برادرِ محترم ’ابو نور الہندی‘کا تعلق شہید سراج الدولہ، سید تیتومیر اور حاجی شریعت اللہ (رحمۃ اللہ علیہم) کی سرزمین سے ہے جس کے بیشتر حصے کو آج بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے۔(ادارہ)
سوویت یونین کے خاتمے کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ ۱۹۸۶ء میں چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کا دھماکہ ، اور ۱۹۸۹ء میں خراسان میں سرخ فوج کی شکست۔ کسی بھی بڑی ریاست یا طاقت کا خاتمہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ بہت سے باہم مربوط عوامل و اسباب یہاں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن کچھ واقعات ایسےہوتے ہیں جن کے وقوع پذیر ہونے سے گرنے کا عمل شروع ہوتا ہے، یا وہ اسے کسی ایسے مرحلے میں لے جاتے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ چرنوبل اور خراسان میں شکست ایسے ہی دو واقعات تھے۔ ان واقعات کا اثر وسیع اور کثیرالجہت تھا۔ دونوں ہی معاملات میں سوویت یونین بہت بڑی رقم خرچ کرنے پر مجبور ہوا ، جس نے اس کی معیشت کو شكستہ حالی سے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ساتھ ساتھ ان دو واقعات نے سوویت یونین کی ناقابل شكست اور طاقتور تصویر کو چکنا چور کردیا۔
چرنوبل دھماکے سے پتہ چلتا ہے کہ سوویت ریاست یعنی کمیونسٹ حکومت بیکار ہے۔ ان کا انتظامی نظام ناکام اور نااہل ہے۔ یہ نظریہ اور نظام ناکام ہوچکا ہے۔ دوسری طرف خراسان میں بے سروسامان مجاہدین کے چھوٹے سی مسلح لشکر کے ذریعہ سرخ فوج کی شکست نے سوویت اقتدار كےبارے میں عوامِ عالم کے دل و دماغ سے خوف کو ختم کردیااور یہ ثابت کردیا کہ سوویت فوجی طاقت ناقابل تسخیر نہیں ہے۔
اسی کے ساتھ ہی ایک اور اہم چیز بھی ظہور میں آئی ہے۔ اس فتح کے ذریعے دنیا کے مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچا کہ اگر ہم اللہ پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کے دین کے لیے لڑیں تو ’سپر پاور‘ کو بھی شکست دینا ممکن ہے۔ یہاں تک کہ بہت کم وسائل کے باوجود ، بہت ہی چھوٹی جماعت بڑی طاقتور جماعت کو شکست دے سکتی ہیں۔ اس فتح نے پوری دنیا میں تحریک جہاد کو بیدار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
سوویت یونین اَسّی کی دہائی کے آخر سے ۱۹۹۱ء تك جس بربادی اور تباہی کے دور سےگزرا تھا امریکہ اب اسی بربادی اور تباہی كے دور سے گزر رہا ہے ۔ صرف امریکہ ہی نہیں ، دوسری جنگ عظیم کے بعد کا پورا عالمی نظام آج تباہی کے دہانے پر ہے۔ ہبل كی مورتی سڑ گئی ہے اور ہبل کے پرستار ہکّابکّا دیكھ رہے ہیں۔
امریکہ کے زوال کے تین آثار
چند ماہ کی مدت کے دوران، تین تاریخی واقعات نے پوری دنیا کے عوام كے سامنے امریکی سلطنت کی گرتی ہوئی عمارت کی حقیقت کو واضح کردیا۔ مجھے لگتا ہے کہ سوویت یونین کے خاتمے میں چرنوبل دھماکے اور خراسان میں مجاہدین کی فتح نے جس طرح کا اثر ركھا ہے ،یہ تینوں واقعات امریکہ کے خاتمے میں اسی طرح یا اس سےبھی زیاده اثر انداز ہوں گے۔
الف) خراسان میں امریکہ كی فوجی شکست
تین واقعات میں سے پہلا واقعہ خراسان میں مجاہدین کے ذریعہ امریکہ کی شکست تھی۔ جس طرح سوویت یونین تقریباً تین دہائی قبل خراسان سے نکلا تھا ، اسی طرح آج امریکہ بھی اپنے آپ كو سمیٹ لینے پر مجبور ہوا ہے۔ سپر پاور امریکہ جو انیس سال پہلے غرور و تکبر کے ساتھ خراسان پہنچا تھا ، اب مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا جانے کے بعد وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وه امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا۔ اگرچہ امریکہ اس کو ایک معاہدہ قرار دے رہا ہے ، لیکن حقیقت میں یہ خراسان میں امریکہ کی ناکامی کو ایک ’’قابل احترام شکست‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ امریکہ اپنے اہداف کو حاصل نہیں کرسکا ۔ بلکہ مجاہدین…… جن کو وہ کبھی دہشت گرد اور کبھی انتہا پسند کہتا تھا انھی کے ساتھ وہ سمجھوتہ کرنے پرآج مجبور ہو گیا ہے۔
اس شکست نے دنیا کے لوگوں كے سامنے یہ ثابت کردیا کہ امریکہ اپنے آپ کو ناقابل تسخیر ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے ، حقیقت میں یہ مجاہدین کے ایمان اور استقامت کے سامنےڈٹنے کے قابل نہیں ہے۔ اس شکست نے دنیا کے لوگوں کی نگاہوں کے سامنے یہ واضح کیا ہے کہ ہالی ووڈ کی فلمیں اور فیلڈ (میدان) كی حقیقت دونوں ایک جیسی نہیں ہیں۔ میڈیا کی تشہیر اور پراپیگنڈے کے ذریعہ امریکہ کی جو ناقابل شكست شکل اورجو بت دنیا کے عوام کے سامنے تشکیل دیا گیا تھا وه آج ٹوٹ كر بکھر گیا ہے۔ اور پوری دنیا نے اسے قریب سے دیکھا ہے۔
ب) کورونا وائرس اور امریکی ریاست کی ناکامی
دوسرا واقعہ کووڈ-۱۹سے نمٹنے میں امریکہ کی بے بسی ہے۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا میں نظامِ زندگی کو درہم برہم کردیا ہے، لیکن سب سے سخت دھچکا امریکہ کو لگا۔امریکہ جو ایک سپر پاور سمجھا جاتا ہے ،اس نے اِس تباہی سے نمٹنے میں انتہائی ناکامی کا مظاہرہ کیا۔ جس طرح چرنوبل پھٹنے سے سوویت یونین كے غیر حقیقی اقتدار اورکارکردگی کے بارے میں عوام الناس کے خیالات غلط ثابت ہوئے ، اسی طرح کورونا سے نمٹنے میں امریکی ناکامی نے امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی تاثیر ، پیشہ ورانہ مہارت ، اور بہتری کے بارے میں خیالات کو غلط ثابت کردیا۔ کورونا وائرس سے نمٹنے میں امریکہ کی ناکامی صرف انتظامی یا ریاستی ناکامی نہیں ہے، بلکہ پوری دنیا کے عوام اسے امریکی نظام (system) کی ناکامی کے طور پر دیکھتے ہیں۔کورونا وائرس نے امریکی معیشت کو شكستہ اور توڑ پھوڑ ا شکار کردیا ہے۔ اپریل سے جون تک امریکی معیشت تقریبا بتیس (۳۲) فیصد نیچے گئی۔ جبکہ یہ معیشت ۲۰۰۸ء کی عالمی کساد بازاری كے بدترین وقت میں آٹھ اعشاریہ چار (۸.۴) فیصد نیچے گئی تھی ۔ لاکھوں افراد اپنی ملازمت كھو بیٹھے ہیں۔ ہر ہفتے لاکھوں افراد بے روزگاری سے متعلق سوشل فنڈ کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی معیشت پر اتنا برا وقت نہیں گزرا ۔
وَمَا یعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ وَمَا هِی إِلَّا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ(سورۃ المدثر :۳۱)
’’اور تیرے رب كے لشكروں كو اس كے سوا كوئی نہیں جانتا اور یہ باتیں بشر (انسان) كی نصیحت كے لیے ہیں۔‘‘
آج پوری دنیا پر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان میں اللہ کی ایک چھوٹی سی مخلوق کا بھی سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ پوری دنیا میں مادہ پرست لوگ امریکہ کی طرف دیکھتے تھے اور امریکہ کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔آج ان میں سے بیشتر امریکہ کو کھلے عام نظرانداز کررہے ہیں۔ جہاں امریکی سلطنت ناقابل تسخیر ہونے کے بارے میں فخر كرتی تھی، وہاں کورونا وائرس كی وجہ سے امریکی انتظامیہ اور معیشت كی اِس شكستگی اور بد حالی نے دنیا کے لوگوں كے سامنے یہ ثابت کردیا کہ امریکی سلطنت کا سورج غروب ہوچکا ہے، آگے انتہائی خوفناک و خطرناک رات ان کی منتظر ہے۔
ج) فسادات اور معاشرتی تقطیب (Polarization)
تیسرا واقعہ نسل پرستی کے خلاف چلنے والی تحریک (بلیک لائیوز میٹر؍Black Lives Matter) اور امریکی معاشرے اور سیاست پر اس کا اثر۔ در حقیقت امریکی معاشرے میں نسل پرست کردار ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن موجودہ تحریک صرف نسل پرستی کے خلاف تحریک نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ کی ذات ، تاریخ اور شناخت کے بارے میں دو مخالف قطبوں کے مابین تنازع اور تصادم ہے۔
اس كی ایک جہت ANTIFA (Anti-Fascist) ہے ، جو نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کا سب سے زیادہ سرگرم حصہ ہے۔ یہ تحریک نظریاتی طور پر بائیں بازو (ملحدین) اور مابعد جدیدیت کے مختلف نظریات سے متاثر ہے۔ ان میں سے بیشتر یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقے کے گورے اور سیاہ فام کارکن ہیں، جو ہم جنس پرستوں کے حقوق سے لےکر تمام شدت پسند سیکولر نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ لوگ سیکولر انتہا پسند ہیں ۔ وہ نہ صرف جارج فلائیڈ کے قتل اور پولیسی جارحیت کے خلاف انصاف (justice)چاہتے ہیں ، بلکہ ان کا خیال ہے کہ پورا امریکی نظام ، انتظامیہ ، معاشرہ ، ثقافت اور تاریخ سب کچھ اپنی ساخت کے لحاظ سے نسل پرست ہے ۔اس نسل پرستی کو دفع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر چیز کو ختم کیا جائے اور اسے دوبارہ تعمیر کیا جائے۔
دوسری طرف نسل پرست، مسلح، سفید بالادستی پر یقین رکھنے والے بشارتی انجیلی (evangelical) عیسائی ہیں۔وہ بنیادی طور پر محنت کش طبقے (working class) کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے سفید فام امریکی ہیں جو اوبامہ انتظامیہ کے دوران ناراض ہو کر نچلی سطح پر منظم ہوئے تھے ۔ ٹرمپ کے منتخب ہونےمیں ان کا بڑا کردار تھا ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت وہ آہستہ آہستہ زیادہ لاپروا ہوگئے ہیں۔ نیز ان کے مختلف افکار نے مرکزی دھارے کی سیاست ، معاشرے اور ثقافت کو متاثر کیا ہے۔ اس طبقے کا خیال ہے کہ آج امریکی عیسائی ایک وجودی بُحران اور كشمكش کا شکار ہیں۔
امریکہ میں موجودہ فسادات کی سب سے بڑی وجہ ان دونوں گروہوں کے مابین تنازع ہے۔ یہ صرف ٹرمپ یا جارج فلائیڈ و پولیس کی بربریت کے خلاف نہیں بلکہ یہ لڑائی امریکی معاشرے اور سیاست میں ایک گہرے شگاف کا اشارہ ہے۔ یہ شگاف ایک عرصے سے گہرا ہو رہاتھا،پھر کووڈ-۱۹، جارج فلائیڈ کی موت ، معاشی بدحالی، معاشرتی بدامنی اور ۲۰۲۰ء کے انتخابات…… ان سب كی وجہ سے یہ بالکل منظر عام پر آ چکا ہے۔ ان دونوں قطبوں کے مابین کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ تنازع ناگزیر ہے۔ آہستہ آہستہ پولرائزیشن دونوں طرف سے ہورہی ہے۔ تنازع متشدد ہوتا جارہا ہے۔ دونوں طرف سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا جائے گا ، یہ تنازع اور تیز ہوتا جائے گا ۔
عوامی زندگی بری طرح درہم برہم ہونے کے با وجود حکومت اور انتظامیہ انتشار کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ،بلكہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت اس بات پر متفق نہیں ہوسکی ہے کہ فسادات سے کس طرح نمٹا جائے۔ مرکز اور ریاست ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں۔ امریکہ کے سیاسی اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ فسادات ، لوٹ مار ، آتش زنی اور پولیس کی بربریت جیسے معاملات سے نمٹنے میں بھی ایک بڑی قومی پالیسی تو در کنار ، بلكہ سیاسی جماعتیں اور انتظامیہ کا ایک حصہ دوسرے حصے سے بھی متفق نہیں ہو پا رہا ۔
آج دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ باقی دنیا کو تہذیب کی تعلیم ، سخاوت اور امن کی داستانیں سنانے ، حقوق اور مساوات کی باتیں کرنے والے امریکہ کی کیا حالت ہے۔ امیریکن ڈریم (American Dream)یعنی امریکی خواب اب ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گیا ہے۔ جس کو آج پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہیں۔1
میں نے اس تحریر کے آغاز میں کہا تھا كہ کسی بھی بڑی ریاست یا طاقت کے زوال کے پیچھے بہت سی باہم مربوط وجوہات اور اسباب ہوتےہیں۔ تو میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا ہوں کہ امریکہ ان تین وجوہات کی بنا پر گرے گا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعات امریکہ کے خاتمے کے عمل کو تیز کردیں گے اور اسے اس مقام پر لے جائیں گے جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مجاہدین کی حکمت عملی کی کامیابی
صرف چھ ماہ کے دوران ، امریکی ریاست کی فوجی ، معاشی ، انتظامی ، معاشرتی اور سیاسی بے بسی اور دیوالیہ پن ان تینوں واقعات کے ذریعہ پوری دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ بے شک یہ اللہ ہی کی چال ہے اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے ، الحمد للہ ربّ العالمین!
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ واقعات کا یہ سلسلہ خراسان میں امریکہ کی مجاہدین کے سامنے شکست تسلیم کر لینے کے ساتھ ہی شروع ہواہے۔ بلکہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر یہ واضح کردیا ہے کہ اگر وہ اللہ پر بھروسہ کریں اور جہاد کے راستے پر ڈٹے رہیں تو اللہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں کریں گے، بلکہ ان کو ناقابل تصور ذریعہ سے نصرت و کامیابی فراہم کریں گے۔ بندے کا کام ہے کہ وہ حتی الامکان کوشش کرے۔ جب اللہ راضی ہوجاتا ہے ، تو وہ بندے کی کس طرح مدد کرتا ہے ، کامیابی دیتا ہے تو یہ انسانی عقل اور گمان سے بالاتر ہے۔
شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے امریکہ کے خلاف جہاد کےتین اہم مقاصد بیان کیے تھے :
- امریکہ کو دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں میں مصروف کر کے کمزور كردینا اور امریکی فوجی طاقت کی (strategic overreach)ضرورت سے زیاده پهيلا دينا،تاکہ امریکہ مسلم دنیا میں فوجی جارحیت کی طاقت كھو بیٹھے ۔
- امریکی معیشت کو دیوالیہ کر دینا۔
- امریکہ کے داخلی سیاسی اتحاد کو ختم کردینا۔
الحمد للہ آج یہ سارے مقاصد حاصل ہوچکے ہیں۔ اور ہمارے پاس اس کے زندہ ثبوت موجود ہیں ۔
آخری بات
صرف امریکی سلطنت ہی نہیں ، میرا خیال ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کا عالمی نظام اس مرحلے پر پہنچ گیا ہے کہ جس كو ابن خلدون ، ٹوئن بی ، کینیڈی ، جان گلوب اور بہت سے دوسرے مسلم اور غیر مسلم مورخین نے لازمی زوال کا مرحلہ قرار دیا ہے۔ اس زوال کا سلسلہ لمبا ہوسکتا ہے ، لیکن یہ یقینی طور پر شروع ہوچکا ہے۔ یہ اعتراف مغرب ہی میں بہت سارے محققین کے الفاظ میں سامنے آرہا ہے۔
ہم حال ہی میں امریکہ کے مستقبل میں ہونے والے خاتمے کے اثرات دیکھ رہے ہیں۔ دنیا بھر کے کافروں اور مشرکوں نے بھی دیکھا اور محسوس کیا ہے کہ امریکہ اب عالمی پیمانے پر فوجی مداخلت کرنے کا اہل نہیں ہے۔امریکہ کا مطلق غلبہ اور اکیلا تسلط کم ہونے کے سبب وہ اب علاقائی تنازعات میں الجھنا نہیں چاہتا ہے ،مزید برآں وہ مختلف خطوں میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کررہا ہے۔ دوسری طرف اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مختلف علاقائی طاقتیں آگے آرہی ہیں اور وہ اپنی سرگرمیوں اور موجودگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔اسی تسلسل میں امریکہ نے برصغیر کا بہت زیادہ کنٹرول ہندوستان کے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے۔ اب وہ اس خطے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی روانگی کے بعد اب اس خطے میں اسلام قائم ہونے کے راستے میں اصل دشمن ہندو ہیں۔ ’ہندوتوا ‘ طاقت ہی اب مجاہدین کا اصل نشانہ بنے گی۔ اس دشمن کی توحید اور مسلمانوں كے خلاف ہزاروں سالوں کی خونیں تاریخ ہے۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خوش خبری کو مدنظر رکھتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس خطے میں مسلمانوں کے تاریخی دشمن ، گائے کی پوجا کرنے والے ہندوؤں کی طرف توجہ دیں اور اپنی تمام طاقت کو اس دشمن کے خلاف استعمال کریں۔ کئی محاذوں پر حملہ کرکے دشمن کو مشغول اور مصروف رکھیں۔ خاص طور پر عزت و قربانی کی سرزمین ’کشمیر‘ میں جہاد کو انتہائی اہمیت کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ سو پوری امت مسلمہ کو کشمیر کے واقعات پر توجہ دینی چاہیے۔
مجھے یقین ہے ، اللہ رب العالمین کے فضل سے ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ تین دہائیوں کی بے انتہا محنت ، قربانی اور خونیں جدوجہد کے بعد عالمی جہاد اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہمیں تاریخ کا رخ بدلنے کا موقع ملا ہے۔ مضبوطی کے ساتھ توحید اور جہاد کے راستے پر قائم رہ کر، مجاہدین کے رہنماؤں کی ہدایات کے مطابق اگر ہم استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں ، تو اللہ کی مرضی سے کثیر المرکزی دنیا کے مختلف خطوں میں مجاہدین کے لیے ترقی و کامیابی اور تمکین حاصل کرنا ممکن ہوگا ۔ خصوصاً برصغیر کے مسلمان اور مسلم نوجوانوں کے لیے یہ ایك سنہری موقع ہے۔ خراسان کی فتح کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ اللہ کی مرضی سے مجاہدین کسی بھی دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔ جہاں امریکہ کو شکست دی جاسکتی ہے وہیں ملعون ہندوؤں کو بھی شکست دی جاسکتی ہے۔ میدان تیار ہے ، کھیل شروع ہوچکا ہے ، اب میدان سے باہر تماشائیوں کی طرح بیٹھے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
٭٭٭٭٭
1 امیریکن ڈریم ؍American Dream ایک باقاعدہ نظریہ ہے جس کی چند جزئیات میں جمہوریت، حقوق، آزادی، مواقع اور مساوات جیسے باطل نظریات شامل ہیں۔ اسی تصور یا نظریے کے تحت امریکہ کے لوگ اپنی زندگیاں تباہ کرتے رہے ہیں اور اسی تصور کے ساتھ ساری دنیا سے لوگ اپنی زندگیاں تباہ کرنے کے لیے امریکہ کا رخ کرتے رہے ہیں۔ تفصیل کے لیے مختلف دائرۃ المعارف ؍ encyclopaedias دیکھے جا سکتے ہیں۔