حافظ سردار شہید ﷬

دو عشرے قبل، غزنی شہر میں دو بدمعاش و بد قماش مشہور تھے۔ بدکاریاں، نشہ، بھتہ خوری، ڈاکے، غرض مافیا کی صحیح تشریح یہ دونوں تھے۔ آج بیس بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ، غزنی میں کوئی ان کا مساوی بدمعاش پیدا نہیں ہوا۔ انہی دو بد قماشوں میں سے ایک کا نام ’سردار‘ تھا۔ سردار کو اس کی بری حرکتوں کے سبب غزنی شہر کا ہر بچہ اور بوڑھا جانتا تھا۔

ایک دن سردار کی کیفیت کچھ ایسی ہوئی کہ اس نے سوچا کہ وہ خود کشی کر لے۔ سردار یہ سوچ کر ایک ملا صاحب کے پاس گیا اور پوچھا کہ ’میں خودکشی کرنا چاہتا ہوں۔ کیا یہ میرے لیے جائز ہے؟‘۔ یہ ملا صاحب سردار کو اچھی طرح جانتے تھے، انہوں نے کہا کہ ’تم نے اور اتنے برے کام اور سنگین جرائم کیے ہیں، اگر تم خودکشی کا حرام فعل بھی کر لو تو کون سا کوئی زیادہ فرق پڑ جائے گا! تمہارے لیے خود کشی روا (جائز) ہے!‘۔

سردار نے یہ بات سنی اور ارادہ کیا کہ کل خودکشی کروں گا۔

یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب امریکہ اپنے نیٹو و غیر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر نیا نیا حملہ آور ہوا تھا۔

سردار اگلے دن ایک بڑی مسجد میں گیا، جس کی عمارت سے کود کر اس نے اپنی جان تلف کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس مسجد میں پہنچا تو اس مسجد کے امام صاحب نے سردار کو دیکھا اور پوچھا کہ ’سردار! کس ارادے سے آئے ہو؟‘۔ سردار نے کہا کہ ’خود کشی کرنے کے ارادے سے آیا ہوں!‘۔ یہ سن کر یہ امامِ مسجد مولوی صاحب خاموش ہو گئے اور کچھ سوچ کر بولے’سردار! کیا کیفیت ہے جس کے سبب خودکشی کرنا چاہتے ہو؟ تم پر کیا بِیت رہی ہے؟‘۔ سردار نے کہا کہ ’میں اپنی بد فعلیوں اور گناہوں سے تنگ آ گیا ہوں۔ ایسی زندگی سے موت بہتر ہے۔‘

مولوی صاحب یہ سن کر پھر خاموش ہو گئے اور اب ذرا زیادہ توقف کے بعد بولے ’سردار تم آج خودکشی نہ کرو، تین دن بعد جمعہ ہے، تم جمعے کے دن آنا میں تمہیں ایک کام بتاؤں گا‘۔ سردار یہ سن کر واپس لوٹ گیا۔

تین دن کے بعد جمعے کے روز، سردار انہی مولوی صاحب کے پاس پھر پہنچا۔ مولوی صاحب سردار کو امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ایک جہادی کماندان ’نجیب حاجی‘ کے پاس لے گئے1۔ یہاں سردار سے بات چیت شروع ہوئی۔ مولوی صاحب نے سردار سے کہا ’سردار! تمہارے لیے تو زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے، تم موت چاہتے ہو۔ جہاد کیوں نہیں کرتے؟!‘۔

یہ بات سن کر سردار فوراً تیار ہو گیا اور بولا ’میں جہاد کے لیے تیار ہوں!‘۔

مولوی صاحب اور نجیب حاجی صاحب دونوں ہی کو سردار کی بات پر یقین نہ آیا سو انہوں نے سردار سے کہا کہ تم ایک ہفتے بعد آنا۔ مولوی صاحب اور نجیب حاجی صاحب دونوں ہی کا خیال تھا کہ سردار نہ آئے گا۔ لیکن وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ!2

سردار ٹھیک ایک ہفتے بعد نجیب حاجی صاحب سے ملنے کے لیے آ گیا۔ نجیب حاجی صاحب کو اب بھی سردار پر اعتبار نہ تھا کہ سردار معصیتوں اور گناہوں میں ڈوبا شخص تھا اور اس کا رُواں رُواں معصیت کی غلاظت میں لتھڑا ہوا تھا۔ بہر کیف نجیب حاجی نے سردار کو ایک ’زِیڑ بشکا مائن‘ (پیلے رنگ کے کین میں بنائی گئی بارودی سرنگ) دی جس کے ساتھ ریموٹ کنڑول وغیرہ سب کچھ پہلے ہی سے نصب تھا۔

نجیب حاجی نے کہا کہ یہ لے جاؤ اور قابض کافروں پر پھاڑو۔

حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد میں وہ شخص بھی شامل ہوتا ہے کہ جو اپنے گناہوں سے تنگ آ جاتا ہے کہ جہاد مغفرت کا راستہ ہے!

جو آنکھیں رات کے اندھیرے میں تھرکتے جسموں کو دیکھتی تھیں، ناپاک شراب کے جام جن ہاتھوں سے تھامے جاتے تھے ، اسی طرح ایک رات کے اندھیرے میں انہی ہاتھوں سے سردار نے غزنی بازار کی ایک بڑی شاہراہ کی کھدائی کی اور ’زِیڑ بشکا مائن ‘ سڑک کے درمیان نصب کر دی۔ سردار وہاں سے اٹھا اور سڑک سے کچھ دور بیٹھ گیا۔

ایسے میں نیٹو کا ایک قافلہ اس شاہراہ پر آ گیا۔ ایک بکتر بند ہموی گاڑی جیسے ہی بارودی سرنگ کی جگہ پر پہنچی، سردار نے بسم اللہ پڑھ کر ریموٹ کا بٹن دبایا۔ ایک زبردست دھماکے کے ساتھ ’سلوواکیا (Slovakia)کے یورپی صلیبی فوجیوں کی بکتر بند ہموی ٹکڑوں اور پارچوں میں بدل گئی، ہموی میں بیٹھے اللہ کے دین کے دشمن فوجیوں کا بھرکس بھی نہ ملا۔

سردار اس کارروائی کے بعد خاموشی سے وہاں سے اٹھا اور جا کر فون کے ذریعے اپنے جہادی امیر کو کارروائی کی اطلاع دی۔ چند دنوں بعد امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سردار کے فون کا سراغ لگایا اور چھاپہ مار کر اسے اٹھا کر لے گئے۔ یہ ۲۰۰۲ء کی بات ہے۔ ایک راوی کے مطابق سردار کو سیدھا گوانتانامو کے قید خانے میں بھیجا گیا اور وہاں سے باگرام کے اذیت خانے میں۔ سردار کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔باگرام کے قید خانے میں سردار کی ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ سردار نے بنیادی دینی علوم پڑھے اور پھر خود سے قرآنِ مجید حفظ کرنا شروع کر دیا۔ساتھ ساتھ دیگر دینی نصابی (حدیث، تفسیر و فقہ وغیرہ کی)کتابیں بھی پڑھنا شروع کر دیں۔

آٹھ سال گزر گئے۔ ۲۰۱۰ء میں باگرام جیل سے فاسق و فاجر، گناہوں کے رسیا ’سردار‘ کے بجائے ’حافظ سردار‘ باہر نکلے۔ حافظ سردار صاحب غزنی شہر کے کوچے کوچے سے واقف تھے۔ رہا ہو کر سردار نے سوچا کہ ’مجھے غزنی شہر کا خوب اچھی طرح معلوم ہے،دیہاتی علاقوں میں جہادی کارروائیاں کرنے والے مجاہدین کی ایک اچھی خاصی تعداد ہے،ضرورت ہے کہ میں غزنی شہر جو کہ افغانستان کا قلب ہے، میں کارروائیاں کروں‘۔ یہ سوچ کر حافظ سردار ایک بار پھر غزنی شہر میں پہنچ گئے۔ یہاں انہوں نے صلیبی دشمن کے خلاف چریکی ؍ گوریلا حملوں کا آغاز کیا۔ آہستہ آہستہ حافظ سردار صاحب کے ساتھ دیگر نوجوان مجاہدین بھی شامل ہونے لگے۔ حافظ سردار کا اپنا ’دلگئے‘ (مجموعہ) وجود میں آ گیا۔ حافظ صاحب اور ان کے ساتھی اب غزنی شہر میں کارروائیاں کرتے۔

زِیڑ بشکا مائن‘ نیٹو کے فوجیوں پر پھاڑنے والے سردار صاحب اب امریکہ کو ان کی ان نئی جہادی کارروائیوں کے سبب اور بھی زیادہ مطلوب ہو گئے۔

۲۰۱۲ء میں صوبۂ غزنی کے علاقے ’برکت‘ میں حافظ سردار ایک مکان میں موجود تھے، جب امریکی ڈرون طیاروں نے آپ کو نشانہ بنایا۔

سردار جو کل خودکشی کی حرام موت مرنا چاہتا تھا، آج شہادت کی اعلیٰ موت سے ہم کنار ہوا، وہ موت جو ابدی زندگی کی ابتدا ہے۔

گانے سننے کا شوقین سردار آج بھی نغمے سن رہا ہے۔ حسن پرست سردار آج بھی حسیناؤں کے جلو میں ہے۔ شراب کے جام آج بھی سردار کے ہاتھ میں ہیں۔ لیکن یہ نغمے سنانے والیاں جنت کی پاکیزہ بیبیاں ہیں، آج سردار جن حسیناؤں کے درمیان دادِ عیش دے رہا ہے وہ جنت کی حوریں ہیں۔ شرابِ طہور سردار کو پلائی جاتی ہے، آفرین!

اے سردار! تم نے کیا ہی اچھی زندگی پائی ہے!

اے الله ہمیں بھی حافظ سردار شہید کے ساتھ اپنی جنتوں میں جمع فرما، آمین!

٭٭٭٭٭


1 نجیب حاجی صاحب حفظہ اللہ، اب بھی بحمد اللہ بقیدِ حیات ہیں اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کے بزرگ رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

2اور جسے اللہ راہ راست پر لے آئے اسے کوئی راستے سے بھٹکانے والا نہیں۔ ‘ (سورة الزمر:۳۷)

Exit mobile version