وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ (سورۃ محمد: ۳۱)
’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کر لیں۔‘‘
سورہ محمد ایک عظیم سورت ہے، جس کا نام نبی کریم ﷺ کے نامِ نامی پر رکھا گیا ہے۔ یہ محض آپ ﷺ کی پہچان کے لیے نہیں ہے، کیونکہ امت تو اپنے نبی کو جانتی ہے اور ان کی تعظیم کرتی ہے، بلکہ اس لیے تاکہ آپ ﷺ کا اسمِ شریف اس سورت کے سیاق و سباق میں حاضر رہے جو اس عظیم ترین معرکے کی بات کرتی ہے جس کا سامنا ایک مومن اپنی زندگی میں کرتا ہے۔ یعنی حق پر ثابت قدمی اور اس سے منہ نہ موڑنے کا معرکہ۔ یہ سورت کشمکش کے دور میں ایمان کا راستہ متعین کرتی ہے، اور لوگوں کے ان رویوں کو بے نقاب کرتی ہے جب انہیں سچائی اور نفاق، اور ثابت قدمی و پسپائی کے درمیان آزمایا جاتا ہے۔
سورت کے عنوان کے طور پر ’’محمد ﷺ‘‘ کے نام کا انتخاب گہری معنویت رکھتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ ہی وہ قائد ہیں جن کی زندگی میں یہ تمام معانی مجسم ہو کر سامنے آئے۔ اذیتوں کے مقابلے میں صبر، جب لوگ کمزور پڑ جائیں تو ثابت قدمی، اور جب مفادات اور دباؤ آپس میں گتھم گتھا ہوں تو سچائی، اور کلمہ حق کی سربلندی کے لیے جہاد و قتال! گویا یہ سورت مومنین سے کہہ رہی ہے کہ جس راستے کی طرف تمہیں بلایا جا رہا ہے، یہ وہی راستہ ہے جس پر محمد ﷺ چلے، پس جو ثابت قدمی چاہتا ہے وہ آپ ﷺ کی پیروی کرے۔
سورہ محمد کا اپنے دوسرے نام ’’سورہ قتال‘‘ کے ساتھ یکجا ہونا محض اتفاقی نہیں ہے، بلکہ یہ قرآن کے خوبصورت باہمی ربط کا حصہ ہے۔ اس سورت میں نبی ﷺ کے نام کا ذکر اس کے تمام معانی کو آپ ﷺ کی شخصیت اور منہج سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ سچائی، صفوں کی تمیز، اور اس جہاد کی بات کرتی ہے جو ایمان کی حقیقت کو ظاہر کر دیتا ہے۔ گویا سورت یہ کہہ رہی ہے کہ جس راستے پر محمد ﷺ چلے، وہی حقیقی ایمان، ثابت قدمی، قربانی اور نصرتِ حق کا راستہ ہے۔
نبی ﷺ کی ذات میں کمالِ رحمت اور کمالِ قوت یکجا تھی، صحابہ کرام آپ ﷺ کو ’’الضحوک القتال‘‘ (مسکرانے والے اور قتال کرنے والے) کے طور پر بیان کرتے تھے۔ آپ ﷺ مجلسوں کو خوش مزاجی، رحمت اور لطافت سے بھر دیتے، لیکن جب اللہ کی حدود پامال ہوتیں یا باطل سے سامنا ہوتا، تو آپ ﷺ میدانِ جنگ میں سب سے زیادہ بہادر اور ثابت قدم ہوتے۔ یوں سورت کے دونوں ناموں میں اس کا گہرا مفہوم مجسم ہوتا ہے۔ ایک ایسی رحمت جو دلوں کی رہنمائی کرتی ہے، اور ایسی قوت جو حق کی حفاظت کرتی ہے، اور یہی وہ منہج ہے جس پر نبی ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کی۔
جب ہم سورہ محمد کی آیات پر غور و فکر (تدبر) کرتے ہیں، تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ یہ ان منافقین کی حقیقت کو فاش کرتی ہے جن پر نبی ﷺ کی پیروی گراں گزرتی ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح قرآن میں تدبر کا فقدان ارتداد (پھیر لیے جانے) کی طرف لے جاتا ہے، اور بظاہر اطاعت کس طرح حق کے دشمنوں کے ساتھ خفیہ ساز باز میں بدل جاتی ہے۔
یہیں سے یہ حکمت آشکار ہوتی ہے کہ معاملہ محض حق کی پہچان کا نہیں بلکہ محمد ﷺ کے مشن کے ساتھ وفاداری اور فتنوں اور شدید دباؤ کے وقت اس پر ثابت قدم رہنے کا ہے۔
جب بھی یہ سورت تلاوت کی جاتی ہے، نبی ﷺ کا نام دوبارہ مومنین کو یاد دلاتا ہے کہ ایمان کا راستہ سچی پیروی، اللہ کی راہ میں جہاد اور اس منہج پر ثبات ہے جو اللہ کے نبی ﷺ لے کر آئے۔ یوں دل وحی کے نور اور اس راستے سے جڑ جاتا ہے جو محمد ﷺ نے اپنی امت کے لیے کھینچا ہے۔
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا (سورۃ محمد: ۲۴)
’’بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، یا دلوں پر وہ تالے پڑے ہوئے ہیں جو دلوں پر پڑا کرتے ہیں ؟ ‘‘
سورہ محمد کی یہ آیت ایک ایسا سوال کرتی ہے جو دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے:
’’بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے، یا دلوں پر وہ تالے پڑے ہوئے ہیں جو دلوں پر پڑا کرتے ہیں ؟ ‘‘
یہ متن کی لسانی سمجھ یا محض تلاوت کے بارے میں سوال نہیں ہے، بلکہ ’’تدبر‘‘ کے بارے میں ہے، یعنی معانی پر رکنا، انجام پر غور کرنا، اور آیات کو نفس اور زندگی کی حقیقت سے جوڑنا۔ گویا قرآن ایک حقیقت آشکار کر رہا ہے کہ ہدایت کا راستہ مبہم نہیں ہے اور حق چھپا ہوا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ان دلوں میں ہے جو نور کے لیے اپنے دروازے نہیں کھولتے۔
پس تدبر محض ایک ذہنی عمل نہیں بلکہ وحی کے لیے دل کا کھل جانا ہے۔ جب بندہ قرآن میں تدبر کرتا ہے، تو وہ اس میں خیر و شر کی وضاحت، نجات اور ہلاکت کا راستہ پاتا ہے، اور اپنے رب کو اس کے اسماء، صفات اور احسانات کے ذریعے پہچانتا ہے، جس سے اس کا دل ایمان اور یقین سے بھر جاتا ہے۔ لیکن جب دلوں پر تالے پڑ جاتے ہیں، تو قرآن ایک بند آنکھ کے سامنے موجود نور کی طرح ہو جاتا ہے، نور موجود تو ہوتا ہے لیکن آنکھ اسے قبول نہیں کرتی۔
اسی لیے قرآنی تعبیر بہت بلیغ ہے: ’’أم على قلوب أقفالها‘‘، گویا دل وہ دروازے ہیں جو مضبوطی سے بند کر دیے گئے ہوں، جن میں نہ کوئی خیر داخل ہو سکتی ہے اور نہ ان سے کوئی سچائی نکل سکتی ہے۔ یہ تالے کوئی بیرونی چیز نہیں ہیں، بلکہ یہ خواہشاتِ نفس، گناہوں اور حق سے بار بار منہ موڑنے کا نتیجہ ہیں، یہاں تک کہ انسان اس مرحلے پر پہنچ جاتا ہے جہاں نہ نصیحت اس پر اثر کرتی ہے اور نہ آیات اسے حرکت دیتی ہیں۔
پھر اگلی آیت اس بندش کا نتیجہ ظاہر کرتی ہے یعنی حق کی معرفت کے بعد پھر جانا۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ (سورۃ محمد: ۲۵)
’’ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ حق بات سے پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہیں، باوجودیکہ ہدایت ان کے سامنے خوب واضح ہو چکی تھی، انہیں شیطان نے پٹی پڑھائی ہے اور انھیں دور دراز کی امیدیں دلائی ہیں۔ ‘‘
یہاں مسئلہ جہالت کا نہیں بلکہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد اسے مسترد کرنے کا ہے۔ یہ دل کو لگنے والی سب سے خطرناک بیماری ہے کہ انسان ہدایت کو دیکھے اور پھر اس سے پیٹھ پھیر لے۔ یہاں شیطان مداخلت کرتا ہے تاکہ گمراہی کے سفر کو مکمل کرے، وہ باطل کو مزین کرتا ہے اور اسے ایک معقول انتخاب بنا کر پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’الشيطان سوّل لهم وأملى لهم‘‘ یعنی اس نے ان کے لیے گناہ کو خوش نما بنا دیا اور انہیں لمبی امیدیں دیں، یہاں تک کہ وہ یہ گمان کرنے لگے کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں اس کا کوئی برا انجام نہیں ہو گا۔
لیکن قرآن اس قدم کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو اس زوال کی طرف لے جاتا ہے، یہ اچانک نہیں آتا بلکہ حق کے ساتھ وفاداری میں ایک چھوٹی سی رعایت (کمپرو مائز) سے شروع ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ (سورۃ محمد : ۲۶)
’’یہ سب اس لیے ہوا کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی باتوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان (منافقوں) نے ان سے یہ کہا ہے کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے۔ اور اللہ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔‘‘
یہ بظاہر ایک محدود سی بات لگتی ہے، ’’بعض معاملات میں‘‘۔ لیکن حقیقت میں یہ انحراف کا دروازہ کھولنا ہے۔ جب انسان راستے کے کسی ایک حصے میں باطل کی اطاعت قبول کر لیتا ہے، تو وہ آہستہ آہستہ حق کے ساتھ اپنا تعلق کمزور کر لیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے بالکل جدا ہو جاتا ہے۔
یہاں دلوں کے بارے میں اللہ کی ایک خطرناک سنت (قانون) ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ حق سے پسپائی اپنی ابتدائی حدود پر نہیں رکتی۔ جو حق کے ایک حصے پر سودے بازی کرتا ہے، وہ پورا حق کھو سکتا ہے۔ کیونکہ دل جب سودے بازی کا عادی ہو جائے تو وہ اپنا قبلہ کھو دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ’’والله يعلم إسرارهم‘‘، شاید انہوں نے سوچا ہو کہ یہ خفیہ سمجھوتے کبھی بے نقاب نہیں ہوں گے، لیکن اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے اور جب چاہتا ہے انہیں ظاہر کر دیتا ہے۔
پھر آیات اچانک آخری منظر کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں، جب وہ حقیقت سامنے آتی ہے جسے انہوں نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی تھی:
فَكَيْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ (سورۃ محمد: ۲۷)
’’پھر اس وقت ان کا کیا حال بنے گا جب فرشتے ان کی روح اس طرح قبض کریں گے کہ ان کے چہروں پر اور پیٹھوں پر مارتے جاتے ہوں گے ؟‘‘
یہ موت کے لمحے کی ایک ہیبت ناک تصویر کشی ہے جب انسان اپنے انتخاب کے نتائج کا سامنا کرتا ہے۔ جس نے اپنی زندگی میں حق سے اعراض کیا اور اس سے پیٹھ پھیری، اسے موت کے وقت چہروں اور پیٹھوں پر مار ماری جاتی ہے، گویا بدلہ عمل کی جنس سے ہے، کیونکہ یہ وہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے حق سے پیٹھ پھیری تھی۔
پھر وہ خلاصہ آتا ہے جو تمام مسائل کی جڑ کو بے نقاب کرتا ہے:
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَـــطَ اللّٰهَ وَكَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَــطَ اَعْمَالَهُمْ (سورۃ محمد: ۲۸)
’’یہ سب اس لیے کہ یہ اس طریقے پر چلے جس نے اللہ کو ناراض کیا، اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کو خود انہوں نے ناپسند کیا، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔‘‘
پس معاملہ محض اجتہادی غلطی کا نہیں بلکہ سمت کے انتخاب کا ہے۔ ان لوگوں نے اللہ کی رضا کے راستے کو پسند نہیں کیا اور نہ ہی اس کے قرب کی کوئی تڑپ رکھی، بلکہ ان چیزوں کی پیروی کی جو اس کی ناراضگی کا باعث بنتی ہیں۔ اسی لیے نتیجہ یہ نکلا: ’’فأحبط أعمالهم‘‘ (پس اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے)۔
اعمال کا ضائع ہونا سب سے بڑے نقصانات میں سے ہے۔کیونکہ انسان بہت سے کام کر سکتا ہے، لیکن جب دل کی بنیادی سمت بگڑ جائے تو وہ تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ اللہ کے ترازو میں اعمال محض ظاہری افعال نہیں ہیں، بلکہ وہ دل کی سچائی اور رخ سے جڑے ہوتے ہیں۔
یوں یہ آیات انحراف کے سفر کو قدم بہ قدم واضح کرتی ہیں۔ بات قرآن کے تدبر سے دل کو بند کرنے سے شروع ہوتی ہے، پھر باطل کے ساتھ سودے بازی میں بدلتی ہے، پھر ان چیزوں کی پیروی تک جا پہنچتی ہے جو اللہ کو ناراض کرتی ہیں، یہاں تک کہ آخر کار اعمال کی بربادی اور کھلے نقصان پر ختم ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، ایک مومن ان آیات سے یہ سمجھتا ہے کہ نجات دل کو قرآن کے لیے کھولنے سے شروع ہوتی ہے۔ جس نے سچائی کے ساتھ اس میں تدبر کیا، اس نے اللہ کا راستہ پہچان لیا، اس پر ثابت قدم رہا، اور ان خفیہ ڈھلوانوں سے بچ گیا جو شروع تو چھوٹی ہوتی ہیں لیکن ان کا انجام عظیم خسارہ ہوتا ہے۔ پس تدبر محض ایک قلبی عبادت نہیں بلکہ وہ حفاظتی والو (Safety Valve) ہے جو ایمان کی حفاظت کرتا ہے اور دل کو انحراف سے روکتا ہے۔ اور کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنا ہی اس تائید اور معیت کا راستہ ہے جو اللہ کے حکم سے انحراف کو روکتی ہے۔
یہاں مجھے ابن القیم کا ایک خوبصورت قول یاد آتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:
’’جب بندہ کتاب (قرآن) پر ایمان لاتا ہے، مجموعی طور پر اس سے ہدایت پاتا ہے، اس کے احکامات کو قبول کرتا ہے اور اس کی خبروں کی تصدیق کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے ایک اور ہدایت کا سبب بن جاتا ہے جو اسے تفصیل کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ ہدایت کی کوئی انتہا نہیں ہے، بندہ اس میں جس مقام پر بھی پہنچ جائے، اس کی ہدایت کے اوپر ایک اور ہدایت ہے، اور اس کے اوپر ایک اور ہدایت، جس کی کوئی حد نہیں۔ پس بندہ جتنا اپنے رب سے ڈرتا ہے (تقویٰ اختیار کرتا ہے)، وہ ایک اور ہدایت کی طرف بلند ہوتا ہے، چنانچہ جب تک وہ تقویٰ میں بڑھتا رہتا ہے، وہ مزید ہدایت پاتا رہتا ہے، اور جب بھی وہ تقویٰ کا کوئی حصہ گنوا دیتا ہے، تو اس کے بقدر ہدایت کا حصہ بھی اس سے چھٹ جاتا ہے۔ پس جتنا وہ تقویٰ اختیار کرے گا، اس کی ہدایت بڑھے گی، اور جتنا وہ ہدایت پائے گا، اس کا تقویٰ بڑھے گا۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (سورۃ المآئدۃ: ۱۵، ۱۶)
’ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ) پیغمبر آ گئے ہیں جو کتاب (یعنی توراۃ اور انجیل) کی بہت سی ان باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے ہو، اور بہت سی باتوں سے درگزر کر جاتے ہیں، تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے اور ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کر دینے والی ہے۔ جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں اور انہیں اپنے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے‘۔‘‘
اور آغاز کتاب اللہ کی تلاوت، اس کی آیات میں تدبر اور اللہ عزوجل کے حکم پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے لبیک کہنے سے ہوتا ہے۔
پھر یہ آیات دلوں میں جو کچھ گزرتا ہے اس کا ایک درست نقشہ کھینچتی رہتی ہیں، گویا قرآن محض ظاہری اعمال کو ظاہر کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ان گہرائیوں میں اتر جاتا ہے جہاں نیتیں اور محرکات تشکیل پاتے ہیں۔
چنانچہ اللہ نے جب ان لوگوں کی حقیقت فاش کر دی جنہوں نے تدبر سے اعراض کیا اور یہ واضح کر دیا کہ شیطان کس طرح انہیں قدم بہ قدم ارتداد کی طرف لے گیا، تو قرآن نفوس کے چھپے ہوئے بھیدوں پر ایک اور کھڑکی کھولتا ہے اور فرماتا ہے:
اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ (سورۃ محمد: ۲۹)
’’جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے چھپے ہوئے کینوں کو اللہ کبھی ظاہر نہیں کرے گا ؟‘‘
یہ ایک ایسا سوال ہے جو اپنے اندر ایک سنگین تنبیہ رکھتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے، یہ گمان کر رکھا ہے کہ جو کچھ وہ چھپا رہے ہیں وہ ہمیشہ مستور رہے گا؟ کیا انہوں نے یہ وہم پال رکھا ہے کہ وہ کینے اور پوشیدہ دشمنیاں جو وہ اللہ کے دین کے لیے سینوں میں دبائے بیٹھے ہیں، وہ وہیں قید رہیں گی؟
دل کی بیماری اکثر چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے۔کوئی شبہ جسے بغیر کسی مزاحمت کے قبول کر لیا جائے، یا کوئی خواہش جس کی توبہ کے بغیر پیروی کی جائے، یا کوئی حسد جو خوبصورت الفاظ کے پیچھے چھپا ہو۔ یا کوئی تکبر جو بغیر کسی خوف کے ضد پر اڑا رہے۔ لیکن اگر اس بیماری کا علاج توبہ اور تدبر سے نہ کیا جائے، تو یہ آہستہ آہستہ ایک گہرے کینے اور حق کے خلاف پوشیدہ دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ یہاں الہٰی انتباہ آتی ہے: اللہ ان کینوں کو ہمیشہ دفن نہیں رہنے دیتا، بلکہ وہ انہیں نکال باہر لائے گا اور اس وقت ظاہر کر دے گا جب وہ چاہے گا۔
اسی لیے سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَوْ نَشَاۗءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيْمٰهُمْ ۭ (سورۃ محمد : ۳۰)
’’ اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں یہ لوگ اس طرح دکھا دیں کہ تم ان کی علامت سے انہیں پہچان جاؤ۔‘‘
یعنی اللہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے چہروں پر نفاق کی علامتیں ایسی واضح کر دے جیسے جانوروں پر داغ لگا کر علامت بنا دی جاتی ہے، لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ معاملات آزمائش کے دائرے میں رہیں،تاکہ سچا اور جھوٹا دعویدار اپنے ارادے اور انتخاب سے الگ الگ ہو جائیں۔
تاہم، نفاق کو چھپانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے پہچاننا ناممکن ہے، کیونکہ اللہ فرماتا ہے:
وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ ۭ (سورۃ محمد: ۳۰)
’’اور (اب بھی) تم انہیں بات کرنے کے ڈھپ سے ضرور پہچان ہی جاؤ گے۔‘‘
زبانیں دلوں کے آئینے ہوتی ہیں۔ انسان اپنی باتوں کو کتنا ہی کیوں نہ سنوار لے، اس کی زبان سے نکلنے والے غیر ارادی الفاظ (فلتات اللسان) وہ سب ظاہر کر دیتے ہیں جو اس کے سینے میں ہوتا ہے۔ کوئی راہ چلتی بات، کوئی تمسخرانہ لہجہ، یا کوئی ایسا تاثر جس میں حق کے لیے حقارت ہو، یہ سب وہ کچھ ظاہر کر دیتا ہے جسے بیمار دل چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی لیے بعض اہل علم نے کہا ہے کہ کسی نے کوئی راز نہیں چھپایا مگر اللہ نے اسے اس کے چہرے کے تاثرات اور زبان کی لغزشوں پر ظاہر کر دیا۔
پھر سیاق و سباق ایمان کے راستے کی ایک بڑی حقیقت کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ دلوں کی حقیقت دعوؤں سے نہیں، بلکہ امتحانوں سے جانی جاتی ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ (سورۃ محمد: ۳۱)
’’اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کر لیں۔‘‘
دعویٰ تو آسان ہے، لیکن آزمائش کے وقت ثابت قدمی ہی وہ چیز ہے جو ایمان کے جوہر کو ظاہر کرتی ہے۔
اللہ ہر چیز کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی جانتا ہے، لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے تاکہ ایمان حقیقت میں ظاہر ہو جائے، اور عقیدہ محض ایک بات سے بدل کر قربانی، صبر اور جہاد کی شکل اختیار کر لے۔
اور جہاد یہاں صرف قتال ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ہر وہ مقام ہے جہاں ایک مومن کو حق پر جمے رہنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ چاہے وہ قیمت اس کے آرام کی صورت میں ہو، اس کے مال، اس کے مقام و مرتبے، یا یہاں تک کہ اس کی اپنی جان کی صورت میں۔
اور اس مقام پر خوف اور لرزہ پیدا کرنے والے معانی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خود جہاد بھی امتحان کا اختتام نہیں ہے، بلکہ یہ امتحان کا ایک اور میدان ہے جس میں اللہ دلوں کی سچائی ظاہر کرتا ہے۔
پس ہر وہ شخص جو ہتھیار اٹھائے ہوئے ہے ضروری نہیں کہ وہ سچا مجاہد ہو، اور ہر وہ شخص جو میدانِ قتال میں داخل ہوا ضروری نہیں کہ اس کا دل اللہ کے لیے مخلص ہو۔ اللہ مجاہدین کو بھی اسی طرح آزماتا ہے جیسے دوسروں کو، تاکہ وہ ظاہر ہو جائے جو اس کی رضا کے لیے لڑتا ہے، اور وہ بھی جو اپنی خواہش، عصبیت یا نام و نمود کے لیے لڑتا ہے۔
اسی لیے فرمایا: ’’وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ‘‘ یعنی ہم ان باتوں کو ظاہر کر دیں گے جو سینوں میں چھپی ہوئی ہیں، چنانچہ سختی کے لمحات میں باطن کے بھید اسی طرح کھل جاتے ہیں جیسے امتحان کی آگ میں دھاتوں کی حقیقت کھلتی ہے۔
پس جہاد اپنی حقیقت میں محض دشمن کا مقابلہ نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے یہ نفس، نیت اور صبر کا امتحان ہے۔ پس جس نے اپنے نفس اور خواہش سے جہاد کیا اور اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہا، چاہے لوگ ناراض ہوں، وہی سچوں میں سے ہے، اور جو پیچھے ہٹ گیا یا غیر اللہ کے لیے لڑا اس کا معاملہ تھوڑی دیر بعد ظاہر ہو کر رہے گا چاہے اس نے کتنے ہی پرکشش نعرے کیوں نہ لگا رکھے ہوں۔
اسی لیے اکیلا اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی راہ میں حقیقی جہاد کون کر رہا ہے۔ محض ہتھیار اٹھانے یا لڑائی میں کودنے کی بنیاد پر ہر مجاہد کی پاکیزگی (تزکیہ) بیان کرنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ ہی نیتوں اور مقاصد کو بہتر جانتا ہے!
ہم اللہ کے سامنے کسی کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتے اور اللہ سے ہر سچے کے لیے ثابت قدمی مانگتے ہیں۔ اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ایسے جہاد سے جس میں خواہشِ نفس اخلاص پر غالب آ جائے، اور جس میں خون کا نذرانہ دنیاوی مفادات کے لیے سستا کر دیا جائے!
یوں بندوں میں اللہ کی سنت پوری ہوتی ہے کہ ایمان دعوؤں سے ثابت نہیں ہوتا، بلکہ تب پہچانا جاتا ہے جب دلوں کو بلاء اور جہاد کے میدان میں ڈالا جاتا ہے۔
انہی لمحات میں اس دل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے جو یقین سے بھرا ہوا ہو، اور اس دل کے درمیان جو تردد سے بھرا ہو۔ مومن آزمائش کو درجات کی بلندی کا راستہ دیکھتا ہے، جبکہ منافق اسے ایک بوجھ سمجھتا ہے جس سے وہ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے اس کا بے نقاب ہونا یا ظالموں والے انجام تک پہنچنا ناگزیر ہے! ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں باطن کی برائی اور برے خاتمے سے!
پھر یہ آیات اس حصے کا اختتام ان لوگوں کے لیے سخت وعید پر کرتی ہیں جنہوں نے کفر، لوگوں کو حق سے روکنے اور رسول ﷺ کی مخالفت کو یکجا کر دیا:
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَشَاۗقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَـبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى ۙ لَنْ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَـيْــــًٔا ۭ وَسَيُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ (سورۃ محمد: ۳۲)
’’ یقین رکھو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے، اور پیغمبر سے دشمنی ٹھانی ہے باوجودیکہ ان کے سامنے ہدایت واضح ہو کر آ گئی تھی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور عنقریب اللہ ان کا سارا کیا دھرا غارت کر دے گا۔‘‘
ان لوگوں نے صرف اپنے لیے گمراہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہ ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف خود گمراہی اختیار کی بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
اور یہ کتنی قبیح بات ہے کہ انسان نبی ﷺ کی ہدایت کو پہچان لے اور پھر آپ ﷺ کی مخالفت اور آپ ﷺ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دے، چاہے اس کے ذرائع اور جواز کچھ بھی ہوں!
لیکن قرآن ایک بڑی حقیقت طے کرتا ہے کہ ان کی حق سے دشمنی اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کر سکتی، اور نہ ہی اس دین کے سفر کو روک سکتی ہے۔ اللہ اپنے تمام بندوں سے غنی ہے، اصل خسارے میں وہی ہے جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہو۔
اسی لیے سزا ان کے عمل کے عین مطابق تھی: ’’وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ‘‘ یعنی ہر وہ چیز جسے وہ کارنامہ سمجھ بیٹھے تھے، وہ خلا (صفر) پر ختم ہو گی۔ باطل کی نصرت میں انہوں نے جو بھی کوشش کی، اس کا پھل سوائے ناکامی کے کچھ نہ ہو گا۔ یہاں تک کہ وہ اعمال جن پر وہ ثواب کی امید رکھتے تھے، قبول نہیں کیے جائیں گے، کیونکہ ان کی بنیاد، یعنی سچا ایمان، ہی مفقود ہے۔
یہیں سے وہ جامع وصیت آتی ہے جو سورت میں ان معانی کے بعد ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو مضبوطی سے تھامنا، اور ہر اس چیز سے بچنا جو عمل کو باطل یا فاسد کر دے۔
مومن صرف عمل کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسے اس کے ضائع ہونے کا بھی ڈر رہتا ہے۔ وہ ریاکاری سے، خود پسندی سے اور ان گناہوں سے ڈرتا ہے جو اجر کو برباد کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سب سے بڑا نقصان عمل کی کمی نہیں بلکہ عمل کرنے کے بعد اس کا ضائع ہو جانا ہے۔
یوں یہ آیات ایک گہرے پیغام کی تکمیل کرتی ہیں:
- ایمان کا راستہ قرآن کے تدبر سے شروع ہوتا ہے،
- پھر دل کی کینوں سے سلامتی کے ذریعے محفوظ ہوتا ہے،
- اور آزمائش و جہاد میں صبر کے ذریعے ثابت ہوتا ہے،
- اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سچی اطاعت سے مکمل ہوتا ہے۔
- جس نے ان معانی کو جمع کر لیا وہ حقیقت میں محمد ﷺ کے راستے پر ثابت قدم رہا،
- اور جس نے انہیں نظر انداز کیا اس کا دل منحرف ہو گیا چاہے وہ ظاہر میں حق سے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو۔
اختتامِ کلام یہ کہ سورہ محمد ﷺ کی یہ آیات اللہ کی طرف جانے والے راستے کی حقیقت کو آشکار کرتی ہیں اور ساتھ ہی اس سے انحراف کے اسباب کو بھی بے نقاب کرتی ہیں۔ معاملہ کھلے کفر یا اعلانیہ نفاق سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اکثر اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب قرآن کے تدبر سے اعراض کیا جائے، جب دل وحی کے نور کے سامنے اپنا دروازہ بند کر لے، تو خواہشات اور شبہات آہستہ آہستہ اس میں سرایت کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ تالے اس طرح جمع ہو جاتے ہیں کہ حق واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے لیکن دل اسے قبول نہیں کرتا۔
یہیں سے زوال شروع ہوتا ہے، باطل کے ساتھ پوشیدہ سودے بازی سے، اور گمراہوں کی جزوی اطاعت سے، پھر وہ کینے ظاہر ہوتے ہیں جو سینوں میں چھپے ہوئے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں باتوں اور رویوں میں فاش کر دیتا ہے۔ اور تب اللہ کی وہ سنت آتی ہے جو کبھی نہیں بدلتی: آزمائش جو سچے اور جھوٹے دعویدار میں تمیز کر دیتی ہے۔ صبر اور جہاد کے میدانوں میں ہی ایمان کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے، اور واضح ہو جاتا ہے کہ کون محمد ﷺ کے راستے پر ثابت قدم تھا، اور کون اس وقت تک آپ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا جب تک راستہ آسان تھا۔
پھر قرآن وہ عظیم حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس دین کی دشمنی اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی، بلکہ اس کا شر اس کے کرنے والوں پر ہی پلٹتا ہے۔ باطل کی نصرت میں کی جانے والی ہر کوشش، اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے کی ہر چال کا انجام ناکامی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے دین کی نصرت کا ذمہ خود لے رکھا ہے، اور خسارے کو اپنے دشمنوں کا مقدر بنا دیا ہے۔
وہ پیغام جو یہ آیات ایک مومن کے دل میں چھوڑتی ہیں وہ بالکل واضح ہے کہ نجات محض کثرتِ اعمال میں نہیں ہے، بلکہ دل کی سلامتی، سچی اتباع، اور عمل کو برباد کرنے والی چیزوں سے اس کی حفاظت میں ہے۔ مومن اپنے عمل سے ویسے ہی ڈرتا ہے جیسے وہ عمل کرنے سے پہلے اپنے دل کے بارے میں ڈرتا ہے۔ اور یہی اصل ڈر (وجل) ہے! اور یہی ایمان کی حقیقت ہے!
چنانچہ قرآن کو دل کا کھلا ہوا دروازہ بننا چاہیے، اور اس کا تدبر اس راستے کا زادِ راہ ہو، تاکہ دل وحی کے نور سے زندہ رہے، محمد ﷺ کے منہج پر ثابت قدم رہے، نہ فتنے اسے بہکا سکیں اور نہ دباؤ اسے متزلزل کر سکیں، یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملے کہ دل سلیم ہو اور عمل مقبول، خواہ امن ہو یا جنگ و قتال!
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو تجھ پر حقیقت میں ایمان لائے، تیری راہ میں سچائی سے جہاد کیا، اور آخری دم تک تیرے نبی محمد ﷺ کے منہج پر محبت، امید اور خوف کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ آمین
٭٭٭٭٭
