محمد ابراہیم لَڈوِک (زید مجدہ) ایک نو مسلم عالمِ دین ہیں جنہوں نے عالَمِ عرب کی کئی جامعات میں علم دین حاصل کیا۔ موصوف نے کفر کے نظام اور اس کی چالوں کو خود اسی کفری معاشرے اور نظام میں رہتے ہوئے دیکھا اور اسے باطل جانا، ثم ایمان سے مشرف ہوئے اور علمِ دین حاصل کیا اور حق کو علی وجہ البصیرۃ جانا، سمجھا اور قبول کیا، پھر اسی حق کے داعی بن گئے اور عالَمِ کفر سے نبرد آزما مجاہدین کے حامی اور بھرپور دفاع کرنے والے بھی بن گئے (نحسبہ کذلك واللہ حسیبہ ولا نزکي علی اللہ أحدا)۔ انہی کے الفاظ میں: ’میرا نام محمد ابراہیم لَڈوِک ہے ( پیدائشی طور پر الیگزانڈر نیکولئی لڈوک)۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا اور میں نے علومِ تاریخ، تنقیدی ادب، علمِ تہذیب، تقابلِ ادیان، فلسفۂ سیاست، فلسفۂ بعد از نو آبادیاتی نظام، اقتصادیات، اور سیاسی اقتصادیات امریکہ اور جرمنی میں پڑھے۔ یہ علوم پڑھنے کے دوران میں نے ان اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کی جو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ہیں اور اسی دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک سیاسی اور اقتصادی نظام ہے جو حقیقتاً اور بہترین انداز سے ان مسائل کا حل لیے ہوئے ہے اور یوں میں رمضان ۱۴۳۳ ھ میں مسلمان ہو گیا‘، اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بھائی محمد ابراہیم لڈوک کو استقامت علی الحق عطا فرمائے، آمین۔جدید سرمایہ دارانہ نظام، سیکولر ازم، جمہوریت، اقامتِ دین و خلافت کی اہمیت و فرضیت اور دیگر موضوعات پر آپ کی تحریرات لائقِ استفادہ ہیں۔ مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ شیخ محمد ابراہیم لَڈوِک (حفظہ اللہ) کی انگریزی تالیف ’Islamic Boycotts in the Context of Modern War ‘ کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)
بائیکاٹ کے فوائد
اب تک، قارئین پر یہ واضح ہو چکا ہو گا کہ صہیونی تسلط والے عالمی نظام سے خود کو الگ کرنا ایک نہایت مشکل منصوبہ ہے۔ ان مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط عزم اور ارادے کا ہونا ضروری ہے۔
کسی بھی عمل کا اصل مقصد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت ہونا چاہیے۔ البتہ جو حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو، بشمول کفار کے خلاف اپنی جان و مال سے جدوجہد کرنا، وہ بہتر اور فائدہ مند ہے۔ اس منفعت سے آگاہی ہمیں مطلوبہ قربانیاں دینے اور ضروری کاموں کو سرانجام دینے کے لیے پختہ کر سکتی ہے۔
ثقافتی استعمار کا مقابلہ
مغرب کے پاس اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کو کنٹرول کر سکے۔ حتیٰ کہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف اپنی جنگ میں، امریکہ اپنی بموں کی سپلائی تقریباً ختم کر بیٹھا تھا، حالانکہ اس گروہ نے کبھی ۲ لاکھ سے زیادہ جنگجوؤں کو میدان میں اتارا ہی نہیں۔ غزہ میں آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد، صہیونی قابض ایک ماہ بعد آئرن ڈوم سسٹم کے لیے اپنے میزائلوں کی سپلائی تقریباً ختم کر چکا تھا اور امریکہ سے مزید منگوانے پر مجبور ہوا۔
مغرب زیرِ قبضہ لوگوں کی جانب سے وسیع قبولیت کی وجہ سے ہی مسلم سرزمینوں پر اپنا تسلط اور ان کو کنٹرول کرنے کے قابل ہے۔ اس قبولیت کی بڑی وجہ الولاء والبرا کے اصول کو نہ سمجھنا اور اس پر عمل نہ کرنا ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَِّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ الْمُوَالَاةُ فِي اللهِ وَالْمُعَادَاةُ فِي اللهِ وَالحُبُّ فِي اللهِ وَالْبُغْضُ فِي اللهِ1المعجم الکبیر للطبراني 11537
’’حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک ایمان کی سب سے مضبوط شاخ اللہ کی خاطر دوستی و موالات کرنا اور اللہ ہی کی خاطر دشمنی رکھنا، اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی ہی خاطر نفرت کرنا ہے۔‘‘
مزید برآں، کفار سے اختلاف کرنا اور ان کی مشابہت اختیار نہ کرنا شریعت کا ایک بنیادی اصول ہے، جو اس قول میں بیان ہوا ہے:
مخالفۃ الکفار مشروعۃ
’’کفار کی مخالفت اختیار کرنا مباح عمل ہے۔‘‘
اس کی تائید کئی احادیث سے ہوتی ہے، جیسے:
عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ2سنن أبو داود: 4031
سیدنا ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا ۔ “
مسلم سرزمین میں مغربی ثقافت کی در اندازی امت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی ثقافت جو یہودی، عیسائی، اور مشرکانہ اقدار سے متاثر ہے، بہت سے شعبوں میں با اثر مقام رکھتی ہے، خصوصاً فیشن، تفریح، خوراک اور تعلیم، ان شعبوں میں کفار کی تقلید ان کے ساتھ قربت یا دوستی کے احساس کے ساتھ ساتھ احساسِ کمتری کا باعث بنتی ہے۔ کفار سے لگاؤ اور ان کے مقابلے میں احساسِ کمتری دونوں ہی ان سے مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔
خوراک، لباس، اور ابلاغ شناخت کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم جتنا زیادہ ان میں تقلید کریں گے، اتنا ہی زیادہ ہماری شناخت میں ان کے ساتھ مماثلت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ مشترکہ شناخت کا یہ احساس ہمارے اندر ان سے لڑنے سے ہچکچاہٹ پیدا کرتا ہے، کیونکہ اس سے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی ایسے گروہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس سے ہم خود تعلق رکھتے ہیں۔
ان کی ثقافت کے بعض پہلوؤں کو اپنانا احساسِ کمتری کا باعث بنتا ہے، کیونکہ اگر ہم کسی بھی چیز میں ان کی تقلید کرتے ہیں، تو وہ ہم سے پہلے ہی اس کو بہت طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔ ان کا فیشن، موسیقی اور فلمیں بہتر ہوں گی، کیونکہ ان کے پاس کئی نسلوں کا تجربہ ہے اور وہ ان شعبوں میں اپنے طریقوں کو مسلسل بہتر کر رہے ہیں۔ برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے طریقوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ انہوں نے اپنی شناخت کو نظام میں ڈھالا ہے، اور نظام کو اپنی شناخت میں ڈھالا ہے۔ یہ ان شعبوں میں بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے جہاں مسلمان کفار سے آگے ہیں، مثلاً اہلِ مغرب کی طرف سے عربی عطر بنانے کی کوششیں مسلمانوں کی کوششوں کی سطح تک نہیں پہنچتی، کیونکہ وہ اس میدان میں نسلی تجربہ نہیں رکھتے۔
بائیکاٹ مغربی طرزِ زندگی سے جڑے برینڈ اور مصنوعات کو ترک کرنے کا متقاضی ہے۔ یہ مسلمانوں کو مسلمانوں کی تیار کردہ مصنوعات کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے فطری طور پر اسلامی تشخص مضبوط ہو گا۔ اس سے مسلمانوں کے مابین معاشرتی یکجہتی بڑھے گی، لڑنے کے لیے ہمارا عزم اور اپنی روایات اور تاریخ پر فخر کا احساس بڑھے گا۔ ایمانی لحاظ سے بھی یہ فائدے کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ معاشی سرگرمیوں کے انداز کو اس طرح تبدیل کرنا کہ کہ ہم دیندار مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کریں، ہمیں بہتر سماجی ماحول میں لے آئے گا۔
نبی ﷺکا فرمان ہے:
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْئِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ وَکِيرِ الْحَدَّادِ لَا يَعْدَمُکَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْکِ إِمَّا تَشْتَرِيهِ أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ وَکِيرُ الْحَدَّادِ يُحْرِقُ بَدَنَکَ أَوْ ثَوْبَکَ أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً3صحیح البخاری: ۲۰۲۱
’’نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی بھٹی کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پالو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پالو گے۔‘‘
اگر ہم مسلمانوں کے تیار کردہ کپڑے، کاسمیٹکس اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات خریدتے ہیں، تو ہمارا ان کی دکانوں یا گھروں پر جانے کا زیادہ امکان ہے۔ ان جگہوں پر موسیقی اور غیر محرم مرد و عورتوں کے اختلاط کا امکان کم ہو گا۔ اس بات کا بھی زیادہ امکان ہے کہ خریدار اور بیچنے والا اپنے لین دین کے دوران اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو یاد رکھیں گے۔
مبنی بر سود کرنسی نظاموں کو کمزور کرنا
پچھلی اقساط میں بائیکاٹ کے ایک طاقتور طریقہ کے طور پر قومی کرنسیوں سے بچنے پر زور دیا گیا تھا۔ مرکزی بینک اور فیاٹ کرنسی (Fiat Currency)4Fiat Currency: موجودہ کرنسی نظام کی کرنسی جس کی کوئی جسمانی مالیت (جیسے سونا، چاندی وغیرہ) نہیں ہوتی۔ اس کی مالیت صرف حکومتی قانون یا لوگوں کے اعتماد کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس سے قبل کرنسی گولڈ سٹینڈرڈ (Gold Standard) پر ہوتی تھی یعنی ہر نوٹ کے پیچھے حکومت کے پاس اتنا ہی سونا ہوا کرتا تھا۔ لیکن ۱۹۷۱ء کے بعد سے دنیا بھر میں فیاٹ کرنسی نظام چل رہا ہے۔ نظام مسلم سرزمینوں کو قرض، محتاجی، اور دائمی بحران اور کمزوری کے گرداب میں پھنسانے کے لیے سب سے طاقتور ہتھیاروں میں سے ہیں۔ شدید مہنگائی کے ذریعے صہیونی اور ان کے اتحادی پورے ملک کی دولت نچوڑ لیتے ہیں۔ لوگ محنت، زرعی مصنوعات، معدنی وسائل، اور فوجی اڈوں کے لیے لیز (lease) لینے جیسے اسٹریٹیجک فوجی معاہدوں جیسی حقیقی قدر والی اشیاء کے بدلے کاغذی کرنسی وصول کرتے ہیں۔ حقیقی دولت کی قدر مستحکم ہوتی ہے، جبکہ قومی کرنسیوں کی قدر مسلسل گھٹتی رہتی ہے۔
اوسطاً، مسلم ممالک میں مہنگائی عالمی اوسط سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ مہنگائی ایک ایسے سیفون (siphon) کی طرح کام کرتی ہے جو حقیقی دولت کو نچوڑ لیتی ہے اور غریبوں کو(جو مقامی کرنسی کا استعمال کرتے ہیں) آہستہ آہستہ غربت کی مزید گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے جبکہ اشرافیہ کے ایک محدود طبقے کو فائدہ پہنچاتی ہے، جو اپنی دولت کو ڈالر اور یورو جیسی غیر ملکی کرنسیوں کی صورت میں رکھتے ہیں۔ اشرافیہ شدید مہنگائی والی مقامی کرنسیاں غریبوں میں تقسیم کرتی ہیں، اس عمل کے دوران مزید زمین اور مزدوری حاصل کرتی ہیں، اور پھر اس دولت کو برآمد کر کے اس کے بدلے کم افراطِ زر والی مغربی کرنسیوں اور اثاثوں کو حاصل کرتی ہیں۔
عالمی منڈیوں میں قومی کرنسیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور یہ بالواسطہ کنٹرول کا طریقہ کار ہے، جس کے ذریعے صہیونی مسلم ممالک کو جزا یا سزا دیتے ہیں۔ بڑی مقدار میں کرنسی کی خرید و فروخت اور قیمتوں کی ہیرا پھیری کے ذریعے، صہیونی کرنسی کے زوال کی دھمکی دے کر مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو اطاعت پر مجبور کر سکتے ہیں۔ وہ قومی کرنسیوں کو بچانے کے لیے مشروط قرضوں کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں، اور پھر ان قرضوں کے ذریعے پورے ملک کو غلام بنا سکتے ہیں۔
بائیکاٹ قدرتی طور پر لوگوں کو کرنسی والی معیشت سے دور اور غیر رسمی معیشت کی طرف دھکیلتا ہے۔ مثال کے طور پر، امریکی ریستوران کا بائیکاٹ کرنے والے کے پاس باہر کھانا کھانے کے متبادل محدود ہوں گے، لہذا وہ اس کے بجائے گھر پر ہی کھانا پکائیں گے۔ یہ قدر کا تبادلہ ہے، کیونکہ اس میں خاندان یا دوست ایک دوسرے کے لیے خدمات سرانجام دیتے ہیں، لیکن پیسے کا کوئی تبادلہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے رقم کی مجموعی طلب میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح، پڑوسیوں کے ساتھ براہ راست تجارت کرنا، تحفہ جاتی معیشت پر انحصار کرنا، یا اپنا سامان خود تیار کرنا بھی سود پر مبنی حکومتی کرنسیوں کے لیے ہمارے تعاون کو کم کر دے گا۔
ڈالر یا یورو جتنا زیادہ کمزور ہوتا جائے گا، قرض کی صورت میں نئی کرنسی کے اجرا کے ذریعے مہنگائی کا دباؤ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ ہماری صورتحال کے لیے یہ نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ان کے فوجی اخراجات بشمول صہیونی قبضے کو ہتھیاروں کی ترسیل، قرض کی شکل میں ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، حکومتی کرنسی درحقیقت کریڈٹ ہے، اور کفار کہ پاس یہ کریڈٹ اس لیے ہے کیونکہ لوگ وہ چیزیں چاہتے ہیں جو وہ پیش کرتے ہیں۔ جتنے کم لوگ ان چیزوں کو چاہیں گے جو کفار پیش کرتے ہیں، اتنا ہی کم کریڈٹ (اور نتیجتاً قوتِ خرید) ان کے پاس ہو گا۔
اگر یہ ان کی کرنسیوں کی مکمل ناکامی کی حد تک پہنچ جاتا ہے، تو اس کا مطلب ان اداروں کی ناکامی ہو گا جو وہ مسلم ممالک کو قابو کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جیسے آئی ایم ایف۔ مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو کرنسی کی قدر میں کمی کا خطرہ ہے، اور انہیں اپنی کرنسیوں اور معیشتوں کو انہدام سے بچانے کے لیے ڈالر اور یورو میں قرض لینا پڑتا ہے۔ ڈالر اور یورو کے بڑی حد تک کمزور ہونے کے باعث، مسلم ممالک میں خون چوسنے والے مرکزی بینک اور حکومتی کرنسی تیزی سے منہدم ہو جائیں گی، جو اسلام اور مسلمانوں کی بڑی فتح ہو گی۔
اس سے حاصل ہونے والے سیاسی اور معاشی فوائد سے بڑھ کر، یہ دین میں ایک عظیم فتح ہو گی، کیونکہ سود ان کرنسی نظاموں کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کرنسیوں کی بڑی تعداد کا اجرا سودی قرضوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ان کرنسیوں کی حمایت انسان کو دشمن کی عسکری قوت سے تعاون سے بڑھا کر، سود جیسے کبیرہ گناہ سے منسلک کر سکتی ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ5سنن ابن ماجه: 2274
سود کے ستر گناہ ہیں جن میں سب سے ہلکا گناہ اس قدر (بڑا) ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے نکاح کرے۔
مسلم خود مختاری اور اقتصادی ترقی کی حمایت
کفار کی تیار کردہ مصنوعات اور برینڈز سے بچنا مسلمانوں پر مثبت اثر ڈالنے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اگر لوگ مسلمانوں سے زیادہ خریداری کریں گے تو اس سے مسلمانوں کے طرزِ زندگی میں بہتری آئے گی اور نئی صنعتوں کا قیام عمل میں آئے گا۔ یہ عمل آغاز میں مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کی فراہم کردہ مصنوعات اور خدمات کا معیار کمتر اور قیمت زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم جیسے جیسے اسلامی معیشت میں مزید پیسہ داخل ہوتا ہے اور مقابلہ بڑھتا ہے، مصنوعات اور خدمات کا معیار بھی بڑھتا جائے گا، اور پیداوار کا حجم بڑھنے کے ساتھ ہی قیمتیں کم ہوتی جائیں گی۔
اس کے لیے سخت محنت اور صبر درکار ہو گا، لیکن یہ بے سود نہ ہو گا کیونکہ اس کے ذریعے ہم اس برتری کو کم کر سکتے ہیں جو پابندیوں کی صورت میں کفار کو ہم پر حاصل ہے۔ جتنا کم ہم ان کی مصنوعات پر انحصار کریں گے، ان مصنوعات سے محروم ہو جانے کا خطرہ اتنا ہی محدود ہوتا جائے گا۔ اس سے ہمیں اپنی سرزمینوں پر کفار کی جارحیت کو کم کرنے کا مزید موقع ملے گا، انشاءاللہ۔
طبی فوائد
مغربی کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات سے پرہیز صحت کے لیے بھی بہت بہتر ہے۔ ان کمپنیوں کے تیار کردہ کھانے عموماً زیادہ چینی، نمک، مصنوعی تازگی پیدا کرنے والے اجزا، مصنوعی ذائقے اور رنگوں سے بھرے ہوتے ہیں جو جسم اور دماغ پر نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ریستوران اپنے منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے انتہائی ادنیٰ معیار کا تیل استعمال کرتے ہیں۔
صحت کے بہت سے مسائل ان غذاؤں سے جڑے ہیں، جن میں کینسر، ذیابیطس، موٹاپا، ہاضمے کے مسائل، اور دیگر مسائل شامل ہیں۔ مقامی پروڈیوسر سے تازہ خوراک حاصل کرنا اور اسے گھر پر تیار کرنا زیادہ صحت مند ہے۔ چاہے اس میں زیادہ وقت لگے، یہ خاندان اور برادری سے جڑنے کا موقع بھی بن سکتا ہے۔
روایتی اسلامی لباس بھی صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔ مغربی مشینری اور انٹرنیٹ سروس یا ایپلی کیشنز پر کم انحصار کرنے کا مطلب نقصان دہ تابکاریوں کا کم سامنا کرنا، اور زیادہ جسمانی سرگرمی اور تازہ آب و ہوا کا حصول ہے۔ حتیٰ کہ کئی صنعتی طور پر تیار کی جانے والی حفظانِ صحت کی مصنوعات میں ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
صنعتی ٹیکنالوجی پر کم انحصار کرنا ماحول کے لیے بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ یہ ہوا اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں داخل ہونے والے زہریلے مادوں کی مقدار کو کم کرتا ہے۔ مغربی ادویات کے استعمال میں کمی بھی بالعموم معاشرے کے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ ڈپریشن اور مانع حمل ادویات جیسی دوائیں مغربی اور مغربیت زدہ ممالک میں پانی کے ذخائر تک جا پہنچتی ہیں۔
ان تمام فوائد کو اس وقت مدِ نظر رکھنا چاہیے جب ہمیں صہیونیت زدہ عالمی اقتصادی نظام میں شرکت کم کرنے کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
- 1المعجم الکبیر للطبراني 11537
- 2سنن أبو داود: 4031
- 3صحیح البخاری: ۲۰۲۱
- 4Fiat Currency: موجودہ کرنسی نظام کی کرنسی جس کی کوئی جسمانی مالیت (جیسے سونا، چاندی وغیرہ) نہیں ہوتی۔ اس کی مالیت صرف حکومتی قانون یا لوگوں کے اعتماد کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس سے قبل کرنسی گولڈ سٹینڈرڈ (Gold Standard) پر ہوتی تھی یعنی ہر نوٹ کے پیچھے حکومت کے پاس اتنا ہی سونا ہوا کرتا تھا۔ لیکن ۱۹۷۱ء کے بعد سے دنیا بھر میں فیاٹ کرنسی نظام چل رہا ہے۔
- 5سنن ابن ماجه: 2274
