آزمائش و ابتلا کو نعمتوں میں کیسے بدلیں؟ آزمائش کی نعمت کا مزہ کیسے حاصل کریں؟ قطع نظر اس سے کہ آپ کو زندگی میں کس کس مشکل کا سامنا ہے، آپ ایک پرسکون زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ آپ ہر معاملے کا سامنا مثبت اندازِ فکر اور امید و حوصلے سے کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ وہ گہرا و قریبی تعلق کیسے بنا سکتے ہیں، کہ آپ کو اس کی ذات کے سوا کسی کا خوف اور کسی سے امید نہ رہے؟ آپ ایک ناقابلِ شکست عزم اور ایک ناقابلِ شکست شخصیت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ آپ اپنے دل کا تزکیہ کیسے کریں، کہ قسمت و تقدیر کو الزام دینا چھوڑ دیں تاکہ اللہ سے ایک سالم و پاکیزہ دل کے ساتھ ملاقات کر سکیں؟ آپ اپنے خالق و مالک، اپنے ربّ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اپنی محبت کو کیسے خالص و غیر مشروط بنا سکتے ہیں؟ تحریرِ ہٰذا میں آپ کو ان سوالوں کے جواب، اور مزید بہت کچھ ملے گا، ان شاء اللہ! (ادارہ)
جب آپ کو یقین ہو جائے کہ اللہ کو آپ کی بہتری منظور ہے
واللہ ! میرے بھائیو اور بہنو، میرا نہیں خیال کہ اس احساس سے بڑھ کر بھی کوئی خوبصورت احساس ہے، کہ اللہ آپ کو جس قسم کے حالات میں بھی مبتلا کرتا ہے، ان سب سے اللہ کو آپ کی بھلائی منظور ہے۔ اور یہ کہ جو کچھ بھی آپ کے ساتھ پیش آتا ہے، بالآخر وہ سب آپ ہی کے فائدے کا سبب بن جاتا ہے۔لیکن شاید اس احساس کو یقین میں بدلنے کے لیے ہمیں ابتلا و آزمائش سے گزرنے کی ضرورت ہوتی ہے!
جب زندگی میں سب کچھ بالکل ٹھیک چل رہا ہوتا ہے (بغیر کسی مشکل و پریشانی کے) ، جب آپ کی زندگی بالکل مکمل اور پر سکون محسوس ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے آپ کو ہر قسم کی دنیاوی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں، تو ممکن ہے کہ آپ خود سے یہ سوال کریں: ’کیا یہ سب نعمتیں جو اللہ نے اپنی مشیّت سے مجھے اسی دنیاوی زندگی میں عطا کر رکھی ہیں، ان نعمتوں کے علاوہ ہیں جو اللہ نے میری آخرت کے لیے مؤخر فرمائی ہیں؟یا میں اپنی تباہی کی جانب رواں دواں ہوں، اور اللہ مجھے اس زندگی میں وافر نعمتیں عطا کر رہا ہے تاکہ آخرت میں میرے لیے کچھ نہ بچے اور پھر میری خطاؤں اور کوتاہیوں پر مجھے سزا دی جائے؟‘۔
یہ بے یقینی آپ کے لیے فکر و پریشانی کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے۔
پھر آپ کسی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس میں آپ کو ایسی نشانیاں نظر آتی ہیں جن سے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آزمائش کے ذریعے اللہ نے آپ کو خیر عطا فرمانے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر آپ خوش ہوجاتے ہیں اور سوچتے ہیں: ’میں اللہ کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا رہا، لیکن ذاتِ الٰہی الحلیم ہے، وہ میرے ساتھ اپنی مہربانی اور حلم کے مطابق معاملہ فرماتا ہے، نہ کہ اس کے مطابق کہ میں کس چیز کا مستحق ہوں۔اس نے مجھے خیر عطا فرمائی……اس لیے نہیں کہ میں اس کا مستحق تھا…… بلکہ اس لیے کہ یہی اس کی شانِ رحمت، مہربانی، حلم و بردباری، عفو و کرم کو زیبا تھا۔‘
سوال یہ ہے کہ مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ اللہ تعالی میرے لیے خیر کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں؟
کیا اس کا تعلق اس چیز سے ہے کہ میں زندگی میں کس قدر صحت مند، دولت مند اور محفوظ ہوں؟
نہیں! ہر گز نہیں! ان میں سے کوئی چیز بھی اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ آپ کو عزت و شرف بخش رہا ہے یا وہ آپ کے لیے خیر مقدر فرما رہا ہے:
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَنَعَّمَهٗ ڏ فَيَقُوْلُ رَبِّيْٓ اَكْرَمَنِ وَاَمَّآ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ ڏ فَيَقُوْلُ رَبِّيْٓ اَهَانَنِ(الفجر:۱۵۔۱۶)
’’لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزماتا ہے اور انعام و اکرام سے نوازتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے میری عزت کی ہے۔ اور دوسری طرف جب اسے آزماتا ہے اور اس کے رزق میں تنگی کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ : میرے پروردگار نے میری توہین کی ہے۔ ‘‘
انسان اللہ کی جانب سے دنیاوی نعمتوں کے عطا کیے جانے یا روک لیے جانے کواس نظر سے دیکھتا ہے گویا یہی اللہ کی اپنے بندے سے خوشنودی یا ناراضگی کا معیار ہے، گویا اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندے کو خیر عطا فرمائے گا یا اسے سزا دے گا۔ایسے فہم کا ایک ہی جواب ہے جو سورۃ الفجر کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے:’’كَلَّا…‘‘(الفجر: ۱۷) ’’ایسا ہرگز نہیں ہے !‘‘اللہ کی عطا یا اس کی جانب سے دنیاوی نعمتوں کا روک لیا جانا کوئی معیار نہیں۔ بلکہ وہ تو فرماتا ہے:
’’مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(الاسراء: ۱۸)
’’ جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں، پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔ ‘‘
اور فرمایا:
كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا (الاسراء: ۲۰)
’’(اے پیغمبر) جہاں تک (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کا تعلق ہے ہم ان کو بھی اس سے نوازتے ہیں، اور ان کو بھی، اور (دنیا میں) تمہارے رب کی عطا کسی کے لیے بند نہیں ہے۔‘‘
تو پھر وہ معیار کیا ہے جس کے مطابق آپ یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ اللہ آپ کے لیے خیر کا ارادہ فرمائے ہوئے ہے یا نہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ دنیاوی نعمتیں اپنے پسندیدہ بندوں کو بھی عطا کرتا ہے اور انہیں بھی جنہیں وہ پسند نہیں فرماتا، لیکن وہ ایمان کی نعمت صرف انہی کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت فرماتا ہے۔‘‘ (عمدۃ التفسیر میں شیخ احمد شاکر نے اس حدیث کی سند کو ’صحیح ‘کہا ہے)
جی ہاں! ایمان ہی اصل معیار ہے!
تو اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی آزمائش میں مبتلا ہو کر آپ اللہ سے مزید قریب ہو گئے ہیں، تو جان لیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ کو خیر عطا کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنا حال اس کے برعکس پاتے ہیں تو خبردار ہو جائیں! اپنے رویّے کی اصلاح کریں اس سے قبل کہ آپ ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جو اللہ کی رحمت سے محروم و مایوس ہیں۔
اگر آپ کسی ایسی مشکل سے آزمائے جاتے ہیں جو آپ کے وہم وگمان میں بھی نہ تھی، اور اس کے باوجود اللہ تعالی آپ کو سکینت و اطمینان عطا فرماتے ہیں، تو جان لیں کہ وہ آپ کے لیے خیر کا ارادہ فرمائے ہوئے ہے۔ اگر اللہ آپ کی رہنمائی فرماتا ہے کہ آپ اس سے بہترین گمان رکھیں، اور آپ کو اپنی قسمت و تقدیر کو برا بھلا کہنے سے ، اللہ کی مشیّت کو الزام دینے سے محفوظ رکھتا ہے، تو جان لیں کہ وہ آپ کو خیر عطا کرنے والا ہے۔
اگر اپنی ابتلا و آزمائش کے درمیان، آپ پر ایسے لمحات آتے ہیں کہ آیاتِ قرآن پر تدبر کرتے ہوئے آپ کا دل شاد ہو جاتا ہے……اور اپنی تمامتر مشکل و تکلیف کے باوجود……آپ کی آنکھیں اللہ کے لیے محبت و تشکر کے آنسوؤں سے لبریز ہو جاتی ہیں،تو جان لیں کہ اللہ نے آپ کے لیے خیر مقدر فرمائی ہے۔ اگر آپ کی نظر میں وہ خدشات جو لوگوں کی جانب سے آپ کے دل میں ہیں، ہلکے ہو جاتے ہیں اور آپ کو اپنے دشمن محض ……اللہ ، الجبّار و القہّار، المتعال ……کے ادنیٰ غلام اور اس کے حکم و مشیّت میں جکڑے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں …… اگر آپ صرف اور صرف اللہ کی جانب سے خیر عطا ہونے کی توقع رکھتے ہیں اور ما سوائے اس کے کسی کا خوف آپ کے دل و ذہن میں باقی نہیں رہتا، تو یہ سب علامات ہیں کہ اللہ آپ کے لیے خیر کا ارادہ فرمائے ہوئے ہے۔ اگر آپ کی ابتلا کے دوران اللہ تعالی آپ کو یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ آپ اپنا وقت ایسے کاموں میں لگاتے ہیں جو آپ کے دین کے لیے مفید ہیں، جو آپ کی اپنے ربّ کے ساتھ قربت میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ بہت سے ایسے لوگ جو بظاہر مصائب و آلام سے آزاد و محفوظ نظر آتے ہیں ، وہ اپنی خواہشات کے غلام ہیں اور حرص و ہوس، شبہات اور سرابوں میں مبتلا ہیں، تو جان لیں کہ اللہ نے ان سب میں سے آپ کو چُنا ہے کہ آپ اس کے دین کی خدمت کریں، کیونکہ اس نے آپ کو خیر عطا فرمانے کا ارادہ کیا ہے۔ اگر آپ کی روح اللہ کی بنائی کائنات میں اڑتی پھِرتی ہے، اس کے عرش تلے سیر کرتی ہے، جبکہ آپ کا جسم بیماری کے سبب بستر تک محدود ہے یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقیّد ہے، تو یہ اللہ سبحانہ و تعالی ہی کے حکم و مہربانی سے ہے، کہ اس نے آپ کی روح کو یہ آزادی عطا فرمائی ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کے لیے خیر چاہتا ہے۔
لہٰذا سکینت، اطمینان، صبر ، اللہ کے لیے تشکر کے جذبات، اس کی نعمتوں کا اعتراف و ادراک،دل کا اللہ سے جڑے ہونا، اسی کی ذات سے سب خوف اور امید کا وابستہ ہونا، اس کی معیت میں سکون و اطمینان حاصل ہونا، اس کے دین کی خدمت میں خوشی و آرام محسوس کرنا…… یہ سب ایمان کی صفات ہیں، جو اللہ صرف انہی کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت فرماتا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ نے آپ کو یہ صفات عطا فرمائی ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے لیے خیر کا ارادہ رکھتا ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ نے آزمائش کے دور میں تو آپ کو صبر و قناعت کی دولت عطا فرمائی ہو، لیکن اس آزمائش کے نتیجے میں اس نے آپ کے لیے شر مقدر فرمایا ہو؟ نہیں! ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اس نے آپ کو اپنی قدر و مشیّت پر سکون، صبر اور اطمینان و قناعت عطا ہی اس لیے کی کہ وہ آپ کو اس کے نتیجے میں خیر عطا کرنے والا ہے۔ بھائیو اور بہنو! یہ اختیار آپ کا اپنا ہے: اگر آپ مصائب و ابتلا کے زمانے میں خود کو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے کاموں میں مصروف کرتے ہیں، اور آپ کے ہونٹ صرف اللہ کی حمد و ثنا، اس کی مشیّت پر اظہارِ رضامندی اور تشکر کے اظہار میں ہلتے ہیں، تو اللہ نے آپ کے لیے خیر مقدر فرمائی ہے۔ اور ایسی صورت میں آپ کو قلبی اطمینان و سکون اور اللہ تعالی کی ذات پر اطمینان حاصل ہو گا۔
لیکن اگر ،خدانخواستہ آپ اپنی قسمت سے نالاں ہیں، اللہ کی قدر کو الزام دیتے ہیں اور شکوہ کرتے ہیں، اپنے آپ کو غم اور اندیشوں، مستقبل کی فکروں اور پریشانیوں اور حکمتِ الٰہی پر شک و شبے میں مبتلا کرتے ہیں……ہم ان سب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں…… تو پھر آپ نے غلط راستے کا انتخاب کیا ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عمّال و خدّام میں سے جو بھی یہ جاننا چاہے کہ حکمران کی نظر میں وہ کیا مرتبہ رکھتا ہے، تو اسے دیکھنا چاہیے کہ حاکم نے اس کے سپرد کیا کام کیا ہےاور اس کو کس جگہ کام پر لگایا ہے۔‘‘
یہی مثال آپ پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ سوچیے کہ اللہ نے آپ کو کس کام پر لگایا ہے، وہ آپ کو کس محنت میں استعمال کر رہا ہےاور آپ جان لیں گے کہ اللہ کے نزدیک آپ کا مقام و مرتبہ کیا ہے اور یہ کہ آیا وہ آپ کو خیر عطا فرمانے کا ارادہ رکھتا ہے یا اس کے برعکس۔ اگر آپ خود کو ایسے کاموں میں مصروف دیکھیں جو اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں، تو توبہ کرنے میں، پلٹ آنے میں جلدی کیجیے۔اور جان لیں کہ اگر آپ کو توبہ کرنے کی توفیق مل جاتی ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ آپ کے لیے خیر کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس احساس کے ساتھ زندہ رہنا کس قدر خوشگوار ہے کہ اللہ آپ سے محبت کرتا ہے
جب آپ اللہ کی قدر پر راضی و مطمئن ہو جائیں گے تو آپ کو اللہ کی محبت محسوس ہونا شروع ہو جائے گی، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی ایمان کی دولت صرف انہی کو عطا کرتا ہےجن سے وہ محبت فرماتا ہے۔
تسلیم و رضا ایمان کا ثمرہ ہیں۔اگر آپ کو یہ حاصل ہو جاتے ہیں ، تو یہ اللہ کی آپ سے محبت کی علامت ہیں۔ اور اس کے بعد آپ دیکھیے کہ کس طرح اللہ کی مقدر فرمائی ہر چیز، ہر معاملہ آپ کو ایک مثبت روشنی میں نظرآنا شروع ہو جائے گا۔ اس لیے کہ دکھ سکھ، تلخ و شیریں، ہر شے جو آپ کی قسمت میں لکھی گئی ہے، اس کو لکھنے والا آپ کا محبوب ربّ ہے جو آپ سے محبت کرتا ہے۔ تو اگر اس کی مشیّت یہ ہے کہ آپ کسی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تو یہ بیماری اس ربّ کی مرضی سے آتی ہے جو ربّ آپ سے محبت کرتا ہے۔ اور اگر اس کا حکم یہ ہے کہ آپ کا کوئی قریبی عزیز داغِ مفارقت دے جاتا ہے، تو یہ حکم بھی اسی کی جانب سے ہے جو آپ کو محبوب رکھتا ہے۔ لیکن مومن کو خوفِ الٰہی اور رجائے الٰہی کے دو پروں پر اڑنا ہے، تو وہ اس بات کو کیسے یقینی بنا سکتا ہے کہ جن مصائب سے وہ گزر رہا ہے وہ اللہ کے غضب کی علامات نہیں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب بھی کوئی آزمائش آپ پر نازل ہوتی ہے، اس آزمائش میں آپ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں؟ آپ کاچناؤ ہی اس چیز کا فیصلہ کرتا ہے کہ یہ آزمائش اللہ کی جانب سے خیر موصول ہونے کی علامت ہے یا اس کا قہر و غضب بن کر نازل ہوئی ہے۔ اگر آپ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی جانب رجوع کرتے ہیں، اس کے مزید قریب ہو جاتے ہیں، اپنے دل میں اس کے فیصلے پر رضامندی و اطمینان محسوس کرتے ہیں، اور صبر کا اراستہ اپناتے ہیں، تو آپ اللہ کی محبت (جس کی علامات آپ پہلے دیکھ چکے ہیں) میں مزید اضافہ کرتے ہیں، اور اللہ کی اس محبت پر آپ کا یقین بھی بڑھ جاتا ہے۔اپنے وجود کے لیے اللہ کی محبت میں اضافہ کرنے کا شوق، اور اس کی محبت میں اپنے لیے سکون و اطمینان تلاش کرناآپ کے لیے صبر کرنا سہل بنا دیتا ہے، اور اللہ کی رضا میں راضی رہنا آسان کر دیتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی آزمائش کا سامنا غیض و غضب اور غم و غصّے سے کرتے ہیں، تو آپ کو اللہ کے غضب و ناراضگی کا سامنا ہو گا! اس لیے اللہ کی مشیّت پر ناراضگی اور بے اطمینانی محسوس کرنے سے بچنے کے لیے اپنے اس خوف کو اپنی ڈھال بنا لیجیے کہ کہیں آپ اللہ کی محبت کھو نہ دیں، کہ اس محبت کو کھونے کے نتیجے میں غم و الم کے سوا کچھ حاصل نہیں۔
خلاصۂ کلام: آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے صبر اختیار کیجیے، اپنے ربّ سے ، اس کی حکمت اور رحمت سےاچھا گمان رکھیں، اگر آپ یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو خیر عطا کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔
مشروط عاشق نہ بنیں!
ایک مسلمان مشروط عاشق کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یقیناً یہ پہلی دفعہ ہے کہ آپ یہ اصطلاح سن رہے ہیں۔مشروط عاشق یا مشروط محبّ (محبت کرنے والا) سے مراد مسلمانوں کا وہ گروہ ہے جو کہتا ہے: ’تمام تعریفیں اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے ہیں، وہ جس نے ہمیں زندگی عطا فرمائی، جس نے ہم پر کچھ احکام نازل فرمائے، اور ہمیں حرام امور سے منع فرمایا، اور یہ اسی پر منحصر ہے کہ ہم خوشحال ہوں یا بدحال۔ اس کے باوجود ہم پر اس کے عائد کردہ بعض احکام بھاری ہیں، اور ہمیں ان حرام چیزوں میں سے بعض کی طلب یا ضرورت محسوس ہوتی ہے جن سے اس نے ہمیں روکا ہے۔ اس لیے ہم اللہ کے ساتھ ایک نپا تلا رویّہ اپنائیں گے۔ ہم بس اتنے ہی فرائض پورے کریں گے کہ جن کے سبب کم سے کم زحمت اٹھاتے ہوئےہم پر اللہ کا انعام و اکرام جاری رہے ۔ اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم حرام امور میں سے بھی بعض اختیار کر یں گے، لیکن اتنے نہیں کہ جن کے سبب ہم اللہ کے غیض وغضب کو دعوت دیں یا اللہ کی جو نعمتیں ہمیں حاصل ہیں، ان سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہو ‘۔
کیا یہ مشروط عاشق جو اللہ کے لیے کم سے کم زحمت اٹھانے کی کوشش میں رہتے ہیں، ایک بندےکا اپنے آقا کے ساتھ تعلق صحیح سے سمجھتے بھی ہیں؟
کیا یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق ہم اپنے جذبات و احساسات اور خود اپنے آپ کو اللہ کے سامنے تسلیم کرتے ہیں، جو تمام جہانوں کا مالک ہے؟
کیا آپ اس رویّے کو پہچانتے ہیں؟
بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ اس رویّے کا اظہار اکثر مسلمانوں سے ہوتا ہے۔ وہ یہ سب یوں صراحت سے نہیں کہتے، لیکن ان کے افعال ان کی زبانوں سے بڑھ کر اس رویّے کا اظہار کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آئندہ سطور پڑھ کر آپ کو لگے کہ آپ بھی اسی گروہ کا حصّہ ہیں!
ہماری شخصیتوں میں بعض صفات ایسی ہوتی ہیں جن کا خطرہ تب ہی ظاہر ہوتا ہے جب ہم مکمل حقیقت پسندی اور کسی بھی قسم کی لاگ لپٹ کے بغیر ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان صفات کو اپنے اندر موجود پا کر ہم حیران بھی ہوتے ہیں، ہمیں صدمے ہوتے ہیں اور ہم ان سے برأت کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ وہ ہمارے اندر مختلف درجوں میں موجود ہوتی ہیں۔ تو آئیے، مشروط عاشقوں کی شخصیت اور رویّوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ کہیں ہم بھی اسی بیماری میں مبتلا تو نہیں، اور اگر ایسا ہے، تو کس حد تک یہ بیماری ہمیں جکڑے ہوئے ہے۔
ایک مشروط عاشق اللہ تعالی سے اپنے تعلق میں ذہانت و چالاکی استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور ایک تجرباتی رویّہ اپناتا ہے۔ وہ اس نقطے کی تلاش میں رہتا ہے جس پر پہنچ کر پیمانۂ الٰہی لبریز ہو جائے ، اور جس سے پہلے پہلے وہ اپنی حرام خواہشات کی تسکین کرتا رہے……ہاں مگر ، اللہ کی نعمتوں سے محروم ہوئے بغیر۔اگر وہ اپنے دفتر میں کسی گناہ کا اضافہ کرتے ہیں، تو اس کے بعد وہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ اگر اللہ کی نعمتیں برقرار رہیں اور اللہ کی جانب سے کوئی سزا انہیں نہ ملے تو وہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس گناہ کے بوجود ہم اس آخری حد تک نہیں پہنچے، کہ جس کے بعد اللہ کا قہر نازل ہوتا ہے۔ یوں وہ اس گناہ کو ایک کامیابی تصور کرتے ہیں کہ ایک اور خواہش کی تکمیل ہو گئی اللہ کو ناراض کیے اور اس کی نعمتوں کو کھوئے بغیر! لیکن اگر اس گناہ کا نتیجہ نعمتوں میں کسی کمی یا کسی سزا کی صورت میں نکلتا ہے تو وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہم نے توازن خراب کر دیا، اور وہ جلدی سے اس گناہ سے رک جاتے ہیں اور ایمرجنسی کی حالت نافذ کر دیتے ہیں: دعائیں، فریادیں، آنسو اور معافی تلافی کرتے ہیں، نیک اعمال اور اطاعت کے کام وغیرہ شروع کر دیتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ وہ اللہ کی جانب سے نعمتوں کی بحالی اور سزا کا موقوف کیا جانا چاہتے ہیں۔
وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (یونس: ۱۲)
’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انھیں اپنے کرتوت اسی طرح خوشنما معلوم ہوتے ہیں۔‘‘
سو وہ اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے، ہر حالت میں دعائیں مانگتے ہیں۔ ایک ایسے شخص کی دعا جو ان نعمتوں کی بحالی چاہتا ہے جن سے وہ محروم کیا گیا ہے۔
وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ ۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ(الفصلت: ۵۱)
’’اور جب ہم انسان پر کوئی انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا اور پہلو بدل کر دور چلا جاتا ہے، اور جب اسے کوئی برائی چھو جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ ‘‘
وہ دل سوزی سے اللہ کے سامنے فریاد کرتے ہیں، ایسے شخص کی فریاد جو اپنی نعمتیں دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور اس سے بڑھ کر بری بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مشروط عاشق اللہ کے ساتھ توازن کے اس کھیل کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کے دل میں یہ یقین پیدا ہونے لگتا ہے کہ اللہ نے جو نعمتیں انہیں عطا کر رکھی ہیں، وہ دراصل انہی کا حق ہے، جو انہیں ملنا چاہیے۔
وَلَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّـتْهُ لَيَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِيْ ۙ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً ۙ وَّلَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْٓ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَــلْحُسْنٰى ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا ۡ وَلَــنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ(الفصلت: ۵۰)
’’اور جو تکلیف اسے پہنچتی تھی اگر اس کے بعد ہم اسے اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ چکھا دیں تو وہ لازم یہ کہے گا کہ : یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے، اور اگر مجھے اپنے رب کے پاس واپس بھیجا بھی گیا تو مجھے یقین ہے کہ اس کے پاس بھی مجھے خوش حالی ہی ضرور ملے گی۔ اب ہم ان کافروں کو یہ ضرور جتلائیں گے کہ انھوں نے کیا عمل کیے ہیں اور انھیں ایک سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔‘‘
یعنی میں اس رحمت کا مستحق ہوں۔ میں ان نعمتوں کا حقدار ہوں۔
یہ شخص اللہ سے اس وقت تک محبت کرتا ہے جب تک کہ وہ اپنے توازن کے اس کھیل کے ذریعے اللہ کی نعمتیں اپنے اوپر قائم رکھ سکے اور اس کی سزا سے خود کو بچائے رکھے۔ لہٰذا اللہ کے لیے اس کی محبت ، اللہ کی نعمتوں کے حصول سے مشروط ہے… اور ان نعمتوں میں سے بھی خصوصاً دنیاوی نعمتیں… کیونکہ وہ لوگ جو اللہ سے مشروط محبت کرتے ہیں وہ آخرت کو شاذ ہی یاد کرتے ہیں۔اب آئیے تصور کرتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے جب یہ مشروط عاشق کسی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اللہ اس کی کسی ایسی چیز سے آزمائش کرتا ہے جس سے وہ نفرت کرتا ہے۔ لیکن اس دفعہ اگرچہ وہ عجلت میں اللہ کو راضی کرنے والے کاموں کا آغاذ کردیتا ہے (یعنی توبہ و استغفار، دعائیں اور اطاعت) اس کے باوجود اللہ تعالی آزمائش کی شدّت میں اضافہ فرما دیتے ہیں اور آذمائش جاری رہتی ہے۔تو یہ مشروط عاشق سوچنے لگتا ہے:’میں نے اپنے حصّے کا کام کر دیا، تو پھر اللہ کیوں اپنے حصّے کا کام نہیں کر رہا؟‘۔ توازن کا جو تصور اس کے دماغ میں راسخ ہو چکا ہے، اس کے سبب یہ شخص سمجھتا ہے کہ جب وہ گناہ سے رک گیا، اور خود کو اللہ کی اطاعت میں مصروف کر لیا، تو اب یہ ا س کا حق ہے کہ اس کے اوپر سے آزمائش و ابتلا ہٹا لی جائے۔لیکن جب یہ توقع پوری نہیں ہوتی، تو اللہ کے لیے اس کی شروط محبت کی قلعی کھل جاتی ہے، اور یہ محبت غائب ہونے لگتی ہے۔ اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس محبت کی بنیاد ہی انتہائی کھوکھلی تھی، اور آقا و بندے کے مابین جو تعلق ہوتا ہے، اس کے غلط فہم پر مبنی تھی۔
تو اللہ عز و جل کی محبت اپنے دلوں میں کس بنیاد پر قائم کی جاتی ہے؟ایسی محبت جو ہماری زندگی کے کسی موڑ، کسی مشکل مرحلے پر بکھر کر تحلیل نہیں ہو جاتی؟ان شاء اللہ ، اس سوال کا جواب ہم آئندہ گفتگو میں تلاش کریں گے۔
خلاصۂ کلام: اپنے اندر جھانکیے اور اپنا تجزیہ کیجیے، کہ کہیں آپ کوئی مشروط عاشق تو نہیں جس کی اللہ کے لیے محبت مشروط اور کھوکھلی ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
