مع الأستاذ فاروق | انیسویں نشست

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمام تعریفیں، بلا شبہ اللہ ہی کے لیے ہیں۔وہ اللہ جو ہمارا ربّ ہے……ہمارا ہے……ہمارا اللہ ہے!اسی نے ہمیں پیدا کیا اور وہی ہمیں موت دیتا ہے اور بلا شبہ اس نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ دیکھےکہ ہم میں سے کون ہے جو بہترین عمل کرتا ہے۔

مع الأستاذ فاروق، استاذ احمد فاروق کے ساتھ چند ملاقاتیں، ان کی چند یادیں، ان کی قیمتی باتیں، ان کی بعض ایسی باتیں جو مجھے خاص طور پر اچھی لگیں۔میں استاذ کا محبوب ترین ان کی حیات میں تو شاید نہ تھا لیکن اللہ سے امید ہے کہ ان کی شہادت کے بعد ان شاء اللہ ان کے محبوب ترین لوگوں میں ضرور شامل ہو گیا ہوں گا۔ہاں ان کی حیات میں ان کے محبوب تر لوگوں میں بہر حال شامل رہا۔استاذ کی محبت کا حوالہ اس لیے اہم ہے کہ وہ ان شاء اللہ، ہمارے اللہ کے محبوب لوگوں میں سے ایک تھے۔وہ میرے محبوب تھے اور میں ان کا، اور یہ محبت کی سنہری زنجیر ہے جو اللہ کے دربار میں ہمارے ذکر کا ان شاء اللہ ایک سبب ہے کہ ان شاء اللہ استاذ ہمیں بھولے نہیں ہیں۔حضرتِ استاذ سے آج تک جتنی ملاقاتیں رہیں، سب کا احوال اور سب کی سب تو یاد نہیں، لیکن جتنی ذہن میں تازہ ہیں سب ہی لکھنے کا ارادہ ہے کہ یہ ان شاء اللہ توشۂ آخرت ہوں گی، مجھ سمیت حضرتِ استاذ کے محبّین کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہوں گی۔اللہ تعالیٰ صحیح بات، صحیح نیت اور صحیح طریقے سے کہنے والوں میں شامل فرما لے۔نوٹ: ان سلسلہ ہائے مضامین میں جہاں بھی ’استاذ‘ کا لفظ آئے گا تو اس سے مراد شہید عالمِ ربّانی استاد احمد فاروق رحمہ اللہ ہوں گے۔


عیدِ قربان اور شہادتِ ’اسماعیل‘

ألحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء.

أللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیک یسیر، آمین!

لواڑہ میں بڑی خندق والے احاطے کے دو حصے تھے۔ ایک طرف رہائشی خانے تھے اور دوسری طرف مجاہدین کا مرکز اور اس سے متصل خندق۔ خندق کی تفصیل، اس کی ’ترتیب (setting)‘ کے ذکر میں بعداً آ جائے گی، ان شاء اللہ۔ اس بڑی خندق والے احاطے کو آئندہ ’کہفِ اکبر‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

سو کہفِ اکبر میں استاذ مع اہلِ خانہ تھے اور تیسرا فردِ وحید میں بچا تھا۔ جبکہ قریباً پانچ منٹ کے فاصلے پر ہماری پرانی جگہ تھی ، وہاں بھائی داؤد غوری اور طارق بھائی اپنے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہ رہے تھے۔

استاذ تین وجوہات کی بنا پر خندق میں رات گزارا کرتے تھے اور دن کا بیشتر حصہ بھی۔ اول تو حضراتِ امرا (مشائخ) کے امر کے سبب، دوسرا حفاظتی نقطے سے، اور تیسرا میری وجہ سے کہ میں اکیلا ہوتا تھا۔ بڑی عید کی رات (یعنی ۹ اور ۱۰ ذوالحجہ کی درمیانی شب)، استاذ نے مجھے پرانی جگہ پر بھیج دیا۔ عید کی صبح میں نے وہیں گزاری اور وہاں موجود دونوں ساتھیوں نے قربانی کا ایک بکرا ذبح کیا ۔ کوئی نو دس بجے کے قریب میں استاذ سے ملنے گیا اور مل کر پھر واپس پرانی جگہ پر آ گیا۔

دن یہیں گزارا اور رات بھی، یہ عید مجموعی طور پر اداس اداس تھی، کم از کم میرے لیے۔ رات میں یا اگلے دن صبح صبح کی بات ہے کہ استاذ نے قربانی کے لیے جو دنبہ لے رکھا تھا، اس نے کسی جگہ پڑے ٹماٹر کھا لیے، جنہیں چوہے مار زہر لگا کر رکھا ہوا تھا۔ یہ دنبہ پرانی جگہ پر ہی تھا، لہٰذا عید کے دوسرے دن معلوم ہوتے ہی داؤد بھائی کے ساتھ میں کہفِ اکبر کی طرف چلا گیا، وہاں استاذ کو بتایا اور اس دنبے کو فوراً ذبح کرنے کا فیصلہ ہوا۔

قربانی کے بعد بیشتر گوشت تقسیم کر دیا اور تھوڑا سا استاذ نے خود رکھ لیا، کچھ میری صوابدید پر چھوڑ دیا جو میں نے بھی کسی اور کو دے دیا۔ باقی ساتھی چلے گئے۔ اس روز استاذ کی اہلیہ کی طبیعت خراب تھی، لہٰذا کھانا استاذ اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے پکانا بھی میرے حصے میں آیا۔ دن یونہی گزر گیا۔ شام کو استاذ خندق میں آئے تو بتایا کہ ریڈیو پر خبر آئی ہے کہ کل (یعنی عید کے پہلے دن) وانا میں مجاہدین نے جاسوسوں کے ایک بڑے سرغنہ کو قتل کیا ہے اور وہاں دو بچے بھی، جو راہگیر تھے، مارے گئے ہیں۔ پھر اس جاسوس کے متعلق بتایا کہ وانا میں یہ مجاہدین کے خلاف ایک نہایت منظم اور بڑا نیٹ ورک چلاتا تھا اور ہر ڈرون حملے کے پیچھے اس کا کوئی نہ کوئی کردار ہوتا تھا۔ مجھے بعد میں ایک اور ساتھی نے بتایا کہ یہ شخص مجاہدین سے اس دشمنی کو اور ڈرون حملوں کے لیے جاسوسی کے فعل کو چھپاتا بھی نہیں تھا، بلکہ اس قدر منہ زور تھا کہ اپنے گھر پر اس نے ڈرون طیارے کا ایک ’ماڈل‘ بنوا کر لگا رکھا تھا۔

خیر پھر استاذ سے بات ہونے لگی کہ مجاہدین سے کارروائیوں میں غلطی بھی ہو جاتی ہے، لیکن دشمن اور اس کے آلۂ کار میڈیا کا مستقل شیوہ ہے کہ ضرور ہر کارروائی میں کسی عام شہری، کسی نہتے، کسی بچے، کسی راہگیر کے مارے جانے کی خبر دیتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر مجاہدین کی کارروائی کا مرکز کوئی ایسی جگہ ہو جہاں عام شہریوں کا مارا یا زخمی ہو جانا محال ہو تو وہاں بھی میڈیا کا اس قسم کا پرپیگنڈا بند نہیں ہوتا بلکہ وہاں بھی کچھ ایسا گھڑ یا ڈھونڈ لیتے ہیں جس سے مجاہدین کو مطعون کیا جا سکے یا دشمن کو مظلوم دکھایا جا سکے۔ اس کی ایک مثال مجاہد بطل ابو دجانہ خراسانی کی استشہادی کارروائی ہے جس میں آپ نے افغانستان کے صوبۂ خوست میں امریکی انٹیلی جنس اور ڈرون طیاروں کو سروس پہنچانے والے سی آئی اے کے مرکز (Camp Chapman) پر فدائی حملہ کیا۔ اس حملے میں جہاں ’مرد‘ صلیبی امریکی فوجی مارے گئے تو انہیں میں سے ایک جینیفر ماتھیوس (Jennifer Lynne Matthews) ’عورت‘ صلیبی انٹیلی جنس افسر بھی تھی۔ پھر یہ محض عام افسر نہ تھی بلکہ اس سی آئی اے کی بیس کی سربراہ (چیف) تھی اور القاعدہ کے معاملات کو نائن الیون کے حملوں سے بھی قبل سے مانیٹر کر رہی تھی۔اس کی خبر جب ذرائع ابلاغ پر چلائی گئی جو راقم نے خود غالباً ’سی این این‘ پر سنی، تو اس خبر میں اس کا نام لیا گیا اور ساتھ ہی کہا گیا ’A mother of three……‘ یعنی ’تین بچوں کی ماں……‘، اور یہ بات بھلا ہی دی گئی کہ اس کی زیرِ نگرانی ہونے والے ڈرون حملوں میں ہزاروں باپ اور پچاسیوں مائیں ’قتل‘ کی گئیں، یہ باپ اور مائیں بھی صاحبِ اولاد تھے اور ہزاروں سے لے کر لاکھوں تک اس قسم کے حملوں میں بچےیتیم ہو چکے ہیں۔

میڈیا آج کی جنگ میں محض ’وار ٹُول‘ یا جنگی آلہ نہیں بلکہ یہ جنگ میں پورا پورا حصہ دار ہے۔ ابھی پاکستان میں چند سال قبل جب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ تھا تو اس نے آئی ایس پی آر کو تقریباً ایک ’کور(Corps)‘ کے درجے پر پہنچانے کا ارادہ و فیصلہ کر رکھا تھا اور اس کے دور میں بے تحاشا ’فوجی ابلاغی‘ کام کیا گیا ہے جس میں فیچر فلموں (movies) سے لے کر ڈرامے، گانے اور اخباری کالموں سے لے کر ویب سائٹوں کی تخلیق اور یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے بھرتیوں کا کام شامل ہے1، فوجیوں کے موقف کو بیان کرتی صحافتی کوریج کو عالَمِ مغرب میں باقاعدہ ’embedded journalism‘ کہتے ہیں اور ’ایمبڈڈ جرنل ازم‘ کا کام جنگِ عظیم اول سے جاری ہے(گو کہ یہ اصطلاح قریباً دو دہائی پرانی ہے)۔ یہ تو رسمی فوجی ادارے کی بات ہے، دراصل باقی میڈیا بھی نظریاتی طور پر فوج کا حصہ ہی ہے۔ مثال پاکستان کی آ گئی ورنہ پوری دنیا میں ایسا ہی ہے ۔

خیر کچھ دیر یہ بات ہوئی، اس کے بعد استاذ لیٹ گئے۔ کچھ عرصہ قبل ہی استاذ کی کمر میں تکلیف رہنا شروع ہوئی تھی، گردن میں پہلے بھی کبھی کبھار ہوتی تھی، لیکن اب یہ بھی مستقل ہو گئی تھی۔ میں نے کچھ دیر ان کی کمر دبائی اور پھر نجانے کب اٹھا اور سو گیا۔

اگلا دن، دوپہر تک متفرق کام کرتے گزرا۔ دوپہر کو حضرت الاستاذ کے نائب، حضرت کے حقیقی بھائی اور ایک تیسرے ساتھی آ گئے۔

گوشت وغیرہ تو میں نے رکھا نہیں تھا، نجانے کہاں سے کچھ لایا اور پلاؤ پکایا اور سب کو کھلایا۔ عصر کے وقت تک سب روانہ ہو گئے۔ اتنی دیر استاذ کو دیکھنے وغیرہ کا خاص موقع نہیں ملا۔ جب مہمان چلے گئے اور میں نے مکان کا دروازہ بند کیا اور مڑ کر دیکھا تو استاذ کا چہرہ کچھ متغیر محسوس ہوا۔ خیر نہ وہ بولے نہ میں نے پوچھا۔ میں حسبِ عادت چند قدم استاذ کے رہائشی احاطے کی حد سے پہلے تک ان کے ساتھ چلا، استاذ خاموشی سے لکڑی کی سیڑھی چڑھنے لگے کہ ان کا کمرہ ایک منزل کی اونچائی پر تھا۔ میں انہیں دیکھ رہا تھا، وہ نہایت بوجھل قدم اٹھا رہے تھے۔ سیڑھی کے عین درمیان پہنچے تو مجھے بلایا، کچھ کہنا چاہا لیکن سر کو ہلکا سا جھٹکا دے کر خاموش ہو گئے اور چلے گئے۔

غالباً مغرب کی نماز گھر میں ہی پڑھی، پھر خندق میں آ گئے۔

آتے ہی لیٹ گئے۔ میں نے طبیعت وغیرہ کا حال دریافت کیا تو کچھ خاص جواب نہیں دیا۔ میں نے پوچھا ’کمر کیسی ہے؟‘۔ تو جواب دیا ’ٹوٹ گئی‘۔

یہ سن کر میں قریب ہو گیا ، چونکہ کمر کے بل لیٹے ہوئے تھے تو میں نے سرِ دست سر دبانا ہی مناسب خیال کیا۔ میں سر دبا رہا تھا تو کہنے لگے ’وہ وانا میں جاسوس مارنے کی جو خبر تھی ناں، وہ جاسوس ہمارے ساتھیوں نے مارا ہے اور کسی اور کے دو بچے تو پتہ نہیں لیکن ہمارے دو بچے شہید ہو گئے!‘۔

میں نے فوراً پوچھا ’کون؟‘۔ جواب ملا ’احمد اور مصعب‘۔ احمد ایک عمومی نام ہے، سو فوراً توجہ نہیں ہوئی، البتہ مصعب پر میں فوراً چونکا۔

انگریزی میں کہتے ہیں ’phase of denial‘ یا انکار کا مرحلہ، انسان جانتا ہے کہ کسی خاص بات کا کیا مطلب ہے لیکن چونکہ اسے قبول نہیں کرنا چاہتا لہٰذا انکار کرتا ہے۔ میں نے بھی یہی کیا اور پوچھا ’کون مصعب؟‘۔ جواب ملا ’اپنا مصعب!‘۔ میں نے پھر پوچھا ’کون! معوّذ بھائی؟‘ ، جواباً استاذ نے، جو مستقل خندق کے چھوٹے سے کمرے کی مٹی کی چھت کو گھور رہے تھے، اثبات میں سر ہلایا ۔

یہ سن کر میں بھی بے اختیار ہو گیا اور آنسو ٹپ ٹپ میری آنکھوں سے گرنے لگے۔ لیکن سوچیے کہ ایک ماں ہو اور وہ اپنے بچے کے نقصان پر خاموش ہو جبکہ کوئی دوسرا رو رہا ہو، مصعب بھائی کی شہادت کی خبر کے بیان کا منظر بھی ایسا ہی تھا۔

مجھے روتا دیکھ کر استاذ نے کہا: ’کیوں تنگ کرتے ہو؟ چپ ہو جاؤ‘، استاذ آپ سے تم کے صیغے میں نہایت کم ہی بات کیا کرتے تھے۔ جتنا ضبط مجھ سے ہو سکا، میں نے کیا۔ پھر جذبات میں کہا کہ ’جب اللہ کے نیک بندوں کا خون بہہ جاتا ہے تو باطل زیادہ دیر قائم نہیں رہتا‘۔ یہ بات لیکن کوئی اصولی بات نہیں۔ باطل کے استقرار یا زوال کا مدار محض نیک بندوں کا خون بہہ جانے پر منحصر نہیں ہوتا۔ باطل کی ناکامی یا اسلامی تحریک کی کامیابی کے بہت سے پہلو ہیں جن میں ایک مطلوب نیک بندوں کا قربانیاں دینا بھی ہے، نہ کہ کُل یہی مطلوب ہے۔ ہاں ہے یہ پہلو جزو لاینفک ہے!

کچھ دیر میں استاذ کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں اور آنسو کافی دیر رواں رہے۔ استاذ نے کچھ دیر بعد کہا کہ ’مصعب ایک بہترین غم خوار تھا، مشکل میں سہارا بننے والا اور غموں کو بانٹنے والا‘۔ اسی لمحے میں نے ارادہ کیا کہ میں بھی لوگوں کا غم خوار بنوں گا، لیکن ’ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘۔

استاذ کچھ دیر اور لیٹے رہے۔ میں ان کو تکتا رہا اور وہ چھت کو گھورتے رہے، پھر جب مجھے احساس ہوا کہ اس کیفیت میں، مَیں استاذ کے لیے سامانِ غم خواری نہیں ہوں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ گھر چلے جائیے، وہ بھی یہی چاہتے تھے۔ سو اٹھ بیٹھے۔ پھر کھڑے ہوئے اور ایک آہ بھرتے ہوئے کہا ’انشا جی اٹھو! اب کُوچ کرو، اس شہر میں جی کا لگانا کیا……‘۔ میں نے انہیں غور سے دیکھا، ان کے چہرے پر غموں کو چھپاتی ایک مسکراہٹ تھی، انہوں نے اپنے مخصوص انداز سے ہونٹوں کو بھینچا، سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور چلے گئے۔

اگلے دن علی الصباح آ گئے، میں نماز وغیرہ سے فارغ ہو چکا تھا۔ مجھے کہا کہ داؤد بھائی کو بلا لائیں۔ میں گیا اور بلا لایا۔ کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھے رہے، پھر داؤد بھائی چلے گئے۔ استاذ بھی اپنے کمرے میں چلے گئے۔ پھر دوپہر سے کچھ پہلے آئے، طبیعت بہتر محسوس ہو رہی تھی۔ بات چیت شروع کی تو بشاشت کا اظہار تھا۔

ایسے میں مصعب بھائی کے استاذ کے نام ہاتھ سے لکھے ہوئے دو خط جو حضرت کو کل ہی ملے تھے مجھے دیے کہ پڑھ لو۔ میں نے پڑھے ۔ پھر حضرت نے ان کی شہادت کا واقعہ سنایا۔

عید کے دن صبح تیار ہو کر، اپنے گھر والوں سے ملے اور کہا کہ میں ایک کام سے جا رہا ہوں، واپس آ کر قربانی کے جانور کو ذبح کروں گا۔ پھر ساتھیوں کے انغماسی (دشمن میں گھس جانے والے) یا فدائی مجموعے میں شامل ہو کر مذکورہ جاسوس کو قتل کرنے گئے۔

ساتھی جب جاسوسوں کے اس سرغنہ کو قتل کرنے پہنچے تو سیکڑوں مجاہدین کا قاتل اور امریکی ایجنٹ جو شیر کی طرح وانا میں اپنے جتھے کے ساتھ گھومتا اور چنگھاڑتا تھا، بکری ثابت ہوا۔ اس کی دلیری محافظوں کے دستوں اور اسلحے کی قوت پر تھی۔ مجاہدین نے جب اس دین دشمن پر حملہ کیا تو اس نے اپنی پوری قوت مجتمع کی اور میدان سے بھاگنے پر صرف کر دی۔

یہ جاسوس جان بچانے کے لیے ایک دکان میں جا گھسا۔ مصعب بھائی نے اس کو بھاگتا دیکھا اور اس کے پیچھے ہو لیے۔ قاسم بھائی 2 (جو اس کارروائی کے امیر بھی تھے) نے استاذ کے نام خط میں لکھا تھاکہ’ مصعب بھائی شیروں کی طرح اس جاسوس پر لپکے اور جھپٹے‘۔ جاسوس دکان میں گھسا اور اس کے پیچھے مصعب بھائی نے دکان میں داخل ہوتے ہی اپنی کلاشن کوف اس منافق پر سیدھی کر لی اور اپنی بندوق کے میگزین میں موجود تیس کی تیس گولیاں اس پر چلا دیں۔ اسی اثنا میں اس جاسوس کے ساتھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے گھیر کر مصعب بھائی کو شہید کر دیا۔

یہ قصہ سنانے کے بعد استاذ کی کیفیت ایسی ہی تھی جیسے کوئی باپ اپنے بہادر شہید بیٹے کا ذکر کر کے فخر محسوس کرتا ہے۔

استاذ کہنے لگے کہ مصعب بھائی بہت ہی اچھی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی نیکی اور تقویٰ کے سبب بڑی بڑی شخصیات ان سے ملنا پسند کرتی تھیں جن میں سرِ فہرست شیخ مصطفیٰ ابو یزید ،شیخ عطیۃ اللہ اللیبی اور شیخ احسن عزیز﷭شامل ہیں۔ بلکہ راقم خود بھی اس بات کا گواہ ہے کہ فاروق بھائی کے نام ایک بار شیخ عطیۃ اللہ کا خط آیا تو اس میں انہوں نے نام لے کر مصعب بھائی کے لیے سلام کہا۔ جب استاذ نے میرے سامنے ہی مصعب بھائی کو شیخ عطیہ کا سلام پہنچایا تو مصعب بھائی نے جواباً کہا: ’شیخ بڑے آدمی ہیں، ہم جیسوں کو یاد رکھتے ہیں‘۔ یہی معاملہ شیخ احسن عزیز کا بھی ہے کہ شیخ اپنی زندگی کے آخر تک مصعب بھائی کے لیے سلام بھجوایا کرتے تھے۔ پھر کہنے لگے کہ ظہیر بھائی (راقم کے مرشد جنابِ اسامہ ابراہیم غوریؒ) بھی مصعب پر لٹّو تھے، نجانے ان کا یہ خبر سن کر کیا حال ہوا ہو گا؟

پھر کہا کہ میری گھر والی کہہ رہی تھیں کہ مشائخ بھی شہید ہو رہے ہیں اور’ٹُو بِی مشائخ‘ (to be Mashaikh) یعنی جن کو مستقبل کا شیخ بننا ہے وہ بھی شہید ہو رہے ہیں۔

پھر کہنے لگے کہ میں اس کو خط لکھ کر کہنے والا تھا کہ اب بڑے ہو جاؤ اور میرے بغیر جینا سیکھو اور وہ جلدی سے آگے چلا گیا اور الٹا مجھے کہہ رہا ہے کہ تم میرے بغیر جینا سیکھو۔

مصعب بھائی بہت سی اعلیٰ صفات کے مالک تھے۔ کوشش ہے کہ جس قدر میں جانتا ہوں تو مختصر مختصر ان کی شخصیت اور صفات کا تذکرہ بغیر کسی خاص ربط کے کرتا جاؤں۔

مصعب بھائی کا اصل نام ’جواد عارف‘ تھا، بہاری تھے اور اسلام آباد سے تعلق تھا۔ آپ کی والدہ ایک دین دار اور متقی خاتون تھیں اور بنیادی طور پر انہی کی گود نے ایک ’عارف باللہ‘ تیار کیا۔ والدہ نے ان کا نام جواد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اور عارف اسی نیت سے رکھا کہ اللہ پاک ان کے اکلوتے بیٹے کو اپنی پہچان اور قدر سے نواز دے۔ والدہ ہی کی صحبتِ نیک کا اثر یہ ہوا کہ مصعب بھائی کو نہایت کم عمر میں دعوتِ دین کے حلقے میسر آ گئے۔ پہلے دن ہی آپ کو حضرت الاستاذ جیسا شفیق مربی ملا۔ استاذ رحمۃ اللہ علیہ اس زمانے میں جوانوں اور نوجوانوں کے علاوہ بچوں کے دعوتی حلقے بھی چلایا کرتےتھے اور اسی طرح کے ایک حلقےسے مصعب بھائی بھی وابستہ ہو گئے۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے دعوتی حلقوں میں ایک دعوتی دورہ یا ’کورس‘ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوتا جسے مروجہ اصطلاح میں ’سمر کیمپ‘ کہتے۔ استاذ کے ان دینی سمر کیمپوں اور حلقہ جات نے بہت سے مجاہدین پیدا کیے۔

مصعب بھائی چودہ سال کے تھے جب ان کے والدِ ماجد ’عبد الواحد عبد الرزاق‘ صاحب کا انتقال ہو گیا۔ والد صاحب کے انتقال کے محض چند ہی روز بعد مصعب بھائی نے اپنی والدہ ماجدہ سے جہاد کے لیے جانے کی اجازت طلب کی اور اس اولوالعزم اور اللہ کی رضا پر ہر خوشی قربان کرنے اور غم ہنس کے سہنے والی ماں نے ایامِ عدت میں ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو جہاد کی اجازت دے کر روانہ کر دیا۔

مصعب بھائی کی والدہ کو میدانِ جہاد میں ان کے عارفین ’خالہ جان امِ مصعب‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ خالہ جان مصعب بھائی کو ’میرا اسماعیل‘ کہتی تھیں کہ میں نے اپنا ’اسماعیل‘اللہ کی راہ میں پیش کر دیا اور پھر اللہ کی مشیت بھی دیکھیے کہ خالہ جان کا ’اسماعیل‘ اس روز اللہ کی راہ میں ذبح ہو کر خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوا جس روز قریباً پانچ ہزار برس پہلے حضرتِ سیّدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ’اپنا اسماعیل‘ (علیہ السلام) اللہ کی راہ میں ذبح کیا تھا اور اسماعیل ذبیح اللہ کہلائے تھے۔ حضرتِ خلیلؑ تو ’اپنے اسماعیل‘ کو اپنے تئیں ذبح کر چکے تھے، یہ تو اللہ کی رضا و مشیت تھی اور اولادِ آدمؑ پر اللہ کی رحمت تھی کہ اللہ نے حضرتِ اسماعیلؑ کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیج دیا جو حضرتِ اسماعیل کی جگہ ذبح ہو گیا، ورنہ ہم جیسے ابنائے آدمؑ کہاں ایسی قربانی کی تاب لا سکتے تھے، وَاللّهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ!

اللہ تعالیٰ نے مصعب بھائی کو بھی اور امِ مصعب کو بھی عظیم نسبت عطا فرمائی۔

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں؟

جیسے حضرت الاستاذ میدانِ جہاد سے پہلے مصعب بھائی کے لیے مربی تھے تو میدانِ جہاد میں بھی رہے، بلکہ میدانِ جہاد میں استاذ مصعب بھائی کے لیے ’سب کچھ‘ ہو گئے۔ مصعب بھائی جب میدانِ جہاد میں پہنچے تو شیخ احسن عزیز (جو اس وقت امیر تھے) نے مصعب بھائی کو فاروق بھائی ہی کے حوالے کر دیا۔ عمر کے تناسب کا لحاظ کیا جائے تو یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ مصعب بھائی ’چھوٹے استاذ‘ تھے۔

زیرِ نظر محفلِ استاذ کو گلدستۂ شہدا کے اس نہایت خوشبو دار اور دلکش پھول کے ابتدائی سے احوال کے بعد یہیں روکتے ہیں۔ ان شاء اللہ مع الأستاذ کی اگلی دو نشستیں ’ذکرِ مصعب‘ ہی سے عبارت ہوں گی، اللہ پاک مجھے یہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

وما توفیقي إلّا بالله. وآخر دعوانا أن الحمدللہ ربّ العالمین.

و صلی اللہ علی نبینا و قرۃ أعیننا محمد و علی آلہ و صحبہ و من تبعھم بإحسان إلی یوم الدین.

(جاری ہے، ان شاء اللہ)


1 سنہ ۲۰۱۵ء میں آئی ایس پی آر نے محض ’جامعہ پنجاب لاہور(Punjab University)‘ کے ’Mass Communication Department‘ کےپانچ سو طلبا و طالبات کو کورسز ؍ courses کروائے تا کہ ان کو ڈگری حاصل کر لینے کے بعد عام ابلاغی ؍ میڈیا اداروں میں ’داخل‘ کیا جا ئے (جہاں بعداً ’فوجی‘ موقف پروان چڑھایا جا سکے)۔

2 قاسم بھائی مجموعۂ استاذ میں ایک مرکزی ذمہ دار تھے اور بعداً القاعدہ برِّ صغیر کی مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ آپ کا قدرے تفصیلی احوال ’مع الأستاذ فاروق‘ کی آٹھویں نشست میں بیان ہوا ہے جو ’نوائے افغان جہاد‘ کے فروری ۲۰۱۹ء کے شمارے میں شائع ہوئی۔

Exit mobile version