خیالات کا ماہنامچہ | نومبر و دسمبر ۲۰۲۰ء

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:نومبر و دسمبر ۲۰۲۰ء

اللہ کا نہایت فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا، بہترین امت یعنی امتِ محمد علیٰ صاحبہا الف صلاۃ و سلام کا جزو بنایا اور محض اپنی عنایت سے راہِ جہاد کا مسافر بنایا۔ اے اللہ ہم تجھ سے تیرے ہی قرآن میں سکھائی دعا مانگتے ہیں:

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ!

بابری مسجد: کل، آج اور کل!


بابری مسجد کو میر باقی تاشقندی نے مسلمان شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابرؒ کے حکم پر تعمیر کیا تھا ۔ وہ شہنشاہانِ وقت جن کے در پر بادشاہ سلامی پیش کرتے تھے،وہ اس مسجد میں جبینیں خاک آلود کرتے تھے۔ بڑے بڑے ولیوں نے اس میں اللہ سے لو لگائی۔ علما و طلبا اس میں بستے تھے۔ اللہ کا قرآن اس میں تلاوت ہوتا، حدیث شریف کی محفلیں سجتیں۔ مجاہدین اس کی بیرونی دیواروں کے ساتھ اپنے گھوڑے ٹھہراتے، زرہیں سینے پر سجائے اور پگڑیاں اور آہنی خود پہنے، تلواریں سامنے رکھ کر اللہ کے سامنے قیام و سجود کرتے۔ صدیوں یہ سلسلہ جاری رہا۔

پھر وقتِ زوال آیا، مسلمان کمزور ہو گئے۔ گائے کے پجاری اور پیشاب خوروں، ناپاک ہندوؤں نے اس مسجد پر ہلہ بولا۔ یہ مسجد شہید کر دی گئی۔ قریباً تیس سال یہ کھنڈر رہی، ملبے کا ڈھیر بنی رہی۔ پھر خسیس مخلوقات اور اسفل اعضا کے پجاری ہندوؤں نے اس کی جگہ رام مندر تعمیر کر دیا۔ آج اس مسجد کی جگہ رام مندر کھڑا ہے۔

ایک ماضی تھا اور ایک حال ہے۔ مستقبل کا وعدہ لیکن مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’تمہارا ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور وہاں کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائے گا‘۔ اسی وعدے میں رام مندر کی تباہی اور بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ بھی پنہاں ہے۔ جیسے کل عمرِ زمان امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہدؒ کے حکم پر بامیان میں بدھا کے بتوں کو اڑاتے ہوئے ولیٔ کامل شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒنے یہ آیت تلاوت کی تھی، اسی طرح پھر اس آیت کی تلاوت کر کے رام وام سب کے بتوں کی چتا کو جلا کر گنگا میں بہایا جائے گا:

لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفاً؀ (سورۃ طہ: ۹۷)

’’ اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے۔ ‘‘

رام مندر کی خاک اڑائی جائے گی اور مسجدِ بابری پہلے سے کہیں زیادہ شان سے تعمیر کی جائے گی۔ وقت کے اولیا و علما اور مجاہدینِ غزوۂ ہند اس کی خاک پر پھر جبینیں ٹیکیں گے۔ وقت کے خلیفۃ المسلمین امیر المومنین کا خطبہ اس کے منبر و محراب سے گونجے گا۔

ظاہر میں آج رام مندر مسجد کی بابرکت زمین پر کھڑا ہے، لیکن مسجدِ بابری کی تعمیرِ نو کہیں قندھار و غزنی ، اسلام آباد و لاہور اور سری نگر و مظفر آباد میں شروع ہو چکی ہے۔ اہلِ ایمان خوشیاں منائیں کہ مستقبل حال کی تلخیاں بھلوا دے گا اور ماضی سے زیادہ حسین و تابناک ہو گا۔ اللہ ہمیں بھی اس مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھو کر لانے والوں میں شامل کر لے، إنّہٗ علی کل شیئ قدیر!

فرانس تا برِّ صغیر: صلیب و ہلال کی جنگ اور اہلِ اسلام کے لیے لمحۂ فکریہ


صلیبی فرانس اسلام کے خلاف پچھلے ایک ہزار برس سے زیادہ سے فکری و عسکری جنگ کا ایک اہم جزو ہے۔پچھلے چند ماہ میں فرانس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات صلیب و ہلال کی جنگ کی کھلی صورت ہیں۔

اس صورتِ حال میں چند نقاط پیش ہیں:

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً؀ (سورۃ الاحزاب: ۵۷)

’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ ‘‘

مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلاً؀ (سورۃ الاحزاب: ۶۱)

’’ ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح ان كے ٹكڑے اڑائے جائیں گے۔ ‘‘

وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ…… (سورة البقرة: ۱۲۰)

’’ اور یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ ‘‘

الله پاک اہلِ اسلام کو بھی تاریخ کے اس نازک موقع پر فہمِ سلیم عطا فرمائیں جو اس جنگ میں اہلِ اسلام کے غلبے پر منتج ہو، آمین!

جمہوریت ‘جو دنیا پر قابض ہے


حقیقی بات وہی ہے جو اقبالؒ نے کہی تھی کہ ’ہم نے خودشاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس‘، لیکن پھر بھی جو لوگ ’جمہوریت ‘پر ’یقین‘ رکھتے ہیں ان کے لیے یہ خیال عرض ہے۔جو اعداد و شمار راقم کو میسر ہیں تو ان کے مطابق امریکہ کی آبادی تقریباً ساڑھے بتیس کروڑ ہے[بہر کیف اعداد و شمار بالکل حتمی (actual) ہوں یا نہ ہوں راقم کا نقطہ سمجھنے کے لیے یہ بات ان شاء اللہ کفایت کرے گی]۔ اس آبادی میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد تقریباً پچیس کروڑ ہے۔ اس سال ٹرمپبائیڈن کے درمیان جو مقابلہ ہوا تو اس میں ٹرن آؤٹ یا ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے سولہ کروڑ رہی [چھیاسٹھ(۶۶) فیصد]۔ ان میں ٹرمپ کو اکتالیس (۴۱)فیصد اور بائیڈن کو انسٹھ (۵۹) فیصد ووٹ ملے یعنی تقریباً نو کروڑ چھہتر لاکھ لوگ اس بات کے حامی ہیں کہ بائیڈن امریکی صدر بنے۔

اب ذرا غور کیجیے کہ امریکی صدر کون ہوتا ہے؟ یہ دنیا کا بادشاہ ہے جس کی فوجیں، سمندروں میں، خشکیوں میں، ہواؤں میں اور خلا میں بھی موجود ہیں، جس نے دنیا کو سات کمانڈوں میں تقسیم کر رکھا ہے، فرعون کی طرح ابنائے اسلام کو ذبح کرتا ہے، نمرود کی طرح دعوے دار ہے کہ میں جس کو چاہوں زندگی دوں اور جہاں چاہوں اپنے ٹام ہاک میزائلوں اور ڈیزی کٹر بموں سے موت تقسیم کروں، یہ دنیا کے ممالک کے داخلی معاملات بھی دیکھتا ہے اور خارجی بھی، اس کا ڈالر دنیا کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بادشاہ کتنے لوگوں کے ووٹ سے یہ سب کر سکنے کے قابل ہوا ہے؟ تقریباً دس کروڑ لوگوں کی چاہت سے!

یعنی دس کروڑ لوگوں کے ووٹ سے پوری دنیا کی حکمرانی۔

دنیا میں کتنے لوگ ہیں؟

ساڑھے سات ارب !

اور یہ دس کروڑ کتنے فیصد بنتے ہیں؟

ایک فیصد یا اس سے کچھ زیادہ یا کم؟!

ایک فیصد کی رائے اور چاہت دنیا پر حاکم ہے!کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں؟ ذرا سوچیے……

بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ


امریکہ میں جو بائیڈن اور کمالا1 ہیرس کے جیتتے ہی کچھ دیوانے یہاں وہاں بہکی بہکی حرکتیں کرنے لگے۔

اسی سب کو کہتے ہیں بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ!

ملا برادر اخوند و مائیک پومپیو کی تصویر اور خواجہ آصف کا تبصرہ


سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اکثر ہی لوگوں کی نظر سے ملا برادر اخوند اور مائیک پومپیو کی وہ تصویر گزری ہو گی جسے سابقہ پاکستانی وزیرِ دفاع و مسلم لیگ ن کے رہنما ’خواجہ آصف‘ نے شیئر کیا اور ساتھ میں لکھا ’تمہارے پاس طاقت ہے اور ہمارے ساتھ خدا ہے‘۔ یعنی پومپیو کی طرف اشارہ تھا کہ طاقت تمہارے ساتھ ہے اور ملا برادر کی طرف اشارہ تھا کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔

خواجہ آصف اس وقت حکومت میں نہیں ہے، یہ نواز شریف کا ’کارکن‘ بھی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ سے بھی زیادہ خراب نہیں کرتا، ہمیں اس وقت خواجہ آصف سے سروکار بھی نہیں ہے، دراصل اس تبصرے سے سروکار ہے اور یہ تبصرہ ’پالیسی شفٹ‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پالیسی شفٹ آ پ کو مجموعی طور پر ’ریاستِ پاکستان‘ کے رویے میں نظر آئے گی۔ یہی طالبان تھے جنہوں نے ۱۹۹۶ء میں امارتِ اسلامی افغانستان کی بنیاد امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد ؒ کی قیادت میں ڈالی، پاکستان کا مفاد وابستہ تھا سو پاکستان نے اس افغان ’ریاست‘ کو تسلیم کیا۔ پھر پالیسی بدلی اور نائن الیون کے بعد پاکستان نے قلابازی لگائی، امریکی فرنٹ لائن اتحادی بنا اور طالبان کے خلاف جنگ میں آگے آگے ہوا، امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر ملا عبد السلام ضعیف کو برہنہ کر کے امریکی سی آئی اے کے حوالے کیا، استاد یاسر کو گرفتار کیا (اور اطلاعات کے مطابق استاد یاسر پاکستانی آئی ایس آئی کی جیل میں شہید ہو چکے ہیں)، امیر المومنین ملا عمر کے نائب ملا عبید اللہ اخوند کو جیل میں ڈالا اور شہید کیا اور یہی ملا برادر جن کو آج عزت و تکریم دی جارہی ہے آٹھ سال آئی ایس آئی کے عقوبت خانوں میں بند رہے، نیز دسیوں اور امارت کے رہنماؤں کو گرفتار و شہید کیا۔ جبکہ آج پھر پاکستانی دفترِ خارجہ اور فوج کے دفاتر میں ان حضرات کا پرتپاک استقبال ہو رہا ہے کہ پالیسی پھر بدل گئی ہے۔

کل جب امارت کا دورِ اول تھا، جب امارت کا سقوط ہوا اور فرنٹ لائن اتحادی بنا گیا، آج جب امریکہ کو افغانستان میں شکست ہوئی ہے اور پر تپاک استقبال، چشمِ ما روشن دلِ ما شاد کے نعرے لگائے جا رہے ہیں تو ہر ہر موقع پر اللہ ان کے ساتھ تھا اور امریکہ اور اس کے فرنٹ لائن اتحادیوں کے پاس محض ظاہری طاقتِ دنیوی ہی تھی۔

یہ پالیسی شفٹ اللہ کی معرفت یا اللہ کی طاقت کا ادراک نہیں بلکہ قوتِ ظاہری کا ادراک ہے۔ سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے پوچھا کہ ’تمہارا کیا گمان ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟‘ تو قریش نے جواباً کہا ’آپ ایک مہربان و کریم باپ کے مہربان و کریم بیٹے ہیں (ہمارے ساتھ اچھا سلوک ہی کریں گے)‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ نے فرمایا ’ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ ‘، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ تو حضور کو جب قریش مکہ میں زدو کوب کر رہے تھے، آپ کو پتھر مارتے، کوڑا سر پر ڈالتے، کانٹے راہ میں بچھاتے، کمر مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی لاد دیتے، جب احد میں آپ کے دانت مبارک شہید کیے گئے، آپ کے چچا کا شہید کر کے مثلہ کیا اور کلیجہ چبایا گیا ، جب مکہ سے نکلتے ہوئے آپ کی بیٹی کو اونٹ سے گرا کر زخمی کیا گیا اور آپ بعداً شہید ہو گئیں، تو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’کریم باپ کے کریم بیٹے ہی تھے2‘ لیکن کیا چیز ہے جس نے قریش کو فتحِ مکہ کے بعد یہ بات سمجھائی کہ حضورؐ ’کریم ‘ہیں؟ یہ قوت تھی، تلوار کی قوت۔

سو طالبان کے ساتھ اللہ کی طاقت تب بھی تھی جب یہ پہلی بار اللہ کی رضا سے اقتدار میں آئے، جب ان کی پیٹھ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے چھرا گھونپا تب بھی اللہ ان کے ساتھ تھا اور آج بھی ہے، بس لاتوں کے بھوتوں کو لاتیں کھانے کے بعد ہی سمجھ میں آتی ہے!

اندھیری رات کا مسافر‘


اندھیری رات کا مسافر‘، اردو ادب سے شغف رکھنے والے یا کم از کم ناول پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لیے یقیناً یہ عنوان توجہ کا سبب ہو گا۔ یہ عنوان بی بی سی اردو نے ایک ایسے شیر(ٹائیگر؍Tiger) کے بارے میں اپنی شائع کی گئی رپورٹ پر لگایا ہے جس نے ’مادہ کی تلاش میں تین ہزار کلومیٹر کا سفر کیا‘۔ بی بی سی کی پوری رپورٹ میں اس عنوان کی نسبت کوئی مواد نہیں ہے اور نہ ہی یہ عنوان دوبارہ اس رپورٹ میں کسی جگہ درج کیا گیا ہے۔

اس عنوان کی اصل کیا ہے؟ ’اندھیری رات کے مسافر‘ نسیم حجازی کے ایک ناول کا عنوان ہے۔ اس ناول میں نسیم حجازی نے مسلم ہسپانیہ (Spain) کے آخری دور میں ہونے والی کچھ جہادی کوششوں کا ذکر کیا ہے، ناول کے مواد و انداز سے لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب (حفظہ اللہ)3 نے نسیم حجازی کے متعلق لکھا ہے تو اس اعتبار سے واضح ہے کہ نسیم حجازی نے گو کہ دائیں بائیں کی بہت سی باتیں کی ہیں، بلکہ غیر شرعی امور نسیم حجازی کے ناولوں میں شامل ہیں لیکن ایک چیز بہر کیف غالب ہے اور وہ ہے جہاد کی محبت اور امت میں جہادی بیداری پیدا کرنے کی کوشش، امت کو اس کے تابناک ماضی سے جوڑنے کی سعی۔

ایک ایسے ناول کے عنوان کو جس میں جہاد و شہادت کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے کو ایک ’مادہ جانور کی تلاش میں بھٹکتے درندے‘ کی اسفل حاجت سے جوڑنا، بی بی سی اردو اور اس میں کام کرتے ہرکاروں کی ایک اسفل حرکت ہے جو ان کے اسلام سے بغض و عناد کی ایک بیّن نظیر ہے۔

مارنے والو! کوئی تم کو نہ مر کر مار دے!


اللہ تعالیٰ کے ارشادِ پاک ’ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ‘ کے ذیل میں حضرت مولانا حکیم اختر صاحب (نوّر اللہ مرقدہٗ) فرماتے ہیں:

’’ بندہ جب خدا کی یاد میں لگ جاتا ہے اور اپنی طاقت کی نفی کرکے خدا کے حضور جھک جاتا ہے تو اللہ اس کا نام روشن کردیتا ہے ۔ بڑے سے بڑے جاہ ومال کا مالک مرجاتا ہے اور اس کا نام بھی مٹ جاتا ہے مگر خدا کو یاد کرنے والے ہمیشہ یاد کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جتنے اولیا ہیں سب کا نام روشن ہے اور عزت واحترام کے ساتھ ان کانام لیا جاتا ہے۔ مگر دنیاوی وجاہت کا مالک اس دولت سے محروم ہے۔ ‘‘ (باتیں ان کی یاد رہیں گی، ملفوظاتِ حکیم اختر صاحب، ص ۱۹۷)

تاریخ کی عظیم ترین جنگوں میں سے ایک جنگ اس وقت دنیا بھر میں برپا ہے، اہلِ ایمان اور اہلِ کفر کے مابین جاری اس جنگ میں ، اہلِ ایمان کی جانب سے بہت سے موتی و لعل نچھاور ہوئے ہیں۔ ان کٹنے والوں کو کون نہیں جانتا اور مارنے والوں کو کون جانتا ہے؟

تاریخی ترتیب سے میرے ذہن کے کینوس پر ابھرنے والے چند ناموں کو دیکھیے: ایمل کانسی، احمد یاسین، عبد العزیز رنتیسی، ابو مصعب الزرقاوی، نظام الدین شامزئی، عبد الرشید غازی، ابو اللیث اللیبی، ارشد وحید، ابو عمر بغدادی ، بیت اللہ محسود، مصطفیٰ ابو یزید، اسامہ بن لادن، الیاس کشمیری، عطیۃ اللہ، انور العولقی، بدر منصور، ابو یحییٰ اللیبی، احسن عزیز، سعید الشہری،بدر الدین حقانی، عمران علی صدیقی، ابو دجانہ پاشا، قاری عمران، احمد فاروق، عزام الامریکی، مختار ابو زبیر، ابو بصیر ناصر الوحیشی، ابراہیم الربیش، حارث النظاری،اختر محمد منصور، اسامہ ابراہیم غوری، برہان مظفر وانی،رانا عمیر افضال، ذاکر موسیٰ، ارسلان سنبھلی، قاسم الریمی، محمد حنیف، ابو مصعب عبد الودود…… نا ممکن ہے کہ ان بیان کردہ چند ناموں میں سے کم از کم دو چار کو آپ نہ جانتے ہوں! لیکن کیا کسی ایک کے بھی قاتل کا نام کسی کو معلوم ہے؟

ان ناموں نے اللہ کے لیے مر کر، اپنے نام کو بفضل اللہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے اور اپنے مارنے والوں کو ہمیشہ کے لیے مار دیا ہے!

سر کٹ جائے ’جہاں‘ بھی جائے……

بچپن میں، مَیں ایک ترانےپر بہت سر دُھنتا تھا، اصل بول تھے ’سر کٹ جائے، جاں بھی جائے لے کے رہو کشمیر‘…… میں اپنے بچپن کی ادا میں سمجھتا تھا ’سر کٹ جائے ’’جہاں‘‘ بھی جائے……‘، اس سمجھ کے پیچھے میں نے ایک منطق بھی گھڑ رکھی تھی کہ کشمیر ہندوؤں سے حاصل کر کے رہو، چاہے سر کٹ جائے اور پھر وہ کٹ کر ’جہاں ‘بھی جائے اس سے بے پروا ہو کر کشمیر حاصل کرو۔ اللہ اپنے فضل سے یہ درجہ مجھے بوقتِ مرگ عطا کر دے، آمین!

پچھلے چند ماہ میں دنیا بھر میں سجے اہلِ سعادت و شہادت کے محاذوں سے چند جاننے والوں کی شہادتوں کی اطلاعات ملیں۔ معلوم ہوا کہ ایک ڈرون حملے میں شہید ہونے والے آٹھ ساتھیوں میں سے پانچ کے سر نہیں ملے۔ دل ذرا دُکھا پھر بچپن کا ’سمجھا‘ ہوا مصرع یاد آیا۔ سوچا کہ مرنے والوں کی اپنی خواہش یہی تھی کہ ان کے سر نہ ملیں، وہ قیامت کے دن سر کے بغیر مبعوث ہوں، اللہ پوچھے کہ سر کہاں ہے تو کہیں کہ تیری راہ میں کٹوایا، اڑوایا، قیمہ بنوایا، جلوایا، راکھ کروایا اور فضا میں بکھروایا کہ تُو راضی ہو جائے، تو پھر غم کاہے کا؟ یہ وہ سودا ہے جو سر میں سماتا ہے تو سر اڑواتا ہے پھر اترتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں پہنچواتا ہے پھر بھی اترتا نہیں ہے، وہاں بھی کہتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجو کہ پھر سر اڑواؤں!

اے اللہ اپنی عطا سے ہمیں شجاعت و سعادت کا راہی بنا اور اپنی ہی عطا سے یہ استقامت و شہادت دے دے، مانگنے والا بڑا ہی کمزور ہے!

٭٭٭٭٭


1 اس نام کواردو ذرائع ابلاغ میں ’کملا‘ لکھا جا رہا ہے، ایسا ہی ہو گا، لیکن جنس درست کر لیں یہ ’کملا‘ نہیں ’کملی‘ ہے!

2 (ایک حدیث کی رو سے)عربی میں کریم اس کو کہتے ہیں جو جب غلبہ پا لیتا ہے تو معاف کر دیتا ہے۔

3 مولانا تقی صاحب رقم طراز ہیں: ’’دینی گھرانوں میں ناولوں کا مطالعہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن میں نے نسیم حجازی مرحوم کے تمام ناول بھی اس لیے پڑھے تھے کہ اگر عربی ادب سیکھنے کے لیے مقامات، متنبّی اور سبعہ معلقہ پڑھے جا سکتے ہیں تو اردو ادب اور تاریخ کے لیے نسیم حجازی کے ناول ان سے بدرجہا غنیمت ہیں، اور ان سے ادب ِ اردو کا ایک خاص ذوق حاصل ہوتا ہے، اور فی الجملہ دینی فکر کو بھی مدد ملتی ہے۔‘‘ (یادیں، ماہنامہ البلاغ، ذیقعدہ ۱۴۴۰ ھ، ص ۱۳)

Exit mobile version