ثا لثاً:نظا م جمہو ریت میں عوام ہی وا حد منصف ہیں،جن کی طر ف تما م معاملات اور قانون لوٹائے جا تے ہیں۔اور جب حاکم اور محکو م کے درمیا ن کو ئی اختلا ف جنم لیتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ دو نو ں فریق معا ملے کو عوام کی خو اہش کے مطا بق حل کر نے پر زور دیتے ہیں۔یعنی پھر عوام ان کے با ہمی اختلا ف یا تنا زعہ کا فیصلہ کر تے ہے۔یہ امر تو اصول تو حید کے خلاف اور اس سے جدا ہے۔جس کی تعلیم یہ ہے کہ ہر قسم کے قضیہ میں منصف اورفیصلہ ساز اللہ رب العزت کی ذات ہے۔اس کے سوا کو ئی بھی نہیں ۔اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِن شَیْء ٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللّہ (سورۃ الشوریٰ:۱۰)
’’اور جس جس چیز میں تمہا را اختلا ف ہو ،اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طر ف ہے۔‘‘
جب کہ جمہو ریت کا مو قف ہے کہ ’’ جس جس چیز میں تمہا را اختلا ف ہو اس کا فیصلہ عوا م کی طرف ہے اور عوا م کے سوا کسی کی طر ف نہیں۔‘‘۔
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا أَطِیْعُوا اللّہَ وَأَطِیْعُواالرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّہِ وَالرَّسُولِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلاً (سورۃ النساء: ۵۹)
’’ اے ایما ن وا لو !فر ما نبر داری کر و اللہ تعا لیٰ کی اور فر ما نبر داری کرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اوراپنے میں سے اختیا ر وا لو ں کی پھر اگر کسی چیز میں اختلا ف کرو تو اسے لو ٹا ؤ ،اللہ تعا لیٰ اوررسول کی طر ف ،اگر تمہیں اللہ تعا لیٰ پر اور روزقیا مت پر ایمان ہے۔‘‘
ابن قیمؒ نے اپنی کتا ب اعلام المو قعین میں فر ما یا :
’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لو ٹنا دین کے واجبا ت اور لوازم میں سے ہے۔اور جب یہ عمل معطل کر دیا جا ئے تو ایما ن ضائع ہو جا تا ہے کیو نکہ ایک وا جب کے ترک سے دیگر وا جبا ت کے ترک کا دروا زہ کھلتا ہے۔‘‘
عوا م سے فیصلہ چا ہنا یا اللہ کے سوا کسی سے بھی ،شر یعت اس فعل کو ’تحکیم الی الطاغوت‘ کا نا م دیتی ہے۔جس کا انکار وا جب ہے۔جیسا کہ اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ آمَنُوابِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ یُرِیْدُونَ أَن یَتَحَاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواأَن یَکْفُرُوابِہِ وَیُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیْداً(سورۃ النساء:۶۰)
’’ کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا ؟جن کا دعو یٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ سے پہلے اتا را گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے ،لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طر ف لے جانا چا ہتے ہیں حالا نکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ شیطا ن کا انکا ر کر یں ۔‘‘
پس اللہ نے ایسے لو گو ں کے ایما ن کو محض حقیقت سے خا لی، جھو ٹا دعو یٰ قرار دیا ۔ اور اس کی وجہ طا غو ت اور اس کے وضع کر دہ قوا نین کے ذریعے فیصلہ چا ہنا ہے۔اللہ رب العزت کے قانو ن کے سوا کو ئی بھی قا نو ن یا ایسا کو ئی حکم جو اللہ کی طر ف سے نازل کر دہ نہیں وہ طا غو ت کے معنیٰ میں دا خل ہے۔جس کا انکا ر وا جب ہے۔
رابعاً: جمہو ریت کی بنیا د آزادیٔ را ئے پر قا ئم ہے۔چا ہے معاملہ اللہ تعا لیٰ کی ذات اور شعا ئر دین پر طعن و تشنیع ہی کا کیو ں نہ ہو ۔کیونکہ جمہو ریت میں تو ان چیزوں کو تقدس حا صل نہیں اور ان کے متعلق قبیح الفا ظ کا استعما ل قطعاً ممنو ع نہیں۔اللہ عز و جل کا فر ما ن ہے :
لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوَء ِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ (سورۃ النساء: ۱۴۸)
’’ برا ئی کے سا تھ آواز بلند کر نے کو اللہ تعا لیٰ پسند نہیں فر ما تا مگر مظلو م کو اجا زت ہے۔‘‘
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا:
قُلْ أَبِاللّہِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنتُمْ تَسْتَہْزِئُونَلاَ تَعْتَذِرُوا قَدْ کَفَرْتُم بَعْدَ إِیْمَانِکُمْ إِن نَّعْفُ عَن طَآئِفَۃٍ مِّنکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً بِأَنَّہُمْ کَانُوا مُجْرِمِیْنَ(سورۃ التوبۃ:۶۵،۶۶)
’’ کہہ دیجیے کہ اللہ اور اس کارسول ہی تمہا رے ہنسی مذاق کے لیے رہ گئے ہیں؟ تم بہا نے نہ بنا ؤ یقیناً تم اپنے ایما ن کے بعد بے ایمان ہو گئے ،اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے در گزر بھی کر لیں تو کچھ لو گو ں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے ۔‘‘
خا مساً:جمہو ریت کی بنیا د دین کی ریا ست ،سیا ست اور نظام زند گی سے علیحدگی پر قائم ہے۔ معبودکا حق تو صرف اتنا رکھا گیا کہ مندروں اور گر جوں میں اس کی عبا دت کر لی جا ئے اس کے علا وہ زند گی کے سیا سی ،اقتصادی اور عوام سے متعلقہ دیگر اجتما عی امو ر کے با رے میں ان کا موقف ہے:
قَالُواْ ہَـذَا لِلّہِ بِزَعْمِہِمْ وَہَـذَا لِشُرَکَآئِنَا فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمْ فَلاَ یَصِلُ إِلَی اللّہِ وَمَا کَانَ لِلّہِ فَہُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَآئِہِمْ سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ(سورۃ الانعام:۱۳۶)
’’اور بز عم خو د کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہما رے معبو دو ں کا ہے،اور پھر جو چیز ان کے معبو دو ں کی ہو تی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبو دو ں کی طر ف پہنچ جا تی ہے کیا برا فیصلہ وہ کر تے ہیں۔‘‘
ان لو گو ں کا یہ قول تو کلیتاً با طل اورمبنی بر فسا د ہے۔اور ایسی با ت کر نے وا لو ں کا کفر بھی وا ضح ہے۔کیو نکہ یہ تو ضروریا ت دین کا انکا ر کر نے وا لے ہیں۔ایسے لو گ تو اسی نصِ شرعی کے وا ضح منکر ہیں کہ دین ریا ست ،سیا ست اور قا نو ن سب پر محیط ہے اوراسے مخصو ص پہلوؤ ں اور عبا دت گا ہ کی دیواروں میں محدود نہیں کیا جا سکتا ۔اور ایسا کر نا تو بلا شبہ اللہ عز و جل کے دین سے صریح کفر ہے۔جیسا کہ اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَن یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّونَ إِلَی أَشَدِّ الْعَذَابِ(سورۃ البقرۃ:۸۵)
’’ کیا بعض احکام پر ایما ن رکھتے ہو اور بعض کے سا تھ کفر کر تے ہو ؟تم میں سے جو بھی ایسا کر ے ،اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسو ائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار۔‘‘
اور اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
وَیْقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیْدُونَ أَن یَتَّخِذُواْ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیْلاً أُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْناً(سورۃ النساء:۱۵۰،۱۵۱)
’’ اور جو لو گ کہتے ہیں کہ بعض پر تو ہما را ایما ن ہے اور بعض پر نہیں اور چا ہتے ہیں کہ اس کے اور اُس کے بین بین کو ئی را ہ نکا لیں ۔یقین ما نو کہ یہ سب لو گ اصلی کافر ہیں۔اور کا فروں کے لیے ہم نے اہا نت آمیز سزا تیا ر کر رکھی ہے۔‘‘
سا دساً:جمہو ریت عقیدہ و نظریہ سے صرف نظر کر تے ہو ئے تنظیمو ں اور جما عتو ں کی آزادانہ تشکیل کی اجا زت دیتی ہے۔چا ہے ان کا کر دا ر و اخلا ق کتنا ہی ابتر کیو ں نہ ہو ۔یہ امر تو شرع ِ متین سے صریحاً متصادم ہے کیو نکہ ان جما عتو ں کی حیثیت کو کفریہ عقا ئد کے با وجو د قبول کیا جاتا ہے،اور انہیں اپنے نظر یا ت کی دعوت اور تر ویج کی مکمل آزا دی جیسے حقوق سے نوازا جا تا ہے۔جس سے وہ اللہ کی زمین اور اس کے بندو ں میں فسا د پھیلا تے پھر تے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فر ما یا:
وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّہ(سورۃ الانفال:۳۹)
’’اور ان سے لڑو یہا ںتک کہ فتنہ با قی نہ رہے اور دین سا رے کا سا را اللہ ہی کا ہو جا ئے۔‘‘
ابنِ تیمیہؒ نے فر ما یا:
’’علماکا اس پر اجما ع ہے جو گروہ بھی شر یعت کے ظا ہر اور متواتر احکا م میں سے کسی حکم کو ترک کر دے تو اس کے خلا ف جہا د وا جب ہو جا تا ہے۔یہا ں تک کہ دین سا رے کا سا را اللہ کا ہو جا ئے۔‘‘
مزید یہ کہ ایسی جما عتو ں کو تسلیم کر نے سے تو کفر پر رضا ثا بت ہو تی ہے۔چا ہے وا ضح طو ر پر زبان سے اس کا اقرار نہ بھی کیا جا ئے۔جب کہ کفر پر را ضی ہو نا تو کفر ہے۔اللہ تعالیٰ نے فر ما یا:
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الْکِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللّہِ یُکَفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلاَ تَقْعُدُوا مَعَہُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہِ إِنَّکُمْ إِذاً مِّثْلُہُمْ إِنَّ اللّہَ جَامِعُ الْمُنَافِقِیْنَ وَالْکَافِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعاً(سورۃ النساء:۱۴۰)
’’اور اللہ تعا لیٰ تمہا رے پا س اپنی کتا ب میں یہ حکم اتارچکا ہے کہ تم جب کسی مجلس وا لو ں کو اللہ تعا لیٰ کی آیتو ں کے سا تھ کفر کرتے اور مذا ق اڑاتے ہو ئےسنو تو اس مجمع میں ان کے سا تھ نہ بیٹھو !جب تک کہ وہ اس کے علا وہ اور با تیں نہ کرنے لگیں،(ورنہ)تم بھی اس وقت ان جیسے ہو،یقیناً اللہ تعا لیٰ تما م کافروں اور سب منا فقو ں کو جہنم میں جمع کر نے وا لا ہے۔‘‘
ان کفریہ جما عتو ں کی حیثیت تسلیم کر نے کا مطلب تو یہ ہے کہ انہیں ہر طر ح سے اجا زت دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے کفر و با طل کا پر چا ر کر یں ،چا ہے وہ تما م معا شرے کو فتنہ و فساد اور خوا ہش نفس کی پیروی میں ہی غرق کیو ں نہ کر دیں۔اس صو رت میں تو ہم زمین و مخلو ق کو فتنہ میں مبتلا کر نے میں ان کے معاون ٹھہرتے ہیں۔
سا بعا ً:جمہو ریت کی بنیا د اکثریتِ را ئے کی تصویب پر قا ئم ہے چا ہے یہ اکثریت با طل ، ضلال اور کفر بو اح ہی پر مجتمع کیو ں نہ ہو جا ئے ۔جمہو ریت کی نگا ہ میں ’’حق‘‘ وہ ہے جسے اکثریت حق قرار دے اور اس کے بعد فرار قطعی ممکن نہیں ، یہ نظریہ با طل ہے۔کیو نکہ اسلام میں تو حق وہ ہے جسے قرآن و سنت نے حق کہا قطع نظر اس سے کہ اکثریت نے اسے قبو ل کیا یا نہیں۔اور باطل وہ ہے جو قر آن و سنت کے مخا لف ہے۔چا ہے اس پر تما م اہل زمین ہی جمع کیو ں نہ ہو جائیں۔اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا :
وَمَا یُؤْمِنُ أَکْثَرُہُمْ بِاللّہِ إِلاَّ وَہُم مُّشْرِکُونَ(سورۃیوسف:۱۰۶)
’’ ان میں سے اکثر لو گ اللہ پر ایما ن رکھنے کے با وجو د مشرک ہی ہیں۔‘‘
اور اللہ تعا لیٰ کا ارشا د ہے:
وَإِن تُطِعْ أَکْثَرَ مَن فِیْ الأَرْضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ إِن یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ہُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ(سورۃالانعام:۱۱۶)
’’اور دنیا میں زیا دہ لو گ ایسے ہیں کہ اگر ان کا کہنا ما ننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی را ہ سے بے را ہ کر دیں وہ محض بے اصل خیا لا ت پر چلتے ہیں اور با لکل قیا سی باتیں کر تے ہیں۔‘‘
یہ آیت کر یمہ دلا لت کر تی ہے کہ زمین پر اکثریت کی پیروی تو اللہ کے را ستے سے گمرا ہی کا باعث ہے۔کیو نکہ اکثریت تو ضلال پر قا ئم ہے اور اللہ پر ایما ن نہیں رکھتی مگر یہ کہ اللہ کے ساتھ دیگر شریک بھی ٹھہرائے بیٹھی ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓنے عمرو بن میمو ن سے کہا:
’’جما عت کی اکثریت تو ایسی ہے جنہو ں نے جما عت کو چھو ڑ دیا اور جما عت تو وہ ہے جو حق پر قا ئم ہے چا ہے وہ ایک فر د ہی کیو ں نہ ہو۔‘‘
حسن بصر یؒ نے فر ما یا:
’’اہل سنت ما ضی میں قلیل تھے اور آج بھی اقلیت میں ہیں حق نہ تو ما ل دا رو ں کی دو لت کے ساتھ ہے اور نہ ہی بدعتیوں کی بد عات نے حق والوں کوبگا ڑا، وہ تو سنت پر ثا بت قدم رہے یہاں تک کہ اسی حال میں اپنے رب سے جا ملے ۔‘‘
حیرا نگی تو اس با ت پر ہے کہ امت مسلمہ پر جمہو ریت کے تبا ہ کن اثرات کا منظر خود مشا ہدہ کرنے کہ با وجو د اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہو نے والے اختلا ف، تفرقہ و جدال کا خمیازہ بھگتنے کے بعد بھی ہم یہی را گ الا پ رہے ہیں۔
مجمو عہ در مجمو عہ تقسیم ایک پا رٹی کی ٹو ٹ پھو ٹ سے نئی پا رٹیو ں کا وجو د میں آنا اور ایک تحریک سے کئی تحریکو ں کا پھو ٹنا اور ان کا با ہمی نزاع ہم خو د دیکھ چکے ہیں۔اس تمام تر نقصان کے با وجو د ہم جمہو ریت کو متبرک سمجھتے ہو ئے اس کا دفا ع کر تے پھرتے ہیں۔جیسا کہ یہ نظام چلا نے والے ہی ہما رے خالق اور رب ہیں۔ہم اپنے دلو ں میں جمہو ریت کی محبت ایسے ہی بسا ئے بیٹھے ہیں جیسے بنی اسرا ئیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت ،لیکن اس کا انہیں کو ئی فا ئدہ نہ ملا ۔قر آن مجید نے ان کی سر زنش کی اور ان کی عقل و بصیرت ان کے کسی کا م نہ آ ئی ۔ ایسی صورت حال ہم ان لو گو ں کی دیکھتے ہیں جو آج نفا ذ جمہو ریت کے نعرے لگا تے پھرتے ہیں، ان میں بعض تو جمہو ریت کے ذریعے حصول استحکا م و قیا دت جیسی مصلحتو ں کا شکار ہیں اور جمہوریت کو شریعت اور دینی مقا صد کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس سے انہیں ذرا بھی سرو کا ر نہیں کہ شر یعت مطہرہ ان امور کے با رے میں کیا را ئے رکھتی ہے۔یہ لو گ ’مصلحت‘ اور حصول مقصد کے نا م پر عقیدہ و منہج جیسی چیزوں پر سو دا با زی کیے بیٹھے ہیں۔امام طبری ؒ نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے :
’’ولید بن مغیرہ،العا ص بن وا ئل ،اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے انہو ں نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئیں یہ معاہدہ کر لیں کہ جس کی تم عبا دت کر تے ہو ،اس کی ہم بھی عبا دت کر یں۔اور تم بھی ان کی عبا دت کرو جن کی ہم عبا دت کر تے ہیں اور ہم اپنے تمام امو ر میں تمہیں ساجھی بنا تے ہیں۔اگر تمہا ری لا ئی ہو ئی چیز بہتر ہے تو ہم تمہا رے سا تھ ہو جائیں گے اور اپنا حصہ پا لیں گے اور اگر جو کچھ ہما رے پا س ہے یہ تم سے اچھا ہوا تو پھر آپ بھی ہما رے شریک ہوں گے اور اپنا حصہ پا ئیں گے تو اللہ تعا لیٰ نے وحی نا زل کی ’قل یا ایھا الکفرون‘۔‘‘
اس وا قعہ میں وا ضح ہے کہ اہل قریش نے چا ہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مداہنت اختیا ر کر یں تو وہ بھی کچھ سمجھو تہ کر لیں گے تا کہ ایک را ئے پر جمع ہو ا جا سکے ۔ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ با ت ما ن لیتے اور اہل قر یش کو اولاً اللہ کی عبا دت پر را ضی کر لیتے تو اسلام کو جا ن لینے کے بعد وہ کبھی بھی اپنے آبا ئی دین کی طر ف نہ لو ٹتے ۔اور اس طرح سے ایک بڑا مقصد حا صل ہو جا تا اور اسلام فتح یا ب ہو جا تا ۔اس کا جو اب اللہ تعا لیٰ نے نا زل فر ما یا ’میں اس کی عبا دت نہیں کر تا جس کی تم عبا دت کر تے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کر و گے جس کی میں عبادت کرتاہوں‘۔ یہا ں تک کہ ٓا خر میں وا ضح کر دیا گیا ’تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین‘۔پس معا ملہ تو دراصل اصول کا ہے جس میں تبدیلی اور با ل برا بر سمجھوتہ بھی نا قابل قبو ل ہے۔یہ مسئلہ عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔اور فی نفسہٖ ایک عقیدہ ہے۔اس وا قعہ پر غو ر سے وا ضح ہو تا ہے کہ قر آن کس طر ح ضرورت کے معا ملات میں ہما ری رہنما ئی کر تا ہے۔اور کفا ر کی چا لو ں سے نبرد آزما ہو نے کے لیے کیسا واضح منہج فر اہم کر تا ہے۔
اے امت مسلمہ ! اگر تم ان کے سا تھ امن کا اعلان کر بھی دو تو یہ لو گ ہر گز اپنی جنگ بند نہ کریں گے یہا ں تک کہ تمہیں تمہا رے دین سے پھیر کر اپنی طا عت و بند گی اور غلیظ جمہو ری نظام میں دا خل کر لیں۔با لخصوص ایسے وقت میں جب ان کا پلڑا بھا ری ہے ،اگر آپ یہ خیا ل کرتے ہیں کہ آپ دین پر قا ئم رہتے ہو ئے انہیں خو ش کر پا ئیں گے تو آپ صریح غلطی پر ہیں۔ آپ کو چا ہیے کہ ابتدا سے قرآن پڑھیے اور قریب و دور کی تا ریخ پر نگا ہ ڈا لیے تا کہ آپ اسلام اور مسلما نو ں کے خلاف عداوت و نفا ق کے ان کے واقعات کو دیکھ سکیں جو ماضی سے تاحال جاری ہیں۔
پس ابطا ل امت ! اپنے عقیدہ کو جمہو ریت و رافضیت کے با طل نظریا ت سے محفوظ رکھنے کے لیے کھڑے ہو جا ئیے اوراسلا ف کی اتبا ع کر تے ہو ئے اپنے خو ن سے امت کے دین و عقیدہ اور عزت و جا ن کا دفا ع کیجیے ۔اعلا ئے کلمۃ اللہ کے لیے جہا د کا را ستہ اختیار کریں اور اپنے ہتھیا ر بر ابر اٹھا ئے رکھیں یہا ں تک کہ دین صرف اللہ کا ہو جا ئے۔یہی وہ واضح منہج ہے جس کی طرف را ہنما ئی اللہ رب العزت نے قرآن کر یم میں کی ہے ’’اور ان سے قتال کر و یہا ں تک کہ فتنہ با قی نہ رہے اور دین تما م کا تما م اللہ ہی کا ہو جا ئے‘‘۔
الحمد للہ ر آپ کے مجا ہد بھا ئی اسی مقصد کی خا طر اپنی جا نیں پیش کر رہے ہیں۔آپ پر لا زم ہے کہ جا ن و ما ل سے ان کی نصرت کر یں۔اسلا م و جمہو ریت میں اتنے صریح اختلا فا ت کو جان لینے کے بعد اسے گلے سے لگا نا تو کسی طو ر منا سب نہیں۔
اے اللہ اپنے دین و مجا ہدین کی نصرت فر ما ، دینِ اسلام اور مجا ہدین کو عزت عطا فر ما اور انہیں غالب فر ما،آمین!
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العا لمین!