جہنم اور اس کے احوال
جب تک ہمارا آخرت اور بعث بعد الموت کا عقیدہ درست نہیں ہو گا، ہم زندگی کو درست طریقے سے نہیں گزار سکیں گے۔ اور اسی تناظر میں ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کو دیکھتے ہیں:
…إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنْ الْمُفَصَّلِ فِيهَا ذِکْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّی إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَی الْإِسْلَامِ، نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْئٍ لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ لَا تَزْنُوا، لَقَالُوا لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا (صحیح بخاری)
’’… مفصل سورتوں میں سب سے پہلے وہ سورت نازل ہوئی ہے جس میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو حلال و حرام کی آیات نازل ہوئیں۔ اگر پہلے ہی یہ آیت نازل ہو جاتی کہ شراب نہ پیو، تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ آیت نازل ہوتی کہ زنا مت کرو، تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز زنا نہیں چھوڑیں گے ۔ ‘‘
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر اسلام میں سب سے پہلے احکام نازل ہوتے کہ یہ کرو اور یہ نہ کرو تو لوگ ان احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے، کیونکہ یہ انسانوں کی فطرت ہے کہ اگر آغاز میں ہی انہیں احکام دے دیے جائیں تو وہ اس چیز سے دور بھاگ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ابتدائی تعلیمات جنت اور جہنم کے بارے میں نازل ہوئیں، اور جب لوگ اللہ سے جڑ گئے تو پھر احکام والی آیات نازل ہوئیں اور حلال و حرام بیان کیے گئے۔
اس قول سے ہمیں لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلانے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو جنت اور جہنم کا ذکر کر کے اللہ کی طرف بلایا جائے، یہی تذکیر دلوں کو اللہ سے جوڑنے اور اس سے قریب کرنے والی ہے۔
ہمارے دنیا میں غرق ہونے اور (آخرت کی) حقیقت کو بعید سمجھنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس بارے اس قدر تذکیر نہیں ہو رہی جتنی کہ ہونی چاہیے۔ ہمیں آخرت کا جس قدر ذکر کرنا اور سننا چاہیے اور جتنا اس بارے میں جاننا چاہیے ، ہم اس کا کچھ فیصد بھی نہیں جانتے، اور جب تک ہم اس کا تذکرہ بار بار نہیں کریں گے ، یہ ہمارے ذہنوں سے محو ہی رہے گی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں موجود اپنے پیاروں سے، اپنی چیزوں سے ، اپنی املاک ، اپنے مکانات، اپنی گاڑیوں اور اس دنیا کی زندگی کی رنگینیوں سے حد سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں اور اس کا اندازہ آپ کو خود سے محض ایک سوال کر کے ہی ہو جائے گا کہ اگر ابھی اسی وقت موت کا فرشتہ آ جائے اور مجھ سے پوچھے کہ کیا آپ واپسی کے لیے تیار ہیں؟ گو وہ یہ نہیں پوچھے گا کہ یہ سوال صرف انبیاء علیہم السلام سے کیا جاتا ہے، تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ ہاں یا ناں؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ سے ابھی اسی وقت ملاقات چاہتے ہیں یا ہم اس دنیا کی زندگی اور اس کی راحتوں اور اپنے پیاروں سے اس قدر لگاؤ رکھتے ہیں کہ ہم آگے جانا ہی نہیں چاہتے؟ میرا خیال ہے کہ مسلسل تذکیر کے بغیر ہم اس عارضی دنیا سے لگاؤ سے چھٹکارا نہیں حاصل کر سکتے، وہ عارضی دنیا کہ جس میں قیام کی مدت کو آخرت کی دائمی دنیا (جنت یا جہنم ) میں قیام سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔
نبی کریم ﷺ کا کثرت سے آخرت کا ذکر فرمانا
نبی کریم ﷺجنت و جہنم کا اکثر تذکرہ فرمایا کرتے تھے اور اس میں سے بھی جہنم کا تذکرہ بالخصوص اتنا زیادہ فرماتے تھے کہ ایک صحابیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے جمعہ کے خطبات میں نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے سن سن کر ہی پوری سورۂ ق یاد کر لی تھی، کیونکہ آپ ﷺ اس سورہ مبارکہ کے مضامین، جو بنیادی طور پر جنت ، جہنم اور موت ہی سے متعلق ہیں، کثرت سے بیان فرماتے تھے۔
آپ ﷺ اس لیے اس قدر ان مضامین کا ذکر فرماتے تھے کہ اللہ رب العزت کے بعد، مخلوق کے حق میں سب سے زیادہ رحیم نبی کریم ﷺ ہیں لہٰذا وہ کبھی اپنی امت کو تکلیف میں پڑتے نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لیے آپ ﷺ ہمیشہ موت کی، آخرت کی ، قیامت کے دن کی اور جنت و جہنم کی تذکیر فرماتے رہتے تھے۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ رب العزت کی تسبیح اور اس کے نبی پر صلاۃ و سلام بھیجنے کے بعد فرمایا : میں تمہیں آگ سے خبردار کرتا ہوں، میں تمہیں آگ سے خبر دار کرتا ہوں، میں تمہیں آگ سے خبردار کرتا ہوں، اور آپ ﷺ پلٹ پلٹ کر یہی فرماتے رہے اور آپ کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی رہی یہاں تک کہ بازار میں موجود افراد نے بھی آپ ﷺکی آواز سن لی۔ اس حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺکی یہ تذکیر سن کر مسجد میں موجود صحابہ کے رونے اور سسکیوں کی آواز لوگ مسجد سے باہر بھی سن سکتے تھے۔ صحابہ کے دل اس قدر نرم تھے کہ محض آخرت اور جہنم کا تذکرہ ان کے دلوں کو پگھلا دیتا تھا، جب کہ ہمارے دل بہت سخت ہیں، اس قدر سخت کہ ایسے مواقع پر بھی ہم قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں کہ جب ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہونے چاہیے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہم قبرستان میں تھے اور ایک بہن کے جنازے میں شریک تھے، اور اسی وقت ان کی تدفین کا کام مکمل ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور وہیں قبرستان میں کھڑے ہوکر لطیفے سنانے اور ہنسنا ہنسانا شروع کر دیا۔ حضرت عثمان بن عفان جب کسی جنازے میں شرکت فرماتے تو قبر کے سرہانے بیٹھ کر اس قدر گریہ فرماتے کہ پھر اٹھ نہ پاتے تھے۔ صحابہ جب ان کی شدت گریہ کی وجہ دریافت کرتے تو فرماتے کہ قبر آخرت کے مراحل میں سے پہلا مرحلہ ہے، اگر یہ خیرو عافیت کے ساتھ پار ہو گیا تو آگے پھر آسانی ہی آسانی ہے اور اگر اس مرحلے میں مشکل پیش آئی تو پھر آگے مزید مشکلا ت پیش آئیں گی۔
مجھے لگتا ہے کہ دلوں کی نرمی اور حساسیت ہم کھو چکے ہیں اور اسے واپس پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلسل حقیقت یاد دلائیں کیونکہ ہم تو جیسے خواب کی دنیا میں جی رہے ہیں، ہم اس طرح اس دنیا میں رہ رہے ہیں گویا جو کچھ ہمارے پاس اور ہمارے ارد گرد ہے وہ ہمیشہ باقی رہے گا، جب کہ ایسا نہیں ہے، یہ سب کچھ ایک دن ختم ہو جائے گا وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔
یہاں تک کی گفتگو آنے والے موضوع کا تعارف یا ابتدائیہ تھی۔ اسلام کے سوا کوئی مذہب ایسا نہیں کہ جس نے آخرت کے بارے میں اس قدر تفصیل بیان کی ہو جتنی قرآن و حدیث میں ہم مسلمانوں کو بتائی گئی ہے۔ پس اس موضوع کے تحت ہم جن چیزوں پر بات کریں گے ان میں سے کچھ یہ ہیں:
جہنم کا حجم، اس کے درجات، اس کے دروازے، اس کا احساس، اس کی تپش، اس کی ہمیشگی، اس میں رہنے والوں کی خوراک، ان کے لباس، اس کی سزائیں اور پھر وہ اعمال کہ جن کے سبب ایک انسان جہنم کی آگ کا مستحق بنتا ہے۔
آخرت کی زندگی وہ موضوع ہے جسے ہم ہلکا سمجھتے ہیں اور اس قدر توجہ اسے نہیں دیتے جو اس کا حق ہے۔ اگر ہم صحابہ، جو ہمارے لیے نمونۂ عمل ہیں، کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ آخرت کا استحضار ہر وقت ان کے دل و ذہن میں رہتا تھا۔ وہ ایک دوسرے کو اس کی یاد دہانی کرواتے اور اس کے متعلق بات کرتے۔ پھر قرآن خود ایسا ہے کہ بمشکل ہی اس کا کوئی صفحہ ایسا ہو گا جس پر آخرت کا ذکر نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کی ہر سورت میں جنت و جہنم کا تذکرہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ موضوع ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ بہت جگہ تو ایک جیسی باتیں ہی دہرائی گئی ہیں اور یہی کام نبی کریم ﷺ بھی کرتے تھے کہ انہی باتوں کو دہراتے تھے اور بار بار بیان فرماتے تھے کیونکہ انسانوں کے دل بہت جلد تبدیل ہو جاتے ہیں۔ عربی میں لفظ قلب، تقلب سے نکلا ہے جس کا معنی ہے پانی کا ابلنا۔ جیسے ابلتا ہوا پانی تیزی سے الٹ پلٹ ہوتا ہے اور اپنی جگہ تبدیل کرتا ہے ، اسی طرح ہمارے دل بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی مثال کے لیے آپ ایک نوزائیدہ بچے کو دیکھیں ، ابھی وہ رو رہا ہوتا ہے اور یکایک ہنسنے لگتا ہے۔ اسی طرح ہمارے دل بھی بدلتے ہیں اور اسی لیے نبی کریمﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے:
اللھم یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک
ہمیں بھی اس دعا کو کثرت سے مانگنا چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ بھی بار بار اسے مانگا کرتے تھے نیز ہمیں بار بار خود کو آخرت کی یاد دلانی چاہیے۔
آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق ان کی اور ہماری مثال اس طرح ہے گویا ایک شخص رات کے وقت صحرا میں آگ کے دہانے کھڑ ا ہو ۔ جب بھی آپ صحرا میں آگ جلائیں تو حشرات الارض اور پتنگے وغیرہ اس کی جانب یہ سمجھ کر لپکتے ہیں کہ یہ روشنی ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ کسی بلب وغیرہ کی روشنی کی جانب لپکتے ہیں اور اس کے گرد گھومتے رہتے ہیں، پس وہ آگ کو بھی روشنی سمجھ کر لپکتے ہیں اور اس میں کود جاتے ہیں، نتیجتاً جل کر مر جاتے ہیں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں گویا آگ کے دہانے کھڑا ان حشرات کو آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں۔ یعنی تم آگ میں کودنے کو تیار ہو اور میں تمہیں گھسیٹ گھسیٹ کر اس سے دور کر رہا ہوں، پھر بھی تم میں سے بعض اس میں کود ہی جاتے ہیں۔ آپ ﷺ ہمارے لیے محافظ ہیں جو ہمیں تکلیف اور نقصان میں پڑنے سے بچاتے ہیں مگر پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بارہا تذکیر کے باوجود باصرار آگ میں کود جاتے ہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ بعث بعد الموت اور آخرت کا ، جنت اور جہنم کا ذکر کریں اور اسے اپنے ذہنوں سے محو نہ ہونے دیں۔
جبرئیل کے لیے یہ امر اچنبھے کا باعث تھا کہ کیونکر کوئی شخص جنت کو چھوڑ کر آگ کی طرف لپکنا چاہے گا اور کیسے کوئی جہنم کو اختیار کر سکتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں حیران ہوں کہ کوئی شخص کیسے بے فکری سے سو سکتا ہے جب کہ وہ جانتا ہے کہ جہنم اس کے انتظار میں ہے اور میں اس پر بھی حیران ہوں کہ کسی کو نیند آ کیسے سکتی ہے جب کہ وہ جانتا ہو کہ جنت اس کی منتظر ہے۔
حضرت عمرؒ بن عبد العزیز کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ایک رات وہ یکایک ایک پرندے کی طرح تڑپنے اور رونے لگے اور پھر بقیہ پوری رات وہ سو نہ سکے۔ اہلیہ کے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ مجھے یاد آگیا کہ ایک دن میں کھڑا ہوں گا اور مجھ سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جہنم میں داخل ہو جاؤ (اور اس لمحے کے خوف نے ان کی رات کی نیند اڑا دی اور انہیں آنسوؤں رلایا)۔ یہ معاملہ تو ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ہی پیش آئے گا، قیامت کے دن ہم سب ہی کھڑے ہوں گے اور اپنا فیصلہ سننے کے منتظر ہوں گے مگر (عمر بن عبدالعزیز کے برعکس) ہم اس بارے میں ایسے بات کرتے ہیں گویا یہ بہت ہی بعید ہو، جب کہ حقیقتاً یہ بہت ہی قریب ہے اور بہت جلد ہم اپنی آنکھوں سے جنت و جہنم کو دیکھ لیں گے، پس ہمیں اپنی تیاری پوری رکھنی چاہیے۔
آخرت ہم سب کا مستقبل ہے
جب ہم اخروی زندگی کی بات کرتے ہیں تو ہم اپنے مستقبل کی بات کرتے ہیں، وہ مستقبل جو ہم سب کا ہے۔ ہماری روحوں کو ہمیشگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، عارضی زندگی کے لیے نہیں۔ ایک وقت تھا کہ جب ہم کچھ بھی نہ تھے، مگر جب ایک مرتبہ اس روح کو پیدا کر دیا گیا تو اب یہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گی اور کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہ آئے گا کہ جب یہ روح باقی نہ رہے، یہ ہمیشہ رہے گی، ایسی زندگی میں جو فانی نہیں ہو گی، یا جنت میں اور یا جہنم میں۔ اس دنیا میں تو اسے امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، پس جو لوگ اس حقیقت کو پا لیتے ہیں وہ اپنی اخروی زندگی کے لیے خوب محنت کرتے ہیں اور اس مقابلے کی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔ اللہ فرماتے ہیں:
وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ(سورۃ المطففین: ۲۶)
’’اور یہی وہ چیز ہے جس پر للچانے والوں کو بڑھ چڑھ کر للچانا چاہیے۔‘‘
مقابلے کا میدان تو یہی ہے۔ ہمیں دنیاوی چیزوں میں مقابلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اصل مقابلہ تو آخرت کا ہے۔ قرآن و حدیث میں جنت و جہنم کے تفصیلی احوال موجود ہیں اور آج ہم جہنم سے متعلق گفتگو کریں گے۔ اور بطور انسان، ہمارے لیے سب سے مستحکم تحریک، اجر و ثواب یا گناہ و عقاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمین پر امتحان کے لیے رکھا ہے، ایسا امتحان جو کھلی کتاب کے ساتھ دینا ہے، کتابیں، قرآن و حدیث ہمارے پاس موجود ہیں، اور اس امتحان کے نتائج قیامت کے دن دیے جائیں گے۔ یہ امتحان اور اس کے نتائج حتمی ہوں گے، اس میں دوسری کوشش یا اپیل کی گنجائش نہیں۔
جہاں تک جہنم کی بات ہے تو ہم جتنا بھی اس کا ذکر کریں بہرحال ہم اس کا حقیقی تصور نہیں کر سکتے۔ ایسا تصور گویا یہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے، یہ تذکیر صرف ایک رہنمائی ہے ہمارے لیے، اور یہی معاملہ جنت کا بھی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں جس کے مثل جنت یا جہنم ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ، دنیا کی آگ سے ستّر گنا زیادہ تپش والی ہے، یہ صرف رہنمائی کے لیے ہے، تمثیل ہے، ورنہ اس کی بالکل حقیقی مثال اس دنیا میں موجود نہیں۔ اس دنیا میں نہ جزا ہے اور نہ سزا۔ اگر یہ دنیا اس قابل ہوتی کہ اسے جزا کے طور پر عطا کیا جاتا تو اللہ مومنین کو یہ دنیا عطا کرتے۔ اور اگر اس دنیا میں ہی سزا دی جانی ہوتی تو اللہ کافروں کو بطور سزا اس میں رکھتے۔ مگر یہ دنیا نہ جزا کے قابل ہے اور نہ سزا کے، لہٰذا نہ ہی مومن اور نہ ہی کافر اس دنیا میں جزا و سزا پائیں گے۔
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں امید اور خوف کے بین بین جینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے اچھی امید کہ اللہ تعالیٰ مہربان اور رحم کرنے والے ہیں اور اس بات کا خوف کہ اللہ کی پکڑ اور اس کی سزا بہت شدید ہے۔ امید اور خوف گویا دو پر ہیں، اگر ایک پر بھی کمزور ہو گا تو اڑان بھرنا دوبھر ہو جائے گا۔ اگر امیدیں حد سے بڑھ جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی پر تکیہ کرنا شروع کر دیا جائے تو انسان عمل کے معاملے میں سست پڑ جائے گا اور جنت کی طرف سبقت کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، وہ یہی سوچے گا کہ اللہ تو معاف کرنے والا ہے اس لیے میں اپنی مرضی اور خواہش کی زندگی جی سکتا ہوں۔ دوسری طرف اگر خوف حد سے بڑھ جائے کہ اللہ رب العزت کی پکڑ بہت سخت ہے اور وہ میری ایک ایک بات پر پکڑ کرے گا اور سرے سے رحمت کی امید ہی باقی نہ رہے انسان میں تو وہ ہمت ہار جائے گا، جو ایک اور انتہا ہو گی۔ پس بحیثیت مسلمان ہمیں ایک متوازن زندگی گزارنی چاہیے اور امید اور خوف دونوں کو برابر برابر ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
یہود جس کتاب کی پیروی کرتے ہیں، یعنی عہد نامہ قدیم، اس میں رب کا تصور انتہائی غصہ ور ہستی کا ہے لہٰذا اس کی رو سے لوگوں کو رب کے غضب سے بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ جب کہ عہد نامہ جدید میں رب کا تصور نہایت محبت کرنے والے، معاف کرنے والے اور رحم کرنے والے کا ہے۔ دونوں کتابوں میں موجود رب کا تصور غیر متوازن ہے، جب کہ اسلام متوازن دین ہے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ وہ معاف کرنے والے بھی ہیں اور رحیم بھی مگر یہ بھی فرماتے ہیں کہ میری سزا بہت سخت ہے۔ اللہ رب العزت کے ناموں میں الغفور بھی ہے اور الرحیم بھی، مگر اللہ رب العزت کے ناموں میں کوئی ایسا نام نہیں جو یہ بتائے کہ وہ سخت سزا دینے والا ہے، البتہ اللہ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’اس کی سزا بہت سخت ہے‘۔ یہ اسی طرح ہے کہ کوئی آپ سے یہ کہے کہ میں تو بہت رحم دل اور درگزر کرنے والا ہوں البتہ میری یہ چھڑی بڑی زور سے لگتی ہے۔ جہنم ہمیں خوف دلاتی ہے تو جنت ہماری امیدیں بڑھاتی ہے، یوں یہ توازن قائم رہتا ہے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭
