سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 5

چھٹی کا دن تھا اس لیے سب گھر والے ہی فجر کے بعد گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ دروازے کی گھنٹی کافی دیر سے بج رہی تھی۔ دفعتاً مصعب کی آنکھ کھل گئی۔ کچھ دیر تو وہ اس کا سبب سمجھ ہی نہ پایا، مگر پھر گھنٹی کے دوبارہ بجنے پر ہڑبڑا کر بستر سے نکلا اور دروازہ کھولنے کے لیے بھاگا۔

دروازہ کھلا تو اس کو اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا۔ اس کے سامنے خالو جان، امینہ خالہ اور جویریہ کھڑے تھے اور ان کے برابر میں عبادہ کھڑا اپنے ازلی بےپروا انداز میں مسکرا رہا تھا۔

خوشی سے مصعب کے حواس جواب دے گئے۔ وہ جھٹکے سے واپس مڑا اور مہمانوں کو اندر بٹھانا بھول کر اندھا دھند اندر کی جانب بھاگا۔

’’اماں! باباجانی! عبادہ آگیا…… اماں! باباجانی! عبادہ آگیا!‘‘ وہ زور زور سے ان کے کمرے کا دروازہ پیٹنے لگا۔

اس کی آوازیں سن کر نور، ہاجر اور سعد بھی اپنے اپنے کمروں سے نکل آئے اور حیرت سے مصعب کو دیکھنے لگے۔ اچانک ہاجر کی نظر عبادہ پر پڑی تو وہ معاملہ سمجھتے ہی خوشی سے نور کے ساتھ لپٹ گئی۔

’’نور! عبادہ آگیا! عبادہ واپس آگیا!…… اب یہ مسئلہ ختم ہوجائے گا!‘‘ وہ خوشی سے جھومتے ہوئے بولی تو نور کے چہرے پر بھی رونق آگئی۔ جتنی دیر میں باباجانی اور اماں معاملہ سمجھ کر کمرے سے باہر آئے، خالوجان اور امینہ خالہ لاؤنج میں آچکے تھے۔ جویریہ نے نور اور ہاجر کو کونے میں کھڑا پایا تو ا ن کو کمرے میں چلنے کا اشارہ کیا اور خود بھی ان کے پیچھے ہی کمرے میں آگئی۔

’’نور! ہاجر! اب تم دونوں بھیا کے سامنے آنے سے احتیاط کرنا، کیونکہ وہ اب تم لوگوں سے پردہ کرتا ہے!‘‘ جویریہ نے سرگوشی کی تو نور اور ہاجر نے حیرت سے اس کو دیکھا گویا کہہ رہی ہوں کہ ’ہم سے بھی پردہ!!!‘

اچانک باہر لاؤنج سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ وہ تینوں دروازے کی جانب لپکیں اور کھلے دروازے کی درز سے باہر جھانکنے لگیں۔

باباجانی کی غصے سے بھری آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔ وہ قریباً چلّا رہے تھے اور کہیں سے بھی ایک مہذب خاندان کا فرد نہیں لگ رہے تھے۔

’’برخوردار! تم نے کیا زندگی کو کھیل سمجھ رکھا ہے؟ ہمیں آکسفورڈ کا جھانسا دے کر یہ کون سا راستہ تم نے اختیار کیا ہے؟ کیا تم اپنے ساتھ نور کو بھی موت کے منہ میں لے جانا چاہتے ہو؟‘‘

’’خالو جان!زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘‘، عبادہ نے ادب سے سرجھکا کر دھیرے سے کہا، ’’مجھے اس دنیا میں محض دنیا کمانے اور عیاشیاں کرنے کے لیے تو نہیں بھیجا گیا …… میری بلکہ ہم سب کی زندگی کا مقصد تو اللہ کی کامل بندگی کے ذریعے آخرت کمانا ہے‘‘۔

عبادہ کے چہرے پر داڑھی آچکی تھی جس میں وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔ البتہ اس کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار بھی نمایاں تھے۔ جلد کی رنگت جھلس سی گئی تھی۔ نجانے کن کن حالات سے گزر کر آیا تھا۔ اس نے سادہ سی شلوار قمیض زیب تن کررکھی تھی اور سر پر جالی دار ٹوپی تھی۔ سات ماہ کے عرصے میں وہ بالکل ایک بدلا ہوا انسان نظر آرہا تھا۔

’’تو تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم سب جہنم میں جانے والے ہیں؟‘‘ باباجانی تیز آواز میں بولے۔ امینہ خالہ نے عبادہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

’’استغفراللہ خالو جان! میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ میں تو صرف ……‘‘، اس نے وضاحت دینے کی کوشش کی مگر باباجانی اس کی بات سننے پر تیار ہی نہ تھے۔

’’لوگ یہاں رہ کر بھی تو دین پر عمل کرتے ہیں؛ کیا پتھر کے زمانے میں جاکر ہی دین کا کام کرنا ضروری ہے؟‘‘ باباجانی درشتگی سے بولے۔

’’خالو جان!‘‘ عبادہ پھر ادب سے گویا ہوا، ’’ ہمیں پورے کا پورا دین میں داخل ہونے کا حکم ہے۔ ہم اپنی مرضی سے یہ نہیں کرسکتے کہ دین کے جس حکم پر چاہیں عمل کرلیں اور جسے چاہے چھوڑ دیں‘‘، اس نے چہرہ اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔

’’تو کیا دین پر عمل کے لیے ہر انسان کو قبائلی علاقوں میں جانا پڑے گا؟‘‘ باباجانی استہزائیہ انداز میں بولے۔

’’یہ کس نے کہہ دیا خالوجان؟‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا اور اس کا یہ مسکرانا باباجانی کو مزید کھولا گیا۔

’’کل کے بچے ہو اور ہمیں دین سکھانے چلے ہو! جولوگ سالہا سال سے دین کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں کیا وہ سب غلط ہیں؟‘‘

’’بات یہ نہیں ہے خالو جان! بات دراصل یہ ہے کہ مجھے تو جہاد کرنے کا حکم ہے، لہٰذا جہاد جہاں بھی ہورہا ہوگا میں وہیں جاؤں گا۔ نفاذِ شریعت کی خاطر جہاد آج ہر مسلمان پر اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز اور روزہ؛ لہٰذا جہاد تومیں چھوڑ نہیں سکتا۔ ہاں! البتہ کل کو اگر اسلام آباد میں جہاد شروع ہوگیا تو میں قبائلی علاقہ جات کو چھوڑ کر یہاں آجاؤں گا‘‘۔ عبادہ مضبوط لہجے میں بولا۔

’’اچھا! تو اب تمہارا ارادہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے لڑنے کا ہے!!! قبائلی علاقہ جات میں تو پاک فوج ہی لڑرہی ہے ناں!‘‘ باباجانی کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا، رگیں تن گئی تھیں اور صاف محسوس ہورہا تھا کہ انھیں عبادہ کا یوں بحث کرنا پسند نہیں آرہا۔ عبادہ نے کچھ بولنا چاہا تو خالو جان نے اس کو اشارے سے چپ کرا دیا۔ ’’میری بات غور سے سنو! اگر تمہارے یہی طور طریقے رہے تو ہماری طرف سے تم معاملہ ختم ہی سمجھو!‘‘ وہ بمشکل اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے آہستہ آواز میں بولے اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔

پوری گفتگو کے دوران پہلی بار عبادہ کے چہرے کا رنگ اڑتا نظر آیا اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے باباجانی کو جاتے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے چہرہ موڑ کر سوالیہ نظروں سے اماں کی طرف دیکھا، گویا پوچھنا چاہ رہا ہو کہ آپ کی اس معاملے میں کیا رائے ہے؟

اماں خاموش تھیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہے چلے جارہے تھے۔ مصعب اپنی جگہ سے اٹھااور ان کے قریب بیٹھ کر انھیں اپنے ساتھ لگا کر دلاسہ دینے لگا۔ عبادہ نے بھی آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لیا۔ نور، ہاجر اور جویریہ کے ساتھ ابھی تک دروازے پر لٹکی ساری کارروائی دیکھ رہی تھی۔ اپنی ماں کی بےبسی دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ سا گیا تھا۔ کیسے وہ سب کے سامنے تماشا بنی ہوئی تھیں۔ اس کو ڈھیروں رونا آنے لگا۔

’’خالہ! فکر نہ کریں۔ ان شاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ بس آپ پریشان نہ ہوں‘‘، وہ دھیرے سے بولا تو انھوں نے اس کے سر کا بوسہ لیا۔

’’میرے بچے! میں کیا کروں؟ میں بےبس ہوں۔ تمہارے خالو کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ جب وہ کوئی بات سوچ لیتے ہیں تو اپنے بھائیوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے‘‘۔ وہ یہ کہہ کر پھر رونے لگیں۔

’’آپ کا اپنا کیا خیال ہے؟‘‘ عبادہ نے پرامید نگاہوں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’بیٹے! مجھے تو دین کا کچھ علم نہیں، مگر تمہاری یہ بات دل کو لگتی ہے کہ اگر دین پر عمل کرنا ہے تو پورے دین پر کرنا چاہیے؛ کچھ لے لیا، کچھ چھوڑ دیا، یہ رویہ صحیح نہیں لگتا‘‘۔

’’خالہ!‘‘ عبادہ اپنے دل کی بات زبان پر لاتے ہوئے ہچکچایا۔ ’’نور کے کیا خیالات ہیں اس بارے میں؟‘‘ وہ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے کب سے بےچین تھا۔

نور کا دل دھڑکا۔ وہ اس کے خیالات بارے پوچھ رہا تھا۔ نجانے اماں کیا کہہ دیں؟

’’بیٹے! نور کی تو تم فکر نہ کرو ۔ وہ تو ایسی ہے کہ تم اسے افریقہ کے جنگلات میں بھی لے جاؤ گے تو وہ صبر شکر سے چلی جائے گی۔ تم بس اپنے خالو کو منانے کی فکر کرو‘‘۔ اماں آہستگی سے گویا ہوئیں۔

خالوجان اور امینہ خالہ ان کے مابین ہونے والی گفتگو خاموشی سے سن رہے تھے۔

یا اللہ! تو ہی یہ معاملہ سنوار دے‘، نور دل ہی دل میں دعا کرتی دروازے سے ہٹ گئی۔ ہاجر اور جویریہ ابھی تک باہر ہونے والی گفتگو کی طرف متوجہ تھیں۔

٭٭٭٭٭

’’عبادہ! آخر تم معاملے کی نزاکت کو سمجھتے کیوں نہیں ہو؟‘‘ مرتضیٰ صاحب عبادہ پر بری طرح برس رہے تھے۔

’’بابا! میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا؛ مگر میں کیا کروں کہ فرض کی پکار مجھے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی‘‘، وہ بے بسی سے بولا۔

احمد صاحب کے گھر سے آنے کے بعد سے اب عبادہ کی اس کے ماما بابا کے ہاتھوں کلاس جاری تھی۔

’’تمہیں ماں باپ کی خدمت کا فرض یاد نہیں؟ ہم سے اجازت لینا بھی تمہارے نزدیک ضروری نہیں؟‘‘ ماما چمک کر بولیں ۔

’’کیوں نہیں یا د ماما! لیکن جب جہاد فرض عین ہوجائے تو ماں باپ کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں رہتی‘‘۔

’’تمہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ تمہارے ماں باپ نے تمہیں کتنی چاہت سے پڑھایا لکھایا…… اور کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر تمہارا آکسفورڈ میں داخلہ کروایا…… اور اب تم ہمارے ہی خوابوں کو یوں اپنے قدموں تلے کچل ڈالو گے!!‘‘ ماما نے اس پر جذباتی حملہ کرنا چاہا مگر وہ بالکل بھی متاثر نہ لگ رہا تھا۔

’’ماما! آپ کیسی باتیں کررہی ہیں؟ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ آج مسلمانوں کی کیا حالت ہے؟ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ امت کی مائیں اپنے جوان بیٹوں کے لاشے اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہ کفار کی قید میں روز کتنی ہی ہماری بہنوں کی عزت لوٹی جاتی ہے؟…… ماما! وہ ہمیں پکارتی ہیں! وہ ہمیں دہائیاں دیتی ہیں!‘‘ عبادہ کہتے کہتے رو پڑا، ’’ماما! وہ ہمیں خط بھیجتی ہیں کہ ہماری مدد کرو، اور اگر کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم ہمیں مار ہی دو۔ ماما! کیا ہماری جویریہ اور امت کی جویریاؤں میں صرف یہ فرق ہے کہ یہ ہمارے گھر میں پیدا ہوئی اور وہ کہیں اور؟‘‘ اس سے مزید کچھ نہ بولا گیا اور وہ سسکیاں بھرنے لگا۔

ماما، بابا اور جویریہ اس کے یوں جذباتی ہوجانے سے خود بھی کافی متاثر لگ رہے تھے۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی، بس عبادہ کی ہلکی ہلکی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔

’’لیکن بیٹا! کیا پوری دنیا میں یہ صرف تمہارا ہی فرض ہے؟‘‘ کافی دیر کی خاموشی کے بعد ماما کی آواز سنائی دی۔ عبادہ نے اتنی عجیب نظروں سے ان کی جانب دیکھا کہ انھوں نے خفت سے چہرہ موڑ لیا۔

’’ماما! اگر جویریہ کو میری آنکھوں کے سامنے کوئی کافر اٹھا کر لے جارہا ہوتا تو کیا تب بھی آپ یہ بات کہہ سکتی تھیں؟‘‘ عبادہ تاسف سے سرہلاکر بولا۔

’’اللہ نہ کرے! فضول باتیں کیوں منہ سے نکالتے ہو!‘‘ بابا دہل کر بولے۔

’’پھر بابا! امت کی باقی بچیاں بھی تو میری بہنیں ہیں، میری ہی ذمہ داری ہیں‘‘۔

’’تم سے بحث فضول ہے۔ نجانے کہاں سے سیکھ آئے ہو ماں باپ کے سامنے زبان چلانا۔ تمہارا دین تمہیں یہ نہیں سمجھاتا کہ ماں باپ کے آگے بولتے نہیں!!‘‘ ماما جب لاجواب ہوگئیں تو غصے سے اٹھ گئیں۔ عبادہ بھی سرعت سے ان کے پیچھے لپکا اور ’’ماما ! ماما‘‘ پکارتا ان کے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔

٭٭٭٭٭

دن گزرتے گئے۔ عبادہ صرف ایک ماہ کے لیے آیا تھا مگر دس دن گزرنے کے بعد ہی واپس جانے کے لیے شدید بےچین ہوچکا تھا۔ نور کے لیے حالات تاحال ویسے ہی تھے۔ عبادہ کا مسئلہ پورے خاندان کا پسندیدہ موضوع بنا ہوا تھا۔ جہاں چند افراد اکٹھے ہوتے اسی پہ بحث چھیڑ دیتے۔

عبادہ کی واپسی کے دن قریب آگئے تھے۔ آج وہ اپنی فیملی کے ساتھ احمد صاحب کے گھر ان کو الوداع کہنے جارہا تھا…… اس بات سے بےخبر کہ اس کے لیے کیسا طوفان منتظرہے۔

٭٭٭٭٭

خاندان کے سب ہی چھوٹے بڑے تایاجان کے لاؤنج میں پریشانی کے عالم میں بیٹھے تھے۔ خالوجان اور امینہ خالہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ وہیں موجود تھے۔ عبادہ سرجھکائے سب کے درمیان خاموشی سے بیٹھا تھا۔ جبکہ نور کونے میں بیٹھی اپنی اماں کے سینے سے لگی ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔

باباجانی کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ عبادہ کی واپسی کا سن کر انھوں نے فیصلہ سنا دیا کہ وہ ابھی اور اسی وقت معاملہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مصعب نے یہ کہہ کر مخالفت کرنا چاہی کہ آپ نور کی مرضی تو دریافت کرلیں تو اسے یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ ’’نور کو اپنے اچھے برے کا کیا پتا‘‘۔

تایاجان اور موحد چچا نے بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ اتنا پرانا معاملہ یوں ایک چھوٹی سی بات پر ختم نہیں کرنا چاہیے، مگر ان کی بھی باباجانی کے سامنے ایک نہ چلی۔ سب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ انجامِ کار یہ ہوا کہ خالوجان نے بھری محفل میں غصے سے امینہ خالہ سے کہہ دیا کہ آئندہ میں کبھی تمہیں اس خاندان سے رابطہ کرتے نہ دیکھوں اور جویریہ اور عبادہ کو باہر چلنے کا کہہ کر گھر سے نکل گئے۔

تایاجان اور موحد چچا کی ملامت سن کر باباجانی بھی بپھر گئے اور تیز تیز قدم اٹھاتے گھر سے نکل گئے۔

امینہ خالہ نے بےساختہ نور کو اپنے سینے سے لگا لیا اور رونے لگیں۔ آخر جویریہ اور عبادہ آگے بڑھے اور امینہ خالہ کو سہارا دے کر اٹھایا۔ دونوں نے اپنی اکلوتی خالہ کو بوجھل دل سے سلام کیا کہ نجانے کب دوبارہ ان کی شکل دیکھ سکیں۔ اماں نے بھی روتے ہوئے ان سب کو رخصت کیا۔

عبادہ امینہ خالہ اور جویریہ کو گاڑی میں بٹھا کر کسی بہانے سے باباجانی کو ڈھونڈنے دوبارہ اندر آگیا۔ پھر باباجانی کو نہ پاکر تایاجان اور موحد چچا سے نہایت عاجزی سے سلام اور دعاؤں کی درخواست کرکے اور باباجانی کو سلام کہہ دینے کا کہہ کر مصعب اور سعد کو الوداع کہتا باہر نکل گیا۔ وہ سب اداس دلوں کے ساتھ اس کو جاتا دیکھتے رہے۔

عبادہ بھی بوجھل دل لیے، من من بھاری قدم اٹھاتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا، جہاں خالوجان بیٹھے اس کا انتظار کررہے تھے۔

٭٭٭٭٭

نور کا رشتہ ختم ہوئے دوماہ ہوچکے تھے۔ اس دن سے اب تک پورے گھر پر اداسی چھائی ہوئی تھی۔ خالہ، عبادہ یا جویریہ کے ذکر پر سب گھروالے ہی افسردہ ہوجاتے۔ باباجانی سب گھر والوں کا طرزِ عمل دیکھ رہے تھے مگر جاننے کے باوجود انجان بنے ہوئے تھے۔

اماں اور امینہ خالہ کا رابطہ بالکل ختم ہوچکا تھا۔ ایک آدھ دفعہ امینہ خالہ اور اماں نے چپکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر دونوں کے شوہروں کو پتا چل گیا اور ان کو خوب دھمکیاں سننی پڑیں، جس کے بعد دونوں نے اسی میں عافیت جانی کہ فی الحال خاموشی اختیار کی جائے، شاید آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کوئی سبیل پیدا کردے۔

٭٭٭٭٭

آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ آندھی اور تیز بارش کا شور ہرطرف گونج رہا تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے اسلام آباد کو گہرے بادلوں نے گھیر رکھا تھا۔ دوپہر ہونے کے باوجود لگتا تھا کہ سورج غروب ہونے والا ہو۔

نور اپنے بستر میں گھسی عبادہ کی دی ہوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ہاجر اپنے بستر پر نیم دراز، کانوں میں ہیڈفون لگائے لیپ ٹاپ پر کوئی فلم دیکھ رہی تھی۔ مومنہ نے چند روز قبل ہی اسے مختصر الفاظ میں یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا تصور سمجھا دیا تھا۔ اسے یاد تھا کہ مومنہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ:

’’یورپ میں نویں صدی عیسوی میں چرچ یعنی عیسائی مذہبی رہنماؤں کا بادشاہت کے ساتھ ایک مضبوط جوڑ قائم ہوا۔ یہ سب اپنے نفس اور شیطان کے بندے تھے۔ الٰہی تعلیمات سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ نتیجتاً (Holy Roman Empire) مقدس رومی سلطنت کے نام پر ایک ایسی حکومت وجود میں آئی جو بادشاہ، کلیسا اور جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ تھی اور اس گٹھ جوڑ کو انھوں نے خدائی اختیارات دے رکھے تھے۔ مزید یہ کہ عوام کو ان کے رب اور اس کی عطا کی ہوئی شریعت سے برگشتہ کرنے کے لیے اس خودساختہ شیطانی حکومت کو ’’اللہ کی حکومت‘‘ اور بادشاہ کو ’’ظلّ الٰہی‘‘ قرار دیا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ یورپ میں ظلم وجبر، عوام کا استحصال اور خواتین کی عصمت دری عام ہوگئی۔ عوام کے لیے بائبل پڑھنا ممنوع تھا اور کسی بھی قسم کے علمی و تحقیقی کام کی سزا زندہ جلادیا جانا تھا۔ اس طرح وہاں مذہب اور آزادی، تعلیم اور سائنس کے درمیان کشمکش کے سیاہ دور کا آغاز ہوا۔ تقریباً چار پانچ سو سال کی کوششوں سے ان لادین عیسائیوں نے سترہویں صدی عیسوی میں انقلابِ فرانس کی صورت میں آزادی حاصل کرلی اور چونکہ وہ اللہ کے دین سے برگشتہ تھے لہٰذا انھوں نے بادشاہت کو ختم کرکے درست الٰہی تعلیمات کے نفاذ کی بجائے، نظامِ جمہوریت نافذ کردیا ‘‘۔

کتاب میں قیامت کی چھوٹی نشانیوں سے متعلق باتیں پڑھ کر نور کو خوف محسوس ہورہا تھا اور سردی کے باوجود اس کے چہرے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اور نظر اٹھا کر ہاجر کی طرف دیکھا۔ وہ مکمل طور پر فلم میں منہمک تھی، اس سے بےخبر کہ قیامت ان سے کتنی قریب ہے۔ نور نے جھرجھری سی لی اور دوبارہ کتاب کی جانب متوجہ ہوگئی۔

پڑھتے پڑھتے جب وہ اس مقام پر پہنچی کہ جہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث درج تھی کہ اسلام کی سب سے آخر میں ٹوٹنے والی کڑی نماز ہوگی تو بےاختیار اس نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا۔ ظہر کی نماز کا وقت ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ وہ میکانیکی انداز میں اٹھی اور وضو کرنے باتھ روم میں گھس گئی۔

وضو کے بعد جب اس نے نماز پڑھنے کے لیے جائے نماز بچھائی تو ہاجر نے چونک کر اس کی جانب دیکھا، ’’نماز پڑھنے لگی ہو؟‘‘

’’ہاں!‘‘ وہ دھیرے سے بولی تو ہاجر نے بھی نجانے کیا سوچ کر لیپ ٹاپ کا فلیپ بند کیا اور اٹھ گئی۔ دو منٹ بعد وہ بھی نور ساتھ کھڑی نماز پڑھ رہی تھی۔ نور نے نماز مکمل کرکے جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو بےاختیار ہی اس کو ڈھیر سارا رونا آگیا۔ وہ خود بھی اس کی وجہ نہ سمجھ پائی۔ ہاجر نماز پڑھ کر دوبارہ لیپ ٹاپ کھول چکی تھی۔

وہ کافی دیر دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے بیٹھی رہی۔ آج کم از کم بھی دو یا تین سال کے بعد اس نے نماز پڑھی تھی۔ بچپن میں کسی نے نماز سکھائی ہوگی مگر بڑے ہوکر اس کو کبھی نماز پڑھنے کی توفیق نہ ہوئی تھی، اس لیے اب اس کو کچھ سمجھ ہی نہ آرہا تھا کہ کیا دعا مانگے۔ آخر وہ صرف اللہ تعالیٰ سے اس کا قرب مانگ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

کتاب جہاں سے چھوڑی تھی، وہیں سے دوبارہ شروع کی۔

جب وہ جہاد کے بیان پر پہنچی تو یہ حدیث پڑھ کر اسے جھٹکا سا لگا۔ لکھا تھا :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اسلام ابتدا میں اجنبی تھا اور عن قریب یہ دوبارہ اجنبی ہوجائے گا، پس خوش خبری ہو اجنبیوں کے لیے‘‘۔

نور یہ پڑھ کر سوچ میں پڑگئی۔ اسلام کیسے اجنبی ہوجائے گا جبکہ دنیا میں ہم مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہیں؟ وہ کون لوگ ہوں گے جن کے لیے خوش خبری ہے؟ وہ یہ سوچ کر آگے پڑھنے لگی کہ شاید اسی کتاب سے اسے اپنے سوالات کا جواب مل جائے۔ لکھا تھا:

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے جہاد ہمیشہ جاری رہے گا، یہاں تک کہ اس امت کے آخر میں ایک شخص آکر دجال سے جنگ کرے گا۔ کسی عادل (بادشاہ) کے عدل یا کسی ظالم کے ظلم کا بہانہ لے کر جہاد ختم نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

نور پھر چونک اٹھی۔ کون ہوں گے یہ لوگ جو جہاد کرتے رہیں گے؟

اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا!…… عبادہ!…… ہاں! عبادہ بھی تو جہاد کرنے ہی گیا ہے۔ نور کا دماغ چکرانے لگا۔ تمام حدیثیں سمجھ میں آنے لگی تھیں۔ وہ بھی تو ہمارے معاشرے میں، اپنے ہی لوگوں کے بیچ، اپنے خاندان میں ’اجنبی‘ بن گیا تھا۔

نور بستر پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اور خالی خالی نظروں سے ہاجر کی طرف دیکھنے لگی۔ آج زندگی میں پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا تھا کہ وہ کتنی بےمقصد زندگی گزار رہی ہے اور یہ کہ اس کی زندگی کا مقصد پڑھ لکھ کر زیادہ پیسے کمالینے اور اچھا پہن اوڑھ لینے سے بڑھ کر ہونا چاہیے تھا۔ وہی مقصد جو عبادہ نے باباجانی کے سامنے بیان کیا تھا، یعنی اللہ کی مکمل بندگی، مکمل سپردگی اور اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش کرنا ۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔

’’ہاجر!‘‘

ہاجر نے کوئی جواب نہ دیا۔

’’ہاجر! سنو تو!‘‘

’’اوں ہوں نور! ابھی نہیں بھئی!‘‘ ہاجر مچل کر بولی۔

’’سنو ناں ہاجر!‘‘

’’ابھی نہیں سن سکتی، فلم کا کلائمکس ہے‘‘، ہاجر لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر بولی۔

’’نہیں! پہلے میری بات سنو، بہت ضروری ہے‘‘، نور بےچین ہوکر بولی۔

اب کی بار ہاجر نے نظریں ترچھی کرکے اس کی جانب دیکھا اور اس کے تاثرات دیکھ کر بالآخر لیپ ٹاپ بند کیا اور کانوں سے ہیڈ فون نکال دیے۔

’’اب بولو! کیوں پریشان ہو؟‘‘

’’بہت بڑا مسئلہ ہے، تم سوچ بھی نہیں سکتی۔ زندگی موت کا مسئلہ ہے!‘‘ وہ دھیرے سے بولی اور پھر ہاجر کے دلچسپی ظاہر کرنے پر اس نےوہ ساری باتیں آسان الفاظ میں اس کے گوش گزار کردیں جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھیں۔

٭٭٭٭٭

وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ دوسال گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ نور کالج سے فارغ ہوکر یونیورسٹی میں آگئی۔ ابوبکر یونیورسٹی کے فائنل ایئر میں تھا۔ باباجانی اس کے ڈپریشن بارے جان لینے کے باوجود اسے واپس بلوانے پر تیار نہ تھے۔

ابوبکر دین سے بہت قریب ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت اس گھر کے مکینوں پر پڑچکی تھی۔ مصعب ، نور اور ہاجر تینوں ہی دھیرے دھیرے دین سے قریب ہونے لگے۔ مصعب باجماعت نماز کی پابندی کرنے لگا تھا اور چھوٹی چھوٹی داڑھی بھی رکھ لی تھی، جبکہ نور اور ہاجر کا پہلا قدم سرڈھانپنا اور باقاعدگی سے نماز پڑھنا تھا۔ تینوں نے گانے سننے سے بھی توبہ کرلی تھی۔

ان تینوں بہن بھائیوں میں آنے والی یہ تبدیلیاں کسی سے چھپی نہ رہ سکی تھیں اور یوں پورا خاندان ہی ان کےپیچھے پڑگیا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب خود ہی ٹھنڈے پڑگئے۔

عبادہ سے نور کا رشتہ ختم ہوئے سال بھر بھی نہ گزرا تھا کہ باباجانی نور کے لیے دنیادار قسم کے رشتے ڈھونڈنے لگے۔ اماں بھی بادل نخواستہ ان کا ساتھ دیتیں، حالانکہ دل سے وہ اب بھی اپنے بھانجے کو ہی چاہتی تھیں۔

ان ہی دنوں ملک کے قبائلی علاقہ جات میں فوجی آپریشن شروع ہوگیا۔ اخباروں میں روز ہی خبریں چھپتیں کہ فلاں جگہ اتنے عسکریت پسند مارے گئے اور اتنے گرفتار کرلیے گے۔ ان خبروں کی وجہ سے اماں بہت پریشان رہتی تھیں کیونکہ ان کے پاس عبادہ کی خیریت معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ کوئی کہتا کہ عبادہ مرچکا ہے، کوئی کہتا کہ گرفتار ہوگیا ہے، کوئی کہتا کہ گھر واپس آگیاہے…… غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

آخر تنگ آکر اماں نے عزیر ماموں سے پتا کروانے کی ٹھانی۔ پہلے تو وہ امینہ خالہ کے بارے میں بات کرنے پر ہی تیار نہ تھے کہ آج کل کے حالات میں عبادہ جیسوں کے خاندان سے تعلق رکھنا ہی خطرناک تھا۔ محض تعلقات کا شک پڑجانے پر بھی لوگوں کی جانوں کو خطرہ تھا۔ آخر کار مشکل سے بس اتنا ہی پتا چلا کہ تین ماہ پہلے خبر ملی تھی کہ عبادہ گرفتار ہوگیا ہے مگر اب معلوم نہ تھا کہ وہ زندہ بھی ہے یا اسے مار دیا گیا ہے۔

٭٭٭٭٭

سردیوں کا موسم تھا اور چھٹی کا دن۔ دن کے گیارہ بج رہے تھے مگر نور ابھی تک مزے سے گرم لحاف میں گھسی خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی کہ دفعتاً ہاجر دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔

’’نور! نور! جلدی اٹھو! ابھی تک سوئی پڑی ہو؟ باباجانی کے فرینڈ اپنی فیملی کے ساتھ آرہے ہیں‘‘، اس نے آگے بڑھ کر نور کے اوپر سے لحاف کھینچا۔

’’ہاجر! تمہیں اللہ ہدایت دے، سردی ہے! لحاف واپس کرو!‘‘ نور سردی سے ٹھٹھر کر بولی۔

’’نور محترمہ! دن کے گیارہ بج رہے ہیں، اب اٹھ بھی جاؤ!‘‘ ہاجر نے اس کو جھنجھوڑا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔

’’گیارہ بج گئے؟ إنّا للہ وإنّا إلیہ راجعون……! میں نے تو فجر بھی نہیں پڑھی!‘‘ وہ پریشانی سے بولی اور پاس پڑا موبائل اٹھاکر چیک کرنے لگی۔ ’’حیرت ہے! الارم کیوں نہیں بجا؟‘‘

’’بجا تھا، میں نے بند کردیا تھا! نیند میں پتا ہی نہیں چلا‘‘، ہاجر خجالت سے بولی۔

نور نے گھور کر اس کو دیکھا۔

’’نماز قضا کروادی میری۔ خود پڑھی ہے؟‘‘

’’ہاں! بس آخری وقت میں پڑھی ہے اسی لیے تمہیں جگا نہیں سکی‘‘، ہاجر یہ کہہ کر باہر کی طرف بڑھی مگر پھر کچھ سوچ کر واپس مڑی، ’’نور! اجمل انکل آج اپنی فیملی کے ساتھ آرہے ہیں……تم تیار ہوجانا‘‘، وہ دھیرے سے بولی تو نور کا چہرہ اتر گیا۔

’’کم آن یار! پریشان نہ ہو، جو ہوگا بہتر ہی ہوگا‘‘۔

’’ٹھیک ہے!‘‘ نور غائب دماغی سے بولی اور باتھ روم میں گھس گئی۔

٭٭٭٭٭

مہمان آچکے تھے اور نور ابھی تک اپنے کمرے سے نہ نکلی تھی۔ ہاجر اس کو بلانے کے لیے کمرے میں گئی تو وہ سُتا ہوا چہرہ لیے بیڈ پر بیٹھی تھی۔

’’کم آن نور! فکر کیوں کرتی ہو؟‘‘ ہاجر اس کو غمگین دیکھ کر خود بھی دکھی ہوگئی، ’’ایوری تھنگ ول بھی فائن! (سب ٹھیک ہوجائے گا)‘‘۔

’’ہاجر! تھک گئی ہوں میں یوں شوپیس بن بن کر!‘‘ اس نے خفگی سے کہا۔

دو سال کے عرصے میں نجانے یہ کونساواں رشتہ تھا جو نور کے لیے آیا تھا۔ نور تو سب ہی کو پسند آئی تھی مگر باباجانی نے رشتے کے معاملے میں اتنی باریک چھلنی لگائی تھی کہ کوئی رشتہ ان کے معیار پر پورا ہی نہ اترتا تھا۔

’’فکر نہ کرو! امید ہے کہ یہ رشتہ باباجانی کو پسند آہی جائے گا‘‘۔

’’تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟‘‘

’’اس کے پاپا آرمی میں کرنل ہیں ناں!…… یار! انکل اجمل کے بیٹے کا رشتہ ہے…… اس نے خود بھی شاید آرمی جوائن کی ہے۔ گھرانہ بھی اچھا اور دیکھا بھالا ہے۔ اور پتا ہے کیا……!‘‘ وہ اچانک رازداری سے بولی، ’’باباجانی تو شاید ہاں بھی کرچکے ہیں…… بس آفیشلی ہی معاملہ طے ہونا ہے‘‘۔

’’اچھا!‘‘ وہ دھک سے رہ گئی۔

’’اچھا اب آبھی جاؤ! مہمان اتنی دیر سے انتظار کرہے ہیں‘‘، ہاجر اس کو بیڈ سے زبردستی اتار کر قریباً کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ کمرے سے باہر لے گئی۔

٭٭٭٭٭

مہمان جاچکے تھے۔ سب گھر والے لاؤنج میں بیٹھے آج کے معاملے پر غور کررہے تھے۔

’’اچھا لگا ارمغان!…… کیوں مصعب؟‘‘ بابا جانی کہہ رہے تھے۔

’’جی اچھا ہی لگ رہا تھا‘‘۔ مصعب دھیرے سے اثبات میں سرہلا کر بولا، ’’بس ذرا مغرور سا لگا تھا‘‘۔

شاید مصعب کو ارمغان پسند نہ آیا تھا۔

’’ارے نہیں! اس نے ابھی ابھی آرمی جوائن کی ہے…… نئے نئے فوجی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ خود ہی ٹھیک ہوجائے گا‘‘، باباجانی جب کچھ سوچ لیتے تو انھیں ان کی رائے سے ہٹانا بہت مشکل تھا، اس لیے وہ خاموش ہوگیا۔

’’کیوں فریحہ؟‘‘ باباجانی اماں کی جانب متوجہ ہوئے۔

’’ہاں! اس کی امی تو بہت اچھی تھیں مگر مجھے تو سب سے زیادہ اس کی چھوٹی بہن لائبہ پسند آئی۔ بہت سویٹ بچی ہے‘‘۔ اماں کو پتا تھا کہ مخالفت کی گنجائش نہیں ہے ورنہ مسئلہ کھڑا ہوجائے گا، ’’مگر‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولیں، ’’نور کے سکارف پر انھیں اعتراض تھا‘‘۔

’’ہوں!‘‘ بابا جانی نے ہنکارا بھرا، ’’اوکے نور! ہم ہاں کررہے ہیں ، …… کوئی ایشو تو نہیں؟‘‘ باباجانی نے کارپٹ پر بیٹھی نور کو مخاطب کیا۔ اس نے دھیرے سے سر ہلادیا۔ اس کے سوا وہ کربھی کیا سکتی تھی۔

٭٭٭٭٭

’’ابوبکر! تم کب تک آسکتے ہو؟‘‘ ابوبکر فون کان سے لگائے ایک سٹور سے نکل رہا تھا۔

’’اماں! ابھی تو میرے ایگزیمز ہیں، اگلے مہینے تک ہی آسکتا ہوں‘‘۔

’’چلو ٹھیک ہے! اگلے مہینے ہی منگنی کا فنکشن رکھ لیں گے۔ تم آنے کی کوشش کرنا‘‘، اماں کی آواز سنائی دی۔

’’اماں! ارمغان کیسا ہے؟ عرصہ ہوگیا ہے اس سے ملے ہوئے‘‘، وہ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے دھیرے سے بولا۔ اماں اس کی بات سن کر خاموش ہوگئیں گویا کسی گہری سوچ میں ہوں۔ اس نے اپنا رخ اپارٹمنٹ کی جانب کرلیا۔

’’لگتا تو اچھا ہی ہے…… اس کی بہن بھی بہت اچھی ہے مگر…… اس کی امی ذرا تیز سی لگ رہی تھیں؛ پہلے ہی دن نور کے سکارف پر اعتراض کررہی تھیں‘‘، کچھ دیر بعد اماں کی آواز سنائی دی۔

’’اماں! آپ پہلے ہی ان کو کلیئر کردیں کہ نور سکارف لے گی، ورنہ بعد میں مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے‘‘، ابوبکر چونک کر بولا۔

نیویارک کی سڑکوں پر گاڑیاں تیزی سے رواں دواں تھیں۔ ابوبکر نے بائیں دائیں دیکھ کر سڑک پار کی۔

’’بیٹا! تمہارے بابا اور میں نہیں چاہتے کہ کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے۔ اگر ارمغان کو کوئی اعتراض ہوا تو شادی کے بعد دونوں میاں بیوی خود ہی معاملہ ہینڈل (سنبھال) کرلیں گے‘‘۔

’’مگر اماں! ……‘‘ ابوبکر نے اختلاف کرنا چاہا تو اماں نے اس کی بات کاٹ دی۔

’’تم ابھی چھوٹے ہو ابوبکر! بڑوں کے معاملات میں مت بولو‘‘، اماں کے لہجے میں ناگواری صاف محسوس کی جاسکتی تھی، ’’پہلے ہی تمہارے باباجانی کو کوئی رشتہ پسند نہیں آرہا تھا‘‘۔

وہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

علی لاؤنج ہی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے چونک کر ابوبکر کی جانب دیکھا اور پھر اپنی کتابوں میں مگن ہوگیا۔

’’چلیں ٹھیک ہے اماں! اگلے ماہ آنے کی کوشش کروں گا ان شاءاللہ…… لَو یُو اماں !‘‘ مسکرا کر کہتے اس نے کال کاٹ دی۔

’’السلام علیکم!‘‘ علی نے کتابوں سے سر نکال کر کہا۔

’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ!‘‘

’’کہاں جارہے ہو اگلے ماہ؟‘‘ علی کتابیں رکھ کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔

’’نور کی منگنی پر!…… تم بھی انوائٹڈ (مدعو) ہو‘‘۔

’’اچھا! ماشاء اللہ! …… چلو اس بہانے پاکستان کا چکر لگ جائے گا۔ کتنے دن کے لیے جاؤ گے؟‘‘

ابوبکر بھی اس کے سامنے ہی بیٹھ گیا اور کتاب اٹھا لی۔

’’بس ایک ہفتے کے لیے‘‘۔علی قریب پڑے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوگیا۔

’’اسائنمنٹ کہاں تک پہنچی؟‘‘

’’پتا نہیں اس لیپ ٹاپ کو کیا مسئلہ ہوگیا ہے…… یہ آٹوکیڈ فائلیں ہی نہیں اٹھا رہا…… حالانکہ ساری اسائنمنٹ مکمل ہوگئی ہے‘‘، علی نے جھلّا کر لیپ ٹاپ پرے دھکیلا۔ ابوبکر نے ہنستے ہوئے لیپ ٹاپ اپنی طرف کھینچا اور اس پر جھک گیا۔

(جاری ہے ، ان شاء اللہ)

Exit mobile version