امیر کی اطاعت دوسروں پر فوقیت دینے كی شرط پر ناجائز ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ ہلاک ہو وہ شخص جو دینار کا غلام ہو، درہم کا غلام ہو اور چادر کا غلام ہو ،جب اس کو (مال و دولت اور لباس فاخرہ) ملے تو خوش اور راضی ہو اور اگر نہ ملے تو ناراض وناخوش ہواور (دیکھو) جب اس شخص کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو کوئی اس کو نہ نکالے۔ سعادت وخوش بختی ہے اس بندے کے لیے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے کھڑا ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ اور قدم غبار آلود ہیں، اگر اس کو لشکر کی اگلی صفوں کے آگے نگہبانی پر مامور کیا جاتا ہے تو پوری طرح نگہبانی کرتا ہے اور اگر اس کو لشکر کے پیچھے رکھا جاتا ہے تو لشکر کے پیچھے ہی رہتا ہے،اگر وہ لوگوں کی محفلوں میں شریک ہونا چاہتا ہے تو اس کو شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر کسی کی سفارش کرتا ہے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔‘‘
یعنی کہ جو شخص اسبابِ دنیا کے حصول کا حریص ہو جب اس کو کچھ دیا جائے تو خوش اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض، یہ شخص ہلاک ہو، اس کی کوئی مدد نہ کرے۔
اللہ کی نافرمانی کی صورت میں امیر کی اطاعت نہیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کی نافرمانی کی صورت میں مخلوق کی اطاعت لازم نہیں، اطاعت نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘
اطاعت کا ایک فائدہ یہ ہےکہ مسلمان متحد اور یک جان رہتے ہیں، کیونکہ مسلمان اگر متحد نہ ہوں تو ان میں سے ہر ایک فتنے میں پڑ جائے گا۔ اطاعت کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کی برکت سے مسلمان کافروں پر غا لب آتے ہیں۔
مسئولین اور امرا کے بارے میں نیک گمان رکھیے
تمام عوام اور خصوصاً مجاہدین کو چاہیے کہ اپنے امرا اور باقی مسئولین کے بارے میں نیک گمان رکھیں اور ان کی خدمات کو فاسد تاویلات سے ضرر نہ پہنچائیں اور ان سے اچھا گمان رکھیں۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ(سورۃ الحجرات: ۱۲)
’’اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور کسی کی ٹوہ میں نہ لگو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔‘‘
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس آیت کا معنیٰ یہ ہےکہ اگر ان کے کاموں میں ظاہراً آپ کو خیر نظر آتی ہے، تو پھر اہلِ خیر پر بدگمانی نہ کرو۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’بدگمانی کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ بدگمانی باتوں کا سب سے بدتر جھوٹ ہے اور بلا ضرورت دوسروں کے احوال کی ٹوہ میں نہ رہو، کسی کی جاسوسی نہ کرو، کسی کے سودے نہ بگاڑو، آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو اور سارے مسلمان اللہ کے بندے اور ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہو۔‘‘
امام قرطبی نے لکھا ہے:
’’ اس حدیث و آیت میں گمان کے معنیٰ تہمت کے ہیں، ممانعت اس بات کی ہوئی ہے کہ بلاوجہ کسی پر تہمت نہ لگائے، مثلاً کسی پر زنا یا شراب کی تہمت لگانا، لیکن اس پر اس تہمت کے کوئی بھی آثار نہ ہوں، یہی اس کی دلیل ہے کہ گمان یہاں تہمت کے معنیٰ میں ہے: یہ قول اللہ تعالیٰ کا ہے ’’ولا تجسسوا‘‘ کیونکہ جب کسی شخص کے دل میں دوسرے مسلمان کے بارے میں بدگمانی ہوجائے تو اس بدگمانی کو ثابت کرنے کے لیے، اس کی تحقیق کے لیے وہ تجسس کرے گا اور اس کی ٹوہ لگائے گا، اس کو اس گناہ پر دیکھنے اور سننے کی کوشش کرے گا، تاکہ اس تہمت جس کا اس کے دل میں گمان پیدا ہوا اس کو ثابت کردیا جائے، اس قسم کی بدگمانی اور تہمت سے نبی کریمﷺ نے منع کیا ہے اور وہ بدگمانی جس کا کرنا حرام ہے، وہ یہ کہ آپ کو اس کے ظاہری اسباب اور نشانیاں نظر نہ آئیں اور وہ شخص جس کے بارےمیں آپ بدگمانی کررہے ہوں اہلِ خیر میں سے ہو، یعنی نیک کام کرتا ہو اور امانت دار ہو تو اس پر تہمت لگانا حرام اور واجب الاجتناب ہے۔‘‘
بدگمانی کے نقصانات
بدگمانی کے بہت سے نقصانات ہیں:
پہلا یہ کہ ، جیساکہ آیتِ مبارکہ میں ذکر ہوا ہے اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ یعنی بعض گمانوں کی اتنی گناہ ہے جس کے کرنے سے ایک فرد سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے، اور وہ گناہ یہ ہے کہ مومنین پر بلاوجہ بدگمانی کی جائے۔
دوسرا یہ کہ، بدگمانی سے دلوں میں عداوت پیدا ہوتی ہے اور قریبی تعلق رکھنے والے افرادکے دلوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔
تیسرا یہ کہ ، جب امرا کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوجاتی ہے تو اس کا انجام امیر کی عدم اطاعتی ہوتا ہے۔
(وما علینا إلّا البلاغ المبین!)