الحوض
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حوض عطا فرمایا اور قیامت کے دن محض اسی حوض میں پانی موجود ہو گا، اس کے سوا کہیں پانی نہیں ہو گا۔ اس حوض کا پانی جنت سے، نہرِ کوثر سے آ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنْ الْمِسْکِ، وَکِيزَانُهُ کَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا فَلَا يَظْمَأُ أَبَدًا (متفق علیہ)
’’ میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ عمدہ ہو گی، اور اس کے آب خورے (پانی پینے کے برتن) آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا پھر وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ ‘‘
ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمیں اس حوض سے سیراب ہونے والوں میں شامل فرمائیں۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ ایک اور حدیث ہے کہ جس میں حوض کی چند مزید تفصیلات ذکر کی گئی ہیں:
قَالَ إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّی يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ، فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ، فَقَالَ: مِنْ مَقَامِي إِلَی عَمَّانَ، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ، فَقَالَ: أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ، وَأَحْلَی مِنْ الْعَسَلِ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ، يَمُدَّانِهِ مِنْ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ (صحیح مسلم)
(نبی کریم ﷺنے ) فرمایا :
’’میں اپنے حوض پر، پینے کی جگہ سے، اہل یمن کے لیے لوگوں کو ہٹاؤں گا، میں (اپنے حوض کے پانی پر) اپنی لا ٹھی ماروں گا، تو وہ ان پر بہنے لگے گا‘‘، پھر پوچھا گیا : اس حوض کا عرض کتنا ہے ؟ فرمایا: ” جیسے یہاں سے عمان“، پھر پوچھا گیا : اس کا پانی کیسا ہے ؟ فرمایا : ”دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، دو پرنالے اس میں پانی چھوڑتے ہیں جن کو جنت سے پانی کی فراہمی ہوتی ہے، ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا۔ “
یہ حدیث بتاتی ہے کہ آپ ﷺ اپنے حوض پر، دوسرے لوگوں کو ہٹا کر، یمن والوں کو پانی پلانے کے لیے جگہ بنائیں گے۔ آپ کے ان الفاظ سے آپ کی اہل یمن سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ اپنی لاٹھی کے ذریعے لوگوں کو پیچھے ہٹا ئیں گے تاکہ یمن والے پہلے آگے بڑھ کر حوض سے پانی پی سکیں۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی چوڑائی اور اس کے پانی کی خاصیت کے بارے میں بتایا اور پھر بتایا کہ جنت کی نہرِ کوثر سے دو ندیوں کے ذریعے اس حوض میں پانی آ رہا ہے ، جن میں سے ایک ندی سونے کی ہے اور دوسری چاندی کی۔ پچاس ہزار برس طویل ،روز قیامت کو آپ ﷺ کے اس حوض کے سوا پیاس بجھانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو گا، اسی لیے ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے ، حوض کوثر کا پانی نصیب فرمائیں۔
اس سلسلے کا آخری موضوع ہے:
ہر امت اپنے اپنے رب کی اتباع کرے گی
قَالَ أُنَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ کَذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ، فَيَقُولُ: مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ، وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ، وَيَتْبَعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ، فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِم اللَّهُ فِي غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّکُمْ! فَيَقُولُونَ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ، هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا أَتَانَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِم اللَّهُ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّکُمْ! فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتْبَعُونَهُ، وَيُضْرَبُ جِسْرُ جَهَنَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَکُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ (صحیح بخاری)
لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ فرمایا: ’’کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے، جبکہ اس پر کوئی بادل (ابر) وغیرہ نہ ہو؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : نہیں، یا رسول اللہ ! (نبی کریمﷺ نے )فرمایا : کیا جب کوئی بادل نہ ہو، تو تمہیں چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : نہیں، یا رسول اللہ ! (آپ ﷺ نے) فرمایا: ’’تم اللہ تعالیٰ کو اسی طرح قیامت کے دن دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور کہے گا کہ تم میں سے جو شخص جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا، وہ اسی کے پیچھے لگ جائے، چنانچہ جو لوگ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے، وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے، وہ اس کے پیچھے ہو لیں گے، جو لوگ طواغیت کی پرستش کرتے تھے، وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے، (اور پھر یہ تمام کے تمام معبود، اپنے پیروکاروں سمیت جہنم میں ڈال دیے جائیں گے، کیونکہ قیامت کے دن ہر ایک اپنا اجر اسی سے وصول کرے گا جس کی وہ عبادت کرتا تھا، یہی عدل کا تقاضا ہے۔ جو شخص کسی بت کی پوجا کرتا تھا، وہ کسی دوسرے سے صلے کی توقع رکھ بھی کیسے سکتا ہے؟ جس نے جس کی پوجا کی، اللہ اس سے کہیں گے کہ جاؤ اپنے معبود سے جا کر اپنا اجر طلب کرو۔ یہی کامل عدل ہے کہ معبود ہی اپنی عبادت کرنے والوں کو بدلہ دینے کے ذمہ دار ہیں۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا، صرف وہی اپنے اجر کی توقع اللہ رب العزت سے رکھے گا۔ اور چونکہ اس روز کامل اختیار کا مالک اللہ رب العزت ہو گا، لہٰذا اللہ رب العزت تمام معبودوں کو جہنم میں ڈال دیں گے اور کوئی صدائے احتجاج بلند نہ کر سکے گا کیونکہ ان معبودوں کے پاس تو کوئی اختیار نہ ہو گا) اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی اور اس میں منافقین کی جماعت بھی ہو گی، (آخر میں صرف یہ امت رہ جائے گی اور اس میں منافقین شامل ہوں گے۔ تمام کے تمام کفار تو جہنم کی آگ میں ڈالے جا چکے ہوں گے اور یہ منافقین مومنین کے مابین چھپنے کی کوشش کر رہے ہوں گے) اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے، تجھ سے اللہ کی پناہ! ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے، جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے سامنے نہ آ جائے۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے، (کیونکہ وہ پہلے ایک بار، حشر میں اس کو دیکھ چکے ہوں گے) پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا (آؤ! میرے ساتھ ہو لو) میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ (ہاں) تو (ہی) ہمارا رب ہے، پھر اسی کے پیچھے ہو جائیں گے۔ اور جہنم پر پل بنا دیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو پار کروں گا۔‘‘
منافقین مسلمانوں کے ساتھ گڈمڈ ہوں گے اور وہ مومنین کے درمیان چھپنے کی کوشش کریں گے، مگر اس میں کامیاب نہ ہو پائیں گے کہ اللہ رب العزت ہر ایک کو نور عطا فرمائیں گے، منافقین کے پاس بھی یہ نور ہو گا، مگر جب لوگ صراط (جہنم کے پل ) سے گزر رہے ہوں گے، جو کہ بال سے زیادہ باریک اور استرے سے زیادہ تیز دھار ہے اور جہنم کے اوپر سے گزر رہا ہے، نیز جنت میں داخل ہونے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس پل کے اوپر سے گزرا جائے جو کہ نہایت باریک اور بالکل اندھیرا ہے۔ جہنم کے اس پل پر تمام کے تمام حالات انسان کے خلاف جا رہے ہوں گے، مگر اللہ رب العزت مومنین کو نور عطا فرمائیں گے اور انہیں ان کے اعمال کے بقدر رفتار عطا فرمائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صراط سے بعض لوگ پلک جھپکتے میں (بجلی کی سی رفتار سے) گزر جائیں گے، اور کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑوں کی مانند گزر جائیں گے، کچھ بھاگ کر اسے پار کریں گے اور کچھ چل کر اسے پار کریں گے اور کچھ وہ بھی ہوں گے جو ایک قدم آگے بڑھاتے ہوں گے اور ایک قدم پیچھے ہٹاتے ہوں گے اور کچھ ہوں گے جو جہنم میں گرتے جاتے ہوں گے۔ یہ تمام تفصیلات آپ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں، پس منافقین جب یہ پل پار کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کا نور بجھ جائے گا اور وہ مومنین سے کہیں گے کہ ہمیں اپنے نور میں سے کچھ دو! اور پھر ،اللہ فرماتے ہیں کہ مومنین اور منافقین کے مابین ایک رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی، مومنین کی جانب رحمت و برکت ہو گی اور منافقین کی جانب عذاب و عقاب۔ سورۃ الحدید میں اللہ فرماتے ہیں:
يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْيَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ۚ قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا ۭ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ يُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَغَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ۭ هِىَ مَوْلٰىكُمْ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ (سورۃ الحدید: ۱۲-۱۵)
’’ اس دن جب تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا، (اور ان سے کہا جائے گا کہ) آج تمہیں خوش خبری ہے ان باغات کی، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں تم ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ یہی ہے جو بڑی زبردست کامیابی ہے۔
اس دن، جب منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے ذرا ہمارا انتظار کر لو کہ تمہارے نور سے ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں! ان سے کہا جائے گا: تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پھر نور تلاش کرو! پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہو گا، جس کے اندر کی طرف رحمت ہو گی اور باہر کی طرف عذاب ہو گا۔
وہ مومنوں کو پکاریں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ مومن کہیں گے : ہاں! تھے تو سہی، لیکن تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا، اور انتظار میں رہے، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا، اور وہ بڑا دھوکے باز (یعنی شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکا ہی دیتا رہا۔
چنانچہ آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے (کھلے بندوں) کفر اختیار کیا تھا، تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری رفیق ہے اور یہ بہت برا انجام ہے۔ ‘‘
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم
٭٭٭٭٭
