باب ششم: افغانستان: مغربی ثقافتی اور سیاسی تسلط کے وسیع سمندر میں ایک ناقابل تسخیر جزیرہ
افغانستان کی حفاظت: دینی مدارس اور علماء کی ذمہ داری
گزشتہ ڈیڑھ صدی سے مغربی طاقتوں نے مشرقی و جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، مسلم افریقہ، عالمِ عرب، ہندوستان اور وسطی ایشیا کے خطوں کو اپنے ثقافتی اور فکری اثرات کے زیرِ نگیں کر رکھا ہے۔ ان ممالک کے عوام تقریباً ہر اعتبار سے مغربی رنگ میں رنگے جا چکے ہیں، لیکن اس کے برعکس افغانستان اور اس کے باشندے بڑی حد تک مغربی فکری و ثقافتی اثرات سے محفوظ رہے ہیں۔ یہی خصوصیت ہمیشہ افغان قوم میں مزاحمت کی روح اور مغرب سے غیر وابستگی کے جذبے کو تقویت دیتی رہی ہے۔
مغربی قوتیں اپنے مذہبی، سیاسی، اقتصادی، عسکری اور فکری و ثقافتی عزائم کے تحت افغانستان جیسے جغرافیائی و اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ملک کو اس حالت میں ہرگز برداشت نہیں کر سکتیں کہ یہاں مغربی قوانین کے بجائے اسلامی شریعت نافذ ہو، سیاسی سطح پر اسلام غالب ہو، اور عالمی تعلقات مغربی معیار کے بجائے اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کیے جائیں۔ اسی طرح وہ یہ بھی گوارا نہیں کرتیں کہ یہاں کے عوام شعوری و عملی طور پر جہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور جہاد، استشہاد، اسلامی طرزِ حیات، اسلامی اخلاق، کفار سے براءت، امتِ مسلمہ کے اتحاد کا تصور، اور مغربی سیاسی و فکری نظام سے آزادی کا شعور اس معاشرے کی فکری بنیاد بن جائے، اور یہ قوم مغربی سیاسی و عسکری تسلط کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرے۔
انہی عوامل کی بنا پر مغرب افغانستان کو اپنے وسیع ثقافتی و سیاسی سمندر میں ایک ناقابلِ تسخیر جزیرے کے طور پر قبول نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس جزیرے کو زیرِ نگیں لانے کے لیے دو ہزار ارب ڈالر سے زائد سرمایہ خرچ کیا گیا، اور آج بھی مختلف ذرائع سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ وہ اس وقت تک اپنی ہمہ جہت تخریبی سرگرمیاں جاری رکھیں گے جب تک اس سرزمین پر حقیقی اسلامی نظام کے تسلسل کو روک نہ دیں۔
یہ مقصد اس وقت ناکام ہو سکتا ہے جب یہاں ایک ایسی مضبوط فکری، اقتصادی اور عسکری قوت ابھرے کہ مغرب اس پر غلبہ پانے سے مایوس ہو جائے اور اس خطے پر تسلط کا خیال ترک کر دے۔ الحمد للہ، امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ قیام کے بعد افغانستان میں ایسی قوت کے ابھرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
اپنے دورِ تسلط کے دوران مغربی طاقتوں نے افغانستان میں بھی بنیادی اور ہمہ گیر تبدیلیاں لانے کے لیے نہایت اہم اور خطرناک اقدامات کیے۔ انہوں نے اپنے وسیع سیاسی، تعلیمی، فکری اور ثقافتی منصوبوں اور بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے درج ذیل نتائج حاصل کیے:
- افغانستان میں ایک ایسا سیکولر اور مغرب سے وابستہ نظام قائم کیا گیا، جس کے ذریعے پورے معاشرے کو اپنے اثر میں لے لیا گیا۔
- افغانستان کی زمین اور فضا پر مکمل کنٹرول قائم کیا گیا۔ مواصلاتی نظام، ٹاورز اور ذرائع ابلاغ کو اپنے قبضے میں لے کر پیغام رسانی کے تمام وسائل کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا گیا۔
- سیاست، حکومت اور قوانین میں دین کی بالادستی کو محدود کر دیا گیا، اور اگرچہ اسے کھلے طور پر سیکولر ازم کا نام نہیں دیا گیا، مگر عملی طور پر پورے سیاسی، قانونی اور معاشرتی ڈھانچے کو سیکولر روح کے مطابق ترتیب دیا گیا۔
- انہوں نے ایسے افراد کو اقتدار پر مسلط کیا اور ملکی امور ان کے سپرد کیے جو چند ڈالروں اور عہدوں کے بدلے دینی اقدار، آزادی اور خود مختاری سے دستبردار ہو چکے تھے۔ یہ لوگ غداری، خیانت، لوٹ مار، اخلاقی و مالی بدعنوانی، قابض قوتوں کی معاونت، اپنے ہی عوام کے خلاف جنگ، آزادی کے خواہاں مجاہدین سے برسرِ پیکار رہنے، قابضین کے مفاد میں قوانین کی منظوری دینے اور ان کے ہر قسم کے جرائم پر چشم پوشی کرنے میں ملوث رہے۔
- وہ جہادی قائدین، جن سے کبھی نہ صرف افغان عوام بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو یہ امید تھی کہ وہ جہاد کے نتیجے میں افغانستان میں اسلامی نظام قائم کریں گے اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آزادی و جہاد کا چراغ روشن کریں گے، اسلامی ممالک کے لیے آزادی و حریت کا استعارہ بنیں گے۔ مغربی قوتوں اور امریکہ نے اپنے خفیہ، سیاسی، نفسیاتی، عسکری اور مالی دباؤ کے ذریعے انہیں اس حد تک کمزور، بے وقعت اور اپنے نظریاتی تشخص سے بیگانہ کر دیا کہ وہ اپنے عظیم مقاصد سے ہٹ کر محض ایک غلام اور سیکولر پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنے کی جدوجہد تک محدود ہو گئے۔ انہوں نے سیکولر جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ اتحاد کو ہی اپنی کامیابی سمجھا اور بالآخر اسی نظام کے سائے تلے کھڑے ہو گئے جسے قابض مغربی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے قائم کیا تھا۔ اس طرح امریکہ نے تقریباً تمام سابق جہادی تنظیموں کو سیکولر اور جمہوریت نواز دھڑوں میں تبدیل کر کے انہیں مجاہدین کے مقابل لا کھڑا کیا۔
- افغانستان کے تعلیمی نصاب کو بتدریج مغربی مقاصد کے مطابق ڈھالا گیا، اور ایک ایسی نسل تیار کی گئی جس کے نزدیک اسلامی اقدار کے مقابلے میں مغربی اقدار زیادہ اہمیت رکھتی تھیں، اور وہ انہی کے ساتھ اپنی وابستگی اور وفاداری کا اظہار کرتی تھی۔ اس عمل کے نتیجے میں افغان معاشرے کے ایک بڑے حصے کی ثقافت اور سماجی اقدار تبدیل ہو گئیں، اور اس کے منفی اثرات طویل عرصے تک مختلف صورتوں میں برقرار رہیں گے۔
- معاشرے میں اعتقادی، اخلاقی اور انتظامی بدعنوانی کو فروغ دیا گیا اور اسے کھلے عام رواج دیا گیا۔
- افغان معاشرے کو نسلی، لسانی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا، اور عوام کو دشمن کے خلاف متحد ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا گیا۔
- سابق کمیونسٹ عناصر اور الحادی نظریات کے حامل افراد کو جمہوریت کے نام پر دوبارہ منظم کر کے مختلف سرکاری اور ادارہ جاتی شعبوں میں تعینات کیا گیا، اور انہیں ملک میں سیاسی سرگرمیوں کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا۔
- روشن خیالی، ہیومینزم (الحاد)، ریشنلزم (وحی کے بجائے محض عقل کو معیار بنانا) اور ’’ فکری آزادی‘‘ کے نام پر مغربی لبرل اور الحادی نظریات، دین دشمن فلسفوں اور فکری مکاتب کو فروغ دینے کے لیے فکری و ادبی حلقے قائم کیے گئے، جن میں دین اور قومی اقدار سے ناواقف نوجوانوں کو شامل کر کے انہیں دین کے مقابل لا کھڑا کیا گیا۔
- افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسیحی اقلیت کو منظم شکل دی گئی، اور مرتد ہونے والے افغان افراد کو اندرون و بیرونِ ملک جمع کر کے انہیں عیسائیت کی تبلیغ پر مامور کیا گیا۔ اس سلسلے میں دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ اشرف غنی کی مسیحی اہلیہ، رولا غنی اور ان کی ٹیم نے ایوانِ صدر میں مؤثر کردار ادا کیا۔
اب کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے؟
اس مقصد کے لیے کہ افغان معاشرے کو مغربی فکری تسلط سے آزاد کر کے ایک حقیقی اور مضبوط قوت پیدا کی جائے، اور جس طرح ملک کو کفار کے عسکری قبضے سے آزاد کیا گیا، اسی طرح معاشرے کو فکری غلامی سے بھی نجات دلائی جائے، ضروری ہے کہ حکومت تعلیمی، فکری، سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں سطحی رویّوں سے بلند ہو کر ایک ہمہ گیر اور اسٹریٹجک فکر اپنائے، اور فکر، ثقافت اور نصابِ تعلیم کے شعبوں میں نہایت دقیق اور متوازن اقدامات کرے۔ اس حکمتِ عملی کے چند بنیادی نکات درج ذیل ہو سکتے ہیں:
- دینی تعلیم کا ایسا نصاب تیار اور نافذ کیا جائے جو عصرِ حاضر کے دینی و فکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے مضامین اور موضوعات ایسے باصلاحیت، تجربہ کار اور سیاسی، عسکری، فکری اور دینی حالات سے باخبر علماء کے ذریعے متعین کیے جائیں جو نہ صرف دینی علوم بلکہ جدید علوم سے بھی آگاہ ہوں، اور اس بات کو سمجھتے ہوں کہ موجودہ دور میں طلبہ میں قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کن علوم کی کس حد تک ضرورت ہے۔
ایسے جامع نصاب کے ذریعے مدارس اور ان کے فارغ التحصیل طلباء میں جہاد، نظام سازی، حکمرانی، عوامی خدمت اور اصل اسلامی روح کی تجدید کا شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔
اگر اس نوعیت کا مضبوط اور اسٹریٹجک دینی نصاب تشکیل نہ دیا گیا تو اندیشہ ہے کہ بیرونی عناصر ہمارے معاشرے کے ایک بڑے حصے کو فکری طور پر گمراہ کر کے انہیں اغیار کے نظریات اور عقائد کا قائل کر دیں گے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو گی کہ ہم نہ تو لوگوں کو عصرِ حاضر کی زبان میں مخاطب کر پائیں گے اور نہ ہی ہمارے نصاب میں وہ علوم اور مباحث شامل ہوں گے جو جدید طالبِ علم کی علمی پیاس کو بجھا سکیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نصاب سازی چند علماء یا اساتذہ کا انفرادی کام نہیں، بلکہ یہ اُن ماہرینِ تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس میدان میں تخصص حاصل کیا ہو اور جو اس بات سے واقف ہوں کہ کس طرح موجودہ دور میں قوم اور نظام کے دینی، سیاسی، فکری، ثقافتی اور تمدنی تقاضوں کو ایک متوازن اور جامع نصاب کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔
محض صدیوں پرانی کتب کو بغیر کسی تدوین، تشریح، اختصار، ترجمہ اور جدید تقاضوں کے مطابق ترتیب دیے طلبہ پر لازم کر دینا ایک مؤثر تعلیمی حکمتِ عملی کے سوا کچھ نہیں۔
عقل، انصاف اور حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ قدیم علوم کو جدید انداز، نئے طریقۂ تدریس، مناسب مقدار، معاصر مثالوں اور واضح اسلوب میں پیش کیا جائے، تاکہ ایک طرف اسلام ہر دور کے لیے زندہ اور قابلِ عمل دین کے طور پر سامنے آئے، اور دوسری طرف طلبہ کے لیے علم کا حصول آسان اور بامعنی ہو سکے۔ - اُن نظاموں اور فکری و سیاسی رجحانات کے مقابلے کے لیے سنجیدہ، ہمہ جہت اور مسلسل جدوجہد کی جائے جو مختلف طریقوں سے غیر اسلامی یا بیرونی افکار کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کیونکہ اگر ایسے عناصر معاشرے میں فعال نہ ہوں تو دشمن براہِ راست ہر فرد تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی وسیع پیمانے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس میدان میں کامیابی کے لیے حکومت اور علماء دونوں کے اندر فکری محاذ پر مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔
- دینی اور دنیاوی دونوں تعلیمی نصابوں سے نہایت بصیرت اور سنجیدگی کے ساتھ اُن تمام مضامین اور موضوعات کو خارج کیا جانا چاہیے جو کفری فکر، مغربی ثقافت، سیاست یا اُن کے سماجی و فلسفیانہ اقدار سے ماخوذ ہوں اور نئی نسل کو اُن سے وابستہ یا متاثر کرتے ہوں۔
- دینی و عصری تعلیمی اداروں اور مدارس کے نصاب میں کفر و گمراہی کی جدید صورتوں اور نظریات جیسے کمیونزم، سیکولرازم، جمہوریت، لبرل ازم، ہیومینزم، نیشنلزم، گلوبلائزیشن، وضعی قوانین اور مغرب کے پیش کردہ ’’معتدل اسلام‘‘ کے تنقیدی جائزے اور رد پر مبنی مضامین شامل کیے جائیں، اور انہیں معقول، مدلل اور مؤثر انداز میں پڑھایا جائے۔
مزید یہ کہ نصاب میں ایسی معاصر اور واضح مثالیں پیش کی جائیں جو کفری نظاموں کے اعتقادی، سیاسی اور اخلاقی انحطاط کو نمایاں کریں، تاکہ نئی نسل کے سامنے وہ تقلید کے قابل نمونہ نہیں بلکہ اصلاح و ہدایت کے محتاج معاشرے کے طور پر ظاہر ہوں۔ کیونکہ موجودہ دور میں مغرب نہ صرف مادی و صنعتی ترقی بلکہ اخلاقی و ثقافتی میدان میں بھی خود کو مثالی نمونہ بنا کر پیش کر رہا ہے تاکہ نئی نسل کو اپنی طرف مائل کر سکے۔ - میڈیا، سماجی رابطے کے وسائل اور صحافت کا مؤثر استعمال اس راستے میں سب سے اہم قدم ہے، کیونکہ یہ ذرائع آج کے دور میں پیغام رسانی اور اجتماعی ذہن سازی کے بنیادی اوزار ہیں۔ یہ ایک ہی وقت میں لاکھوں افراد تک پہنچ کر اُن کے افکار میں مثبت یا منفی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔
مغرب نے انہی ذرائع کے ذریعے پوری دنیا کو مسحور کر رکھا ہے اور وسیع پیمانے پر دنیا کو اپنے اثر و رسوخ میں لے لیا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے مقابلے میں جہادی تحریک نے جزوی طور پر معاصر پیغام رسانی کے وسائل استعمال کیے ہیں، اور وہ بھی مکمل مہارت اور وسیع پیمانے پر نہیں، تب بھی اس نے مغربی میڈیا اور مطبوعاتی جادو کو شکست دی اور انہی ذرائع کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنی کامیابی اور دشمن کی شکست کے شواہد پیش کیے۔
اگر طالبانِ مدارس دعوت، مطبوعاتی جدوجہد اور سماجی رابطے کے میدان میں مزید مضبوط ہونا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ مدارس اپنے طلبہ کو جدید تحریر اور صحافت کے علوم سکھائیں، تاکہ وہ ابلاغی سرگرمیوں میں مکمل مہارت اور صلاحیت حاصل کر سکیں۔ - اسلام کی حقیقی تعبیر پیش کرنا، اسے خرافات اور انحرافات سے پاک کرنا، اور دیگر نظریات کے ساتھ اس کی آمیزش کو روکنا ایک نہایت اہم فریضہ ہے، جسے دینی مدارس اور اہلِ فکر کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ کیونکہ مخالف قوتیں انہی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر اسلام کو بدنام کرتی ہیں اور نئی نسل کے دلوں میں اس کے بارے میں شکوک پیدا کرتی ہیں۔
آج عالمِ اسلام، بالخصوص افغانستان میں، بہت سی ایسی چیزیں اسلام کے نام پر رائج ہو چکی ہیں جو در حقیقت اسلام کی اصل روح سے بعید ہیں، جبکہ کئی اہم اسلامی عقائد اور اعمال سے لوگ غافل ہو چکے ہیں یا انہیں کم اہمیت دیتے ہیں، حالانکہ دین میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اہلِ علم صرف دشمن کے جنگجوؤں کو ہی ہدف نہ بنائیں بلکہ اصل توجہ اُن کے نظریات کے مقابلے پر مرکوز کریں۔ ہر اُس فرد یا گروہ کو پہچانا جائے جو ان افکار کا نمائندہ یا ترویج دینے والا ہے، اور اس کے ساتھ مناسب طرزِ تعامل اختیار کیا جائے۔ اس میدان میں سب سے بڑا کردار دینی علماء کا ہے۔
اسلام کی حقیقی صورت کو نمایاں کرنے کے لیے ضروری ہے کہ باصلاحیت علماء کی نئی نسل تیار کی جائے، اور اس مقصد کے لیے تعلیمی نصاب کی اصلاح اور اس کے مؤثر نفاذ پر خاص توجہ دی جائے۔ ساتھ ہی ایک ایسا عملی نظام بھی وضع کیا جائے جو زمانے کے تقاضوں اور مقاصد کی اہمیت کو مدنظر رکھتا ہو۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ دشمن کے افکار، نظریات اور ثقافتی اثرات اُس کے عسکری حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں؛ کیونکہ افواج تو شکست کھا کر واپس چلی جاتی ہیں، مگر نظریات اور اُن کے حاملین باقی رہتے ہیں اور طویل عرصے تک معاشرے پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ ہر نسل میں ایک طبقہ اسلام اور اسلامی نظام کے خلاف کھڑا ہوتا رہتا ہے۔
اسی لیے اسلامی حکومت کے ذمہ داران، دینی مدارس کے منتظمین اور اسلامی جدوجہد سے وابستہ تمام افراد کو ان امور پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ اگر عوام کی دینی تربیت اور اسلامی جدوجہد کے فکری، تمدنی اور سماجی پہلوؤں پر بھرپور کام نہ کیا گیا، تو اندیشہ ہے کہ ماضی کی طرح جہادی وعسکری کامیابیاں بھی ضائع ہو جائیں گی جیسا کہ برطانوی اور روسی افواج کے خلاف کامیابیوں کے باوجود ہوا اور ایک حقیقی اور قوی اسلامی نظام کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
