خیالات کا ماہنامچہ | اکتوبر ۲۰۲۰

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:اکتوبر ۲۰۲۰ء

اللہ کا نہایت فضل و احسان ہے کہ جس نے ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کا سالک بنایا۔ اللہ پاک اس راہ پر ہمیں چلائے رکھے، حتیٰ یاتینا الیقین، آمین یا ربّ العالمین!

ثم تکون علیہم حسرۃ!


افغانستان میں مقیم میرے دوست گل محمدنے چند دن پہلے ایک بڑی دلچسپ بات کی طرف توجہ دلائی۔ اس پر مجھے یہ ’خیال‘ لکھنے کا خیال آ گیا۔

امریکہ افغانستان میں جب اترا تو سیکڑوں ہموی گاڑیاں (بکتر بند) ساتھ لایا، بلکہ ہزاروں لایا۔ امریکی پہلے یہ ہمویاں خود استعمال کرتے تھے۔ پھر کچھ پرانی ہو گئیں تو ’ری فربش‘ کروانے کے بعد افغان ملی فوج اور افغان پولیس کو دے دی گئیں۔

طالبانِ عالی شان نے جب ان کرائے کے فوجیوں سے جنگیں لڑیں اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے تو ہمیشہ ان کا نتیجہ دشمن کے مغلوب ہونے کی صورت نکلا۔ دشمن جنگ میں یا مارا جاتا ہے یا مفرور ہوتا ہے یا گرفتار، اور یہ تینوں صورتیں شکست کی ہیں۔ اس طرح دشمن کے تمام بقایا جات بطورِ مالِ غنیمت مجاہدین کو ملتے ہیں۔ یہاں بقایا جات اور مالِ غنیمت سے گل محمد کا سنایا ایک اور لطیفہ درمیان میں یاد آ گیا، پہلے وہ پڑھ لیں۔

کہنے لگا کہ افغانستان کی کسی ولایت (صوبہ)کی ایک ولسوالی (ضلع) کے مرکز اور فوجی کمانڈ سینٹر (قومندانی) میں موجود کچھ فوجیوں سے ایک دن ایک مجاہد مخابرے (وائرلیس واکی ٹاکی) پر بات کر رہا تھا تو اسے کہنے لگا ’دیکھو یہ جو ’’ہماری‘‘وردی تم نے پہن رکھی ہے ناں، اس کو اچھے طریقے سے رکھنا، اسی طرح ’’ہمارا‘‘اسلحہ و دیگر سامان بھی خوب حفاظت سے رکھنا، ہم ان شاء اللہ کچھ دنوں میں لینے آئیں گے!‘۔ اس لطیفے کی تشریح یہ ہے کہ تمہارے پاس جو سامان ہے وہ دراصل غنیمت کی صورت میں ہمیں ملنا ہے، تو کہیں ایسا نہ ہو تم یہ خراب کر لو اور ہمیں غنیمت میں خراب چیز ملے، اس لیے ہمارے سامان کی حفاظت کرنا۔

خیر، دشمن کے بقایا جات میں ایک اہم شے ’ہموی‘ گاڑیاں بھی ہیں۔ ایک ہموی کی سال ۲۰۱۱ء میں قیمت دو لاکھ بیس ہزار ($220,000)ڈالر تھی یعنی آج کل کے ریٹ کے مطابق سوا سے ساڑھے تین کروڑ پاکستانی روپے۔ یہ ہموی جب مجاہدین کے قبضے میں آتی ہے تو مجاہدین اس دیو ہیکل گاڑی کو بارود سے بھر کر، فدائی حملہ کرنے والے جانبازوں کے حوالے کرتے ہیں۔ یہ فدائی مجاہدین یہ بارود بھری گاڑیاں (جنہیں افغانستان میں ’موٹر بم ‘کہتے ہیں) دشمن کے قلعوں سے ٹکراتے ہیں جس کے نتیجے میں سیکڑوں اہلِ کفر اور اہلِ کفر کے غلام جہنم رسید ہوتے ہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ؀ (سورۃ الانفال: ۳۶)

’’ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لیے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لیے حسرت کا سبب بن جائے گا، اور آخر کار یہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور ( آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا۔ ‘‘

سبحان اللہ، کیسی عجیب آیت ہے۔ اس کی نہایت دلچسپ عملی صورت اوپر بیان کی گئی کہانی کے مطابق کچھ یوں ہو گئی:

  1. پہلے امریکیوں اور اس قسم کے دیگر کافروں اور ان کے دم چھلوں نے یہ کیا کہ پیسہ خرچا (باقی چھوڑیں صرف فوجی خرچہ دیکھیں)، مثلاً ہمویاں خریدیں۔ فی ہموی پڑی ساڑھے تین کروڑ روپے کی۔

  2. ان کے فوجی مارے گئے ، ہمویاں غنیمت کی صورت میں مجاہدین کے قبضے میں آئیں اور یہ ان کے لیے باعثِ حسرت ہےاور یہ مغلوب بھی ہوئے ۔

  3. پھر مجاہدین نے انہی کی ہمویاں بارود سے بھر کر، انہی پر جا کر پھاڑ دیں۔ کتنے مر گئے اور جو رہ گئے ان کے لیے دوگنی حسرت!

  4. جو مر گئے وہ تو مر گئے، جو رہ گئے ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پھر مغلوب ہو گئے اور سامانِ حسرت تو بے پناہ ہے!

  5. اس کے بعد جہنم تو ان کی ویسے ہی پکی ہے!

سبحان اللہ، اس آیت کی کیسی عملی تفسیر ہے جو افغانستان میں ظاہر ہو رہی ہے۔ اللہ پاک امارتِ اسلامیہ افغانستان کو مضبوط فرمائیں اور اس امارت اور اس جہاد کا فیض پورے عالمِ اسلام میں عام فرمائیں، آمین!

اے پی سی (آل پارٹیز کانفرنس) اور مولانا فضل الرحمٰن سے استدعا


آل پارٹیز کانفرنس ہوئی، اس کے متعلق بی بی سی اردو نے جو خبر لگائی اس کا اقتباس ملاحظہ ہو:

’’حزبِ مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان تحریکِ انصاف کو بر سرِ اقتدار لانے میں اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے بغیر لگی لپٹی رکھے، کھل کر اور واضح الفاظ میں بات کی گئی۔‘‘

اس خبر کے چند نمایاں الفاظ و مرکبات سوائے ایک کے یہ ہیں: آل پارٹیز کانفرنس، پاکستان تحریکِ انصاف، اسٹیبلشمنٹ کا کردار، نواز شریف، بغیر لگی لپٹی۔ ایک اہم نام جس کا ذکر پچھلی سطر میں نہیں کیا گیا وہ ہے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا۔

مولانا صاحب نے ساری زندگی سیاسی جد و جہد میں گزاری ہے۔ وہ حکومتوں کا حصہ بھی رہے، حکومتیں بنانے والے بھی اور ان کے قریبی لوگ حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز بھی رہے۔ آخری بار الیکشن میں ’بوجوہ‘ مولانا کامیاب نہیں ہو پائے۔ پچھلے تقریباً ڈھائی سال میں مولانا نے موجودہ حکومت کے خلاف کئی جلسے کیے، ایک زبردست دھرنا دیا (جس سے حکومتِ وقت بہر حال گھبرائی ، پھر مصالحت پر رضامند ہوئی اور مصالحت چودھریوں کے ذریعے کروائی گئی)، کئی ملین مارچ مولانا نے منعقد کیے اور اب یہ اے پی سی بھی مولانا ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ الغرض موجودہ حکومت کے خلاف جس طرح سے تحریک مولانا نے چلائی ہے، باقی کوئی سیاسی پارٹی ایسی تحریک چلانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی، باتیں نواز شریف سے بلاول تک جو بھی، جتنی بھی کر لے۔

مولانا نے لگی لپٹی رکھے بغیر اسٹیبلشمنٹ یعنی فوج کو سنائیں اور اے پی سی کے اگلے ہی روز اسٹیبلشمنٹ مختلف سیاسی مخالفین سے ملاقاتیں کرتی نظر آئی تاکہ مولانا کی کوششوں کو ناکام بنا سکے۔ یہ بات دو چیزوں پر دلیل ہے؛ ایک یہ کہ مولانا جسے اپنے نظریے کے مطابق درست ’سمجھتے‘ ہیں اسے بیان کرتے ہیں اور اس ملک میں سب سے زیادہ طاقت ور ادارے یعنی فوج سے بھی پھر ڈرتے نہیں ہیں؛ دوسری یہ کہ اسٹیبلشمنٹ بھی مولانا سے گھبراتی ہے تبھی تو اگلے ہی روز فوراً حرکت میں آ جاتی ہے اور فوج میں بھی آرمی چیف قمر باجوہ اور آئی ایس آئی چیف فیض حمید خود ملاقاتیں کرتے ہیں۔

مولانا کے پاس علم بھی ہے، سیاسی مقام بھی اور مقتدر قوتیں ان سے ڈرتی بھی ہیں۔ مولانا موجودہ حکومت سے نالاں ہیں اور موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لیے کوشاں بھی اور اس کے لیے وہ پارلیمانی سیاست کا سہارا نہیں لے رہے بلکہ دھرنے، مظاہرے، جلسے، جلوس اور عوامی ذہن سازی پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں حضرت مولانا سے گزارش ہے کہ وہ اسی طریقِ سیاست کی جانب نظر فرمائیں جو حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت شیخ الہندؒ نے اپنائی تھی اور ان اکابرین کا اسوۂ سیاست، اسوۂ نبوی (علیہ الصلاۃ و السلام) سے ثابت ہے۔ ان اکابرین نے ۱۸۵۷ء کی ’بغاوت‘ کے لیے ذہن سازی کی، ۱۸۵۷ء کے جہادِ آزادی میں شاملی جیسا میدانِ کارزار گرم کیااور تحریکِ ریشمی رومال جیسی عظیم الشان عالمی مہم و تحریک چلائی۔

آج کی ’سمارٹ‘ مارشل لائی حکومت کا موازنہ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک کی انگریزی حکومت سے کر لیجیے۔ فرق کیا واقع ہوا ہے؟ سوائے اس کے کہ لارڈ رابرٹوں اور ماؤنٹ بیٹنوں کی جگہ عمران خان اور باجوہ جیسے نام آ گئے ہیں۔ برٹش انڈین ایمپائر کے بجائے ’اسلامی‘ کا لاحقہ سابقہ لگ گیا ہے۔ انگریز ہی کے قانون کو نئے صفحے پر لکھ کر عنوان’اسلامی آئین‘ لکھ دیا گیا ہے۔ باقی اعانتِ کفر و کفار بھی ویسی ہی ہے اور اقامتِ کفر و قوانینِ کفار بھی ویسی ہی۔

مولانا صاحبِ علم ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ تقاضائے شریعت عمران خان کو ہٹا کر کسی اور چودھری و خان یا شریف و خاقان کو لانا نہیں۔ تقاضائے شریعت وہی ہے جس کے لیے اکابرینِ ذی وقار حضرت نانوتوی سے شیخ الہند تک نظامِ باطل کو ڈھانے اور نظامِ اسلامی کو قائم کرنے کی خاطر لگے رہے۔

پس مولانا سے گزارش ہے کہ وہ ایسی تحریک اب اٹھائیں جو عمران خان و باجوہ و فیض حمید اور ان کے باطل نظام کو اکھاڑ پھینکے اور اس کی جگہ شریعتِ مطہرہ کا عادلانہ نظام نافذ کرے۔ یہی اہلِ دین کی آواز ہے، یہی اہلِ مدارس کا طریقہ ہے اور اس تحریک کے لیے ایک آواز بلند کرنے کی دیر ہے کہ حاملین دین قوم و نسل، مسلک و فرقہ اور سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر اس جگہ اپنا خون بہائیں گے جہاں مولانا کا پسینہ ٹپکے گااور اہلِ دین و فاضلینِ مدارس کی کامیاب تحریک، حضرت نانوتوی و شیخ الہند کے طرز کی کامیاب تحریک ہم اپنے پڑوس میں ’امارتِ اسلامیہ افغانستان‘ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ دیوبند کا اصل کام تو کفر کے ’دیو‘ کو بوتل میں ’بند‘ کرنا ہے!

آسمانی حقائق یہ ہیں کہ حق بہر حال غالب رہتا ہے!


اتفاق سے پچھلے دنوں شیرِ میسور سلطان فتح علی ٹیپو شہید کی کچھ تاریخ دیکھنے کا موقع ملا۔ معلوم ہوا کہ جب میسور کی تیسری جنگ جاری تھی (بلکہ جنگ سے ما قبل بھی)، تو اس وقت کے قابض گورنر جنرل آف انڈیا لارڈ کارن ویلس (Cornwallis)، نے (اس دور کے آئی ایس پی آر کے طور پر )کئی کاتب اور کئی مؤرخ اس ’خدمت‘ کے لیے بٹھائے کہ وہ ٹیپو کے متعلق لکھیں کہ وہ اہلِ ہندوستان کا دشمن، محض اقتدار کا بھوکا وحشی حکمران ہے اور فلاحِ عامہ سے اس کو نسبت تو دور کی بات وہ محض بربریت کا ایک نمونہ ہے جبکہ انگریز اس ملک کے لوگوں کے نجات دہندہ اور لارڈ کارن ویلس ایک فرشتہ ہے جو اہلِ ہند کی امداد کو آسمانِ (برطانیہ) سے اترا ہے۔

یہ تاریخ لکھی گئی، کتابیں مرتب ہوئیں، شائع ہوئیں، تقسیم ہوئیں اور لائبریریوں کی آج تک ’زینت‘ ہیں (ٹیپو سلطان کے گنجے ہونے اور متشرع حاکم کی داڑھی منڈی تصویر اس جعل سازی کا ایک نمونہ ہے)۔ لیکن ٹیپو سلطان کو ہم آج کیا ان کتابوں کی روشنی اور ان لارڈوں کی لکھوائی تاریخ کے ذریعے وہی جانتے ہیں جو بتایا گیا؟ نہیں! ہم ٹیپو کو ایک مجاہدِ عظیم اور رجلِ عزیم کے طور پر جانتے ہیں، جو میدان کا شجاع سپاہی، بہترین سپہ سالار، جنگی حکمتِ عملی کا ماہر، نئے نئے اسلحے ایجاد کرنے والا، عسکری لائحے مرتب کروانے والا، رفاہ و فلاحِ عامہ میں نابغۂ روزگار، غریبوں، مسکینوں کا حامی، جدید اصطلا ح میں ایک سٹیٹس مین (Statesman)، سفارت کاری کا ماہر، تجارتی اور معاشی منصوبوں کے ذریعے عوام کو خوشحال کرنے والا، صنعتوں کو فروغ دینے والا، عادل حکمران؛ کے طور پر جانتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ صفاتِ عالیہ بھی مؤرخوں نے لکھی ہیں۔ لیکن عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیسوں پر رکھے گئے کاتبوں اور کرائے کے مؤرخوں اور ان سے تاریخ و واقعات لکھوانے والوں کی آخرت تو آخرت (کہ اس میں یومِ عدل قائم ہو گا) دنیا میں بھی ساری منصوبہ بندیاں ادھوری رہ جاتی ہیں۔

ٹیپو سلطان کی اس مثال سے ہم ’اہلِ حق‘ کی ہر تحریک کو سمجھ سکتے ہیں اور آج اگر اہلِ حق مطعون ہیں بھی تو آنے والے کل میں انہیں ’شدت پسند‘ اور ’دہشت گرد‘ کے عناوین سے نہیں یاد کیا جائے گا۔ آج کے مجاہد کل کو ٹیپو جیسی عزت سے منسوب کیے جائیں گے اور آج کے ’جنرل‘ کل کے ’گورنر جنرلوں‘ کی طرح بے آبرو ٹھہریں گے!

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال صرف ’انسدادِ‘ اسلام میں اچھا ہوتا ہے!


موٹروے کیس میں پولیس اور خفیہ اداروں کی ’پھرتیاں‘ سب کے سامنے ہیں۔ تا دمِ تحریر چار بار موٹروے کیس کا مرکزی ’مجرم‘ اداروں کو چکما دینے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ پولیس و خفیہ اداروں نے پہلی بار اس کی گرفتاری کے لیے قلعہ ستار شاہ میں چھاپہ ’ڈالا‘ جہاں سے بھاگ کر وہ قصور میں راجہ جنگ کے علاقے پہنچ گیا۔ دوسرا چھاپہ ’ڈالا‘ گیا تو پھر بھاگ گیا اور ننکانہ صاحب پہنچ گیا، تیسری بار چھاپے سے بھی فرار ہو گیا اور چوتھی بار منچن آباد بہاول نگر میں ٹریس کیا گیا اور چوتھی بار بھی پولیس و خفیہ والوں کی گرفت سے بچ نکلا اور اس کے بعد تا دمِ تحریر اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے اس ’مجرم‘ کی تلاش یا اس کو ’ٹریس‘ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں یعنی ’جیو فینسنگ‘، سی سی ٹی وی کیمرے وغیرہ۔

(تحریکِ لبیک والے) فیض آباد1 دھرنے میں گڑ بڑ ہو تو اس کے بعد کیمرے چیک کیے جائیں تو 4K سے بھی زیادہ ہائی کوالٹی کیمرے جو فائبر آپٹک سے متصل ہیں، ناکارہ ثابت ہوتے ہیں2۔ دعا منگی اغوا ہو تو کیمروں کی کوالٹی بے کار نکلتی ہے۔ امریکہ اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کی پروردہ اور در پردہ امداد یافتہ داعش اسلام آباد ایکسپریس وے پر (سابقہ زیرو پوائنٹ کے پاس)اپنے جہازی سائز کے جھنڈے (جو بل بورڈ ؍ hoarding کا احاطہ کر لیں) لگا جاتی ہے تو بھی فائبر آپٹک آپریٹڈ، ہائی ٹیک کیمرے لاجواب ہو جاتے ہیں۔مطیع اللہ جان کی باری ’ٹریکنگ سسٹم‘ سے جواب موصول نہیں ہوتا۔ موٹر وے کیس میں جیو فینسنگ بے کار ہو جاتی ہے۔ یہ ہے ٹیکنالوجی کا حال یا ’سوچا سمجھا‘استعمال۔

ورنہ شاید سب کو یاد ہو کہ اسلام آباد سیف سٹی کے کیمرے جب اسلام آباد میں نئے نئے نصب ہوئے تو ایک گوالا یعنی دودھ والا جو کسی جگہ کھڑا دودھ میں پانی ملا رہا تھا اس کو ان ’ہائی کوالٹی‘ کیمروں نے ’پکڑ‘ لیا اور اس ’خیانت‘ کے جرم میں پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا۔ حالانکہ آج کل دودھ میں پانی ملانا کب جرم ہے جبکہ دودھ والا صاف بتاتا ہے کہ یہ دودھ ستّر روپے، یہ اسّی روپے، یہ نوّے روپے اور یہ سو روپے یا اس سے زیادہ کا فی کلو ہے، یعنی سمجھی سمجھائی (understood) بات ہے کہ بھینس خود تو یہ قسما قسم کا دودھ ’فراہم‘ نہیں کرتی(کم از کم ابھی تک کی ٹیکنالوجی اس ’اوج‘ تک نہیں پہنچی) دودھ والا ہی پانی شانی ملاتا ہے۔

خیر کبھی کبھی کی پھرتی دکھانے کے لیے دودھ والا پکڑ لیتے ہیں ورنہ ان کیمروں کا ’سچا‘ استعمال کہاں ہوتا ہے اور جیو فینسنگ اور فون ٹریکنگ کہاں کام آتی ہے؟

کوئی نفاذِ شریعت کی بات کرے، کوئی جہاد سے منسوب ہو جائے، بقول آئی جی ثناء اللہ عباسی کوئی لڑکا داڑھی رکھ لے، نماز پڑھنے لگے، تبلیغ کرنے لگے، کوئی لڑکی حجاب اوڑھنے لگے یا اس قسم کی abnormal activity ہو تو وہاں یہ ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے3۔ فون ٹریس کر کے اور ٹریک کر کے نجانے کتنے فرزندانِ اسلام کو آج تک جیلوں میں بند کیا جا چکا ہے اور کتنے ان جیلوں سے نکال کر ڈیموں، بیراجوں کے گیٹوں اور گراریوں میں ڈالے جا چکے ہیں؟ کتنے جعلی پولیس مقابلوں میں مارے گئے؟ کتنے آج تک خفیہ جیلوں میں بند ہیں؟

یہ سب اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس ٹیکنالوجی سے ’انسدادِ‘ اسلام اور ’انسدادِ‘ اہلِ اسلام ہی اچھا ہوتا ہے، جرائم کو روکنا ان کا کام نہیں!

پیغامِ پاکستان نامی ’صحیفے‘ کا اطلاق صرفِ اہلِ سنت و الجماعت پر!


ایک صاحب نے ’فرمایا‘ تھا کہ قرار دادِ مقاصد کے بعد پاکستان کی تاریخ کی اہم ترین دستاویز ’پیغامِ پاکستان‘ ہے۔ شاید کچھ لوگ پیغامِ پاکستان کو اسی طرح بھول گئے ہوں جس طرح قراردادِ مقاصد کو بھول چکے ہیں۔ تو عرض ہے کہ وطنِ عزیز میں جاری حالیہ نظام کو اسلامیانے کے لیے جس دستاویز کو مرتب کیا گیا اس کا نام پیغامِ پاکستان ہے۔ اس ’صحیفے‘ کے مطابق جو پاکستان کے آئین کو (جس کی بنیاد انگریز نے ڈالی) نہ مانے، جو کہے کہ پاک فوج امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی ہے اور امریکہ کو مارتے ہوئے جو فرنٹ لائنیا مارا جائے وہ شہید نہیں تو یہ سب کہنے والا باغی، خارجی، شدت پسند، دہشت گرد، تکفیری، فسادی اور انتہا پسند وغیرہ ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی ریاستِ پاکستان کو ’للکارے‘ تو وہ بھی وہی کچھ جو پچھلی سطر میں لکھا۔

لیکن اس سب کا اطلاق صرف اہلِ سنت پر ہے۔ وہ اہلِ سنت جو نفاذِ شریعتِ محمدی (علیٰ صاحبہا صلاۃ و سلام) کا مطالبہ کریں اور اپنی محنتیں اس کے لیے کھپائیں، جو جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہوں، جو نیکی کا حکم اور برائی سے روکتے ہوں، جو ناموسِ رسالت کے محافظ ہوں، جو ناموسِ صحابہ کی خاطر جانیں دینے والے ہوں۔ باقیوں پر اس کا کوئی اطلاق نہیں۔

ابھی چند دن پہلے رافضیوں کے ’وحدتی‘ لیڈروں کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے ایک بِل کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ :

’’ہم (پاکستان کا) ایک ایک ادارہ بند کر کے دکھائیں گے اور سب یہاں پر کھڑے ہو جائیں گے، ہم اپنے سر لگا دیں گے اور یہ صرف ہم (وحدتی) نہیں بول رہے یہ پوری شیعہ قوم بول رہی ہے اور ان کے جذبات ہیں!‘‘

آئینِ پاکستان میں موجود باطل قوانین اور پاک فوج کے فرنٹ لائن اتحادی ہونے کو بیان کرنے کے بعد کوئی یہی بات کرتا، جہاد و قتال اور القاعدہ یا کسی اور جہادی جماعت و تنظیم کو چھوڑیے کوئی عام آدمی یہ بات کرتا (کہ ادارے بند کر دیں گے) تو اس کی لاش منڈی بہاؤالدین، ملتان، مظفر گڑھ، ملیر یا گڈاپ میں (ہتھ کڑی بند آئی ایس آئی سپانسرڈ) پولیس مقابلے میں گرائی جا چکی ہوتی یا دین و شریعت کی بالادستی کی بات کرنے کے جرم میں جنرل شاہد عزیزؒ کی طرح اس کا انجام آئی ایس آئی کے کسی اذیت خانے میں تشدد کے بعد قتل کی صورت ہوتا۔

ٹرمپ‘ آوے یا ’بائیڈن‘…… ون اینڈ دا سیم تھنگ!


خیالِ ہٰذا سے ملتی جلتی چیز کوئی چار سال پہلے بھی لکھی تھی، دوبارہ دیکھیے۔

کوئی چودہ سال پہلے جب جان مکین اور اوبامہ صدارتی الیکشن میں کھڑے ہوئے جس کے نتیجے میں اوبامہ جیت گیا تو اس الیکشن مہم کے دوران ایک جگہ کچھ(فیصل آبادی) ’نادر‘ الفاظ کانوں سے ٹکرائے:

اوبامہ آوے یا مکین
نتھا سنگھ یا پریم سنگھ
ون اینڈ دا سیم تھنگ!4

تو جی سیم تھنگ ہی نتیجہ ہے چاہے کوئی بھی آ جائے۔ اب ٹرمپ جائے یا رہے یا جو بائیڈن آجائے، امریکی پالیسی بھی ایک ہی رہنی ہے، ان کے اہداف بھی اور ان کا عالمِ اسلام کو لوٹنے، اس پر ظلم کرنے اور اپنے دم چھلوں کو اقتدار بخشنے کا رویہ بھی ویسا ہی رہنا ہے۔ مسلمانوں کو کون سی جگہ کب لوٹنا ہے اور کون سا بم کون سی جگہ کب گرانا ہے، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے؛ باقی سب نے نیو ورلڈ آرڈر ہی کو دوام بخشنا ہے۔

اس لیے ہمیں ضرورت ہے کہ امریکی الیکشن اور پالیسیوں اور حکمتِ عملی کا جائزہ ضرور لیں اور دشمن پر وار بھی ضرور کریں، لیکن اپنا وقت اس لا یعنی بحث میں صرف چسکے، ڈرائنگ روم کی رونق اور چائے کے موضوع کے طور پر نہ ضائع کریں کہ ٹرمپ و جو بائیڈن کے درمیان مقابلہ ہے۔

اللہ اس کائنات کی اصل حقیقت ہے، جو اس پر ایمان لایا اور جس نے اس اللہ کا کفر کیا تو دراصل انہی کے درمیان مقابلہ ہے، پس اپنی گفتگو سے لے کر تلوار تک کو اللہ کا کفر کرنے والوں کے ’کفر‘ میں استعمال کریں!

فی سبیل اللہ مقتول کو قتل ہونے کی تمنا زیادہ ہے!


امریکہ سے لے کر اس کے فرنٹ لائن اتحادیوں تک اور اسرائیل سے لے کر بھارت تک؛ اہلِ ایمان کے دشمن، اہلِ ایمان کی تاک میں بیٹھے ہیں کہ انہیں قتل کریں۔ قتل ہونے والے، یعنی مقتولین افغانستان سے پاکستان تک اور کشمیر سے فلسطین تک قتل ہونے کی تمنا، اپنے دشمن کے قتل کرنے کے جذبے سے زیادہ رکھتے ہیں۔لیکن اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ یہ دشمن کے لیے تر نوالہ بن جائیں ، یہ اس ادا سے قتل ہونا چاہتے ہیں کہ جب تک جئیں تو دشمن کے گلے کی ہڈی، دل میں پھانس سی چبھن اور آنکھ میں شہتیر کی مانند رہیں۔

مقتولین کی تاریخ تو یہ ہے کہ کل انہیں احد کے پہاڑ سے جنت کی خوشبو آتی تھی تو آج قندھار و غزنی، چولستان و راجستھان اور ہمالیہ و ہندوکش سے انہیں جنت کی خوشبوئیں پھوٹتی محسوس ہو رہی ہیں۔ اہلِ کفر کو جس طرح زندگی سے محبت ہے، ان شاء اللہ ہم زندہ شہیدوں کو، ہم فی سبیل اللہ مقتولوں کو اپنی موت سے محبت ان کے زندہ رہنے کی خواہش سے زیادہ ہے۔ لیکن اہلِ کفر بھی اور ان کا بچا کھچا کھانے والے دم ہلاتے فرنٹ لائن اتحادیے بھی یاد رکھیں کہ ہماری زندگی بھی اور ہماری موت بھی ان کے لیے بہر کیف تباہی، بربادی، عذاب اور موت کا پیغام ہے!

٭٭٭٭٭


1 ویسے کمال اتفاق ہے کہ اس وقت کے ’میجر جنرل‘ فیض حمید نے دھرنا بھی ڈلوایا تو ’فیض‘ آباد میں، وقت نے ثابت کر دیا کہ اس دھرنے کا مقصد تحفظِ ناموسِ رسالت نہیں تھا یہ محض آبپارہ والوں کی چال تھی!

2 گو کہ یہ بھی ’فیض‘ کا ’فیض ‘تھا!

3 ثناء اللہ عباسی نے یہ بیان تب دیا تھا جب وہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ تھا، بعد میں یہ صوبۂ سرحد کا آئی جی لگ گیا اور آج کل پتہ نہیں کہاں ’تھانیداری‘ کر رہا ہو گا؟!

4 One and the same thing! یعنی ایک ہی بات ہے!

Exit mobile version