بچپن کی بات ہے جب کسی دوست وغیرہ کو سکول یا مدرسے میں کسی دوسرے زور آور ساتھی سے مار پڑتی تھی تو وہ یہی کہتا تھا کہ میں اپنے بڑے بھائی کو بلاتا ہوں یا میں اپنے فلاں بڑے کو کہوں گا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کا رویہ پاکستانی افواج سے منسوب ایک ویب سائٹ ’ڈیفنس پی کے‘ پر اس وقت دیکھا جب بھارت نے نئے رفال جیٹ طیاروں کا پہلا Batch وصول کیا۔ ایک تجزیہ نگار صاحب لکھتے ہیں جو ریٹائرڈ سٹار رینک آفیسر بھی ہیں کہ ’چین اپنے طیاروں سے جس میں نئے بننے والے سٹیلتھ جیٹ(Stealth Jet) ہوں گے لداخ و باقی ماندہ بارڈر پر اور پاکستان اپنے ایف سولہ اور جے ایف سیونٹین سے اپنے بارڈر پر بھارت کی اس ٹیکنالوجی کا مقابلہ کریں گے‘۔ عجیب بات یہ ہے کہ دفاعی تجزیہ نگار صاحب خود کارگل جنگ میں شریک رہے ہیں اور ۶۵ء و ۷۱ء سے تو وہ بخوبی واقف ہوں گے ۔ سوال یہ ہے کہ چین ان سابقہ جنگوں میں کہاں تھا جو بھارت و پاکستان کے ما بین لڑی گئیں؟
اسی طرح ابھی بھارت نے اپنی بحریہ کے ایسٹرن فلیٹ (مشرقی بیڑے)کو لے کر آبنائے ملاکہ میں مشقیں کیں۔ مقصد وہاں مشقوں کا یہ تھا کہ ضرورت کے وقت جب اس کو اپنے مشرق سے حملے کا خطرہ ہو تو وہ اس کا سد ِباب کر سکے۔ اس پر بھی ڈیفنس پی کے پر بحث دیکھنے کو ملی۔ ادھر بھی مذکورہ فورم پر پاکستانی فوج کے چاہنے والوں (زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی افسران) کی طرف سے یہی موقف پڑھنے کو ملا کہ بھارت کے پاکستان پر حملے کی صورت میں پاکستان نیوی مغرب سے اور چین مشرق سے بھارت پر حملہ کرے گا اور بھارت دو طاقتوں کے مابین سینڈوچ بن کر شکار ہو جائے گا۔ پھر سے اپنے دفاع کے لیے کسی اور کا آسرا؟؟؟ کیا ایسی ہی صورت حال کا ۷۱ء میں کسی نے مشاہدہ نہیں کیا جب امریکی بیڑا مدد کے لیے آنا تھا؟
آخر کار چین کیوں پاکستان کے لیے اپنے پڑوسی بھارت کے ساتھ جنگ کرے گا؟ ہم خود کیوں تیاری نہیں کرتے؟اور کیا جنگیں صرف اسلحے کے زور پر لڑی جاتی ہیں؟
انڈین ائیر فورس میں رفال جیٹ اور اس کے ساتھ ہی نئی روسی میزائل ٹیکنالوجی کی شمولیت پر آئی ایس پی آر کیا کہتا ہے؟ پانچ آئیں یا پچاس ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ کون کہہ رہا ہے ؟ یہ اس فوج کے ترجمان صاحب کہہ رہے ہیں جس نے 93 ہزار کی تعداد کے باوجود ہندوؤں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
ملک کے فوجی اڈے پہلے تو امریکیوں کے پاس تھے۔ اب پتہ چلا کہ آج کل چین ہمارے اڈوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ مذکورہ بالا بحث ہی میں ایک سابقہ فوجی نے انکشاف کیا کہ سی پیک پلان میں یہ بھی شامل ہے کہ چین نے گوادر اور جیونی میں اپنے نیول سٹیشن فعال کر دیے ہیں۔ اس لیے ایک سابق فوجی کو یہ کہتے سنا کہ چین نہ صرف مشرق سے ہماری مدد کرے گا بلکہ مغرب سے بھی اس نے ہمارے دفاع کے لیے ہمارے بیسز (اڈے)لے کر تیاری کر رکھی ہے۔
؏اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا؟!
چین گوادر میں اپنے مفادات ، اپنی سمندری تجارت کی حفاظت کے لیے آیا ہوا ہے۔ کیا پچھلے بیس سالوں میں جب امریکہ کو آپ نے اڈے دیے تھے ، پاک بھارت کشیدگی کے کسی موقع پر امریکہ نے کبھی بھی یہ کہا ہے کہ بھارت کے حملے کی صورت میں ہم پاکستان کا دفاع کریں گے؟ کیا یہ تجربہ کافی نہیں؟ امریکہ تو چھوڑ ہی دیجیے ۔ کیا ابھی تک چین نے کوئی ایسا ایک جملہ بھی کہا ہے کہ پاکستان پر حملے کے وقت ہم پاکستان کا دفاع کریں گے؟ پھر آپ کس خواب غفلت میں پڑ کر یہ بات کر سکتے ہیں؟[ہاں تین سال پہلے کی برکس (BRICS)کانفرنس کو یاد کرلیں، وہاں چین کا کیا موقف تھا؟]
سابقہ ائیر فورس چیف سہیل امان نے بھی اپنا ’تجرباتی ‘تجزیہ پیش کیا ۔ کہتے ہیں کہ رفال کے آنے سے بھارت کو الیکٹرانک وار فیئر میں پاکستان پر کوئی برتری حاصل نہیں ہوئی، پاکستانی ائیر فورس کا اصل ان کے افراد کی اعلیٰ تربیت ہے جو بھارت دس سال میں بھی نہیں حاصل کرسکتا۔ ہماری ٹریننگ بہت معیاری ہے اور اس کا اندازہ آپریشن سوفٹ ریسورٹ سے لگایا جاسکتاہے۔ یہ بات وہ ائیر چیف کر رہا ہے جس کے دور میں امریکی ڈرون قبائل میں روزانہ بمباری کر تے تھے اور ڈرون بھی وہ جو نہ تو سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل تھے نہ ان کے ریڈار کی رینج سے باہر تھے1۔اس لیے سوال یہ ہے جب مظلوم قبائلی مسلمانوں پر امریکی ڈرون بمباریاں کر کے ان کو گھر بار سمیت تباہ کرتے تھے تو اس وقت آپ کی الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت کہاں تھی؟ وہاں آپ کے پائلٹس کا اعلیٰ professionalism کہاں تھا؟
آپریشن سوفٹ ریسورٹ سے یاد آیا کہ ایسا ہی کچھ ۶۵ء میں ہوا تھا۔ جب پاکستان نیوی کے پاس آبدوز تھی اور انڈیا کے پاس نہیں تھی۔ پاکستان نیوی نے اس آبدوز کے بھروسے پر ’دوارکہ آپریشن ‘ لانچ کیا جس میں قریبی بھارتی نیول ریڈار سٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ کرنا تو یہ چاہیے تھا کہ بمبئی پر حملہ کرتے لیکن چلو یہی سہی۔ بھارت کی بحریہ آبدوز سے ڈر کر اس کے دفاع کو نہیں نکلی۔ اس آپریشن کو بڑی کامیابی سے تعبیر کیا گیا اور بس۔ پھر بھارت نے تیاری کی ، چھ سال کے عرصے میں اس نے اپنی بحریہ کو اس قابل بنایا کہ ۷۱ء میں انہوں نے پاکستان کے سارے سمندری راستے بند کر کے کراچی آئل ٹرمینلز کو اپنے ہوائی جہازوں سے نشانہ بنایا اور پاکستان نیوی کچھ نہ کر سکی۔
ایک اور دفاعی تجزیہ کار کا تجزیہ جو انہوں نے ڈیفنس پی کے پر لکھا، ملاحظہ ہو:
’’بھارت نے اگر رفال خریدے ہیں تو مسئلہ نہیں۔ہمارے حلیف ملک متحدہ عرب امارات نے بھی دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی ایف –۳۵ریپٹر خریدے ہیں اور عرب امارات کے بہت پائلٹوں کو ہم یہاں ٹریننگ دیتے ہیں جس سے ہماری اور ان کی قریبی دوستی ہے ۔ وقت آنے پر وہ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔‘‘
یہ دفاعی تجزیہ کاروں کی سوچ ہے اور یہ قوم کو افیون چٹا رہے ہیں، گلی محلے کی لڑائی میں بھی ایسا نہیں ہوتا جس ’تُک‘ سے یہ ملکوں کی لڑائی میں حکمتِ عملیاں سوچ رہے ہیں۔ خیر عرب امارات کے پائلٹس یہاں بنیادی ٹریننگ کرنے آتے ہیں وہ بھی چند افسر۔ اور پاکستان کے علاوہ بھی ان کے پائلٹس دوسرے ممالک میں ٹریننگ کرنے جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ (جس طرح امریکی اور برطانوی وار کالجز میں تربیت حاصل کرنے اور ان کا نمک کھانے کے بعد ہمارے افسر فرنٹ لائن اتحادی بن جاتے ہیں) وہ بھی ان سب ملکوں کا دفاع کریں گے۔پھر کیا عرب امارات کے وہ پائلٹس جو ان جدید جیٹ جہازوں کو اڑائیں گے ان کی ٹریننگ خود امریکی نہیں کریں گے۔ پراجیکٹ یہی ہے کہ طیارے امریکہ دے رہا ہے اس کے لیے سٹاف ٹریننگ بھی وہ ہی دیں گے۔ عرب امارات نے آپ کے ساتھ کشمیر ایشو پر کتنا ساتھ دیا اور ابھی کیا اسرائیل کو آپ کی ’ٹریننگ‘ کے نتیجے میں تسلیم کیا گیا ہے؟ کیا انہوں نے بھارت کو آپ کے مقابل زیادہ اہمیت نہیں دی؟ اپنے ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز مودی کو نہیں دیے؟ کیا او آئی سی کانفرس کے نتیجے میں ذلت اتنی جلدی بھول گئے کہ وہاں سشما سوراج کی شرکت بھول گئے؟
دوسروں پر اکتفا کرنا چھوڑ دیں ، اصل مسئلے کی طرف آئیں۔ مسلمان جنگ ایمان سے لڑتا ہے نہ کہ صرف اسلحے سے اور افواجِ پاکستان کا انحصار تو اسلحے سے زیادہ میڈم نور جہاں پر ہے۔ آپ کے ایف سولہ نے کشمیر کاز میں آپ کا کتنا ساتھ دیا ؟ آپ کا ایٹم بم کیا کشمیریوں پر ہونے والا ظلم روک سکاہے؟ کشمیر میں انڈیا کے ظلم کے خلاف آپ کے دوست چین نے آج تک کیا کیا ہے؟
اپنے دین کی طرف لوٹیں۔ اللہ کیا کہتا ہے، قرآن پر نظر ڈالیں، بدر کو دیکھیں، احد،خندق ، یرموک و حطین کی طرف نظر دوڑائیں اور جواب دیں کہ جنگیں کیسے لڑی جاتی ہیں!
1مجھے خود ایک ائیر فورس کے آفیسر نے بتایا کہ ’پاکستان ائیر فورس‘ کے ریڈار پر ڈرون طیارے واضح دکھائی دیتے ہیں۔