محمد ابراہیم لَڈوِک (زید مجدہ) ایک نو مسلم عالمِ دین ہیں جنہوں نے عالَمِ عرب کی کئی جامعات میں علم دین حاصل کیا۔ موصوف نے کفر کے نظام اور اس کی چالوں کو خود اسی کفری معاشرے اور نظام میں رہتے ہوئے دیکھا اور اسے باطل جانا، ثم ایمان سے مشرف ہوئے اور علمِ دین حاصل کیا اور حق کو علی وجہ البصیرۃ جانا، سمجھا اور قبول کیا، پھر اسی حق کے داعی بن گئے اور عالَمِ کفر سے نبرد آزما مجاہدین کے حامی اور بھرپور دفاع کرنے والے بھی بن گئے (نحسبہ کذلك واللہ حسیبہ ولا نزکي علی اللہ أحدا)۔ انہی کے الفاظ میں: ’میرا نام محمد ابراہیم لَڈوِک ہے ( پیدائشی طور پر الیگزانڈر نیکولئی لڈوک)۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا اور میں نے علومِ تاریخ، تنقیدی ادب، علمِ تہذیب، تقابلِ ادیان، فلسفۂ سیاست، فلسفۂ بعد از نو آبادیاتی نظام، اقتصادیات، اور سیاسی اقتصادیات امریکہ اور جرمنی میں پڑھے۔ یہ علوم پڑھنے کے دوران میں نے ان اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کی جو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ہیں اور اسی دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک سیاسی اور اقتصادی نظام ہے جو حقیقتاً اور بہترین انداز سے ان مسائل کا حل لیے ہوئے ہے اور یوں میں رمضان ۱۴۳۳ ھ میں مسلمان ہو گیا‘، اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بھائی محمد ابراہیم لڈوک کو استقامت علی الحق عطا فرمائے، آمین۔جدید سرمایہ دارانہ نظام، سیکولر ازم، جمہوریت، اقامتِ دین و خلافت کی اہمیت و فرضیت اور دیگر موضوعات پر آپ کی تحریرات لائقِ استفادہ ہیں۔ مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ شیخ محمد ابراہیم لَڈوِک (حفظہ اللہ) کی انگریزی تالیف ’Islamic Boycotts in the Context of Modern War ‘ کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)
بائیکاٹ کے معاملے میں عام طور پر چار گروہ ہیں:
- مغربی ممالک
- روس ، چین بلاک
- ترقی پذیر ممالک
- مسلم اکثریتی ممالک
ان میں سے ہر ایک گروہ کے اندر، مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور اسلام کے خلاف جنگ میں شراکت داری کی بنیاد پر ترجیحاً درجہ بندی ہے۔ بالعموم، پہلے گروہ کے بائیکاٹ کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی، پھر دوسرے، تیسرے اور چوتھے گروہ کو۔
ذیل میں دنیا بھر کے ملکوں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مجموعی دشمنی کی بنیاد پر، اور ان سے جنگ اور بائیکاٹ کی نسبتاً اہمیت کی درجہ بندی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ فہرست مسلمان ملک کی طرف ہجرت کرنے کے فیصلوں سے بھی مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ کسی ملک کی طرف ہجرت کر جانے کا مطلب لامحالہ اس کی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔
درج ذیل فہرست ہدایات ہیں جو صارفین اور سرمایہ کاروں کو ایسے فیصلوں کی طرف راغب کرتی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی قوت میں اضافہ اور کفار کی قوت میں کمی کا باعث ہوں گے۔ ایسے ملکوں میں کام اور تجارت کرنے کی کوشش کرنا جو اس فہرست میں نچلے درجے پر ہیں، اور ایسے ممالک میں کام اور تجارت کرنے سے بچنا جو اس فہرست میں اول درجے پر ہیں، اس مقصد کی طرف بڑھنے میں معاون ہو گا، انشاءاللہ۔
پہلی ترجیح: مغرب اور اس کے اتحادی(ماسوائے مسلم اکثریتی ممالک)
آج اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں سب سے شدید اور ان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے ممالک بلاشبہ رومی اخلاف اور مغربی اتحاد ہیں، جس کی قیادت امریکہ اور یورپی یونین کر رہے ہیں، بشمول کینیڈا و آسٹریلیا کے۔ اللہ کی لعنت ہو ان پر اور اللہ ان سب کو نیست و نعبود کرے۔ اس عمومی اتحاد کے دائرہ کار میں جاپان، تائیوان اور جنوبی کوریا بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ایشیائی ممالک کی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شمولیت قدرے کم ہے، مگر یہ لبرل مغرب کی حمایت میں اہم معاشی کردار ادا کرتے ہیں۔ بھارت بھی ایک شدید دشمن ملک ہے اور صہیونی قبضے کا ایک بڑا حمایتی بھی ہے، صرف امریکہ اور برطانیہ ہی ہیں جن کی حمایت ہندوستانی حکومت کی حمایت سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہندوستان کے مسلمانوں کو بد کردار ہندو مشرکین کے قبضے سے نجات عطا فرمائیں اور ان گائے اور بندر کے پجاریوں کو رسوا کریں، ان کو تباہ و برباد کریں اور ان کی جمعیت کو منتشر کر دیں۔
روس، چین اور ایران کا اتحاد مغربی بالا دستی کے خلاف مرکزی مزاحمت ہے۔ بعض اعتبار سے، چین زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق:
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ
’تم یہ بات ضرور محسوس کر لو گے کہ مسلمانوں سے سب سے سخت دشمنی رکھنے والے ایک تو یہودی ہیں، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو (کھل کر) شرک کرتے ہیں۔ اور تم یہ بات بھی ضرور محسوس کر لو گے کہ (غیر مسلموں میں) مسلمانوں سے دوستی میں قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نصرانی کہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم اور بہت سے تارک الدنیا درویش ہیں، نیز یہ وجہ بھی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘
مغربی ممالک، اگرچہ عیسائیت کو ایک طرزِ حیات کے طور پر تقریباً مسخ یا ترک کر چکے ہیں، لیکن اب بھی عیسائی نظریات سے گہرے متاثر ہیں، لہٰذا یہ بعض لحاظ سے چینی مشرکوں سے کم خطرناک ہیں۔ تاہم، مغربی طاقتوں کا عالمی اثر و رسوخ نہایت ہمہ گیر ہے، اور وہ امت کے ساتھ جنگ میں جتنی توانائی صرف کرتے ہیں وہ چین، روس، اور ایران کی جارحیت سے کہیں زیادہ ہے۔
مزید براں، چین، روس اور ایران مغربی بالا دستی کو للکارنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ان کو مغرب کے ساتھ براہ راست تصادم میں لا سکتا ہے۔ مغرب جتنا کمزور ہوتا جائے گا اور روس چین بلاک جتنا مضبوط ہو گا، براہ راست تصادم کا امکان اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا جو دونوں فریقین کو بڑی حد تک کمزور کر سکتا ہے۔ لہذا، وہ مصنوعات جو مسلمانوں یا غیر جانبدار ممالک سے حاصل نہیں کی جا سکتیں، ان کو روس، ایران اور چین سے حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اگر کوئی مسلم متبادل موجود نہ ہو تو غیر جانبدار ممالک سرمایہ کاری اور خریداری کے لیے ہمیشہ ترجیح رہیں گے۔ اس تیسرے گروہ میں لاطینی امریکہ کا اکثر حصہ، افریقہ اور ایشیائی بحر الکاہلی خطے کے کئی ممالک شامل ہیں۔
مغربی ممالک میں سے، سب سے زیادہ جارح اور نقصان پہنچانے والا ملک امریکہ ہے۔ امریکہ قابض صہیونیوں کو بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ ان کٹھ پتلی حکومتوں کی بھی پشت پناہی کرتا ہے جو مغربی ایجنسیوں کی مدد سے مسلم علاقوں پر مسلط ہیں۔ یہ مغربی حمایت یافتہ حکومتیں صہیونی قبضے کی بقا کی کلید ہیں۔
امریکہ اور صہیونی قابض جو خود کو اسرائیل کہلواتا ہے، کو یہاں ایک ہی ملک شمار کیا جائے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ، ان دونوں ممالک کے مابین نہایت مضبوط معاشی اور سیاسی روابط قائم ہیں، اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں دوہری شہریت رکھتی ہے۔ امریکہ مکمل طور پر یہودی، صہیونی مالی معاونت کا محتاج ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکی قوم کی خواہش کے بر خلاف صہیونی قبضے کی حمایت کرنے پر مجبور ہے۔ دوم یہ کہ، امریکہ اور قابض صہیونیوں کے مابین غیر حقیقی تفریق کے سبب بہت سے مسلمانوں نے امریکہ میں رہنے اور کاروبار کرنے کو قابل قبول سمجھ لیا ہے، لہذا مسلمانوں کے ذہنوں میں موجود اس خیالی تفریق کو ختم کرنا ضروری ہے۔
اس فہرست میں دوسری ترجیح برطانیہ ہے۔ برطانیہ اسلام دشمنوں کو بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کرتا ہے اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف امریکہ کی جنگوں کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ تاریخی طور پر، برطانیہ مسلم دنیا کی تقسیم اور ثقافتی استعمار کے بڑے ذمہ داروں میں سے رہا ہے۔
تیسرا فرانس ہے، جو جارحیت کی تقریباً ہر جنگ میں شامل ہوتا ہے اور اسلامی احیا کو کچلنے والے ظالموں اور جابروں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ فرانس جنگ کی ثقافتی جہت میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ فرانس نے تکبر کے ساتھ ریاستی سطح پر ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی اجازت دے کر اللہ کی لعنت سمیٹی ہے۔ انہوں نے چہرے کے نقاب پر بھی پابندی لگائی ہے تاکہ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی عورتوں کی مانند اخلاقی پستی اور انحطاط کی طرف دھکیل سکیں۔
چوتھا جرمنی ہے، جو جنگ کے نرم یا غیر فوجی پہلوؤں میں قائدانہ کردار ادا کرتا ہے۔ ان کوششوں میں پہلے لاکھوں مسلمان تارکین وطن کو قبول کرنا اور پھر خاموشی سے ان کو بتدریج ارتداد کی طرف دھکیلنا شامل ہے۔ یہ ’’انسانی امداد‘‘ اور ترقیاتی کاموں کی آڑ میں اپنے امریکی اتحادیوں کی جنگی کوششوں میں تعاون کرنے میں بھی ماہر ہیں۔ مسلمانوں کو شیطانی لبرل عالمی نظام میں ضم کرنے کے لیے مکروہ حربے استعمال کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر، یہ orientalism (مغربی مفکرین کی طرف سے مشرقی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا جانا) کی علمی روایت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں جو مغربی جنگی کوششوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ چاروں ممالک نیٹو کے سرکردہ رکن ہیں، اور تمام نیٹو ممالک کو دشمن تصور کیا جانا چاہیے۔ نیٹو اتحاد کی رکنیت کے لیے اعلیٰ درجے کے فوجی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، لہذا ایسی کسی بھی حکومت کی حمایت کرنے، جو نیٹو اتحاد کا حصہ ہو، کا مطلب مجموعی طور پر اتحاد کی فوجی طاقت کی حمایت ہے۔ نیٹو کے کئی بڑے ’’غیر نیٹو اتحادی‘‘ (non-NATO) بھی ہیں۔ جن حکومتوں کو یہ درجہ حاصل ہے وہ نیٹو طاقتوں کے ساتھ وسیع فوجی، انٹیلی جنس اور لاجسٹک تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مسلم اکثریتی ممالک کو، اگرچہ ان میں ایک نیٹو رکن اور کئی بڑے ’’غیر نیٹو‘‘ اتحادی بھی شامل ہیں، اس گروہ سے نکال دیا گیا جس کی وجوہات آگے بیان کی گئی ہیں۔
بھارت کو بائیکاٹ کے لیے اوّلین ترجیح کے طور پر شامل کیا گیا ہے کیونکہ یہ صہیونی قبضے کی بھرپور حمایت کرتا ہے، اور عام طور پر چین کے خلاف مغرب کا اتحادی ہے۔ تاہم، بھارت میں مسلمانوں کی بڑی تعداد اور اس کی اسلامی تاریخ کی وجہ سے، میں اُن کاروباروں کو استثنیٰ دینے کی تجویز دیتا ہوں جن کا دین دار مسلمانوں کی ملکیت یا ان کے زیرِ انتظام ہونا معلوم ہو۔ میں مغرب میں موجود مسلم ملکیتی کاروباروں کے لیے ایسے کسی استثنیٰ کی حمایت نہیں کرتا، اس کی وجوہات کا بیان آگے آئے گا۔
کچھ استثناکے ساتھ، یہ فہرست نیٹو ارکان سے شروع ہو کر بڑے غیر نیٹو اتحادیوں پر ختم ہوتی ہے۔ مستثنیات کا تعلق مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شرکت کے درجے اور فلسطین جیسے عالمی مسائل پر مؤقف سے ہے۔ اس درجہ بندی میں قرآن، سنت اور موجودہ حقائق سے دلائل پر ماہرانہ بحث کی بنیاد پر ترمیم کی جا سکتی ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈز وغیرہ کے تمام بیرونِ ملک اثاثے و مفادات اسی ملک کے حکم میں آتے ہیں جس کے زیرِ اختیار ہیں۔
اولین ترجیح والا گروہ، ترجیحات کے اعتبار سے
- امریکہ/صہیونی قابض
- برطانیہ
- فرانس
- جرمنی
- بھارت(ہندؤں اور منافقین کے ملکیتی کاروبار)
- اٹلی
- کینیڈا
- آسٹریلیا
- نیدرلینڈز
- ہنگری
- آسٹریا
- کروشیا
- جمہوریہ چیک
- جاپان
- فلپائن
- سنگاپور
- تائیوان
- سوئٹزرلینڈ
- ڈنمارک
- سویڈن
- ناروے
- فن لینڈ
- آئس لینڈ
- جنوبی کوریا
- رومانیہ
- نیوزی لینڈ
- سپین
- پولینڈ
- بیلجیم
- بلغاریہ
- یونان اور جنوبی قبرص
- مونٹی نیگرو
- سلوواکیہ
- سلووینیا
- پرتگال
- لٹویا
- ایسٹونیا
- لکسمبرگ
- برازیل
- ارجنٹینا
- کولمبیا
دوسری ترجیح: روس چین اتحاد
روس، چین، ایران اور ان کے اتحادی ممالک، مغرب کی عالمی بالادستی کے مخالف ہونے کے باوجود، قطعی طور پر اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کا وسیع پیمانے پر بائیکاٹ کیا جائے اور اس کے علاوہ بھی جس قدر ممکن ہوں مسلمان ان کے خلاف جنگی اقدامات کریں۔ روس کے زیادہ تر علاقے مسلمانوں سے چھینے گئے تھے، اور انہوں نے تاتارستان، قوقاز، ترکستان، کریمیا اور حال ہی میں شام میں مسلمانوں کا بڑی تعداد میں قتلِ عام کیا ہے۔ روس کا سرکاری سرپرستی میں چلنے والا کرائے کے فوجیوں کا گروہ ’’ویگنر‘‘افریقہ بھر میں اسلامی تحریکوں کے خلاف سرگرم ہے، خصوصاً ساحل میں، اور لیبیا، وسطی افریقی جمہوریہ اور موزمبیق میں بھی۔
چینی اسلام سے اپنی شدید نفرت کے لیے معروف ہیں۔ وہ مقبوضہ ترکستان سے اسلام اور ایغور مسلم ثقافت دونوں کو مٹانے اور ان کو چین کے فاسد کمیونسٹ نظریات سے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اللہ انہیں ناکام کریں اور ان کی تباہی میں تیزی لے کر آئیں۔
ایران، روس اور چین کا ایک بڑا اتحادی، کافر علوی بشار الاسد کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث رہا ہے۔ وہ اسلامی احیا کے خلاف بھی سرگرمِ عمل رہے ہیں اور عراق و یمن میں اپنے باطل عقیدے کا جارحانہ انداز میں پرچار کر رہے ہیں اور کئی ممالک میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں۔ شیعہ مجموعی طور پر اسلام جو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا سکھایا ہوا دین ہے، سے نفرت کی ایک تاریخ رکھتے ہیں، اور انہوں نے برائی کی اس روایت کو آج تک برقرار رکھا ہوا ہے۔
شیعوں کی طرف سے اہلِ سنت کے ساتھ اتحاد کی دعوت کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ قوی امکان ہے کہ یہ ان کا تقیہ کا عقیدہ ہے، اور موقع ملتے ہی وہ اہل سنت کی پیٹھ میں بخوشی چھرا گھونپیں گے تاکہ اپنے مسخ شدہ، باطل عقائد کی بالادستی قائم کر سکیں۔ بعض اعتبار سے، یہ انہیں روسیوں، چینیوں، یا مغرب سے زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔ بعض مسلمان ان کی ظاہری شکل و صورت سے دھوکا کھا کر انہیں مسلمان سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر خاموشی سے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
یہ غالباً ان کی اہل سنت سے نفرت ہی ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتوں نے شیعوں کو مضبوط ہونے دیا ہے۔ ایران کا عفریت خلیجی حکمرانوں کو خوف زدہ رکھتا ہے تاکہ وہاں امریکی فوجی اڈے قائم رہیں اور وہ مغرب کے ساتھ اربوں کھربوں کے اسلحے کے معاہدے کرتے رہیں۔ سنی ممالک کے مکمل طور پر مغربی حمایت پر منحصر ہونے کے بعد، مغرب اس قابل ہے کہ ضروری اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ حقیقی اسلامی حکومتیں اقتدار حاصل نہ کر سکیں۔
میانمار(برما) بھی اسی گروہ میں آتا ہے، اور حکومت اور بدھ ملیشیاؤں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کے لیے مشہور ہے۔ کچھ دیگر مسلم اکثریتی ممالک بھی ہیں جو روس کے ساتھ منسلک ہیں، لیکن انہیں چوتھی ترجیح والے گروہ میں دیکھا جائے گا۔ وسطی افریقی جمہوریہ بھی روس کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے اور اس حکومت کے اپنے ملک کے مسلمانوں کے خلاف معاندانہ اقدامات بشمول ہزاروں مساجد کو شہید کرنے کی وجہ سے اس گروہ میں شامل ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس گروہ میں شامل ممالک مسلمانوں کے خلاف تشدد اور شدید دشمنی کی وجہ سے مغرب سے بدتر ہیں۔ ایسا نہیں ہے، یہ ممالک کھل کر دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ مغرب لوگوں کو اس چیز کا احساس دلائے بغیر اسلامی مکالمے میں دراندازی کرتا ہے اور مذہب کو مسخ کر دیتا ہے۔ مغرب کا ثقافتی اور نظریاتی اثر روس اور چین کے مقابلے میں، جس کی کشش دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بہت محدود ہے، کہیں زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، مغرب کے پاس زیادہ فوجی، سیاسی، معاشی، ثقافتی اور ادارہ جاتی قوت ہے جسے وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں، یہ ان کو فوجی کاروائیوں اور بائیکاٹ کے ہدف کے لیے اعلیٰ ترجیح بناتا ہے۔
دوسرا گروہ، ترجیحات کے اعتبار سے
- چین
- روس
- ایران
- میانمار(برما)
- وسطی افریقی جمہوریہ
- بیلاروس
- شمالی کوریا
- وینزویلا
- کیوبا
تیسری ترجیح: ’’تیسری دنیا‘‘
’’تیسری دنیا‘‘ کے بیشتر ممالک لاطینی امریکہ، افریقہ، اور ایشیا پیسیفک میں موجود سابقہ نوآبادیات ہیں جو نوآبادیاتی اقتصادی تنظیم کے اصولوں پر چلتے ہیں۔ یہ قومیں عموماً مسلمانوں کے خلاف محدود دشمنی رکھتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ عام طور پر مغرب کی جانب سے استحصال کا شکار ہیں اور مسلم علاقوں میں ان کے معاشی مفادات کم ہیں۔
چونکہ ان ممالک کی اسلام کے خلاف جنگ میں بہت کم شمولیت ہے، اس لیے یہ تقریباً ہمیشہ ہی بہتر ہوتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو ان کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں رکھی جائیں۔ اس سرگرمی سے حاصل ہونے والے ٹیکس اور معاشی قوت کا مطلب مسلمانوں کے مجموعی نقصان میں کمی ہے۔ اس میں کچھ مستثنیات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر، افریقہ میں موجود ’’تیسری دنیا‘‘ کے متعدد ممالک صومالیہ میں شرعی حکمرانی کی کوششوں کو دبانے کے لیے حملے اور قبضے میں ملوث رہے ہیں۔
اگر ممکن ہو تو ان ممالک کے بجائے مسلم اکثریتی ممالک سے خریدنا اور وہاں کام کرنا بہتر ہے، لیکن ایسا کرنا پھر بھی مغرب یا چین روس بلاک کی حمایت کرنے سے کم نقصان دہ ہو گا۔ ضروری نہیں کہ یہ اس لیے ہے کہ یہ عیسائی اور مشرک حکومتیں مغرب سے بہتر ہیں، بلکہ اس لیے ہے کہ یہ حکومتیں بدعنوان، ناکارہ اور کمزور ہیں، اس لیے ان حکومتوں کا آمدنی حاصل کرنے کا نقصان مجموعی طور پر کم ہو گا۔
ان ممالک میں کاروبار کرنا کئی مشکلات کو ساتھ لاتا ہے، مگر بہت سے غیر ملکی تاجروں، خاص طور سے شامی اور یمنی تاجروں، نے اس میں کافی کامیابی حاصل کی ہے۔
تیسرا گروہ، ترجیحات کے اعتبار سے
- برونڈی،
- یوگنڈا،
- آرمینیا،
- جارجیا،
- شمالی مقدونیہ،
- مالڈووا،
- ٹونگا،
- میکسیکو،
- بوٹسوانا،
- ہونڈوراس،
- گوئٹے مالا،
- کوسٹاریکا،
- ایل سلواڈور،
- بیلیز،
- پانامہ،
- نکاراگوا،
- ایکواڈور،
- بولیویا،
- پیرو،
- یوراگوئے،
- پیراگوئے،
- چلی،
- گیانا،
- سورینام،
- ڈومینیکن ریپبلک،
- جمیکا،
- ہیٹی،
- فجی،
- مشرقی تیمور،
- نیپال،
- سری لنکا،
- ویتنام،
- کمبوڈیا،
- منگولیا،
- لاؤس،
- بھوٹان،
- پاپوا نیوگنی،
- وانواتو،
- تووالو،
- کریباتی،
- جزائر سلیمان،
- مارشل جزائر،
- پلاؤ،
- مئیکرونیشیا،
- کوک جزائر،
- ساموا،
- نورو،
- نائجیریا(جنوبی)،
- گھانا،
- روانڈا،
- ملاوی،
- آئیوری کوسٹ،
- انگولا،
- کینیا،
- کیمرون،
- موزمبیق،
- کانگو – کنشاسا،
- کانگو – برازاویل،
- لائبیریا،
- گبون،
- زیمبیا،
- مڈغاسکر،
- زمبابوے،
- بینن،
- جنوبی سوڈان،
- ٹوگو،
- اریٹیریا،
- نمیبیا،
- لیسوتھو،
- گنی بساؤ،
- ماریشس،
- سواتینی،
- کیپ وردے،
- ساؤٹوم،
- تنزانیہ(زنزیبار کو چھوڑ کر)،
- سیشلز
چوتھی ترجیح: مسلم اکثریتی ممالک
بائیکاٹ نہ صرف دشمن کی قوت توڑنے کا ایک طریقہ ہے، بلکہ یہ مسلمانوں کی تعمیر و ترقی اور انہیں مضبوط کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔ مسلم سرزمین پر سیاسی آگاہی رکھتے ہوئے کاروبار کرنا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مرضی سے مستقبل کے سیاسی منظرنامے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو گا۔
چونکہ مسلم اکثریتی ممالک کی ایک بڑی تعداد ایسی حکومتوں کے زیر حکمرانی ہیں جو یا تو نیٹو کی مکمل رکن ہیں(جیسا کہ ترکی کا معاملہ ہے) یا پھر بڑی غیر نیٹو اتحادی ہیں (جیسے پاکستان، مصر، تیونس، مراکش اور قطر)، اس سے کچھ مشکل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ممالک، جیسے ترکی اور قطر، نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات کو بعض اسلامی مقاصد کی حمایت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
آیا اس طرح حاصل ہونے والے فوائد اس نقصان سے زیادہ ہیں جو ان ممالک کے امریکی اور دیگر نیٹو افواج کے مسلم سرزمینوں پر جنگیں مسلط کرنے میں تعاون کرنے سے پہنچتا ہے؟ یہ ایک طویل، پیچیدہ، اور اختلافی بحث ہے۔ بعض لوگ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ حکومتیں ’’کمتر برائی‘‘ کا انتخاب کر رہی ہیں، جبکہ دوسروں کا ماننا یہ ہے کہ دشمن فوجوں کے لیے ان کی حمایت فسق ہے لیکن کفرِ اکبر نہیں۔ پھر بھی کچھ لوگ اس تعاون کو ایسا عمل سمجھتے ہیں جو اسلام کو باطل کر دیتا ہے، اور یہ رائے روایتی دینی علوم کے نقطہ نظر سے سب سے قوی ہے۔ اس پر تفصیلی شواہد کے لیے، شیخ ناصر بن حمد الفہد فک اللہ اسرہ کی ’’امریکیوں کے مدد کرنے والے کے کفر کے بارے میں بیان‘‘ کی طرف رجوع کریں۔
بعض مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف کچھ کافر حکومتوں سے بھی زیادہ شدید ہیں۔ مثلاً مصر اور سعودی عرب کی حکومتیں، جو مجاہدین کے خلاف شدید تشدد اور نفرت اور عیسائیوں اور یہودیوں سے محبت کے لیے مشہور ہیں۔ پھر ایسی حکومتیں بھی ہیں جو اسلامی احیا کی طرف ہمدردی رکھتی ہیں اور کسی طرح سے اس کی حمایت کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اور بعض اوقات انہی کوششوں کی بنیاد پر دشمن کافر طاقتوں کے ساتھ اتحاد میں شمولیت اور غیر اسلامی اداروں میں شرکت کا جواز پیش کرتی ہیں، ان میں سب سے معروف قطر اور ترکی ہیں۔
حسن ظن کے اصول پر عمل کرتے ہوئے، یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ان ممالک میں رہنے والے بہت سے مسلمان اپنی حکومتی پالیسیوں سے ناواقف ہیں یا اس بارے میں کچھ کرنے سے بے بس ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے منافع کا بڑا حصہ اکثر صورتوں میں حکومت کے بجائے عام عوام کو جاتا ہے۔ لہذا، اگر کسی مسلم ملک کی حکومت کے دشمن کے ساتھ قریبی روابط ہوں تب بھی عام مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اس ملک سے خریداری کرنا افضل ہے، کیونکہ اس کا فائدہ انشاءاللہ اسلام دشمن حکومت کو فائدہ پہنچانے سے ہونے والے نقصان سے زیادہ ہو گا۔ لہذا مسلم اکثریتی ممالک بائیکاٹ کے معاملے میں خود بخود آخری ترجیح بنتے ہیں، نہ کہ اپنی حکومتوں کی وجہ سے بلکہ اپنی عوام کی وجہ سے۔
اس کے باوجود ایسا مسلم اکثریتی ملک جو امریکی فوج کی حمایت یا تعاون نہیں کرتا، اس ملک کی نسبت حمایت کا زیادہ مستحق ہے جو دشمن قوتوں کی مدد کرتا ہے۔ اسی طرح، ان ممالک میں سے جو دشمن کو مدد فراہم کرتے ہیں، جو کم مدد کرنے والے ہیں وہ زیادہ مدد فراہم کرنے والوں کے مقابلے میں بائیکاٹ کے کم مستحق ہیں۔ ایک جامع بائیکاٹ سیاہ و سفید کی طرح سیدھا سادہ نہیں ہو سکتا، بلکہ نفع و نقصان کے کئی درجات پر غور کیا جانا چاہیے۔
یہاں تک کہ سیکولر مسلم اکثریتی ممالک جو عالمی نظام میں ضم ہو چکے ہیں اب بھی اسلامی بنیادیں اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ لوگ زیادہ آسانی سے اسلام کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں تجارت اور کاروبار عموماً دعوت کا ذریعہ رہا ہے۔ کاروبار اور تجارت نہ صرف کافروں کے لیے، بلکہ جاہل یا غافل مسلمانوں کے لیے بھی دعوت کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے کاروباری تعلقات وہاں کے مسلمانوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور سماجی روابط بھی استوار کر سکتے ہیں جو بالآخر ان ممالک کے رویوں اور پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔
حتیٰ کہ اگر مسلم اکثریتی ممالک کی حکومتیں اسلام کی مخالفت کرتی ہیں، پھر بھی اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک میں اسلام مخالف حکومتوں کی حمایت سے جو قوت پیدا ہو گی، اس سے مستقبل میں مسلمانوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک میں اقتدار پر مسلمانوں کے قبضے کے امکانات دیگر جگہوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ ۱۴۰۹ ہجری کی بغاوت کے بعد سوڈان، ۱۴۳۳ ہجری میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران شام اور ۱۴۴۳ ہجری کے بعد افغانستان، یہ سب بڑی مقدار میں ہتھیاروں اور انفراسٹرکچر کے مسلمانوں کے ہاتھ آنے کی مثالیں ہیں۔ مغربی ممالک میں بسنے والی مسلم اقلیتوں کے کاروبار کی حمایت کے معاملے میں اس کا اُلٹ ہے، وہاں کے مسلمانوں نے جو بھی دولت حاصل کی ہے، سیاسی ماحول میں تبدیلی آنے سے کفار با آسانی اس پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری اور کاروبار اس خطے میں قائم حکومتوں کو مضبوط کرتے ہیں جہاں یہ سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ایک کمزور معیشت زیادہ عدم استحکام اور بڑے پیمانے پر احتجاج یا بغاوت کے زیادہ امکانات کا باعث بنے گی، جبکہ ایک مضبوط معیشت حکومت کی قانونی حیثیت اور اقتدار پر اس کی گرفت کو مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بہتر ہے کہ ان حکومتوں کو مضبوط کیا جائے جہاں معاشی نظام صہیونیت زدہ عالمی مالیاتی نظام سے سب سے زیادہ کٹا ہوا ہو اور ان حکومتوں کو کمزور کیا جائے جو اس نظام کے ساتھ زیادہ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان طاقت کا توازن ایسی صورت اختیار کر جائے گا جو شریعت کے قیام کے لیے سازگار ہو گا۔
اسلامی حکومت کے تحت صرف چند چھوٹے علاقے ہیں، اور وہ بغیر کسی استثنا کے، مغرب کی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ یہ علاقے نیچے دی گئی ترجیحی فہرست کے آخر میں شامل ہیں۔ کچھ لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ان علاقوں پر ایسے گروہوں کی حکومت ہے جنہیں کفار نے ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے۔ کفار کی طرف سے ان علاقوں میں تجارتی لین دین کو غیر قانونی قرار دینا اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ وہاں کاروبار کرنا اللہ عزوجل کے دشمنوں کے معاشی مفادات پر ضرب لگانے کا ایک طاقتور طریقہ ہے۔ افغانستان جیسی جگہیں بھی ہیں جہاں مغرب کی جانب سے حکومت کے ساتھ کاروباری معاملات پر پابندی ہے لیکن ملک کے اندر کاروبار پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
ترجیحات کی یہ فہرست بنیادی طور پر صہیونیت زدہ عالمی معیشت میں شمولیت کے درجے اور مغربی فوجوں کے ساتھ تعاون پر مبنی ہے۔ بعض مسلمان اس فہرست میں قطر اور ترکی کے شروع میں موجود ہونے پر اعتراض کر سکتے ہیں، اس کا مقصد ان حکومتوں کے اسلام کے ساتھ تعاون کا انکار نہیں ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ ان حکومتوں کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ یہ اس کتاب کے دائرہ کار سے باہر ایک طویل بحث ہے، اور یہ ترجیحات محض رہنما اصول ہیں جن پر مختلف نقطہ نظر اور ترجیحات کے مطابق مستقبل میں بحث یا ترمیم کی جا سکتی ہے۔
ترجیحات کے تعین میں حکومت کی مجموعی قوت اور کارکردگی کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔ مثلاً، تاجکستان کی حکومت ترکی کے مقابلے میں زیادہ اسلام دشمن ہو سکتی ہے، لیکن تاجک حکومت اتنی کمزور، بدعنوان، اور حکمت عملی کے لحاظ سے پسماندہ ہے کہ اس کے اقدامات کا ترک حکومت کی پالیسیوں کے مقابلے میں امت پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔ تاجکستان کی حکومت ترکی کی حکومت سے بدتر ہو سکتی ہے، لیکن ترکی میں کاروبار کرنے کا نقصان تاجکستان میں کاروبار کرنے کے نقصان سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
آخر میں، کچھ لوگ ان گروہوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں کاروبار کی حوصلہ افزائی پر اعتراض کر سکتے ہیں جن سے وہ بہت سے معاملات پر متفق نہیں ہیں، بشمول صومالیہ کے حرکت الشباب المجاہدین۔ ان گروہوں اور ان کے منہج سے کسی بھی قسم کے اختلاف کے باوجود، وہ مسلمان ہیں اور زیادہ تر قومی حکومتوں کے مقابلے میں اقتصادی طور پر صہیونی عالمی نظام سے زیادہ کٹے ہوئے ہیں، صرف مغرب کی جانب سے ان پر عائد کی گئی سخت پابندیوں کی وجہ سے۔
ایسے گروہ یا حکومتوں کو جو اللہ کے دشمنوں سے جنگ کرتے ہیں ان گروہوں یا حکومتوں پر فوقیت حاصل ہے جو کفار کی مدد کرتے ہیں، قطۂ نظر ان کی غلطیوں کے۔ حکمت سے کام لینا اور مختلف سطح کے انحراف کے حامل مسلمانوں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کا مظاہرہ کرنا ایک اہم اصول ہے۔ اس کا اطلاق قوموں اور گروہوں کے ساتھ ساتھ افراد پر بھی ہوتا ہے۔
چوتھا گروہ ترجیحات کے اعتبار سے
- متحدہ عرب امارات،
- سعودی عرب،
- بحرین،
- کویت،
- مصر،
- پاکستان،
- تیونس،
- مراکش،
- البانیا،
- شام-SDF(امریکہ)،
- اردن،
- ترکی،
- شمالی قبرص،
- قطر،
- عمان،
- جبوتی،
- صومالیہ،
- بنگلادیش،
- لیبیا-LNA(مصر/سعودی عرب)،
- لیبیا-GNA(قطر/ترکی)،
- شام-SNA(ترکی)،
- تاجکستان،
- ملائیشیا،
- برونائی،
- بوسنیا،
- موریطانیہ،
- سوڈان،
- انڈونیشیا،
- نائجیریا،
- کوسوو،
- یمن-STC(متحدہ عرب امارات)،
- یمن(سعودی)،
- کرغستان،
- سینیگال،
- چاڈ،
- صومالی لینڈ،
- گنی(Guinea)،
- الجزائر،
- گیمبیا،
- ترکمانستان،
- کوموروس،
- مالدیپ،
- عراق،
- لبنان،
- قازقستان،
- آذربائیجان،
- فلسطین-مغربی کنارہ،
- شام-SAA(روس/ایران)،
- یمن-حوثی(ایران)،
- سوڈان-RSF(روس)،
- برکینافاسو،
- مالی،
- نائجر،
- فلسطین-غزہ،
- افغانستان،
- شام-HTS(سنی شامی)، JNIM
- (برکینا فاسو، مالی، نائجر)،
- IS-Sahel(برکینا فاسو، مالی، نائجر)،
- IS-نائجیریا،
- صومالیہ-HSM
مسلم اقلیتی ریاستوں میں مسلم اکثریتی علاقے
مسلم اقلیتی ممالک میں وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، اپنے اوپر قابض حکومتوں کے بائیکاٹ سے استثنا کے مستحق ہیں۔ اگر مسلم اکثریتی علاقوں میں قابض حکومت کو ٹیکس کی صورت میں فائدہ پہنچائے بغیر کاروبار یا خریداری کرنا ممکن ہو، تو یہ مسلم اکثریتی ملک کے اندر ایسی حکومت کے ساتھ تعامل سے بہتر ہے جو شریعت کے قیام کی مخالف ہو۔ اس تعریف پر پورا اترنے والے علاقے ذیل میں درج ہیں۔ انہیں ترجیح کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ اقصادی سرگرمیوں کے لیے سب سے بہترین انتخاب کو سب سے آخر میں رکھا گیا ہے، اور سب سے بدتر کو سب سے پہلے۔ اس فہرست کی ترتیب بنیادی طور پر علاقوں کے اسلامی حکومت کو منتقل ہونے کے امکانات اور ان قابض حکومتوں کی قوت اور دشمنی پر مبنی ہے۔
مسلم اقلیتی ممالک میں مسلم اکثریتی علاقے، ترجیحات کے اعتبار سے
- شمالی گھانا،
- مچنگا اور منگوچی،
- ملاوی،
- شمالی کیمرون،
- شمالی بینن،
- کینیا اور تنزانیہ کے بعض ساحلی علاقے بشمول زنجبار،
- شمالی آئیوری کوسٹ،
- اراکان،
- برما،،
- کشمیر،
- شمال وسطی افریقی جمہوریہ،
- شمالی نائیجیریا،
- منڈاناؤ کے بعض علاقے،
- فلپائن،
- قوقاز(چیچنیا، داغستان، انگوشیشیا، کبارڈینوبلکاریا، کاراچے چیرکیسیا)،
- تاتارستان،
- تاشکورتیستان کے روس کے زیرِقبضہ علاقے،
- ایران کے بلوچ، اہواز اور کرد علاقے،
- ایتھوپیا کے زیرِقبضہ صومالی، افار اور اورومو کے علاقے
کمپنیوں کا بائیکاٹ
بائیکاٹ کی بات کرتے ہوئے، زیادہ تر مسلمان میکڈونلڈز، سٹاربکس، اور کوکا کولا جیسی نمایاں صہیونیت نواز کمپنیوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ قابل تحسین ہے، لیکن اس قسم کا بائیکاٹ پورے صہیونی عالمی نظام یا مخصوص اقوام کے بائیکاٹ کے مقابلے میں بہت کم مؤثر ہے۔ حتیٰ کہ اگر ایک بڑی کمپنی صہیونی قبضے کے ساتھ تعاون میں لاکھوں ڈالر کا عطیہ دیتی ہو، تب بھی امکان ہے کہ وہ مغربی حکومتوں کو جو ٹیکس ادا کرتے ہیں، وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کسی بھی رضاکارانہ عطیے کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔
اگرچہ خاص کمپنیوں کے بائیکاٹ کا اثر نسبتاً معمولی ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
لا تحقرن من المعروف شیٔاً ولو أن تلقی أخاک بوجهٍ طلیق
’’کسی بھی نیکی کو حقیر مت جانو، اگرچہ وہ تمہارا اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
کمپنیوں کے بائیکاٹ سے جڑا دباؤ باقی کمپنیوں کو بھی صہیونی قبضے یا حتیٰ کہ فلسطینیوں کو بھی عطیات دینے سے گریز کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ نمایاں کمپنیوں کا بائیکاٹ ایسی دوسری سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے جن کا طرزِ زندگی پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے، بشمول اسلامی احیا، ہجرت اور جہاد کے لیے ہمدردی کے۔
بائیکاٹ کا اثر فوری نقصانات تک محدود نہیں ہے۔ اگر ایک بائیکاٹ شدہ چیز کا معاشرے میں نمایاں مقام ہے، جیسے کپڑوں کا کوئی برینڈ، گاڑی، یا کوئی بھی چیز جس پر نمایاں برینڈ کا نام ہو، ایسی چیز کا استعمال دوسروں کو پیروی کرنے پر ابھارتا ہے۔ یہ صہیونی ؍مغربی جنگی مشینری کو پہنچنے والی مالی امداد کو دگنا کر دیتا ہے۔ اسی طرح، بااثر افراد کا کسی برینڈ کا بائیکاٹ کرنا اوروں کا بھی ان کی تقلید کرنے کا باعث بن سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ بھی جو بائیکاٹ سے بے خبر ہیں۔
اصولاً، یہ بہتر ہے کہ تمام کارپوریٹ، صنعتی طور پر تیار کردہ مصنوعات سے بچا جائے۔ حتیٰ کہ مسلم اکثریتی ممالک میں بھی بڑی کمپنیاں بینک، انشورنس، وکلاء، کنسلٹنٹ، سازوسامان اور خام مال استعمال کرتی ہیں جو تمام صہیونی تسلط والے سیاسی، قانونی اور اقتصادی نظام سے منسلک ہیں۔ چھوٹے پروڈیوسرز کے لیے مقامی سامان کے استعمال اور ٹیکس اور قوانین سے بچ کر اس نظام سے آزادی حاصل کرنا قدرے آسان ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
