تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جس نے اپنی نصرت سے اسلام کو سربلند اور شرک کو سرنگوں فرمایا۔ اُسی کے سب فیصلے چلتے ہیں۔ وہ جو اپنی خفیہ تدبیروں سے کفار کو گھیر رہا ہے۔ اس نے ہر گروہ کے عروج و زوال کا وقت مقرر کر رکھا ہے اور جو اپنے فضل سے متقیوں کو بہترین انجام سے نوازے گا۔ درود و سلام ہوں اس پاک ہستی پر جن کی مبارک تلوار سے اللہ نے اسلام کے روشن مینار کو بلند کر دیا۔
اما بعد!
یقیناً ایمان سے معمور ہمارے پاکستانی بھائی یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ امارتِ اسلامیہ کی حکومت ہی اس دور میں وہ واحد اسلامی حکومت ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کی کامیابی کے باعث قائم کروایا ہے۔ عالمِ عرب و عجم میں موجود اللہ کے دشمنان اس نظام کو اسی لیے تسلیم نہیں کرتے کہ یہ دورِ حاضر میں اُن تمام فرزندانِ امت کے لیے ایک عملی نمونہ ہے جو تبدیلی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اسی طرح وہ ممالک جنہوں نے اپنے آپ کو عالمی صلیبی صہیونی نظام کے اوامر کے تابع بنا دیا ہے وہ اس اسلامی حکومت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ ممالک اقوام متحدہ کی رکنیت اور اس کے قوانین کے آگے سر تسلیم خم کر چکے ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے کمزوروں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جاتا ہے اور طاقتور ہر کام کی کھلی چھوٹ پاتے ہیں۔
یہ عالمی صہیونی صلیبی نظام، ہمارے مسلمان ممالک پر ہمیشہ سے جہالت، پس ماندگی اور بے بسی مسلط کرتا آ رہا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو ہمارے ممالک کو اپنی ایسی فاسد اشیاء کی منڈی کے طور پر استعمال کرتا ہے جو دین، ایمان، جرأت مندی اور مردانگی کا جنازہ نکال دیتی ہیں۔ چنانچہ قوت کی تیاری کے لیے نہ تو کسی اہم علمی میدان میں ہمارے ممالک کو ترقی کی اجازت ملتی ہے اور نہ ہی اِدھر کی عوام کو اتنی آزادی فراہم کی جاتی ہے کہ یہ خود کو امانتِ پیغمبری ﷺ یعنی دعوت و جہاد کے لیے تیار کر سکیں۔ یہی نظام ہماری مسلمان امت کے ایک حصے کو اپنے تہذیبی مراکز اور مذہبی مقامات میں عبث کھیل تماشوں، عیاشیوں اور بے ہودہ عادتوں میں مبتلا کرتا ہے۔ جبکہ بقیہ امت کو ، جسے یہ تیسری دنیا تصور کرتا ہے، غربت و فقر کے دلدل میں ڈبونے کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
دوسری جانب، امارت اسلامیہ افغانستان چونکہ دین کے قیام، اسلامی سلطنت کی ترقی، عوام کی فلاح و بہبود اور مستضعفین کی نصرت کے لیے سنجیدگی اور ذمے داری سے مستقل کام کر رہی ہے لہذا یہ صہیونی صلیبی نظام اور یہ عالمی برادری ایک دن کے لیے بھی اس سے راضی نہیں رہی۔ چنانچہ امریکہ کے متکبر صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) نے پاکستان پر قابض اپنے ایجنٹ غلاموں ( درباری چاپلوس شہباز شریف اور صہیونی آرمی چیف عاصم منیر، جسے اس کا آقا و سردار ٹرمپ’ بہترین فیلڈ مارشل‘ کا خطاب دیتا ہے)اور اس فاسد حکومت و مجرم جرنیلوں کو افغانستان میں مسلمانوں کے قتل کرنے اور ان پر چڑھائی کا حکم دیا ہے تا کہ امارتِ اسلامیہ کو کمزور کیا جائے اور ایک بار پھر اسے گرا دیا جائے۔ ان ظالموں کا مقصد یہ ہے کہ جس امانتِ پیغمبری ﷺ کو یہ اسلامی حکومت نبھا رہی ہے یا جو دین و قوم کی خدمت میں یہ دن رات مصروف ہیں اس سے انہیں دور کیا جائے۔ اور امت کے جملہ مسائل کے دفاع اور مستضعفین کی نصرت کے پاکیزہ اہداف سے انہیں ہٹایا جا سکے۔
ان کا یہ اقدام بالکل اسی طرح ہے جیسے اس سے قبل امریکہ کے متکبر صدر (بُش ) نے اُس وقت پاکستان پر قابض اپنے جاسوس کارندے (پرویز مشرف) کو یہ حکم دیا تھا کہ امارت ِ اسلامیہ کے سقوط کے لیے افغانستان کے مسلمانوں کا محاصرہ کرے اور ان پر مظالم ڈھائے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اہلیانِ پاکستان کی قدر و منزلت، اپنی آنکھوں سے اوجھل کر دیں۔ ہم انہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کی اسلام اور اہلِ اسلام کے لیے حمیت و غیرت کا ہمیں خوب علم ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان پر مسلط حکومت جو کچھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات کر رہی ہے اس سے یہ عوام راضی نہیں ہیں۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے، امارتِ اسلامیہ اور امت کے تمام غیرت مند بیٹوں کے اہلیانِ پاکستان سے تعلقات اللہ کے فضل سے نہایت گہرے ہیں جس کی جڑیں ہمارے اور ان کے دلوں کی گہرائیوں تک موجود ہیں۔ اور یہ کیوں کر نہ ہو جبکہ ہمارے حبیب حضرت محمد ﷺ نے ہمیں قطعی طور پر حکم دیا ہے کہ :
وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
’’اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘
پاکستان کی فاسد و غلام حکومت اور امریکہ نواز فوجی قیادت ہماری اور امت کی آنکھوں میں پاکستان کے غیور عوام کی تصویر کبھی مسخ نہیں کر پائے گی۔ پاکستانی عوام کی افغان جہاد کی نُصرت، دین کے لیے ان کی شدید غیرت اور اللہ کی راہ میں ان کی قربانیوں کی تفصیل بیان کرنا ہمارے موضوع کا یہاں حصہ نہیں۔ لیکن پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے فرزندانِ امت کو ہم فقط یہ بات کہنا چاہیں گے کہ وہ اس حکومت کو گرانے اور صلیبیوں کے ایجنٹ اِن خائن جرنیلوں کے خاتمے کے لیے کام کریں۔ مقتدر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے اس فاسد ٹولے کو فنا کا پیغام دیں جو پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک حکومت، کرسیوں اور فوج کی اعلیٰ نوکریوں پر باریاں لگا کر براجمان ہے۔ جن کی جیبیں امریکیوں اور یہودیوں کے عطا کردہ ڈالروں سے گرم ہیں۔ جنہوں نے ملک کو یہودیوں اور امریکیوں کی چراگاہ بنا دیا ہے تاکہ وہ یہاں کے اسلامی ایٹمی پروگرام کے ساتھ جو کرنا چاہتے ہیں کرتے پھریں۔
لہذا، امریکہ کی افغانستان میں شکست کی وجہ سے جو بے شمار غنیمتیں امارتِ اسلامیہ کے ہاتھ آئی تھیں، پاکستانی فوج کے ہاتھوں، آج ان کو تباہ ہوتے دیکھ کر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ آج یہ منافق حکومت اور امریکی غلام فوجی جرنیل اپنے صلیبی آقاؤں کی نیابت میں جہادی غنیمتوں میں مسلمانوں کے ہاتھ آئی فوجی جیپیں، بکتر بند گاڑیاں اور جہازوں کو بمباریوں کے ذریعے تباہ کر رہی ہے۔ ان ظالموں نے بے شمار بے کس و لاچار غریب مسلمانوں کے اجسام اپنی بمباریوں میں ادھیڑ ڈالے ہیں۔ عام دنوں میں بھی یہ جرائم شریعت میں ہر گز جائز نہ ہوتے کجا یہ کہ رمضان المبارک جو کہ ماہِ صیام و قیام ہے اس میں ان جرائم کا ارتکاب کیا جائے۔ یقینا ً اللہ تعالیٰ کے دربار میں ان سب کی سزا نہایت خطرناک ہے۔
خداوندِ قہار وجبار فرماتے ہیں :
وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا (سورۃ النسآء: ۹۳)
’’اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ کا غضب اس پر ہو گا، اس پر لعنت کی گئی ہے اور اس کے لیے عظیم عذاب تیار کیا گیا ہے۔‘‘
اللہ کے فضل سے جماعت القاعدہ آج امت کے بہادر بیٹوں کے ساتھ ایک ہی مورچے میں کھڑی ہے۔ ہم امارت اسلامیہ کے بھائیوں کی اس صہیونی صلیبی دشمن کے خلاف مدد سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے جو اس خطے کو گھیرنے کے لیے اک نئے انداز سے اکٹھا ہو کر آگیا ہے۔ جماعت قاعدۃ الجہاد اپنی پوری استطاعت کے ساتھ، پاکستان کی غاصب و مفسد حکومت و فوج کی جارحیت کے خلاف امارتِ اسلامیہ کی نصرت کرے گی، باذن اللہ۔
پاکستانی پائلٹوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صہیونی قیادت کی اطاعت نہ کریں، بلکہ جہاں بھی انہیں پائیں، نشانہ بنائیں اور قتل کر ڈالیں۔ اسی طرح پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں میں آج بھی جوشریف الفطرت افراد موجود ہیں انہیں ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس مفسد سیاسی و عسکری قیادت کی اطاعت نہ کریں۔ ان کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ اس مفسد ٹولے کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں اور پاکستان کو پھر سے اس کی سابقہ باعزت تاریخ کی طرح علم و جہاد کا مرکز بنائیں۔ یہ پاکستان ہی تھا جو دین کی نصرت اور امت کے مرکزی مسائل میں امداد کا ہاتھ بڑھایا کرتا تھا، اپنے افغان بھائیوں کی بہترین مدد کرتا تھا اور امت بھر کے مہاجرین کے ساتھ مثالی انداز میں کھڑا تھا۔ اُس دور میں آپ اللہ کے اس فرمان کی ایک اعلیٰ مثال تھے:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (سورۃ: الحجرات: ۱۰)
’’بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
یقیناً اس روشن تاریخ کو ہم ہرگز نہیں بھلا سکتے۔ اور نہ ہی یہ خائن حکمران اور صہیونیت نواز فوج اسے گرد آلود کر سکتی ہے۔
اے اہلیانِ پاکستان! ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری آپ سے اور امت سے آپ کو جو محبت ہے اور دین سے آپ کو جو والہانہ لگاؤ ہے اس کا آپ کو یقیناً پاس ہو گا کہ آپ ان خائنین کے خلاف ضرور علمِ بغاوت بلند کریں گے۔ ہم آپ کو آپ کے افغان بھائیوں کی دہائیوں پر محیط قربانیاں یاد دلاتے ہیں جو انہوں نے آپ کے اور امت کے دفاع میں کمیونسٹ طوفان اور اس کے بعد صہیونی و صلیبی لاؤ لشکروں کے سامنے سینہ تان کر پیش کیں۔ اس راہ میں انہوں نے لاکھوں شہداء، زخمی اور مہاجرین پیش کیے۔ اُس دور کے سارے رنج و الم برداشت کرتے رہے اور اس کی تکلیف یہ آج تک جھیل رہے ہیں۔ پس ہم پر اور آپ پر بھی لازم ہے کہ ہم ان کے اُس احسان کا کچھ بدلہ چکائیں۔ خدارا کہیں اسلام کو ہماری یا آپ کی جانب سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔
والحمد لله رب العالمين
شوال ۱۴۴۷ھ بمطابق مارچ ۲۰۲۶ء
٭٭٭٭٭
