سیرتِ رسولﷺ کے سائے میں | پندرھویں قسط

معاصر جہاد کے لیے سیرتِ رسول ﷺ سے مستفاد فوائد و حِکَم!

تا آخریں رمق ثابت قدمی

یہ واقعات اور ان میں موجود قربانی و ثابت قدمی کے مناظر کیسے پر کشش ہیں ،ان کی خوبصورتی انسان کو دنگ کر دیتی ہے۔

[ہادی ومقتدیٰ! تجھ پہ سب کچھ فدا]

زید بن دثنہ ﷜ کو قتل کے لیے لے جایا جا رہا ہے، حضرت ابو سفیان ﷜ [جو تا حال اسلام نہیں لائے تھے ،آگے چل کر فتحِ مکہ کے بعد مسلمان ہوئے] ان سے پوچھتے ہیں :اے زید! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم اسے پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد [ﷺ]  ہماری قید میں ہوں، ان کو قتل کر دیا جائے اور تم اپنے اہل و عیال میں [مزے سے ] ہوتے؟ آپ  ﷜ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں تو اس کو بھی گوارا نہیں کرتا کہ میں اپنے گھر والوں ساتھ رہوں اور محمد ﷺ کو کوئی کانٹا بھی چبھ کر انہیں تکلیف دے ۔1البدایہ والنہایہ ؛ج 4،ص72

پھر جب کفار نے انہیں سولی پر لٹکا کر، تیر مار کر، تکلیفیں دے کر  اسلام سے ہٹانا چاہا تو ناکام رہے اور حضرت زید بن دثنہ ﷜ کے ایمان و ایقان میں اس سب سے اضافہ ہی ہوا۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ

اسی طرح جب حضرت خبیب ﷜کو سولی پر لٹکایا تو کفار نے پکار کر قسم دے کر ان سے پوچھا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ محمد[ﷺ] تمہاری جگہ ہوتے؟ حضرت خبیب ﷜نے جواب دیا: اللہ کی قسم ! میں تو اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ مجھے اس قتل سے بچانے کے لیے محمد ﷺ کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ اس جواب پر قریش کو بہت تعجب ہوا۔

بئر  معونہ میں جب کفار نے حضرت حرام ﷜ کو نیزہ مار کر شہید کیا تو ان کی زبان سے نکلا: اللہ اکبر!  فزت ورب الکعبۃ! رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔ یہ بات ان کے قاتل کے اسلام لانے کا سبب بن گئی ۔

بئر  معونہ کے موقع پر ایک انصاری صحابی اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری ﷜ قافلے کے جانوروں کے ساتھ [پیچھے پیچھے آ رہے] تھے، انہیں اس سانحے کا علم نہیں تھا، قافلے کے پڑاؤ کی سمت پرندوں کے گھومنے سے انہیں خطرے کا اندازہ ہوا اور کہنے لگے: بخدا! ان پرندوں کے گھومنے کا کوئی خاص سبب ہے۔ پھر جب جائے وقوعہ پر پہنچ کر دیکھا سب صحابہ رضی اللہ عنھم اپنے خون میں نہائے پڑے تھے، اور ان کے قاتل بھی وہیں موجود تھے، انصاری صحابی نے عمرو بن امیہ سے کہا: کیا کہتے ہو؟ [کیا کرنا چاہیے]،انہوں نے جواب دیا: میری رائے ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر انہیں سارا ماجرا سنائیں۔ انصاری صحابی نے کہا: لیکن مجھے گوارا نہیں جس جگہ منذر بن عمرو قتل ہوئے ہیں میں وہاں سے خود کو بچا لے جاؤں اور لوگوں کو ان کے قتل کا حال بتاؤں۔ یہ کہہ کر انصاری صحابی کفار پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوئے ،جبکہ حضرت عمرو بن امیہ قیدی بنا لیے گئے ۔رضی اللہ عن الصحابۃ وارضاھم

یمان کی حلاوت جب دل میں گھر کرلے]

جب انسانی دل کو اللہ کی معرفت حاصل ہو جائے ،اللہ کے پیارے ناموں اور عالی صفات کا ادراک ہو جائے ،اہل ایمان کے لیے اللہ کے تیار کردہ انعامات اور کفار کے لیے بنائے گئے درد ناک عذاب کا یقین راسخ ہو جائے  تو پھر اللہ سے ملاقات کا شوق اسے بے خود کر دیتا ہے اور وہ اللہ کی خوشنودی کے راستے پر چل پڑتا ہے اور راستے کی تکالیف بھی ان مطمئن نفوس پر چنداں گراں نہیں گزرتیں ،کیونکہ ان کا منتہائے نظر یہی ہوتا کہ کسی طرح اس فانی دنیا سے گزر کر اللہ کے پاس پہنچ جائیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی جنتوں ،نعمتوں میں جا بسیں ۔

یہی ایمان کا کمال تھا جس نے اس سے پہلے بھی فرعونی دربار کے جادوگروں کو استقامت دی تھی  اور فرعون کی دھمکیوں کو وہ خاطر میں نہ لائے ۔فرعون نے انہیں دھمکایا:

فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ ۡ وَلَتَعْلَمُنَّ اَيُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰي؀ (سورۃ طہ: ۷۱)

’’سو میں ضرور بالضرور تمہارے ہاتھ اور پیر مخالف جانب سے کاٹوں گا اور لازما تمہیں کھجور کے تنوں کے ساتھ سولی دوں  گا اور یقیناً تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت ہے اور دیرپا ہے۔‘‘

ان نئے ایمان لانے والے ان سابق جادوگروں نے بلا ہچکچائے پورے یقین سے جواب دیا:

لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰي مَا جَاۗءَنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالَّذِيْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ۭ اِنَّمَا تَقْضِيْ هٰذِهِ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا؀  اِنَّآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطٰيٰنَا وَمَآ اَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۭ وَاللّٰهُ خَيْرٌ وَّاَبْقٰي؀ (سورۃ طہ: ۷۲، ۷۳)

’’قسم اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہمارے سامنے جو روشن نشانیاں آ گئی ہیں ان پر ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے، اب تجھے جو کرنا ہے کر لے، تو اسی دنیاوی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے ،ہم تو اپنے رب پر ایمان لا چکے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور جادو کے اس کام کو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا، اور اللہ ہی(اور اس کا اجر) سب سے اچھا اور ہمیشہ باقی رہنے ولا ہے ۔‘‘

ایمان کی بلندی اور اللہ کی دی سکینت کے مقابل کفر کی بغض بھری چھریاں اور خائن شکنجے کوئی حقیقت نہیں رکھتے ،ان سے اہل ایمان کے ایمان و یقین میں اضافہ و بالیدگی ہی ہوتی ہے۔

ان واقعات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی  رسول اللہ  ﷺ سے سچی محبت اور آپ  ﷺ کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا جذبہ بھی نمایاں ہے۔

[پھر شریعت کی خاطر گزر جائیں ہم ،دولت و مال سے ،جسم سے ،جان سے]

ایمان کا مزہ چکھ لینے والے سچے مومن کا حال یہی ہوتا ہے ،اللہ کے دین پر ہلکی آنچ بھی اس کو گوارا نہیں ہوتی  اور وہ اس کی خاطر کٹ مرنے پر تیار ہو جاتا ہے ،کجا یہ کہ وہ دین کی تباہی کو برداشت کرے۔

پس آج کے دور میں کہاں ہیں ایسے مردِ  میدان! آج اسلام کو محض کانٹے نہیں چبھوئے جا رہے بلکہ اس کے سینے میں نیزے اتارے جا رہے ہیں ،اس کے خلاف ہر سازش کی جا رہی ہے، سو ہے کوئی خبیب و مرثد رضی اللہ عنھما جیسا اور ان کا جانشین جو اسلام اور اہل اسلام کی حفاظت کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگا دے؟

منافقین کی ہر زہ سرائی

منافقین کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اسلام اور اہلِ اسلام کی بابت اپنی بری رائے اور زہریلی باتیں  ظاہر کرنے  سے باز نہیں آتے، اس سے وہ اپنے دل میں بھرے بغض کی بھڑاس نکالتے ہیں اور اسلام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

’’حضرت عاصم و مرثد رضی اللہ عنہما کی جماعت پر جب رجیع میں آزمائش آئی تو کچھ منافقین کہنے لگے: افسوس ہے ان دھوکے میں مبتلا لوگوں پر، ویسے ہی مارے گئے ،نہ اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے رہے اور نہ اپنے نبی کا پیغام پہنچا سکے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ۙ وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ؁

’اور لوگوں میں سے ایک وہ بھی ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تمہیں بڑی اچھی لگتی ہے (یعنی وہ زبان سے اسلام ظاہر کرتا ہے )اور وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے اس پر جو اس کے دل میں ہے ([یہ اس کی انتہا درجہ کی دیدہ دلیری ہے کیونکہ] اس کا دل تو اس کی زبان کے برعکس ہے) اور وہ دشمنوں میں سب سے کٹّر ہے (یعنی آپ سے بات چیت میں بہت بحث کرتا ہے ) )‘۔‘‘2سیرت ابن ہشام؛ج 2 ص111

[بغضِ مجاہدین کارِ زیاں ہے ]

اب بھی بعض انہی منافقوں کے نقش پر رواں ہیں اور انہی کا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں ،جب بھی مجاہدین پر کوئی آزمائش آتی ہے تو خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجاہدین ناکام ہو گئے، اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے، اگر وہ اپنے مقصد [غلبہ اسلام اور نفاذِ شریعت] کے حصول کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کرتے تو بہتر ہوتا۔

یہ مجاہدین کی آزمائش پر بھنگڑے ڈالنے والے یہ باتیں کر کے لوگوں کو جہاد سے روکنا چاہتے ہیں ،لیکن ان کی ان ہفوات سے اس امت کے اہلِ صدق و عزیمت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، نہ ان کا عزم و ارادہ مضمحل ہوتا ہے۔

ہر مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے ،نفاق کی خصلتوں میں سے یہ خصلت اس میں نہ ہو، دیکھا جائے تو مسلمان کی تکلیف پر سوائے منافق کے اور کون خوش ہو سکتا ہے !

[متفرق فوائد و نکات]

آخر میں ہم وہ فوائد ذکر کریں گے جو حافظ ابنِ حجر ﷫ نے ذکر کیے ہیں :

اسیر کے لیے جائز ہے کہ وہ کافر کی امان قبول نہ کرے ،اور خود پر کافر کے حکم کو عار سمجھ کر گرفتاری نہ دے  ،خواہ قتل ہو جائے ،یہ تب ہے کہ جب وہ عزیمت پر عمل کا ارادہ کرے، اگر رخصت و آسانی پر عمل کرنا چاہے تو اس کے لیے امان کو قبول کر لینا جائز ہے، حسن بصری ﷫فرماتے ہیں :اس میں کوئی حرج نہیں ۔اور سفیان ثوری﷫ فرماتے ہیں: میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔

اس واقعے میں درجِ ذیل نکات ہیں :

نیز اس میں یہ امور ہیں :قتل کے وقت شعر پڑھنا، حضرت خبیب ﷜ کے ایمان کی پختگی۔

اور اس میں یہ بات بھی ہے کہ اللہ اپنی مشیت کے مطابق اپنے بندے کو آزماتا ہے ،تاکہ اسے اجر سے نوازے، ورنہ اللہ چاہے تو کافر کسی مسلمان کا بال بھی بیکا نہ کر سکیں ۔

اور یہ بات بھی ہے کہ اللہ کسی مسلمان کی دعا اس کی زندگی میں قبول کرتے ہیں اور اس کی موت کے بعد بھی، اور بھی بہت سے فوائد ہیں جو غور کرنے سے ظاہر ہو جائیں گے۔

اللہ نے حضرت عاصم ﷜ کی یہ دعا تو قبول کی کہ ان کے جسم کی کفار سے حفاظت کی ،لیکن کفار کو ان کے قتل سے نہیں روکا، کیونکہ اللہ انہیں شہادت کی عزت دینا چاہتا تھا اور ان کی لاش کی حفاظت بھی ایک تکریم تھی، اس واقعے میں یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کفارِ قریش حرم اور حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتے تھے ۔3فتح الباری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبئر معونہ

یری قربانی،نماز،زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے]

حضرت خبیب ﷜ کے واقعے کے فوائد میں سے نماز کی فضیلت بھی ہے، کیونکہ انہوں نے اللہ سے ملاقات سے پہلے دنیا میں آخری عمل نماز کو بنایا، پھر یہ نماز ہر اس مسلمان کے لیے سنت قرار دے دی گئی جو قتل کیا جا رہا ہو۔

جب انسان قتل کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہو اور اللہ کی ملاقات کے انتظار میں ہو تو اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ ایک اور ہی طرح کی نماز ہو گی، اس میں انسان ظاہری و قلبی طور پر اللہ کی طرف  متوجہ ہو گا، اخلاص و خشوع کا خوب اہتمام کرے گا، تاکہ زندگی کے عین آخری لمحات میں کیا جانے والا یہ عمل اللہ کے یہاں مقبول ہو جائے اور اللہ کی رحمت و بلندی درجات کا سبب بن جائے ۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے: جب تم سے کوئی نماز پڑھے تو وہ دنیا کو الوداع کہنے والے کی طرح نماز پڑھے، اس شخص کے جیسی نماز جس کا یقین ہو کہ وہ لوٹ کر دنیا میں نہیں آئے گا ۔4الجامع الصغیر للسیوطی؛716

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version