مودی سرکار، فوجی سرکار

شہرِ کراچی کا بِھٹ جزیرہ؛ یہاں زیادہ تر ماہی گیری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ انہی ماہی گیروں میں ایک عبد الکریم تھا۔ ملک میں مہنگائی نے غریب عوام کا جو حال کیا ہوا ہے سب پر عیاں ہے۔ غریب عبدالکریم بھی اس دن اسی امید کے ساتھ گھر سے نکلا ہوگا کہ سمندر میں جا کر ماہی گیری کروں گا اور اپنے بوڑھے ماں باپ اور تین بچوں کے لیے کچھ کما کر لاؤ ں گا۔

ماہی گیر طبقے کو تو پہلا خطرہ اپنے ہی ملک کے محافظین سے ہوتا ہے جو مقامی سمندر میں patrolling (گشت ) کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ طرح طرح کے بہانوں سے ان کو تنگ کرتے ہیں۔ لائسنس ہے کہ نہیں؟ اس جگہ fishing (ماہی گیری) کی اجازت نہیں ہے۔ آپ کی fishing boat (کشتی) ہمارے معیار کے مطابق نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سب کچھ اکثر رشوت کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب یہ محنت کرنے والا طبقہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پیدا کردہ سمندر میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے گہرے پانی کا رُخ کرتے ہیں تو وہاں بھی کفّار و مشرکین کے ظلم وستم سے محفوظ نہیں ہوتے۔ مختلف ممالک کے بحری جہاز ان کو تنگ کرتے ہیں ۔ کبھی anti-narcotics (مخدرہ مواد کے مخالفین) والے اس لیے تنگ کرتے ہیں کہ کہیں smuggling نہ کر رہے ہوں ، تو کبھی دہشت گردی کے خلاف سمندری اتحاد والے تلاشیاں لینے آجاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اگر انڈیا کی بحریہ کے ہاتھ لگ گئے تو جس انڈیا سے اپنے ملک کے مسلمان برداشت نہیں ہوتے وہ ان بے چاروں کے ساتھ کیا حشر کرتا ہو گا خود ہی سوچ لیجیے؟ عبدا لکریم کی کہانی ہی اس کی وضاحت کے لیے کافی ہے۔

۴ جنوری ۲۰۲۰ء عبد الکریم چند اور ماہی گیروں کے ساتھ اپنے غریب خاندان کی کفالت کے لیے سمندر میں اپنی قسمت آزما رہا تھا کہ انڈیا کے بحری اہلکاروں نے اس کو پکڑ لیا۔ الزام یہ لگایا گیا کہ یہ انڈیا کی سمندری حدود میں ماہی گیری کر رہا تھا۔ الزام صحیح تھا یا غلط یہ الگ موضوع ہے اور اس میں بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کئی دفعہ بھارتی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں سے پاکستانی ماہی گیرو ں کو اٹھا کر قید کیا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ غریب ماہی گیر کو اگر آپ نے اپنے ہی سمندر سے پکڑ لیا تو اس کو کیا سزا دو گے؟

اے آر وائی نیوز نے ۲۷ جولائی کو ایک خبر نشر کی۔ خبر کے مطابق ایک پاکستانی مچھیرا جس کا نام عبد الکریم تھا کو بھارت کی جے پور جیل میں تشدد کر کر کے شہید کر دیا گیا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ وہ غلطی سے بھارتی سمندر میں ماہی گیری کر رہاتھا۔ اس کی نعش واہگہ بارڈر لاہور پر پاکستانی عہدہ داروں کے حوالے کی گئی اور وہاں سے ایمبولینس کے ذریعے کراچی پہنچا دی گئی۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اس قسم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی بھارت نے کئی دفعہ پاکستانی ماہی گیروں کو پکڑ کر ان پر اتنا تشدد کیا ہے کہ وہ جان سے چلے گئے ۔ صرف اپریل ۲۰۱۹ء میں چار ماہی گیروں کو ایک ماہ کے مختصر سے عرصے میں قتل کیا گیا۔ ان میں سے ایک ماہی گیر کا نام محمد سہیل تھا۔ ماہی گیر سوسائٹی کے ترجمان کے مطابق محمد سہیل ۲ اکتوبر ۲۰۱۶ء بھارتی بحریہ کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا۔ ترجمان کے مطابق اس وقت بھارتی جیلوں میں ۱۰۸ پاکستانی ماہی گیر قید ہیں جن پر بدترین تشدد کیاجاتا ہے۔

یہ بھارتی حکومت کا رویہ ہے مسلمانوں (چاہے پاکستانی ہوں یا بھارتی ) کے ساتھ۔ مسلمانوں کا قتل عام، مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانا( گھر واپسی تحریک وغیرہ)، کشمیری مسلمانوں پر تاریخ کا بدترین ظلم، بابری مسجد کو شہید کر دینا اور اب اس کی جگہ پوری بد معاشی سے رام مندر کی تعمیر۔ ہندو تو مشرک ہیں انہوں نے تو کرنا ہی یہی ہے اور ہمیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پہلے سے ہی قرآن عظیم الشان میں آگاہ کردیا ہےکہ

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا… (سورۃ المائدہ: ۸۲)

’’البتہ ضرور پائیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں سے زیادہ سخت دشمنی میں،ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا۔‘‘

مشرکین مسلمانوں کے ساتھ عداوت میں سخت ہوں گے ہمیں ہمارے رب نے پہلے ہی سے آگاہ کردیا ہے۔ ان کو جب بھی موقع ملے گا وہ مسلمانوں پر تشدد کریں گے، ان کی بے عزتی کریں گے اور ان کا قتل عام اور یہ سب کچھ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے اس کے مقابل جو ہماری قوم نے ، ہمارے عوام نے قوت بنائی، جن کو اس غربت میں، اس کسمپرسی میں، اپنا پیٹ کاٹ کر بھاری بھر کم ٹیکسوں سے مضبوط کیا وہ کیا کر رہی ہے؟

ایک طرف انڈیا سے عبد الکریم کی نعش آرہی ہے تو دوسری طرف جاسوس کلبهوشن کو حوالے کرنے کی كوششيں جاری ہیں کہ کیسے اس کو بحفاظت انڈیا کے حوالے کیا جائے (حکومت پاکستان نے خود اسلام آباد ہائی کورٹ میں کلبھوشن یادَو کے حق میں اپیل دائر کی ہے)۔ ایک طرف انڈیا کی مودی سرکار بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھ رہی ہے تو دوسری طرف فوجی سرکار اسلام آباد میں لال مسجد بند کر کے ایک دوسری جگہ مندر تعمیر کرانا چاہتی ہے۔ ایک طرف کشمیر میں تاریخ کا بدترین ظلم جاری ہے تو دوسری طرف ان مجاہدین کی لاشوں کو سڑکوں پر پھینکا جارہا جو اپنی مظلوم امت کی خاطر علم جہاد بلند کرنا چاہتے تھے۔ ایک طرف محمد سہیل (ماہی گیر ) کی لاش آتی ہے تو دوسری طرف سے ابھی نندن کو goodwill gesture کے طور پر بحفاظت حوالے کیا جاتا ہے۔وہاں مودی سرکار مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے اور یہاں سوات سے لے کر بلوچستان تک فوجی سرکار مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

افسوس اس پر ہے کہ اس کے بعدبھی ایمان ، تقوٰی اور جہاد کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔کیسا ایمان ہے کہ ہندو آپ کی ایمانی بہن کے ساتھ کشمیر میں ظلم کرے ، زیادتی کرے اور آپ خاموش رہیں؟ اور صرف خاموشی بھی نہیں بلکہ ان کے حملہ آور پائلٹ کو بحفاظت ان کے حوالے کرنا اور اب جاسوس کو حوالے کرنے کی تیاری کرنا اور اس کے بعد بھی انڈیا کاایجنٹ کون؟

یہ کیسا ایمان ہے جو بابری مسجد کی شہادت پر بھی خاموش ہے؟ یہ کیسا تقوٰی ہے جو لال مسجد میں اللہ کی عبادت کرنے سے روکتا ہے؟ یہ کیسا جہاد ہے جو اپنی ہی بہنوں(عافیہ صدیقی سے جامعہ حفصہ کی طالبات تک) اور اپنے ہی بھائیوں (مظلوم امت کی خاطر جہاد کرنے والے عربی و عجمی مجاہدین) کا قتل عام کرواتا ہے؟کدھر تھی وہ ’اللہ کا کرم ، ہمت کا علم، موجوں پہ قدم‘ والی پاک بحریہ جب عبد الکریم اور محمد سہیل کو گرفتار کیا جارہا تھا، جب ان کو ان کی کشتیوں سمیت انڈیا لے جایا جارہا تھا؟ کدھر تھے وہ نیوی کے کمانڈوزاور وہ ہر وقت تیار و چوکنے میرینز؟

ہمارے مسلمان بھائیوں پر ظلم ہورہا ہے۔ہندوستان اور کشمیر میں مودی سرکار اسلام مخالف ہے اور مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر رکھی ہے۔ ایمان کے ہر دعوے دار کو اللہ کا قرآن بلا رہا ہے کہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کی مدد کو نکلو:

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا؀ (سورۃ النساء: ۷۵)

’’ اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم قتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور ان بےبس مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی خاطر جو مغلوب بنا دیے گئے ہیں، جو دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں نکال اس بستی سے جس کے رہنے والے لوگ ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے خاص اپنے فضل سے کوئی مددگار بھیج دے ‘‘۔

اس امر پر سب سے پہلے تو ایمان ، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کے دعوے داروں کو لبیک کہنا چاہیے تھا لیکن کیا کریں وہ مندروں کی تعمیر، مساجد پر بمباریوں اور مسلمانوں کے خلاف آپریشنوں سے فارغ تو ہوں۔ ہاں اگر کوئی انفرادی طور پر ایمانی غیرت سے سرشار ہو کر اس ظلم کے خلاف اٹھنا چاہے تو وہ الگ بات ہے اور اس طرح کرنا عمل سے بعید بھی نہیں۔ وہ پاکستان نیوی میں شامل مجاہدین فی سبیل اللہ ہی تھے جنہوں نے بھارتی بحریہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی(معرکہ شیخ اسامہ ؒ) لیکن ایک دفعہ پھر مودی سرکار کو بچانے فوجی سرکار آپہنچی تھی۔

مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے ہمیں مودی سرکار اور فوجی سرکار کے خلاف نکلنا ہوگا۔ جہاد کرنا ہوگا۔ یقیناً جہاد سب سے آسان اور مختصر راستہ ہے ظلم کو ختم کر نے کا!

Exit mobile version