(محسنِ امت شيخ اسامہ بن لادن شہیدرحمہ اللہ کے اشعار کا نثری ترجمہ)
آسمان پہ سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے
اور زہر میں بجھے تیروں کی بارش جاری تھی
خون کا سیلاب بام و در کو عبور کر چکا تھا
غاصبوں کا ستم اپنے عروج پر تھا
جب کہ ہماری طرف کے میدان تلوار کی جھنکار
اور گھوڑوں کی ٹاپ سے خالی تھے
یہاں صرف چیخیں تھیں
اور وہ بھی ڈھول باجوں کی آواز میں دب چکی تھیں
ایسے میں غیرت کی آندھیاں چلیں
اور ان کے قلعوں کو مٹّی کا ڈھیر بنا گئیں
اور جابروں کو یہ سمجھا گئیں
کہ ہم تم سے یونہی ٹکراتے رہیں گے
یہاں تک کہ اسلام کی ایک ایک زمین
تم سے واپس چھین نہ لیں!
جب بھی پنٹاگون اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے معرکوں کی بات ہو گی، ان نوجوانوں کاتذکرہ ضرور سامنے آئے گا جنہوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔آج لوگ ان کے ناموں سے واقف ہوں یانہ ہوں،تاریخ بہرحال یہ بات ثابت کرے گی کہ یہی وہ شہدا تھے جنہوں نے ملت فروش حکمرانوں اور ان کے آلۂ کاروں کے لگائے ہوئے داغ اپنے خون سے دھوئے۔ معاملہ صرف اتنا نہیں کہ انہوں نے پنٹا گون اور ٹریڈ سنٹر کے برج تباہ کر دیے،یہ تو ایک آسان سی بات تھی۔ نہیں! بلکہ ان نوجوانوں کا اصل کارنا مہ یہ ہے کہ انہوں نے وقت کے ایک جھوٹے خدا کا بت پاش پاش کر کے رکھ دیا، اس کی اقدار کو ملیا میٹ کر دیا ،اور یوں طاغوتِ زمانہ کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے آ گیا۔کل اگر فرعونِ مصر کادامن معصو م بچوں کے لہو سے داغ دار تھا توآج کا فرعون کفر و سرکشی میں اس سے دو ہاتھ آگے ہے۔ یہی قاتل ہے جوہمارے معصوم بچوں کو فلسطین ، افغانستان ، لبنان ، عراق، کشمیر اور دیگر خطوں میں قتل کرنے کا ذمہ دار ہے۔
ان شہیدی جوانوں نے خوابیدہ امّت کے دلوں میں ایک بار پھر ایمان کی آگ بھڑکائی اور انہیں عقیدۂ ولاء و براء کا مطلب سمجھا دیا۔صلیبیوں اور ان کے مقامی دُم چھلوں کی عشروں سے جاری سازشو ں کا توڑ کیا اورمسلمانوں سے وفاداری اور کفار سے بیزاری کے عقیدے کو مٹانے کی مذموم کوششوں پر پانی پھیر دیا ۔ان نوجوانوں کی عظمت ِکردار کا کما حقہٗ تذکرہ ممکن نہیں، قلم اس سے عاجز ہیں۔اسی طرح ان مبارک معرکوں کے نتائج و برکات کا پوری طرح احاطہ کرنا بھی مشکل ہے،تاہم میں ان شہدا کا مختصر تعارف آپ کے سامنے پیش کروں گا، کیونکہ جس بھلائی کا سب کچھ سمیٹانہ جا سکے، اُس کا بہت کچھ چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں !
(۱)محمد عطا:
ٹریڈ سنٹر کے پہلے برج کو نشانہ بنانے والے جاں باز تھے۔یہ اس پورے سریّے کے امیر تھے۔ مصر سے تعلق رکھنے والے کنانہ کے اس سپوت کی زندگی کا ہر لمحہ سچائی کانقیب تھا۔ جدوجہد اور انتھک محنت ان کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو تھا ۔ امت کی حالتِ زار انہیں بے چین کیے رکھتی۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔
(۲)زیاد سمیر الجراح:
سر زمینِ شام کے علاقے لبنان سے تعلق رکھنے والے سر فروش تھے ۔ سچائی کے علم بردار، کھرے کردار کے مالک زیا د، ابو عبیدہ ابن الجراح ؓکے سچے پیرو کارتھے ۔
(۳)مروان الشحی:
دوسر ے برج کو گرانے والے ہوا باز مجاہد،مروان الشحی کا تعلق امارات سے تھا۔ دنیا اپنی ساری رنگینیوں کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوئی ،مگر یہ اس کے دامِ فریب میں آنے سے صاف بچ نکلے اوراپنے ربّ کی جنتوں اور اس کی رضا کی تلاش میں چل دیے۔
(۴)ہانی حنجور:
وادی ٔ طائف کے بطل ہانی حنجورنے امریکی دفاعی مرکز پنٹا گون کو برباد کیا۔ یہ پاک دل و پاک باز نوجوان پختگی ٔ کردار کی ایک مثال تھا ،ہم انہیں ایسا ہی جانتے ہیں،اور حسیبِ اصلی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
(۵)احمدبن عبداللّٰہ النعمی:
ابہاء کے رہنے والے احمدبن عبداللّٰہ النعمی ایک عبادت گزار مجاہد تھے۔ قیام اللیل کا والہانہ شوق رکھتے تھے۔ یہ خاندانِ قریش کے چشم و چراغ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں ہونے کا شرف انہیں حاصل تھا ، اخلاقِ حسنہ کی تصویر تھے۔ اس نوجوان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ خود بھی گھوڑے پرسوارہیں اور آپؐ انہیں اترکر دشمن سے قتال کرنے اور اپنی زمین کو ان سے چھڑانے کا حکم صادر فرما رہے ہیں ۔
(۶)سطام السقامی:
ارضِ حرمین کے باسی سطام السقامی کا تعلق نجد سے تھا، عزم و شجاعت کے پیکر اس نوجوان کو جو بھی دیکھتا ، اسے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آجاتی کہ
’’ھُمْ (بَنُوْ تَمِیْم) اَشَدُّ اُمَّتِیْ عَلَی الدَّجَّالِ.‘‘
(مسلم:باب من فضائل غفار و أسلم وجھینۃ وأشجع ومزینۃ وتمیم ودوس وطیٔ)
’’ میر ی امت میں سے دجال کے لیے سب سے زیادہ سخت بنو تمیم کے لوگ ہوں گے۔‘‘
(۷)ماجد بن موقد الحنف:
سیّد الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے تعلق رکھنے والے ماجد بن موقد الحنف! رزم ہو یا بزم ،یہ شہید دل و نگاہ کی پاکیزگی کا ایک چلتا پھرتا نمونہ ، تواضع اور اعلیٰ اخلاق کی ایک روشن مثال تھے۔ یقیناً ایمان اور حیا دونوں باہم متلازم ہی ہوتے ہیں!
(۸) خالد المحضار:
حرمِ کعبہ کے پڑوسی خالد المحضار،مکّہ مکرمہ کے رہائشی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل میں ہونے کاشرف انہیں بھی حاصل تھا۔ خانوادۂ قریش کے اس مجاہد کی سب سے بڑی تمنا بس یہی تھی کہ اسے اللہ کے راستے میں شہادت مل جائے۔
(۹)ربیعہ نواف الحازمی:
ربیعہ نواف الحازمی بھی مکہ مکر مہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ عزیمت و ہمت، اور صبر و استقامت اور حیا کی روشن مثال ، اپنے گھوڑے کی لگام تھامے یہ نوجوان موت کے ٹھکانوں کی تلاش میں سر گرداں رہتا تھا۔
(۱۰)سالم الحازمی(بلال):
مکہ مکرمہ ہی کے سالم الحازمی(بلال)،نواف الحازمی کے سگے بھائی تھے۔ایمان کی بہارآئی تو آپ نے ساری دنیاتج دی ۔’’ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘، یہی ان کا شعارتھا۔
(۱۱)فائز قا ضی:
افغانستان میں احمد کے نام سے مشہور ، فائز قا ضی کا تعلق بنی حماد سے تھا۔ جُود و سخا،حیا اور تواضع ان کی خاص پہچان تھی۔
’’بنی اسِیر‘‘کے تمام قبیلے ،چاہے وہ قبیلہ ٔ زھران ہو یاغامد یا بنی شھر،ان سب کا نیویارک اور واشنگٹن کے مبارک معرکوں میں وہی کردار ہے جو شیروں کا میدان میں ہوتا ہے !
(۱۲)احمد الحزنوی الغامدی:
احمد الحزنوی الغامدی، غیرت وحمیت اور بہادری وشجاعت کی صفات سے آراستہ تھے ۔بڑی سے بڑی آزمائش بھی ان کے قدم نہ ڈگمگا سکی۔راہِ عزیمت کے یہ شہسوار، مجاہدین کے امام اور خطیب بھی تھے، ہمیشہ لوگوں کوجہاد پر ابھارتے رہتے تھے۔
(۱۳)حمزہ الغامدی:
حمزہ الغامدی کا دل شوقِ شہاد ت سے سر شار تھا۔ ان کے روز وشب اللہ کے ذکر سے پر نور رہتے۔ عبادت کا ذوق و شوق اور کثرت سے تلاوتِ قرآن کرنے والے، ادب اتنا کہ گفتگو کریں تو منہ سے پھول جھڑیں۔
(۱۴)عِکرمہ احمد الغامدی:
عِکرمہ احمد الغامدی ، بے مثال عزیمت کے مالک اور صبر و استقامت کا پیکر تھے ۔
(۱۵)معتز سعیدالغامدی:
معتز سعیدالغامدی ، تعلق مع ا للہ سے آراستہ ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا۔ قدم زمین پر مگر دل سبز پرندے کے ساتھ رحمٰن کے عرش تلے۔ہماراگمان یہی ہے، دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔
(۱۶،۱۷)وائل اور ولیدالشہری:
وائل اور ولیدالشہری ، دونوں بھائی یکساں خوبیوں کے مالک ، عبادت کے شوقین اور اپنے ربّ کے حضور قیام و سجودمیں راتیں گزارنے والے ، جدو جہد اورانتھک محنت کے خوگر،ادب اور حیا کی ایک روشن مثال تھے۔ ان دونوں شہیدی جوانوں کے والدحجازکے ایک بڑے تاجر اور اپنے قبیلہ کے سردار ہیں ۔ دنیا دھوکے کا سامان لیے ان کی طرف بڑھی مگریہ اپنا دامن صاف بچاگئے اور افغانستا ن کے چٹیل پہاڑوں میں جنت کی خوشبوڈھونڈنے نکل آئے۔
(۱۸)مہند الشہری:
مہند الشہری، بلند اخلاق اور صبر و عزیمت کے کوہ ِگراں، فی سبیل اللہ شہادت ہی اس نوجوان کی سچی آرزو تھی ،جو پوری ہوئی۔ہم انہیں ایسا ہی جانتے ہیں اور اصل حسیب تو اللہ ہی ہے۔
(۱۹)شیخ ابو العباس عبد العزیز الزہرانی:
ابو العباس عبد العزیز الزہرانی، علمائے عصرِ حاضر کے لیے ایک بے مثال نمونہ۔ اسلاف کی یادگاروں میں سے ایک !ایک ایسا عالمِ با عمل، جس نے طاغوت کا تنخواہ دار بن کر اپنے علم کو آلودہ نہیں کیا،اور نہ ہی اسے باطل کی خواہشا ت کاغلام بنایا۔