عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

سات ریاستوں پر مشتمل متحدہ عرب امارات اپنی ترقی یافتہ ریاستوں ابو ظہبی اور دبئی کے سبب ہر خاص و عام میں مشہور ہے۔ یہاں کی بلند و بالا عمارتیں (skyscrapers)، یہاں کے ساحل، کلبز ، ہوٹلز،  سیاحتی مقامات، اپنے تمام اسبابِ عیش و عشرت اور عیاشی کے، ہر مال دار کے لیے پر کشش ہیں۔ اسی لیے یہ ملک ہر طرح کے جرائم پیشہ، بد کردار  اور لٹیروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ یہاں ہر طرح کی فحاشی و عریانی اور ہر طرح کی برائیاں سر انجام دینے کی انہیں مکمل سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اسی لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے لٹیرے اپنا سیاہ دھن لٹانے کے لیے دبئی اور ابو ظہبی  کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں میں متحدہ عرب امارات کا ایک بھیانک کردار سامنے آیا ہے جس میں آل زائد نے خطے کے ممالک میں علیحدگی پسند  مسلح ملیشیاؤں کی مسلمانوں کے خلاف غندہ گردی کی سرپرستی کی اور اسرائیل و امریکہ کا مہرہ بن کر امت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔

پس منظر

یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب ۲۰۱۱ء میں جب عرب مسلمانوں میں انقلاب و بیداری کی  تحریکیں اٹھیں جسے عرب بہار (Arab Spring) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جب تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے آمریت کے خلاف پر زور آواز اٹھائی۔ تب ان نسلی بادشاہوں کو اپنی بادشاہت چھن جانے کا خوف ہوا تو انہوں نے    پہلے تو طاقت کے زور پر اور پھر باقاعدہ سازشی چالیں چل کر پورے مشرق وسطی سے افریقہ تک ان تمام انقلابی تحریکوں کو کچلنے کا کام شروع کیا، اور  وار لارڈز اور ملیشیاؤں کو ان ممالک میں مستقل بد امنی اور خونریزی جاری رکھنے کے لیے ہر طرح سے سپورٹ فراہم کی۔  متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی حکومتوں کو اس بات کا خوف لاحق ہو گیا کہ اگر عربوں میں شعور بیدار ہو گیا تو ان کا انجام عمر قذافی اور حسنی مبارک جیسا ہو گا۔ یہی وہ وقت تھا جب سعودی عرب کے محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے محمد بن زائد نے اپنی عوام کو مغربی تہذیب کی چکا چوند اور بے راہ روی کی نوجوان نسل میں بہت بڑے پیمانے پر ترویج کی۔ اور پچھلے ڈھائی سال اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ان کی سازش نے بہت اندر تک امت مسلمہ کو نقصان پہنچایا۔ ڈھائی سال سے جاری غزہ اور مغربی کنارے میں صہیونی ظلم و بربریت نے اپنے سارے ریکارڈ توڑ دیے،  لیکن عرب مسلمانوں کی وہ غیرت ہی مر گئی کہ ان کے ماتھے پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ اپنی زندگی اور عیاشیوں میں مست ہیں ۔اس اخلاقی بےراہروی کی مہم جوئی نے ایک ایسا مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا جس کے اندر دینی حمیت ہی مفقود ہے۔

سیاسی زاویہ

متحدہ عرب امارات نے پچھلی ایک دہائی میں خطے میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ سے لے کر افریقہ تک ایرانی طرز پر اپنی پراکسیز کے ذریعے خطے کے کمزور ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی مسلط کر رکھی ہے۔ ان ممالک میں لیبیا، یمن، صومالی لینڈ اور سوڈان شامل ہیں۔ یہ سازشوں کا ایک رخ ہے، جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ ابوظہبی نے خلیج عدن پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے نہ صرف باب المندب کے ارد گرد اہم سٹریٹجک مقامات پر اپنے فوجی اڈوں کا ایک جال بچھایا ہے بلکہ افریقہ میں مختلف مواصلاتی پراجیکٹ شروع کر کے اس بات کو بھی ممکن بنایا ہے کہ خطے میں متشدد  علیحدگی پسند گروہوں کے ساتھ اسلحہ اور وسائل کا لین دین خاموشی سے جاری رہ سکے۔

یہاں ہم مختصراً متحدہ عرب امارات کی پراکسیز(  علیحدگی پسند اسلام مخالف متشدد ملیشیا) اور سازشوں کا جائزہ لیں گے۔

لیبیا

۲۰۱۱ءلیبیا میں عرب بہار کے نتیجے میں جب معمر قذافی کو مارا گیا، تو وہاں متعدد دینی و جہادی تنظیموں انصار الشریعہ  اور دیگر گروپس نے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ اس دوران نیٹو اور سیکولر گروہوں کے درمیان شدید لڑائیاں جاری رہیں۔۲۰۱۴ء میں متحدہ عرب امارات اور مصر نے دینی و جہادی تنظیموں کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر خلیفہ حفتر  اور اس کی تنظیم Libyan National Army (LNA)  کو سپورٹ اور مسلح کیا۔ جس کے نتیجے میں خلیفہ حفتر نے مشرقی لیبیا پر قبضہ جما لیا۔  اس سازش کا یہ نتیجہ نکلا کہ عرب بہار کو کچل دیا گیا اور دینی و جہادی تحریکوں کو کمزور کر دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات اب بھی لیبیا میں خلیفہ حفتر کی سیکولر ملیشیا کو مکمل سپورٹ کرتی ہے اور لیبیا اب تک عدم استحکام کا شکار ہے۔

یمن

یمن اپنے جغرافیائی اور سٹریٹجک محل وقوع اور سیاسی طور پر غیر مستحکم ہونے کی بدولت متحدہ عرب امارات کا ایک اور شکار بن گیا۔۲۰۱۵ء میں ابو ظہبی نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمنی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تاکہ حوثیوں کو ختم کیا جائے اور عبد الرب منصور ہادی کی حکومت کو بحال کیا جائے۔ جس کے تحت امارات نے اپنے دس ہزار فوجی  اور بڑی تعداد میں کرائے کے قاتل(mercenaries) اور آر ایس ایف (RSF) کے لوگ بھی بھرتی کیے۔  ۲۰۱۶ء میں ابو ظہبی، سعودی اتحاد سے الگ ہو گیا اور اس نے جنوبی یمن میں علیحدگی پسندوں کی حمایت سے ایس ٹی سی (Southern Transitional Council  اور این آر ایف (National Resistance Forces)  جیسے گروپس تشکیل دیے اور ان گروپس کو اسلحہ، تربیت ,لاجسٹک اور مالی سپورٹ کی۔  جس کا مقصد جنوبی یمن کی بندرگاہوں اور جزیروں پر اپنا مکمل اثر و رسوخ قائم کرنا تھا، جس کے لیے اس نے یمن کے جزیروں سقوطرہ (Socotra) میون (Mayun)، عبد الکوری (Abd al Kuri ، سماحہ (Samahah ) کے سا حلی علاقوں میں اپنے فوجی اڈوں کا ایک سرکل ترتیب دیا۔  یہ تمام بیسز  خلیج عدن میں واقع دنیا کے اہم ترین سمندری گزرگاہ (chokepoint)  باب المندب پر نظر رکھنے اور اسے کنٹرول کرنے کے مقصد سے بنائی گئی تھیں۔  یہ صورتحال تب بدلی جب دسمبر ۲۰۲۵ء میں STC نے سعودی سرحدی علاقے حضر موت پر ایک بڑا حملہ کیا اور قبضہ کر نے کی کوشش کی۔

سعودی عرب نے بھی نہ صرف  بھرپور جوابی کارروائی کی بلکہ امارات کو یمن سے نکلنے کے لیے  ۲۴ گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا اور مشترکہ دفاعی معاہدہ ختم کر دیا۔ اس کے نتیجے میں تمام اماراتی فوجیوں نے یمن کی بیسز خالی کر دیں ۔ ایس ٹی سی کے سربراہ عیدروس الزبیدی کوصومالی لینڈ کے راستے فرار کروا دیا، اور ظاہری طور پر ایس ٹی سی تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔  مقامی طور پر یہ گروپس وہاں موجود ہیں لیکن غیر فعال ہیں۔

صومالی لینڈ اور پونٹ لینڈ

قرن افریقہ صومالیہ کی عالمی سمندری راہداری اور افریقہ کے اندرونی علاقوں تک تجارت کی راہداریوں میں بے پناہ سٹریٹجک اہمیت نے اس ملک کو متحدہ عرب امارات کی نظر میں ۲۰۱۰ء کے آس پاس اہمیت دے دی۔ ابو ظہبی کے لیے صومالیہ، افریقی ممالک تک رسائی اور تجارتی تعلقات کے لیے، اس کی پالیسی کا اہم مرکز رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے صومالی فورسز کو القاعدہ کی تنظیم الشباب کے خلاف تربیت دی اور ان کے خلاف آپریشنز میں بھی مدد فراہم کی ۔لیکن ابو ظہبی اور موغادیشو کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا اور صومالیہ متحدہ عرب امارات کے زیر اثر نہ آ سکا تو یہاں بھی امارات نے باغی علاقوں صومالی لینڈ اور پونٹ لینڈ میں علیحدگی پسند گروہوں کو اسلحہ وسائل اور تربیت فراہم کی۔ پونٹ لینڈ کی پولیس (PMPF) بھی ایک اماراتی کمپنی کے ماتحت ہے۔ جبکہ صومالی لینڈ کی فوج کو بھی اماراتی حکومت نے ٹریننگ دی تاکہ وہ صومالیہ کی حکومت سے مکمل طور پر خود مختار ہو جائے۔ ۲۰۱۷ء میں صومالی لینڈ نے متحدہ عرب امارات کو اپنی بربیرہ بندرگاہ پر  فوجی بیس قائم کرنے کی اجازت دے دی۔ اس وقت وہاں جدید ترین فوجی بیس موجود ہے۔ اس کے علاوہ ابوظہبی اور صومالی لینڈ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کو ایک ریلوے لائن سے جوڑنے کا پروجیکٹ امارات کو دیا گیا۔ تاکہ لینڈ لاک ملک ایتھوپیا کو صومالی لینڈ کی بندرگاہ تک رسائی حاصل ہو ۔ ریلوے لائن کا  یہ منصوبہ پورا ہوا  اور اس کے بعد سے یہ زمینی راستہ استعمال کر کے ابو ظہبی سوڈان کی خانی جنگی کو بڑھانے کے لیے اسلحہ، کرائے کے فوجی اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی پہنچاتا ہے  اور اس وقت سوڈان سب سے زیادہ ڈسا ہوا ملک ہے۔

سوڈان

پچھلے تین سال سے زائد عرصہ سے سوڈان انتہائی تباہ کن حالات سے دوچار ہے ۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ان تین سالوں میں الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹھاون ہزار   تو وہ اموات ہیں جو ریکارڈ کی گئی ہیں۔ چونکہ شدید جنگ زدہ علاقوں تک تو کسی ادارے کی رسائی نہیں  لہٰذا اندازے کے مطابق اصل تعداد ڈیڑھ لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ ہے۔

بھوک اور خوراک کی کمی کا یہ حال ہے کہ دو کروڑ نوے لاکھ افراد (کل آبادی کا ساٹھ فیصد ) خوراک کی کمی کا شکار ہے ان میں سے اکثر خاندان پورے دن میں ایک وقت کھانا کھا پاتے ہیں۔ اندازہ کریں کس قدر تکلیف دہ حالات سے دوچار ہیں وہاں کے مسلمان، اور ان حالات کے پیچھے آل زائد کا ایک بڑا کردار ہے۔

سوڈان کے موجودہ حالات، خانہ جنگی اور نسل کشی کو سمجھنے کے لیے سوڈان کے ماضی کے حالات کا ایک اندازہ ضروری ہے۔

۲۰۱۹ء میں سوڈان کے صدر عمر البشیر کا تیس سالہ دور اقتدار عوام کی شدید مخالفت کے بعد ختم ہوا تو ایک پاور گیپ آ گیا۔  عمر البشیر نے دو دہائی قبل سوڈانی فوج کے متوا زی ’’جنجاوید‘‘ کے نام سے اپنا ایک مسلح گروہ تشکیل دیا ، جس کا مقصد مغربی سوڈان (دارفور) میں اٹھنے والی غیر عرب افریقی بغاوت کو کچلنا تھا۔ جنجاوید نامی اس ملیشیا نے اس وقت تین لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا۔ بعد میں اس گروہ کو صدر عمر البشیر نے آر ایس ایف (Rapid Support Force) کا نام دے دیا۔ جبکہ سوڈانی فوج ایس اے ایف (Sudanese Armed Forces) کہلائیں۔ عمر البشیر کی قیادت میں یہ دونوں افواج ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔

معاملہ اس وقت بگڑا جب عوامی احتجاج کے بدولت عمر البشیر کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، عوامی نمائندوں نے ایک جمہوری حکومت کی تشکیل دی لیکن اسے چلنے ہی نہیں دیا گیا اور ۲۰۲۱ء میں سوڈانی فوج (SAF) نے جنرل عبد الفتاح برہان کی قیادت میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جبکہ آر ایس ایف(RSSF) کی قیادت جنرل محمد حمدان المعروف حمیدتی کے ہاتھ میں ہے۔ جنرل برہان نے کوشش کی کہ آر ایس ایف کو سوڈانی فوج میں ضم کر کے ایک فوج بنا لی جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور ان دونوں گروہوں میں طاقت اور حصول اقتدار کی ایک ایسی جنگ شروع ہو گئی جو اب تک جاری ہے اور جتنی بھاری قیمت اس جنگ کی وہاں کے عوام نے چکائی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔

موجودہ صورتحال

ان دونوں گروہوں میں زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کے لیے مسلسل جنگ جاری ہے۔  اس وقت  مشرقی اور شمالی سوڈان کے ساٹھ فیصد علاقوں پر، بشمول دارالحکومت خرطوم، جنرل برہان کی SAF  کا قبضہ ہے۔ جبکہ  مغربی سوڈان میں پورا دارفور اور جنوبی کوردوفان شامل ہے اور شمالی کوردوفان خصوصا ً اس کے علاقے الفاشر میں شدید جنگ اور عام شہریوں کا قتل عام  جاری ہے۔  یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایف (RSF) کا وجود ہی بدمعاشی ، خون ریزی اور خواتین کی کھلے عام عصمت دری سے تعبیر ہے۔ اس وقت بھی سب سے زیادہ تباہی قتل عام اور آبرو ریزی یہی کر رہے ہیں۔ جس علاقے میں بھی یہ جاتے ہیں وہاں پانی، بجلی خوراک اور ضروریات زندگی شہریوں سے چھین لیتے ہیں۔ ان کے جرائم کی ایسی ایسی ہولناک باتیں ہیں جو منظر عام پر آ جاتی ہیں یا یہ خود اپنے جرائم کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں۔

سوڈان میں متحدہ عرب امارات کا کردار

اگرچہ متحدہ عرب امارات سرکاری طور پر آر ایس ایف کی حمایت سے انکار کرتی ہے لیکن یہ  حقیقت ہر لحاظ سے واضح ہو گئی ہے کہ آر ایس ایف (RSF) صرف ایک مسلح ملیشیا نہیں ہے بلکہ یہ وسیع تجارتی اثر و رسوخ رکھنے والے ایک معاشی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ جنرل حمیدتی نے آر ایس ایف کی سربراہی میں وسیع سونے کے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا۔ پورے سوڈان میں سونے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں ۔ اور یہی سونا ہے جو دونوں گروہوں کو لڑنے کے لیے تمام تر وسائل مہیا کر رہا ہے۔  ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۴ء میں آر ایس ایف (RSF) کے زیر کنٹرول سونے کی پیداوار تقریبا دس ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ جو کہ ایسی غیر معمولی آمدنی ہے جس نے ان کی مالی معاونت کی اور اسلحہ کی بلا رکاوٹ ترسیل ممکن بنائی۔

حمیدتی کے بھائی الگونی دوغلو کے کاروبار کی پوری امپائر دبئی میں موجود ہے جہاں سوڈان سے سونا سمگل کر کے بھیجا جاتا ہے اور وہاں ہی اس کی تجارت ہوتی ہے، اور امارات کی حکومت براہ راست اس میں ملوث ہے۔  جو سونا وہاں جاتا ہے اس کے بدلے  جدید ترین ہتھیار اور ڈرون ٹیکنالوجی اور کرائے کے قاتلوں (mercenaries) کو بھرتی کر کے سوڈان پہنچایا جاتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات، لیبیا، چاڈ، یوگنڈا اور دیگر پڑوسی ممالک  کے ذریعے یہ سب کچھ سوڈان  پہنچاتی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ سوڈان کسی طور بھی مستحکم اور خود مختار نہ ہو سکے۔ کیونکہ وہاں موجود سونا اور قدرتی ذخائر کے علاوہ وہاں کی زرعی  پیداوار حتیٰ کہ وہاں سے  مال مویشی بھی امارات میں در آمد کیے جاتے ہیں۔ سوڈان کے علاقے الفاشر میں جب آر ایس ایف نے قبضہ کیا تو جس خونریزی اور عصمت دری کا بازار گرم کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ حال ہی میں اقوام متحدہ ایک تحقیقی رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدے داروں نے کولمبیا سے ریٹائرڈ فوجیوں اور کرائے کے قاتلوں کو باقاعدہ تنخواہ پر آر ایس ایف میں شمولیت کے لیے بھرتی کیا۔ ان میں ڈرون آپریٹرز اور ٹرینرز بھی شامل تھے۔ پھر انہیں لیبیا، چاڈ اور صومالیہ کے ُپونٹ لینڈ کے ذریعے دارفور پہنچایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی بھی دی گئی، اور الفاشر پر آر ایس ایف (RSF) کا قبضہ ممکن ہوا۔ اس میں ۳۰۰ سے ۴۰۰ کرائے کے قاتل شامل تھے۔

  ایک اور اہم وجہ جس کا متحدہ عرب امارات بار بار ذکر کرتا ہے وہ یہ کہ وہ سوڈان میں بھی دراصل دینی و جہادی تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے آر ایس ایف کا ساتھ دے رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی اسلام مخالفت آپ کو اس کی ہر پالیسی اور ہر اہم اقدام میں نظر آئے گی۔  الجزیرہ اور دیگر میڈیا ذرائع کی  ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق ’امریکہ نے ’’سوڈانی اخوان المسلمون‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی اور الزام لگایا کہ سوڈانی اخوان المسلمون کو ایرانی پاسداران انقلاب کی سپورٹ حاصل ہے ۔ اور سوڈان میں جتنی قتل و غارت اور انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے سوڈانی اخوان المسلمون اس کی ذمہ دار ہے۔ اخوان المسلمون سوڈانی فوج (SAF) کے ساتھ مل کر آر ایس ایف سے لڑ رہی ہے‘۔ اس وقت اس معاملے کو اٹھانا صاف ظاہر ہے کہ آر ایس ایف اور اس کی غندہ گردی کو جائز قرار دینے کی ایک کوشش ہے، اور متحدہ عرب امارات نے آگے بڑھ کر اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

اختتامیہ

متحدہ عرب امارات ایک ایسا ملک ہے جس کے ملک میں اس کے مقامی باشندوں کی آبادی کل آبادی کا صرف ۱۱ فیصد ہے۔ ( کل آبادی ایک کروڑ دس لاکھ ہے جبکہ وہاں کے مقامی باشندوں کے آبادی ۱۳ لاکھ ہے) ۔جہاں پیشہ ور افراد سے لے کر مزدور طبقے تک سب باہر سے امپورٹ کیا جاتا ہے۔ جن بنیادوں پر یہ ملک کھڑا ہے یہ بنیادیں ہی کھوکھلی ہیں ۔ لیکن آل زائد نے اسلام مخالف مقصد کے ساتھ پورے خطے کے حالات کو غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ صہیونیوں سے ان کا یارانہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس شئرنگ پلیٹ فارم موجود ہے جسے crystal ball کہا جاتا ہے۔ جس کے ذریعے وہ شراکت داری میں علاقائی انٹیلی جنس کو ترتیب، نافذ اور فعال بناتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے حکمرانوں سے فلسطینیوں کا قاتل نتن  یاہو بھی خفیہ دورے کر کے ملتا ہے اور ہر طرح کی دفاعی ٹیکنالوجی (آئرن ڈوم) ، میزائل ٹیکنالوجی، ریڈار سسٹم حتیٰ کہ ان کی افواج کی مشترکہ ٹریننگ بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں۔

اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد جب غزہ میں اسرائیل مظالم کے پہاڑ توڑ رہا تھا اور یمنی حوثیوں نے باب المندب اسرائیلی تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا، تو متحدہ عرب امارات ہی وہ ملک تھا جس نے نہ صرف اسرائیل کو زمینی تجارتی روٹ مہیا کیا بلکہ اس دوران اسرائیل سے تجارتی تعلقات بھی بڑھا کر فلسطینیوں سے غداری کی۔ متحدہ عرب امارات نے جس طرح خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلمان ممالک، دینی و جہادی تحریکوں کے خلاف سازشوں کے جال بنے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کے صہیونی منصوبے میں متحدہ عرب امارات کا بہت اہم کردار ہو گا۔ کیونکہ اسرائیل سے اپنی وفاداری ثابت کرنے میں اس نے خطے کے دوسرے ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب تو یہ رپورٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ چالیس روزہ ایران، اسرائیل، امریکہ جنگ میں  متحدہ عرب امارات نے نہ صرف اپنے فوجی اڈے امریکہ کو استعمال کی اجازت دی، بلکہ  ایران کے خلاف اسرائیل سے اظہار ےیکجہتی کے لیے ایران کے خلاف حملوں میں بھی حصہ لیا۔ اسی طرح بی بی سی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے چند ہفتے قبل ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا  کہ ایران امریکہ و اسرائیل جنگ کے دوران نتین یاہو نے متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ  بحیثیت امت ہمیں اپنے دشمنوں اور ان کے چیلوں کی پالیسیوں،اقدامات اور اہداف کا علم ہو۔ تاکہ  ہم کسی خوش فہمی کا شکار ہو کر ان کی سازشوں کا شکار نہ ہو جائیں ۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version