یوں تو یہ رپورٹ بنگلہ دیشی حضرات نے بنگلہ دیش ہی کے حوالے سے تیار کی ہے، لیکن یہ رپورٹ پورے برِّ صغیر (پاکستان، کشمیر و ہندوستان)کے اہلِ ایمان کے لیے بھی نہایت اہم اسباق لیے ہوئے ہے۔ (ادارہ)
بسم الله الرحمٰن الرحيم
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا (سورۃ المائدۃ: ۸۲)
’’تم ایمان والوں کی دشمنی میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤگے۔‘‘
کئی مرتبہ اس آیتِ مبارکہ کی گہری حقیقت کو امت کے سامنے واضح کیا گیا اور اتنی ہی مرتبہ امت نے اس کی حقیقت کو بھلا دیا۔ موجودہ حقائق ،جن کا تعلق بنگلہ دیش کے ساتھ بالخصوص جبکہ بالعموم پورے برصغیر کے ساتھ ہے ، ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں جو اس آیت مبارکہ میں بتائی گئی ہے۔ بنگلہ دیش میں ہندوتوا1 کا نظریہ اور تحریک ہماری آنکھوں کے سامنے تیزی سے آگے بڑھتے نظر آ رہے ہیں اور اب تک یہ تحریک کامیابی سے بہت سے مراحل طے کر چکی ہے۔ ہندوتوا کا یہ عروج کسی ڈھکے چھپے انداز میں اور کسی خفیہ سازش کے طور پر نہیں بلکہ کھلم کھلا اور آزادانہ ہو رہا ہے، اور (خدانخواستہ)شاید وہ دن دور نہیں جب ہمیں بنگلہ دیشی مسلمانوں کی دشمنی اور ان کے خلاف جنگ کی قیادت میں کھلے عام متشدد ہندو ،عوامی لیگ اور طاغوتی فوجوں کی جگہ لیتے نظرآئیں گے۔
پس منظر
برصغیر کے ہندو، بنگال کے خلاف پچھلی آٹھ دہائیوں سے سازش میں مصروف ہیں۔ اس سازش کا تازہ ترین مرحلہ، جس کا آغاز حسینہ واجد کے حکومت میں آنے کے بعد سے شروع ہوا،تقریباً بارہ سال سے جاری ہے۔اس عرصے کے دوران ہندو اپنے منصوبوں کے بہت سے پہلوؤں پر بہت آسانی سے عمل پیرا ہوئے اور ریاست کے کئی شعبوں میں بھارتی تسلط مستحکم ہوا۔ بہت سے ہندو اور بھارت کے وفادار نام نہاد مسلمان ، عدلیہ، وزارت دفاع اور فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیے گئے۔ ہندوؤں کو بڑی تعداد میں بیوروکریسی کے عہدوں پر بھرتی کیا گیا۔ ہندوؤں کو کھلی اجازت دے دی گئی کہ وہ جہاں چاہیں اپنے بتوں کی پوجا کے تہوار منعقد کروائیں۔ ریاست نے ہر پوجا ستھان (عبادت کی جگہ) کے لیے پانچ سو (۵۰۰)کلو دھان کی فصل سالانہ مختص کررکھی ہے۔ کروڑوں کی ٹیکس رقوم جنہیں مسلمانوں کی آمدنیوں سے حاصل کیا جاتا ہے انہیں بے دریغ بتوں کی پوجا کے ان تہواروں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ہندوؤں کے مشرکانہ تہوار، جیسے ’’سرسوتی پوجا‘‘ اور ’’ہولی‘‘ اب پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں منائے جاتے ہیں۔ اسکول اور کالج کے نصاب میں بڑی تعداد میں ایسے مضامین، کہانیاں اور نظمیں شامل کی گئی ہیں جو اسلام دشمن ہندوؤں نے لکھی ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی املاک کو “Vested Property Release Rules” کے نام پر ہندوؤں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ سیکریٹیریٹ، بیوروکریسی اور ریاستی مشینری مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔معاشی، دفاعی، فوجی اور راہداری وغیرہ سے متعلق معاہدوں کے وسیلوں سے بھارتی تسلط بہت مستحکم ہو چکا ہے۔ جبکہ اس سب کے دوران بنگلہ دیشی میڈیا پوری بے شرمی کے ساتھ بھارت کی جدید استعماریت کے لیے پراپیگنڈا کا ہتھیار بنا ہوا ہے۔ وہ گنے چنے میڈیا کے ادارے جو امریکی جانب کے پراپیگنڈے کو بڑھانا چاہتے ہیں ، ان کو بھی بھارتی اربابِ اختیار کے طے کیے گئے خطوط پر ہی کام کرنا پڑتا ہے۔ بنگلہ دیش کے سرمایہ پر، اس کی تجارتی منڈیوں پر غرض پوری معیشت پر بھارتی تجارتی ادارے اپنا تسلط قائم کر چکے ہیں۔
مختصراً، پچھلے گیارہ سالوں میں بھارت نے بنگلہ دیش کو اپنی کالونی بنانے کے منصوبے میں بہت زیادہ پیش قدمی کی ہے۔ ریاستی مشینری پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے بعد ، بنگلہ دیش پر ہندوؤں کا حملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہندوتوا قوتوں نے اب اپنی وفادار اور آزمودہ عوامی لیگ کو بھی نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ سالوں کی تیاری کے بعد ، ہندو اب اتنے پر اعتماد ہو چکے ہیں کہ وہ کھل کر اپنے تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور مسلمانوں کو کھلے عام چیلنج کرتے ہیں۔
ریاستی امور میں ہندوؤں کی بالادستی
شماریات کے ادارے (Bureau of Statistics) کے مطابق ہندو بنگلہ دیش کی آبادی کا 10.7 فیصد ہیں۔ وزیر خارجہ عبد المومن نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے کل ملازمین کا پچیس فیصد اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت میں ہندوؤں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ۲۰۱۶ء میں کابینہ کے ایک سیکریٹری نےبتایا کہ کم از کم ۲۹ فیصد حکومتی ملازمتوں پر ہندو بیٹھے ہیں۔ پچھلے تین سالوں میں اس تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ۳۵ فیصد حکومتی ملازمتیں ہندوؤں کے پاس ہیں۔
یہ ہندو جنہوں نے حسینہ واجد کی حکومت کی مکمل مدد کے ذریعے ریاستی اداروں میں ملازمتیں حاصل کی ہیں اب پوری کوشش میں لگے ہیں کہ اپنے مزید بھائی بندوں کو حکومتی ملازمتیں دلوائیں۔ ہندو ممتحن، نگران اور بورڈ کے ارکان خاص طور پر زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کو حکومتی اداروں میں داخل کرنے کے ہدف پر کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے قومی اخباروں میں متعدد واقعات شائع ہوئے ہیں۔ مزید برآں ملازمتوں میں ترقی کے معاملے میں بھی ہندوؤں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ کچھ سال قبل سیکریٹیریٹ میں ۶۵ افسروں کو نئے عہدوں پر ترقی دی گئی جن میں سے ۴۵ افسران ہندو تھے۔ اسی طرح ملک سے باہر تربیت کے لیے بھیجنے کے معاملے میں بھی ہندو افسران کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے مستقبل میں بیوروکریسی کے عہدوں پر ہندوؤں کی ترقی کو بہت منظم طریقے سے یقینی بنایا جا رہا ہے، اور یہ عمل بلا روک ٹوک پچھلے دس سال سے جاری ہے۔ اس عرصے میں ہندوؤں نے ریاستی ڈھانچے میں اہم اور حسّاس عہدوں تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ بیوروکریسی اور انتظامیہ میں کام کرنے والے یہ ہندو، ملک میں ہندوتوا منصوبے کی معاونت اور اس کی پیش رفت کو یقینی بنانے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہندو، ریاستی اداروں میں کس حد تک نفوذ حاصل کر چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حسینہ واجد کے سیاسی مشیر کا پرائیوٹ سیکریٹری ایک ہندو ہے، اسی طرح اس کے معاشی مشیر کا پرائیوٹ سیکریٹری بھی ہندو ہے، حتیٰ کہ حسینہ واجد کا معاون خصوصی بھی ہندو ہے۔ وزیر اعظم کے تحت آنے والی تمام ہی وزارتوں کے اندر اعلیٰ عہدوں پر اب ہندو قابض ہو چکے ہیں۔
ہندوؤں کو باقاعدہ نپے تلے انداز میں ریاستی مشینری کی ہر سطح پر بٹھایا جا رہا ہے۔ راج شاہی، سلہٹ، ڈھاکہ، چٹاگانگ، کھلنا ، میمن سنگھ، تقریباً تمام ضلعی کمشنروں کے دفاتر میں اعلیٰ عہدوں پر ہندو فائز ہیں۔ ہندو تعلیمی نظام پر بھی خاص توجہ دے رہے ہیں اور اس میں بھی مکمل نفوز حاصل کر چکے ہیں۔ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کا موجودہ چیئرمین بھی ایک ہندو ہے اور اس نے نصاب کو بتدریج ’ہندوانے‘ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
ہندو تھانیدار اور ایس پی ملک کے تمام اہم تھانوں اور اضلاع میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے تینتیس سالوں میں پولیس کی سپیشل برانچ میں کوئی غیر مسلم بھرتی نہیں کیا گیا لیکن ۲۰۱۴ء کے بعد سے سپیشل برانچ میں بھی ہندو بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ہندو کو ترقی دے کر پولیس کی خفیہ برانچ کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ ہندو افسران بالعموم اپنے ساتھ موجود نام نہاد مسلمان افسران پر اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور اگر کوئی بھی ان ہندو افسران کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو وزیر اعظم کے دفتر یا بھارتی ہائی کمیشن سے براہ راست فون کال کے ذریعے سے ایسے افراد کی گوشمالی کی جاتی ہے۔
مزید برآں، اس وقت بنگلہ دیش میں قانونی اور غیر قانونی طور پر پندرہ سے بیس لاکھ بھارتی شہری کام کررہے ہیں۔ ان ہندوؤں نے کپڑے کی صنعت اور دیگر صنعتوں میں بھی اعلیٰ سطحوں پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں موجود ہندوؤں کی پچاس فیصد سے زیادہ تعداد کا تعلق نچلی ذاتوں(دلِت2 یا ہریجن3) سے ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ہندوؤں کا تعلق کم آمدنی والے گھرانوں سے ہے اور معاشرے میں اور نوکریوں کے حصول کے اعتبار سے بھی ان کی کوئی مضبوط حیثیت نہیں ہے۔ نام نہاد اونچی ذات کے ہندو خود کو ان نچلی ذات کے ہندوؤں سے ممتاز تصور کرتے ہیں اور خود کو ان سے جدا رکھتے ہیں۔ حکومتی ملازمتوں میں اس نچلی ذات کے ہندوؤں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جن ہندوؤں نے انتظامیہ کے اندر اعلیٰ عہدے حاصل کر رکھے ہیں ان کا تعلق نام نہاد اونچی ذاتوں سے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ایسا گروہ جو آبادی کا پانچ فیصد بھی نہیں وہ سول انتظامیہ کے ۳۵ فیصد حصے پر قابض ہے۔ یہ نام نہاد اونچی ذات کے ہندو ہمیشہ بھارت کے ایجنٹ رہے ہیں اور یہ ہمیشہ ہندو ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں کوشاں رہتے ہیں۔سابق چیف جسٹس بھی ایک ہندو سریندر سنہا ہے۔ اس کے اثر و رسوخ اور اس عہدے تک پہنچنے کا اصل راز اس کا بھارتی ہائی کمیشن کے ساتھ تعلق ہے۔ اس کے دور میں ہائی کورٹ سے جاری ہونے والے بہت سے فیصلے براہ راست بھارتی ہائی کمیشن کی ہدایات پر جاری ہوئے۔
حال ہی میں ایک صحافی نے ایک ایسے خط کا ذکر کیا ہے جو حکومتی اداروں میں ملازم ہندوؤں کو بھیجا گیا ہے۔ اس خط کے ذریعے انہیں یہ پیشکش کی گئی ہے کہ ’’اسکون‘‘ (ISKCON) کے احکامات کے مطابق کام کرو تو تمہاری ترقی کے معاملات کو ہم دیکھ لیں گے، اس کے علاوہ ہر ماہ تمہاری سرکاری تنخواہ کے ساٹھ فیصد تک کی اضافی رقم بھی ہم دیا کریں گے۔ (’اسکون‘ کیا ہے اس کے بارے میں آگے آئے گا۔)
سادہ لفظوں میں ہندو نفوذ کے اسی طریقۂ کار کی پیروی کر رہے ہیں جو پہلے صہیونی استعمال کر چکے ہیں۔ اس طریقۂ کار کے ذریعے اور حسینہ واجد کی حکومت کی مدد سے، انہوں نے اب بنگلہ دیش کی بیوروکریسی اور سول انتظامیہ پر مکمل تسلط حاصل کر لیا ہے۔
متحارب ہندو
پچھلے دس سالوں میں ہندوؤں نے اپنے برابر نفوذ کے ذریعے جو طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کیا ہےوہ اب نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ پچھلے عرصے میں پیش آنے والے متعدد واقعات اس چیز کی گواہی دیتے ہیں۔
شامپریتی4 بنگلہ دیش
مئی ۲۰۱۹ء میں، تمام بڑے قومی اخباروں نے اپنے صفحۂ اوّل پر ایک بڑا اشتہار شائع کیا۔ جس کا عنواان تھا ’’ممکنہ دہشت گرد کی شناخت کے لیے بنیادی نشانیاں‘‘۔ اس کی فہرست میں بعض بنیادی اسلامی عقائد اور شعائر کوشدت پسندی اور دہشت گردی کی علامات ظاہر کیا گیا۔ جن چیزوں کو شدت پسندی کی نشانیاں قرار دیا گیا ان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:
-
جمہوریت کو اسلام کے منافی تصور کرنا
-
اسلامی نظام، شریعت یا خلافت کے قیام میں دلچسپی
-
اسلام میں اچانک سے دلچسپی لینا شروع کرنا
-
داڑھی رکھنا
-
شلوار ٹخنوں سے اونچی کرنا
-
شرک و بدعت کے خلاف بات کرنا
-
قومی تہواروں کو شرکیہ کہنا اور ان کی مخالفت کرنا
-
غزوۂ ہند، ظہورِ مہدی و دجال کے موضوعات میں دلچسپی لینا
-
عالمی طورپر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم سے متعلق آگاہ رہنا
-
شیخ انور العولقی، مولانا عاصم عمر، شیخ جاسم الدین رحمانی اور استاد تمیم العدنانی کے دروس سننا
-
دینی حلقے منعقد کرنا
-
میلاد النبی اور شب برأت کی مخالفت کرنا
-
جسمانی صحت پر توجہ دینا
یہ اشتہار شامپریتی بنگلہ دیش نامی تنظیم کی جانب سے نشر کیا گیا۔ اس تنظیم کا قیام تین سال پہلے ہوا اور اس کا سربراہ پجوش بوندوپاڈھے ایک اسلام دشمن ہندو ہے۔ اس نے نام نہاد شاہ باغ تحریک کے دوران مجمع میں اسلام مخالف نظم پڑھ کر سنائی تھی۔ ۲۰۱۶ء میں بھارت گیا اور مودی سے ملاقات کی اور بنگلہ دیش میں ’’ہندوؤں پر ڈھائے جانے والے مظالم ‘‘کی شکایت کی۔ اس کا تعلق ’’اسکون‘‘ (ISKCON) نامی تنظیم کے ساتھ بھی ہے۔ شامپریتی بنگلہ دیش کی صفوں میں اور بھی بہت سے مشہور بھارتی ایجنٹ اور نام نہاد دانشور شامل ہیں۔ بہت سے عیسائی پادری اور بدھ راہب بھی اس تنظیم کے رکن ہیں۔
اس اشتہار کو شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ عام مسلمانوں نے سوشل میڈیا پربھی اس اشتہار کے خلاف احتجاج کیا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد شامپریتی بنگلہ دیش نے اخباروں میں ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کا پہلے اشتہار سے کوئی تعلق نہیں۔
’بنگلہ دیش کونسل برائے ہندو، بدھ ، عیسائی اتحاد‘ اور پریا ساہا
۱۷ جولائی ۲۰۱۹ء کو ایک بنگلہ دیشی ہندو عورت پریا ساہا نے وائٹ ہاؤس میں عوامی ملاقات کے دوران ڈانلڈ ٹرمپ کو بنگلہ دیش میں’’ہندوؤں کے خلاف مظالم‘‘ کی شکایت کی۔ اس عورت نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش سے تین کروڑ ستّر لاکھ ہندوؤں کو غائب کر دیا گیا ہے۔انہیں بنگلہ دیشی حکومت کی مدد سے بنیاد پرست مسلمانوں نے ملک سے باہر دھکیل دیا ہے۔ یہ پریا ساہا ایک تنظیم ’بنگلہ دیش کونسل برائے ہندو، بدھ، عیسائی اتحاد‘ کی جنرل سیکریٹری ہے۔ اس کا شوہر اعلیٰ عہدے پر فائز ایک سرکاری ملازم ہے۔ اس کے بیان پر ملک میں شدید غصے کا اظہار کیا گیا۔ چونکہ ساہا کا یہ دعویٰ خود حکومت کے خلاف بھی جا رہا تھا اس لیے عوامی لیگ کے حامی اور اراکین نے بھی اس کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔ عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان، جو سوشل میڈیا پر بہت معروف ہے، نے ساہا کے خلاف ایک کیس کی درخواست بھی داخل کروانے کی کوشش کی۔ لیکن ہندوؤں کے تسلط میں چلنے والی عدالت نے نہ صرف درخواست مسترد کر دی بلکہ اس سیاست دان کے خلاف کیس داخل کر لیا۔ ساہا کے بیان کے بعد پہلے دن بہت سے وزرا نے میڈیا پر بڑے بڑے اور غصیلے بیانات دیے اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ا ور اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے گا وغیرہ۔ لیکن جلد ہی ان بیانات نے ’یو ٹرن‘ لے لیا۔ وزرا نے کہنا شروع کیا کہ جو کچھ ساہا نے کہا وہ بغاوت کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے اس کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اگر وہ چاہے تو اسے حکومت کی طرف سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
’بنگلہ دیش کونسل برائے ہندو، بدھ، عیسائی اتحاد ‘ نے دعویٰ کیا کہ ساہا کا یہ بیان اس کی ذاتی رائے ہے اور اس رائے کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اسی تنظیم کی امریکی شاخ نے ساہا کو اس کے بیان پر مبارکباد پیش کی اور مکمل طور پر بیان کی حمایت کی۔ اس تنظیم کا قیام ۱۹۸۸ء میں ہوا۔ اگرچہ اس تنظیم کے نام میں بدھ اور عیسائی بھی شامل ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک خالص ہندو تنظیم ہے۔ اس کے قیام سے ہی اس تنظیم کو عوامی لیگ اور بھارت دونوں کی حمایت حاصل تھی۔
پجوش بوندوپاڈھے کے ساتھ اس تنظیم کا ایک اور رہنما رانا داس گپتا ۲۰۱۶ء میں انڈیا گیا ااور مودی سے درخواست کی کہ بھارت بنگلہ دیش میں ’ہندوؤں پر ہونے والے مظالم‘ کو روکنے میں مدد کرے۔
کچھ سال قبل، اس تنظیم کی امریکی شاخ کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ گائے کو ذبح کرنا بنگلہ دیش میں غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔ جب سابق چیف جسٹس سریندر سنہا، عوامی لیگ کی حکومت کے دباؤ پر امریکہ گیا تو اِسی تنظیم نے سنہا کی عوامی لیگ کی حکومت کے خلاف لکھی گئی کتاب کو چھپوانے کا انتظام کروایا۔
بنگلہ دیش کے ہندوؤں نے بالعموم پریا ساہا کے بیان کی حمایت کی۔ ان میں معذرت خواہانہ رویہ رکھنے والوں نے کہا کہ جو کچھ ساہا نے کہا وہ اساسی طور پر تو درست ہے لیکن شاید اس نے اعداد و شمار کو کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ دوسری طرف متشدد ہندوؤں نے یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ تین کروڑ ستّر لاکھ بنگلہ دیشیوں نے بھارت میں اور خاص طورپر آسام ، تریپورہ اور مشرقی بھارت کے دیگر علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ایک ہندو روزنامہ نے دعویٰ کیا کہ ان تین کروڑ ستّر لاکھ بنگلہ دیشیوں نے آسام میں پناہ لے رکھی ہے۔ اسی پراپیگنڈے نے آسام میں تیس سے چالیس لاکھ مسلمانوں کی منظم بے دخلی کا دروازہ کھولا ، اور ان کی شہریت کو بی جے پی نے ختم کر دیا۔
(رپورٹ کا بقیہ حصہ، ان شاء اللہ اگلے شمارے میں)
1 ہندوتوا، ہندو قوم پرستی پر مبنی ایک نظریہ ہے جسے ’وینائک دامودر ساورکر ‘نے ۱۹۲۳ء میں متعارف کروایا۔ اس نظریے کے مطابق صحیح معنوں میں ایک ہندو بلکہ ایک ہندوستانی وہ شخص ہے جو ہندو ماں باپ کے ہاں پیدا ہوا ہو اور ہندوستان کو اپنی مادر وطن اور ایک مقدس زمین تصور کرتا ہو۔ ا س نظریے کے مطابق ہندو مت کے علاوہ دیگر ہندوستانی مذاہب (بدھ، سکھ اور جین) ہندو قومیت میں شامل ہیں جبکہ اسلام، عیسائیت اور یہودیت باہر سے آئے ہوئے مذاہب ہیں اور ان کا ہندو قومیت سے کوئی تعلق نہیں۔ بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس نظریے کو اپنی پارٹی کا سرکاری نظریہ قرار دیا ہے ۔
2 ماضی میں انہیں شودر کہا جاتا تھا پھر یہ اصطلاح استعمال میں لائی گئی تاکہ شودر کے نام میں جو توہین موجود ہے اس کی جگہ کوئی اور نام استعمال کیا جائے، جس کے سنسکرت میں معنی ’مظلوم‘ کےہیں۔ لیکن اب یہ اصطلاح بھی ہندو معاشرے میں توہین آمیز بن چکی ہے۔
3یہ نام شودروں کو گاندھی نے دیا تھا جس کا معنی تھا ’’خدا کے بیٹے‘‘۔ گاندھی نے یہ اصطلاح بھی شودر کی توہین آمیز اصطلاح تبدیل کرنے کے لیے استعمال میں لائی تھی لیکن اب یہ اصطلاح بھی معاشرے میں توہین آمیز بن چکی ہے۔
4 ہم آہنگی