بے شک تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں۔ہم اس کی حمد بجا لا تے ہیں اور اسی سے مدد و مغفرت کے خو استگا ر ہیں۔اور ہم اپنے نفو س کے شر اور اعما ل کی سیاہ کاریو ں سے اللہ کی پنا ہ میں آتے ہیں۔جس کو اللہ ہدایت دے اسے کو ئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو اللہ راہ سے بھٹکا دے اسے کو ئی سیدھی را ہ پر نہیں لا سکتا۔اور میں گو اہی دیتا ہو ں کہ اللہ کے سوا کوئی معبو د نہیں وہ تنہا ہے اس کا کو ئی شریک نہیں ۔اور میں گوا ہی دیتا ہو ں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
اسلام کی انفرا دیت دین متین کی شخصیت ہے اور اس کو من و عن، اسی طرح قبول کرنا جیسا کہ اس کے اوامر و نوا ہی ، حدود اور قوا عد کا نزول ہوا ہے،اس کو ہر قسم کی ملمع کا ری اور اضا فہ سے محفوظ رکھنا غلو اور افراط و تفریط سے بچنا جیسا کہ بہت سی قر آنی آیا ت اور احا دیث میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلاَ تَطْغَوْاْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورۃ ہود:۱۱۲)
’’پس اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ڈٹے رہیے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سا تھی بھی ،اور سر کشی مت اختیا ر کیجیے۔بے شک اللہ آپ کے تما م اعما ل پر نظر رکھے ہو ئے ہے۔ ‘‘
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّىَ يَحْكُمَ اللّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (سورۃیونس:۱۰۹)
’’اور جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف کی گئی اس کی پیروی کیجیے اور صبرکیجیے یہا ں تک کہ اللہ تعا لیٰ فیصلہ فر ما دے،اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کر نے وا لا ہے۔‘‘
اور اللہ سبحا نہٗ وتعالیٰ کا فر ما ن ہے:
فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْ أُوحِیَ إِلَیْکَ إِنَّکَ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (سورۃالزخرف:۴۳)
’’جو وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف کی گئی ہے اسے مضبو ط تھا مے رہیں بےشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم را ہ را ست پر ہیں۔‘‘
اور اللہ جلّ مجدہ نے فرمایا:
اتَّبِعُوامَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُوا مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ(سورۃالاعراف:۳)
’’ تم لو گ اس کا اتبا ع کر و جو تمہا رے رب کی طر ف سے آئی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سر پر ستو ں کی اتبا ع نہ کر و تم لو گ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔‘‘
اور اللہ سبحا نہٗ نے فر ما یا:
وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ(سورۃ الانعام:۱۵۳)
’’اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس را ہ پر چلو اور دوسری را ہو ں پر مت چلو کہ وہ را ہیں تم کو اللہ کی را ہ سے جدا کر دیں گی۔اس کا تم کو اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہےتا کہ تم پر ہیز گا ری اختیا ر کر و ۔‘‘
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا:
’’جو کو ئی اس دین میں نئی چیز ایجا د کرے جو اس کا جزو نہیں تو وہ رد ہے۔‘‘
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:
’’بلا شبہ تم میں سے جو کو ئی بھی زندہ رہے گا وہ کثرت اختلا ف دیکھے گا ۔پس تم پر لازم ہے کہ میرے بعد میری سنت پر جمے رہو اور خلفا ئے را شدین المہدیین کی سنت پر۔اس کو دا نتو ں کی مضبو طی سے تھا مے رہو اور دین میں ہر نئی بات سے بچو کیو نکہ ہر بد عت گمرا ہی ہے۔‘‘
جمہو ریت کا دعو یٰ ہے کہ عوام ہی حاکم اور مر جع ہیں اور تما م معاملا ت میں عو ام کی را ئے ہی حتمی ہے۔در حقیقت اس نظام کا نعرہ ہے:
’’عوام کے فیصلے کو رد کر نے وا لا کو ئی نہیں،اس کے احکام ہی اٹل ہیں،حکم عوام کے لیے ہے اور ا ُنہی کی طرف ہی رجو ع کیا جا سکتا ہے،تقدس صرف عو ام کے فیصلو ں کو حا صل ہے،اور اُن کی اختیار کر دہ چیز فر ض کا درجہ رکھتی ہے، عوام کی را ئے ہی مقدم و محترم ہے،عوا م کے بنا ئے ہو ئے قوانین حکمت و عدل سے بھرے ہوئے ہیں،جو ان کو تھا مے وہی سر فرا ز ہو سکتا ہےاور جو کو ئی ان قوا نین کو تر ک کر دے تو ذلت اس کا مقدر ہے۔جس چیز کو عوام کی اکثریت حلا ل کر دے وہی حلال ہے اور اکثریت جس کے حرام ہو نے کا فتو یٰ صادر فر ما دے وہ قطعی حرام ہے۔اور جس نظام ،قا نو ن یا شر یعت پر عوا م راضی ہو ں وہی معتبر ہے اور جس کو عوام رد کر دیں وہ کا لعدم ہے۔نہ تو اس کی کوئی وقعت ہے اورنہ ہی اعتبار؛چا ہے یہ حکم اللہ تعا لیٰ کی شریعت ہی میں سے کیو ں نہ ہو۔‘‘
اور یہی شعار یعنی ’عوام پر عوام کی حا کمیت ہی جمہو ری نظام کی اساس ہے‘۔ یہی تو وہ پہیہ ہے جس سے جمہو ری نظا م کی گاڑی چلتی ہے۔اس تصور کے بغیر تو جمہو ری نظا م مفلو ج ہو کر رہ جا تا ہے۔
یہی وہ دینِ جمہو ریت ہے جس کی تشہیر کی جا تی ہے اور جس کے فہم کے لیے مفکر ، فلسفی اور مبلغ سر گرداں نظر آتے ہیں۔یہی جمہوریت کا وہ حقیقی روپ ہے جس کے گرداب میں ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ تفصیلا ت میں اختلا ف و ابہا م کے با وجو د جمہو ریت کے چند اسا سی نکا ت ہیں جن پر یہ نظام قا ئم ہے۔ہم ان میں سے یہا ں اہم ترین نکا ت کو مختصراً بیا ن کر تے ہیں۔
اولا ً ؛ جمہو ریت اس اساس پر قا ئم ہے کہ طا قت کا سر چشمہ عوام ہیں ،اس میں عوام کو قا نو ن سازی کا اختیار بھی شا مل ہے اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے نما ئند ے چنے جاتے ہیں جو معاشرے کی تر جما نی کر تے ہیں،یہ نما ئندے قا نو ن سا زی کے عمل میں عوا م کے وکیل ہو تے ہیں۔ دوسرے الفا ظ میں جمہو ری نظام میں مقنن اللہ رب العزت کی بجا ئے انسا ن خود ہے۔ یعنی تشریع و تحکیم کے معا ملا ت میں معبو د و مطا ع مخلو ق ہے نہ کہ خا لق۔ درحقیقت یہی تو کفر، شرک اور گمرا ہی ہے جو اصول دین اور عقیدۂ تو حید سے متصادم ہے۔جس میں جا ہل و مجبو ر انسان کو اللہ کا شریک بنا دیا گیا ہے۔اللہ سبحا نہٗ وتعا لیٰ تو اس سب سے مبّرا ہے۔اور تحکیم و تشریع تو اس کی اہم ترین صفا ت ہیں۔اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواإِلاَّ إِیَّاہُ(سورۃ یوسف:۴۰)
’’فر ما نروا ئی صرف اللہ تعا لیٰ ہی کی ہے ،اس کا فر ما ن ہے کہ تم سب سوا ئے اس کے کسی اور کی عبا دت نہ کر و۔ ‘‘
اور اللہ جلّ شا نہٗ نے فر ما یا:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِن شَیْء ٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللَّہِ(سورۃالشوریٰ:۱۰)
’’اور جس جس چیز میں تمہا را اختلا ف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعا لیٰ کی ہی طرف ہے۔‘‘
اللہ جلّ شا نہٗ نے فر ما یا:
وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہِ أَحَداً(سورۃالکہف:۲۶)
’’اللہ تعا لیٰ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کر تا۔‘‘
اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
أَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّہِ حُکْماً لِّقَوْمٍ یُوقِنُون(سورۃ المائدۃ:۵۰)
’’کیا یہ لو گ پھر سے جا ہلیت کا فیصلہ چا ہتے ہیں؟ یقین رکھنے وا لے لو گو ں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ اور حکم کر نے والا کو ن ہو سکتا ہے!!‘‘
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
أَفَغَیْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً(سورۃ الانعام:۱۱۴)
’’تو کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کر نے والے کو تلا ش کروں حالا نکہ وہ ایسا ہے کہ اس نے ایک کتا ب کا مل تمہا رے پا س بھیج دی ہے۔‘‘
اسی طر ح اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
أَمْ لَہُمْ شُرَکَاء شَرَعُوا لَہُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَأْذَن بِہِ اللَّہُ (سورۃ الشوریٰ:۲۱)
’’کیا ان لو گو ں نے ایسے (اللہ کے)شر یک (مقرر کر رکھے)ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیے ہیں جو اللہ کے فر ما ئے ہو ئے نہیں ہیں ؟‘‘
پس اللہ نے تو ایسے لو گو ں کو شرکا کے نا م سے تعبیر کیا ہے جو اللہ تعا لیٰ کی طرف سے وا ضح دلیل کے بغیر قا نو ن سا زی کر تے پھرتے ہیں۔
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
وَأَنِ احْکُم بَیْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاءہُمْ وَاحْذَرْہُمْ أَن یَفْتِنُوکَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّہُ إِلَیْکَ(سورۃالمائدۃ:۴۹)
’’آپ ان کے معا ملا ت میں خدا کی نا زل کر دہ وحی کے مطا بق ہی حکم کیا کیجیے ، ان کی خواہشوں کی تا بعدا ری نہ کیجیے اور ان سے ہو شیا ر رہیے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ تعا لیٰ کے اتارے ہو ئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کر یں۔ ‘‘
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
اتَّخَذُواْ أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ(سورۃ التوبۃ:۳۱)
’’اور ان لو گو ں نے اللہ تعا لیٰ کو چھو ڑ کر اپنے عا لمو ں اور درویشو ں کو اپنا رب بنایا ہے۔‘‘
یہ قو ل حضرت عدی ؓبن حا تم کی حدیث ہی میں منقو ل ہے،جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں عیسا ئیت کی حالت میں حا ضر ہو ئے توآپ کو اس آ یت کی تلا وت کر تے سنا: ’’اتَّخَذُواْ أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ‘‘۔ عدی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم تو ان کی عبادت نہیں کر تے تھے!‘‘، ان کی مراد یہ تھی کہ نہ تو ہم ان کے لیے قر با نی کر تے ہیں ،نہ ہی ان سے دعا ما نگتے ہیں اور نہ ہی ان کے سا منے جھکتے ہیں۔ عدی ؓ عبا دت کو ان ہی چیزوں میں محدود سمجھ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ’’کیا وہ اللہ کے حلال کر دہ کو حرام نہیں ٹھہرا لیتے تھے اور تم بھی پھر اسے حرا م ہی جا نتے تھے اور اللہ کی حرام کر دہ اشیا کو حلال قرار نہیں دیتے تھے اور پھر تم بھی اسے حلال جا نتے تھے؟ ‘‘۔ عدیؓ کہتے ہیں میں نے کہا: ’’جی ہا ں!یہ تو ایسا ہی ہے ‘‘۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ’’یہ ہی ان کی عبا دت کر نا ہے‘‘۔
اللہ سید قطب پر رحمت نا زل فر ما ئے وہ کہتے ہیں :
’’دنیا کے تمام نظا مو ں میں لو گ اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب قرار دیتے ہیں اور یہی کچھ اعلیٰ و ارفع جمہو ریتوں میں بھی ہو تا ہے،عین اسی طر ح جیسے فرد وا حد کی حکو مت میں۔اور یہ سب کچھ ایک سا ہی ہے۔‘‘
اور سید قطب کا کہنا ہے :
’’نوع انسا نی پر الو ہیت کی وا ضح تر ین نشا نیو ں میں سے ہے کہ بند ے ہی بندوں پر حا کم بن جائیں اور ان کی زندگی کے لیے قوا نین وضع کر نے لگیں اور ان کے لیے میزان قا ئم کر نے کی کو شش کر یں ۔جو کو ئی بھی اس طر ح کے افعا ل کا مر تکب ہواور قانو ن سا زی کے دعوے کر ے تو دراصل وہ اللہ کے سوا رب بننے کا دعویٰ دار ہے ۔‘‘
بلا شبہ وہ ذا ت جو تحلیل و تحریم کا حق رکھتی ہے صرف اللہ وا حد کی ہے۔اور انسانوں میں کو ئی بھی، چا ہے وہ فرد وا حد ہو یا کو ئی بھی ادارہ ،کو ئی قوم ہو یا پو ری نو ع انسا نی، اللہ کی اجازت کے بغیر اور اللہ کی نا زل کر دہ شر یعت کے خلا ف کر تے ہو ئے یہ حق ہر گز نہیں رکھتا۔
ثانیاً؛ جمہو ریت کی بنیا د دین و عقیدہ کی آزا دی پر ہے۔ لہٰذا جمہو ریت میں ہر شخص کو آزادی حاصل ہے کہ جو مر ضی عقیدہ اپنا ئے اور جس مر ضی مذ ہب کو قبو ل کرے اور جس مذہب کو چا ہے رد کر دے، چا ہے وہ اللہ تعا لیٰ کا نا زل کر دہ دینِ متین ہی کیو ں نہ ہو ۔اور بلا شبہ یہ معاملہ تو قطعاً نا قا بلِ قبو ل اورمبنی بر فسا د ہےاور بہت سی نصو ص شرعیہ سے متصا دم بھی۔اس کے بارے میں حکم شرعی با لکل وا ضح ہے کہ اگر کو ئی مسلما ن اپنے دین سے ارتداد کی را ہ اختیار کرے تو اس کی سزا قتل ہے ۔ جیسا کہ بخا ری و دیگر کتب احا دیث میں وارد ہوا۔ جو شخص بھی اپنا دین بد لے تو اسے قتل کیا جا ئے، اس کو با قی نہیں چھو ڑا جا سکتا ۔کیو نکہ مر تد کے با رے میں اجازت نہیں کہ اسے سکو ن ،تحفظ یا پنا ہ دی جائے ۔اللہ تعا لیٰ کے دین میں اس کے لیے تو بہ یا تلوا ر کے سوا کو ئی تیسر ی را ہ نہیں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)