أللھم أیّد الإمارۃ الإسلامیۃ في أفغانستان!
ألحمد لله و کفیٰ والصلاۃ والسلام علیٰ رسول اللّٰہ، أما بعد!
اللّٰہ سبحانہٗ و تعالیٰ کا کلامِ پاک میں ارشاد ہے:
اَلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (سورۃ الحج: ۴۱)
’’ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللّٰہ ہی کے قبضے میں ہے۔ ‘‘
اولاً مذکور آیت کی تفسیر میں علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اس آیتِ کریمہ کے مصداق حضراتِ خلفائے راشدین (رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین)ہیں، جنہوں نے دینِ ایزدی کو یزدانِ واحد کی زمین پر نافذ فرمایا۔ ان خلفائے راشدین کی صفت ہے کہ جب انہیں زمین پر اقتدار حاصل ہوا تو انہوں نے نماز کو قائم کیا، زکوٰۃ ادا کی، امر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم دیا اور نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکا۔ مفسرینِ کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں ایک حکمِ عام بھی ہے کہ جنہیں اقتدار حاصل ہو تو وہ نماز کو قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا التزام کریں1۔
اللّٰہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر بجا لایا جائے کم ہے کہ اس نے اس دورِ فتن میں امتِ مسلمہ کو امارتِ اسلامیہ افغانستان کی صورت میں ایک نعمتِ عظیمہ عطا فرمائی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ امیر المومنین، شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا ہبۃ اللّٰہ اخندزادہ (دامت برکاتہم العالیہ)کی امامتِ با سعادت میں قائم امارتِ اسلامیہ افغانستان کی مدد و نصرت فرمائیں اور ہر شر اور ہر برائی سے، دشمن کی چالوں سے اور خائن لوگوں کی غداری اور خیانت سے اس کی حفاظت فرمائیں، آمین۔
اللّٰہ کا فضل و احسان ہے کہ آج کے دورِ جدید میں جب نظامِ باطل کا ظاہری و باطنی لحاظ سے قبضہ ہے اور ہر طرف اسی نظامِ دجال کا غلغلہ ہے تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی نصرتِ خاص کے ذریعے افغانستان میں مجاہدین کو فتح و ظفر سے ہم کنار فرمایا۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان کے مجاہدینِ عالی قدر جن کو افغانستان کے ستّر فیصد کے قریب علاقے پر تمکین و حکومت حاصل ہے، انہی خطوط و اوامرِ شرعی پر گامزن ہیں جن کا حکم شریعتِ مطہرہ نے فرمایا ہے۔ امارتِ اسلامیہ کے دورِ اول میں (۱۹۹۶–۲۰۰۱ء) بھی اقامتِ دین کے نظائر سارا عالَم دیکھ چکا ہے اور نفاذِ شریعت ہی وہ ’جرم‘ تھا جس کی ’پاداش‘ میں امریکہ اپنے چالیس سے زائد حواریوں کے ساتھ امارتِ اسلامیہ کو مٹانے کے لیے میدان میں کودا تھا۔
بحمداللّٰہ آج جب ایک بار پھر اللّٰہ تعالیٰ نے طالبانِ عالی شان کو افغانستان میں توحیدِ خالص، اتباعِ سنتِ حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور پیرویٔ شریعت میں جہاد فی سبیل اللّٰہ کی بدولت فتحِ مبین عطا فرمائی ہے، تو طالبانِ عالی شان نے حکمِ قرآنی کے مطابق ہر شعبۂ ہائے حیات میں اقامتِ اسلام کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
امارتِ اسلامیہ کی جانب سے بحمد اللّٰہ، مظاہرِ اسلام پر مبنی احکامات و لائحے اور فرامین و اعلامیے جاری ہوتے رہتے ہیں جن میں سے بعض کی اردو ترجمانی کر کے مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کی زینت بڑھائی جاتی رہتی ہے۔ عوام الناس کی روحانی تربیت کا پہلو ہو یا ان کی جسمانی صحت کو ’کورونا‘ جیسی بیماریوں سے لاحق خطرات، امتِ مسلمہ خصوصاً اور انسانیت کو عموماً نشے کی لت سے بچانے کی کوششیں ہوں یا دیوانی و فوجداری عدالتی مقدمات، عسکری، معاشی و معاشرتی معاملات؛ ان سبھی کے بارے میں امارتِ اسلامیہ کی اعلیٰ ترین قیادت (دفترِ مشر تابہ2) سے لے کر عام ولسوالیوں3 کی سطح تک ایک منظم شرعی انتظام جاری ہے۔
مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کے شمارۂ ہٰذا (اکتوبر ۲۰۲۰ء) میں بھی امارتِ اسلامیہ کا جاری کردہ ایک اعلامیہ اردو ترجمانی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس میں، اقامتِ صلاۃ سے لے کر دیگر اوامر بالمعروف اور ردِ بدعات و جاہلی رسومات سے لے کر دیگر نہی عن المنکر کے پہلو موجود ہیں۔ امارتِ اسلامیہ کا عمومی طرزِ عمل اور اس مذکورہ اعلامیے میں موجود احکام (جو امارت کے انتظام و نفاذِ شریعت کی نہایت چھوٹی سی جھلک ہے) تمام بلادِ اسلامیہ کے عوام و دینی تحریکات کے لیے عموماً اور اہالیانِ پاکستان و دیگر برِّ صغیر کے لیے دعوتِ فکر و عمل لیے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ دینی و جہادی تحریکات کے وابستگان، امارتِ اسلامیہ کے منہج و عمل (جو کہ شرعی منہج و عمل ہے) کو اپنائیں، اہلِ اسلام کے جان و مال کی حفاظت، ان کے خون کی حرمت کا خیال رکھنے کے اعلیٰ پہلوؤں سے لے کر اقامتِ دین تک کے تمام پہلوؤں کو بغور دیکھیں اور اپنے خطوں میں بھی تحریکِ دینی کو ایسی ہی شرعی بنیادوں پر استوار کریں۔ امارتِ اسلامیہ کا قافلہ جب عمرِ ثالث، بت شکن، امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد (نوّر اللّٰہ مرقدہٗ) کی قیادت میں اٹھا تو یہ چند مدرسے کے طالبِ علم تھے جن میں کئی کی مسیں بھی ابھی نہ بھیگی تھیں، لیکن محض اور محض اتباعِ شریعتِ کاملہ کی بدولت آج انہی طالبانِ عالی شان کے سامنے دنیا کی سپر پاوریں گھٹنے ٹیک چکی ہیں اور یہ اہلِ اسلام آج ڈنکے کی چوٹ پر اسلام کو اسی تعبیر کے ساتھ نافذ کر رہے ہیں جس تعبیر کے مطابق صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے دینُ اللّٰہ اور شریعتِ محمد رسول اللّٰہ کو نافذ کیا تھا (علیٰ صاحبہا الف صلاۃ و سلام!)۔
آئیے اسی طرزِشریعت پر اپنے اپنے خِطوں میں دعوت و جہاد کو منظم کریں، یہاں تک کہ ہماری اسلامی امارتیں اور دعوتی و جہادی کوششیں ’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘ کی حسین صبح کے آفتابِ عالَم تاب کی صورت میں سارے عالَم کو جگمگانے لگیں، جس کے متعلق اقبالؒ نے کہا تھا:
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے
أللھم أیّد الإمارۃ الإسلامیۃ في أفغانستان. أللھم أیّد الإسلام والمسلمین وانصرھم علیٰ عدوك وعدوهم. أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم
ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!
٭٭٭٭٭
1 بحوالہ تفسیرِ مظہری از مولانا قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی و تفسیر معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی
2 دفترِ مشر تابہ یعنی دفترِ امیر المومنین
3 ولسوالی کا لفظی ترجمہ ’ضلع‘ ہے، لیکن انتظامی طور پر افغانستان میں ولسوالی پاکستان میں انتظامی طور پر موجود ’تحصیل‘ کے درجے کی شے ہوتی ہے۔