حرصِ اِمارت کے نقصانات
جان لیجیے کہ امارت کی خواہش کرنا اور اس کا حریص ہونا بہت بڑا مفسدہ ہے جس کے بارے میں علما نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ:
-
بندہ عدل سے محروم ہوجاتاہے۔ جیساکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے’جو شخص امارت حاصل کرنے کی غرض سے حرص کا شکار ہوجائےوہ کبھی بھی عدل پر قائم نہیں رہ سکتا‘۔
-
اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے محروم ہوگا۔ جیساکہ عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کی روایت کردہ حدیث میں آیا ہے ، ابن حجررحمہ اللہ عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کی حدیث كی شرح میں لکھتے ہیں:
جو شخص مسئولیت کا طالب ہو یعنی اس کی خواہش رکھتا ہو اور اُسے مسئولیت مل جائے، تو اس مسئولیت میں اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت شاملِ حال نہیں رہتی، کیونکہ اس نے یہ مسئولیت اپنی خواہش کے بَل بوتے پر حاصل کی ہے، لہٰذا ہراس امر کی خواہش کرنا جس کا تعلق امارت سے ہو مکروہ ہے، گویا امارت میں احتساب اور اس جیسے باقی امور بھی داخل ہوگئے، جس کو ایک فرد اپنی خواہش سے حاصل کرتا ہے اور اسے مل جائے، تو اللہ کی طرف سے ان امور میں اس کی مدد و نصرت نہیں ہوتی اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مددو نصرت نہ ہو وہ تنِ تنہا کوئی بھی کام سرانجام نہیں دے سکتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ایسے شخص کو امارت نہ سونپی جائے جو امارت و مسئولیت کی خواہش رکھتا ہو۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہر کام کو پورا کرنا اور اس کی مسئولیت اپنے ذمے لینا ایک مشکل کام ہے اور اگر اس مشکل مرحلے میں ہم اللہ کی مدد سے محروم رہیں تو یہ ہمارے لیے مشکلات کو اور بڑھا دے گا، اور اس کی وجہ سے ہماری دنیا و آخرت خراب ہوجائے گی۔ لہٰذا عقل مند شخص کبھی بھی امارت کی خواہش نہیں کرتا، لیکن جو شخص امیر بننے کا مستحق ہو اور اس کی خواہش کے بغیر اس کو امیر بنا دیا جائے تو اللہ کے رسولﷺ نے اس کی مدد و نصرت کی بشارت دی ہے۔
-
جو شخص اپنی خواہش سے امیر بننے کا طالب ہو وہ یا تو اپنے ذاتی خواہشات یعنی مال و متاع، دولت و مرتبہ سے محبت کرتا ہوگا یا اپنے مخالف فریق سے انتقام لینے کی غرض سے امارت چاہتا ہوگا۔
حصولِ امارت کی خواہش نہ تو اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیےجائز ہے اور نہ ہی اپنے مخالفین سے انتقام لینے کی غرض سے جائز ہے، کیونکہ مسئولیت اللہ تعالیٰ کی وہ امانت ہے، جس سے مسلمانوں کی بہت سی مصلحتیں وابستہ ہیں، لہٰذا اس کو اپنے ذاتی اہداف کو حاصل کرنے کی غرض سے نہ مانگا جائے۔
امیر کی اطاعت
شرعی امور میں اپنے امیر کی اطاعت کرنا واجب ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (سورۃالنساء: ۵۹)
’’اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سب سے پہلے اپنے حکم کی تعمیل کا امر دیتا ہے اور اس کے بعد اپنے رسولﷺ کی اطاعت کا اور اس کےبعد اولواالامر افرادکی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔
حضرت سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر سلطانِ وقت ایک عالم کو یہ امر دیتا ہے کہ فتویٰ صادر نہ کریں،تو اس کے پاس حق نہیں کہ وہ فتویٰ دے اور اگر اس نے فتویٰ دےدیا تو وہ گناہ گار ہوگا، چاہے امیر ظالم ہی کیوں نہ ہو۔
امام قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
پھر اللہ تعالیٰ نے امر کیا کہ جن امور میں آپ سب کے مابین اختلاف ہو ان امور کو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنت کے سپرد کردیں ، اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنتوں کے سامنے اپنے امور کو کیسے حوالہ کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ علما کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ علما سے دینی و شرعی امور میں پوچھنا واجب اور ان کے امر کی اطاعت کرنا لازم ہے۔
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)