مدرسہ و مبارزہ | بارہویں قسط

مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک

باب ہفتم: دینی تعلیم و تدریس کے بنیادی و حقیقی مقاصد

دینی تعلیم کس لیے؟

اگر مدارس میں عالم اور طالبِ علم کے سامنے دینی علم حاصل کرنے کے حقیقی مقاصد واضح نہ کیے جائیں تو اندیشہ ہے کہ یہ عظیم اور بابرکت علم جو اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے، بہت معمولی اور سطحی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال ہونے لگے، اور اس کے حامل افراد بھی معمولی کاموں میں مشغول ہو کر چھوٹے اہداف اور محدود کامیابیوں پر ہی قناعت کر لیں۔

اسی لیے، اس غرض سے کہ اہلِ مدارس کو دینی تعلیم و تدریس کے بلند مقاصد اور اس کے صحیح استعمال کی طرف مزید متوجہ کیا جائے، میں اس موضوع پر چند اہم اور اسٹریٹجک نکات پیش کرتا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ ہم سب اس فکر میں لگ جائیں کہ دینی تعلیم کو کس طرح اس انداز میں منظم اور فعال بنایا جائے کہ اس کا نتیجہ حقیقی معنوں میں ایسے باعلم علماء کی تیاری کی صورت میں نکلے جو اسلام کو صحیح طور پر سمجھتے ہوں، معاشرے میں دینِ الٰہی کی اشاعت کریں، ایک حقیقی، خود کفیل اسلامی معاشرہ قائم کریں، اسلامی نظام کے قیام اور اس کے دوام میں کردار ادا کریں، اور نفاذِ شریعت کو موجودہ حالات میں ممکن بنائیں۔

علم اور تعلیم کے بارے میں گفتگو دو طرح کی ہوتی ہے:

  1. تکنیکی اور وسائل سے متعلق گفتگو
  2. اسٹریٹجک اور بامقصد گفتگو

تکنیکی گفتگو سے مراد یہ ہے کہ تعلیم کا معیار کیسا ہو گا؟ نصاب، نظامِ تدریس اور اس کے طریقۂ کار کیا ہوں گے؟ امتحانات اور جانچ کا نظام کس طرح ہو گا؟ طلبہ کو سمجھانے کے لیے کن وسائل اور طریقوں کا استعمال کیا جائے گا؟ تعلیمی عمل میں پیش آنے والی مشکلات کو کیسے حل کیا جائے گا؟ وغیرہ۔

جبکہ اسٹریٹجک گفتگو سے یہاں مراد یہ ہے کہ ہم تعلیم کے ذریعے ایسا کیا کچھ کر سکتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ایک مضبوط اور بامقصد نظام تشکیل پا سکے، اپنے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ اسی کے ذریعے یقینی بنائیں، دشمن پر غلبہ اسی کے ذریعے حاصل کریں، اسی کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں، دشمن کے ان منفی اثرات کا سدِّباب کریں جو افراد اور مجموعی طور پر معاشرے پر پڑ رہے ہیں۔ اسلامی نظام کا قیام اسی کے ذریعے عمل میں لائیں، اسی کے وسیلے سے آزادی حاصل کریں اور پھر اسے برقرار بھی رکھیں، اپنی دینی و ملی شناخت کو اسی کے ذریعے محفوظ رکھیں، اور بالآخر اس کی برکت سے اغیار کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں ضم ہونے سے بچ جائیں۔

ہم سب کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ہم تعلیم کے ساتھ ایسا کیا طرزِ عمل اختیار کریں جو ہمیں ضعفِ علم و عمل سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم نہ صرف معاشرے کو زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی بنا سکیں بلکہ اسے امت اور اپنی ملت کی قوت کا ذریعہ بھی بنائیں، اور ان کمزوریوں کا ازالہ بھی کریں جن کی وجہ سے اکثر منبر و محراب، قیادت اور سیادت کے اہل افراد کو زندانوں، غاروں، جنگلوں، پہاڑوں یا جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سورۃ الجمعہ کی دوسری آیت میں رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت اور رسالت کے مقاصد کو بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کو ایک ایسی امی(ناخواندہ) قوم کی طرف بھیجا گیا جو دیگر اقوام کی طرح مہذب نہ تھی، تاکہ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سنائیں، دین اور اس کے احکام سکھائیں، اور ان کے نفوس کا تزکیہ کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝(سورۃ الجمعة: ۲)

’’  وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں اور ان کو پاکیزہ بنائیں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘

ان مقاصد پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی ہدف معاشروں میں خیر کی تبدیلی لانا ہے۔ جتنے بھی انبیاء علیہم السلام، اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمائے، وہ صرف صالح افراد کے طور پر نہیں بلکہ صالح اور مصلح دونوں حیثیتوں سے بھیجے گئے۔

باطل کے پیروکاروں کی دشمنی  صالح لوگوں کے ساتھ زیادہ شدید نہیں ہوتی، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صالح افراد زیادہ تر اپنی ذاتی اصلاح تک محدود رہتے ہیں اور دوسروں پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتے۔ لیکن جب یہی صالح افراد مصلح بن جاتے ہیں تو باطل کے علمبردار ان کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر، اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ بعثت سے پہلے ایک نہایت صالح شخصیت تھے۔ مکہ کے مشرکین آپ کی دیانت و صداقت کے معترف تھے، آپ کو ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کے القابات سے یاد کرتے اور آپ کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی دیتے تھے۔ لیکن جب آپ ﷺ نے نبوت کے بعد اللہ کے حکم سے اصلاحِ معاشرہ کا کام شروع کیا اور عقائد و اخلاق کی ہر قسم کی خرابی کا مقابلہ کیا، تو وہی لوگ جو پہلے آپ کی تعریف کرتے تھے، آپ کے سخت ترین دشمن بن کر سامنے آ گئے۔

باطل کے پیروکار ایک مصلح انسان سے اس لیے خوف زدہ رہتے ہیں اور اس کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں کہ اس کی فکر، دعوت، عمل اور اجتماعی تحریک سے ان کا جابرانہ اقتدار متاثر ہوتا ہے۔ ان کا وہ باطل دین اور ثقافت، جس کے ذریعے وہ لوگوں کو مصروف رکھتے ہیں، ختم ہونے لگتی ہے، اور وہ اقوام جنہیں انہوں نے اپنے لیے لشکر اور رعیت بنا رکھا ہوتا ہے، اب ان کے احکام ماننے سے انکار کر دیتی ہیں۔ بلکہ وہ حق کی پیروی شروع کر دیتی ہیں اور ان کے خلاف صف آراء ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصلح کی سرگرمیاں باطل کے پیروکاروں پر نہایت گراں گزرتی ہیں اور وہ ہر سطح پر اس کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام، علماء اور داعیانِ دین کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ خود صالح ہوں، بلکہ ان کا منصب یہ ہے کہ وہ صالح بھی ہوں اور مصلح بھی، اور معاشرے میں اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔ وہ نہ صرف انسانوں کو باطل اور شیطان کی پیروی سے روکتے ہیں بلکہ انہیں حق کی حمایت کے لیے تیار کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ایک ایسی داعی امت اور مضبوط جماعت تشکیل دیتے ہیں جو ایک طرف اسلام کی دعوت کو عام کرے اور دوسری طرف میدانِ عمل میں باطل کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ بھی کرے۔

علماء کی ذمہ داری کا وسیع دائرہ

رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر جب انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ ختم ہو گیا تو لوگوں کی اصلاح، باطل کی روک تھام، امت کی اجتماعی، فکری، سیاسی، دینی اور اخلاقی رہنمائی، اور مسلمانوں کی دینی شناخت کے تحفظ کی ذمہ داری علمائے کرام کے سپرد ہو گئی۔

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا العِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ1حدیث صحیح أخرجه أبو داود(۳۶۴۱) والترمذي (۲۶۸۲) وابن ماجة (۲۲۳) واللفظ له و أحمد (۲۱۷۱۵).

’’بے شک علماء  انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے نہ دینار وراثت میں چھوڑے ہیں نہ درہم، بلکہ انہوں نے اپنی میراث میں علم چھوڑا ہے، پس جس نے اسے حاصل کیا اس نے بڑا حصہ پایا۔‘‘

علماء کا انبیاء علیہم السلام کا وارث ہونا صرف نماز کی امامت یا دینی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ نبوت کے درجے کے سوا امت کی تمام قائدانہ ذمہ داریوں میں وہ انبیاء کے جانشین ہیں۔ اور جس طرح انبیاء علیہم السلام اشرف المخلوقات ہیں، اسی نسبت سے علماء کو بھی اپنے اندر اعلیٰ صلاحیتیں اور بہترین اوصاف پیدا کرنے چاہئیں، تاکہ وہ اپنی معاشرت میں ایسا اثر رکھ سکیں کہ انہیں اپنے معاشرے کے بہترین افراد میں شمار کیا جائے۔

انبیاء علیہم السلام کی زندگی، طریقِ کار اور ذمہ داریوں پر غور کرنے کے بعد انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ حضرات صرف اللہ کے پیغام کی تبلیغ اور وضاحت ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ ایسے عملی اقدامات بھی کرتے تھے جن کے ذریعے آسمان سے نازل ہونے والے احکام اور مفاہیم محض نظریات کی حد تک محدود نہ رہیں، بلکہ عملی صورت اختیار کریں اور ایک مکمل نظام کی شکل میں ظاہر ہوں۔ یعنی وہ علم کو عمل میں ڈھالتے، عمل کے ذریعے نظام قائم کرتے، اور وہ نظام لوگوں کی زندگیوں کو منظم کرتا، دین کو نافذ کرتا، دعوت کے لیے فضا ہموار کرتا اور فساد کا سدِّباب کرتا تھا۔

مدارس اور مساجد میں علمی سرگرمیوں سے وابستہ افراد اگر انبیاء علیہم السلام کے اس طرزِ عمل کو سمجھ لیں کہ وہ اپنے علم کو کس طرح بروئے کار لاتے تھے، تو اس ادراک سے ان کے اندر یہ شعور پیدا ہو گا کہ محض کتاب پڑھنا اور پڑھانا ہی علماء کی ذمہ داری نہیں، بلکہ دعوت، جدوجہد، جہاد، شرعی و سیاسی سرگرمی، معاشرتی اصلاح، اپنے زمانے کے مسائل کا فہم، اور پھر ان کا حل شریعت کے اصولوں کی روشنی میں پیش کرنا بھی علماء کے فرائض میں شامل ہے۔

چونکہ زمانے کی تبدیلی کے ساتھ انسانوں کے مسائل بھی نئے اور متنوع انداز میں پیدا ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے حل کے لیے دینی رہنمائی کی روشنی میں نئی اور مؤثر راہیں تلاش کی جائیں۔

دینی تعلیم کے اساسی مقاصد

دینی تعلیم کے اپنے بنیادی اور اساسی مقاصد ہوتے ہیں، جن کا تعلیم کے ذریعے حاصل ہونا ضروری ہے۔ یہ مقاصد اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب طالبِ علم ان سے اچھی طرح آگاہ ہو، تاکہ وہ دینی علم کو انہی مقاصد کے حصول کے لیے حاصل کرے۔ ان اہم مقاصد میں سے چند درج ذیل ہیں:

پہلا مقصد: اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کو معاشرے میں عام کرنا

دینی مدارس اور علماء کی سب سے بنیادی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معاشرے میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام و ہدایت کو پھیلائیں اور مؤثر انداز میں لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیں۔ یہی کام انبیاء علیہم السلام کا سب سے اہم مشن تھا، اور انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ وقت اور توجہ اسی کام پر صرف کی تھی۔

معاشرے کے افراد کو اسلام کی طرف دعوت دینا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو عام کرنا اسی وقت ممکن ہے جب درج ذیل اقدامات کیے جائیں:

  1. سب سے پہلے طلبہ اور علماء کے دلوں میں اس کام کی اہمیت اور ضرورت کا پختہ یقین پیدا کیا جائے۔ ان کی ذہن سازی کی جائے کہ شرعی علم دیگر علوم کی طرح محض ایک علمی متاع یا ذریعہ نہیں ہے جسے صرف دنیاوی زندگی سنوارنے یا کسی عہدے اور منصب کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے، بلکہ یہ ایک عظیم امانت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہے، اور علماء اسے لوگوں تک پہنچانے کے مکلف ہیں۔
    ان کے ذہن اور روح میں یہ بات راسخ کی جائے کہ اس راستے میں پختہ عزم، لوگوں کو سمجھانے میں صبر، گہری بصیرت، مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاحیت، باطل کے خلاف ہمہ جہت جدوجہد اور قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہی ہدایت کو عام کرنا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلانا وہ عظیم عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سب سے بہترین کام قرار دیا ہے۔
  2. طلبہ اور علماء کو ایسے دینی نصاب کے تحت تربیت دی جانی چاہیے جس میں درج ذیل خصوصیات پائی جائیں:
    • نصاب میں خالص شرعی علوم (یعنی دین کے بنیادی اصول) کا حصہ لغوی، ادبی اور دیگر ضمنی علوم کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور غالب ہو۔
    • نصاب میں عصرِ حاضر کے فکری، تہذیبی اور دینی مسائل کا حقیقی اور مؤثر حل موجود ہو۔
    • نصاب طلبہ اور علماء کو اپنے زمانے کی جدید جاہلیتوں، اور اغیار کی جانب سے پھیلائے جانے والے نظریات و افکار سے باخبر رکھے، نیز ان سیاسی اور فکری تحریکوں کے خطرات اور اثرات سے آگاہ کرے جنہوں نے عالمی سطح پر خصوصاً مسلمانوں کو متاثر کیا ہے۔
    • نصاب اپنے طلبہ کو دعوت کے اسالیب سے آشنا کرے، دین کی اشاعت کے جدید ذرائع کے استعمال کے قابل بنائے، اور کفر و ضلالت کے معاصر مظاہر، تصورات اور نظاموں کے مقابلے کے لیے علمی و فکری صلاحیت پیدا کرے۔
  3. مدرسے میں طالبِ علم کو ابتدا ہی سے یہ شعور دیا جائے کہ دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لیے نازل ہوا ہے تاکہ عقیدہ توحید کی بنیاد پر انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اس طریقے سے منظم کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
    طالبِ علم کے ذہن میں یہ بات پختہ کی جائے کہ اس کے اثر کا دائرہ پورا معاشرہ ہے، اور اس کی ذمہ داری دینی، سیاسی اور سماجی قیادت ہے، جس کے لیے اسے ذہنی، علمی اور عملی طور پر خود کو تیار کرنا چاہیے۔

عملاً دیکھا جا رہا ہے کہ مدارس کے موجودہ نصاب میں ایسے علوم شامل نہیں جو طالبِ علم کو دینی نقطۂ نظر سے سیاسی، سماجی، تہذیبی اور فکری شعور عطا کریں، اور اس کے اندر دینی، سماجی اور سیاسی قیادت کی صلاحیتیں پیدا کریں۔ اس کے برعکس، طلبہ کے اکثر اوقات ایسے صرفی، نحوی اور ادبی علوم کی کتب میں صرف ہو جاتا ہے جن کے ذریعے نہ دین کو مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی موجودہ دور کے فکری و سیاسی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

نصاب میں علمی جمود کے ساتھ ساتھ افسوسناک طور پر مدارس میں ایک نفسیاتی گوشہ نشینی بھی پائی جاتی ہے، جہاں استاد اور طالبِ علم دونوں زیادہ تر معاشرے سے الگ تھلگ رہنے اور صرف درس و تدریس میں مشغول رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ معاشرے کے فکری، سیاسی، سماجی اور اخلاقی مسائل سے بے خبر یا لاتعلق ہو جاتے ہیں۔

اس گوشہ نشینی اور دوری کے نتیجے میں معاشرے کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے جو دینی پس منظر نہیں رکھتے، اور وہ اس حد تک با اثر ہو جاتے ہیں کہ دینی علماء خود محکومی اور محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سیکولر، کمیونسٹ، قوم پرست، لبرل، فوجی آمر اور دیگر غیر اسلامی نظریات کے حامل افراد نہ صرف علماء کو کمزور کرتے ہیں بلکہ انہیں معاشرے سے الگ کرنے اور ان کے اثر کو ختم کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

جب دینی قیادت ان اسباب اور غیر اسلامی قوتوں کی منظم فکری، سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کے باعث کمزور ہو جاتی ہے تو یہی غیر اسلامی عناصر معاشرے کی رہنمائی سنبھال لیتے ہیں، اور ایسے نظریات، نعرے اور ثقافتیں فروغ دیتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد لوگ خود ہی ان کے پیروکار بن جاتے ہیں۔ اس وقت علماء کی طرف رجوع صرف محدود فقہی مسائل جیسے طلاق، لعان، رضاعت یا میراث تک رہ جاتا ہے۔

ایسے حالات میں بہت سے علماء بھی اپنی اس قائدانہ ذمہ داری کو ادا نہیں کر پاتے جو انہیں انبیاء علیہم السلام سے وراثت میں ملی ہے۔ نتیجتاً یا تو وہ سیکولر اور غیر دینی حکمرانوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتے ہیں، یا پھر حاشیے میں رہ کر خاموشی اختیار کرتے ہیں تاکہ ٹکراؤ سے بچ سکیں۔ بدقسمتی سے یہ صورتحال بارہا افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں دیکھی جا چکی ہے۔

دوسرا مقصد: معاشرے میں ہمہ جہت اصلاح کا قیام

معاشرے میں ہمہ جہت اصلاح کرنا بھی دینی علم کے بنیادی مقاصد میں سے ہے اور یہ  علماء کی اہم ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عالم کا اثر صرف روحانی اور معنوی امور تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ سیاست، قیادت، معیشت، حلال و حرام کی وضاحت، افراد سے ایک صالح معاشرے کی تشکیل، اور معاشرے کو صحیح راہ پر گامزن کرنے میں بھی فعال کردار ادا کرے۔ اسی طرح اخلاقی، فکری، عسکری اور سماجی میدانوں میں اصلاح لانے میں بھی اس کی بھرپور شرکت ہونی چاہیے۔

یہ دین کا ایک ناقص فہم ہو گا اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ معاشرے کی اصلاح صرف روحانی اور معنوی امور تک محدود ہے، اور علماء کو زندگی کے دیگر معاملات میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اور ہر پہلو کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان ہدایات کی طرف لوگوں کو دعوت دینا علمائے کرام کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اگر علماء اس فریضے کو ادا نہ کریں تو گویا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ورثے میں ملنے والے علم کو بہت محدود کر دیا، اسے صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کا ذریعہ سمجھا، اور انسانیت کی اصلاح، قیادت، اور اسے شیطان اور ہر قسم کی برائی سے بچانا انبیا علیہم السلام کے فرائض میں شمار نہ کیا۔

تیسرا مقصد: ہر قسم کے فکری، دینی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی باطل کا مقابلہ

معاشرے میں ہر نوع کے فکری، دینی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی باطل کا مقابلہ کرنا بھی شرعی علم کا ایک اہم مقصد اور دینی علماء کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر باطل اخلاقی میدان میں ظاہر ہو تو علماء کو اس کے مقابلے کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر باطل عقیدے کی صورت میں سامنے آئے اور معاشرے یا افراد کے عقائد و تصورات کو تبدیل کرنے لگے، تو علماء پر لازم ہے کہ اس کا سدِّباب کریں اور درست دینی مفاہیم کے ذریعے اس کا رد کریں۔

اگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ مسلمانوں کی عسکری قوت اور وسائل کفار کی مدد و حمایت میں استعمال ہونے لگیں، تو ایسے موقع پر بھی علماء کو یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم تو تدریس، کتاب اور وعظ کے لوگ ہیں اور عسکری معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس میدان میں انحراف کے سدباب اور باطل کے مقابلے کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال دینا درست نہیں۔ بلکہ علماء کو خود اس میدان کے رہنما اور پیشوا ہونا چاہیے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک ہی وقت میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام بھی تھے، اللہ تعالیٰ کے پیغمبر بھی، امت کے سیاسی قائد بھی، جو امت کے بارے میں فیصلے فرمایا کرتے تھے اور عسکری رہنما اور سپہ سالار بھی، جو باطل کے مقابلے کے لیے لشکر بھیجتے اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی اختیار فرماتے تھے۔

اسی جامع قیادت اور دینی علم کا نتیجہ یہ تھا کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوا، مسلمان کفار کے شر سے محفوظ رہے، اور عزت و استقلال کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ لہٰذا یہ کہنا بجا ہے کہ ہر دور کے مسائل اور باطل کے اثرات کو سمجھنا اور ان کا مناسب انداز میں مقابلہ کرنا شرعی علم اور دینی عالم کے فرائض میں شامل ہے۔

چوتھا مقصد: دینی بنیادوں پر قائم سیاسی و عسکری نظام کا قیام

دینی علم کے اہم مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد یہ بھی ہے کہ ایسا سیاسی اور عسکری نظام قائم کیا جائے جو خالص دینی بنیادوں پر استوار ہو اور دینی احکام کے مطابق چلایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عالم صرف اس بات پر اکتفا نہ کرے کہ وہ دعوت و تدریس کا فریضہ انجام دے رہا ہے یا فتوے جاری کر رہا ہے، اور نظام، سیاست، حکومت اور معاشرتی نظم و نسق کے امور کو اپنے دائرہ کار سے باہر سمجھے۔ بلکہ یہ تصور کہ یہ امور صرف سیاست دانوں سے متعلق ہیں، اسلام کے ناقص فہم کی علامت ہے۔

اگر علماء خود اس میدان میں پیش قدمی نہ کریں، یا کسی ایسے صالح اور نفاذِ شریعت کے لیے اہل فرد کو آگے نہ لائیں، اور اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے ملت کو اس کے ساتھ کھڑا نہ کریں، تو نتیجتاً وہ صرف روحانیت کے محدود دائرے میں محصور ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر کوئی اور ایسا نظام معاشرے پر مسلط کر دے گا جو علماء اور شریعت کے نفاذ کے ساتھ شدید دشمنی رکھتا ہو گا، اور شرعی علم کو محض کتابوں تک محدود کر دے گا۔ عدالتوں میں فیصلے شریعت کے بجائے غیر اسلامی قوانین کے مطابق ہوں گے، اور بین الاقوامی تعلقات بھی غیر دینی اصولوں کے تابع ہوں گے، جس کے نتیجے میں منفی اثرات دین اور اہلِ دین پر ہی مرتب ہوں گے۔

لہٰذا علماء کو یہ شعور حاصل ہونا چاہیے بلکہ اس کا عزم مصمم ہونا چاہیے کہ نظام کا قیام بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایسا نہیں تھا کہ آپ ﷺ صرف نبی ہوں اور حکومت و اقتدار کسی اور کے پاس ہو۔

رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتِ مسلمہ کے لیے مکمل اور واجب الاتباع نمونہ بنا کر بھیجے گئے، وہ بیک وقت دین کے مبلغ بھی تھے، اور امت کے سیاسی و عسکری قائد بھی۔ اسی طرح آپ ﷺ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مسجدِ نبوی کے امام، دینی رہنما، اور ساتھ ہی مسلمانوں کے سیاسی قائد اور عسکری امیر تھے۔ انہوں نے فتنہ ارتداد کے خاتمے کے لیے بیک وقت جزیرۂ عرب کے مختلف علاقوں میں متعدد لشکر روانہ کیے۔

اسی طرح عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اپنے دور میں دینی پیشوا بھی تھے، مسجدِ نبوی کے امام بھی، اور مسلمانوں کے سیاسی و عسکری قائد اور سپہ سالار بھی۔ یہی تسلسل خلافتِ راشدہ کے پورے دور میں جاری رہا، جو اسلام کے غلبے اور شریعت کے نفاذ کا مثالی زمانہ تھا۔

اسلامی سیاسی فقہ کے مطابق یہ عظیم وراثت مجموعی طور پر امت کے ان صالح اور اہل افراد کو منتقل ہوتی ہے جو قیادت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگرچہ بعض ادوار میں طاقتور افراد نے زبردستی یا فریب کے ذریعے یہ حق علماء سے چھین لیا، یا بعض مواقع پر علماء نے حالات کو سازگار سمجھا کہ قیادت صالح افراد کے ہاتھ میں ہے، اور انہیں اب اس میدان میں اترنے کی ضرورت نہیں تو انہوں نے خود کو علمی خدمات تک محدود رکھا، اس صورت میں انہوں نے براہِ راست قیادت کا منصب سنبھالنے کے بجائے علم و تحقیق میں مشغول رہنا مناسب سمجھا۔

لیکن اگر حالات ایسے نہ ہوں اور قیادت صالح افراد کے ہاتھ میں نہ ہو، تو علماء پر لازم ہے کہ وہ ایسے نظام کے قیام کے لیے عملی اقدام کریں جس میں دین، اہلِ دین، معاشرہ، عقائد اور اخلاق محفوظ رہیں۔ کیونکہ اگر نظام فاسد لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے تو وہ اپنی خواہشات کے مطابق قوانین بنائیں گے اور نافذ کریں گے، اور جو ان کو تسلیم نہ کرے گا، اسے مجرم قرار دے کر سزا دیں گے، خواہ حقیقت میں وہ خود مفسد ہوں اور مخالف فریق مصلح افراد ہوں۔

لہٰذا یہ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظامِ اسلامی کے قیام کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو یہ میدان مفسدین کے لیے خالی چھوڑ دیا جائے گا، اور وہ اسے دین کے غلبے کے خلاف استعمال کریں گے۔

عالمِ اسلام نے گزشتہ دو صدیوں میں یہ منظر بار ہا دیکھا کہ جب سیاسی اور عسکری قیادت اور اس کے اہم امور فاسد و مفسد قوتوں کے ہاتھ میں چلے گئے اور وہ مسلم معاشروں پر مسلط ہوئیں، تو ایسے ہولناک جرائم وقوع پذیر ہوئے جن کی مثال انسانیت نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ یہ میدان دینی قیادت سے خالی ہو گیا اور اسے دوسروں نے پُر کر لیا۔ لیکن جب دوبارہ ایک دینی رہنما (ملا محمد عمر) میدان میں آئے اور اس ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھا، تو مختصر عرصے میں ایسی تبدیلی رونما ہوئی کہ معاشرے اور نظام سے متعلق امر و نہی کا محور ایک دینی قیادت بن گئی۔

آج اگر ہم عالمِ اسلام کے ممالک کا جائزہ لیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا دین کی طرف رجحان اور وابستگی کی لہر زیادہ طاقتور ہے یا دین سے دوری اور انحراف کی؟ نیز یہ کہ مسلمانوں کی زندگی، اس کے قانونی، سیاسی، معاشی، عسکری، سماجی اور اخلاقی میدانوں میں دینی احکام پر عمل غالب ہے یا ان سے دوری؟ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بدقسمتی سے آج دنیا میں دین سے دوری اور انحراف کی لہر زیادہ قوی ہے۔

اس صورتِ حال کے سدباب اور اس رخ کو بدلنے کے لیے ایسے علماء کی ایک نسل تیار کرنا ناگزیر ہے جو مسلمانوں کو دوبارہ دین کی طرف لوٹا سکے۔ آج افغانستان اور پورے عالمِ اسلام کو ایسے علماء کی ضرورت ہے جو دین کے بارے میں پھیلائے گئے جدید شبہات کا مؤثر جواب دے سکیں، لوگوں کو فکری انحراف سے نکال سکیں، رسول اللہ ﷺ کی حقیقی وراثت کے نمائندہ بن سکیں، اور ہر میدان میں امت کو دین کی طرف واپس لے آئیں۔ ان میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کریں اور ان کے اندر دین کی طرف رجوع کا شعور اور جذبہ دوبارہ بیدار کریں خصوصاً ان افراد میں جو کمیونزم، سیکولرزم، لبرلزم، جمہوریت، ہیومینزم، نیشنلزم اور دیگر باطل نظریات کے زیرِ اثر شکوک و شبہات کا شکار ہو چکے ہیں۔

ایسی نسل کی تشکیل کے لیے ایک ایسے نصاب کی ضرورت ہے جو اپنے اندر بصیرت، مضبوط فکری بنیادیں، اسٹریٹیجک سوچ اور معاصر چیلنجز کے مؤثر جوابات اور مسائل کے عملی حل رکھتا ہو، تاکہ طلبہ موجودہ حالات کو بدلنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے موجودہ دینی مدارس کے نصاب میں وہ تمام ضروری دینی و معاشرتی علوم اور معاصر جدوجہد کا فکری لٹریچر موجود ہے، جن کی تدریس کے ذریعے ہم ایسے باصلاحیت قائدانہ علماء تیار کر سکیں جو عملی میدان میں اتر کر موجودہ مسائل کا حل پیش کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ یا تو ایسا فکری لٹریچر سرے سے موجود نہیں، یا بہت کم اور غیر مؤثر شکل میں موجود ہے۔

ہمارے پاس کتب میں شرعی نصوص، عقائد، افکار اور معلومات تو موجود ہیں، لیکن بڑی حد تک یہ سب ایک علمی سرمایہ اور ثقافتی ذخیرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہیں اس انداز میں ترتیب نہیں دیا گیا کہ وہ عمل، نظام سازی اور تبدیلی کی ایک مؤثر تحریک کو جنم دے سکیں، اسی لیے ان کا عملی زندگی پر اثر بھی محدود ہے۔

لہٰذا اس امر کی ضرورت ہے کہ دینی علوم کو کتابوں سے نکال کر عمل کے میدان میں لایا جائے، اور ان کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مہذب اسلامی نظام قائم کیا جائے۔ اسی طرح مدارس کے علماء کو اس انداز میں تیار کیا جائے کہ وہ معاشرے میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار مؤثر طور پر ادا کر سکیں، اور مغرب سے آنے والے فکری و فلسفیانہ فتنوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ مدارس کے نصاب میں ایسے مضامین شامل کیے جائیں جن کی تفصیل آئندہ فصل میں بیان کی جائے گی۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version