صدی کا بہترین سودا…یا…صدیوں سے جاری صلیبی جنگ؟! | پہلی قسط

ذیل میں حکیم الامت، امیر المجاہدین العرب و العجم ، فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری (دامت برکاتہم العالیہ) کے جدید بصری بیان ’صفقۃ القرن أم حملات القرون‘ کا اردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔ شیخِ محترم کے بیان کو شیخ کی ہدایات کے مطابق ’ادارہ السحاب(عربی)‘ نے مختلف حقائق، اعداد و شمار اور شخصیات کے بیانات کے اقتباسات کے ذریعے مرتب کیا ہے۔ زیرِ نظر ترجمے میں بھی اسی انداز کو بحال رکھا گیا ہے۔ شیخ ایمن کی گفتگو کی عبارتوں کو عام حالت میں رکھا گیا ہے جبکہ دیگر شخصیات کی گفتگو یا اقتباسات کو واوین ’’‘‘ میں بند کر دیا گیا ہے۔(ادارہ)


بسمِ الله و الحمدُ لله والصلاة والسلامُ علی رسولِ الله وآله وصحبِه ومن والاہ

دنیا بھر میں بسنے والے میرے عزیز مسلمان بھائیو اور بہنو……

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ!

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی ابتدا سے لے کر اب تک مسلمانوں اور صلیبیوں کے درمیان آتشِ جنگ کے شعلے نہیں بجھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔آج مغرب کا پیشوا امریکہ، خطرناک تر اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل کو تقویت پہنچانے کی کوشش میں ہے، جیسا کہ اپناسفارت خانہ یروشلم منتقل کرنا، گولان کو اسرائیل کا حصّہ بنانے کا اعلان کرنا اور منامہ مذاکرات کو بطور رشوت فلسطینوں کے سامنے پیش کرنا تا کہ وہ اپنی زمینیں ان کے ہاتھوں فروخت کر دیں۔

ٹرمپ:

’’ اس نقطۂ نظر کے تحت، یروشلم اسرائیل کا ’غیر منقسم‘ —اور (میں)یہ انتہائی ضروری بات کہہ رہا ہوں—’غیر منقسم‘ دارالحکومت رہے گا، لیکن ہم کبھی بھی اسرائیل سے اس کی سکیورٹی پر سمجھوتہ کرنے کو نہیں کہیں گے(کہ اسرائیل یروشلم میں عملاً دار الحکومت بنا کر خطرے کا شکار ہو جائے)۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں میں نے اسرائیل کے لیے بہت کچھ کیا ہے: امریکہ کا سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کرنا اور گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنا۔ ‘‘

نیتن یاہو:

’’بیک وقت اسرائیل اپنے قوانین کا اطلاق وادیٔ اردن پر بھی کرے گا، یہودیہ اور سامریہ کی تمام یہودی بستیوں پر اور تمام دیگر علاقوں پر بھی، جنہیں آپ کا منصوبہ اسرائیل کا حصّہ مقرر کرتا ہے، اور جنہیں اسرائیل کا حصّہ ماننے کے لیے امریکہ رضامند ہے۔ مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔‘‘

آج ، میں اپنے بھائیوں کو مسلمانوں اور صلیبیوں کے مابین اس کشمکش کے کچھ تاریخی حقائق مختصراً یاد دلانا چاہتا ہوں۔

اوّل، اس تنازع کی نوعیت کیا ہے؟

اس تنازع میں مذہبی پہلو سب سے اہم ہے۔ اسی طرح جدوجہد بھی طویل ہے، یہ ماضی میں جاری رہی ہے اور جب تک الله چاہے جاری رہے گی۔دورِ حاضِر میں صہیونیوں نے اہلِ مغرب سے اتحاد کر لیا ہے، جو کہ از خود ایک لمبی لیکن معلوم رُوداد ہے۔

عام طور پر اہلِ مغرب اپنے جذبات و خیالات پوشیدہ نہیں رکھتے، لیکن ہم میں سے بہت سے اپنے سامنے موجود حقیقت کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔

یہ مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی جدوجہد ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مقامی جدوجہد کو اس وسیع تر جدوجہد سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہ امر واضح ہے تو ہمیں یہ سوال اُٹھانے کی ضرورت ہےکہ ’’اس جارجیت کا مقابلہ کرنے کے بنیادی اُصول کیا ہیں؟‘‘۔

میں کچھ گہرائی سے اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ اور ایسا کرتے ہوئے ممکن ہے کہ میں کچھ ایسی باتیں دہراؤں جو میں پہلے پیغامات میں کہہ چکا ہوں۔ مجھے ہماری جدوجہد سے متعلق بنیادی نقاط دہرانے میں کچھ نقصان نظر نہیں آتا۔

دعوتِ جہاد اور آگاہی بڑھانا

یہ جہاد وسیع تر محاذ کی نمائندگی کرتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف صلیبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اگر میں یہ کہوں کہ یہ جہاد، تلوار اور اسلحے کے جہاد (قتال)سے زیادہ ضروری ہے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ اس وسیع تر محاذ کے متعلق اپنی بات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے میں ان نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں:

-آگاہی کی جنگ

-اخلاقی تربیت کا جہاد

-دعوت کا معرکہ

-سیاسی جہاد

-اتحاد

جہاں تک آگاہی کی جنگ کا تعلق ہے یہ اہم ترین جنگوں میں سے ایک ہے۔ سوچی سمجھی سازشی اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے آگاہی کے فقدان کے ذریعے امتِ مسلمہ کو گمراہ کیا جاتا ہے، دھوکہ دیا جاتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو ضائع کیا جاتا ہے۔ جہاد کے اس اہم پہلو پر قابلِ فہم طریقے سے بات کرنے کے لیے میں چندسوالات اٹھاتا ہوں:

پہلا سوال: ہمارا دشمن کون ہے؟

دوسرا سوال: ہم الولاء و البراء کے عقیدے کو بطور اسلوبِ حیات پھر سے کیسے جِلا دے سکتے ہیں؟

تیسرا سوال: ہم کس سے رہنمائی چاہیں اور کس کی پیروی کریں؟

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہےکہ ہمارا دشمن کون ہے…… تو اس میں کوئی اشتباہ نہیں کہ ہمارے دشمنوں میں مغربی دنیا کے بین الاقوامی مجرم جن میں امریکہ سرِ فہرست ہے اور مقامی حکمرانوں میں ان کے اجرتی نوکر، روس، چین، ہندوستان اور ایران شامل ہیں۔

لیکن آج میں دشمن کی ایک خطرناک قسم کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، یعنی وہ ریاستیں جو مغرب کے تابع فرمان ہیں اور امت کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مضر سازش میں مؤثر ہتھیار ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ ریاستیں مساجد تعمیر کریں، حفظِ قران کی حوصلہ افزائی کریں اور پوری اسلامی دنیا میں ضرورت مندوں اور تارکینِ وطن کی مددکریں۔ ان میں سے کچھ ریاستیں ایسی شخصیات کی میزبانی کرتی ہیں جو فیاضی سے ان کی تعریفیں تو کرتے ہیں لیکن ان کے جرائم اور غلطیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ ان ریاستوں میں سے زیادہ تر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ اسلامی دنیا میں امریکی-صہیونی منصوبے کے سرگرم حصہ دار ہیں۔ ان میں سے کچھ نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔جبکہ دوسری ریاستیں یہی کام ڈنکے کی چوٹ پر کرتی ہیں اور پوری دنیا کے سامنے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لاتی ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ریاستیں عرب انقلابات اور مسئلۂ فلسطین کی حمایت اور دفاع کا دعویٰ بھی کرتی ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ریاستیں اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے جوہڑ میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان کی سرزمینیں امریکی فوجی اڈوں کے زیرِ قبضہ ہیں ۔ حتی کہ یہ ریاستیں نیٹو اور تعاون برائے علاقائی تحفظ کے جھنڈوں تلے خود اپنی افواج لڑنے کے لیے افغانستان اور صومالیہ میں بھی بھیجتی ہیں۔ان میں سے کچھ ریاستیں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی کھلی کوششیں بھی کرتی ہیں۔

یہ ریاستیں عوامی نظر میں اپنا تاثر بطور ’’محافظینِ امتِ اسلامیہ‘‘پیش کرنے میں انتہائی سرگرم ہیں، اور اسی دوران اُمت کی دولت ضائع کرتی ہیں، زمینوں اور عوام کو قابض سامراجی قوتوں کے حوالے کرتی ہیں اور اُمت کے ایمان و اخلاق کو خراب کرنے کے لیے سازشوں پر عمل درآمد کرتی ہیں۔ خطرناک تر بات یہ کہ یہ دھوکے باز میڈیا اور علم و دانش کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اُمت میں آگاہی کا دانستہ اور سوچا سمجھا فقدان پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

اپنے نقطے کی وضاحت کے لیے میں ایک زندہ مثال دیتا ہوں اور اس کی تکمیل کے لیے استعمال ہونے والی چکر بازی اور فریب پر تفصیل سے بات کرنا چاہتا ہوں۔

الجزیرہ نے ’’اللاعبون بالنار‘‘کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے، جس میں انہوں نے دو افراد کو پیش کیا اور بے جا طور پر ان کا تعلق القاعدہ سے بتایا ہے۔انہوں نے ایک کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے ’’القاعدہ کی قیادت‘‘میں سے بتایا ہے، جبکہ دوسرے کا تذکرہ یوں کیا ہے کہ وہ القاعدہ کے قریبی گروہ سے منسلک ہے، یوں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں کے بحرینی انٹیلی جنس اداروں سے تعلقات تھے۔ کہانی میں بتایا جاتا ہے کہ پہلا شخص کچھ شیعہ شخصیات کو مارنے پر، جبکہ دوسرا ایران کی جاسوسی کرنے پر رضامند ہوتا ہے۔ اسی فلم میں الجزیرہ نے ایک سابقہ امریکی انٹیلی جنس افسر کی گواہی بھی شامل کی ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے شیخ ابو زبیدہ کی جیب سے ڈائری ملی جس میں تین سعودی شہزادوں کے فون نمبر لکھے ہوئے تھے۔

میں کردار کشی کی اس زبردست مثال پر تفصیل سے درج ذیل عنوانات کے تحت بات کرنا چاہتا ہوں:

-سراب بیچنا اور حقیقت چُھپانا

-کیا تاریخی اعتبار سے الجزیرہ، القاعدہ کے خلاف الزام تراشی کرتا رہا ہے؟

-الجزیرہ کردار کشی کی مہمات کیوں چلاتا ہے؟ من و عن یہ کہ الجزیرہ اور جماعت القاعدہ کے درمیان مسئلہ کیاہے ؟

جہاں تک سراب بیچنے اور حقیقت کو چھپانے کا تعلق ہے، اس فلم میں جو میڈیا کی فریب کاری کی بہترین مثال ہے ناظرین کو کئی جھوٹ بیچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیک وقت بہت سی اہم سچائیوں کو چینل چھپاتا اور بیان کرنے سے کتراتا ہے۔

الجزیرہ اپنے سامعین کو کون سے سراب بیچنے کی کوشش کرتا ہے:

پہلا سراب: محمد صالح علی محمد اور اس کے اعترافات کو القاعدہ سے جوڑنا

دوسرا سراب: ابو حفص بلوچی سے منسلک چیزوں کو القاعدہ سے جوڑنا

تیسرا سراب: سابقہ امریکی انٹیلی جنس اہلکار کے الزامات

پہلے سراب کے بارے میں ہمارا جواب سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ محمد صالح علی محمد کا القاعدہ سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ اس نے بحرین کی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کرنے کے بارے میں جو کچھ بھی کہا، اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے سچ بولا ہے اور اس سے یہ اعترافات جبراً نہیں لیے گئے تو بھی وہ مکمل طور پر القاعدہ کے منہج کے متضاد ہے۔ الجزیرہ کی بہتان تراشی کو کچرہ دان میں پھینکنے کے لیے یہ دلیلِ واحد ہی کافی ہے۔ لیکن وجوہات کے دیگر تین مجموعے الجزیرہ کے الزامات کو ان کے لیے مزید باعثِ شرمندگی بناتے ہیں۔

پہلے مجموعے کا تعلق اس کے بیان کو الجزیرہ کی جانب سے نیا رنگ دینے کی اساسی وجوہات سے ہے۔

دوسرے مجموعے کا تعلق اس سے روا رکھے سلوک کی وجوہات سے ہے۔

تیسرے گروہ کا تعلق منحرف گروہوں اور دوسروں کے لیے کام کرنے والی ریاستوں کے بارے میں ہمارے منہج اور اس کے بارے میں ان نظریات سے ہے جو کئی دہائیوں سے ہمارا موقف ہیں۔

جہاں تک الجزیرہ کی جانب سے اس کے الفاظ کو نیا رنگ دینے کا تعلق ہے… محمد صالح علی محمد نے الجزیرہ کی طرف سے اس سے منسلک کیے گئے اعتراف میں یہ نہیں کہا کہ وہ القاعدہ کا رکن ہے۔ بلکہ اس نے یہ کہا کہ بحرینی انٹیلی جنس کے افسر نے اس سے کہا ’’تم جماعت القاعدہ کے ارکان اور مجاہدین میں سے ہو‘‘۔ الجزیرہ نے بحرینی انٹیلی جنس کے افسر کے قول کے بارے میں کم گوئی برتی۔ الجزیرہ نے ایک اور بڑا ڈگ بھرا اور محمد صالح علی محمد کو اس سے بھی بڑا عہدہ عنایت کیا اور اسے القاعدہ کے سربراہان میں سے ایک مقرر کر دیا۔

یہ الزامات کا ایک مجموعہ ہے جو الجزیرہ کی جانب سے برتے جانے والے سابقہ رویے کی رو سے حیرانی کا باعث نہیں ہے۔

’’القاعدہ کے رہنماؤں‘‘ والی کہانی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ اسے پہلے ابراہیم البدری (ابو بکر بغدادی) نے اپنا جھوٹ طشت از بام ہونے تک استعمال کیا۔

اور کیا بحرین میں القاعدہ کے ارکان کی موجودگی پر امریکہ خاموش رہے گا اورانہیں گرفتار کر کے گوانتانامو نہ بھجوائے گا، باوجود اس حقیقت کے کہ گوانتانامو میں ایسے بحرینی موجود ہیں جن پر القاعدہ سے تعلقات کا الزام ہے!

وجوہات کے دوسرے گروہ کا تعلق محمد صالح محمد کے ساتھ برتا جانے والا خصوصی سلوک ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ القاعدہ کے کسی رہنما کے ساتھ اتنی نرمی برتی جائے کہ اسے صرف چند ماہ ہی حراست میں رکھا جائے، جس دوران وہ نہ صرف اپنے خاندان سے بلکہ ریاض میں بحرینی سفارت خانے سے بھی رابطہ کرے؟

مزید برآں، یہ شخص اپنی مرضی سے بات کرتا ہے اور اپنی خواہش کے معاملات پر خاموش بھی رہتا ہے؟ اور اپنے تفتیش کاروں کے سامنے ایسے مضحکہ خیز جملے کہتا ہے…’’میں نے ساتھیوں کے ساتھ اپنی فون کالوں کے بارے میں اور ہتھیاروں کے تصرف اور مطالبے کی وجہ پر بات کرنے سے گریز کیا‘‘۔(!!!)

تفتیش کاروں نے اس سے انتہائی نرمی برتی۔ فلم میں بتائی گئی کہانی کے مطابق کئی ماہ گزر جانے کے بعد تفتیشی اہلکار اس سے کہتے ہیں ’’اپنے آپ کو بچاؤ۔ دیکھو، قید میں تمہارا وقت بہت لمبا ہو گا…… کس وجہ سے تم نے اپنے بھائیوں سے رابطے کیے؟“ اور وہ جواب دیتا ہے ’’میں آپ سے اب کچھ کہنا چاہتا ہوں……یہ بتانے میں مجھے کچھ دیر ہوئی‘‘۔

کیا یہ ممکن ہے کہ سعودی تفتیش کار القاعدہ کے ایسے رہنما کی منت سماجت کریں جسے قیادت کے دیگر ارکان کے ساتھ رابطے کے الزام میں قید کیا گیا ہو اور وہ بڑی نرمی سے انکار کر دے اور پھر اپنی گرفتاری کے کچھ ماہ بعد اپنی مرضی سے ہی انکشافات کرنا شروع کر دے؟

یا ایسا ہو گا کہ شروع سے ہی خالد شیخ محمد (الله انہیں جلد رہائی عطا فرمائے) کی طرح اسے لٹکایا جائے، کوڑے مارے جائیں، بجلی کے جھٹکے دیے جائیں اور پانی میں ڈبکیاں لگوانے کی اذیتیں دی جائیں، یا کولہے کی ٹوٹی ہڈی ہلا کر شیخ ابو زبیدہ (الله انہیں جلد رہائی عطا فرمائے)کی طرح، جن پر اس فلم میں کیچڑ اُچھالا گیا ہے، اسے اذیت دی جائے؟

پھر وہ اپنی کہی بات سے یہ کہہ کر اختلاف کرتا ہے کہ تفتیش کے نگران سعودی اہلکار نے اس سے کہا، ’’تم خود کو بچا سکتے ہو، یہ مسئلہ گھمبیر ہے۔ تفتیش کے بعد ہم نے بحرینیوں کو یہی بتایا ہے کہ اس شخص کے خلاف کچھ بھی نہیں ملا……لیکن دیکھو بحرینی ہمیں رپورٹیں بھیج رہے تھے کہ یہ شخص سعودی عرب یا بحرین میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے‘‘۔

اس کے ساتھ ہی الجزیرہ کہتا ہے کہ شاہ نے اس شخص کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے وفد سے بھی بڑھ کر ایک گروہ بھیجا!

یہ چیز اس کے اس بیان سے مطابقت میں کیسے ہو سکتی ہے کہ بحرینیوں نے اس پر امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام لگایا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ امریکی کسی ایسے شخص کو گوانتانامو بھیجے بغیر نظر انداز کر دیں جس پر امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی یا القاعدہ سے روابط کا الزام ہو؟ کیا سعودی انٹیلی جنس کے اہلکار کسی ایسے شخص کے بارے میں، جو الجزیرہ کے مطابق القاعدہ کے رہنماؤں میں سے ہے اور سعودی عرب میں القاعدہ کے رہنماؤں سے رابطے کی کوشش میں تھا، یہ کہہ کر بات کو موقوف کر سکتے ہیں کہ ’’اس شخص کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوا……یہ بے قصور ہے‘‘۔

مزید برآں، اگر وہ القاعدہ کا رہنما ہوتا جیسا کہ الجزیرہ نےالزام لگایا ہے تو الجزیرہ کی منطق کے مطابق بحرین میں دیگر قیادتی عناصر بھی ہوتے، کیونکہ ان کے استعمال کیے الفاظ کے مطابق ’قیادات‘،’قیادة‘ کی جمع ہے۔ تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد صالح علی محمد بحرین میں القاعدہ کے رہنماؤں میں سے ایک ہو اور دیگر رہنماؤں سے مشاورت کیے بغیر ہی اپنے منصوبوں پر عمل کرے؟ اور پھر اس نے اس اہم معاملے کے بارے میں القاعدہ کی مرکزی قیادت سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ کس نے اسے اجازت دی کہ وہ اپنی مرضی سے ہی بحرینی انٹیلی جنس کے ساتھ سمجھوتہ کرے؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ القاعدہ کے رہنماؤں میں سے ہو اور القاعدہ کے ضابطۂ کار کا پابند ہو اور پھر معاملے کے بارے میں شاہ کے علم کو اپنے سمجھوتے کی بنیاد بنائے، جبکہ القاعدہ شاہ کو مرتد، غدار اور مغرب کا آلۂ کار سمجھتی ہے؟

تو محمد صالح کے بیانات میں واضح تضادات اور چھید نظر آتے ہیں۔ سو یہ ناممکن ہے کہ کوئی فرد القاعدہ کا قریبی ہو یا اس پر قریبی ہونے کا شبہ ہو اور اس کے ساتھ ایسی نرمی برتی جائے…… خاص کر کوئی ایسا شخص جو الجزیرہ کی دروغ گوئی کے مطابق جماعت القاعدہ کے رہنماؤں میں سے ہے۔

اس سے بھی بد تر یہ بات ہے کہ بحرین کا بادشاہ القاعدہ کے رہنما کو پاس کیوں بلائے گا اور اس کی مشکلات کے لیے اس سے تلافی کا وعدہ کرے۔ کیا الجزیرہ یہ کہنا بھول گیا کہ شاہِ بحرین بھی القاعدہ کے رہنماؤں میں سے ہے؟! کہاوت ہے کہ ’’اگر جھوٹ بولنے کے عادی ہو تو کم از کم مردانگی تو دِکھاؤ‘‘۔

القاعدہ کے ارکان یا اس جماعت سے مشتبہ رابطے والوں کو گوانتانامو بھجوایا جاتا ہے جہاں ان پر تشدد ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں ان پر سنگین تشدد کیا جاتا ہے اور بالآخرانہیں مار دیا جاتا ہے یا عمر قید ہوتی ہے۔انہیں چار ماہ کے پُر آسائش برتاؤ کے بعد رہا نہیں کر دیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی گوانتانامو میں ایسے بحرینی موجود ہیں جن پر القاعدہ سے تعلقات کا الزام ہے۔

پھر وہ یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی نیت سعودی عرب میں القاعدہ کے ارکان سے ملنے کی تھی، لیکن وہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کرتا۔ اگر وہ اپنے دعوؤں میں سچا ہے تو اس نے سعودی تفتیش کاروں کوان کے نام تو بتائے ہوں گے۔ لیکن وہ اپنے ناظرین کو نہیں بتاتا کہ آیا ان افراد پر بھی اس کی طرح القاعدہ سے تعلقات کے جھوٹے الزامات ہیں یا نہیں؟

یہ بات بھی عجیب ہے کہ القاعدہ نے جزیرہ نما عرب اور سعود خاندان کے زیرِ اختیار علاقوں میں شیعوں سے لڑائی نہیں کی، بلکہ مغربی مفادات کو نشانہ بنا کر اور پٹرولیم کی چوری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے شیخ اسامہ بن لادن کے احکام کا نفاذ کیا۔ بعد ازاں جماعت نے سعودی سکیورٹی اداروں کو جماعت کے خلاف جارحیت کی وجہ سے نشانہ بنایا۔تو پھر جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اپنے ہی طریقۂ کار (جو شیخ اسامہ کی ہدایات کے مطابق ہے) کے خلاف جا کر شیعہ شخصیات کو مارنے میں اس شخص کی مدد کیوں کرے گی؟ اور وہ بھی ایسی دغا باز حکومت کے لیے جسے جماعت پہلے ہی مرتد گردانتی ہے؟

جہاں تک عراق،شام اور یمن میں شیعہ تنظیموں کےخلاف القاعدہ کی لڑائی کا تعلق ہے، میں القاعدہ کے ضابطۂ کار اور اس بارے میں جماعت کی مستقل پالیسی بیان کرتے ہوئے اس پر بات کروں گا، ان شاءالله۔

ایک اور عجیب معاملہ: کیا محمد صالح کو ہتھیار خریدنے کے لیے سعودی عرب جانے اور پھرانہیں بحرین لانے کی ضرورت تھی؟ وہ کہیں سے بھی ہتھیار خرید سکتا تھا۔ بحرینی انٹیلی جنس بڑی آسانی سے اس معاملے کا بندوبست کر سکتی تھی، بجائے اس کے کہ محمد صالح خود کو خطرے میں ڈالتا اور اس دوران پورا منصوبہ فاش کرتا۔ ایک فرد کو مارنے کے لیے ایک پستول سے زیادہ کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی، اور خاص کر ایسی بڑی مُہمات کی تو بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔

وجوہات کا تیسرا گروہ جو الجزیرہ کی جانب سے محمد صالح کو القاعدہ سے جوڑنےکے بے بنیاد الزامات کو بے نقاب کرتا ہے، اس کا تعلق منحرف فرقوں اور دوسروں کے لیے کام کرنے والی ریاستوں کے بارے میں القاعدہ کے ضابطۂ کار اور اس بارے میں ہمارے نظریات سے ہے جن پر ہم کئی دہائیوں سے عمل پیرا ہیں۔

میں دستاویز ’’جہادی عمل کے لیے عمومی ہدایات‘‘ سے چند مثالیں دینا چاہتا ہوں جو ہماری عملی ترجیحات کی ترجمان ہیں جو ہم اس مرحلے میں بطور مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دستاویز میں لکھا ہے:

اوّل: مقدمہ

۱. ہمارے ساتھیوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس مرحلے میں ہمارے کام کے دو زاویے ہیں؛ پہلا عسکری ہے اور دوسرا دعوتی۔

۲. عسکری کام اولاً بین الاقوامی کفر کے سرغنہ، امریکہ اور اس کےاتحادی اسرائیل کو نشانہ بناتا ہے۔ دوئم یہ ان کے مقامی اتحادیوں کو نشانہ بناتا ہے جو ہماری زمینوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔

سو یہ واضح ہے کہ ہم مرتد و غدار شاہِ بحرین کو اپنے دشمنوں میں سے ایک گردانتے ہیں۔ شاہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں محمد صالح علی محمد کا جوش اس دشمنی کو کیسے ختم کر سکتا ہے، اس کا اصرار کہ یہ مُلکی فائدے کے لیے ہے، ایسا ملک جو مکمل طور پر شاہ کے زیرِ اختیار ہے……کہ وہ اپنی واپسی کے بعد شاہ سے ملا اور شاہ نے اسے یقین دہانیاں کروائیں۔ یہ ایسے شخص کے کام ہیں جو اپنے رویے میں القاعدہ کے منہج کا متضاد ہے۔ اسی دستاویز میں یہ بھی لکھا ہے:

دوئم: مجوزہ رہنما اُصول

………………

۲.عسکری کاموں پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ بین الاقوامی کفر کے سرغنہ کی فوجی، معاشی اور افرادی قوت میں کمی لائی جاسکے تا کہ وہ پسپائی کے مرحلے میں داخل ہو جائے، ان شاءالله۔

پھر دستاویز میں لکھا ہے :

بین الاقوامی کفر کے سرغنہ پر توجہ، مسلمان عوام کے حق سے متصادم نہیں ہے کہ وہ زبانی، جسمانی اور عسکری طور پر اپنے اوپر جبر کرنے والوں کے خلاف جہاد کریں۔

دستاویز میں مزید یہ لکھا ہے :

فلپائن، برما اور ہر سرزمین پر جہاں مسلمانوں پر جبر ہوتا ہے وہاں ہمارے بھائیوں کو حق حاصل ہے کہ اپنے پر جبر کرنے والوں کے خلاف لڑیں۔

۳. مقامی حکومتوں سے عدم عسکری تصادم کی پالیسی، سوائے اس کے کہ جب انہیں مجبور کیا جائے، یعنی اگر مقامی حکومت امریکی افواج کا حصہ بن جائے جیسا کہ افغانستان میں ہوا یا مقامی حکومت امریکیوں کے لیے نیابتی طور پر لڑے جیسا کہ صومالیہ، جزیرہ نما عرب میں ہوا یا حکومت مجاہدین کی موجودگی کو قبول نہ کرے، جیسا کہ اسلامی مغرب، شام اور عراق میں ہوا۔

پھر دستاویز میں لکھا ہے:

۴.منحرف گروہوں جیسا کہ رافضیوں، اسماعیلیوں، قادیانیوں اور منحرف صوفی گروہوں سے لڑائی نہ کی جائے جب تک وہ اہلِ سنت سے لڑائی نہیں کرتے۔ اگر وہ لڑیں تو جوابی لڑائی صرف اسی واحد گروہ سے ہونی چاہیے۔ اس صورت میں شفافیت کے لیے وضاحت دینا ضروری ہے کہ ہم صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے غیرعسکری افراد، خاندانوں، گھروں، عبادت گاہوں تہواروں، مذہبی جلوسوں کو نشانہ بنانے سے سختی سےگریز کرنا چاہیے۔ تاہم ان کے بہتان اور ان کے عقیدے اور اخلاق کے انحراف کو مسلسل طشت از بام کرتے رہنا چاہیے۔

یہ ایک عوامی دستاویز تھی جسے القاعدہ کی مقامی شاخوں سے مشاورت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ میڈیا کی طرف سے اس پر تبصرے ہوئے۔ عوامی طور پر اس کے اجرا سے ایک سال پہلے اسے ابراہیم البدری (ابو بکر بغدادی)کو بھیجا گیا۔ تاہم اس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جب اسے جاری کر دیا گیا، تب بھی اس نے کوئی تبصرہ نہیں دیا۔ جب اس کے خلاف فیصلے جاری ہوئے اور اسے جماعت سے نکال دیا گیا، تب اس نے اپنی پُر فریب میڈیا مشین کو متحرک کیا (اعتراضات اُٹھانے کے لیے)……اور جسے جھوٹ کی لت پڑ گئی ہو کیا اس کا کوئی علاج ہے؟!

اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمارے بھائی عراق میں شیعہ گروہوں سے لڑ رہے تھے اور اب بھی شام اور یمن میں لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ مسلح گروہ ہیں جو اہلِ سنت پر حملے اور امریکیوں کے ساتھ تعاون اور سمجھوتے کرتے ہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم کسی منحرف فرقے کے ایک شخص کو مرتد حکومتوں کے کہنے پر قتل کریں-ایسی حکومتیں جو امریکہ کی زر خرید ہیں، جو اسرائیل سے معمول (نارمل) کے تعلقات رکھتی ہیں-وطن سے محبت اور شاہ سے وفاداری کے عذر کے تحت……یہ دروغ گوئی اور جھوٹ ہے جس سے ہم خود کو الله کے حضور لاتعلق کرتے ہیں۔القاعدہ کے ابتدائی دنوں سے لے کر اب تک ہمارا منہج روز ِروشن کی طرح عیاں اور تلوار کی دھار کی طرح تیز رہا ہے۔کسی نامعلوم فرد یا میڈیا کے ادارے کی طرف سے یہ الزام لگانا کہ القاعدہ کسی مرتد حکومت کے تحت چلنے والے انٹیلی جنس ادارے کے کہنے پر کام کرتی ہے سراسر جھوٹ اور تہمت ہے۔

اس لیے الجزیرہ کی کہانی کے مطابق محمد صالح علی محمد کی غلطیاں مکمل طور پر القاعدہ کی مستقل پالیسی کے خلاف ہیں جنہیں شیخ اسامہ، میرے اپنے اور جماعت القاعدہ کی جانب سے جاری کی جانے والی دستاویزات، جیسے کہ ’’جہادی عمل کے متعلق عمومی ہدایات‘‘، ’’وثیقۂ نصرتِ اسلام‘‘ اور ایسی ہی دیگر مطبوعات میں بیان کیا گیا ہے۔

محمد صالح علی محمد اور اس جیسوں کے بارے میں ایک آخری بات: الجزیرہ کی خود اس سے متصادم اور مشکوک پیشکش پر سوچنے والا کوئی بھی شخص دو میں سے ایک ممکنہ نتیجے پر پہنچ سکتا ہے۔ پہلا ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی رضامندی سے یہ اعترافات کیے اور وہ اپنے دعوؤں میں سچا ہے۔ اس صورت میں وہ بحرین کی انٹیلی جنس کا کارندہ ہے اور سعودی انٹیلی جنس کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔ ایسا کرنے سے اس نے اپنے لیے بڑا عذاب مول لیا ہے جو اس کی آخرت برباد کر سکتا ہے۔ اگر واقعی یہ بات ہے تو اسے جلد از جلد الله سے توبہ کرنی چاہیےاور تمام جابروں سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے۔ اسے شاہ اور مُلک کی اطاعت شعاری اور وفاداری اور ایسے بے راہ رو کاموں کی وجہ سے الله سے معافی مانگنی چاہیے۔

دین کے حامی،اہلِ تقویٰ اور جہاد میں مشغول افراد کو اس شخص سے دور رہنا چاہیے کیونکہ وہ مکمل طور پر یہ نہیں جان سکتے کہ یہ ان شیاطین کے ساتھ کس قسم کے سمجھوتے کر چکا ہے۔ بشمول محمد صالح علی محمد ہر ایک شخص یہ جان لے کہ القاعدہ ایسی سنگین غلطیوں کی مذمت کرتی ہے اور لوگوں کو ایسی غلطیاں کرنے والوں کے خلاف خبردار بھی کرتی ہے۔ اگرچہ ایسی غلطی کرنے والا القاعدہ کا پرانا رکن کیوں نہ ہو، جماعت اس سے لاتعلقی کا اظہار کرنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچائے گی، اسے خارج کیا جائے گا اور دوسروں کو اس کے بارے میں خبردار کیا جائے گا۔

دوسرا ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ محمد صالح علی کو یہ اعترافات کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اس صورت میں اسے یہ چیزیں بیان کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، اپنا نام ایسے الزامات سے پاک کرنا چاہیے اور اپنی عزت کا دفاع کرنا چاہیے۔ اور جو کوئی الله سے ڈرتا ہے، الله اس کے لیے راستہ بناتا ہے۔

اب تک ہم نے پہلے سراب کی بات کی ہے جو الجزیرہ نے محمد صالح اور القاعدہ کے درمیان رابطہ بتا کر بیچنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرا سراب ابوحفص بلوچی کی ریکارڈنگ کے بارے میں ہے۔

ابو حفص بلوچی نے یہ نہیں کہا کہ وہ القاعدہ کا رکن ہے۔نہ ہی اس نے یہ کہا کہ بحرین کی انٹیلی جنس نے اس پر القاعدہ کا رکن ہونے کا الزام لگایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ وہ جندالله کا رکن ہے۔

تاہم الجزیرہ نے اپنے ثابت شدہ صحافتی وقارکے مطابق چلتے ہوئے کہا کہ وہ جندالله کا رکن تھا اور پھر اضافی طور پر یہ بھی کہا کہ جندالله کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ الجزیرہ نے یہ افسانہ اپنے سامعین کو یہ بتانے کے لیے گھڑا کہ کسی لمبے چوڑے خیالی رابطے کی وجہ سے القاعدہ بحرین کی انٹیلی جنس سے جڑی ہوئی ہے۔ الجزیرہ کی گھڑی کہانی کے مطابق القاعدہ کا جندالله سے تعلق ہے؛ جند الله، الجزیرہ کی بہتان کشی کے مطابق ابو حفص بلوچی سے تعلق رکھتی ہے جس کے بحرینی انٹیلی جنس سے مراسم ہیں۔ یوں القاعدہ کا بحرینی انٹیلی جنس سے تعلق ہے۔ آئیں ہم سب ایسے درخشاں دماغوں کو سلام پیش کریں! امریکہ کی غلیظ تشہیری مہم زندہ باد، جسے العُدید کے فوجی اڈے میں سینٹ کام (CENTCOM) کے مرکزی دفتر سے چلایا جاتا ہے۔

حقائق کی درستی کے لیے مختصراً: جندالله کا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور یہ مکڑی کے جال کو توڑنے کے لیے کافی ہے۔ تاہم اس جھوٹ اور بہتان تراشی کو مزید اُدھیڑنے کے لیے میں درج ذیل نقاط کا اضافہ کرتا ہوں:

-جندالله کے ترجمان نے پریس انٹرویو میں کہا ہے کہ اس کے گروہ کے طالبان اور القاعدہ کے ساتھ کوئی روابط نہیں ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ الزامات ایران کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ یوں الجزیرہ کی طرف سے القاعدہ کو جندالله کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ایران کی وزارتِ داخلہ کی میڈیا پالیسی کے مطابق ہوئی۔

-ابو حفص بلوچی نے اس ریکارڈنگ میں یہ نہیں کہا کہ وہ جندالله کا رکن ہے۔ بلکہ بحرینی انٹیلی جنس افسر، احمد الشروقی نے اس سے جند الله کے بارے میں کہا،’’ہم چاہتے ہیں کہ تم اس گروہ کو دیکھو……یہ کس کا ہے، اس کے خیالات کیا ہیں‘‘۔ پھر وہ کہتا ہے،’’تم جندالله سے ہو‘‘۔

-جب ابو حفص بلوچی نے ایرانی حکومت سے لڑنے کے لیے گروہ بنایا تو اس نے جندالله میں شمولیت نہیں اختیار کی۔ بلکہ اس نے خود اپنی تنظیم بنائی، انصارالله، جس نے بعد میں جماعت الفرقان میں شمولیت اختیار کی۔ اس گروہ نے بعد میں اپنا نام انصار الفرقان رکھا۔

تیسرا دھوکہ یا سراب جسے الجزیرہ نے بیچنے کی کوشش کی ہے اس کا تعلق امریکہ کے سابقہ انٹیلی جنس افسر سے ہے جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسے ابو زبیدہ کے پاس ایک ڈائری ملی جس میں سعودی شاہی خاندان کے تین شہزادوں کے فون نمبر درج تھے۔

سب سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ابو زبیدہ (الله ان کی جلد رہائی کا انتظام فرمائے) کو امریکیوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اس کے خلاف استعمال کیے جانے والے تشدد کے کچھ طریقوں کا اعتراف بھی کیا ہے، بشمول ران کی ہڈی توڑنے کے تا کہ ان سے اعتراف کروایا جائے۔ جبکہ محمد صالح علی محمد، اگر ہم الجزیرہ کی صحافتی دیانتداری اور غیرجانبداری پر یقین کریں تو، اس سے پُر تعیش رویہ روا رکھا گیا۔

عجیب بات یہ ہے کہ یہ کہانی جس کا ذکر سابقہ انٹیلی جنس اہلکار نے کیا ہے ۱۱؍۹کی سرکاری رپورٹ کا حصہ نہیں تھی جسے کانگریس نے جاری کیا تھا، اس حقیقت کے باوجود کہ’’ابوزبیدہ‘‘ نام رپورٹ میں پچاس (۵۰)مرتبہ استعمال کیا گیا ہے اور ’’زین العابدین‘‘دو بار۔ لیکن سابقہ اہلکار کی اس گواہی کا بالکل کوئی ذکر نہیں ہے۔

سو ان معلومات کو انیس سال تک صیغۂ راز میں کیوں رکھا گیا اور اب ان کو خصوصاً الجزیرہ افشا کیوں کر رہا ہے؟ کیا اس لیے کہ الجزیرہ ایسی معلومات ظاہر کرنے میں زیادہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتا ہے؟مزید برآں یہ سابقہ انٹیلی جنس اہلکار نئے نتیجے اخذ کرتا ہے اور تجویز دیتا ہے کہ یہ فون نمبر ۱۱؍۹کے حملوں میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کا سراغ دے سکتے ہیں!

اگر ہم الجزیرہ پر اسی اصول کا اطلاق کریں تو ہمیں یہ حقیقت ضرور سامنے رکھنی پڑے گی کہ یہ اہلکار ایف بی آئی یا سی آئی اے کی خصوصی اجازت کے بغیر بات نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے یہ پیشکش ایف بی آئی یا سی آئی اے کے ساتھ الجزیرہ کے سمجھوتے کے بعد نشر ہوئی۔ اس سابقہ اہلکار کی منطق کے مطابق الجزیرہ ایف بی آئی یا سی آئی اے کے پراپیگنڈے کی شاخ ہو سکتی ہے۔

السحاب:

ہم، السحاب میڈیا کے کارکنان نے سی آئی اے کے اہلکار، جان کیریاکو (John Kiriakou) کے ماضی کے بارے میں کھوج کی۔ ہمیں پتہ چلا کہ یہ شخص کئی دفعات کے تحت جیل جا چکا ہے، جن میں حلف اٹھانے کے بعد جھوٹ بولنا بھی شامل ہے۔ اس کی ۲۰۱۷ء میں شائع ہونے والی کتاب وہ کہانی بتاتی ہے جو اس نےسعودی شہزادوں کے فون نمبروں کے بارے میں لکھی۔ اس میں لکھا ہے:

’’اس کی گرفتاری کے بعد جب سی آئی اے کے تفتیشی اہلکاروں کو محسوس ہوا کہ وہ ابو زبیدہ سے قابلِ عمل معلومات حاصل نہیں کر پا رہے توانہوں نے اسے بولنے پر مجبور کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا۔ وہ اسے افغانستان میں سی آئی اے کے خفیہ ٹھکانے پر لے گئے لیکن اسے بتایا کہ اسے وقتی طور پر سعودی فوج کی حراست میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ سلطنت والے اس سے سوال کر سکیں۔ پر اصل میں سعودی فوجیوں کے روپ میں دو امریکی نژاد عرب فوجیوں نے اس سے سوال پوچھنے تھے جو ہری فوجی ٹوپی (Green Berets) پہنے ہوئے تھے۔ تفتیشی اہلکاروں کا خیال تھا کہ ابو زبیدہ اس طرح کے ماحول میں مفید معلومات فراہم کرے گا۔ لیکن اس منصوبے میں لینے کے دینے پڑ گئے۔

بجائے خوفزدہ ہونے کے ابو زبیدہ مطمئن اور واقعی خوش ہوا۔ اس نے فوجیوں کو بتایا کہ وہ تین سعودی افسران کو جانتا ہے، اور ان کے موبائل نمبر بھی جانتا ہے اور اگر فوجی اسے صرف کال کرنے کی اجازت دے دیں تو وہ اس کی رہائی کے حکم صادر کریں گے۔ فوجیوں نے یہ نمبر لکھ کر سی آئی اے کے حوالے کر دیے۔

حیران کُن طور پر نمبر درست تھے۔ ایک نمبر احمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا تھا، جو سعودی شاہ فہد کا بھتیجا تھا۔ یہ بہت نمایاں شخص تھا اور اپنا کافی وقت امریکہ میں گزارتا تھا اور ’’وار ایمبلم‘‘ نامی گھوڑے کا مالک تھا جس گھوڑے نے ۲۰۰۲ء میں کنٹکی دوڑ جیتی تھی۔

دوسرا نمبر شہرادہ ترکی الفیصل بن عبدالعزیز کا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے ۱۹۹۱ء میں اسامہ بن لادن کے ساتھ سیاف کے معسکرات میں ٹریننگ کے لیے معاہدہ کروایا تھا۔تیسرا نمبر پاکستانی ائیر مارشل مصحف علی میر کا تھا۔ اس کے پاکستانی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے قریبی روابط تھے۔ امریکی انٹیلی جنس کو بہت دیر سے شک تھا کہ آئی ایس آئی کے ارکان القاعدہ کو ہتھیار، رسد اورانٹیلی جنس معلومات مہیا کرتے ہیں۔

……جب ان ناموں اور نمبروں کی سی آئی اے نے تصدیق کر لی تو ایجنسی نے یہ معلومات سعودی انٹیلی جنس والوں کو بتائیں۔

پھر تینوں اشخاص کی موت ہو گئی۔

۲۲جولائی ۲۰۰۲ء کو شہزادہ سلیمان بن عبدالعزیز تینتالیس سال کی عمر میں بظاہر دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا۔ ایک ہفتے بعد شہزادہ تُرکی الفیصل بن عبدالعزیز گاڑی کے حادثے میں مارا گیا۔ پھر ۲۰فروری ۲۰۰۳کو ائیر مارشل مصحف علی میر بڑے صاف موسم میں اڑتے ہوئے جہاز کے حادثے میں مارا گیا۔‘‘

السحاب:

آئیں جو کچھ اس نے کتاب میں کہا اور جو گواہی الجزیرہ کے پروگرام میں دی ان کا موازنہ کریں:

جان کیریاکو:

جب ہم نے ۲۲مارچ ۲۰۰۲ء کو ابو زبیدہ کو گرفتار کیا تو ہم نے اس کے ساتھ اس کی ڈائری بھی پکڑی۔ اور اس ڈائری میں سعودی شاہی خاندان کے ارکان کے فون نمبر تھے۔ سو میں نے سی آئی اے کے مرکزی دفتر لکھ بھیجا کہ میں نے بڑی اہم معلومات پکڑی ہیں……فون نمبر سعودی شاہی خاندان کے تین ارکان کے تھے۔

پھر کچھ ہی ہفتوں میں، ایک گاڑی کے حادثے میں مارا گیا۔ دوسرا صحرا میں خیمے میں رہنے کے لیے گیا اور پیاس سے مر گیا۔ کیا آپ ایسی چیز کا تصور بھی کر سکتے ہیں؟ اور تیسرا غائب ہو گیا اور اسے کبھی کسی نے دیکھا ہی نہیں۔

السحاب:

معزز ناظرین دیکھ سکتے ہیں کہ دونوں کہانیاں ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں۔ جان کیریاکو نے پروگرام کے دوران کہا کہ شیخ ابو زبیدہ کی گرفتاری کے دوران فون نمبر ان کی جیب میں سے ملے، جب کہ کتاب میں بالکل مختلف بات بتائی گئی ہے کہ سی آئی اے والوں کو فون نمبر کیسے ملے۔

وہ اپنی کتاب میں کہتا ہے جن تین سعودیوں کے فون نمبر شیخ ابو زبیدہ کے پاس تھے ان میں سے ایک تُرکی الفیصل تھا۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ اس کے دعوؤں کےبرعکس تُرکی الفیصل ابھی زندہ ہے۔ اسےانٹیلی جنس چیف کا عہدہ چھوڑنے کے بعد امریکہ اور اس کے بعد برطانیہ میں سعودی عرب کا سفیر مقرر کیا گیا۔ آج بھی وہ سعودی سلطنت کے ایک فسادی ستون کا نمایاں کردار نبھا رہا ہے۔ الجزیرہ کو دی اہلکار کی گواہی میں تیسرا سعودی کسی طرح تبدیل ہو کر کتاب میں پاکستانی ائیر مارشل بن گیا!

ان تضادات کے بعد ہمیں حق ہے کہ ہم الجزیرہ کی پیشہ وارانہ لیاقت، شفافیت اور دیانت داری پر سوال اٹھائیں۔ یا تو سی آئی اے کا اہلکار جھوٹا ہے یا پھر الجزیرہ جھوٹ بیچ رہا ہے۔ زیادہ ممکن یہی ہے کہ حمام میں دونوں ہی برہنہ ہوں۔ الجزیرہ رقم ادا کرتا ہے اور اہلکار زیادہ رقم ادا کرنے والے کا خادم بن جاتا ہے، جبکہ دونوں سے ایک کام کا تقاضہ کیا جاتا ہے کہ مجاہدین کی کردار کشی کرو۔ اور جو کچھ نظر سے چھپایا گیا ہے وہ تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

اس نقطے پر اپنا تبصرہ ختم کرنے سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر الجزیرہ سابقہ امریکی اہلکار کی گواہی پر تکیہ کرنا چاہتا ہے تو میں اس چینل کو اس صحافی کی گواہی یاد دِلاتا ہوں جو ان کا ملازم تھا؛ اس کا نام ہے جمال اسماعیل۔ اس نے اس انٹرویو کے لیے الجزیرہ کی جانب سے آلات و اسباب لانے کے بارے میں لکھا ہے جسے الجزیرہ میرے ساتھ انٹرویو کرنے کے لیے لایا تھا۔

السحاب:

جمال اسماعیل نے اپنی کتاب ’’بن لادن، الجزیرہ اور مَیں‘‘ میں ان آلات و اسباب کا ذکر کیا ہے جو الجزیرہ کا عملہ براہِ راست نشر کے لیے اپنے ساتھ لایا تھا۔

’’براہِ راست نشر کے لیے آلات و اسباب!

الجزیرہ کی ٹیم کے ساتھ میری گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ وہ افغانستان سے سیٹلائٹ لنک کے ذریعے انٹرویو براہِ راست نشر کرنے کے لیے آلات و اسباب ساتھ لے کر آئے تھے۔اس وجہ سے ممکنات پر سوال اُٹھایا کہ آیا دوسری پارٹی یہ تجویز قبول بھی کرے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے آلات ساتھ لانے کے مقصد پر بھی سوال اُٹھا جن کا سُراغ لگایا جا سکتا ہو اور جو ڈاکٹر ایمن الظواہری کی جائے موجودگی کا عین تعین کر دے اور شاید اسامہ بن لادن کا بھی، اگر وہ میٹنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں۔

…………………….

چیچنیا کے سابق صدر جوہر دودایّو کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب ان کی مخصوص جگہ کا امریکی سیٹلائٹ نے سراغ لگا کر معلومات روسی اہلکاروں کو دیں، جنہوں نے میزائل داغ کرانہیں ہلاک کیا۔یہ واقعہ ابھی ذہنوں میں تازہ تھا اور یادداشت سے معدوم نہیں ہوا تھا۔ میں نے اپنے شبہات کا اظہار کیا کہ اگر یہ باتیں دوسری پارٹی کے علم میں آ گئیں تو وہ سکیورٹی وجوہات پر انٹرویو منسوخ بھی کر سکتی ہے۔وہ ایسا اس یقین کی وجہ سے کریں گے کہ یہ معلومات امریکیوں تک پہنچ جائے گی جو افغان سرزمین سے ہر قسم کی ابلاغ پر نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ شیخ اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کےعین مقام کی نشاندہی کر لیں اور بالآخرانہیں قتل کریں۔

……………

آلات کے بارے میں سوالات:

میں نے ان کو یہ بھی کہا: آپ افغانستان سے براہِ راست انٹرویو کرنے کے لیے آلات و اسباب لے کر آئے ہیں۔ سکیورٹی کے اعتبار سے یہ دوسری پارٹی کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ ان کی موجودگی کی جگہ کو سیٹلائٹ لنک کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ وہ آپ کو ایسے آلات افغانستان میں استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ آپ کا اپنے آلات ساتھ لے کر آنا دوسری پارٹی کے لیے از خود الجزیرہ کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔‘‘

سبحان الله! مہاجر، مجاہد اور مقید ہیرو، سعود خاندان کا ایجنٹ ہے، ان کے خیالات کتنے بد ہیں!نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

” اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں بھی یہ ہے کہ جب شرم ہی نہ رہے تو پھر جو جی چاہے وہ کرو۔ ‘‘

اور نبی صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں:

” لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھوکے کے سال ہوں گے، ان میں جھوٹے کو سچا ا ورسچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور ’رویبضہ ‘کلام کریں گے۔ ‘‘ کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا ’’بیوقوف آدمی جو عوام کے معامات میں بولے۔“

اگر الجزیرہ میں رتی بھر غیر جانب داری بھی ہوتی تو وہ شیخ ابو زبیدہ(الله جلد ان کو رہائی عطا فرمائے) کے وکیل یا خاندان سے رابطہ کرتے اور کہتے: ہمارے پاس ابو زبیدہ کے خلاف کچھ الزامات ہیں……کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ان الزامات پر ان کا جواب لے لیں؟ اگر جواب ممکن نہیں تھا تو کم از کم اس صحافتی دیانت داری -جس کا الجزیرہ دعوے دار ہے- کا تقاضہ تھا کہ وہ یہ کہتے: یہ دعوے سابقہ انٹیلی جنس اہلکار کے ہیں؛ اور ہم ان معاملات پر ابو زبیدہ کا جواب نہیں لے سکے۔

دیانت داری کا یہ درجہ الجزیرہ کی دسترس سے باہر ہے۔ بلکہ وہ اس سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ وہ مجاہدین کے خلاف امریکہ کی غلیظ پراپیگنڈا جنگ میں حصہ دار ہیں۔وہ بڑے ولولے سے مجاہدین کو دور رکھتے ہیں اورانہیں سچائی ظاہر کرنے سے روکتے ہیں۔ معاملے کی حقیقت تو اور بھی سنگین ہے، جیسا کہ میں بعد میں بات کروں گا۔

محترم، آزاد اور معاملہ شناس ناظرین! میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ مثال دیکھیں کہ امریکہ اپنی غلیظ میڈیا کی جنگ کا انتظام کس طرح چلاتا ہے۔

زیرِ بحث معاملے میں الجزیرہ نے دو شخصیات پر روشنی ڈالی ہے۔ پہلی شخصیت ابو زبیدہ ہیں، ایک مہاجر فلسطینی مجاہد جو اُمت کی جدوجہد کو فلسطین سے چیچنیا تک، افغانستان، کشمیر، فلپائن اور پوری دنیا میں ایک ہی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ کہ وہ اپنی اُمت کا دفاع کریں اور اپنی اُمت، دین، تقدس، تعظیم، زمینوں اور وسائل پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا دفاع کریں۔اس مجاہد کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے نامعلوم مقامات پر محبوس رکھا گیا اور اس کی آواز دبائی گئی۔

دوسرا شخص امریکی انٹیلی جنس کا سابقہ اہلکار ہے جو اس دنیا میں مجرمیت اور غلبہ جمانے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ خود ہی پولیس اہلکار ہے، خود ہی تشدد کرنے والا، تفتیش کار، گواہ، منصف، جیل کا داروغہ اور بدترین بات کہ یہ ہی وہ خطیب ہے جو ہمیں خطبے دیتا ہے کہ کیسے کچھ ریاستیں ان کرائے کے دہشت گردوں کا فائدہ اُٹھاتی ہیں اور بعد میں انہیں عاق کر دیتی ہیں۔

امریکیوں نے سرخ ہندیوں (Red Indians) کے ساتھ رویے میں بھی بالکل یہی انداز اور ذہنیت اپنائی۔ انہوں نے ان کی جائیدادیں، دولت اور زمینیں ہتھیائیں۔انہیں مارا، ان کی نسل کشی کی۔ان کے درمیان نفرت و جھگڑے کے بیج بوئے، ان کی صفوں میں شراب اور بے راہ روی پھیلائی۔ آخر میں وہ ان کے پاس مسیحا کے روپ میں آئےاور ان کی صفوں میں تبلیغ کر کے ان پر احسان کیا اور جنتِ ارضی کی ضمانت دی۔ ان کے عیسائیت قبول کرنے کے باوجود وہ ان کے ساتھ خون خوار جنگلیوں جیسا سلوک کیا جنہیں دور دراز بیرونی علاقوں کے علاوہ کہیں اور رہنے کا حق نہیں۔

یہ وہ پیغام ہے جو میڈیا اپنے ناظرین کے ذہنوں میں ڈالنا چاہتا ہے۔ مجرم امریکہ، تیل چور، ہماری زمینوں پر قبضہ کرنے والا، اسرائیل کو وجود میں لانے والا، یروشلم میں یہودیت پھیلانے کا محرک، جو ہماری زمینوں میں فوجیں پھیلاتا ہے اور اس کے بحری بیڑے ہمارے سمندروں میں ہیں…… جو غدار چاپلوسوں کو ہم پر حکمران مقرر کرتا ہے…… جو ان کے تمام جرائم، بُرائی، چوری، دھوکہ دہی، تشدد، دین سے دشمنی اور عزت،عفت اور دولت کی پائمالی پر خوش ہوتا ہے۔ یہی مجرم، گواہ، جلاد ، منصف، واعظ، زر خرید دہشت گردوں کے خلاف قانونی افواج کا محافظ ہے۔یوں غلیظ امریکی جنگی پراپیگنڈا جسے الجزیرہ فروغ دے رہا ہے مجاہد کو مجرم اور قاتل کو واعظ کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیکن میں امریکیوں اور ان کے ہرکاروں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ الله کے فضل سے ہم سرخ ہندی نہیں ہیں۔ ہم امتِ مسلمہ ہیں جس نے انسانیت کو توحید کا پیغام دیا۔ ہم وہ امت ہیں جس نے کلیسا کی جانب سے مقدس کتابوں کی دروغ بافتی پر سے پردہ ہٹایا۔ ہم وہ امت ہیں جس نے خالق اور مخلوق کے درمیان کلیسا کے شفاعتی دعوؤں کو ناجائز قرار دیا اور کلیسا میں وسیع پیمانے کی بد اعمالی اور فساد کو طشت از بام کیا۔ ہم نے قیصر اور پاپائیت کو شکست دی۔ ہم نے پاکبازی کی حوصلہ افزائی کی اور بدی کو ممنوع قرار دیا۔ ہم نے لوگوں کو شرم و حیا اور پاکیزگی کی طرف بلایا اور بے حیائی اور بد اخلاقی کا خاتمہ کیا۔

یہ وہ اُمت ہے جو تم سے لڑی اور لڑتی رہے گی، ان شاءالله۔ اس اُمت کےخلاف تمہارا پراپیگنڈا ناکام ہو گا اور ایک ایک کر کے تمہارے تمام جھوٹ منظرِ عام پر آئیں گے۔

یہ وہی صلاح ہے جو سی آئی اے میں بن لادن یونٹ کے سربراہ مائیکل شوئر نے دی تھی۔اس نے القاعدہ کو ایسے خطرے کے طور پر دیکھا جسے فوجی قوت سے ختم کرنا ضروری تھا نہ کہ قانون کے وسائل استعمال کرتے ہوئے۔ تاہم اس نے اپنی قوم کو نصیحت کی کہ اگر وہ القاعدہ کو شکست دینا چاہتے ہیں توانہیں خود فریبی ختم کر کے اس کی حقیقت کو سراہنا ہو گا، بجائے اس کے کہ وہ سیاستدانوں اور میڈیا کے جھوٹ کے پیچھے ہانپتے رہیں۔اس نے زور دیا کہ اسامہ اور القاعدہ کے ارکان مجرموں کا گروہ نہیں تھے۔ بلکہ اسامہ ایک عظیم شخص تھے جو عالمی اسلامی مزاحمت کی سربراہی کر رہے تھے اور بڑی تعظیم کے مستحق تھے۔ امریکی قوم، تم اب بھی اگر اپنے رہنماؤں کے جھوٹ اور فریب کی پیروی کرنا جاری رکھتے ہو تو شکست تمہارا مقدر ہے۔

اپنی بات ختم کرنے سے پہلے، میں محترم، آزاد اور معاملہ شناس ناظرین کو دو مشاہدات بتانا چاہتا ہوں:

ایک: جماعت القاعدہ پر غیر منصفانہ طور پرانٹیلی جنس اداروں اور ریاستوں کے زیرِ سرپرستی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ وہ ہم پر امریکہ، اسرائیل، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، روس ، شام اور دیگر ممالک کا کارندہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔وہ ہم پر تکفیری، مرجئہ، انتہا پسند اور روایت پسند ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پیسے اور اختیار کے بھوکے ہیں؛ کہ ہم غیر حقیقت پسند، دغاباز اور غیر مخلص ہیں؛ اور وہ جو وزیرستان میں اپنی بیویوں اور بچوں سمیت مارے گئے ہیروئن کے سوداگر تھے جن پر امریکہ نے بم برسائے، اور ایسے ہی دیگر الزامات۔ہم ان الزامات کے سامنے اپنے صبر کے لیے الله سے اجر مانگتے ہیں۔ لیکن میں اپنے معزز اور آزاد ناظرین کو اس تحریف کے خلاف خبردار کرنا چاہتا ہوں۔اگر وہ ہمارے بارے میں فیصلہ کرنا چاہتا ہے توانہیں القاعدہ کا پیغام دیکھنا چاہیے جو ہماری قیمتی ترین متاع ہے۔ اُمت کا اس پیغام کو پذیرائی دینا اور قبول کرنا ہماری حقیقی فتح ہے۔

اگر ناظر کو یہ پیغام اچھا اور سچا لگے تو اسے اس سے متفق ہو کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر اسے ایسا نہ لگے تو وہ اس سے دور رہے اور ہماری اصلاح کے لیے ہمیں نصیحت کرے۔

دوسرا مشاہدہ: ہمارے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ بہت سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مخفی سچ جانتے ہیں۔ جو بھی کہا گیا ہے اس میں یا تو بالکل سچائی نہیں ہے یا یہ سچائی اور افسانے کا عیارانہ مرکب ہے۔اس لیےمیں معزز ناظرین سے درخواست کرتا ہوں کہ کسی بھی چیز کو ہم سے منسوب نہ کیا جائے سوائے اس کے کہ جس کا ہم خود اعلان اور دعویٰ کرتے ہیں۔اگر کوئی آ کر کہے کہ وہ القاعدہ میں تھا یا کسی مخصوص انٹیلی جنس ادارے نے اسے بتایا کہ وہ القاعدہ میں تھا……یا کوئی بہتان باز دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں شخص فلاں گروہ میں تھا جس کا القاعدہ سے تعلق تھا، تو ایسی غیر معقول بات ہمیں کسی بھی طور پر پابند نہیں کرتی۔

یا الله میں پیغام پہنچا چکا۔ تُو میرا گواہ رہنا!

یہ الجزیرہ کے سراب کے بارے میں مختصر بیان تھا جو اس نے اپنے ناظرین کو بیچنے کی کوشش کی۔جہاں تک ان سچائیوں کا تعلق ہے جو یہ چھپانا چاہتا ہے اور مجاہدین کے خلاف بہتان بازی کی مہم کے پیچھے اصل مقصد کا خلاصہ دو مختصر جملوں میں کیا جا سکتا ہے: ”مجاہدین غدار ہیں سو ان کو رد کیا جائے۔ اسرائیل حقیقت ہے سو اس کے ساتھ جیا جائے‘‘۔ میں اس پر آنے والی قسط میں بات کروں گا، ان شاءالله۔

و آخر دعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین و صلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم!

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

السحاب:

الجزیرہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی صحافت پیشہ وارانہ اور دیانت داری کی بنیاد پر ہے، اور اس کا پلیٹ فارم متفرق خیالات کو نشر کرنے کے لیے ہے۔ ان بلند و بانگ دعوؤں کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ الجزیرہ اس سکینڈل سے کیسے نمٹتا ہے جس پر ہم نے اس فلم میں روشنی ڈالی ہے اور دیکھتے ہیں کہ کیا وہ واقعی اپنی میڈیا پالیسی تشکیل دینے میں آزاد ہے؟!

٭٭٭٭٭

Exit mobile version