لوازمِ جہاد

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس کسی کام کا بھی امر کیا ساتھ میں اس کے اصول بھی بتائے کہ کس طرح یہ فعل آپ نے کرنا ہے۔ جیساکہ نماز کا حکم فرماکر یہ بھی بتایا کہ نماز کس طرح پڑھنی ہے اور کیوں پڑھنی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا امر کرکے بتایا کہ زکوٰۃ کہاں خرچ کرنی ہے اور کیوں کرنی ہے، اور اس کے مستحقین کون ہیں؟

جس طرح ان افعال کے لیے قرآنی ہدایات موجود ہیں، بالکل اسی طرح جنگ و جہاد میں کامیابی کے لیے قرآنی ہدایات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہدایات کو سورۂ انفال کی آیات ۴۵، ۴۶ اور ۴۷ میں بیان فرمایا۔ پینتالیسویں اور چھیالیسویں آیت میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ اور مقابلۂ دشمن کے لیے ایک خاص ہدایت نامہ دیا ہے، جو ان کے لیے دنیا میں کامیابی اور فتح مندی کا اور آخرت کی نجات و فلاح کا نسخۂ اکسیر ہے اور قرون اولیٰ کی تمام جنگوں میں مسلمانوں کی فوق العادت کامیابیوں اور فتوحات کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اور وہ چند اصول یہ ہیں:

اول ، ثبات : یعنی ثابت قدم رہنا اور جمنا

اس میں ثباتِ قلب اور ثباتِ قدم دونوں داخل ہیں، کیونکہ جب تک کسی شخص کا دل مضبوط اور ثابت نہ ہو اس کے قدم اور اعضا ثابت نہیں رہ سکتے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہر مومن و کافر جانتا اور سمجھتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اپنی جنگوں میں اس کا اہتمام کرتی ہے کیونکہ اہل تجربہ سے مخفی نہیں کہ میدان جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کامیاب ہتھیار ثبات قلب و قدم ہی ہیں ۔ دوسرے سارے ہتھیار اس کے بغیر بیکار ہیں۔

دوسرا ، ذکر اللہ

ذکر اللہ کی کئی قسمیں ہیں ۔ ذکر اللہ (اللہ کا ذکر) دل سے بھی ہوتا ہے اور زبان سے بھی۔ افضل یہ ہے کہ دل اور زبان دونوں سے اللہ کا ذکر ہو اور اگر ان میں سے کسی ایک سے ہو تو پھر دل کا ذکر افضل ہے۔

اب ذکر بالقلب (دل سے اللہ کا ذکر) کی بھی دو قسمیں ہیں ۔

ایک قسم تو یہ ہے اللہ کی عظمت میں، جبروت و ملکوت میں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں جو زمین و آسمان میں ہیں، غور و فکر اور استغراق ۔ اس قسم کے ذکر کو ذکر خفی کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں منقول ہے کہ وہ ذکر خفی ستر درجہ افضل ہے جسے حفظہ (یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے) بھی نہیں سنتے۔ چناچہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو حساب کتاب کے لیے جمع کرے گا تو حفظہ وہ تمام ریکارڈ لے کر حاضر ہوں گے جنہیں انہوں نے اپنی نوشت اور یادداشت میں محفوظ کر رکھا ہوگا۔ وہ تمام ریکارڈ دیکھ کر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندوں کے اعمال میں اور کیا چیز باقی رہ گئی ہے (جو تمہارے اس ریکارڈ میں نہیں ہے)۔ وہ عرض کریں گے ۔ پروردگار ! بندوں کے اعمال کے سلسلہ میں جو کچھ بھی ہمیں معلوم ہوا اور جو کچھ بھی ہم نے یاد رکھا ہم نے اسے اس ریکارڈ میں جمع کردیا ہے، اس ریکارڈ میں ہم نے ایسی کوئی چیز محفوظ کرنے سے نہیں چھوڑی جس کی ہمیں خبر ہوئی ہو۔ تب اللہ تعالیٰ بندہ کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ میرے پاس تیری ایسی نیکی محفوظ ہے جسے کوئی نہیں جانتا اور وہ ذکر خفی ہے میں تجھے اس نیکی کا اجر عطا کروں گا۔

ذکر بالقلب کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو احکام دیے ہیں خواہ ان کا تعلق امر کرنے سے ہو یا نہی سے، ان کی ادائیگی کا وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جائے۔ ذکر بالقلب کی ان دونوں قسموں میں سے پہلی قسم افضل واعلیٰ ہے ۔

ذکر اللہ وہ مخصوص اور معنوی ہتھیار ہے جس سے مومن کے سوا عام دنیا غافل ہے ۔ پوری دنیا جنگ کے لیے بہترین اسلحہ اور نئے سے نیا سامان مہیا کرنے اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی تو پوری تدبیریں کرتی ہے مگر مسلمانوں کے اس روحانی اور معنوی ہتھیار سے بے خبر اور ناآشنا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر میدان میں جہاں مسلمانوں کا مقابلہ ان ہدایات کے مطابق کسی قوم سے ہوا مخالف کی پوری طاقت اور اسلحہ اور سامان کو بیکار کردیا۔

ہمارے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں، حال ہی میں خراسان میں نہتے مجاہدین کی فتح اور اسلحہ سے لیس کفار کی ذلت اس کی زندہ مثال ہے ۔آج تاریخ نے پھر ثابت کردیا کہ ذکراللہ اور اللہ پر توکل (جو کہ ایک حقیقی مومن و مجاہد کی صفت ہے، اور ایک حقیقی مجاہد سے مطلوب ہے )ایک ایسی طاقت ہے جو کفر کے قلعوں کی تباہی ہے۔ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے:

وعن علي قال كانت بيد رسول الله صلى الله عليه و سلم قوس عربية فرأى رجلا بيده قوس فارسية قال : ما هذه ؟ ألقها وعليكم بهذه وأشباهها ورماح القنا فإنها يؤيد الله لكم بها في الدين ويمكن لكم في البلاد. رواه ابن ماجه

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں ( کسی میدان میں یا ویسے ہی کسی موقع پر) رسول کریم ﷺ کے ہاتھ میں عربی کمان تھی، جب آپ ﷺ نے ایک شخص (صحابی) کے ہاتھ میں فارسی ( ایرانی) کمان دیکھی تو فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ اس کو پھینک دو ، تمہیں ایسی ( یعنی عربی) کمان رکھنی چاہیے۔ اور اسی طرح ( یعنی اس وضع کی) رکھنی چاہئے۔ نیز تمہیں کامل نیزے رکھنے چاہییں، یقیناً ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دین ( کو سر بلند رکھنے) میں تمہاری مدد کرے گا اور ( دشمنوں کے)شہروں میں تمہیں جما دے گا۔

گویا ان صحابی نے جب یہ دیکھا ہوگا کہ فارسی ( ایرانی) کمان زیادہ مضبوط اور زیادہ سخت ہوتی ہے تو انہوں نے اس کمان کو عربی کمان پر ترجیح دی۔ پھر انہوں نے یہ گمان کیا ہوگا کہ ایسی کمان جنگ میں بہت کار آمد ہوتی ہے اور دشمنوں کے شہروں کو فتح کرنے کا مضبوط ذریعہ ہے، چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ان پر واضح کیا کہ تمہارا جو خیال ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ آلاتِ حرب خواہ کسی قسم کے ہوں اور دیکھنے میں کتنے ہی مضبوط و عمدہ ہوں ،حقیقت میں میدان جنگ کی کامیابی کا ان پر انحصار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مرضی پر موقوف ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کی سر بلندی کی جدوجہد میں مدد ونصرت دے کر کامیاب وکامران کرتا ہے۔ حقیقی مدد ونصرت اسی کی طرف سے اور اسی کی قوت وقدرت کے ساتھ ہوتی ہے۔ نہ تمہاری قوت و طاقت سے دین کی سر بلندی میں نصرت حاصل ہوتی ہے اور نہ محض تمہارے سازوسامان اور آلات حرب کی مضبوطی و عمدگی سے دشمنوں کے مقابلے پر مدد ملتی ہے ۔

اے میرے مجاہدین بھائیو! یہ ہمیں کس چیز نے یہاں پر لا کھڑا کردیا کہ پاکستان اور پاکستانی ایجنسیوں کے بغیر یہ جہاد نہیں چل سکتا ۔ یقین جانیے یہ ہمارے ایمان اور ہمارے کام کے منافی ہے۔

اسی طرح امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کمان دار سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا تھا کہ :

میں تمہیں اور تمہاری تمام فوجیوں کو ہر حالت میں تقویٔ الٰہی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ کیونکہ تقویٰ دشمن کے خلاف بہترین ہتھیار اور جنگ کے لیے مضبوط ترین چال ہے ۔ہماری تعداد اور ہتھیار دشمن کی تعداد اور ان کے ہتھیاروں سے ہمیشہ کم رہی ہے، لہذا اگر ہم گناہ کرکے ان جیسے بن جائیں تو دشمن اپنی تعداد اور ہتھیاروں کی وجہ سے ہم پر برتری حاصل کر لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم ان پر اطاعت گزاری کی وجہ سے غالب نہ آئیں تو ہم اپنے اسلحے کی بنا پر کبھی غالب نہیں آسکتے ۔

یہاں ہمیں اس بات پر زیادہ دھیان دینے کی تلقین کی گئی کہ ہم اپنے تعلق کو خالق کائنات سے زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں۔ رب سے تعلق مضبوط نہ ہونے کی صورت میں ہم پر دشمن غلبہ حاصل کرلیتا ہے ۔

ہتھیار کا انکار نہیں ہے ۔لیکن ہتھیار سے پہلے رب سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ضروری اور لازمی ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا راستہ ہی ذکر اللہ ہے۔ جتنا ہم اپنے خالق و مالک کو یاد کریں گے،اتنا اپنے خالق سے تعلق مضبوط ہوجائے گا اور جب تعلق مضبوط ہوجائے تو اللہ پانچ ہزار فرشتوں کے ذریعے ہماری مدد فرمائے گا ، اور جس کسی نے بھی قرآنی ہدایت نامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے جہاد کو جاری نہیں رکھا ،اس نے مات کھائی۔ اس کی بھی کئی زندہ مثالیں ہیں۔ ذکر اللہ کی اپنی ذاتی اور معنوی برکات تو اپنی جگہ ہیں ہی ،یہ بھی حقیقت ہے کہ ثبات قدم کا اس سے بہتر کوئی نسخہ بھی نہیں۔ اللہ کی یاد اور اس پر اعتماد وہ بجلی کی طاقت ہے جو ایک انسان ضعیف کو پہاڑوں سے ٹکرا جانے پر آمادہ کردیتی ہے، اور اس کے عزائم کو بلند و بالا کرتی ہے، اور کیسی ہی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑا دیتی ہے ،اور دلوں کو سکون عطا فرماتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی سورۃ الرعد کے اندر فرماتا ہے:

اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ

’’سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘

اور اللہ کا ذکر ہی انسان کے قلب کو مضبوط اور قدم کو ثابت رکھتا ہے۔

میرے معزز مجاہدین بھائیو! یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھیے کہ جنگ و قتال کا وقت عادةً ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرتا، اپنی فکر پڑی ہوتی ہے۔ اس لیے زمانۂ جاہلیت میں عرب کے شعرا میدان جنگ میں بھی اپنے محبوب کو یاد کرنے پر فخر کیا کرتے ہیں کہ وہ بڑی قوت قلب اور محبت کی پختگی کی دلیل ہے۔ ایک جاہلی شاعر نے کہا ہے:

ذکرتك والخطی یخطر بیننا

یعنی اے محبوب! میں نے تجھے اس وقت بھی یاد کیا جب کہ نیزے ہمارے درمیان چل رہے تھے!

قرآن کریم نے اس پرخطر موقع میں مسلمانوں کو ذکر اللہ کی تلقین فرمائی ہے اور وہ بھی کثیرا کی تاکید کے ساتھ۔

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پورے قرآن میں ذکر اللہ کے سوا کسی عبادت کو کثرت سے کرنے کا حکم نہیں۔ صلوة کثیرا یا صیاما کثیرا کہیں مذکورہ نہیں۔ سبب یہ ہے کہ ذکر اللہ ایک ایسی آسان عبادت ہے کہ اس میں نہ کوئی بڑا وقت خرچ ہوتا ہے، نہ محنت، نہ کسی دوسرے کام میں اس سے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس پر مزید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ذکر اللہ کے لیے کوئی شرط اور پابندی، وضو، طہارت، لباس اور قبلہ وغیرہ کی بھی نہیں لگائی۔ ہر شخص، ہر حال میں باوضو، بےوضو، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، کرسکتا ہے ۔

اور اس پر اگر امام جزری کی اس تحقیق کا اضافہ کرلیا جائے جو انہوں نے حصن حصین میں لکھی ہے کہ ذکر اللہ صرف زبان یا دل سے ذکر کرنے ہی کو نہیں کہتے، بلکہ ہر جائز کام جو اللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت میں رہ کر کیا جائے وہ بھی ذکر اللہ ہے۔ تو اس تحقیق پر ذکر اللہ کامفہوم اس قدر عام اور آسان ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی انسان سوتے ہوئے بھی سنتوں کی اتباع کر رہا ہو تو اس کی نیند کو بھی ذکر کہا جاسکے گا۔ جیسے بعض روایات میں ہے کہ نوم العالِم عبادة یعنی عالم کی نیند بھی عبادت میں داخل ہے ۔کیونکہ عالم جو اپنے علم کے مقتضی پر عمل کرتا ہو اس کے لیے یہ لازم ہے کہ اس کا سونا اور جاگنا سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی کے دائرہ میں ہو۔

میدانِ جنگ میں ذکر اللہ کی کثرت کا حکم اگرچہ بظاہر مجاہدین کے لیے ایک کام کا اضافہ نظر آتا ہے ،جو عادتاً مشقت و محنت کو چاہتا ہے۔ لیکن ذکر اللہ کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ محنت نہیں لیتا بلکہ ایک فرحت و قوت اور لذت بخشتا ہے۔ اور ذکر اللہ انسان کے کام میں معین و مددگار بنتا ہے۔ یوں بھی محنت و مشقت کے کام کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی کلمہ یا گیت گنگنایا کرتے ہیں ۔قرآن کریم نے مسلمانوں کو اس کا نعم البدل دے دیا جو ہزاروں فوائد اور حکمتوں پر مبنی ہے اسی لیے آخر آیت میں فرمایا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ……یعنی اگر تم نے ثبات اور ذکر اللہ کے دو گُر یاد کرلیے اور ان کو میدان جنگ میں استعمال کیا تو فلاح و کامیابی تمہاری ہوگی۔

حالتِ جنگ میں بھی اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہنا ہمیں صحابۂ کرام نے سکھایا ہے کیونکہ ہماری اصل طاقت کا انحصار اللہ کی مدد پر ہے۔ لہٰذا اے میرے مجاہدین بھائیو! اللہ پر بھروسہ رکھو۔ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ ،کیونکہ ایک بندۂ مؤمن کا صبر اللہ کے بھروسے پر ہی ہوتا ہے۔ اگر ہمارے دل اللہ کی یاد سے منور ہوں گے ، اس کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق استوار ہوگا ، تو ہمیں ثابت قدم رہنے کے لیے سہارا ملے گا۔ اور اگر اللہ کے ساتھ ہمارا یہ تعلق کمزور پڑگیا تو پھر ہماری ہمت بھی جواب دے دے گی۔

ایک غزوے میں رسولِ مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا ’’لوگو !دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو ،لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘۔پھر آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ’’اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے ،اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما ‘‘۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ، گویا وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔

امام طبری نے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا :

’’تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے :تلاوت قرآن کے وقت، جہاد کے وقت اور جنازے کے وقت۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو، مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: ’لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے‘۔ حضرت عطا رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ’چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے‘۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔

پس اے میرے مجاہدین بھائیو! اللہ تعالی نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور ذکر اللہ کو زیادہ سے زیادہ کرنے کا حکم دیا کہ ناامید، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو۔ اللہ کو یاد کرو، اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ صحابۂ کرام ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں، پیچھے والوں کا تو ذکر ہی نہیں۔ یہی ذکر اللہ، یہی ثابت قدمی و استقلال تھا جس کے باعث مددِ ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کرلیا۔ نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔ دنیا کے گوروں، کالوں کو مغلوب کرلیا ،اللہ کے کلمہ کو بلند کیا، دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا ۔

کشمیر کے میرے غیور مجاہدین بھائیو! خیال تو کرو کہ صحابہؓ نے تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا،تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ کیا وجہ تھی جس کے ذریعے انہوں نے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا ؟ یقین جانیے یہ ذکر اللہ یعنی اللہ پر توکل اور غیر اللہ کا انکار اور ثابت قدمی کا ہی نتیجہ ہے ۔جس کے ذریعے صحابہ کرام فتح یاب ہو ئے اور ہمارے لیے ایک تاریخ رقم کرگئے ۔اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے، وہ کریم و وہاب ہے۔ اور ان صحابہ کی جماعت کے ساتھ ہمارا حشر تب ہی ممکن ہے جب مجاہدین ان کی سیرت کو دیکھ کر چلیں گے۔

اللہ پاک مجاہدینِ کشمیر و برِّ صغیر کو صبر و ثبات عطا فرمائیں اور حقیقی معنوں میں توکل اور ذکر اللہ کی توفیق دیں، ہر غیر اللہ کے انکار کا ایمان و عزم عطا فرمائیں اور کشمیر و برِّ صغیر سمیت ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا فرمائیں، آمین!

Exit mobile version