آزمائش و ابتلا کو نعمتوں میں کیسے بدلیں؟ آزمائش کی نعمت کا مزہ کیسے حاصل کریں؟ قطع نظر اس سے کہ آپ کو زندگی میں کس کس مشکل کا سامنا ہے، آپ ایک پرسکون زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ آپ ہر معاملے کا سامنا مثبت اندازِ فکر اور امید و حوصلے سے کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ وہ گہرا و قریبی تعلق کیسے بنا سکتے ہیں، کہ آپ کو اس کی ذات کے سوا کسی کا خوف اور کسی سے امید نہ رہے؟ آپ ایک ناقابلِ شکست عزم اور ایک ناقابلِ شکست شخصیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ آپ اپنے دل کا تزکیہ کیسے کریں، کہ قسمت و تقدیر کو الزام دینا چھوڑ دیں تاکہ اللہ سے ایک سالم و پاکیزہ دل کے ساتھ ملاقات کر سکیں؟ آپ اپنے خالق و مالک، اپنے ربّ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اپنی محبت کو کیسے خالص و غیر مشروط بنا سکتے ہیں؟ تحریرِ ہٰذا میں آپ کو ان سوالوں کے جواب، اور مزید بہت کچھ ملے گا، ان شاء اللہ! (ادارہ)
اللہ مصائب و ابتلا کے ذریعے ہماری محبت کو جگاتا ہے
بشیر نے اپنے بچوں کے رویّے میں اپنے لیے موجود لا پروائی محسوس کی تھی۔ ہر صبح غسان اور رامی اس کے کمرے میں آتے اور اپنا جیب خرچ مانگنے کے لیے ہاتھ بڑھاتے۔ ’’ابّا جان! ہمارا خرچہ دے دیں‘‘، وہ احساس سے عاری معمول کے انداز میں کہتے۔ اپنے پیسے وصول کر لینے کے بعد وہ جلدی جلدی شکریہ ادا کرتے اور باہر کی جانب بڑھ جاتے۔
بشیر اپنے بیٹوں کو احساس دلانا چاہتا تھا کہ ان کا آپس میں تعلق فقط پیسوں کے گرد نہیں گھومتا ۔ تو ایک دن جب وہ اپنے بڑھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ اس سے اپنا جیب خرچ مانگ رہے تھے، اس نے اخلاص و محبت سے لبریز لہجے میں ان سے کہا: ’’میرے بیٹو ! میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں‘‘۔ بشیر کا خیال تھا کہ جب وہ یہ الفاظ کہے گا تو اپنے بیٹوں کی آنکھوں میں اس اظہارِ محبت کے جواب میں خوشی کی چمک، اور اس کی محبت کی قدر دیکھ سکے گا۔ مگر وہ اپنے بچوں میں ہر وہ نشانی ڈھونڈتا ہی رہ گیا جو اسے بتاتی کہ اس کے بچے اس سے اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ ان کا باپ ہے، نہ کہ محض اس سے ملنے والے جیب خرچ کی خاطر۔
اس کے بچوں کا جواب از حد مایوس کن تھا۔ انہوں نے غائب دماغی سے سر ہلا دیے اور کہا: ’’ہم بھی آپ سے محبت کرتے ہیں‘‘، جبکہ ان کے ہاتھ اب بھی اپنا جیب خرچ وصول کرنے کے لیے بڑھے ہوئے تھے اور ان کی نظریں اس کی جیب پر تھیں۔
بشیر کو صدمہ ہوا، اس کی مسکراہٹ تحلیل ہو گئی۔ اس نے جیب میں موجود بٹوہ چھوئے بغیر ہاتھ باہر نکال لیا۔ اس کے دونوں بیٹوں کو اچانک احساس ہوا کہ ان کے مابین ابھی ابھی کیا ہوا ہے، اور انہوں نے اپنے باپ کے نرم و محبت بھرے الفاظ کے جواب میں کس قدر بے ادبی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور صورتحال کا ازالہ کرنے کی کوشش کی۔
رامی نے کہنا شروع کیا:’’ابّا جان! مجھے معاف کر دیجیے۔ ظاہر ہے کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ میرے والد ہیں جو میرا خیال کرتے ہیں اور میری ضرورت کی ہر شے مہیّا کرتے ہیں، میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا‘‘۔ رامی نے اپنے جیب خرچ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے، اس کی توقع تھی کہ اس کے یہ جملے سن کر اس کے والد دوبارہ اپنا ہاتھ جیب میں ڈالیں گے اور رقم نکال کر اسے دے دیں گے۔
لیکن اس کے والد نے ایسا نہیں کیا، بلکہ جواباً بالکل خاموش رہے۔ تو رامی نے کہا:’’ابّاجان! مجھے اس رقم کی ضرورت ہے… میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسی بے حسی نہیں دکھاؤں گا، لیکن از راہِ کرم میرا جیب خرچ بند مت کریں‘‘۔
اس پر بھی جب اس کے والد نے کوئی جواب نہ دیا تو رامی غصّے میں آ کر کمرے سے نکل گیا۔
جہاں تک غسّان کا معاملہ تھا، تو وہ اس معاملے سے اندر تک ہل کر رہ گیا تھا!
وہ اپنے والد سے سچی محبت کرتا تھا، لیکن اپنے جیب خرچ کے چکر میں وہ اس محبت کا اظہار کرنے میں کوتاہی کر گیا تھا۔
اپنے والد کے چہرے پر لکھی مایوسی اور غم کی تحریر نے غسّان کے احساسات کو جگا دیا تھا اور اسے احساس ہو رہا تھا کہ کتنے عرصے سے وہ اپنے والد کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کر رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے اپنے والد کے جذبات محسوس کرنے میں انتہائی غفلت اور خود غرضی کا مظاہرہ کیا تھا، کیونکہ اس نے اپنے باپ کا دل خوش کرنے کی کوئی کوشش ہی نہ کی تھی۔
غسّان کی آنکھیں آنسووں سے لبریز ہو گئیں، اور وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولا: ’’میرے پیارے ابّا جان! مجھے معاف کر دیں۔ اتنے عرصے سے میں آپ کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا رہا! پلیز مجھے معاف کر دیں۔ آپ کی ایک مسکراہٹ میرے لیے اس پوری دنیا سے زیادہ قیمتی ہے!‘‘ یہ الفاظ کہتے ہوئے اس کی نظریں اپنے والد کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ اس کے چہرے سے غم کے سائے دور یا مدھم ہی ہو جائیں۔
لیکن اس کے والد اس کے الفاظ کے باوجود غمزدہ اور خاموش رہے۔ وہ ایک بھی لفظ بولے بغیر کمرے سے نکل گئے اور باہر کاؤچ پر بیٹھ گئے۔
غسّان اپنے والد کے پیچھے پیچھے گیا، اور اس نے انہیں راضی کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں، اس نے ان کے ہاتھوں اور سر کے بوسے لیے، اور بہتی آنکھوں کے ساتھ ان کے ہاتھ تھامے بیٹھا رہا، وہ کہہ رہا تھا:’’ابّا جان، مجھے معاف کر دیں، میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں!‘‘۔
بشیر اس وقت متضاد کیفیتوں میں گھِرا ہوا تھا۔ ایک طرف اپنے بیٹے کو اس شکستہ حالت میں دیکھنا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا، لیکن دوسری جانب وہ ابھی تک اپنے بیٹوں کے ابتدائی بے حس روّیے سے صدمے کا شکار تھا۔ یوں بھی وہ نہیں جانتا تھا کہ غسّان کی اس سے محبت کتنی خالص ہے۔ وہ کچھ بھی کہے بغیر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا اور اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا۔
غسّان خود کو گمشدہ محسوس کر رہا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے کہ یہ حالات درست ہو جائیں۔ وہ اپنے والد کے پیچھے گیا اور بند دروازے کے پیچھے سے ہی اسے پکارنے لگا۔ ’’ابّاجان! پلیز، آپ کو ناراض کر کے میرے لیے زندہ رہنا مشکل ہے۔ مجھ سے آپ کو ناراض اور خود سے مایوس دیکھنا برداشت نہیں ہو رہا، میں نے غلط کیا ابّا جان، لیکن میں آپ سے محبت کرتا ہوں، پلیز مجھے معاف کردیں، پلیز میری طرف مسکرا کر دیکھیں، پلیز مجھے اپنے سینے سے لگا لیں!‘‘۔ غسّان کے رونے کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔ ایک ایسے بچے کی طرح جس سے کسی ویرانے میں اپنی ماں کھو گئی ہو۔
یہ وہ لمحہ تھا کہ غسّان کے آنسووں نے اس کے باپ کے دل میں بنی اجنبیت کی دیوار ڈھا دی!
اس نے دروازہ کھولا، گھٹنوں کے بل بیٹھے اپنے بیٹے کو اٹھایا، اسے سینے سے لگایا، اس کے آنسو پونچھے اور اس کا سر چوم لیا۔ غسّان کا رونا جاری رہا، لیکن اب اس کے آنسو خوشی اور تشکر کے آنسو تھے کہ اس کے دل میں موجود باپ کی محبت کی تڑپ کو قرار آ گیا تھا۔
بشیر نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا کہ غسّان کو اس کا جیب خرچ دے دے، لیکن غسّان نے بٹوہ دوبارہ اپنے باپ کی جیب میں ڈال دیا، یہ کہتے ہوئے کہ :’’مجھے رقم نہیں چاہیے۔ مجھے صرف اپنا محبت کرنا والا باپ چاہیے۔ جب تک آپ مجھ سے خوش اور راضی ہیں، مجھے اور کسی چیز کی پروا نہیں‘‘۔
اور سب سے بہترین مثال کی نسبت اللہ ہی سے ہے۔ اللہ اپنے بندے کی خود سے محبت کو سکڑتا سمٹتا اور دنیاوی نعمتوں کی جانب اس کی رغبت کو بڑھتا ہوا دیکھتا ہے، جبکہ وہ اپنے بندوں کی جانب عفو و کرم، محبت اور نعمتوں کے ساتھ بڑھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی اس کی محبت کا جواب محبت سے دیں۔
سو جب وہ اپنے بندوں کے رویّے میں بے حسی اور کوتاہی کے سوا کچھ نہیں پاتا ، تو وہ اپنی رحمتوں اور نعمتوں میں سے کچھ روک لیتا ہے، تاکہ انہیں ان کی غفلت سے جھنجھوڑ نکالے اور انہیں احساس دلائے کہ اس کی نعمتوں نے انہیں خود اللہ ، سب نعمتوں کے عطا کرنے والے سے غافل کر دیا ہے۔
لیکن رامی جیسے بے حس لوگ اس سبق کا ادراک نہیں کر پاتے۔ وہ اپنی غفلت و کوتاہی میں ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں کیونکہ ان کے دل و دماغ اپنے ’’جیب خرچ‘‘ پر ہی مرکوز ہوتے ہیں۔ وہ اللہ سے معافی کے طلبگار ہوتے ہیں ، اور بھلائی کے کام کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، مگر صرف اور صرف اپنے ’جیب خرچ‘ کے حصول کی خاطر۔ ان کا اصلی مسئلہ اللہ کی جانب سے ملنے والی تنبیہ نہیں ، بلکہ اپنے ’جیب خرچ‘ کی بحالی ہے ۔
کس قدر سطحیت، کم نظری اور بے حسی ہے۔ وہ صرف اس بات پر غور و فکر کرتے ہیں کہ اپنی نعمتوں کی بحالی کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے ، جبکہ انہیں شکر گزار بن کر رہنے اور محبت کا جواب محبت سے دینے کی کوئی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔
جبکہ غسّان جیسے حساس، نرم دل اور احساس مند لوگوں کے لیے ’جیب خرچ کا بند ہو جانا ‘ (یعنی نعمت کا کٹ جانا)، ان کی نظر پر پڑے پردے کو ہٹا دیتی ہے اور انہیں اصل مسئلے اور پریشانی کے سبب کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن جاتی ہے: یعنی اللہ کے حقوق ادا کرنے میں ان کی کوتاہی، اور اس کی جانب ان کے رویّے کا ناشکرا پن۔ ایسے لوگوں کی اوّلین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اللہ، اپنے ربّ کو راضی کر لیں، یہ ثابت کر دیں کہ وہ بھی اس کی محبت کے جواب میں اس سے محبت کرتے ہیں ۔ جیب خرچ کی بحالی تو محض ایک ثانوی مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ اگرچہ مشکل سے ہی لیکن جیب خرچ کے بغیر بھی وہ گزارا کر سکتے ہیں جبکہ اللہ کی محبت و خوشنودی کے بغیر، اس کی حمایت سے محروم ہو کر ایک لمحہ گزارنے کا تصور بھی ناقابلِ برداشت ہے۔
ہو سکتا ہے کہ نتیجتاً دونوں لڑکوں کا جیب خرچ بحال ہو جائے۔
كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا(سورۃ الاسراء: ۲۰)
’’(اے پیغمبر) جہاں تک (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کا تعلق ہے ہم اِن کو بھی اس سے نوازتے ہیں، اور اُن کو بھی اور (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کسی کے لیے بند نہیں ہے۔‘‘
لیکن بے حس و کوتاہ شخص اس آزمائش میں سے تبدیل ہوئے بغیر نکل آتا ہے، کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کیے بغیر، کیونکہ جیب خرچ کی بحالی ہی اس کا اوّل و آخر ہدف و مقصد تھا۔
جبکہ نصیحت حاصل کرنے والے بیدار شخص کے لیے یہ آزمائش بھی بہترین نعمت بن کر آتی ہے، کہ یہ اس کی روح کو غفلت و کوتاہی کی زنجیروں سے آزاد کرتی ہے اور اسے محبتِ الٰہی کے حلقے کی جانب اٹھاتی ہے۔
مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (سورۃ ھود: ۲۴)
’’ان دو گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا دیکھتا بھی ہو، سنتا بھی ہو۔ کیا یہ دونوں اپنے حالات میں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟‘‘
کہا جاتا ہے کہ بعض متّقین، جن کی شہرت ا ن کا مستجاب الدعوات ہونا تھا، اللہ سے آزمائش و ابتلا سے خلاصی کی دعا نہیں مانگا کرتے تھے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ ان روایات میں مبالغہ ہے۔ ہو سکتا ہے ! لیکن اگر آپ اس حصّے میں کی گئی گفتگو پر غور کریں اور ان مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں، تو ایسی روایات آپ کو دور کی باتیں محسوس نہیں ہوں گی۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی آزمائش کو اللہ کی جانب سے تنبیہ کے طور پر لیا ہو، کہ وہ اللہ کی طرف غفلت و کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں اور اللہ اپنی محبت کے جواب میں ان سے محبت کا اظہار چاہتا ہے۔ جب سوچنے کا انداز بدل جائے اور دماغ اس طرز پر سوچنے لگے، تو آزمائش میں مبتلا شخص ان امور کو ڈھونڈنے لگتا ہے جہاں اس سے کوتاہی ہوئی ، اپنے دل میں محبت کی آگ کو از سرِ نو زندہ کرتا ہے، اور اللہ سے اپنی محبت کے اظہار کے مواقع تلاش کرتا ہے۔
جب ذہن اس نہج پر چلتا ہو، تو ایسا شخص با آسانی اللہ سے اپنی مصیبت کا خاتمہ کرنے کی دعا کرنا بھول سکتا ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ ایسی دعا کرنے کو بے ادبی شمار کرے، کیونکہ اس سے مصیبت و ابتلا کے سبب : ’یعنی اللہ کی محبت کا جواب محبت سے دینے‘ کی طرف بے توجہی و بے پروائی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ابتلا کے جاری رہنے سے اسے اللہ کی محبت کے دائرے میں شامل ہونے اور شامل رہنے کا ایک مسلسل داعیہ اور ایک مستقل یاد دہانی ملتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز اپنے دل کو محبت کے معنی و مفہوم سے زندہ رکھنا بن جاتا ہے، اور وہ اللہ کی حکمت و رحمت پر مکمل اعتماد و یقین کے ساتھ مصیبت سے نجات کا وقت اس پر چھوڑ دیتا ہے۔
کیا اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ آزمائش و ابتلا کے ذریعے کیسے ہماری محبت کو جگاتا ہے؟
کیا آپ کو ہمارے نبی ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد ہے کہ:
’’اذا احب اللہ قوماً ابتلاھم‘‘
’’جب اللہ کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے‘‘
خلاصہ کلام
آزمائشوں کو مثبت نظر سے دیکھیے۔ انہیں محض اللہ کی جانب سے سزا کے طور پر مت دیکھیے بلکہ اللہ کی جانب سے ایک یاد دہانی کے طور پر لیجیے، ایک ٹہوکہ، جو آپ کو یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اللہ سے اپنی محبت کو دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔
جب اللہ ہماری جانب سے غفلت و لاپروائی، اور ہماری سرد مہری دیکھتا ہے تو وہ ہمیں آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ ہم اللہ سے اپنے تعلق کا جائزہ لے سکیں ۔ اپنے رویّے پرشرم، ندامت اور پشیمانی محسوس کر سکیں ، اس سے محبت کو دل میں تازہ کریں، اور اس کے قریب ہو جائیں۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
