آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان کے مشہور علاقے لکھنؤ سے تھا۔انھوں نےاپنا سب کچھ قربان کر کے اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی طرف ہجرت کی تاکہ اسلامی شریعت کے تحت آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ مگر افسوس کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ، اس وطن میں اسلام پسندوں پر ظلم ہی دیکھا۔
شہید ارسلان بھائی بہت ہی باادب ، سلیم الفطرت، راست فکر، سلیقہ مند اورملنسار انسان تھے۔ جو بھی آپ سے ایک بار ملتا آپ اس کے دل میں گھر کر جاتے تھے ۔ ذہانت آپ کی آنکھوں سے ٹپکتی تھی، زبان ہمیشہ ذکرالٰہی سے تر رہتی۔ اکثر میرے گھر آیاکرتے اور کام کی بات سے فارغ ہوتے تو اصرار کرتے کہ آئیں تھوڑی دیر کلمہ طیبہ یا اسمِ’اللہ ‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میرین انجنیئرنگ کی ڈگری مکمل ہوئی تو بہت خوش خوش میرے پاس آئے۔ میں نے پوچھا بھائی بہت خوش نظر آرہے ہو کیا بات ہے؟ تھوڑا جھجکتے ہوئے کہنے لگے ’آپ کے بھائی کی تیسری پوزیشن آئی ہے‘۔ میں نے کہا ماشاءاللہ بہت خوشی کی بات ہے اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں کی خوشیاں نصیب فرمائے ۔ میں نے پوچھا کہ پیارے بھائی!آگے کیا ارادہ ہے؟ کہنے لگے جیسے آپ کہیں ۔ میں نے کہا میری دلی خواہش ہےکہ میرا بھائی حافظ قرآن ہو۔ کہنے لگے بھائی جان میرا بھی یہی ارادہ ہے، ان شاءاللہ! مگر اتنی عمر میں کس مدرسے میں داخلہ ملے گا؟ میں نے کہا پیارے بھائی دعا کرو اللہ پاک رستے بنائیں گے ۔پھر کچھ دیر سوچ کر کہنے لگے ’بھائی جان میری آئندہ کی زندگی بس جہاد اور مجاہدین کے لیے وقف سمجھیں ، اگر عسکری تربیت یا تشکیل کی کوئی تر تیب ہو تو بتائیے گا۔ میں نے کہا ماشاء اللہ، اللہ پاک قبول فرمائے ثابت قدمی و استقامت عطا فرمائے ، ان شاءاللہ ضرور بتاؤں گا ۔
کچھ دنوں بعد پھر ملاقات ہوئی ۔ چہرے پر ایک عجیب سی نورانیت تھی۔ میں نے پوچھا بھائی بہت چمک رہے ہو کیا بات ہے؟ کہنے لگے بھائی جان!آپ کی دعا سے داخلہ مل گیا ، وہ بھی بنوری ٹاؤن کی شاخ، ’جامعہ گلشنِ عمر رضی اللہ عنہ ‘میں۔ استاذ جی بھی بہت محبت کرنے والے ہیں، مجھے بہت توجہ سے پڑھاتے ہیں (میں نے دل میں کہا آپ ہیں بھی تو ایسے ہی)۔ یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی میں نے کہا پیارے بھائی میری دعا آپ کے ساتھ ہے محنت کریں، تقویٰ اختیار کریں اللہ پاک آپ کو باعمل حافظ قرآن بنائے ۔ ساتھ ساتھ میں نے کہا بھائی آپ کی ساری کار گزاری میں نے شیخ صاحب کو بتائی تھی وہ بہت خوش ہوئے تھے ۔دعا دے رہے تھے آپ کو۔ یہ سن کر ارسلان بھائی کا چہرہ خوشی سےدمکنے لگا۔مجھ سےکہنے لگے بھائی جان میری ملاقات کب کرائیں گے؟ میں نے کہا ان شاءاللہ جلد ۔تقریباً دوماہ بعد میں نے ارسلان بھائی شہید کی دعوت کی جس میں شیخ محترم حافظ شہریار شہید اور ایک اور ساتھی جو افغانستان میں تقریباً چھ ماہ تشکیل گزار کر حال ہی میں واپس آئے تھے کو مدعو کیا، شیخ کی ملاقات نے آپ کے اندر بجلیاں سی بھر دیں۔
آپ اپنے وقت کو بہت قیمتی بناتے اور اکثر آپ کی سوچ بس یہی ہوتی کہ میری زندگی کا ہر لمحہ دین کی خدمت میں خرچ ہو اور مجھے اللہ رب العزت کی معرفت نصیب ہو جائے ۔
ایک دفعہ میرے پاس آئے اور کہنے لگےکہ صبح مدرسے جاتا ہوں، شام چار بجے فارغ ہوجاتا ہوں کوئی کام ایسا بتائیں جس کو میں شام کے اوقات میں کیا کروں جس سے دین و جہاد کو فائدہ ہو۔ میں نے شیخ سے مشورہ کیاکہ اگر ان کو کراٹے کلب میں داخلہ دلا دیا جائے تو کیسا ہے؟ شیخ نے کہا کہ پوچھ لیں ان سے، اگر سخت ورزش برداشت کر سکتے ہیں تو ضرور سیکھیں، ایک مجاہد کو مضبوط اور صحت مند ہونا چاہیے تاکہ راہ جہاد میں کسی محاذ پر اس کو مشکل پیش نہ آئے۔ مجاہد کا جسم اتنا مضبوط ہو ایسی ٹیکٹکس(tactics) اسے آتی ہوں کہ کبھی اسلحہ پاس نہ بھی ہو تو اس کے ہاتھ اسلحہ بن جائیں اور دشمن سے اسلحہ چھین کر اس پر ٹوٹ پڑے۔ کراٹے سیکھنے یا سخت ورزش کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان کا دل مضبوط ہوتا ہے ۔مشکل حالات میں کم ہمتی نہیں ہوتی اور بھی بہت سے فائدے ہیں ۔
اصل میں شیخ نے یہ جو کہا کہ پوچھ لیں ان سے کہ سخت ورزش کر لیں گے وہ اس لیے کہ ارسلان بھائی شہید دیکھنے میں کمزور سی صحت کے مالک تھے۔ جب میں نے ان سے کہا کہ فارغ وقت میں کراٹے کلب چلے جایا کریں اور محنت سے اس فن کو سیکھیں آپ کے کام بھی آئے گا اور مجاہدین کی خدمت کا موقع بھی مستقبل میں ان شاءاللہ ملے گا تو بہت خوش ہوئے۔ چند دنوں میں کلب جانا شروع کر دیا، ساتھ ہی حافظہ اتنا قوی تھا کہ چھ ماہ میں اٹھارہ پارے حفظ کرلیے۔
اپنی اصلاح کی فکر ہر وقت دامن گیر رہتی ۔ کبھی کوئی غلطی ہو جاتی تو کئی دنوں تک پریشان رہتے اور اپنے آپ کو کوستے رہتے کہ مجھ سے ایسا کیوں ہوا؟ کوئی بات ان کو سمجھا دی جائے کہ ایسے کرنا ہے تو کبھی بھی اپنی رائے پر اصرار نہ کرتے۔ جیسا کہا جاتا ویسے ہی کام کرتے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی کوئی غلطی انہوں نے دہرائی ہو ۔، مجاہدین و شہدا کے قصے سنتے تو ان کی عادات کو اپنانے کی حتی الامکان کوشش کرتے۔ شیخ اکثر ان کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ایسا پیارا بھائی ہے کہ اس کے لیے خود دل سے دعا نکلتی ہے ۔ جو بھی کام کہو ہر کام کے لیے تیار رہتے تھے۔ اعانتِ جہاد کے لیے رقم جمع کرنے کا کام ہو تو بس سارا دن دوڑ دھوپ کرتے اور خوب دعاؤں کا اہتمام کرتے ۔جہاں جہاں سے ممکن ہوتا جاکر ملاقات کرتے، جہاں مجاہدین کے بارے میں بتانا ممکن ہوتا تو وہاں جا کر مجاہدین کے بیت المال کی کمزوری اور دشمن کی طاقت اور ان کے وسائل کے تذکرے کرتے ۔ اپنے ہم عمر ساتھیوں کو جہاد اور مجاہدین سے جوڑنے کے لیے ہر وقت فکر مند رہتے ۔
ارسلان بھائی شہید دنیاداری سے بے انتہا بیزار تھے۔ دنیا دار رشتہ داروں اور دوستوں کی محفل اور ان کے ساتھ میل جول سے بہت زیادہ کتراتے تھے ۔ہاں دین کی دعوت اور جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت کی غرض سے دنیا دار دوستوں سے ملا کرتے تھے۔ ان کو دین کی دعوت بہت ہی احسن طریقے سے دیتے ۔ جہاد کی دورِحاضر میں ضرورت،امت کے حالات ان کے سامنے رکھتے پھر جب کبھی ملاقات ہوتی تو اپنی ہفتے بھر کی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے، اپنے دوستوں کے لیے دعائیں کرواتے۔اگر کبھی ان کو پتا چل جاتا کہ کوئی دوست کسی گناہ میں ملوث ہے تو بہت روتے تھے اور اس کے لیے گناہ چھوڑنے کی دعا بھی کرتے ۔
ایک دفعہ ماہ رمضان میں اپنے گھر سے بہت دور مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے ۔میں نے گھر سے دور مسجد کا انتخاب کرنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ وہاں نوجوان لڑکے بڑی تعداد میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں؛ ان شاءاللہ موقع ملا تو کسی نہ کسی کو جوڑ لوں گا،نہیں تو لڑکوں سے دوستی کر کے بنیادی جہاد کی دعوت تو ضرور دوں گا ۔
بہت ہی رقیق القلب اور حساس طبیعت کے مالک تھے۔جب بھی شیخ اصلاحی بیان کرتے تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی چھلک پڑتے تھے۔ اکثر ایسا ہوا کہ شیخ کا بیان ختم ہونے کے بعد بہت دیر ہچکیاں لےکر روتے رہے۔ ایک دفعہ ایک بھائی کے گھر پر شیخ نے ساتھیوں کو جمع کیا، ارسلان بھائی شہید میرے ساتھ بائیک پر وہاں گئے۔ شیخ نے ایمان تازہ کرنے کے لیے ساتھیوں کے درمیان وعظ کیا۔ شیخ اکثر بیان کے آخر میں ہم سب ساتھیوں کو متوجہ کر کے فرماتے تھے کہ
’’بھائیو! ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہوں کو مکمل طور پر چھوڑ دو، گناہوں سے مکمل جان چھڑالو یا مجاہدین کی مجلسوں میں نہ آیا کرو اور مجاہد کہلانا چھوڑدو ۔ یہ جہاد کی کرامت ہے کہ جو جہاد کرتا ہے گناہ کے کام اس سے چھوٹ جاتے ہیں اگر بندہ گناہ نہیں چھوڑتا تو جہاد چھوڑ دیتا ہے یا پھر جہاد اسے چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
میں نے دیکھا کہ بیان کے دوران ارسلان بھائی نے اپنے آنسو بڑی مشکل سے ضبط کیے ہوئے تھے۔ جب ہم واپس گھر کی طرف جانے لگے تو ارسلان بھائی بائیک پر میرے پیچھے بیٹھے۔ جب بھی وہ بائیک پر میرے ساتھ بیٹھتے تو ہمیشہ اپنی ٹھوڑی میرے کندھے پر رکھتے اور مسلسل باتیں کرتے رہتے۔ان کے ساتھ سفر میں کبھی بھی بےزاری نہیں ہوتی تھی۔ آج بھی وہ ایسے ہی بیٹھے تھے مگر خلاف معمول خاموش تھے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ میرا کندھا گیلا ہو رہا ہے۔ میں نے مذاقاً ان سے کہا کہ بھائی! رومال مانگ لیتے، میرے کندھے سے کیوں ناک صاف کی ہے؟ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے بائیک روک کر پیچھے مڑکر دیکھا تو زارو قطار رو رہے تھے ۔ میں نے ان کو سینے سے لگایا اور پوچھا بھائی کیوں رو رہے ہو؟ کیا بات ہو گئی؟ کہنے لگے آپ ایک بات سچ سچ بتائیں۔ میں نے کہا ہاں پوچھو پیارے بھائی! کیا بات ہے ؟ کہنے لگے آج شیخ نے بیان خاص میرے لیے کیا تھا ناں؟ ان کی یہ بات سن کر مجھےبھی رونا آگیا۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے ان کے آنسو پونچھے اور ان کو تسلی دی کہ بھائی شیخ نے عمومی بات کی ہے ہم سب کے لیے، اللہ پاک ہم سب کو ہدایت پر قائم فرمائے۔ کہنے لگے بھائی! میں بہت گناہ گار ہوں سب باتیں میرے لیے ہی کی تھیں، آپ میرے لیے دعا کیجیے گا الله رب العزت مجھے جہاد فی سبیل اللہ سے محروم نہ فرمائے، مجھ سے دین کی نصرت کا کام لے لے اور حسنِ خاتمہ بصورت مقبول شہادت نصیب فرمائے۔ میں اپنے تمام گناہ چھوڑنے کا عہد کرتا ہوں، آپ گواہ رہیے گا! عجیب اللہ کے ولی تھے کہ اپنی ایمانی اداؤں سے ہم سب کے ایمان گرما دیتے تھے۔ عمر اور قد میں ہم سب سے چھوٹے تھےمگر اللہ جی کی نظر میں ہم سب سے بڑے اور معزز تھے( نحسبه کذالک واللہ حسیبہ)۔ صرف اپنے والدین، بھائیوں اور خاندان والوں کی آنکھوں کا تارا ہی نہیں بلکہ ہم سب ساتھیوں کو بھی بہت زیادہ محبوب تھے۔ سب ساتھی ان سے بہت محبت کرتے تھے جب کوئی بھائی کئی دنوں بعد ملتا تو ملاقات کے بعد ان کا ضرور پوچھتا تھا۔
ان کا ماضی دنیا داری میں گزرا تھا۔اکثر اپنے ماضی کا سوچ کر افسوس کرتے اور کہتے کاش میں پہلے ہی آپ لوگوں سے مل جاتا۔ ان کے جڑنے کا قصہ بھی عجیب ہے۔ جب چھوٹے تھے تو ہم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو ارسلان بھائی چوتھی جماعت میں تھے۔ میں نے دیکھا کہ بچپن سے ہی بہت با ادب ، سلیقہ منداور ذمہ دار قسم کے بچے تھے۔ جب بھی ملتے تو بہت ادب اور محبت سے ملتے ۔ مجھے یاد ہے کہ اس دور میں بھی جب بھی کسی بات کی ان کو نصیحت کی جاتی تو پوری توجہ سے سنتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی کہتے تھے کہ آپ کی باتوں کو بہت توجہ اور محبت سےسنتا ہے۔ میٹرک کے بعد میرا ارسلان سے خاص تعلق نہیں رہا۔ میں گریجویشن کے دوسرے سال میں تھا، جمعہ کا دن تھا میں اور شیخ جمعہ کی نماز مفتی تقی عثمانی صاحب کے پیچھے پڑھنے بیت المکرم مسجد کی طرف جا رہے تھے کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ بائیک چلانے کی وجہ سے میں نے کال کاٹ دی ۔مگر پھر فون بجنے لگا کئی دفعہ ایسا ہی ہوا ۔ شیخ نے کہا بھائی بائیک روک کر کال سن لو ۔میں نے آخر کال اٹھا لی، دوسری طرف ارسلان بھائی تھے۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگے آپ نے پہچانا میں آپ کا بھائی بات کر رہا ہوں۔ میں نے کہا بھائی تو بہت سارے ہیں، اپنا نام بتائیں۔کہنے لگے آپ اپنے بھائی کو بھول گئے یار آپ کا چھوٹا بھائی۔ ابھی بھی مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ لڑکا کون ہوسکتا ہے، خیر میں نے کہا بھائی میں رستے میں ہوں اور بائیک چلا رہا ہوں گھر پہنچ کر خود کال کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر میں نے کال کاٹ دی۔ سارے رستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ کون ہو سکتا ہے؟ اچانک دل میں خیال آیا کہ یہ ارسلان ہو سکتا ہے، کیونکہ اسکول میں اسی نے مشہور کیا ہوا تھا کہ یہ میرے بڑے بھائی ہیں۔ خیر گھر پہنچ کر میں نے رابطہ کیا تو واقعی ارسلان بھائی ہی نکلے۔ کہنے لگے مجھے آپ سے ملنا ہے، آپ کب گھر پر مل سکتے ہیں؟ میں نے کہا بھائی اتوار کی صبح آجائیں۔ کہنے لگے جی ٹھیک ہے۔ اتوار کے دن تقریباً دس یا گیارہ بجے گھر آگئے۔ تقریباً پانچ سال بعد ان کو میں نے دیکھا تھا ۔بال فوجی کٹ کٹے ہوئے تھے اور داڑھی بھی صاف تھی۔ سلام دعا اور حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے بر جستہ پوچھا بھائی یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟ نہ بال سنت کے مطابق نہ چہرے پر داڑھی یہ کیسا بھائی ہے میرا ؟ مجھے اندازہ تو ہوگیا تھا کہ ان کو میرے پاس محبت کھینچ لائی ہے اور کوئی وجہ مشکل ہی ہے ۔تھوڑے شرمندہ ہوئے اور سر جھکا کر نیچے دیکھنے لگے میں نے پوچھا بھائی کیسے آنا ہوا اتنے عرصے بعد ؟!
کہنے لگے بھائی جان ویسے ہی بہت دنوں سے آپ کی یاد آرہی تھی سوچا مل لوں ۔پھر کہنے لگے بھائی جان میں نے ایک خواب دیکھا تھا، جب میں سو کر اٹھا تو بہت بے چین تھا،بس دل چاہ رہا تھا کہ جلد از جلد آپ سے ملاقات ہوجائے۔ میں نے کہا کیا دیکھا تھا پیارے بھائی ؟ کہنے لگے میں نے دیکھا آپ اپنے کسی دوست کے ساتھ بائیک پر میرے سامنے سوار ہوکر جا رہے ہیں، میں آپ کے پیچھے آتا ہوں تو آپ جا چکے ہوتے ہیں، مجھے دل میں بہت رنج ہوتا ہے، میں آپ کو بہت ڈھونڈتا ہوں لیکن آپ نہیں ملتے ۔جب میں سو کر اٹھا تو بہت بے چین تھا۔ کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا ۔بس دل چاہ رہا تھا جلد از جلد ملاقات ہوجائے ،اب آپ سے ملاقات ہوئی تو سکون ملا ہے ۔
پھر کہنے لگے کہ بھائی جان! آئی ایس ایس بی آپ کے بھائی نے کلیئر کر لیا ہے بس ایک انٹرویو باقی ہے جو چند دنوں بعد ہونا ہے ۔ دعا کریں کہ وہ بھی کلیئر ہوجائے ۔
یہ سن کر تو مجھے ایک جھٹکا لگا ۔ تھوڑی دیر تک تو میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کو کیا جواب دوں۔ سوچنے لگا کہ ابھی اس کو سمجھاؤں یا چھوڑ دوں ۔ دل ہی دل میں ’’اللھم خرلی واخترلی‘‘کا ورد کرنے لگا ۔ بس پھر دل میں آیا کہ اس کو سمجھاتا ہوں، یقیناً یہ مخلص لڑکا ہے، اسٹیٹس بنانے اور ظاہری عزت حاصل کرنے کے شوق میں فوج میں جانا چاہ رہا ہے ،یقیناً اس کو پاک فوج کے جرائم کا ادراک نہیں ہے ۔
جب کافی دیر مجھے خاموش دیکھا تو ارسلان بھائی کہنے لگے کیا آپ میرے لیے دعا نہیں کریں گے؟ارسلان بہت حساس طبعیت کا حامل تھا ۔میری خاموشی سے بھانپ گیا کہ اس کا فوج میں جانا بھائی جان کو پسند نہیں۔ خیر میں نے اللہ پر توکّل کیا اور امتِ مسلمہ کے ساتھ کی جانے والی پاک فوج کی خیانتیں اس کے سامنے بیان کرنا شروع کیں، افغانستان پر ہونے والے امریکی حملے میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کا کردار،پاکستان میں علما کا قتل اور سانحۂ لال مسجد میں ہونے والے ظلم و ستم کو ان کے سامنے بیان کیا ،ساتھ ہی استاد احمد فاروق شہید کا رسالہ ’یہ کس کی فوج ہے؟‘ میرے پاس تھا اس کو دیا کہ بھائی اس کو پڑھنا ۔
ارسلان بھائی ساری بات خاموشی سے سنتے رہے ۔رسالہ مجھ سے لے لیا اور یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ پھر ملیں گے ! مجھے ایسا محسوس ہوا کہ شاید ان کو میری بات سمجھ نہیں آئی ہے ۔خیر میں نے ان کی ملاقات کا سارا قصہ شیخ کو بتایا انہوں نے کہا کہ بھائی بہتر کیا آپ نے، بس آپ دعا کریں ارسلان کے لیے کہ اللہ پاک اس کو ہدایت دے ۔ بس میں نے اللہ رب العز ت سے ان کی ہدایت کے لیے مستقل دعا کرنی شروع کردی۔ خوب اللہ پاک سے مانگا کہ اللہ پاک پیارے بھائی کو ہدایت دے اور اس کو اپنی جان دین اسلام کی خاطر قربان کرنے کی توفیق دے دے ۔
آخر چند دنوں بعد ارسلان بھائی گھر آئے چہرے پر داڑھی کے بال بڑھے ہوئے تھے ۔چہرہ بھی تھوڑا نورانی سا ہو رہا تھا ۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگے کہ بھائی جان آپ نے میرے لیے کیا دعا کی تھی؟
میں نے کہا بھائی !آپ سے اللہ کے لیے محبت ہے آپ کی دنیا و آخرت کی بر بادی نہیں دیکھ سکتا۔ آپ کی ہدایت کی ہی دعا کی تھی !!
کہنے لگے کہ اس دن تو آپ کی بات کو میں نے خاص اہمیت نہیں دی ۔انٹر ویو کی کال بھی چند دن بعد آگئی، میں نے تیاری شروع کر دی۔ انٹرویو بڑے رینک کے افسر نے لینا تھا ۔ میں مطمئن تھا کہ انٹرویو کلیئر ہوجائےگا ۔ایک دن پہلے ہی ہمارے بیچ کو ملیر کینٹ بلالیا گیا، میں بھی چلا گیا۔ جس دن انٹرویو تھا ہم سارے لڑکے افسر صاحب کے کمرے کے باہر قطار میں بیٹھے تھے کہ اچانک مجھے متلی ہونا شروع ہوئی اور زوردار قسم کی الٹی ہوئی اور پھر ایک کے بعد ایک کئی دفعہ الٹیاں ہوئیں اور تیز بخار ہونے لگا۔ وہاں موجود عملے نے مجھے فوراً ایمرجنسی منتقل کر دیا ۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اچانک مجھے کیا ہوا ۔انٹرویو کا وقت نکل چکا تھا، میں انٹرویو نہیں دے سکا۔ کہتے ہیں کہ جب تھوڑی طیبعت سنبھلی تو ہمت کر کے اٹھا اور گھر آگیا ۔گھر پہنچا تو طبیعت بالکل ٹھیک ہو گئی۔ میں سمجھ گیا یہ سب اللہ پاک کی طرف سے ہوا ہے ۔ بس میں نے سوچ لیا کہ اب کبھی اس طرف نہیں بھٹکوں گا ۔ خوش ہوجائیں بھائی جان آپ کی دعا اللہ پاک نے قبول کرلی ۔ بس اب داڑھی رکھنے کا بھی ارادہ ہے ان شاءاللہ۔
میرا پیارا بھائی جس مقصد سے میرے پاس آیا تھا، والله اس مقصد کو پا گیا۔ شہادت کے خون میں نہا کر اپنے گناہوں کو دھلوا کر الله ربُّ العزت کے نزدیک سرخرو ٹھہرا۔ اللہ پاک پیارے بھائی کی سعادت بھری زندگی ثابت قدمی اور استقامت سے بھرپور شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،آمین۔
ارسلان جب بھی تمہاری یاد آتی ہے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں تمہاری محبت بھری پیاری پیاری باتیں اور یادیں دل کو رلاتی ہیں ۔ مجھے یاد ہے جب میں ایک دفعہ سفر پر افغانستان جا رہا تھاتو تم مجھے لینے آئے تھےتاکہ تم مجھے بس اڈے تک چھوڑ آؤ۔ ہم الوداعی ملاقات کرتے ہوئےایک دوسرے کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی تلقین کر رہے تھے۔ تو میں نے تم سے کہا تھا پیارے بھائی میرے لیے دعا کرنا اس بار الله پاک شہادت عطا فرمادیں ۔ تم بے اختیار رو پڑے تھے تم نے کہا تھا بھائی جان آپ اگر شہید ہوگئے تو میرا کیا ہوگا میں جہاد کس کے ساتھ مل کر کروں گا؟نہیں پیارے بھائی جان، مجھ سے پہلے شہید مت ہو جائیے گا ، ان شاءاللہ ساتھ شہید ہوں گے !
محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہوگا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہوگا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ گئے ہیں تو کیا ہوا کہ یہی تو دستور زندگی ہے
جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا
اے پیارے الله جی……میرے بھائی کے تیری راہ میں بہہ جانے والے خون کو، زندان میں سہی جانے والی صعوبتوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخش دیجیے!
الله رب العزت ہمیں بھی شہید کی تمام اچھی صفات عطا فرمائے، یا اللہ ہمیں بھی حسنِ خاتمہ بصورت مقبول شہادت عطا فرمائیے اور جنت الفردوس میں انبیا علیہم السلام،صدیقین و شہدا کے ساتھ اکٹھا فرمادے۔ جب تک زندہ رکھیو اپنے مقبول ، محبوب پسندیدہ بندوں کے ساتھ ہدایت یافتہ لشکروں کے ساتھ رکھیو اور اپنے مقبول بندوں کے ساتھ شہادت کے خون میں نہلا کر اپنا پیارا دیدار نصیب فرمائیو، آمین ۔یا اللہ میرے گناہوں کو میری شہادت کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیجئے گا،آمین۔
ارسلان یقیناً تم ہر لحاظ سے مجھ سے افضل اور اعلیٰ تھے ورنہ اللہ پاک تم کو مجھ سے پہلے کبھی شہادت نہ دیتے ۔
ارسلان بھائی نے ۲۰۱۶ء میں اپنی عسکری تربیت افغانستان کے صوبہ قندھار میں مکمل کی۔ آپ نے پسٹل اور کلاشنکوف میں تخصص بھی کیا ۔وہیں پر شیخ سے بنیادی جہادی شرعی علوم اور شہری و میدانی جنگی چالوں کی بنیادی تعلیم بھی حاصل کی ۔جب تربیت مکمل کر کے واپس کراچی آئے تو اکثر اصرار کرتے اور اپنی خواہش کا اظہار کرتے اور کہتے کہ کب ہم اپنے شہدا کے خون کا بدلہ لینا شروع کریں گے؟
آپ کی عادت تھی اور شیخ کا حکم بھی تھا لہٰذا خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں، فوج اور پولیس کے افسروں کو اپنی نظر میں رکھتے اور ان کی لسٹ بناتے رہتے۔ موقع ملنے پر ان کی ریکی بھی خفیہ اور محفوظ طریقے سے کرتے رہتے اور اپنے پاس لکھ کر محفوظ کر لیتے۔
آپ کے پختہ نظریے، تقویٰ، ذہانت اور چھپی ہوئیں صلاحیتوں کو دیکھ کر شیخ کا ارادہ آپ کو فوج میں بھرتی کرانے کا ہوا۔شیخ نے استخارہ کیا اور پھر کہا کہ اس کو اس کام کے لیے آپ تیار کریں۔
میں نے ارسلان بھائی کو بلایا اور ان کو شیخ کے ارادے کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر ارسلان بھائی ہچکیاں لے کر رونے لگے ۔کہنے لگے میں بہت کمزور ہوں اور اب اس گندے ادارے میں بھرتی ہونا میرے لیے بہت مشکل ہے مجھے ڈر ہے کہیں میں اپنے ایمان سے ہی نہ ہاتھ دھو بیٹھوں۔ خیر شیخ کو میں نے ساری صورت حال بتائی۔ شیخ نے ان سے خود ملاقات کی اور آخر انھیں تیار کر ہی لیا ۔
ارسلان بھائی شہید نے ابتدائی ٹیسٹ کی بنیادی تیاری کی اور اپنی تعلیمی اسناد لے کر سلیکشن بورڈ کے آفس پہنچے ۔اپنی اسناد جمع کرائیں اور پرچی لے کر میڈیکل اسٹاف کے پاس آئے ۔ میڈیکل اسٹاف والوں نے سب سے پہلے ان کا قد ناپا اور ان کو ریجیکٹ کر دیا ۔واپس سیدھا میرے پاس آئے، بہت خوش تھے، کہنے لگے کہ اللہ پاک نے مجھے بچا لیا ۔الحمدللہ ریجیکٹ کر دیا یہ کہہ کر کہ تمہارا قد چھوٹا ہے ۔میں نے کہا کہ آپ ان کو بتاتے کہ پہلے میں سلیکٹ ہو چکا ہوں، کہنے لگے ان کو میں نے بہت کہا مگر وہ نہیں مانے ۔بس یہ اللہ پاک کی طرف سے تھا۔
ارسلان بھائی علما کرام سے بہت محبت رکھتے تھے۔ جب ان کو پتا چلتا کہ کہیں کسی عالمِ دین کا بیان ہے، بھاگے بھاگے وہاں پہنچ جاتے، پھر جب کبھی ملاقات ہوتی تو بیان میں سنی اہم باتیں بتاتے ۔
ارسلان شہید کو علم دین حاصل کرنے کا بھی بہت شوق تھا۔ آپ کا ارادہ تھا کہ جیسے ہی حفظ قرآن مکمل ہو جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لوں۔اللہ پاک ان کے ارادوں کو خوب جانتے ہیں، اللہ پاک سے دعا ہے کہ پیارے شہید بھائی کو اپنے پاس خاص مقام عطا فرمائیں اور روز محشرانبیاکرام،صدیقین، حفاظ کرام، علماء و شہدا کرام کے ساتھ ان کو اور ہم کو جمع فرمائے آمین ۔
بہت ہی خوش قسمت ہیں شہید کے والدین،بھائی،رشتہ دار اور دوست احباب!! قیامت کے دن آپ کا بیٹا اور آپ کا بھائی آپ کے حق میں سفارش کرے گا۔ شہید کی ماں اور باپ کو اللہ رب العزت عزت کا تاج پہنائے گا ،سبحان اللہ! حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ ربُّ العزت کی طرف سے شہید کے لیے درجِ ذیل انعامات ہیں:
- خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے،
- شہید جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ لیتا ہے،
- شہید کو عذاب قبر سے محفوظ رکھاجاتا ہے ،
- شہید قیامت کے دن کی بھیانک وحشت سے مامون کر دیا جاتا ہے،
- شہید کے سر پہ یاقوت سے جڑا وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جو دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے،
- شہید کے نکاح میں بہتّر حوریں دی جاتی ہیں،
- شہید روز محشر اپنے ستّر عزیز و اقارب کی سفارش کرے گا،(مسند احمد)
وہ کیا منظر ہوگا جب باپ بیٹے سے، بھائی اپنے بھائی سے منہ چھپا رہا ہوگا ۔وہاں ارسلان علی بیگ اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہاتھ پکڑ کر اللہ رب العالمین کے پاس لے کر جائیں گے اور کہیں گے یا اللہ یہ میرا بھائی ہے، یہ میرے ماموں ہیں،یااللہ یہ میری خالہ ہیں،یاالله یہ میرا دوست ہے، یا اللہ ان کے حق میں میری سفارش قبول فرمائیے ۔اللہ پاک فرمائیں گے ہاں میرے پیارے شہید! تم نے اس فتنے کے دور میں میرے دین کی آبیاری اپنے خون سے کی جب ہر طرف فساد ہی فساد تھا جب جہاد کو شکوک و شبہات میں گڈ مڈ کیا گیا تھا، سرکاری اور غیر سرکاری طور پر جہاد کے خلاف تمام قوتیں اکٹھی ہوکر جہاد کے فریضہ کومٹانے کے درپے تھیں ،جب پڑھے لکھے لوگ بھی جہاد فی سبیل اللہ کو دہشت گردی سے تعبیر کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں……تب تم نے اپنا خون دے کر جہاد کے جھنڈے کو اونچا کیا……
تو نے اسلاف کی ہر نشانی کے مٹنے کے اس دور میں
اجنبیت کے پرچم کو بلند کیا
تونے حق و صداقت کے روشن دیے
اپنے خونِ جگر سے روشن کیے
ہاں آج تمہاری سفارش قبول کی جائے گی ۔اپنے ستّر اقربا کو لےکر جنت میں چلے جاؤ ۔اللهُ اکبر کیا خوش قسمت رہا اللہ پاک سے سودا کرنے والا ؛بہترین زمانے میں شہادت پاگیا۔
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب تک آسمان سے بارش برستی رہے گی تب تک جہاد ترو تازہ رہے گا(یعنی قیامت تک)اور لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب ان میں کے پڑھے لکھے لوگ بھی یہ کہیں گے کہ یہ جہاد کا دور نہیں ہے، لہٰذا ایسا دور جس کو ملے تو وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہوگا۔صحابہ رضی اللہ عنھم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کوئی مسلمان ایسا کہہ سکتاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں ایسا وہ پڑھے لکھے کہیں گے)جن پر اللہ کی لعنت،فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہوگی۔‘‘ (السنن الواردہ فی الفتن ج:۳ ص:۷۵۱)
ارسلان بھائی شہادت کی موت کی بہت تمنا کرتے تھے ۔جب بھی کسی کو دعا کا کہتے تو یہ ضرور کہتے تھے کہ دعا کیجیے گا کہ الله پاک مجھ سے بہت سارا دین کی خدمت کاکام لے لے پھر آخر میں مقبول شہادت عطافرمائے۔
اپنے بارے میں بہت فکر مند رہتے تھے، کہتے تھے کہ بھائی جان میرے اندر کوئی ایسا عمل دیکھیں جو شہدا میں نہیں ہوتا تو مجھے فوراً آگاہ کیجیے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہم چند ساتھی شیخ کے گھر پر جمع تھے۔ شیخ نے ہمیں ترکستانی مجاہدین کی ایک ویڈیو دکھائی جو شہدا کی سیرت پر بنائی گئی تھی، جس میں پہلے شہدا کی زندگی کے چند لمحات دکھائے گئے تھے ،پھر اس شہیدکی شہادت کے بعد کی تصویر یا شہادت کے آخری لمحات دکھائے گئے تھے۔ جب بھی ویڈیو میں شہید کی زندگی کے لمحات دکھائے جا رہے ہوتے تو شیخ کہتے تھے کہ اس کے چہرے پر تو زندگی میں ہی شہادت کا نور چمک رہا ہے…دیکھنے ہی سےشہید لگتا ہے …کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے چہرے پر ایمان اور شہادت کا نور ان کی زندگی میں ہی چمک رہا ہوتا ہے، الله پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو اللہ پاک ایسا ہی بنا دیں، آمین۔ خیر ویڈیو دیکھ لینے کے بعد سب ساتھی اپنے گھروں کو چلے گئے ۔چند دنوں بعد میری ارسلان بھائی سے ملاقات ہوئی۔ملتے ہی مجھ سے کہنے لگے، بھائی جان! میرے چہرے کو غور سے دیکھیں۔ میں نے دیکھا تو ان کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسوں رواں تھے۔ میں نے پوچھا، کیا بات ہوگئی؟پیارے بھائی کہنے لگے کہ سچ سچ بتائیں کہ میں آپ کو شہید لگتا ہوں یا نہیں؟جب سے آپ لوگوں کے ساتھ وہ ویڈیو دیکھی ہے بس دل میں بار بار یہ بات آتی ہے کہ پتہ نہیں میرا کیا ہوگا؟ میری سیرت و صورت شہدا والی ہے کہ نہیں؟ دل میں تو آیا کہ کہہ دوں کہ بھائی تمہاری تو ہر ادا ہی نرالی ہے۔ یقیناً پیارا بھائی چلتا پھرتا شہید تھا۔ خیر میں نے ان سے کہا کہ بھائی یہ سوال تو شیخ سے کرناـ اللہ رب العزت ہم سب کو ضرور شہادت عطا فرمائیں گے،ان شاء اللہ۔
اللہ پاک نے آپ کو آپ کے پاکیزہ اخلاق و کردار کی طرح اک روشن منور نورانی صورت سے نوازا تھا۔ آپ کا چہرہ ان شاء اللہ آپ کے ایمان نور سے چمکتا دمکتا رہتا تھا۔ آپ کا شوق شہادت قابل دید تھا۔ ہر وقت شہادت کی تمنا کرتے رہتے تھے۔ شہدا کا ذکر سن کر آپ کی عجیب سی کیفیت ہوجاتی۔ آنکھوں کی چمک اور چہرے کی نورانیت بتا رہی ہوتی کہ یہ بھی اک شہید ہے۔ شہادت آپ کی آرزو تھی، آپ کی تمنا تھی ـ ـ ـ ـ ـ آخر وہ لمحہ بھی آن پہنچا جب آپ شہید کر دیے گئے ۔
شہادت کے بعد آپ کے چھرے پر عجیب نورانیت تھی ۔ایسا لگ رہا تھا کہ نور پھوٹ رہا ہے؛
وہ مسکراتی حسین آنکھیں وہ نوری کرنوں میں لپٹا چہرہ
وفا وشرم و حیا کا پیکر ، خلوص و صدق و صفا کا پیکر
ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ، لہو میں بھیگا گلاب چہرہ
امریکہ کی غلام ایجنسی آئی ایس آئی کے ہاتھوں آپ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ظلم کے علم برداروں نےآپ کو سخت تعذیب کا نشانہ بنایا۔ آپ سے مجاہدین کے بارے میں معلومات اگلوانے کی کوششیں کی گئیں مگر اس سب ظلم و ستم کے باوجود آپ کے پایۂ استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔ جب آئی ایس آئی کے غنڈے آپ سے معلومات اگلوانے میں ناکام رہے تو انہوں نے آپ کو کرائے کے قاتل راؤ انوار کے حوالے کردیا تاکہ آپ کو بھی دیگر مجاہدین کی طرح جعلی مقابلے کا ڈھونگ رچا کر شہید کیا جائے ـآپ ۲۱ اکتوبر بروز ہفتہ سنہ ۲۰۱۷ء کو فرعون صفت طاغوتی ایجنسیوں کے آلۂ کار راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کردیے گئے، إنّا للہ وإنّا إلیہ راجعون۔ بوقت شھادت آپ کی عمر ۲۳ برس تھی۔اللہ پاک شہید کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لے، آمین۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ پاک شہید کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کی والدہ، بھائیوں اور تمام رشتہ داروں کو صبر جمیل عطا فرمائے، شہید کی شہادت کو ان کے والد مرحوم کی بخشش اور درجات کی بلندی اور ان کے دوست احباب کی ہدایت اور ان کے وطن میں شریعت کی بہار لانے کا ذریعہ بنا دے آمین۔ یا اللہ مجھے بھی مقبول شہادت عطافرما اور شہید ارسلان علی کے ساتھ انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ اکٹھا فرما دے، آمین ثم آمین ۔