محمد ابراہیم لَڈوِک (زید مجدہ) ایک نو مسلم عالمِ دین ہیں جنہوں نے عالَمِ عرب کی کئی جامعات میں علم دین حاصل کیا۔ موصوف نے کفر کے نظام اور اس کی چالوں کو خود اسی کفری معاشرے اور نظام میں رہتے ہوئے دیکھا اور اسے باطل جانا، ثم ایمان سے مشرف ہوئے اور علمِ دین حاصل کیا اور حق کو علی وجہ البصیرۃ جانا، سمجھا اور قبول کیا، پھر اسی حق کے داعی بن گئے اور عالَمِ کفر سے نبرد آزما مجاہدین کے حامی اور بھرپور دفاع کرنے والے بھی بن گئے (نحسبہ کذلك واللہ حسیبہ ولا نزکي علی اللہ أحدا)۔ انہی کے الفاظ میں: ’میرا نام محمد ابراہیم لَڈوِک ہے ( پیدائشی طور پر الیگزانڈر نیکولئی لڈوک)۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا اور میں نے علومِ تاریخ، تنقیدی ادب، علمِ تہذیب، تقابلِ ادیان، فلسفۂ سیاست، فلسفۂ بعد از نو آبادیاتی نظام، اقتصادیات، اور سیاسی اقتصادیات امریکہ اور جرمنی میں پڑھے۔ یہ علوم پڑھنے کے دوران میں نے ان اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کی جو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ہیں اور اسی دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک سیاسی اور اقتصادی نظام ہے جو حقیقتاً اور بہترین انداز سے ان مسائل کا حل لیے ہوئے ہے اور یوں میں رمضان ۱۴۳۳ ھ میں مسلمان ہو گیا‘، اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بھائی محمد ابراہیم لڈوک کو استقامت علی الحق عطا فرمائے، آمین۔جدید سرمایہ دارانہ نظام، سیکولر ازم، جمہوریت، اقامتِ دین و خلافت کی اہمیت و فرضیت اور دیگر موضوعات پر آپ کی تحریرات لائقِ استفادہ ہیں۔ مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ شیخ محمد ابراہیم لَڈوِک (حفظہ اللہ) کی انگریزی تالیف ’Islamic Boycotts in the Context of Modern War ‘ کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)
احتیاطی نکات
تکبر، نمود و نمائش، اور دوسروں کو حقیر جاننے سے اجتناب
یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات میں سے ہے کہ ہم اس امر کے لیے جدو جہد کریں اور خود کو کھپائیں کہ اللہ تعالی کا کلمہ ہی سب سے بلند ہو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فتح ہماری اپنی کوششوں کا نتیجہ ہے، بلکہ یہ تو خاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے، اور ہماری اپنی کوششیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ ارحم الراحمین کی رحمت اور سخاوت ہی ہے کہ اس امت کو فتح نصیب ہوتی ہے۔ یہ مقصد صرف اسی صورت حاصل ہو سکتا ہے جب ہماری کوششیں اخلاص کے ساتھ اکیلے اللہ کے لیے ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيکَ حَتَّی اسْتُشْهِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ1صحیح مسلم
’’ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہو گا۔ اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو تو اس لیے لڑتا رہا کہ تجھے بہادر کہا جائے۔ بلاشبہ! وہ کہا جا چکا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو، یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا، اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی۔ وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا! تو نے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے، سو یہ کہا جا چکا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہو گا جس پر اللہ نے وسعت کی تھی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا تھا اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی، وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستہ میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو تیری رضا حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے۔ بلاشبہ! وہ کہا جا چکا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘
بائیکاٹ کرنے والے شخص کا اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے سے کوئی موازنہ نہیں، لیکن یہ حدیث اخلاصِ نیت کے بغیر عبادات کی شدت کو واضح کرتی ہے۔ خود پر یا بائیکاٹ کی اپنی کوششوں سے متعلق عجب سے بچیں۔ یاد رکھیں کہ اصل میں ہم اپنا قتال کا فرض ادا کرنے سے کس قدر دور ہیں۔ اپنی نااہلی اور ناکامی کے اس احساس کو مزید آگے بڑھنے کی ترغیب بنائیں۔
خود کو ایسی پرتعیش اشیاء کو چھوڑنے پر مجبور کرنے سے جو آپ کو محبوب ہوں، ہو سکتا ہے آپ اپنے نفس کی تربیت کر رہے ہوں جو آپ کے اندر ہمت و حوصلہ پیدا کرے کہ بالآخر ہجرت و جہاد کے لیے نکل سکیں۔ جیسا کہ کہاوت ہے کہ، ہزاروں میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔ بائیکاٹ کو ایک بڑے منصوبے کی شروعات سمجھیں، جس کے لیے آغاز ہی سے نیت کی پاکیزگی ضروری ہے۔
تمام عبادات میں یہ لازم ہے کہ ہم خود کو ان لوگوں سے برتر نہ سمجھیں جو ان عبادات کو انجام نہیں دے رہے، نہ ہی ان کو حقیر سمجھیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری کوششیں اللہ تعالی کے ہاں مقبول ہیں بھی یا نہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے پوشیدہ گناہ دوسروں کے ظاہری گناہوں پر بھاری پڑ جائیں۔ حتیٰ کہ مشورہ دیتے ہوئے بھی، اس بات کا خیال رکھیں کہ اس دوران کبھی بھی خود پر فخر یا راست بازی کے احساس میں مبتلا نہ ہوں۔ دوسروں کے بائیکاٹ پر آمادہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو حقیر نہ سمجھیں، بلکہ ان کو بلند کرنے کی کوشش کریں اور انہیں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے مقصد کی عظمت سے متاثر کرنے کی کوشش کریں۔
عن قيس بن أبي حازم عن الزبير بن العوام رضي الله عنه قال من استطاع منكم أن يكون له خبء من عمل صالح فليفعل2مصنف ابن ابی شیبه
قیس بن ابو حازم سے روایت ہے کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص اللہ کی خاطر چھپ کر عمل کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ ایسا ضرور کرے۔‘‘
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے بائیکاٹ کے عمل کو مکمل پوشیدہ رکھیں، مگر دوسروں کو بائیکاٹ کی تلقین اور اس کی طرف ابھارتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ بات نہ کریں بلکہ عمومی طور پر بائیکاٹ کی ضرورت، طریقہ کار اور فوائد کے بارے میں گفتگو کریں۔
خود پر استطاعت سے زیادہ بوجھ مت ڈالیں
فوری طور پر کفار کے انحصار سے مکمل انخلاء عملی طور پر ناممکن اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں متعدد بار صہیونی قبضے اور اس کے حمایتی ممالک کے خلاف بائیکاٹ کی پکاریں اٹھیں۔ ان آوازوں کا اکثر جوش و خروش سے خیر مقدم کیا جاتا، لیکن صرف چند مہینوں یا سالوں بعد ہی دم توڑ جاتیں۔
مجرم برینڈز کو عارضی طور پر سزا دینے سے زیادہ، ہمیں اپنے پیداوار اور استعمال کے انداز کو بتدریج اور مستقل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر مخصوص اشیاء اور برینڈز کا بائیکاٹ سنگین مشکلات پیدا کرتا ہے، تو اس سے ہمت ٹوٹ سکتی ہے، جو ایک انسان کے بائیکاٹ ہی کو مکمل طور پر ترک کر دینے کا باعث بن سکتا ہے۔
سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَکُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ3صحیح بخاری
’’درستی کا قصد کرو، افراط تفریط کے درمیان اعتدال کرو اور یقین کرو کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ کم ہو۔‘‘
چند چھوٹی اشیاء کا مستقل اور دائمی بائیکاٹ تمام امریکی مصنوعات کے ایسے جذباتی بائیکاٹ سے بہتر ہے جو تھوڑے عرصے بعد ترک کر دیا جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ قَالُوا وَکَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ قَالَ يَتَعَرَّضُ مِنْ الْبَلَائِ لِمَا لَا يُطِيقُ4جامع ترمذی
’’کسی مومن کے لیے اپنے نفس کو ذلیل کرنا جائز نہیں صحابہ نے عرض کیا کہ کوئی شخص اپنے نفس کو کس طرح ذلیل کرتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنی طاقت سے زیادہ مشقتیں اٹھانے کے باعث۔‘‘
جوش و خروش سے بھرپور بائیکاٹ کو تھوڑے عرصے بعد ترک کر دینا یقیناً انسان کو مزاح کا موضوع بنا دیتا ہے۔ مغربی اقتصادی سامراجیت سے ایک مستحکم، نپی تلی، اور پر عزم علیحدگی اس معاملے کی سنگینی کو صحیح طور سے بیان کرتی ہے۔
ہم مغربی مصنوعات کی مقبولیت کو استعماریت کا حصہ سمجھ سکتے ہیں۔ کفار کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنا اس استعماریت میں مدد فراہم کرنا ہے، اور ایسی صورتوں میں جہاں کوئی جائز ضرورت موجود نہ ہو، یہ گناہ بھی ہو سکتا ہے۔ بائیکاٹ، سیاسی یا معاشی ہتھیار سے زیادہ، اس سے ایک طرح کی توبہ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ توبہ کی شرائط میں سے ہے گناہ کو مستقل طور پر ترک کر دینے کی سچی نیت۔
وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۳۵)
’’ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فورا اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے ؟ اور یہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔ ‘‘
نفع و نقصان کو سامنے رکھیے
اسلامی بائیکاٹ پر ہمیشہ فقہ کے اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمل کرنا چاہیے:
اذا تزاحمت مصلحتان قُدِّم أعلاھُما5صفوۃ اصول الفقہ: عبد الرحمن بن سعدی
’’مصالح کے ٹکراؤ کی صورت میں اعلی کو ترجیح دی جائے گی۔‘‘
اذا تزاحمت المفاسد واضطر الی فعل أحدھا قدم الأخف منہا6القاعد الفقهية للسعدي
’’اگر مفاسد کا ٹکراؤ ہو اور کسی ایک کو اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے تو کمتر کو ترجیح دی جائے گی۔‘‘
اضطرار کے ساتھ نہایت شدید بائیکاٹ کی کوشش کرنا بہت آسانی کے ساتھ فائدے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ مختلف سرگرمیاں کفار کو کس قدر نفع اور نقصان پہنچاتی ہیں اور ان سے مسلمانوں کو کیا نفع و نقصان پہنچتا ہے۔ بنیادی طور پر دو طرح کی اقتصادی سرگرمیاں ہوتی ہیں: پیداواری، اور مصرفی۔ بائیکاٹ کی اکثر بحث کھپت کے گرد گھومتی ہے، کن برینڈز کو خریدنا ہے اور کن کو نہیں، تاہم، یہ پیداواری سرگرمی سے کم اہم ہے، جو ایک انسان کی زندگی کے بڑے پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
اسی طرح، ہمیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی اور اپنی خریداریوں میں نفع و نقصان کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔
نوکریاں، کاروباری منصوبے، اور سرمایہ کاری
اگر کوئی شخص دین اللہ پر مضبوطی سے قائم ہو، بے کار و بے مقصد زندگی نہ گزارتا ہو، اور اس سے متعلقہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو، تو یہ بات قابلِ فہم ہو سکتی ہے کہ ایسی نوکری کرے کاروبار کے ایسے مواقع حاصل کرے جن کے نتیجے میں کفار کو فائدہ پہنچتا ہوں، بشرطیکہ اس بات کا یقین یا قوی امکان ہو کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ اس نقصان سے زیادہ ہو گا۔
مثلا، اگر دشمن ملک میں کاروبار کا ایسا موقع آجاتا ہے جس میں ایک ہزار اسلامی سونے کے دینار (کم و بیش دو لاکھ ساٹھ ہزار امریکی ڈالر) منافع ہو، مگر اس کے لیے دشمن معیشت کو ٹیکس اور شراکت کی مد میں دو سو دینار (کم و بیش باون ہزار امریکی ڈالر) کے ذریعے سہارا دینا پڑے، یہ تب بھی سودمند ثابت ہو سکتا ہے اگر سرمایہ کار کو یہ یقین ہو کہ مسلمانوں کے لیے اس کی خدمت دو سو دینار سے کہیں بڑھ کر ہو گی۔
یہ کسی ایسے شخص کے لیے بھی درست ہے جو کسی مغربی ملک میں ایک پرکشش پیشہ اختیار کر سکتا ہو، لیکن انفراسٹرکچر اور صنعت کی کمی کے سبب اس کی مہارت مسلم ممالک میں استعمال میں نہ آ سکتی ہو۔ ہو سکتا ہے اس طرح ایک مسلمان اپنے کام اور ٹیکسوں کے ذریعے کفار کی مدد کر رہا ہو، مگر اس کے ساتھ ہی وہ کفایت شعاری کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے دینی مقاصد کے لیے دل کھول کر عطیات کرتا ہو۔ ایسے حالات میں نفع و نقصان کا تقابل کرنے کے لیے، کئی طرح کے عوامل پر غور کرنا ضروری ہے:
کفار کے لیے کام کی اقتصادی اہمیت کیا ہے؟
ایک پراجیکٹ، کاروباری معاہدہ، یا نوکری کس حد تک کفار کو فائدہ پہنچاتی ہے؟ اگر ایک مسلمان مغرب میں کسی کمپنی میں کام کر رہا ہے، تو اس کا کام کمپنی کو ایک خاص حد تک فائدہ پہنچا رہا ہوتا ہے۔ فرض کریں کہ وہ سالانہ ساٹھ ہزار امریکی ڈالر تنخواہ حاصل کر رہے ہیں، تو کمپنی ان کی محنت سے عام طور پر اس سے کہیں زیادہ ہی کما رہی ہو گی۔
منافع کے اندازے کا حساب لگانے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کے کُل منافع کو ملازمین کی تعداد پر تقسیم کیا جائے۔ ایک کمپنی جس کے 500 ملازمین ہیں اور پندرہ ملین ڈالر کا منافع کما رہی ہے وہ فی ملازم تیس ہزار ڈالر کما رہی ہے۔ یعنی ساٹھ ہزار ڈالر سالانہ کمانے والا ملازم کمپنی مالکان کے لیے سالانہ تیس ہزار ڈالر لا رہا ہو گا۔ اس کی اپنی تنخواہ اور اس کی محنت سے کمپنی کو حاصل ہونے والے منافع دونوں ٹیکس کے دائرے میں آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سالانہ قابلِ ٹیکس پیداوار کا مجموعی حجم نوے ہزار ڈالر ہو گا۔ یہ تخمینے کی ایک مثال ہے، لیکن مخصوص تفصیلات کی بنیاد پر مخصوص ملازمتوں اور معاہدوں کی صحیح قدر کا درست تخمینہ لگانا ممکن ہے۔
اگر کام آپ کے رہائشی ملک کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں ہے تو نقل مکانی، ویزے کا حصول اور رہائش، اور دیگر ایسے اخراجات کو بھی مدِ نظر رکھا جانا چاہیے جو مخالف معیشت میں جائے گی۔
کام پر براہِ راست ادا کیا جانے والا ٹیکس کتنا ہے؟(مثلاً انکم ٹیکس)
ایک عام ملازمت میں انکم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن تمام ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ مثلاً، خلیجی ممالک میں، کوئی انکم ٹیکس نہیں ہے، مگر یورپ اور شمالی امریکہ میں انکم ٹیکس بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ خلیج میں، یہ دیکھا جائے گا کہ ویزا فیس اور ورک پرمٹ کی ادائیگی میں کتنی رقم خرچ ہو گی۔ اس کام سے حکومت کو کتنی رقم جائے گی اس پر غور کریں۔ اس کا انحصار ٹیکس کی مؤثر شرح پر ہو گا۔ اگر آپ کم آمدنی والی بریکٹ میں ہیں تو یہ کم ہو سکتا ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والی بریکٹ کو زیادہ ادائیگی کرنی پڑ سکتی ہے۔ خود مختار کاروباری افراد کے لیے، سیلز ٹیکس، املاک پر ٹیکس، اور دیگر فیسوں اور کاروباری ٹیکسوں کو مدِ نظر رکھنا اہم ہو سکتا ہے۔
ٹیکس کا کتنا فیصد ایسی سرگرمیوں پر خرچ ہو گا جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ یا معاندانہ ہیں؟
آپ جس حکومت کے تحت کام کر رہے ہیں اس کی سرگرمیوں کو دیکھیں۔ ان کے اخراجات کا کتنا حصہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کی طرف جاتا ہے؟ مثال کے طور پر، امریکہ میں، ٹیکس کی آمدن کا کم از کم 40 فیصد فوج کو جاتا ہے۔ بہت سی رقم ایسے پروگراموں پر بھی خرچ ہوتی ہے جن کا مقصد اسلامی مباحث کو مسخ کرنا اور لوگوں کو مستند اسلام، جیسا کہ پہلی نسلوں نے سمجھا تھا، سے دور کرنا ہے۔
یورپی ممالک یوں اس جنگ میں حصہ ڈالتے ہیں کہ پہلے پناہ گزینوں کو قبول کرتے ہیں پھر انہیں نظریاتی بنیادوں پر مبنی ہم آہنگی پروگرام سے گزارتے ہیں جو انہیں گمراہ کرنے اور ارتداد کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بہت سے ممالک کو ’’امداد‘‘ بھی بھیجتے ہیں جو مقامی صنعت کو کمزور کرنے، انحصار پیدا کرنے، اور یورپی نظریات کے پھیلاؤ کی غرص سے ترتیب دی گئی ہے۔
مسلم اکثریتی ممالک پر حکومت کرنے والی حکومتیں ریاستی سکیورٹی اداروں کے ذریعے اسلام کو دباتی ہیں، جن کو عموماً کافروں کے ملکوں میں تربیت دی جاتی ہے۔ وہ مغربی افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں اور انہیں لاجسٹک سپورٹ اور انٹیلی جنس بھی فراہم کرتے ہیں۔
اپنے کام یا کاروبار کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے، آپ کو یہ دیکھنا ہو گا کہ آپ براہِ راست حکومت کو کتنا ٹیکس ادا کریں گے، اور اس میں سے کتنا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں جائے گا۔
امریکہ میں، وفاقی بجٹ کا کم از کم ساٹھ سے ستر فیصد حصہ فوج، خارجہ پالیسی، غیر ملکی فوجی امداد، ماضی کے فوجی اخراجات کے قرضوں کی ادائیگی، زرعی پیداوار پر سبسڈی جو USAID کے سیاسی پروگرام کا حصہ بنتی ہے، اور اس طرح کی دیگر سامراجی سرگرمیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اگر کوئی ٹیکس کی مد میں ساٹھ ہزار ڈالر ادا کرتا ہے، تو ہم ایک اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تقریباً بارہ ہزار سے چودہ ہزار ڈالر تک کی رقم ان سرکاری اداروں کی طرف جائے گی جو مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہیں۔
یہ بحث محدود اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ بالآخر تمام ٹیکس آمدن ملک کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اسکولوں، سماجی تحفظ کے پروگراموں، اور بنیادی انفراسٹرکچر پر خرچ ہونے والی رقم بھی ملک اور قومی حکومت کی مجموعی اقتصادی طاقت اور فوجی صلاحیت کو سہارا دیتی ہے۔ بہرحال، زیادہ اور کمتر نقصانات کی وضاحت کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ تعاون کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
کمپنی اور معیشت کے لیے وسیع تر فائدہ کیا ہے؟
آپ کی ذاتی تنخواہ، یا آپ کے ساتھ کام کرنے سے آپ کی کمپنی کے مالک یا کاروباری شریک کو حاصل ہونے والے آمدنی، اور اس آمدنی پر عائد ہونے والے ٹیکس کے علاوہ آپ کا کام یا کاروبار معاشرے پر ایک وسیع تر مثبت اثر بھی ڈالتا ہے۔ مثلاً امریکہ میں بعض سٹڈیز سے معلوم ہوا کہ پیداوار کے شعبے میں ایک ملازمت تقریباً سات بالواسطہ ملازمتیں پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چھوٹے شہر میں ایک ایسی فیکٹری قائم کرے جس میں ایک ہزار کارکن ہوں، تو اس کے نتیجے میں تقریباً سات ہزار مزید ملازمتیں پیدا ہوں گی، جو ان لوگوں کے لیے ہوں گی جو فیکٹری کے کارکنوں کو اشیاء اور خدمات فراہم کریں گے۔
اگر کوئی مسلمان انجینئر زیادہ ایندھن بچانے والے نئے ہوائی جہاز کے انجن کے ڈیزائن میں مدد کرتا ہے، تو وہ متعدد فضائی کمپنیوں کو ایندھن کے اخراجات کم کرنے اور منافع بڑھانے میں مدد دے رہا ہو گا۔ ایک مسلمان ڈاکٹر جب کافر مریضوں کا علاج کرتا ہے تو وہ انہیں جلد دوبارہ کام کے قابل بناتا ہے، جس سے معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ایک مسلمان استاد مستقبل کی افرادی قوت کی تربیت میں مدد دیتا ہے۔
مشقت کی حقیقی قدر کا اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے، اور تنخواہ لازماً اس کی درست پیمائش نہیں ہو تی۔ مثال کے طور پر، بینکار معاشرے پر طفیلی بوجھ ہوتے ہیں اور بہت کم حقیقی قدر پیدا کرتے ہیں، لیکن انہیں بہت زیادہ تنخواہیں ملتی ہیں، جبکہ اساتذہ معیشت کی صحت کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں مگر نسبتاً کم تنخواہیں پاتے ہیں۔ اگرچہ محنت کی بالواسطہ قدر کا درست حساب لگانا دشوار ہے، پھر بھی مختلف پیشہ ورانہ فیصلوں کے نقصانات و فوائد کا موازنہ کرتے وقت اس پہلو پر غور کرنا اہم ہے۔
معاشرے مستقبل میں کس سمت میں جا رہا ہے؟
کام کسی معاشرے کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت کو تقویت دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، درخت لگانے کے لیے کئی برس تک محنت اور وسائل کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، لیکن ایک بار جب درخت اچھی طرح قائم ہو جائیں تو وہ دہائیوں تک منافع فراہم کر سکتے ہیں۔
جب لوگ مل کر کام کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں، باہمی تعلقات اور سماجی مہارتیں پیدا کرتے ہیں، اور پیداواری عمل کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ کسی معاشرے کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دینا، مستقبل میں پیش آنے والے حالات کے اعتبار سے، کم یا زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی معاشہ مستقبل میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے زیادہ معاندانہ بن جائے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس معاشرے میں کی جانے والی معاشی خدمات اور تعاون مستقبل میں مسلمانوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
جس طرح مسلم اکثریتی ممالک میں خدمات انجام دینا ان مستقبل کی اسلامی حکومتوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے جو ان ممالک کا اقتدار سنبھالیں گی، اسی طرح کسی کافر ملک میں خدمات انجام دینا بھی مستقبل کی حکومتوں کے اعتبار سے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی ملک اس وقت مسلمانوں کے لیے خاص طور پر معاندانہ نہ بھی ہو، تب بھی حکومتیں کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہیں۔
یورپ میں اسلام مخالف سیاسی جماعتیں کئی برسوں سے مسلسل مضبوط ہو رہی ہیں۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہاں کے معاشرے اسلام کے لیے زیادہ معاندانہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس امکان کو پیش نظر رکھنا اہم ہے کہ کوئی انتہائی دشمن حکومت اقتدار میں آ سکتی ہے، کیونکہ ایسی حکومت اپنی پیداواری صلاحیتوں اور وسائل کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کرے گی۔
معاشرے میں آپ کی خرچ کرنے کی سطح کیا ہے؟
مختلف مقامات پر معیار زندگی مختلف ہوتا ہے۔ معاشرتی دباؤ، حکومتی ضوابط اور معاشرتی عادات آپ کے اخراجات اور کھپت کی سطح پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مغربی ممالک میں رہنے والے اکثر مسلمان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ایسی غیر ضروری چیزوں پر خرچ کرنے لگتے ہیں جو وہاں کے غالب طرزِ زندگی کے باعث بظاہر ضروری بنا دی گئی ہیں، مثلاً بڑے مکانات، فرنیچر، ایک ہی خاندان کے لیے کئی گاڑیاں، اور ایک بار استعمال کر کے پھینک دی جانے والی (disposable) اشیاء۔
اگر آپ کسی ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جو اسلام مخالف ہے، تو آپ کا خرچ بالواسطہ طور پر اس دشمنی کو سہارا دے گا۔ آپ کی خریداری ایسے لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنے میں مدد دے گی جو ٹیکس ادا کریں گے، اور اس سے پیداوار اور ترسیل کے پیمانے میں اضافہ کے ذریعے معیشت کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔
کسی دوسرے خطے میں ممکجن ہے کہ آپ کم کمائیں، لیکن آپ زیادہ سادہ زندگی گزار سکیں، اور اس طرح دشمن قوتوں کی نسبتاً کم مدد کریں۔
مسلم ممالک میں آپ کی خدمات کی قدر کیا ہو گی؟
ایسا محسوس ہوسکتا ہے کہ کسی کافر ملک میں زیادہ تنخواہ حاصل کر کے اور اس رقم کو اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کر کے آپ زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں، لیکن مسلم معاشروں کے نقصانات کو بھی مد نظر رکھیں۔ اگر آپ امریکہ میں پھلوں کے درختوں کا ایک باغ لگاتے ہیں، تو ممکن ہے کہ آپ کو مسلم ملک کی نسبت زیادہ منافع حاصل ہو، لیکن مسلمان اس پھل سے حاصل ہونے والی غذائیت اور صحت کے فوائد سے محروم رہ جائیں گے۔ اگر کسی کافر ملک میں کام کرنا پیشہ ورانہ تعلقات ( معاشرتی سرمایہ) اور مہارتوں و علم (فکری سرمایہ) کے ذریعے اس ملک کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت کو مضبوط کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلم ممالک اس فائدے سے محروم ہو رہے ہیں جو آپ وہاں کام کر کے پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی غور کریں کہ کسی کافر ملک میں کام کرتے ہوئے آپ جو مہارتیں، علم اور تعلقات پیدا کرتے ہیں، وہ ان کی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے نظام پر منحصر ہو سکتے ہیں، جبکہ کسی مسلم ملک میں حاصل ہونے والا علم اور روابط زیادہ خود انحصاری اور مضبوط اسلامی معیشت کی طرف پیش رفت میں مدد دے سکتے ہیں۔
کام کے انتخاب کے غیر مالی فوائد کیا ہیں؟
جدید مالیاتی نظام، جسے بڑی حد تک صہیونیوں نے ت شکیل دیا اور کنٹرول کر رکھا ہے، فریب پر قائم ہے۔ یہ ان چیزوں کو مالی قدر دیتا ہے جن کی حقیقی قدر بہت کم یا سرے سے نہیں ہوتی (جیسے جدید فنون لطیفہ)، جبکہ ان چیزوں کی قدر گھٹا دیتا ہے جن کی اہمیت بے حد زیادہ ہوتی ہے (جیسے گھر میں ایک محبت کرنے والی ماں کی مستقل موجودگی)۔ مغربی ماہرینِ معیشت اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ غریب ممالک کے لوگ اتنی کم آمدنی کے باوجود کیسے زندگی گزارتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس ان ممالک میں موجود غیر مالی معاشی قدر کی بڑی مقدار کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔
مغرب میں کوئی زرعی فارم شہروں کی سپر مارکیٹس کو پھل فروخت کر کے بڑا منافع کما سکتا ہے، لیکن ان پھلوں کا تقریباً نصف حصہ آخر کار سڑ جاتا ہے۔ کسی مسلم ملک میں ایک فارم شاید بہت کم منافع کمائے، لیکن اضافی پھل رشتہ داروں اور غریبوں میں تقسیم کر دے، جس کے نتیجے میں ضیاع بہت کم ہو گا اور معاشرے میں خیر سگالی پیدا ہو گی۔ یہ خیر سگالی بعد میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے جن کی معاشی قدر بھی ہوتی ہے۔ نقصانات اور فوائد کو صرف مالی پیمانے سے جانچنامغربی معاشی فکر کے جال میں پھن جانے کے مترادف ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1صحیح مسلم
- 2مصنف ابن ابی شیبه
- 3صحیح بخاری
- 4جامع ترمذی
- 5صفوۃ اصول الفقہ: عبد الرحمن بن سعدی
- 6القاعد الفقهية للسعدي
