سیرتِ رسولﷺ کے سائے میں | سولہویں قسط

معاصر جہاد کے لیے سیرتِ رسول ﷺ سے مستفاد فوائد و حِکَم!

غزوۂ غابہ یا ذی قرد

اس نشست میں غزوۂ غابہ یا ذی قَرَد(قاف اور را پر زبر کے ساتھ)سے مستنبط بعض فوائد پر ہم گفتگو کریں گے، یہ غزوہ دراصل رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں  پر بنو فزارہ  کے ایک گروہ کی  ڈاکہ زنی کے خلاف تعاقب کی کارروائی تھی۔

اس غزوے کے مردِ میدان حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے منقول روایات کا خلاصہ یہ ہے:

’’رسول اللہﷺ نے اپنے غلام رباح کے ہاتھ کچھ جانور[چراگاہ کی طرف] روانہ کیے، میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ  کے گھوڑے پر سوار ان کے ساتھ تھا، صبح کے وقت اچانک عبد الرحمان  فزاری جانوروں پر حملہ کر کے ہنکا کر اپنے ساتھ لے گیا اور چرواہے کو قتل کر دیا، میں نے کہا: اے رباح! یہ گھوڑا لو ،اسے ابوطلحہ تک پہنچا دو اور رسول اللہ ﷺ سے سارا ماجرا عرض کر دو، پھر میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور مدینہ کی طرف رخ کر کے تین دفعہ زور سے چلایا: یاصباحاہ! (یعنی خطرہ!!) [حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی دوڑ اور بلند آوازی ضرب المثل ہے]۔یہ اعلان کر کے میں ان رہزنوں کے تعاقب میں پاپیادہ نکل  کھڑا ہوا اور یہ شعر پڑھتے ہوئے ان پر تیر برسانے لگا:

خذھا انا ابن الاکوع
والیوم یوم الرضع

’لو !سنبھالو وار میرا!
میں ہوں اکوع کا بیٹا
ہوں گے نِیچ آج تباہ!‘

بخدا! میں تیر برسا کر انہیں زخمی کرتا رہا، ایک گھڑ سوار میرے قریب پہنچا تو میں نے ایک درخت کی جڑ میں بیٹھ کر تاک کر ایک تیر مارا، جس سے وہ بھی زخمی ہو گیا،[تعاقب جاری رہا]یہاں تک کہ وہ ایک تنگ پہاڑی گھاٹی میں پہنچے تو میں اوپر چڑھ کر ان پر پتھر برسا کر زخمی کرنے لگا، میں ان کا تعاقب کرتا رہا ،[اور وہ اپنی رفتار تیز کرنے کے لیے لوٹے ہوئے جانوروں کو چھوڑنے لگے]یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی تمام غصب شدہ اونٹنیوں کو میں نے اپنے پیچھے چھوڑ دیا، میں پھر بھی ان کا تعاقب کرتا رہا اور مسلسل تیر اندازی کرتا رہا، تنگ آ کر ان ڈاکوؤں نے اپنا بوجھ کر ہلکا کرنے لیے اپنی تیس چادریں اور تیس نیزے بھی پھینک دیے، وہ جو چیز بھی پھینکتے میں اس پر بطورِ علامت پتھر رکھ دیتا تاکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ان کو پہچان لیں [اور انہیں راستے کا بھی پتہ چل جائے کہ ہم کس طرف ہیں]۔

 ڈاکوؤں کا یہ گروہ ایک تنگ پہاڑی موڑ پر پہنچ کر [خود کو محفوظ سمجھ کر]دن کا کھانا کھانے بیٹھا اور میں پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ گیا، ان میں سے چار افراد پہاڑ چڑھ کر میرے قریب پہنچ گئے، میں نے ان سے کہا: کیا تم جانتے نہیں؟ میں سلمہ بن اکوع ہوں[دوڑ میں اپنی مثال آپ ہوں]میں تم سے جس  کا پیچھا کروں گا اسے پکڑ لوں گا، اور تم میں سے جو میرا پیچھا کرے گا،وہ مجھے نہیں پکڑ پائے گا۔ یہ سن کر وہ واپس لوٹ گئے [اور ڈر گئے ]،میں اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا، یہاں تک میں نے رسول اللہ ﷺ کے شہسواروں کو درختوں کے درمیان سے آتا دیکھ لیا، ان میں آگے آگے اخرم رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے پیچھے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تھے، اور ان کے پیچھے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے، عبد الرحمان فزاری اور اخرم رضی اللہ عنہ کا ٹکراؤ  ہوا، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبد الرحمان فزاری کے گھوڑے کو وار کر کے گھائل کر دیا، اس نے نیزہ مار حضرت اخرم رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا اور ان کے گھوڑے پر سوار ہو گیا، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اس کا پیچھا کیا اور اسے قتل کر دیا، اپنے سردار کے قتل سے ڈاکو پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے، میں نے پاپیادہ دوڑتے ہوئے پھر ان کا تعاقب شروع کر دیا، یہاں تک کہ مغرب کے وقت وہ ذی قرد نامی گھاٹی کی طرف مڑے جہاں پانی تھا، وہ پیاسے تھے اور پانی پینا چاہتے تھے، میں نے ان کو [تیر اندازی کر کے] پانی سے دور رکھا، وہ ایک قطرہ بھی نہ چکھ  سکے۔

عشاء کے وقت رسول اللہ ﷺ دیگر گھڑ سواروں سمیت تشریف لے آئے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ لوگ پیاسے ہیں ،اگر آپ سو افراد میرے ساتھ روانہ فرما دیں تو میں ان سے بقیہ جانور بھی چھڑا لاؤں اور انہیں بھی گردن سے پکڑ کر آپ کے سامنے حاضر کر دوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:(اے اکوع کے بیٹے! جب تم نے قابو پا لیا تو اب درگزر کرو)پھر فرمایا: (اس وقت غطفان میں ان کی خاطر تواضع ہو رہی ہے[یعنی وہ ہم سے بچ کر محفوظ ٹھکانے میں پہنچ چکے ہیں ])۔

رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر یہ بھی فرمایا:(ہمارے آج کے بہترین گھڑ سوار ابوقتادہ ہیں اور بہترین پیادے سلمہ ہیں )۔رسول اللہ ﷺ نے مجھے غنیمت میں سے دو حصے عطا فرمائے، ایک پیادے کا اور ایک گھڑ سوار کا، اور واپسی کے سفر میں عضباء نامی اونٹنی پر مجھے اپنے ساتھ بٹھایا ۔‘‘1الرحیق المختوم:ج 1،ص324

حملہ آور کے خلاف دفاع کے لیے امام سے اجازت لینے کا مسئلہ

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر امام موجود بھی ہو تو اس وقت ’حملہ آور کے مقابل دفاع ‘اس کی اجازت پر موقوف نہیں جب اس اجازت طلبی کی وجہ سے مفسدہ واقع ہو، اور یہ دلالت  بحمد اللہ بہت واضح ہے ۔

اصل مسئلہ راجح قول کے مطابق یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مسلمان کے لیے امام یا  اپنے جہادی امیر سے اجازت لینا ضروری ہے، مقصود اس حکم سے یہ ہے کہ جہاد منظم اور باقاعدہ رہے ، اس کے مقاصد بھی حاصل ہوں، اللہ کا کلمہ بلند ہو، کفر مغلوب ہو وغیرہ، لیکن اگر اس اجازت طلبی کی وجہ سے یہ مقصود فوت ہو رہا ہو، مثلاً دشمن ہم پر حملہ کر کے ہمارے دین و دنیا کو برباد کرنے لگے اور امام سے اجازت لینے میں  دفاع  تاخیر کا شکار ہو رہا ہو تو اس وقت یہ مسئلہ بدل جائے گا،[کیونکہ مسئلہ کی علت اور اس کا سبب بدل گیا]بلکہ اس صورت میں دفاع کو اجازت ملنے پر موخر کرنا حرام ہو گا، کیونکہ اجازت لینے[کی وجہ سے تاخیر] کا مفسدہ اجازت نہ لینے کے مفسدے اور خرابی سے بڑھ گیا ہے، بلکہ دیکھا جائے تو اس صورت میں اجازت لینا عملاً ممکن ہی نہیں ،اور جو کام ممکن نہ ہو شریعت نے ہمیں اسے کرنے کا مکلف ہی نہیں کیا، سو اس صورت میں اجازت لینے کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے اور بقدرِ امکان دفاع کا وجوب باقی رہتا ہے ،اس کی حکم کی حکمت عقل و فطرتِ سلیم سے بھی سمجھی جا سکتی ہے، شریعت مطہرہ اس سے پاک ہے کہ اس میں خلافِ مصلحت و حکمت کوئی حکم دیا جائے۔[رضینا بالاسلام دینا]

ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’جب یہ بات ثابت ہو گئی تو مسلمان امام کی اجازت کے بغیر جہاد کے لیے نہیں نکلیں گے، کیونکہ جنگ کا معاملہ امام کے سپرد ہے، وہ دشمن کی قلت و کثرت کو، ان کے خفیہ رازوں اور جنگی چالوں کو بہتر جانتا ہے ،تو اس کی رائے پر عمل کرنا چاہیے ،اس میں مسلمانوں کے لیے زیادہ احتیاط ہے ،البتہ اگر دشمن کے اچانک حملے کی وجہ سے اجازت لینا مشکل ہو تو پھر اجازت واجب نہیں ،کیونکہ اس  صورت میں مصلحت نکل کر ان کے خلاف لڑنے میں ہے اور قتال نہ کرنے کا مفسدہ بھی یقینی ہے۔‘‘2المغنی:ج20،ص445

اور اجازت طلبی مشکل ہونے کی صورت میں حملہ آور کے خلاف دفاع چونکہ اتفاقی مسئلہ ہے، اس لیے علماء کی ایک جماعت نے اس سے امام کی اجازت کے بغیر دشمن کے خلاف اقدام و چڑھائی کرنے کے جواز پر بھی استدلال کیا ہے، جب اجازت لینا ممکن ہو ،البتہ یہ وضاحت بھی ان علماء نے کی ہے کہ یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر ہم یہ کہیں کہ جو شخص امام کی اجازت کے بغیر نکل کر جہاد کرتا ہے وہ [کفار سے مال چھیننے میں ]چور کے حکم میں ہے3واضح رہے یہاں چور کے حکم میں ہونا جس کی امام شافعی رحمہ اللہ تردید کر رہے ہیں ،اس سے مراد گناہ گار ہونا نہیں کہ ایسا فرد حربی کافر سے مال چھین کر گناہ گار ہو گا، کیونکہ حربی کافر کی  تو جان لینا بھی اتفاقا جائز ہے تو مال لینے میں اختلاف کیونکر ہو گا!بلکہ یہاں کافر سے چھینے مال میں چور کے حکم میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس مال میں سے غنیمت کی طرح پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نہیں نکالا جائے گا، جیسے کوئی شخص بغیر امان لیے دار الحرب میں جا کر چوری چھپے کسی حربی کافر مال لے لے تو اس میں خمس نہیں نکالا جاتا۔(مترجم)  تو جو لشکر امام کی اجازت کے بغیر جہاد کرتے ہیں انہیں بھی چور کے حکم میں کہا جائے گا4اور ان کے کفار سے چھنے مال میں خمس جاری نہیں ہوگا، حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ،سو فردِواحد کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ یہاں جس مسئلے کی تردید کررہے ہیں (فردِواحد بغیر امام کی اجازت جائے اور کسی کافر کا مال لوٹ لائے تو یہ غنیمت نہیں کہ اس میں خمس جاری ہو) یہ احناف  کا مذہب ہے اور احناف کی دلیل فردِ واحد اور لشکر کے  حکم میں تفریق کے حوالے سے یہ ہے کہ لشکر کی قوت اور منعہ اذنِ امام کے حکم میں ہے۔ (مترجم)، نیز اگر مسلمانوں کے کسی قلعے پر دشمن حملہ کر دے اور مسلمان امام کی اجازت کے بغیر اس سے لڑیں تو وہ بھی [مالِ غنیمت میں خمس جاری نہ ہونے کے لحاظ سے]چور کی طرح ہوں گے۔ حالانکہ یہ قلعے والے چور نہیں ،بلکہ یہ اللہ کے حکم کو پورا کرنے والے ہیں ،اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں ،اپنے اوپر عائد جہاد و نفیر کا فرض ادا کرنے والے ہیں اور خیر و فضیلت کو حاصل کرنے والے ہیں۔‘‘5الام:ج7،ص373

آج کے دور میں بعض علماء نے بغیر کسی شرط و استثناء جس طرح امام کے اذن کو مطلقاً لازم ٹھہرایا ہے ،ان فتاویٰ سے پیدا ہونے والے مفاسد کی وجوہات کو اس تفصیل کی روشنی میں سمجھنا آسان ہو جاتا ہے [کہ یہ مفاسد دراصل حکمِ شرع سے عدول کے سبب پیدا ہوئے ہیں، نہ کہ شریعت سے تمسک کی بنا پر ]،یہ تو تب ہے جب امام مسلمان ہو، اگر امام کفر میں امام ہو تو حکم کیا ہونا چاہیے؟

اچھا! مان لیا کہ امام مسلمان ہے، وہ دیکھ رہا ہے کہ دشمن حملہ آور ہے اور وہ کوئی حرکت نہیں کرتا، کیا پھر بھی جہاد و دفاع کے لیے اس کی اجازت ضروری ہے؟

اچھا !پھر بھی اگر ہم اس سے اجازت طلب کریں اور وہ ہمیں جہاد کرنے سے منع کر دے، تو کیا اس کاحکم ماننا ضروری ہے؟

اور اگر وہ خود اس حملہ آور کی مدد کرے اور اس کے لشکر کا حصہ بن جائے ،تو پھر بھی وہ مسلمانوں کا امام رہے گا؟

[جب حاکم دین کو تباہ کرنے لگے]

ایسا بدبخت سرے سے امام ہے ہی نہیں ،اپنی اس حرکت کی وجہ سے وہ خود بخود معزول ہو چکا ہے، اس کا قتل اور اس کے خلاف قتال واجب ہے، کیونکہ امام کی شرائط میں اہم ترین اسلام اور دین داری ہے ،اور یہ بدبخت حکمران تو مسلمانوں کے خلاف کفار کا ساتھ دے کر اور اپنی طرف سے خلافِ شرع قوانین گھڑ کر کافر ہو چکے ہیں ،اور جب حاکم کافر ہو جائے تو وہ بالاجماع خود بخود حکمرانی سے معزول ہو جاتا ہے ،اس سے لڑنا اور مسلمان حاکم مقرر کرنا واجب ہو جاتا ہے !اور جب اسلام باقی نہ رہا تو دین داری کیسی! ایسے حکمران کا کیا دین اور کیا دین داری جو خود اپنی رعایا کا دفاع نہ کرے اور انہیں بھی  دشمن کے خلاف اپنا دفاع نہ کرنے دے! بلکہ خود دشمن کی صف میں شامل ہو کر اپنی رعایا پر حملہ کرے۔

تنہا سپاہی ،دستے کے مساوی

اس اچانک حملے کے بعد حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ جو طرزِ عمل اختیار کیا اس سے آپ کے حوصلے، بہترین قوتِ فیصلہ و حاضر دماغی ،جنگی مہارت اور آگے بڑھ کر مشکلات کا سامنا کرنے کی صفات کا پتہ چلتا ہے، آپ تردد کا شکار نہیں ہوئے کہ عمل کا موقع آپ کے ہاتھ سے نکل جاتا، اور سب سے بڑھ کر اس سے آپ کے اللہ عز وجل پر توکل کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وہ صفات تھیں جن سے آپ تنہا اپنی ذات میں ایک جنگی دستے کے قائم مقام ٹھہرے۔

آپ کی درست حکمتِ عملی یہ تھی کہ فورا ایسے اقدام کیے جس سے مسئلہ حل ہو گیا یا کم از کم اس کی سنگینی کم ہو گئی :

یضِ صحبت]

بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مشکل پیش آنے پر ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے وہ مشکل بالکل ختم ہو جائے یا  کم از کم اس کی سنگینی کم ہو جائے، عموما ًیہ حسنِ تدبیر خداداد ہوتا ہے ،لیکن کوشش کے ذریعے اور ان صفات کے حامل افراد کے ساتھ صحبت اختیار کر کے یہ صلاحیت اور اس جیسی دیگر صلاحیتیں حاصل کی جا سکتی ہیں ،صحبت ایک مؤثر عامل ہے۔

یرت ہے بڑی چیز]

کچھ لوگ مشکل آن  پڑنے پر سُن  پڑ جاتے ہیں ،ان کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے ،انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا، سو جب وہ ابتدائی جھٹکے سے باہر نکلتے ہیں [جلد یا بدیر، اپنی اپنی قوتِ برداشت کے مطابق]تو پھر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،ایسے افراد قابلِ ملامت نہیں ،کیونکہ وہ مشکل کو حل کرنے اور کوتاہی کے ازالے کی کوشش تو کرتے ہیں، قابلِ ملامت ،بلکہ لائقِ صد ملامت تو وہ لوگ ہیں جو ابتدائی جھٹکے سے سنبھلنے کے بعد بھی مشکل سے نکلنے کی کوشش نہیں کرتے، ان کے حواس معطل ،جذبات سرد اور غیرت کالعدم ہو جاتی ہے ،گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ معاملہ تب ،مزید سنگین ہو جاتا ہے جب یہ اپنی اس بے حسی و بزدلی کو حکمت، مصلحت اور سیاسی سمجھ بوجھ کا جامہ پہناتے ہیں ،کچھ تو گمراہی میں اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ مصیبت کو نعمت قرار دے ڈال دیتے ہیں اور مدد کی کوشش کرنے والوں کو فسادی اور تخریب کار کہتے ہیں [جیسے وحید الدین خان ہندوستانی اور غامدی پاکستانی ]،عموماً اس  گروہ کا ضمیر  شروع میں اپنے طرزِ عمل پر مطمئن نہیں ہوتا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ضمیر سو جاتا ہے اور یہ بزدلی ان کا منہج بن جاتی ہے ،جس کا وہ دفاع کرتے ہیں اور دوستی و دشمنی کا پیمانہ بنا دیتے ہیں ،خود کو بہادر  اور مصلح سمجھتے ہیں ،لیکن حقیقت میں فساد کی بنیاد رکھنے والے ہوتے ہیں اور اپنی برائی و کوتاہی کے شعور تک سے محروم ہو جاتے ہیں ۔

[ملت کے لیے ناسور ہیں یہ]

اگر آپ کو میری بات مبالغہ محسوس ہو اور آپ اس کی کسی زندہ مثال کو دیکھنے کا مطالبہ کریں تو ان کٹھ پتلی حکمرانوں کو دیکھ لیں  کہ جن کے ملکوں پر کافر دشمن حملہ آور ہوا ،وہاں فساد مچایا، عزتیں لوٹیں ،وسائل غصب کیے، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، اس وقت اس طبقے نے کوئی حرکت نہیں کی ،نہ خوابِ غفلت و شہوت سے بیدار ہوا، میری بیان کردہ بقیہ تفصیل کو منطبق کرنے میں بھی آپ کو زیادہ دقت نہیں ہو گی[بطورِ مثال اسلامی ہندوستان کو لیں، انگریز آیا، قبضہ کیا، مجاہدین نے قربانیاں  دیں، سر سید وغیرہ نے انگریز کی حمایت کی، جہاد کو غدر اور مجاہدین کو حرام زادے  کہا، خود کو قوم کا مصلح باور کرایا، مغربی ہندوستان (موجودہ پاکستان) کے فوجیوں نے مجاہدین کے خلاف انگریز کی صف میں شمولیت اختیار کی ،صرف ہند نہیں ،بلکہ بیرونِ ہند عثمانی خلافت کے خلاف بھی انگریز کا ساتھ دیا، بیت المقدس عثمانیوں سے چھین کر تاجِ برطانیہ کے قبضے میں دیا ،ان خدمات کے صلے میں تقسیم کے وقت ملک کی باگ ڈور انہیں سونپنے کا فیصلہ ہوا، لیکن یہ اقتدار علانیہ نہیں تھا، تاکہ اسلامی جمہوریت کا چورن بیچنے میں مشکل پیش نہ آئے]،یہ وہ بدبخت طبقہ ہے اگر یہ زمانہ ہی عجائب کا اور اخلاقی پیمانے کے بدل جانے کا نہ ہوتا تو ان کی تیرہ بختی کا بیان فضول گوئی کے زمرے میں آتا۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے، آمین۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version