ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید مجاہدینِ پاکستان و برِّ صغیر کے درمیان کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ان کے یہاں ڈاکٹر ابو خالد کے نام سے معروف ہیں۔ پیش تر ان کی کتاب ’عصرِ حاضر کے جہاد کی فکری بنیادیں‘ زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو کر عام و خاص قارئین تک آج سے گیارہ سال قبل پہنچ چکی ہے ۔ ڈاکٹر ابو خالد رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری کتاب ’غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں‘ ، مؤلف شہید نے مارچ ۲۰۱۲ء میں مکمل کی، لیکن مختلف النوع وجوہات کی بنا پر اب تک شائع نہ ہو سکی۔
باب ثالث: غزوۂ ہند اور ہندو مت کی تاریخ
تعارف
آج کا دور پوری دنیا میں جہاد کے احیا کا دور ہے۔ اسی دور میں خراسان میں وہ لشکر بھی تیار ہو رہا ہے جو ان شاء اللہ غزوۂ ہند کی عظیم سعادت سے بہرہ مند ہو گا۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ علماء کی تصریحات کے مطابق جس دور میں بھی شرعی تقاضوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ہندوستان پر نفاذ شریعت کے لیے حملہ کیا جائے گا وہ غزوۂ ہند ہی ہو گا۔ لیکن خاص طور پر اس دور میں ایک عرصہ کے بعد درست منہج پر پورے ہندوستان پر اسلام کو غالب کرنے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ غزوۂ ہند کے علم برداروں پر لازم ہے کہ غزوۂ ہند کے حوالے سے کسی منصوبہ بندی سے قبل ہندوستان کے حوالے سے اہم ترین معلومات سے اپنے آپ کو ضرور لیس کر لیں تاکہ مستقبل میں پیش آنے والے امتحانات سے اچھی طرح نبٹ سکیں۔ اسی ذیل میں اس باب میں ہندوستان کے اکثریتی کہلانے والے مذہب یعنی ہندومت کی کچھ متعلقہ تاریخ بیان کی گئی ہے تاکہ مسلمان مجاہدین اپنے مقابل لشکر سے بنیادی واقفیت حاصل کر سکیں۔
ہندوستان پر شرک کی تاریکی (ہندومت)
قدیم زمانے سے ہندو کا اطلاق دریائے سند ھ کے مشرق میں رہنے والی قوموں پر ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دریائے سندھ کو سندھو کہا جاتا تھا۔ جو بعد میں سندھو سے ہندو بن گیا۔ ہندوستان کے قدیم باشندے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ آج بھی ٹیکسلا، ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات بعض روایتوں کے مطابق انہی قدیم ہندوستانی باشندوں کی آبادیاں تھیں۔ یہ لوگ مظاہر پرست اور بت پرست تھے۔ پندرہ سو سال قبل مسیح میں آریہ قوم نے ہندوستان پر قبضہ کیا اور یہاں کے مقامی لوگوں کو غلام بنا لیا۔ آریہ قومیں بھی بت پرست تھیں ان کے آنے سے ہندوستان میں ایک نئی تہذیب کی بنیاد پڑی جسے آریہ تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ سب شرک کی دنیا تھی۔ آریہ قوم کے آنے سے شرک کی دنیا میں چند اور رسومات کا آغاز ہو گیا۔ یہ آج کے ہندو مت کی قدیم قسم تھی۔ اس دور میں شرک ایک سادہ شکل میں تھا۔ ہر قوم کا اپنا بت تھا اپنی اپنی رسومات تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندومت میں مختلف رسومات داخل ہونا شرو ع ہو گئیں۔ مختلف کتابیں تصنیف ہونا شرو ع ہو گئیں۔ ان میں ویدیں ، اپنیشد، سرسوتی اور گیتا وغیرہ شامل ہیں۔
ہندومت کی تعریف
مؤرخین میں اور ہندو مذہب کے ماہرین کے درمیان یہ بات ایک طرح متفق علیہ ہے کہ ہندو مت کی کوئی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی مذہب کی تعریف کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان عقائد اور رسومات کا واضح طور پر علم ہو کہ جن پر ایمان رکھ کر کوئی شخص اس دین میں داخل ہوتا ہو اور ان عقائد اور معیارات کا علم ہو جن کی خلاف ورزی کرنے سے کوئی شخص اس دین کے دائرے سے خارج تصور کیا جائے۔ پھر ان معیارات کو مقرر کرنے کے ماخذ کا واضح ہونا بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہے جتنے کہ اس مذہب کے عقائد اور معیارات۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو عقائد اور معیارات اس مذہب میں داخل اور خارج ہونے کے لیے ضروری قرار دیے گئے ہیں اس کی حجت کیا ہے۔ عام طور پر مذاہب عالم میں کوئی کتاب یا کوئی شخصیت ایسی مقرر کی جاتی ہے کہ جو کہ اس دین کےلیے حجت اور دلیل کے لیے مانی جاتی ہے۔ اور اس دلیل پر اس مذہب پر عمل کرنے والے علماء اور ماہرین کے جمہور کا متفق ہونا بھی ضروری ہے۔
ہندومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوئی ایک شخصیت جس کو حجت اور دلیل کے لیےپیش کیا جائے موجود نہیں۔ عام طور پر الہامی مذاہب میں انبیاء کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن ہندو مت میں انبیاء کا کوئی تصور موجود نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے تمام فرقے کسی ایک کتاب پر متفق بھی نہیں کئی فرقوں کے یہاں تو وید حجت ہے اور کئی فرقے اس کتاب کو سرے سے مذہبی کتاب ماننے سے ہی انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کے کسی ایک فرقے کے پاس کوئی ایسی دستاویز موجود نہیں جو کہ ان عقائد اور معیارات کی نشاندہی کرے جن کو اپنانے کے بعد انسان ہندو بن جاتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے عقائد اور معیارات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جن پر عمل کرنے سے کوئی شخص ہندو مذہب سے خارج ہو جاتا ہے۔
اس بحث کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندو مذہب کو ئی ایک مذہب نہیں بلکہ بہت سے مذاہب کا مجموعہ ہے۔ ہر مذہب کے اپنے عقائد اور اپنی رسومات ہیں اور ایک دوسرے سے اس قدر علیحدہ کہ ہر فرقہ ایک علیحدہ مذہب کا علم بردار بن جاتا ہے۔ مگر ان تمام فرقوں کو ہندو ہی کہا جاتا ہے۔ یہی اس مذہب کو سمجھنے میں سب سے بڑی دشواری ہے۔ اس لیے اس مذہب کو سمجھنے کے لیے ہم اس کا مختصر پس منظر پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس کے ایسے مشترکہ عقائد کا ذکر کریں گے جو کہ بہت حد تک اکثر ہندو فرقوں میں کسی نہ کسی شکل میں پائے جاتے ہیں تاکہ ہندو مت کی حقیقت زیادہ واضح ہو سکے۔ ان شاء اللہ۔
ہندو مت تاریخ کے آئینے میں
جب ہم ہندو مت کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہاں بھی مایوسی ہی نظر آتی ہے۔ ہندوؤں کی تاریخ کے تمام ہی مؤرخ جن میں مسلمانوں ، انگریز اور خود ہندو مورخین شامل ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہندو مذہبی کتا بیں جو کہ ہزاوں سالوں سے موجود ہیں ، ان کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کتابوں میں بیان کیے گئے کسی ایک واقعے کو بھی تاریخی سند کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعات انسان کے خیالی تصور کا ایسا مافوق الفطرت مرقع ہے کہ اسے کسی طرح بھی تاریخ کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ہندو تاریخ کے بارے میں زیادہ مستند ذرائع قدیم یونانی، مسلمان اور انگریز کتابوں سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ جدید دور کے ہندو تاریخ کے مصنف جن میں گاندھی اور نہرو بھی شامل ہیں اس خامی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود جدید مورخین ہندو مذہب کے تاریخی ادوار کو مندرجہ طریقے سے پیش کرتے ہیں :
- قدیم ہندوستان کی قومیں اور آ ریہ قوم کا ہندوستان پر قبضہ
- ویدوں کا دور
- برہمنا کا دور
- اپنیشد کا دور
- تین مورتی کا دور، ہندو مت کی اصلاح کا دور
- ہندومت مسلمانوں کے دور میں
- ہندومت انگریزوں کے دور میں
۱۔ قدیم ہندوستان کی قومیں اور آ ریہ قوم کا ہندوستان پر قبضہ
ہندوستان میں ہندو مت کی تاریخ کا آغاز پندرہ سو قبل مسیح سے ہوتا ہے۔ اس دور میں ہندوستان میں قدیم قومیں دریائے سندھ کے کناروں کے ساتھ ساتھ آباد تھیں۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ آج پاکستان میں دریافت ہونے والے ٹیکسلا، ہڑپہ اور موئنجودڑو کے کھنڈرات اسی دور کے قدیم ہندوستانی باشندوں کی رہائش گاہیں اور قصبے تھے۔ ان کا پیشہ زراعت تھا۔ یہ لوگ مشرک تھے۔ ہر قوم اور قبیلے کااپنااپنا دیوی دیوتا تھا۔ پندرہ سو قبل مسیح میں آریہ قوم نے بابل کی طرف سے ان قوموں پر حملہ کیا اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ آریہ قوم بھی مشرک تھی وہ اپنے ساتھ بابل اور ایران کے شرک کے اثرات لے کر آئے تھے۔ اب قدیم قوموں اور آریہ قوم کے عقائد ملے تو ہندو مذہب ترقی کرنے لگا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آریہ قوم وسطی ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے لگی۔ اب یہ قوم دریائے گنگا اور جمنا اس کے بعد درئے برہم پترا کے کنارے کنارے آباد ہونا شروع ہو گئیں۔ یہاں پر موجود قدیم ہندوستانی قوموں کو انہوں نے غلام بنا لیا۔ یہاں سے قدیم سندھی تہذیب اور گنگا جمنی تہذیب کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی ہندو مذہب کے آغاز کا دور ہے۔
۲۔ ویدوں کا دور (۱۵۰۰ ق م تا ۱۰۰۰ ق م )
ہندو مذہب کے دوسر ے دور کا آغاز ۱۵۰۰ قبل مسیح سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام ۱۰۰۰ ق م میں ہوا۔ اس دور کی خاص بات ہندو مذہب کی سب سے اہم کتاب وید کی تصنیف ہے۔ اس پر ان شاء اللہ ہم آگے بحث کریں گے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ویدوں کی تصنیف سے ہندو مذہب میں مزید ترقی پیدا ہوئی۔
۳۔ برہمنا کا دور (۸۰۰ ق م تا ۵۰۰ ق م)
برہمنا کے دور کا آغاز ۸۰۰ ق م میں اس وقت ہوا جب آریہ قوم دریائے سندھ کی وادی سے گنگا جمنا کی وادی پر قابض ہو رہی تھی۔ وہاں ان کو ہندوستان کے باشندوں سے واسطہ پڑا۔ ممکن ہے ان پر اپنی نفسیاتی برتری کو قائم کرنے کے لیے یا کسی اور وجہ سے ویدوں میں دیے گئے برہمنا کے عقیدے کی جدید تشریحات کی گئیں۔ ویدوں کے دور میں قدیم آریہ مذاہب اور قدیم ہندوستان کے مذاہب نے ترقی کر کے وہ عقیدے اپنا لیے جو آج ہندو مت کا حصہ ہیں۔ یہ ترقی وید کے عقیدے برہمنا کی ایک نئی تشریح تھی۔ ویدوں کے مطابق برہمنا ایک مقدس روح ہے کہ جس کے دَم سے اس انسان اور فطرت کا اتحاد قائم ہے۔ یہی وہ روح ہے جس کے کی وجہ سے وجود کائنات قائم ہے۔ ہر انسان کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ برہمنا کے معیار پر پہنچے یہی سب سے بڑی کامیابی اور نجات ہے۔
ویدوں کو الہامی کتاب قرار دیا گیا تھا اس لیے اس کی تلاوت کو بہت مقدس کام سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے کی اشرافیہ ویدوں کی تعلیمات سیکھنے اور سکھانے پر بہت زور دیتی۔ اپنے بچوں کو ویدوں کی تعلیمات دی جاتیں یہاں تک کہ بادشاہ اور شہزادے بھی اس کام کو بہت مقدس سمجھتے۔ اس طرح ویدوں کا علم اور اس کی تلاوت اور اس کو سیکھنا زمانے کا فیشن سابن گیا۔ ویدوں کے عالموں کی عزت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی۔ ان عالموں کو پروہت کہا جاتا گو کہ شروع شروع میں پروہت کوئی خاص ذات نہ تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروہت ایک ذات کی طرح بن گئے۔ چونکہ یہ کام اس وقت کی اشرافیہ کرتی تھی۔ اس لیے اب برہمنا کی تشریح یہ ہونے لگی کہ یہ وید کو پڑھنا اور پڑھانا صرف اونچی ذاتوں اور پروہتوں کا کام ہے۔ اور یہ کام کرنے والے ہی وہ آتما اور روح ہیں کہ جس کا ذکر ویدوں میں برہمنا کے طور پر کیا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ عقیدہ زور پکڑتا گیا۔ اب یہ اونچی ذات والے برہمن بن گئے کہ جن کی اجارہ داری ہندو مذہب پر قائم ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں ہندوؤں میں ذات پات کا نظام ایک مذہبی عقیدہ بن گیا۔ برہمن تو ٹھہرے ہی اونچی ذات کے، اس کے بعد کھتری تھے جن کا کام دین اور برہمنوں کی حفاظت تھا۔ تیسری ذات ان پیشہ ور لوگوں کی تھی جنہیں ویش کہا گیا۔ چوتھی اور سب سے نچلی ذات شودر تھی۔
ذات پات کے اس نظام نے ہندو معاشرے میں تنگ نظری، تعصب، ظلم اور بربریت کی وہ مثالیں قائم کیں جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ شودر کو انسانیت کی سطح سے ہی گرا دیا گیا۔ آپس کی شادیاں منع ہو گئیں۔ برہمن کے احترام کے لیے ایسے ایسے قانون بنائے گئے کہ جن پر عمل کرنا نچلی ذاتوں کے لیے ممکن نہ رہا۔ مگر ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو زندہ جلایا گیا۔ اس صورت حال کے رد عمل میں بدھا جو کہ خود ایک براہمن شہزادہ تھا کھڑا ہوا۔ اس نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی جسے آج بدھ مت کہتے ہیں۔ اس نے اس ذات پات کے نظام کو رد کر کے تمام انسانوں کو برابر قرار دیا۔ (بدھ مت کے بارے میں ہم ہندو فرقوں کے ذیل میں بحث کریں گے ان شاء اللہ۔ یہاں صرف اس کا تعارف دیا گیا ہے۔ ) بدھ مت کے عروج سے برہمنا کے نظام پر زوال آنا شروع ہو گیا۔ ۵۰۰ ق م میں لوگ ہندومت کو چھوڑ چھوڑ کر بدھ مت کو قبول کرنے لگے۔ اس دور میں بدھ مت کو کئی ہندوستان کے بادشاہوں نے قبول کیا اور اس طرح بدھ مت کی وجہ سے وقتی طور پر برہمنا کا زوال ہو گیا۔ ہندو مت کے عالموں نے اس زوال کا مقابلہ کیا اور کئی سو سال کی جنگ کے بعد اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کیا جس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے۔ مگر اس سے پہلے ہم ہندو مت کے ایک اور دور کا ذکر کرتے ہیں جو کہ خود براہمنا کے زوال کا باعث بنا۔ بدھ مت گو کہ ہندو مذہب کے اندر سے شروع ہوا اور رفتہ رفتہ ایک علیحدہ دین بن گیا۔ مگر اپنیشد کے دور میں جو فکری تبدیلیاں نمودار ہوئیں انہوں نے ہندو مذہب کے اندر رہ کر ہی اپنا اثر دیکھا یا۔
۴۔ اپنیشد کا دور
اپنیشدوں کے دور کی دو بڑی اہمیتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس نے ایک دفعہ پھر برہمنا کی نئی تشریح کی اور اس کو کسی خاص ذات کے ساتھ موسوم کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنیشد نے برہمن کو ایک انسان کی انا اور اعلیٰ انسانی قوت قرار دیا جو کہ کوئی انسان بھی عبادت کے ذریعے سے حاصل کر سکتا تھا۔ دوسری تبدیلی اس دور میں واقع ہوئی وہ طریقہ عبادت تھا۔ ویدوں کی تعلیمات تو انسان کے جسم کو تپسیاء، روزوں اور مجاہدوں سے لاغر اور کمزور کرنے کا درس دیتی تھیں جو کہ انسانی خواہشات کو روکنے کا باعث بن سکتی تھی۔ اس کے برعکس اپنیشد کی تعلیمات انسانی ذہن کو مضبوط بنانے پر زور دیتی تھیں۔ اس کے مطابق اگر انسان اپنے ذہن اور جسم کے قوا کو مجتمع کر کے قابو کر لے تو وہ اپنی سفلی خواہشات کو قابو کر سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک طریقہ عبادت جیسے یوگ کہا جاتا ہے دریافت کیا گیا۔ اس میں تپسیا کے برعکس جسمانی ورزش سانس کو قابو کر نے کے طریقے پر زیادہ زور دیا گیا۔ اس طریقے کو اپنانے سے پہلے اخلاقیات اور ظاہری آداب کے طریقے بھی وضع کیے گئے۔ یوگ کی عبادت کے طریقے سے انسان مکتی یا نجات پا سکتا ہے۔ اپنیشد کی مقبولیت نے بھی برہمنا کے طریقے کو زوال دیا۔ مگر اپنیشد کے اس طریقے سے بھی تمام لوگوں نے اتفاق نہ کیا اور اپنیشدوں کے ردعمل میں جین مت نے جنم لیا اور بعد میں یہ ہندو مت سے علیحدہ ایک دین بن گیا اس کا ذکر ہم ہندو فرقوں میں کریں گئے ان شاء اللہ۔
۵۔ تین مورتی کا دور ہندو دھرم کی اصلاح کا دور
ہندو مت آریہ اور قدیم ہندوستانی قوموں کے شرک کا مجموعہ تھا۔ جس نے برہمنا کے دور میں ذات پات کی بنیاد پر ایک ایسا طبقاتی نظام دیا جس میں عام انسانوں کو ایک برہمن کا غلام بنا دیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جس میں کسی عام بندے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ وہ دین پر عمل کیوں کرے۔ اس وجہ سے اس نظام کے ردعمل میں جو بھی تحریک اٹھی عوام نے اس کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے بادشاہوں نے بھی اس دین کو قبول کرنا شروع کر دیا۔ اپنیشد تحریک اور جین مت نے بھی برہمنا تحریک کا ستیاناس کر دیا۔ مگر برہمن اتنی جلدی ہار ماننے والا نہ تھا۔ اب ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک درمیان کا ایسا راستہ نکالا جائے جس میں برہمنا کا وقار تو کبھی ختم نہ ہو بلکہ اس میں اضافہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا دیوتا بھی ہونا چاہیے جو عوام الناس کو بھی فائدہ پہنچائے تاکہ عوام الناس مذہب میں دلچسپی لیں اور اس طرح برہمنا کا وقار بھی قائم رہے گا۔ ایک اور مسئلہ ہندومت کے سامنے یہ تھا کہ اس میں بہت سے فرقے تھے اور ہر فرقے کے اپنے اپنے سیکڑوں دیوی دیوتا تھے۔ ان فرقوں کے عقائد بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے بلکہ بعض صورتوں میں ایک دوسرے سے متعارض بھی تھے۔ مگر اس کے باوجود وہ سب ہندو تھے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی تھی کہ ان فرقوں میں کسی نہ کسی طرح کی وحدت فکر بھی پیدا کیا جائے۔
ان دو بڑے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دوسری صدی عیسوی کے بعد سے ہندو مت میں ایسی کتابیں سامنے آنا شروع ہو گئیں جس نے ہندو مت کو عوام کا دھرم بنا دیا۔ ان کتابوں میں پران گیتا، بھگوت گیتا، مہابھارت، رامائن وغیرہ شامل تھیں ان کتابوں کا ذکر ان شا اللہ ہم بعد میں کریں گے۔ مگر ان کتابوں نے قدیم ویدوں میں ذکر کیے گئے تین دیوتاؤں کے کردار کو ایک نئے انداز میں پیش کیا جانے لگا یہ تین کردار برہمنا، وشنواور شیو تھے۔ یوں ہندومت میں ایک عقیدہ تثلیث قائم کیا گیا۔
برہمنا
برہمنا ایک خالق کی حثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ سب سے بڑا دیوتا ہے۔ اس نے معاذ اللہ پوری کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ اس سے زیادہ اس کی اور کوئی اہمیت نہیں ہے۔ برہمنا ایک قائم بذات روح ہے سب سے مقدس ہے۔ اس کی بیوی سرسوتی ہے جس کے ساتھ وہ میرو پربت پر رہتا ہے۔ اس کا مجسمہ چار سروں والا ہے اور چار ہی ہاتھ رکھتا ہے۔ ایک ہاتھ میں چمچہ دوسرے میں لوٹا تیسرے میں تسبیح اور چوتھے میں وید ہے۔ اس کی سواری راج ہنس ہے۔ ہر ہندو کی خواہش اور اس کی زندگی کا مقصد برہمنا کی ذات میں ضم ہو جانا ہے۔
وشنو
وشنو دوسرا دیوتا ہے جس میں معاذ اللہ الہٰی خصوصیات ہیں اگر برہمنا خالق ہے تو وشنو کی حیثیت معاذ اللہ رب کی سی ہے، وہ رازق بھی ہے اور لوگوں کا مشکل کشا بھی۔ یہ رحم کا دیوتا بھی ہے اور لوگوں کو رحم کا درس بھی دیتا ہے۔ یہ ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کرتا ہے۔ وشنو کی شکل میں ہندومت کو ایک ایسا دیوتا مل گیا جس کو بہت سے فرقوں نے ماننا شروع کر دیا۔ اپنے اپنے دیوتا وشنو کے اوتار کے طور پر اس میں شامل کرنا شروع کر دیے۔ وشنو کے مشہور اوتاروں میں نرسنگھ، رام چندر اور کریشن ہیں۔ ویشنو دیوتا نے اس قدیم ذات پات کے نظام میں ایک درمیان کا بہترین راستہ نکال لیا جس نے بہت سارے ہندو فرقوں کو جمع کردیا۔ اب عوام کو بھی مذہب سے کچھ ملنے لگا۔ برہمن کی عزت اسی طرح قائم رہی اور اس طرح بدھ مت اور جین مت کے مقابلے میں ہندو مت میں ایک نئی روح پھونکی گئی۔
شیو مت
عقیدہ تثلیث کا تیسر ا بڑا دیوتا شیو ہے۔ اگر وشنو رحم کا دیوتا ہے تو شیو غضب اور قہر کا دیوتا ہے۔ یہ ہندوؤں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ دین کے منکروں کا بھی سخت دشمن ہے۔ اس کا مسکن پہاڑ ہیں اس کی بیوی پاربتی ہمالیہ کی بیٹی ہے۔ شیو کی آٹھ شکلیں ہندوؤں کے ہاں مستند مانی جاتیں ہیں۔ شیو کا ایک بیٹا کارشکے ہے جو جنگ میں باپ کی مدد کرتا ہے۔ دوسرا بیٹا گنیش ہے جو عقل اور فن کا دیوتا ہے۔ اس کا جسم تو انسان کا ہے اور سر ہاتھی کا ہے۔ یہ ایک چوہے پر سوار ہے۔ گنیش کی بیوی لکشمی ہے۔ جو قسمت کی دیوی ہے۔ گنیش اور لکشمی ہندوؤں کے مجبوب دیوی دیوتا ہیں۔
۶۔ ہندومت مسلمانوں کے دور میں
اس دور کا تفصیلی تذکرہ آ گے کے ابواب میں آئے گا۔
۷۔ ہندومت انگریزوں کے دور میں
اس دور کا تفصیلی تذکرہ آ گے کے ابواب میں آئے گا۔
ہندومت کے عقائد
نجات یا مکتی کا عقیدہ
ہندو مت کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح کو دنیا میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ نیک روح کو براہمن بنا دیا جاتا ہے اور بد روح کو کم تر ذاتوں، جانور اور درختوں اور پودوں کی شکل میں پیدا کیا جاتا ہے۔ اسے عقیدہ تناسخ بھی کہتے ہیں۔ اس چکر سے نجات حاصل کر کے برہمنا کی ذات میں گم ہو جانا ہی انسان کی اصل نجات ہے۔ اس نجات یا مکتی کو حاصل کرنے کے لیے انسان کو دنیا میں تین طریقے اختیار کرنے ہو ں گے جو مندرجہ ذیل ہیں :
- قربانی یا راہ عمل
- علم اور معرفت
- بھگوان سے عقیدت ، ریاضت اور عبادت
برہمن کا عقیدہ
برہمن کا عقیدہ ہندو مت میں سب سے اہم عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ برہمن کیا ہے؟ اس کے بارے میں ہندو مت کی مختلف تعلیمات ہیں جن کو اختصار سے ذیل میں درج کرتے ہیں :
- برہمنا ایک دیوتا ہے جس نے دنیا کو تخلیق کیا ہے۔
- برہمن ایک مقدس آتما یا روح بھی ہے۔
- برہمن انسان کے نفس کی قوت اعلیٰ بھی ہے جو اسے بدی سے بچاتی ہے۔
- برہمن ایک اونچی ذات کا مقدس انسان بھی ہے۔
- برہمن ایک اونچی ذات بھی ہے۔
- برہمن ہر ہندو کے لیے ایک ایسا معیار ہے جسے ہر ہندو حاصل کرنا چاہتا ہے۔
برہمن کی امتیازی خصوصیات
- برہمن تما م ہندوؤں کا استاد ، راہنما اور مذہبی پروہت ہے۔
- برہمن تمام ہندو طبقوں کو ان کی ذمہ داریاں بتاتا ہے۔
- برہمن کو کوئی جسمانی سزا نہیں دین جا سکتی۔
- برہمن نذر نیاز کھا سکتا ہے۔
- برہمن پر کوئی ٹیکس نہیں لگ سکتا۔
- اگر کوئی مال برہمن کو مل جائے تو اپنے پاس رکھ سکتا ہے جب کہ دوسری ذات کا آدمی ایسے نہیں کر سکتا۔
- سڑکوں اور شاہراہوں پر برہمنوں کو خصوصی مراعت حاصل ہیں۔
- کسی برہمن کی جان لینا یا اسے ڈرانا دھمکانا کبیرہ گناہ ہے۔
- کوئی کمتر ذات کا آدمی برہمن پر دعویٰ نہیں کر سکتا۔
تخلیق کائنات اور وحدت الوجود کا عقیدہ
تخلیق کائنات کے مطلق ہندوؤں کی کتابوں میں بہت سی پیچیدہ داستانیں ہیں جن کو سمجھنا اور ان کو بیان کرنا اس موضوع سے باہر ہے مگر ان تمام داستانوں کا نچوڑ یہ ہے کی ہندومت کسی نہ کسی درجے میں وحدت الوجود کے نظریے کا قائل ہے۔ ہندو مت میں نظریہ ہے کہ تمام کائنات اور اس کے تما م اجزا ایک ہی وجود سے نکلے ہیں۔ ایک واحد ذات نے پہلے پانی پیدا کیا پھر اس پر ایک انڈا بنایا پھر اس میں خود داخل ہو گیا۔ اس انڈے میں سے برہمنا دیوتا برآمد ہوا۔ برہمنا نے تمام کائنات کو پیدا کیا۔ اب کائنات ایک ابدی قانون میں جکڑی ہوئی ہے۔
ہمہ اوستی عقیدہ
تخلیق کائنات کے وحدت الوجود کے نظریے نے منطقی طور پر ہمہ اوستی کے عقیدے کو جنم دیا۔ اس عقیدے کے مطابق خدا اور فطرت ایک ہی چیز کے دو رخ ہیں۔ فطرت میں پیدا ہونے والے سیلاب ، طوفان، زلزلے قحط خود خدا کے ظہور سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح جاندار اور بے جان سب فطرت ہی کا حصہ ہیں اور خدا کا دوسرا رخ ہیں۔ اس لیے خدا کی پوجا کے ساتھ فطرت کی پوجا بھی لازمی ہے۔
مادہ اور روح قدیم ہیں
ہندوؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ مادہ اور روح ازلی اشیاء ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرح ازل سے ہیں ابد تک رہے گے۔ اس لیے نہ ہی ان کا کوئی خالق ہیں اور نہ ہی یہ مخلوق ہیں۔ دوسری طرف ان کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ روح ایک بڑے جسم کا حصہ ہے جیسے وہ پرماتما کہتے ہیں۔ آخر میں روح تناسخ سے نجات حاصل کرتے ہوئے ابدی زندگی کے لیے واپس پرماتما میں ضم ہو جائے گی، اسے شانتی یا مسرت کہتے ہیں۔ یہ دونوں عقیدے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مگر ہندومت میں سب جائز ہے۔
بت پرستی
بت پرستی ہندومت میں دراصل ایک تمثیلی اہمیت رکھتا ہے۔ بتوں کو پوجنا ہندو مت کی شرائط میں شامل نہیں ہے۔ بت پرستی کے پیچھے دراصل وہ عقائد کام کرتے ہیں جو کہ ہندوؤں کی کتابوں میں لکھیں ہوئے ہیں۔ بتوں کو سامنے رکھ کر عبادت کرنے کے بارے میں بہت سے عقیدے ہیں۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ دیوی دیوتا کی روح ان بتوں میں آ جاتی ہے۔ بعض کے خیال میں بتوں کو سامنے رکھنے سے گیان اور دھیان میں زیادہ انہماک آتا ہے۔ تیسرے گروہ کا خیال ہے کہ بتوں سے معبودوں کے ساتھ عقیدت اور تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے بت سامنے رکھے جاتے ہیں۔ چوتھے قسم کے لوگ وہ ہیں جو کچھ بھی نہیں جانتے بس انہوں نے اپنے باپ دادا کو ان بتوں کو پوجتے دیکھا ہے۔
تری مورتی یاعقیدہ تثلیث
ہندوں مذہب میں وحدت فکر پیدا کرنے کے لیے تین خداؤں کی مورتی، جسے تری مورتی کہتے ہیں، کی پوجا کی جاتی ہے۔ اس مورتی کے تین سر ہیں اور ایک جسم ہے۔ تین سر تین خداؤں کے ہیں۔ ایک برہمنا جس نے کائنات کو تخلیق کیا ہے (نعوذ باللہ)۔ دوسرا سر وشنو کا ہے جو نعوذ باللہ اپنے اندر رب کی خصوصیت رکھتا ہے اور تیسرا سر شیو کا ہے جو جبر اور قہر کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کی بیویاں اور بہت سے بچے بھی ہیں جو خود بھی دیوی دیوتا ہی ہیں۔
اواگون یا تناسخ کا عقیدہ
عقیدہ تنا سخ یا اواگون کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کی موت کے بعد اس کی روح عالم برزخ میں چلی جاتی ہے۔ وہاں دنیا میں اپنے اعمال کے حساب سے نیکوں کو جنت اور بد روحوں کو دوزخ میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ جنت اور دوزخ میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد ان ارواح کو اپنے اپنے اعمال کے حساب سے جسم عطا کیے جاتے ہیں اور ان کو دنیا میں دوبارہ پیدا کیا جاتا ہے۔ نیک روحوں کو برہمن ذات میں پیدا کیا جاتا ہے۔ اس سے کم کو کھتری یا ویش یا شودر پیدا کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ارواح جانوروں اور درختوں کے اندر بھی داخل کر دی جاتیں ہیں۔ اس طرح ابد تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
تپسیا اور یوگ کا عقیدہ
ویدوں کی تعلیمات یہ تھی کہ انسان کو تناسخ سے بچنے کے لیے مکتی یا نجات چاہیے جو کہ وہ اپنے جسم کو مجاہدوں اور ریاضتوں، جسے تپسیا کہتے ہیں، حاصل کر سکتا تھا۔ دوسری طرف اپنیشدوں کی تعلیمات کی رو سے انسان کو اپنے دماغ کو قابو کرنے سے اپنے سفلی جذبات کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے جس کی وجہ سے وہ نیک اعمال کرتا ہے اور اسے مکتی یا نجات مل سکتی ہے۔ اسے یوگ کا طریقہ کہتے ہیں۔ یوگ ایک جسمانی عبادت ہے جس سے انسان کو اپنے ذہن کو قابو کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ اس کے لیے انسان کو کچھ اخلاقیات اور آداب کا پابند ہونا پڑتا ہے۔
قربانی اور تاثیر
قربانی بھی ویدوں کی تعلیمات کی رو سے مکتی کے لیے کی جاتی تھی مگر یوگ کی دریافت سے قربانی کی رسم پر برا اثر پڑا۔ ہندومت میں عبادت کو قربانی پر فضیلت حاصل ہے۔
اوتار کا عقیدہ
جب انسانوں میں فتنہ و فساد زیادہ ہو جاتا ہے تو بھگوان اس سے نجات دلانے کے لیے خود اس دنیا میں انسان کی شکل میں آتا ہے۔ اس کی آمد عام انسان کی پیدائش کی طرح ہوتی ہے۔ وہ عام انسانوں کی طرح پرورش پاتا ہے اور بڑا ہو کر اس برائی فتنہ اور فساد کو ختم کرتا ہے۔ بھگوان کی اس شکل کو بھگوان کا اوتار کہا جاتا ہے۔
ہندومت کی کتابیں اور تعلیمات
ہندومت کی کتابوں کے بارے میں یہ بات مشہور کی گئی تھی کہ یہ الہامی کتابیں ہیں مگر جدید مؤرخین اور خود ہندومت کے ہندو مؤرخین متفق ہیں کہ یہ کتابیں کئی ہزار سالوں میں مختلف مصنفین کے ہاتھوں لکھی گئیں ہیں۔ ان کے الہامی ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ نہ ہی ہمیں ہندومت کی تاریخ میں کوئی ایسی شخصیت کا تصور ملتا ہے جو کہ اپنے آپ کو نبی کہتا ہو۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہندو مت میں نبوت کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ہندومت کی تمام کتابیں ارتقاء کے مراحل سے گزر کر آج ہمارے سامنے موجود ہیں۔ زمانے کے ساتھ ساتھ ہندومت کو درپیش آنے والے تمام چیلنجوں کے مطابق ان میں ترمیمات، تحریفات اور اضافے کیے گئے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندومت کی تمام کتابیں ان انسانوں کی لکھیں ہوئیں ہیں جن کو ہندومت میں پروہت اور رشی کہا جاتا ہے۔ ہندومت کی مشہور مذہبی کتابیں مندرجہ ذیل ہیں :
- وید
- اپنیشد
- شاستر
- پران
- مہا بھارت
- رامائین
- بھگوت گیتا
کتابوں کی تعلیمات
ہندومت کی کتابوں کی تعلیمات کا خلاصہ درج ذیل ہے:
- کائنات کی ارتقا ایک خدائی وجود سے ہوئی۔
- خدا ایک وجود رکھتا ہے مگر اس کے وجود سے سب کچھ ہے۔
- برہمنا نے کائنات تخلیق کی، وشنو معاذ اللہ رب کی حیثیت رکھتا ہے اور شیوا قہر کا دیوتا ہے۔
- انسانیت کی بقا برہمن بن جانے میں ہے۔
- برہمن اس کائنات کا ایک مرکزی نقطہ ہے اسی کی وجہ سے کائنات قائم و دائم ہے۔
- ہندومت کی کتابیں ایک طبقاتی معاشرے کی تعلیم دیتیں ہیں۔
- عورت ایک دوسرے درجے کی مخلوق ہے۔
- اپنے دین اور وطن کے دفاع کے لیے جنگ لازم ہے۔
ہندومت کے فلسفے
ہندو مذہب پر ہندو فلسفے کے گہرے اثرات ہیں۔ جس دور میں ہندو کتابیں لکھی جا رہی تھیں تو ساتھ ہی ساتھ ہندوؤں میں ہر زمانے میں ایسے فلسفی پیدا ہوئے جنہوں نے نہ صرف مذہب بلکہ طبعیات ، کیمیا، اخلاقیات، سیاسیات پر بہت سے فلسفوں کی بنیاد ڈالی۔ ان فلسفیوں کا مقصد کائنات کی حقیقت، عقل، جسم انسانی و حواس خمسہ کے درمیان ربط تلاش کرنا نیز علم اور معارفت میں تعلق دریافت کرنا تھا۔ زیادہ تر فلسفی نظریات ہندومت کے مذہبی حدود میں رہ کر پیش کیے گئے تھے۔ ان فلسفوں نے ہندومت کے عقائد ، عبادات اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اس حد تک کہ انہیں بھی مقدس کتابوں کی طرح دین کے ماخذ کا درجہ حاصل ہو گیا۔ ان فلسفوں کا مکمل احاطہ اس کتاب کے مضمون سے باہر ہے۔ مشہور فلسفیانہ نظریات مندرجہ ذیل ہیں :
- گوتم کانیایہ کافلسفہ
- کناڈا کاویششکا کافلسفہ
- کپلا کا سانکھیہ کافلسفہ
- پات خلجی کایوگا کافلسفہ
- جے منی کا پردامیماں کافلسفہ
- اتر کا میمانسا کافلسفہ
ہندو دھرم یا معاشرہ
ہندو معاشرہ صدیوں نہیں بلکہ ہزاروں سالوں پرانا ہے۔ ہندو معاشرے نے ان سالوں میں بہت سی معاشرتی کشمکش دیکھی بہت سے انقلابات ظہور پذیر ہوئے۔ ان تجربات سے گزرنے کے بعد ہندو معاشرہ اپنے لیے انفرادی اور اجتماعی مقاصد اور نظام طے کرنے میں کامیاب ہو گیا، جسے آج کی جدید اصطلاح میں ہندو دھرم کہا جاتا ہے۔ اپنی تمام تر کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود ہندو معاشرہ صدیوں سے چند لگے بندھے اصولوں پر گامزن ہے۔ ہندو دھرم کو سمجھنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل موضوعات پر بحث کریں گے:
- ہندو معاشرے کے مقاصد
- ذات پات کا نظام (ورن)
- آشرم( زندگی کے مدارج)
ہندو معاشرے کے مقاصد
ہندوؤں کے علماء اور ان کی کتابیں ہندو معاشرے کے مندرجہ ذیل مقاصد بیان کرتے ہیں :
- دھرم: اس کا مطلب ہے اصولی انفرادی اور اجتماعی زندگی۔
- رتھ: دولت اور طاقت کا حصول
- کام: زندگی کی دولت سے لطف اندوز ہونا
- موکش: اواگون سے نجات یا مکتی
ذات پات کا نظام (ورن)
ہندوؤں نے اپنے معاشرتی نظام کو چار طبقوں میں بانٹ رکھا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں :
- برہمن : اونچی ذات ہے حکومت کا حق رکھتی ہے۔
- کھتری: ان کاکام جنگ کرنا ہے اور دھرم کا دفاع کرنا۔
- ویش: معاشرے کی خدمت کر نا ان کی ذمہ داری ہے جیسے نائی ، موچی ، بڑھئی اور کمہار وغیرہ۔
- شودر: سب سے نیچ ذات جو اچھوت ہے۔ ان کا درجہ جانور کے برابر ہے۔
ہندوؤں کے اس طبقاتی نظام کی تاریخ استحصال اور ظلم سے بھری ہوئی ہے۔
آشرم( زندگی کے مدارج)
ہندو دھرم نے انسان کی انفرادی زندگی کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں :
- برہمچریہ آشرم: یہ تعلیم اور تربیت کی عمر ہے۔
- گرہست آشرم: انسان شادی کرتا ہے۔ گھر اور معاشرے کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔
- پرستھ آشرم: اس میں انسان سماجی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر مذہب کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے اور آبادی سے باہر ایک کٹیا بنا کر رہتا ہے۔
- سنیاس آشرم: اس میں انسان بالکل درویش ہو کر گھر بار چھوڑ دیتا ہے اور صرف مکتی اور نجات کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔
ہندو دھرم کا قانون
ہندو دھرم کے قانون کی بنیادی صفت یہ ہے کہ تمام انسانوں کو ایک نظر سے نہیں دیکھتا۔ ہر ذات کے لیے قانون دوسری ذات کے قانون سے مختلف ہے۔ خصوصاً برہمن اور شودر کے لیے قانون میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے یہ انسانی ساختہ قانون ہے جسے برہمن نے اپنے مفاد کے لیے تیار کیا ہے۔ برہمن کے اس قانون میں یہودیوں کی تلمود سے بہت مماثلت ہے۔ ہندومت کے قانون میں مردوں اور عورتوں کے بارے میں بھی اسی طرح فرق ہے۔
ہندو مت کے فرقے یا مذاہب
ہزاروں سالوں میں ہندو مت کی اصلاح کے لیے بے شمار تحریکیں اٹھیں جو بعد میں ایک علیحدہ دین بن گیا۔ ویسے بھی ہندو مت کے فرقوں کے لیے فرقے کی اصطلاح سے زیادہ مذہب کی اصطلاح زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہیں کہ ان کو ایک علیحدہ دین یا مذہب ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہندو مت کی اصلاح کے لیے جو تحریکیں اٹھیں ان کے مقاصد بنیادی طور پر انسان کی نجات اور مکتی کے مرکزی نقطے کے گرد گھومتیں ہیں۔ ہر مذہب نے مکتی حاصل کرنے کی قدیم تشریحات اور رائج طریقوں کو تبدیل کر کے اس کی نئی تشریحات پیش کیں۔ عبادات کے نئے طریقے وضع کیے۔ ان فرقوں نے کئی ہندو کتابوں اور بنیادی عقیدوں سے بھی انکار کر دیا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو مت ان سب کو ہندو مذہب کا حصہ ہی مانتا ہے۔ یہ تو بدھ مت، جین مت اور سکھ مذہب خود کو ہندو مذہب کا پیروکار نہیں مانتے ورنہ ہندو تو آج بھی انہیں ہندو مت میں شامل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہندوستان پر مسلمانوں کے قبضے کے بعد ہندوستان میں بے شمار ایسی تحریکیں چلیں جنہوں نے بت پرستی کی مخالفت کی، ایک خدا کی عبادت کی تلقین کی جو واضح طور پر اسلام کے اثرات کا نتیجہ تھا۔ اس لیے ہندو مت کو کئی مذاہب کا مجموعہ کہا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم اختصار سے مختلف ہندو مذاہب کا ذکر کرتے ہیں۔
بدھ مت
بدھ مت کا بانی گوتم بدھ تھا جو نیپال کا شہزادہ تھا۔ وہ تین سو سال قبل مسیح میں پیدا ہو ا۔ جس زمانے میں بدھ پیدا ہوا اسی زمانے میں ہندو مت میں ذات پات کا نظام اپنے عروج پر تھا۔ بدھ نے اس نظام کی خرابیوں کا قریب سے مطالعہ کیا۔ وہ برہمنوں کے ظلم اور ستم سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ انسان اپنی نجات کی خاطر ایک ذات کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ اس نے شہزادوں کی زندگی چھوڑ دی اور درویش بن کر مراقبے اور گیان دھیان میں لگ گیا۔ اس کا مقصد حقیقت کی تلاش تھا۔ اس حقیقت کی تلاش اس وقت ختم ہوئی جب اسے نجات کی حقیقت جسے بدھ نے نروان کا نام دیا حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد بدھ نے اپنی تعلیمات کا آغاز کیا جس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں :
- نجات جس کو بدھ نے نروان کہا برہمن کی خدمت سے حاصل نہیں ہو گا۔
- ہندو کا ذات پات کا نظام بالکل غلط ہے۔
- وید الہامی کتاب نہیں ہے۔
- سب انسان برابر ہیں۔
- نجات دکھ کو کم کرنے میں ہے۔
- دکھ انسان کی خواہشات پر قابو پانے سے ختم ہوتا ہے۔
- بدھ مت نے بت پرستی کی مخالفت کی مگر اس میں خدا کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔
جین مت
بدھ مت کی طرح جین مت بھی برہمن نظام کا رد عمل تھا۔ اس نے ترک دنیا کا سبق دیا۔ ذات پات کے نظام کی مخالفت کی اور ویدوں کو الہامی کتاب ماننے سے انکار کر دیا۔ مگر جین مت نے بت پرستی کو جائز قرار دیا۔
شنکر اچاریہ کی تحریک
شنکر اچاریہ آٹھویں صدی عیسوی میں مالابار میں پیدا ہوا۔ یہ ہندوستان میں اسلام کی آمد کا زمانہ تھا۔ ہندو مذہب عقیدۂ توحید کا مقابلہ نہیں کر رہا تھا۔ شنکر اچاریہ کی تعلیمات یہ تھیں کہ توحید صرف مسلمانوں کی اجارہ داری نہیں۔ ہندوؤں کی کتاب بھی توحید ہی کی دعوت دیتی ہے۔ اس لیے ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی کتابوں کی طرف توجہ دیں۔ ایک خدا کی عبادت کریں بت پرستی چھوڑ دیں۔ مگر اس نے مکتی کے عقیدے اور اواگون کے عقیدوں کو ایسے ہی رہنے دیا۔ ذات پات کے نظام کی مخالفت نہیں کی۔
رامانُج اچاریہ کی تحریک
رامانج اچاریہ برہمن تھا اور شنکر اچاریہ کا شاگرد تھا۔ مگر عقیدۂ توحید میں اچاریہ کی مخالفت اس بنا پر کرتا تھا کہ یہ نامکمل ہے۔ شنکر کے مرنے کے بعد اس نے شنکر کے عقیدے کی تکمیل کی اور اس کی بتائی خدا کی صفات کو یکجا کر دیا۔ اس نے طریقت کے صوفی طریقوں کو ہندومت میں شامل کیا۔ اس نے نجات کو خدا کی رضا کے ساتھ مشروط کیا۔ رامانُج کی تحریک کے مطالعے سے واضح طور پر اسلام کی دعوت کے اثرات نظر آتے ہیں۔
رام انند کی تحریک
یہ شنکر کا چیلا تھا۔ اس نے اس کی تحریک میں توحید کی مزید اصلاحات شامل کیں۔ اس کے چیلوں میں سب سے مشہور کبیر ہے۔
کبیر نپتھی کی تحریک
کبیر رامانند کا چیلا تھا۔ اس کی تحریک میں توحید اور عقائد مسلمانوں سے اس قدر زیادہ ملتے تھے کہ ہندو اس کو ہندو اور مسلمان اس کو مسلمان سمجھتے تھے۔ حتی کہ جب وہ مر گیا تو اس کے بارے میں مشہور ہو گیا کہ اس کی لاش غائب ہو گئی ہے۔ تو ہندوؤں نے اس کی لاش جلانے کی رسم ادا کی جبکہ مسلمانوں نے اس کو دفن کرنے کی رسم ادا کی۔ کبیر ایک صوفی شاعر بھی ہے۔ آج اس کے ماننے والے ہندو مسلمان اور سکھ اس کے اشعار عقیدت سے پڑھتے ہیں۔
لنگ یت کی تحریک
یہ تحریک ہندو مت میں اسلام کی دعوت کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کا بانی بساؤ تھا۔ اس فرقے کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہیں :
- خدا ایک ہے، وہ خالق اور مالک ہے، مادہ اور روح بھی اسی نے پیدا کیے ہیں۔
- خدا اپنی صفات میں بھی یکتا ہے۔
- اس فرقے نے بیعت کا طریقہ شروع کیا۔
- طلاق کی اجازت دی۔
- عورت کو دوسری شادی کی اجازت دی۔
- ذات پات کے ہندو نظام کی مخالفت کی۔
- مردوں کو جلانے سے منع کیا اور دفنانے کی تعلیم دی۔
جے تنیہ کی تحریک
یہ بنگال کا سنیاسی تھا اس نے اخلاقیات کی تعلیم دی۔ ذات پات کے نظام کی مخالفت کی۔ ہر انسان کو برابر اور بھائی بھائی قرار دیا۔ کرشن کی پوجا کی تلقین کی۔ اس کے ہزاروں ماننے والے تھے جواس کو سجدہ کرتے تھے۔ بنگال میں یہ فرقہ آج بھی مشہور اور مقبول ہے۔ اس کے پیروکار اس کو کرشن بھگوان کا اوتار مانتے ہیں۔
دیو سادھو
دیو سادھو نیچ ذات کا ہندو تھا۔ اس کا تعلق مہراشٹر کے مرہٹہ گھرانے سے تھا۔ اس نے ایک خدا کی عبادت کا پرچار کیا۔ ذات پات کی مخالفت کی۔ بت پرستی کی مخالفت کی۔
گرو نانک کی تحریک( سکھ مت)
بدھ مت اور جین مت کی طرح سکھ مت بھی ہندومت سے علیحدہ دین ہے۔ اس مذہب کے بانی بابا گرو نانک ہیں۔ باباگرون انک ۱۴۶۹ء کو پنجاب میں پیدا ہوئے۔ حقیقت کی تلاش میں انہوں نے چار سفر کیے۔ ایک سفر بنگال تک تھا۔ دوسرا کوہ ہمالیہ کی طرف تھا۔ تیسرا سری لنکا کی طرف تھا ۔ چوتھا ایران عراق اور عرب کی طرف تھا۔ ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے:
- ایک خدا کی عبادت کرنی چاہیے۔
- سب انسان برابر ہیں اور ذات پات کا نظام غلط ہیں۔
- ہندو مسلم سب بھائی بھائی ہیں۔
- انسان کو اپنی انا پر قابو پانا چاہیے۔
- انسان اپنی انا کو قابو کر لے تو اسے عشق الہٰی اور نفس کی پاکیزگی حاصل ہو گی۔
- عشق الہٰی اصل معراج ہے۔
- گرو نانک قیامت اور رسالت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
- گرونانک اواگون کے ہندو عقیدے کو بھی مانتے ہیں۔
- انسان کو عشق الہٰی کے لیے ایک پہنچے ہوئے پیر اور مرشد کی ضرورت ہوتی ہے جیسے گرو اور ست گرو کہا ہے۔
- گرو نانک نے ایک کتاب لکھی جیسے گرنت صاحب کہتے ہیں جو سکھوں کی مقدس کتاب ہے۔
پیپا کی تحریک
یہ ککڑوؤں کا راجہ تھا، سادھو بن گیا۔ اس کی تعلیمات گرو نانک سے ملتی ہیں۔ وہ معرفت الہٰی کے لیے ایک گروہ کی موجودگی کو ضروری قرار دیتا ہے۔
سائیں کی تحریک
یہ بادھو گڈھ کے راجہ کا حجام تھا، اس نے خدا پرستی پر زور دیا۔
رائے داس کی تحریک
یہ بنا رس کا ہندو تھا۔ اس نے رام کی پوجا کی دعوت دی اور اس کو واحد خدا مانا۔ نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ اس کی تعلیمات کے مطابق انسان کمزور ہے اور اسے ساری مدد رام بھگوان سے حاصل کرنی چاہیے۔
دادو دیال کی تحریک
دادو دیال احمد آباد کا رہنے ولا تھا۔ اکبر کے زمانے میں پیدا ہوا۔ اس کی تعلیمات درج ذیل ہیں :
- وہ ایک خدا کی عبادت کی تعلیم دیتا تھا۔
- دنیا فانی ہے
- اسے خدا نے کلمہ کن سے پیدا کیا۔
- اصلی خوشی خدا کی رضا میں ہے
ملوک داس کی تحریک
اکبر بادشاہ کے زمانے میں اس کی تحریک کا آغاز ہوا۔ یہ تمام ہندو مذاہب کے برعکس صرف باطنی عقیدے کا قائل تھا۔ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ سچا مذہب وہ ہے جو دل میں موجود ہو۔ اس نے ترک دنیا اور خدمت خلق پر زور دیا۔
بیر بھان اور ستنامی فرقہ
یہ پنجاب کا ہندو تھا۔ ایک خدا کو مانتا تھا۔ انسان کو ترک دنیا اور اخلاقیات کا درس دیتا۔ حرص اور ہوس سے بچنے کے لیے کہتا۔ ذات پات کے نظام کے خلاف تھا۔ وہ انسان کو خود نمائی اور تکبر سے بچنے کا کہتا۔ مرد کی عورت پر فضیلت کا قائل تھا۔
برہمنا سماج
ہندو مت جو مسلمانوں کے ہندوستان پر قبضے اور علماء کی تبلیغ سے بے حد متاثر تھا۔ اس میں بت پرستی اور ذات پات کے نظام کے خلاف ردعمل اگرچہ پہلے ہی پیدا ہو گیا تھا لیکن انگریزوں کے ہندوستان کے قبضے نے اس رد عمل میں اضافہ کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جو عیسائی انگریز برطانیہ سے آئے تھے وہ یا تو پرو ٹیسٹنٹ عیسائی تھے یا لا دین ۔دونوں طبقے ہی بت پرستی کے مخالف تھے۔ اس کے اثرات بھی ہندو مت میں پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ برہمنا سماج بھی مسلمانوں اور عیسائیوں سے متاثر تحریک تھی اس کا بانی رام موہن رائے تھا جس نے ۱۸۳۰ء میں اس کی بنیاد رکھی۔ بعد میں دونرد ناتھ ٹیگور(۱۸۴۲ء تا ۱۸۶۵ء) نے اس میں مزید اصلاحات کیں۔ ٹیگور کے بعد کیشب چندر سین نے اس میں مزید اصلاحات کیں۔ برہمنا سماج کی اہم تعلیمات مندرجہ ذیل ہیں :
- ایک خدا کی عبادت
- ذات پات کی مخالفت
- ستی کی مخالفت
- بیواؤں کی شادیاں کی جائیں
- دوسرے ہندو فرقوں میں شادیاں جائز ہیں
- مذہبی کتاب فطرت ہے۔
- عبادت کا مقصد دل کی پاکیزگی ہے۔
آریہ سماج
آریہ سماج دراصل ہندومت پر عیسائیت اور اسلام کے اثرات کے ردعمل میں شروع کی گئی۔ اس میں ایک طرف تو ہندو مذہب میں اصلاحات اور دوسری طرف عیسائیت اور خاص طور پر اسلام پر حملے کیے گئے۔ اس تحریک کے بانی دیانند سرسوتی(۱۸۲۴ء تا ۱۸۸۳ء) ہیں۔ ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے:
- ایک خدا کی عبادت
- ویدوں کی تعلیمات پر عمل
- خدمت خلق
- عدل اور انصاف
- معاشرے کی روحانی اور اخلاقی اصلاح
- اجتماعی فلاح اور بہبود کے لیے کام
- اپنے فائدے میں دوسروں کو شریک کرنا
مہاتما گاندھی کی تحریک
جدید دور میں گاندھی جی کی تعلیمات نے ہندو مذہب میں عدم تشدد اور ستیہ کے دو اصولوں کا اضافہ کیا ہے۔
ہندومت کی تاریخ کا خلاصہ کلام
ہندومت کی تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ ایک انسانی ساختہ مذہب ہے جسے انسانوں کے ایک مخصوص گروہ نے اپنے مفادات کی خاطر اور بقیہ انسانوں پر اپنی بالا دستی قائم کرنے اور انہیں اپنا غلام بنانے کے لیے ایجاد کیا ہے۔ اسی طرح یہ مذہب زمانے کے سرد و گرم سے گزر کر تبدیل ہو کر کچھ کا کچھ ہو چکا ہے۔ کسی عقل مند انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ کسی ایسے دین پر عمل کرے جو ہر آنے والے دور میں اپنی بنیادوں سے ہی تبدیل ہوتا جاتا ہو۔
ہندوؤں میں پائے جانے والا ذات پات کا نظام انسانی استحصال کی بد ترین شکل ہے۔ یہ نظام آریہ قوم نے انتہائی چالاکی سے مذہب کے لبادے میں قائم کیا جس کے ذریعے انہیں مقامی ہندو ستانی باشندوں کو صدیوں تک غلام بنائے رکھنے کا طریقہ ہاتھ آگیا اسی طرح نجات کی تلاش میں کروڑوں عوام کو اپنا (برہمن کا) غلام بنا دیا۔
کسی ہندو کے لیے ہندو مذہب پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ کسی ہندو کو بھی یہ معلوم نہیں کہ ہندو مذہب یقینی طور پر کیا ہے۔ اسی طرح حقیقتاً ہندو مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا اتحاد و اتفاق بھی ممکن نہیں کیونکہ ہندو مذہب میں داخل ہونے اور نکلنے کے کوئی اصول و ضوابط موجود نہیں یہاں تک کہ وہ گروہ جو اپنے آپ کو ہندو نہیں کہتے انہیں بھی دیگر ہندو اپنا ہم مذہب کہتے ہیں۔ یوں حقیقتاً ہندو مذہب ایک اتنا کمزور مذہب ہے جو اسلام کی واضح تعلیمات کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔
ہندوؤں میں چلنے والی اصلاحی تحریکیں اس بات کی علامت ہیں کہ ہندو مذہب ایک عام عقل مند انسان کے لیے بھی ناقابل عمل ہے۔ ہندو عوام شدت سے عقیدۂ توحید کی روشنی کے منتظر ہیں، لیکن ابھی تک عوام کی طلب کے پیش نظر ہندو مذہب میں ہی بعض تبدیلیاں کر کے اسے عقیدہ توحید سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش تو کی گئی لیکن سچی ہدایت سے ابھی تک ہندو کہلانے والی کروڑوں عوام محروم ہیں۔
ہندوستان میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہندوؤں کے ذات پات کے نظام پر کافی ضرب پڑی ہے اور برہمن اس بات پر مجبور ہوا ہے کہ نچلی ذاتوں کو بھی کچھ نہ کچھ حقوق دیے جائیں تاکہ یہ ہندو مت سے باغی ہو کر اسلام میں شامل نہ ہو جائیں۔ اس عمل کی وجہ سے ہندوؤں کی زندگی میں کچھ روشنی آئی ہے لیکن ابھی تک یہ سچی ہدایت سے محروم ہیں۔ مسلمانوں اور خصوصاً مجاہدین کے لیے لازم ہے کہ ہندو مذہب کے دھوکے و دجل کو سمجھتے ہوئے ہندوستان کے لیے ایک ایسا لائحہ عمل وضع کریں جس کے نتیجے میں ہندوستان کی کروڑوں غیر مسلم عوام کو دیوی دیوتاؤں کے نام پر دراصل برہمنوں اور دیگر مذہبی طبقوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی غلامی میں لایا جا سکے اور ہندوستان کی بے شمار افرادی قوت اور وسائل کو اللہ کی رضا کے کاموں میں استعمال کیا جا سکے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
