متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدہ ہوگیا۔اگر اسلام کا حوالہ دل و ذہن سے نکال کر اس صورت حال کا جائزہ لیں تو پھر تو یہ کوئی انہونی نہیں۔ کافی عرصے سے اس کی توقع کی جارہی تھی اور اس کے لیے راہ بھی ہموار کی جارہی تھی، لہٰذا جو اس معاہدے پر تعجب کرے اس پر تعجب ہے۔ بحرین اور عمان بھی جی حضوری کی قطار میں کھڑے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کیا ہی چاہتے ہیں، مصر بھی تائید کر چکا ہے۔ عام طور پر معاہدات کچھ دو اور کچھ لو کی بنیا دپر ہوتے ہیں مگر یہاں تو محض قلیل مدتی وعدے ہیں اور دوسری طرف غیر مشروط وفاداری۔ نہ تو اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سے باز آئے گا اور نہ ہی غرب اردن کے مزید فلسطینی علاقوں کو ہڑپ کرنے سے۔ ہاں! یہ احسان کرنے کا وعدہ ضرور کیا ہے کہ ان اسرائیلی توسیعی منصوبوں پر فوری عمل درآمدکو کسی درجے مؤخر کردیا جائے گا۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا۔ پھر اس پر مستزاد اس معاہدے کی توثیق کی ٹرمپ نے جس نے شاید ہی اپنی مدت صدارت میں کسی معاہدے کی پاس داری کی ہو۔ سعودی ولی عہد اور اماراتی ولی عہد جو دنیا میں MBS اور MBZ کے ناموں سے جانے جاتے ہیں، ویسے بھی ’معرکۃ الآرا‘ مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے خالق، ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر کے قریبی دوست ہیں۔ عرب اسرائیل دوستی کے ان ’نمونوں‘ سے اسی قسم کے فیصلوں کی توقع ہے۔ رہ گیا فلسطین، تو ظاہر ہے کہ جیسے ہم دنیا کے دیگرممالک کے مسائل میں نہیں الجھتے، ویسے ہی فلسطینی بھی اپنا مسئلہ خود حل کریں، ان کا دردِ سر ہماری ذمہ داری تو نہیں ۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے کہ پاکستان نے اس معاہدے پر کس رد عمل کا اظہار کیا تو اول بات تو یہ ہے کہ امارات نے کون سا کسی اسلامی ملک سے یا فلسطینیوں ہی سے معاہدہ کرنے سے قبل مشورہ کیا تھا۔ اس نے جو کرنا چاہا کرگزرا۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح جب عمران خان سے ایغور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے چینی مظالم بارے پوچھا گیا تو عمران خان نے ان سے یکسر لاعلمی کا اظہار کیا اوریہی موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے بھی تو بالفاظِ دیگر ’ہم نے ساری امت کا ٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا‘۔ یہی حال کشمیر کا ہے۔ شور و غوغا تو عمران خان کی جانب سے خوب ہوا کشمیر ایشو پہ مگر شور دبنے پر سب نے کھلی آنکھوں سے سکھوں کا گردوارہ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہندوؤں کا مندر ہی تعمیر ہوتے دیکھا ۔ وہی اسلام آباد جس میں لال مسجد انتظامیہ کو مدرسے کے لیے الاٹ کی گئی زمین کا قبضہ نہیں دیا جاتا اور جس میں قائم مساجد کو شہید کیا جاتا ہے اور مساجد کی شہادت اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آوازوں کو ’آپریشن سائلنس ‘ کے ذریعے خاموش کردیا جاتا ہے۔تو ایسے میں عمران خان نے اگر اماراتی معاہدے کے خلاف چند الفاظ کہہ بھی دیے تو اس بیان کی حیثیت ہی کیا ہے؟ شنید تو یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور ملائیشیا پر زور ڈال رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کریں اور یوں غیر عرب مسلم ممالک کی جانب سے بھی اسرائیلی دوستی کا یہ دروازہ کھول دیا جائے۔ ملائیشیا نے تو اس سے انکار کیا ہے البتہ پاکستان کی ’اصل حکومت‘ کا سربراہ باجوہ اسی سلسلے میں دورۂ ریاض کے لیے بلوایا گیا تھا۔
پوری مسلم دنیا پر بےحسی طاری ہے۔ ہر ایک ہی ’تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو‘ کے مصداق اپنی اپنی نیّا پار لگانے کی فکر میں ہے۔ اور اس کی وجہ محض یہ ہے کہ امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اپنی پہچان ’مسلم‘ بھول چکی ہے، اپنی خودی کھوچکی ہے اور اپنی ایمانی غیرت کا سودا کرچکی ہے۔ یہ امت یہ بھول گئی کہ فلسطین محض ایک مسلم سرزمین ہی نہیں کہ جسے یہودی قبضے سے آزاد کروانا پوری امت پر فرض ہے بلکہ یہ ہم مسلمانوں کا قبلۂ اول بھی ہے۔ بیت المقدس اس روئے زمین پر تیسری مقدس ترین جگہ ہے۔ آج ہم میں سے چند ایک آیا صوفیہ کے دوبارہ مسجد میں تبدیل کردیے جانے پر تو خوش ہیں، جو اردگان کے اپنی عوامی مقبولیت بڑھانے اور خود کو جمہوریت کا درست نمائندہ کہلانے کی خاطر سراسر ایک سیاسی حربہ ہے، مگر کیا اسی ترکی کی جانب سے شامی مسلمانوں پر بمباری کا جرم آیا صوفیہ میں نماز ادا کرنے سے دھل جائے گا؟ پھر یہ تو ایک مسجد ہے جسے دوبارہ مسجد کا مقام دیا گیا، مگر کیا مسجد قرطبہ میں بجتے ناقوس کی آواز ہم پر اس کی بازیابی فرض قرار نہیں دیتی؟ سرزمین حرمین شریفین میں فحاشی کے اڈوں اور سینما گھروں کے قیام اور اس مقدس سرزمین پر دندناتے کافر ہمارے لیے نفیر عام نہیں؟ ہمارے پڑوس میں چین نے ہزاروں مساجد کو رقص گاہوں، پبلک ٹائلٹس اور کارخانوں میں تبدیل کردیا، کیا اس نے ہمارے سوئے ہوئے ایمانی وجود میں چٹکی نہیں کاٹی؟ دور کیوں جائیں! کیا ہم نے محض اپنی غیرت کے نہ ہونے کے سبب ہی بابری مسجد کو اپنے ہاتھوں برباد نہیں کیا؟ کیا بابری مسجد کے مقام پر مندر کا قیام ہم سے کچھ مطالبہ نہیں کرتا؟
کفار کی حالت زار کو چھوڑیے کہ ان کی رسی تو اللہ رب العزت نے دراز کررکھی ہے، محض پاکستان کے مسلمانوں کی حالتِ زار پر توجہ دیں تو کیا ہمیں اللہ رب العزت کی ناراضگی اور اس کا غضب نظر نہیں آتا؟ پاکستان پر مسلط دین و ایمان سے عاری بے عقل حکمران تو اللہ کا سب سے بڑا عذاب ہیں کہ جن کو دیکھ کر آنکھوں سے نظر آتا ہے کہ شیطان جسے چھو کر باؤلا کردے وہ کیسا ہوتا ہے۔عوام کے حق میں خیر اور سہولت کا کوئی فیصلہ اس حکومت اور انتظامیہ کے ہاتھوں تاحال نظر نہیں آیا اور نہ ہی نظر آنے کی توقع ہے۔ جس کام میں یہ حکومت ہاتھ ڈالتی ہے اس کی فقط تشہیر ہی تشہیر ہوتی ہے اور جب حقیقت دیکھیں تو کھودے پہاڑ سے مردہ چوہاہی برآمد ہوتا ہے۔ پشاور بی آر ٹی منصوبے کا بڑے ٹھسّے سے اعلان کیا گیا تھا کہ محض چھ ماہ میں تیار ہوگا۔ اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد آج ساڑھے تین سال بعد اس کا افتتاح کیا بھی تو اس حال میں کہ اکثر جگہ بنیادی ڈھانچہ تک پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچا، پھر جب ڈنگ ٹپاؤ اس کو چلا دیا تو محض ایک ماہ میں چار بار آگ لگی اور ماہِ ستمبر کے وسط میں عارضی طور پر اس منصوبے کو بند کر دیا گیا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم ہے تو ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے بھی اس کا افتتاح کیا ہے ؛ یہ دیکھے بغیر کہ یہ وہ اونٹ ہے جسے خیمے میں داخل کرنے کے بعد خیمہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ پورے ملک میں بجلی پانی گیس تو پہلے ہی ندارد تھا اب رہنے بسنے کے لیے موجود گھر اور کاروباری مراکز تک پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ کراچی محض چند بوند بارش سے ہی کسی جزیرے کا منظر پیش کرنے لگاہے۔ پورے ملک میں پہلے مہنگائی اور عوامی سہولیات کی عدم دستیابی کی مصیبت، پھر کورونااور ٹڈی دل، اور اب سیلاب ……یعنی آفات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے کہ جس نے مملکتِ خداداد کا راستہ دیکھ لیا ہے۔ کیوں؟کیا وجہ ہے کہ ہم زیر عتاب ہیں؟ پڑوسی ملک انڈیا میں دیکھیں تو کورونا کی وبا شدید سے شدید تر ہوتی جارہی ہے، وہاں کی مسلمان آبادی کی جان و مال بالکل غیر محفوظ ہے اور رہ گئی شہریت تو وہ بھی شہریت ترمیمی بل کے ہاتھوں آج یا کل ختم ہی ہوئی جاتی ہے۔ کشمیریوں کی زندگی سال بھر پہلے جس جگہ منجمد کی گئی تھی، آج بھی اسی سرد خانے میں ہے۔ انھیں دنیا سے اور دنیا کو ان سے بالکل کاٹ کے رکھ دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش علیحدہ ہندو کالونی کا منظر پیش کررہا ہے…… امت مسلمہ کا یہ انتشار و ابتری صرف اور صرف اللہ پاک سے دوری اور اس کے دین کو چھوڑ دینے کا نتیجہ ہے۔
اسلام کی آمد سے پہلے قبائل اسی طرح نسلی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ رہے تھے۔ اسلام نے آکر انھیں امن اور محبت کا خوگر بنایا۔جاہلی عصبیت کو اللہ رب العزت کے دین نے ایمانی محبت میں تبدیل کیا۔ آج ’Black Lives Matter‘ کا نعرہ لگانے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کے حقوق کا تحفظ سب سے پہلے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو سینے سے لگا کر کیا اور اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں واضح فرمایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں؛ عزت کا، شرف کا، فوقیت کا، قبولیت کا، محبوبیت کا معیار صرف اور صرف اللہ رب العزت کے دین پر عمل اور تقویٰ ہے۔
آج بھی امت مسلمہ کے لیے عزت و شرف کا نسخہ وہی ہے جو قریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے تھا۔ آج بھی راہ نجات اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنے اور نسلی و قومی تعصبات کو بھلا کر اپنی پہچان ’مسلم‘ یاد رکھنے میں ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۰۳)
’’ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔ ‘‘
ہر پاکستانی، ہندوستانی، بنگلا دیشی، برمی، ایغور، ترک، عرب جو اپنی شناخت ’اسلام‘ کو نہیں بھولا، ہمارا بھائی ہے۔ اس کا مسئلہ ہمارا مسئلہ اور ہمارا درد اس کا درد ہے۔ ہماری دعوت آج بھی وہی ہے جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تھی کہ اس ایک کلمے ’لا الہ الّا اللہ‘ کو تھام لو، فلاح پاؤ گے۔ راہ راست صرف اور صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔ اپنی انفرادی زندگیوں میں بھی اور جس اجتماعیت کا بھی آپ حصہ ہیں وہاں بھی ہر ایک چھوٹے بڑے معاملے میں فقط اللہ کی رسی کو تھام لیجیے اور اللہ کے کلام اور اللہ کے نبی کی سنت کو فیصل بنالیجیے تو راہ راست اور نتیجتاً رب کی رضا ہم مسلمانوں سے کچھ دور نہیں۔