انٹرویو: افغانستان کا مستقبل اسلام ہے!

امارتِ اسلامیہ افغانستان کے سیاسی دفتر کے رکن جناب ملا خیر اللہ خیر خواہ حفظہ اللہ کے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو کا اردو ترجمہ

امارتِ اسلامیہ افغانستان کے سیاسی دفتر کے رکن جناب ملا خیر اللہ خیر خواہ حفظہ اللہ کے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو کا اردو ترجمہ


الجزيره: ۲۴ دسمبر، ۱۹۷۹۔روسی دستے افغانستان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ سوویت یونین کے قائدین کا دعویٰ تھا کہ وہ افغانستان کے کمیونسٹ سربراہ ببرک کارمل کی دعوت پر افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔ روس کے اس حملے نے افغانستان کو جنگ و جدل کے ایک ایسے راستے پر گامزن کر دیا کہ جس میں کئی دہائیاں جنگ اور خونریزی کی نذر ہو گئیں۔ رو س افغان جنگ، ۹۰ء کی دہائی میں ماسکو کی مکمل پسپائی، افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمہ اور اس کے بعد ملک میں خانہ جنگی اور اس کے نتیجے میں طالبان کی اقتدار تک رسائی…… یہ سب اس راہ کے سنگِ میل تھے۔تحریکِ طالبان نے ۲۰۰۱ء تک ملک کے بیشتر علاقوں پر حکومت کی۔ ۲۰۰۱ء میں ۱۱؍۹ کے حملوں کے بعد امریکہ کی سربراہی میں نیٹو اتحاد نے افغانستان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں طالبان قیادت کابل کو خالی کر کے منتشر ہو گئی۔ تب سے لے کر آج تک،ملک میں چھ عمومی انتخابات منعقدہو چکے ہیں۔ افغان سیاست دان قوت اور اقتدار کے لیے آپس میں بر سرِ پیکار رہتے ہیں اور ذاتی جاگیر کی حیثیت سےزمین کے بڑے بڑے حصّوں پر قابض ہونے کے لیے کوشاں بھی۔ مگر طالبان نے کبھی کسی منتخب حکومت کی طاقت و اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔ تقریباً دو دہائیوں بعد، امریکی افواج افغانستان سے انخلا کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرتی ہیں۔ یہ معاہدہ تقریباً سات سال کی طویل کوششوں کے بعد وجود میں آیا جس دوران طالبان، افغان حکومت اور امریکہ و دیگر ممالک کے درمیان سیاسی مفاہمت پیدا کرنے کی سر توڑ کوشش کی گئی۔ آخر افغانستان میں مکمل امن کے حصول کی خاطر کیا کرنا ہو گا؟ آج ہمارے ساتھ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے رکن ، جناب خیر اللہ خیر خواہ صاحب موجود ہیں، جو الجزیرہ سے اس بارے میں گفتگو کریں گے۔

جناب خیر اللہ خیر خواہ ! الجزیرہ سے بات کرنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔ اشرف غنی کا کہنا ہے کہ امن کو سب سے بڑا خطرہ جنگ و جدل اور تشدد آمیز واقعات سے ہے۔ پچھلے سال سے لے کر اب تک کے عرصے میں آج کل جنگ کی شدت اپنے عروج کو چھو رہی ہے۔ کابل انتظامیہ کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ طالبان امن عمل میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان کا وجود ہی ہے ؟

ملا خير الله خير خواه: بسم اللہ والحمد للہ والصلوۃ السلام علی رسول اللہ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کابل انتظامیہ ایسی باتوں میں مبالغہ سے کام لیتی ہے ۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ جنگ کی شدت میں اضافہ ہو گیا یا کارروائیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے تو حقیقت ایسی نہیں ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا بھی ہے تو اس کا سبب وہ خود ہیں۔ وہ بعض طالبان کے مفتوحہ علاقوں میں داخل ہو کر نئی پوسٹیں ، چیک پوائنٹس اور تفتیشی مراکز بنانا چاہتے ہیں، ظاہر ہے کہ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے سبب تعارض اور جنگ کی نوبت آتی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ معاہدے میں جو جنگ بندی کی شق موجود ہے، وہ ہمارے اور امریکیوں کے درمیان ہے۔ ہمارے اور ادارۂ کابل کے مابین کسی جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہوا۔ ہم اور امریکی مل کر بیٹھے، ہم نے بات چیت کی اور اس امر پر اتفاق کیا کہ وہ ہم پر حملے نہیں کریں گے اور ہم ان پر حملے نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں۔ مگر ہمارے اور کابل انتظامیہ کے درمیان تو ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس امر کے پابند ہیں کہ ہم انہیں نشانہ نہ بنائیں۔ اس کے باوجود ہم نے ان کے بڑے شہروں، مراکز، پولیس اور فوجی مراکز وغیرہ کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ کابل کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس دوران ہم واشنگٹن سے مذاکرات کر رہے تھے، اس عرصے میں ہمارے اور امریکیوں کے مابین جنگ ماضی کے تمام عرصے کی نسبت کئی گنا زیادہ شدت لیے ہوئے تھی۔ کارروائیوں اور حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اس کے باوجود ہم مذاکرات کے لیے بیٹھے، انہوں نے اپنی جانب سے پوری کوشش کی اور ہم نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی اور ایک نتیجے اور اتفاق رائے پر پہنچ گئے۔ جنگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات چیت نہیں کر سکتے۔

سو یہ تمام باتیں موجود ہیں۔ اولاً جنگی شدت میں ویسے اضافہ نہیں ہوا جیسے وہ مبالغہ آمیزی سے بیان کرتے ہیں۔ ثانیاً ہمارے حملوں کا بنیادی سبب وہ خود ہیں۔ ثالثاً ہمارے درمیان جنگ بندی کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس کے سبب ہم ان پر حملہ نہ کرنے کے پابند ہوں۔ اور آخری بات یہ ہے کہ جنگ اور حملے مذاکرات سے نہیں روکتے۔ یہ بات تو امریکیوں کے ساتھ ہمارے تجربے سے ثابت ہے۔ جیسے ان کے ساتھ جنگ کے باوجود مذاکرات کیے اور بالآخر ایک معاہدے طے پا گیا، اسی طرح کابل کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔

الجزيره: اس ساری صورتحال کو مدّنظر رکھتے ہوئے، بین الافغان مذاکرات کی بنیاد کے بارے میں بتائیے، جبکہ آپ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں؟

ملا خير الله خير خواه: دیکھیے اس حوالے سے کئی مثالیں ہیں کہ ہم بعض اوقات آپس میں عارضی جنگ بندی کر لیتے ہیں۔ مثلاً عید کے موقع پر ہم نے تین دن کے لیے جنگ بندی کی تھی۔ اس کے علاوہ ہم نے موسمِ بہار کی کارروائیوں کا بھی اعلان نہیں کیا۔ ہر سال ہم اپنے جنگی حملوں کو کسی نام سے موسوم کر کے ان کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں جیسے ’الفتح‘ یا ’النصر‘یا اس جیسا کوئی اور نام۔لیکن اس سال ہم نے کوئی اعلان نہیں کیا۔ اس کے باوجود اہلِ کابل معاملے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ کسی بھی حال میں بین الافغان مذاکرات نہیں چاہتے۔وہ انہیں روکنے اور ٹالنے کے لیے مسلسل حیلے بہانے سوچتے رہتے ہیں۔چونکہ اشرف غنی الیکشن جیت کر آیا ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ وہ اپنا پانچ سالہ دورِ حکومت مکمل کرے۔

الجزيره: لیکن یہ مذاکرات کس حیثیت میں ہوں گے جبکہ آپ تو یہ امر ہی تسلیم نہیں کرتے کہ کابل میں کوئی حکومت بھی ہے؟

ملا خير الله خير خواه:جی ہاں، ہم نے امریکیوں سے مذاکرات کے دوران یہ کہاتھا کہ امریکیوں سے مذاکرات کے بعد ہم ’افغانی گروہوں‘ سے بات چیت کریں گے۔ہم نے ’افغانی حکومت ‘ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ ’افغان گروہوں ‘ کا نام لیا تھا۔اب افغانستان میں موجود مختلف گروہ اور دھڑے سب جمع ہو چکے ہیں اور ہم ان سب سے مذاکرات اور بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ہم صرف کابل انتظامیہ سے مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ ہم افغانستان میں موجود تمام گروہوں اور پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔

معاہدے میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ بین الافغان مذاکرات سے پہلے ہمارے پانچ ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے۔ آخر ہم نے ایسی شرط کیوں لگائی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے اور کابل انتظامیہ کے مابین بہت زیادہ بُعد تھا۔ہمارے لوگ اور ہمارے مسئولین اور ہمارے بھائی ان کو ایک گروہ اور پارٹی کی حیثیت دیتے ہوئے بھی ان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار نہیں تھے۔ لیکن جب وہ ہمارے پانچ ہزار قیدی رہا کرتے ہیں تو اس سے ہمارے درمیان ایک اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور یہ اعتماد ہی مذاکرات کی بنیاد ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ واضح کر دوں کہ قیدیوں کی رہائی کا معاملہ امریکیوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں شامل ہے۔ اس لیے ہم قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کابل انتظامیہ سے نہیں کرتے بلکہ امریکیوں سے کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ امر ان کے ساتھ معاہدے میں طے پایا ہے۔ امریکی کابل انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کابل ہمارے قیدیوں کو رہا کرتا ہے۔

الجزيره: امریکی افواج کے انخلا کے بعد کیا ہو گا؟

ملا خير الله خير خواه: ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم افغانستان کے مسائل کے لیے ایک مکمل حل ڈھونڈیں، ہم افغانستان میں مکمل اور پائیدار امن چاہتے ہیں۔ ہم یہ بات بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ امریکہ ہمارے ملک میں اب زیادہ دیر ٹھہر نہیں پائے گا، اسے جانا ہی ہو گا۔ اور اس کے ساتھ ہم کابل انتظامیہ اور دیگر افغان پارٹیوں اور گروہوں سے بات چیت اور مذاکرات کرنے کے لیے تیار تھے۔ ہم یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر ہم افغانستان میں حکومت بزور حاصل کر بھی لیں تو بھی افغانستان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم تمام افغان گروہوں اور پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت کے بعد حکومت اور اقتدار حاصل کرتے ہیں تو وہ ایک مستحکم حکومت ہو گی۔ تمام گروہوں کے مابین مفاہمت اور اتفاقِ رائے سے بننے والی حکومت میں مسائل کم سے کم ہوں گے۔جبکہ بزورِ قوت حاصل کیے گئے اقتدار میں مسائل اور مشکلات کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ ہم چالیس سالہ جنگ کے بعد اب افغانستان میں امن اور اسحکام لانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ہم بے حد سنجیدہ ہیں۔ سو اگر کوئی گروہ یا فرقہ امن کے راستے میں رکاوٹ یا مشکلات بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم ان شاء اللہ باذن اللہ ان مشکلات کا سامنا کریں گے اور انہیں دور کریں گے، کیونکہ افغانستان کہ تمام گروہ اور پارٹیاں، من حیث المجموع، یہ بات سمجھتی ہیں کہ افغانستان کے مسائل کا پائیدار حل آپس میں مذاکرات اور مفاہمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے پچھلے تجربات بھی اس بات پر شاہد ہیں کہ جنگ و جدل اور خونریزی کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوتے، اسی لیے ہم نے مختلف ممالک کے دورے کیے، چین، روس، ایران، پاکستان، انڈونیشیا، ازبکستان وغیرہ، اور ہم نے ان پر واضح کیا کہ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، ہم جنگ پر مصر نہیں ہیں۔ لیکن جنگ خود چل کر ہمارے پاس آئی اور اس نے ہمیں دفاعی پوزیشن سنبھالنے پر مجبور کر دیا ، اب جیسے ہی وہ ہمارے ملک سے رخصت ہوتی ہے تو ہم اپنے ملک میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ اب یہ تمام ممالک مل کر کوشاں ہیں کہ افغانستان کے تمام گروہوں کو مذاکرات کی میز پر جمع کیا جا سکے تاکہ اس مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے۔

الجزيره: یہ نہایت دلچسپ امر ہے کہ آپ ماسکو کا تذکرہ کرتے ہیں۔ طالبان اور روس کے مابین تعلقات کیسے ہیں؟

ملا خير الله خير خواه:بالعموم ہمارے تمام ممالک سےتعلقات، جیسے چین، روس، ایران، پاکستان اور دیگرپڑوسی مسلم و غیر مسلم ممالک سے تعلقات اچھے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ ہماری سرزمین اپنے مقاصد کے لیے یا دوسرے ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ اور جب سے قطر میں ہمارا سیاسی دفتر کھلا ہے تب سے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔

الجزيره: اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ طالبان امریکی فوجیوں کو قتل کرنے پر روس سے انعام و اکرام پاتے تھے؟

ملا خير الله خير خواه: ان تمام باتوں کی کوئی اصل یا بنیاد نہیں ہے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ باتیں شروع کرنے اور پھیلانے والے کون ہیں۔ یہ خاص خبر جس کا آپ نے ذکر کیا ہے یہ افغان انٹیلی جنس کی گھڑی ہوئی ہے جس نے جیلوں میں موجود قیدیوں سے جبراًیہ بیانات حاصل کیے ہیں کہ وہ امریکہ سے لڑنے پر روس سے پیسے اور انعامات وغیرہ حاصل کرتے تھے۔ یہ خبر قطعی بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ تو کابل انتظامیہ کی انٹیلی جنس نے مجبور قیدیوں پر تشدد کر کر کے جبری اعترافات کروائے ہیں تاکہ دنیا کے لیے ایک کہانی گھڑی جا سکے۔ کوئی شخص کبھی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ طالبان نے ماسکو سے امریکہ کے خلاف کبھی بھی پیسے یا فوجی امداد حاصل کی ہو۔

الجزيره: مگر یہ خبر محض افغانی انٹیلی جنس کی جانب سے تو نہیں آ رہی، یہ تو امریکی انٹیلی جنس کا بھی دعویٰ ہے۔ اور ایک ایسے وقت میں جبکہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے اور وہ اس مقصد کے لیے آپ کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہا ہے، ایک ایسے وقت میں آخر وہ کیوں جھوٹ بولے گا؟

ملا خير الله خير خواه:دیکھیے ہم امریکہ کی طرف سے تو جواب نہیں دے سکتے کہ وہ کیا اور کیوں کرتے ہیں۔ یہ سوال تو اصلاً امریکہ سے کیا جانا چاہیے۔

کابل انتظامیہ کے بارے میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ امریکہ اور دیگر بیرونی طاقتوں کی افغانستان سے واپسی چاہتے ہی نہیں ہیں۔ وہ تو اپنے اقتدار کے دوام کے لیے امریکہ اور دیگر افواج کو افغانستان ہی میں روکے رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ اس طرح کی خبریں اور جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں۔ لیکن بالاصل یہ سوال خود انہی سے اور امریکہ سے کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی نیت اور مقاصد کی وضاحت کر سکیں کہ ایسی جھوٹی خبریں گھڑنے اور پھیلانے سے وہ کیا اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

الجزيره:لیکن ہم اس کی ماضی میں بھی ایک مثال پاتے ہیں۔ جب آپ لوگ طالبان کے بجائے افغان مجاہدین کے نام سے جانے جاتے تھے اور سوویت یونیں کے خلاف لڑ رہے تھے تو آپ نے روس کے خلاف امریکہ سے اور پاکستانی آئی ایس آئی سے امداد وصول کی تھی۔ پھر اب امریکہ کے خلاف روس کی امداد کیوں نہ قبول کریں گے؟

ملا خير الله خير خواه:اس زمانے میں روس کے خلاف تقریباً ہر ملک سے امداد ملتی تھی۔ مجاہدین پوری دنیا سے اکٹھے ہو کر روس کے خلاف لڑنے کے لیے افغانستان آئے تھے۔ لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے خلاف ہماری تحریک کو یا امارتِ اسلامی کوروس یا کسی اور کی جانب سے حمایت یا امداد نہیں ملتی۔اب ہمارے اور روس کے مابین اچھے ڈپلومیٹک (سفارتی)تعلقات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے خلاف کوئی شخص کچھ بھی ثابت نہیں کر سکتا۔

الجزيره: افغانستان کی طرف لوٹتے ہیں۔ افغانستان کے شہر حکومتی قبضے میں ہیں جبکہ اکثر صوبوں کے دیہی علاقوں پر آپ کا تسلط ہے۔ افغانستان کے کتنے علاقے پر آپ کی عمل داری ہے اور ان علاقوں کی صورتحال کیسی ہے؟

ملا خير الله خير خواه:افغانستان کا تقریباً ستر فیصد علاقہ ہمارے قبضے میں ہے۔ اس تمام علاقے میں الحمدللہ امن و امان کی صورتحال ہے۔ لوگوں کے لیے قاضی موجود ہیں ۔ بلکہ اگر کابل انتظامیہ کے زیرِ انتظام علاقوں سے موازنہ کیا جائے، تو ہمارے علاقوں میں صورتحال بہت مثالی ہے۔لوگ اپنے مسائل اور مقدمات کے فوری حل کے لیے ہماری عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔عوام الناس کی اکثریت اپنے معاملات کے حل کے لیے ہماری عدالتوں سے رجوع کرتی ہے کیونکہ وہاں رشوت اور سفارش کا کوئی سلسلہ نہیں ہوتا اور مقدمات کے فیصلے سرعت سے کر دیے جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے انتظامی امور میں نقائص پائے جاتے ہیں، لیکن اگر دیکھا جائے تو کابل انتظامیہ ملکی امور میں دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے بہت سی امداد اور مراعات وصول کرتی ہے جبکہ ہمارے پاس اپنے علاقوں میں اپنے لوگوں کو امن اور سلامتی کی ضمانت دینے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ جلد ہی مذاکرات کے نتیجے میں اگر ہم کسی اتفاقِ رائے تک پہنچ جاتے ہیں تو آئندہ حکومت میں ہمارے علاقوں کے لوگوں کو بھی بہتر مواقع ملیں گے اور تمام افغانیوں سے مساوی سلوک کیا جائے گا۔

الجزيره: میں آپ سے یہ سوال اس لیے کر رہا ہوں کہ اکثر مغربی ممالک میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ اگر طالبان برسرِ اقتدار آتے ہیں یا حکومت میں ایک بڑے حصّے کے مالک بن جاتے ہیں تو افغانستان نے حقوقِ نسواں، بچیوں کی تعلیم، امن و انصاف کے قیام اور آزادیٔ اظہارِ رائے وغیرہ کی جانب جو پیشقدمی کی ہے، وہ سب ضائع ہو جائے گی۔ آپ اس امر کی کیا ضمانت دیتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا؟

ملا خير الله خير خواه:امریکی افواج کے افغانستان میں داخلے سے قبل جس عرصے میں ہم نے حکومت کی، ہم نے کوشش کی کہ عوام کے لیے معیارِ زندگی بہتر بنائیں۔ اور ہم نے بہت سے امور میں بہتری لانے کی کوشش کی ۔ اس عرصے میں، میں تقریباً دو سال صوبۂ ہرات کا والی رہا اور مجھے یاد ہے کہ ہمارے پاس ایک جاپانی خاتون کی سربراہی میں اقوامِ متحدہ کا ایک وفد آیا جس نے وہاں بچوں اور بچیوں کے مکاتب (سکولوں)اور مدارس کا دورہ کیا۔ تمام تر حالات کے باوجود وہاں ترقی کا عمل جاری تھا اور بچوں اور بچیوں، دونوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مکاتب و مدارس موجود تھے۔ خواتین کے حقوق نہ صرف تسلیم کیے جاتے تھے بلکہ ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ ہم خود بھی خواتین کے حقوق کے معاملے میں بے حد حسّاس اور سنجیدہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ افغانستان کی عورت کئی اعتبار سے مظلوم ہے۔

مگر آپ یہ بھی دیکھیے کہ آج افغانستان میں روزانہ کی بنیاد پر وقوع پذیر ہونے والے جرائم کی تعداد کہاں تک پہنچی ہوئی ہے؟!اور پھر اس تعداد کا موازنہ کیجیے طالبان کے دورِ حکومت سے کہ جب خواتین کے خلاف کیے جانے والے جنسی یا غیر جنسی جرائم انتہائی شاذ و نادر تھے، اور اس میں ذرا سا بھی مبالغہ نہیں ہےکہ ان کی تعداد ایک یا دو سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن مغرب کے لوگ اس قسم کا کوئی موازنہ نہیں کرتے، ان حقائق کی جانب نہیں دیکھتے، بلکہ فقط آزادی کی بات کرتے ہیں۔ ہم بھی آزادی پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہماری آزادی اسلامی تعلیمات اور شریعت کی بیان کی گئی حدود کے اندر ہونی چاہیے، اس کے مطابق ہونی چاہیے۔ ہم دائرۂ اسلام میں رہتے ہوئے حقوقِ نسواں اور تعلیم اور آزادی، یہ سب چیزیں چاہتے ہیں۔لیکن بعض لوگ آزادی اور حقوقِ نسواں کی فراہمی سے یہ تصور لیتے ہیں کہ افغانستان کی عورت بھی امریکہ و یورپ کی عورت کی طرح دکھائی دینے لگے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ نہ یہ بات مناسب ہے نہ قرینِ عقل ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے رسوم و رواج اور عادات امریکہ و مغربی ممالک کے رسوم و رواج سے بہت مختلف ہیں۔ہم اسلام کی بتلائی ہوئی حدود میں رہتے ہوئے حقوقِ نسواں، تعلیم اور آزادی کے قائل ہیں۔ بلکہ طالبان کے سابقہ دورِ حکومت میں خواتین بھی امورِ حکومت میں شامل تھیں جیسے وزارتِ داخلہ، ائیر پورٹ ، مدارس اور دیگر جگہوں پر خواتین خدمات انجام دیتی تھیں۔ مگر ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ہم معاملات کو اس سے بھی کہیں آگے، یعنی اسلامی حدود کو پھلانگتے ہوئے، ترقی کرنے کی اجازت دیں گے۔

الجزيره: ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کو اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہیں۔ سابقہ این ڈی ایس چیف کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی طالبان کے ساتھ افغانستان میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے۔ آپ نے بھی ایک ویڈیو نشر کی جس میں آپ نے دو داعشی جنگجوؤں کو پکڑنے کا دعویٰ کیا جو امریکی انتظامیہ اور افغان عہدیداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس سب میں کتنی صداقت ہے اور آپ کو کس چیز کا سامنا ہے؟

ملا خير الله خير خواه: بہت سے واقعات و معاملات بظاہر جو نظر آ رہے ہوتے ہیں، حقیقت میں اس کے بر عکس ہوتے ہیں ۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ وہ ہسپتال جس میں بہت سے علما اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے رضاکار قتل ہوئے، اس پر حملے کے پیچھے کابل انتظامیہ کی انٹیلی جنس کا ہاتھ تھا۔ اور یہ کام کرنے سے ان کا مقصد یہ تھا کہ بیرونی افواج اور طاقتوں کو یہ باور کرایا جائے کہ افغانستان آج بھی خطرے میں ہے اور افغانستان سے انخلا کے لیے یہ وقت مناسب نہیں۔ کابل انتظامیہ اس قسم کے تمام مذموم واقعات کا ذمہ دار طالبان کو دکھانا و ٹھہرانا چاہتی ہے۔ مگر الحمدللہ ، بفضل اللہ تعالیٰ تمام افغانی عوام یہ بات جانتے ہیں کہ طالبان ایسے حملے نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ طالبان اللہ پر ایمان رکھنے والے، مومن و مسلم ہیں اور عامۃ الناس کو کبھی نشانہ نہیں بناتے۔ طالبان انہی کے درمیان معاشرے میں رہتے ہیں اور ہمارے علما عوام کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور بات چیت کرتے ہیں۔ اس وجہ سے عوام کے ذہن اس حوالے سے بہت واضح ہیں کہ ہسپتالوں اور بے گناہ عوام کو نشانہ بنانے والے کون ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ طالبان مسلمان ہیں اور ان کا عقیدہ انہیں کبھی ایک ہسپتال پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ آخر طالبان کو ہسپتال میں موجود معصوم عورتوں اور نومولود بچوں کو قتل کر کے کیا فائدہ حاصل ہو گا؟

گو کہ ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ایسے واقعات کے پیچھے کون ملوث ہے مگر اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات کی جائیں اور حقیقت سب کے سامنے لائی جائے کہ کس نے ان جرائم کی منصوبہ بندی کی۔

الجزيره: جناب خیر اللہ خیر خواہ صاحب! آج کا افغانستان بیس سال پیشتر کے افغانستان سے یکسر مختلف ہے کہ جب طالبان بر سرِ اقتدار تھے۔ افغانستان کے عوام اور نوجوانوں کے تصورات بھی بیس سال پہلے سے بہت مختلف ہیں۔ اگر طالبان کو افغان حکومت میں ایک بڑا حصّہ مل جاتا ہے، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں اور عوام کے پاس کس قدر آزادی ہو گی؟

ملا خير الله خير خواه: بالکل، ہم جانتے ہیں کہ نہ حالات و عادات آج سے بیس سال قبل جیسی ہیں اور نہ ہی لوگوں اور نوجوانوں کے خیالات و تصورات ویسے ہیں جیسے بیس سال پہلے تھے۔بڑے بڑے تغیرات رونما ہو رہے ہیں، بڑی بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ان حالات میں ہم اپنے ملک کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں تقریباً چار کروڑ آبادی ہے اور ہم اپنے لوگوں کے لیے بہترین مواقع اور حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سب کو امن، تحفظ، آزادی اظہارِ رائے اور دیگر تمام اقسام کی آزادی چاہیے، مگر حدود اسلام میں رہتے ہوئے۔ ہم نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ ہم افغان عوام کو امن و سلامتی اور رفاہِ عامہ فراہم کر کے رہیں گے۔ یہ درست ہے کہ حالات ویسے نہیں جیسے بیس سال قبل تھے، مگر جو خوف و دہشت کابل انتظامیہ اپنے ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنز وغیرہ کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں بٹھانا چاہتی ہے کہ طالبان کے آنے سےبچیوں کی تعلیم کے مواقع ختم ہو جائیں گے، آزادی اظہارِ رائے ختم ہو جائے گی وغیرہ، یہ سب محض بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

جس کی وجہ یہ ہے کہ کابل انتظامیہ جانتی ہے کہ امریکی و دیگر بیرونی طاقتوں کے انخلا کے بعد وہ بھی اقتدار میں نہیں رہ سکے گی۔ حالانکہ حقیقت صرف یہ ہے کہ طالبان کے آنے سے ملک میں امن و سلامتی، رفاہِ عامہ اور ترقی کا ظہور ہو گا۔ محض امن و سلامتی نہیں بلکہ ہم اپنے ملک اور اپنی عوام کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے اس عرصے میں بہت سے تجارب کیے ہیں، ہم نے بہت سے مختلف ملکوں کے دورے کیے ہیں، بہت سی سیاسی شخصیات کے ساتھ مل کر بیٹھے ہیں اور اب ہم اپنے ملک میں اپنے تجارب کی روشنی میں مکمل امن و سلامتی ، استحکام اور ترقی لانا چاہتے ہیں۔ ہم بزورِ قوت اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں نہ لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا، بلکہ ہم تو ہر وقت اپنے عوام کی مدد و نصرت اور ان کی خدمت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ہمارے لوگ چالیس سال سے مشکلات و مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، ہم اب انہیں مزید مشکلات کی نذر کرنا نہیں چاہتے۔

الجزيره: جناب خیر اللہ خیر خواہ صاحب، الجزیرہ سے گفتگو کرنے کے لیے ہم آپ کے بے حد مشکور ہیں۔

Exit mobile version