھنے والی ہماری عزیز بہن اور دیگر ہماری بہنوں کو ہم مجاہدین یقین دلاتے ہیں کہ ہماری بہنو! ہم اپنے آپ کو میادین قتال میں لے کر آئے ہیں، ہم احکام شریعت کے تابع کسی ایسے عمل سے گریز نہیں کریں گے جو ہمارے بس میں ہو اور آپ کی عزت کی جس سے حفاظت ہورہی ہو۔ ہماری بہنو! ہم نے شریعت یا شہادت کا نعرہ لگایا ہے، ہم اللہ رب العزت کی نصرت سے شریعت ِ مطہرہ کے نفاذ سے پہلے پیچھے نہیں ہٹیں گے یا پھر شہادت کا جام پی لیں گے، ان شاء اللہ۔ یقین جانیں شریعتِ مطہرہ کے سائے میں ہی آپ کی عزتیں محفوظ ہیں ۔یا اللہ ُ،یا رحمٰنُ، یا رحیمُ، یا حیُّ،یا قیّومُ،ہمارے قدموں کوجما دے ۔ہمیں اپنی باتوں میں سچا کردکھا ۔ ہمیں حقیقی معنوں میں اپنی بہنوں کی عزتوں کے محافظ بنا اور ہمیں کفار پر غلبہ عطا فرما۔آمین ثم آمین۔
میں برِصغیر کے مسلم نوجوانوں سے عرض کررہا ہوں کہ ایک وہ مسلمان تھا جو ایک مسلمان خاتون کے چہرے سے چادر ہٹانے پر ایک یہودی کو قتل کرتا ہے اور خود بھی قتل ہوجاتا ہے اور ایک ہم ہیں!! ہم اپنی بہنوں کی عزتیں لٹنے کی خبریں آئے روز سنتے ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہوتے ۔ایک ہمارے سامنے نبیٔ رحمت ﷺ کا اسوہ ہے اور ایک ہم ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔نبی ملحمہ ﷺ بنی قینقاع کے خلاف ایک مسلمان خاتون کا پردہ خراب کرنےکی پاداش میں اور ایک مسلمان کے قتل پر اعلانِ جنگ کرتے ہیں اور اس جنگ کی قیادت خود فرماتے ہیں۔اور ایک ہم ہیں کہ ہماری بہنوں کی عزتیں محفوظ نہیں اور ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ برِصغیر کے میرے عزیز مسلم نوجوان بھائیو! اگر کل قیامت کے دن اللہ رب العزت نے سورۃالنساء کی آیت وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ……پر عمل کے بارے میں ہم سے پوچھا،اگر اللہ رب العزت نے قیامت کے دن نبی اکرم ﷺاور صحابہ کرام ؓ کی موجودگی میں نبی اکرم ﷺ کا یہ اسوہ ہمارے سامنے رکھاتو ہمارا جواب کیا ہوگا؟ اگر اللہ رب العزت نے لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ پر عمل کے بارے میں ہم سے سوال کیا تو ہمارا جواب کیا ہوگا؟
5 اگست 2020ء جس دن کشمیری مسلمانوں کو بدترین لاک ڈاؤن میں زندگی گزارتے ہوئے ایک سال پورا ہوگیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر کہلانے والے ملک کی سرکار کشمیر میں ایک سال کے بعد لاک ڈاؤن ختم کرتی، کشمیریوں کو زندگی کی سہولیات مہیا کرتی لیکن مودی کی فسطائی سرکار نے اپنی ہندوتوااور مسلم کش پالیسی کو اسی 5اگست کو بابری مسجد کی پاکیزہ جگہ پر رام مندرکی تعمیر شروع کرنے سے مزید واضح کردیا۔
یہاں پر میں ایک کشمیری ہونے کی حیثیت سے پاکستان کے اپنے محبوب مسلمانوں سے عرض کرنا چاہتاہوں کہ آپ کا کشمیر سے متعلق جذبہ کیوں کر ٹھنڈا پڑ گیا جبکہ جھیل ڈل کا پانی اب بھی کشمیریوں کے خون سے رنگین ہے؟اب بھی آپ کی کشمیری بہنیں سفاک ہندوؤں کےنرغے میں ہیں،اب بھی وہاں سے پکاروں اور فریادوں کی صدائیں آرہی ہیں اور بابری مسجد آپ کو اب بھی پکارہی ہےاور پورا کشمیر پکار رہا ہے!!!
میرے محبوب کشمیر ی،ہندوستان کےاور پورے برِ صغیر کے مسلم نوجوانو!
اٹھیے اوراپنی بہنوں کی طرف اٹھنے والے ان سفاک ہندوؤں کے ہاتھ کاٹ ڈالیے۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں ہندو بنیا طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ یہ کمزوروں پر ظلم پر ظلم کرتاہے اور طاقت ور کی پوجا کرتاہے۔ میرے عزیز بھائیو! آئیے! اس سے پہلے کہ قافلہ چھوٹ جائے ۔اس سے پہلے کہ کفار کے مکروہ ہاتھ ہماری مزید بہنوں کی عزتوں کو پامال کریں ۔اس سے پہلے کہ موت ہمیں اپنی آغوش میں لے لےکہ ہم اللہ رب العزت کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ،نبی ملحمہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو تھامتے ہوئے،جہاد کے صفوں میں شامل ہوجائیں اور اللہ پاک کے ہاں سرخ روئی کا پروانہ حاصل کریں۔
وما علینا الا البلاغ!